انوکھا بندر ( بچوں کی کہانی ) از مختار احمد

0
انوکھا بندر ( بچوں کی کہانی ) از مختار احمد

–**–**–

اقرا آٹھ نو سال کی ایک بہت اچھی، خوبصورت اور تمیز دار لڑکی تھی۔ اس کی ایک بڑی بہن بھی تھیں جن کی چند سال پہلے شادی ہوگئی تھی۔ اس سے بڑا ایک بھائی بھی تھا۔ اس کی آپی شادی کے بعد اپنے شوہر کے ساتھ دبئی چلی گئی تھیں۔ ا س کا بھائی ظفر اس سے تین چار سال بڑا تھا اور وہ لوگ اپنی امی ابو کے ساتھ روشن آباد میں رہتے تھے۔ ان کے ابو یہاں کی ایک بڑی تعمیراتی کمپنی میں انجنیئر تھے۔

اس کی آپی سالوں بعد دبئی سے اپنے شوہر اور بیٹے کے ساتھ پندرہ دنوں کے لیے پاکستان آئ تھیں اور یہ پندرہ دن پلک جھپکتے ہی گزر گئے تھے اور اب وہ پرسوں واپس جا رہی تھیں۔ ان کی واپسی کا سن کر اقرا بہت اداس ہوگئی تھی۔

ان پندرہ دنوں میں آپی کا دو سالہ بیٹا گلّو اقرا سے کافی مانوس ہوگیا تھا اور اس کے بغیر ایک پل بھی نہیں رہتا تھا۔ وہ ایک ہنس مکھ اور شرارتی بچہ تھا۔ اقرا کو بھی وہ بہت اچھا لگتا تھا۔ جب وہ ٹھمک ٹھمک چلتا تو اقرا کا ہنس ہنس کر برا حال ہوجاتا ۔ وہ پیار سے اس کو گود میں اٹھا لیتی۔ اپنے سارے کھلونے نکال کر اس کے سامنے ڈال دیتی۔ اس کے پاس بہت سی گڑیاں بھی تھیں جن کو وہ بہت سنبھال کر رکھتی تھی، مگر جب گلّو اس کے ساتھ ہوتا تو وہ ان گڑیاؤں کو بھی اپنی الماری سے نکال کر اسے دے دیا کرتی۔ جب وہ ان کے بال کھینچتا تو اقرا کو افسوس تو ہوتا تھا مگر وہ اس کو ڈانتی نہیں تھی، پیار سے اس کی خوشامد کرتی اور اسے سمجھاتی کہ وہ ایسا نہ کرے۔ وہ تھا ہی اتنا اچھا کہ اقرا کو اسے ڈانٹنا پسند نہیں تھا۔

ان کی روانگی والے روز اقرا بہت اداس نظر آ رہی تھی۔ جب وہ لوگ ایئر پورٹ جانے کے لیے نکلے تو بے اختیار اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ اقرا کی حالت دیکھ کر آپی خود آبدیدہ ہوگئی تھیں۔ انہوں نے اقرا کو تسلی دیتے ہوۓ کہا کہ بہت جلد وہ دوبارہ زیادہ دنوں کے لیے پاکستان آئینگی۔ ان کی بات سن کر اسے تھوڑا سا اطمینان ہوا اور اس کے آنسو تھم گئے۔

روانگی کے وقت جب گلّو نے دیکھا کہ اقرا اس کے ساتھ نہیں جا رہی ہے تو وہ رونے لگا اور ضد کرنے لگا کہ اقرا کو بھی ساتھ لے کر چلو۔ اسے بہت مشکل سے سمجھا بجھا کر چپ کروایا گیا تھا۔

ان لوگوں کے چلے جانے سے گھر کافی سونا سونا لگ رہا تھا۔ ویسے تو اقرا کی عادت تھی کہ وہ رات دیر سے سوتی تھی، مگر آج اسے جلدی نیند آگئی۔ صبح اٹھی تو اس کے بھائی ظفر نے اسے خوش خبری سنائی کہ ابو نے پہاڑوں پر پکنک منانے کا پروگرام بنایا ہے اور دس گیارہ بجے تک انھیں روانہ ہونا ہے۔

اقرا کے ابو کو کل ہی احساس ہوگیا تھا کہ اقرا کو گلّو کے چلے جانے کا بہت افسوس ہے۔ انہوں نے اسی وقت سوچ لیا تھا کہ کل وہ بچوں کو لے کر پکنک منانے جائیں گے تاکہ اقرا کا دل بہل جائے۔ پکنک کا سن کر اقرا بہت خوش ہوئی۔ اس نے جلدی سے ہاتھ منہ دھویا، ابو، امی اور ظفر کے ساتھ ناشتہ کیا اور پھر پکنک پر جانے کی تیاری کرنے لگی۔

وہ اپنے کمرے میں آئ تو بستر پر تکیے کے قریب اس کا بھالو پڑا تھا۔ یہ اس کی آپی نے لا کر دیا تھا۔ اسے دیکھ کر ایک مرتبہ پھر اس کا دل بھر آیا اور آنکھوں میں آنسو چمکنے لگے کیونکہ آپی کا خیال آتے ہی اسے گلّو یاد آگیا تھا۔ اس نے بھالو کو اٹھا لیا اور اپنے آنسو پونچھنے لگی۔ اس نے سوچا کہ وہ بھالو کو بھی اپنے ساتھ پکنک پر لے جائے گی۔

اقرا کی امی نے بہت سی کھانے پینے کی چیزیں تیار کر لی تھیں۔ جب سب تیاریاں مکمل ہوگئیں تو وہ گھر سے نکل پڑے۔

ایک گھنٹے کی مسافت کے بعد وہ لوگ پہاڑ کے دامن میں پہنچ گئے۔ ایک مناسب سی جگہ دیکھ کر اس کے ابو نے گاڑی روک لی اور وہ لوگ باہر نکلے۔

اس پورے علاقے کو بڑے بڑے درختوں نے گھیر رکھا تھا۔ زمین پر گھاس اگی ہوئی تھی اور سبزے کی مخصوص خوشگوار مہک چاروں طرف پھیلی ہوئی تھی۔ اقرا سوچ رہی تھی کہ اگر اس پکنک میں گلّو بھی ہوتا تو کتنا مزہ آتا۔ اتنا بڑا پہاڑ، اس پر لگے درخت اور جھاڑیاں، چشموں سے بہتا پانی اور بڑی سی جھیل دیکھ کر اس کی خوشی کا تو کوئی ٹھکانہ ہی نہ ہوتا۔ یہ سوچ کر اس نے اداسی سے ایک ٹھنڈی سانس بھری اور آس پاس دیکھنے لگی۔

اقرا اس جگہ پہلی مرتبہ آئ تھی۔ پہاڑوں کے اوپر اسے دور دور کچھ گھر بھی نظر آئے۔ اسے بڑی حیرانی ہوئی کہ اس ویران جگہ پر بھی لوگ رہتے ہیں۔ اس کے ابو نے بتایا کہ پہاڑوں پر چھوٹے چھوٹے گاؤں ہوتے ہیں جن میں لوگ صدیوں سے رہتے چلے آرہے ہیں۔ ان کا ذریعہ معاش جانور، تھوڑی بہت کاشتکاری ، مٹی کے برتن اور دوسری دستکاریاں ہوتی ہیں۔ انہیں یہاں رہنے میں بہت مزہ آتا ہے اور وہ اس جگہ کے اتنے عادی ہوجاتے ہیں کہ کسی دوسری جگہ کا رخ کرنے کا سوچتے بھی نہیں ہیں۔

ظفر اپنے موبائل پر آس پاس کی تصویریں بنانے لگا۔ اقرا نے اپنے بھالو کو گود میں اٹھایا ہوا تھا۔ وہ اور گلّو دونوں مل کر اس بھالو کے ساتھ کھیلتے تھے۔

اس نے ظفر سے کہا۔ “ظفر بھالو کے ساتھ میری تصویریں بنا دو۔ ان تصویروں کو میں گلّو کو بھیجوں گی۔ وہ انہیں دیکھ کر بہت خوش ہوگا”۔

ظفر نے اس کی بھالو کے ساتھ کئی تصویریں بنالیں۔ قریب ہی ایک بہت بڑی جھیل تھی، جھیل کے سبزی مائل پانی میں بہت سے کنول کے پھول نظر آئے جن پر شہد کی مکھیاں، بھونرے اور تتلیاں منڈلا رہی تھیں ۔ جھیل کے کنارے پر کہیں کہیں مینڈک بھی پھدک رہے تھے۔ اقرا وہاں گھومنے پھرنے لگی۔ اس کے ابو نے اسے زیادہ دور تک جانے سے منع کر دیا تھا۔ آس پاس درختوں کے جھنڈ تھے اور انھیں ڈر تھا کوئی جنگلی جانور ان میں سے نہ نکل آئے۔

ظفر نے زمین پر ایک صاف شفاف چادر بچھا دی تھی۔ امی اور ابو اس پر آرام سے بیٹھ گئے۔ اقرا اور ظفر آس پاس کا جائزہ لینے میں مگن تھے۔ کھانے کے وقت میں ابھی کچھ دیر تھی۔ امی نے کریٹ میں سے ٹھنڈے مشروبات کے ٹن نکالے اور سب کو دیے۔ اس کریٹ میں برف بھری ہوئی تھی جس کی وجہ سے ٹن کافی ٹھنڈے ہو رہے تھے۔

اقرا اپنا ٹن لے کر جھیل کی جانب بڑھ گئی۔ اسے کنول کے پھولوں پر منڈلاتی تتلیاں اچھی لگ رہی تھیں۔ انھیں دیکھتے دیکھتے وہ کچھ آگے نکل گئی۔ وہاں اس کی نظر درختوں پر اچھلتے کودتے بہت سے بندروں پر پڑی۔ وہ آپس میں کھیل رہے تھے اور شرارتیں کر رہے تھے اور درختوں کی شاخوں پر جھول رہے تھے۔

اچانک اقرا نے دیکھا کہ ایک چھوٹا سا بندر کا بچہ درخت کی شاخوں پر سے پھسلتا ہوا تیزی سے زمین پر اترا اور اقرا کی طرف لپکا۔ یہ دیکھ کر اقرا کی تو جان ہی نکل گئی۔ اس کے منہ سے بے اختیار ایک چیخ نکلی۔ وہ جلدی سے مڑی اور اپنی امی ابو کی طرف بھاگنے لگی۔ اس کی چیخ کی آواز سن کر وہ لوگ بھی چونک گئے۔ انہوں نے اس کی طرف دیکھا تو اتنی دیر میں وہ وہاں پہنچ چکی تھی۔

“امی۔ وہ بندر کا بچہ میرے پیچھے بھاگ رہا تھا”۔ اس نے روہانسی آواز میں کہا۔

ظفر ہنس رہا تھا ۔ جب وہ بھاگ کر ان کی طرف آرہی تھی اور بندر کا بچہ اس کے پیچھے پیچھے تھا تو اس نے اقرا کی مووی بھی بنا لی تھی۔

“اس سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ بھوکا ہوگا۔ اسے کھانے کو کچھ دے دو”۔ اس کی امی نے کہا۔
ظفر جلدی سے گاڑی میں سے چپس اور پاپ کارن کے پیکٹ نکال لایا۔ امی کی بات سن کر اقرا کا خوف دور ہوگیا تھا اور اب وہ اس بندر کے بچے کو غور سے دیکھ رہی تھی جو ان سے کچھ دور بیٹھا اسے اپنی چھوٹی چھوٹی چمکیلی آنکھوں سے دیکھے جا رہا تھا اور نہایت معصومانہ انداز میں پلکیں جھپکا رہا تھا۔

وہ اپنی امی کے پاس کھسک آئ۔ “امی یہ بندر تو مجھے ہی دیکھے جا رہا ہے”۔ اس نے سہمی ہوئی آواز میں کہا اور اپنے بھالو کو خود سے چمٹا لیا۔

اس کی بات ظفر نے بھی سن لی تھی، وہ ہنس کر بولا۔ “بچپن میں اس کی بہن کہیں کھو گئی تھی جو بالکل تمہارے جیسی تھی۔ وہ تمہیں ہی اپنی بہن سمجھ رہا ہے اور اپنے ساتھ لے جانا چاہتا ہے”۔

اقرا نے اسے ٹھینگا دکھا کر زبان دکھائی اور دوبارہ بندر کو دیکھنے لگی۔

ظفر نے چپس اور پاپ کارن ایک کاغذ کی پلیٹ میں ڈال کر بندر سے کچھ فاصلے پر رکھے مگر وہ ان کی طرف نہیں آیا۔ وہ تو بس ٹکٹکی باندھے اقرا کو ہی دیکھے جا رہا تھا۔

ظفر نے کہا۔ “بندر کا بچہ کہہ رہا ہے کہ میں تو اپنی بہن کے ہاتھوں سے کھاؤں گا”۔

“ظفر تم باز نہیں آؤ گے۔ اس بے چاری کو مسلسل تنگ کیے جا رہے ہو”۔ امی کے سرزنش کرنے پر ظفر شرمندہ ہو گیا۔

اس نے جھینپ مٹانے کو کہا۔ “اقرا۔ تم کوشش کرو۔ شائد بندر کا بچہ تم سے یہ چیزیں لے کر کھا لے”۔

اقرا کو وہ چنا منا بندر بہت اچھا لگ رہا تھا۔ اس کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ اس کو اپنے ساتھ گھر لے جائے۔ اس سے دوستی کرنے کی خاطر اس نے چپس اور پاپ کارن کی پلیٹ اٹھائی اور اس کی طرف بڑھی۔ اسے اپنی طرف آتا دیکھ کر بندر کا بچہ ذرا بھی نہیں ڈرا، اپنی جگہ پر ہی بیٹھ کر ٹکر ٹکر اقرا کو دیکھتا رہا۔

اقرا نے وہ پلیٹ بالکل اس کے نزدیک رکھ دی تو اس نے چھوٹے بچوں کی طرح گردن گھما کر منہ دوسری طرف کرلیا جیسے کہہ رہا ہو کہ میں نہیں کھاؤں گا۔

اس کی یہ حرکت دیکھ کر اقرا کا ہنس ہنس کر برا حال ہوگیا۔ ظفر یہ سب منظر اپنے موبائل میں محفوظ کرتا جا رہا تھا۔ بندر کے بچے کی معصومانہ حرکتیں دیکھ کر اقرا کا ڈر ختم ہوگیا تھا۔ وہ اس کے قریب ہی بیٹھ گئی اور گلے میں لٹکے اپنے چھوٹے سے پرس میں سے ایک چاکلیٹ نکال کر اس کی طرف بڑھائی۔ بندر کے بچے نے دھیرے سے خوخیا کر دوبارہ گردن پیچھے کرلی۔ اسے چاکلیٹ بھی پسند نہیں آئ تھی۔

“تو بھئی پھر کیا چاہیے تمہیں”۔ اقرا نے ہنس کر پوچھا۔ پھر سب لوگ حیران رہ گئے۔ ایسا معلوم دیتا تھا جیسے بندر اس کی بات سمجھ گیا ہو۔ اس نے اپنا ننھا سا ہاتھ آگے کر کے اقرا کے بھالو کی طرف اشارہ کیا اور دانت نکال کر زمین پر گول گول گھوم کر زور زور سے اچھلنے لگا۔

“اچھا تو تمہیں یہ بھالو چاہیے۔ یہ لو”۔ اقرا نے بھالو اس کی طرف بڑھا دیا۔ بندر کے بچے نے لپک کر اسے اپنے ہاتھوں میں پکڑا، دانت نکال کر اقرا کو دیکھا اور پلٹ کر تیزی سے درختوں کے جھنڈ کی طرف بھاگ گیا۔

اقرا اسے جاتا دیکھتی رہی۔ جب وہ ایک بڑے سے درخت پر چڑھ کر نظروں سے غائب ہوگیا تو وہ اپنی امی کے پاس آئ۔

“امی۔ اس چھوٹے بندر کو میرا بھالو پسند آگیا تھا”۔ اس نے خوش ہو کر کہا۔

“یہ میری زندگی کا انوکھا واقعہ ہے”۔ اس کی امی نے کہا۔ “مجھے نہیں پتہ تھا کہ جانوروں کے بچوں کو بھی کھلونوں سے کھیلنے کا شوق ہوتا ہے”۔

“ابو اگر مجھے پتہ ہوتا کہ یہ لوگ بھی کھلونوں سے کھیلنے کے شوقین ہیں تو میں ڈھیر سارے کھلونے لا کر انہیں دیتی”۔ اقرا نے کہا۔

“کوئی بات نہیں۔ ہم اگلی بار جب یہاں آئیں گے تو اپنے ساتھ بہت سے کھلونے بھی لے آئیں گے۔ یہ واقعہ مجھے بھی بہت دلچسپ لگا ہے”۔ اس کے ابّو نے کہا۔

“ظفر بھائی نے اس کی ویڈیو بھی بنائی ہے۔ ہم گھر جا کر اسے آپی کو بھیج دیں گے۔ وہ بھی اسے دیکھ کر بہت خوش ہونگی۔ گلّو تو اسے بہت ہی پسند کرے گا”۔

وہ لوگ جب اس پکنک سے واپس گھر آئے تو بہت خوش تھے۔ ظفر نے اسکی ویڈیو نیٹ کے ذریعے آپی کو بھی بھیج دی تھی۔ دو ایک روز بعد ان کا جوابی پیغام بھی موصول ہوگیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ گلّو اقرا کا نام لے لے کر اسے بہت یاد کرتا تھا اور جب وہ نظر نہیں آتی تھی تو جھنجلا کر چیزیں زمین پر پھینکنے لگتا تھا۔ میں نے جب اس کو اقرا کی اور اس بندر کے بچے کی ویڈیو دکھائی تو وہ بہت خوش ہوا اور جب بھی اقرا اسے یاد آتی ہے وہ یہ ہی ویڈیو دیکھنے کی فرمائش کرتا ہے۔

اقرا جب بھی سونے کے لیے بستر پر لیٹتی تو اس کے تصور میں وہ ہی چھوٹا سا انوکھا بندر ہوتا تھا جس کو اس کا بھالو پسند آگیا تھا۔ اس کے متعلق سوچتے سوچتے وہ سوجاتی۔

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: