Kids Stories Mukhtar Ahmed

جشن آزادی مبارک ہو ( بچوں کی کہانی ) از مختار احمد

Written by Mukhtar Ahmad

جشن آزادی مبارک ہو ( بچوں کی کہانی ) از مختار احمد

جشن آزادی مبارک ہو ( بچوں کی کہانی ) از مختار احمد

–**–**–

عظیم نگر تھا تو شہر مگر اس میں کوئی یونیورسٹی نہیں تھی۔ عمربھائی جب کالج سے پڑھ کر فارغ ہوگئے تو ان کی آگے کی پڑھائی کا مسئلہ کھڑا ہوگیا۔ بہت سوچ بچار کے بعد ان کے ابّو نے فیصلہ کیاکہ ان کا داخلہ کسی دوسرے شہر کی یونیورسٹی میں کروا دیا جائے۔

یوں وہ گھر بار، ماں باپ، بھائیوں اور بہن کو چھوڑ کر پڑھنے کے لیے دوسرے شہر آگئے۔ اس یونیورسٹی کا ایک بہت بڑا ہاسٹل بھی تھا جس میں دوسرے شہروں سے آنے والے طالب علموں کاقیام ہوتا تھا۔

ایک دفعہ گرمیوں کی چھٹیوں کے لیے ان کی یونیورسٹی بند ہوئی تووہ گھر چلے آئے۔ ان کے دونوں چھوٹے بھائی زاہد اور راشد اوربہن فائزہ ان کے گھر آجانے سے بے حد خوش تھے۔

ان کی امی کی خوشی کا تو کوئی ٹھکانہ ہی نہ تھا۔ وہ ہاسٹل چلے جاتے تھے توان کا دل عمر بھائی میں ہی پڑا رہتا تھا اور وہ اداس رہتی تھیں۔ ان کواس بات کی بہت فکر رہتی تھی کہ انہوں نے کیا کھایا ہوگا اور کیا پیا ہوگا۔

عمر بھائی کے ابّو ان کے کھانے پینے اور دوسری تکلیفوں کی بالکل پرواہ نہیں کرتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ کامیاب انسان بننے کے لیے آدمی کو تعلیم حاصل کرنا پڑتی ہے اور تعلیم حاصل کرنے کے لیے بہت سی تکلیفیں اٹھانا پڑتی ہیں۔ ان تکلیفوں کے بعد ہی راحت ملتی ہے۔

عمر بھائی گھر آئے تو چودہ اگست بالکل نزدیک تھی۔ وہ جب بہت چھوٹے سے تھے تو اس وقت سے ہی چودہ اگست کو بڑی دھوم دھام سے مناتے تھے۔ ان کے ابّو انھیں چھوٹی چھوٹی کاغذ کی جھنڈیاں اور دھاگے کے گولے لا کر دے دیتے تھے۔ وہ امی کے باریک دوپٹے سے آٹا چھان کر، اس میں پانی ڈال کر اور چولہے پرگرم کر کے اس کی لئی بنا کر دھاگے پر جھنڈیاں چپکاتے۔ چودہ اگست والے روز ان کے گھر پر ہی سب سے زیادہ جھنڈیاں نظر آتی تھیں۔

ان کا یہ شوق اب تک برقرار تھا۔ وہ بہت خوش تھے کہ اپنے بہن بھائیوں اور کزنز کے ساتھ مل کر چودہ اگست کی تیاری کریں گے۔ ان کے دو کزنز ظفر اور ثاقب بھی ان کی آمد کا سن کر ان کے گھر آگئے تھے۔ ان سب بچوں کی وجہ سے دن بھر گھر میں خوب ہلّا گلّا رہتا اور اس رونق کو دیکھ کر ان کی امی خوشی سے باغ باغ ہوجاتیں۔

ایک روز کا ذکر ہے۔ باہر تیز دھوپ تھی مگر ان کی کوٹھی کے اگلے حصے میں سایہ تھا کیوں کہ وہاں بڑے بڑے درخت لگے ہوئے تھے۔ عمر بھائی سب بچوں کو لے کر وہاں چلے آئے۔ وہاں پر بہت سارے رنگ برنگے گملے قطار در قطار دیواروں کے ساتھ رکھے ہوئے تھے، جن میں طرح طرح کے پھلوں اور پھولوں اور سبزیوں کے پودے لگے ہوئے تھے۔ یہ پودے انہوں نے زاہد، راشد اور فائزہ کی مدد سے لگائے تھے۔

عمر بھائی نے کہا۔ ““ چودہ اگست آنے والی ہے۔ اس دن ہمارا پیارا پاکستان بنا تھا۔ ہم اس چودہ اگست پر ایک انوکھی چیز بنائیں گے۔ ہم تمام گملوں کے پودوں کے ہر پتے پر پاکستان کا جھنڈا پینٹ کریں گے۔ جب ہوا سے ان کے پتے لہلہائیں گے تو وہ منظر دیکھنے سے تعلق رکھے گا۔ ایسے جھنڈے دنیا میں شائد پہلی مرتبہ بنیں گے”۔

یہ کہہ کر انہوں نے اپنے ہاتھ میں پکڑے ہوئے بیگ سے چھوٹے چھوٹے برشوں کا ڈبّہ نکالا اور پلاسٹک کے ڈھکنوں میں سفید پینٹ نکال نکال کر ہر بچے کو تھما دیا اور بولے۔ “اب تم لوگ ہر پتے کے کنارے پرسفید رنگ کی پٹی بنا کر اس کے بیچوں بیچ بڑی احتیاط سے ایک چاند تارہ بناؤ۔ پتوں کے سبز رنگ کا یہ فائدہ ہوا ہے کہ ہم ان پرپینٹ کرنے سے بچ گئے ہیں۔ مجھے پتہ ہے کہ تم سب کی ڈرائنگ بہت اچھی ہے۔ اس کام میں محنت تو بہت لگے گی اور وقت بھی بہت صرف ہوگا مگر گھبرانا نہیں”۔

سب بچے یہ سن کر خوش ہوگئے۔ زاہد اور راشد دونوں گھر میں سے پلاسٹک کی چھوٹی چھوٹی کرسیاں لے آئے۔ سب بچے انہیں گملوں کے پاس رکھ کر ان پر بیٹھ گئے اور بڑی احتیاط سے پودوں کے پتوں پر سفید رنگ کی پٹی اور چاند تارہ بنانے لگے۔

اس کام میں انھیں بہت مزہ آرہا تھا۔ وہ اس بات پر بھی خوش تھے کہ چودہ اگست کے موقعہ پر ان کے جھنڈوں والے پودے ایک منفردچیز ہونے کی بنا پر سب دیکھنے والوں کو حیران کر دیں گے۔

بچے بڑے انہماک سے اپنے کام میں مصروف تھے۔ عمر بھائی ان کو کام کرتا دیکھ رہے تھے اور خود بھی پتوں پر پینٹ کر رہے تھے۔ ان کی کوٹھی کے پچھواڑے کافی ساری جگہ خالی پڑی تھی۔ یہاں پر پانی کا زیر زمین ٹینک تھا۔ ایک سائبان کے نیچے واشنگ مشین رکھی تھی۔ پودوں میں پانی دینے کے پائپ بھی یہیں رکھے ہوئے تھے اور ایک بڑی سی سیڑھی بھی تھی۔ باقی جگہ میں پھلوں کے درخت لگے ہوئے تھے جن میں آم کا درخت سب سے اونچا اور گھناتھا۔ درختوں میں چھوٹی چھوٹی چڑیوں نے اپنے گھونسلے بنا رکھے تھے۔

اچانک کوٹھی کے کے اس حصے میں سے چڑیوں کی چوں چوں کی تیز آوازیں آنے لگیں۔ عمر بھائی نے یہ آوازیں سنیں تو جلدی سے کوٹھی کے پچھلے حصے کی جانب بھاگے۔ بچے سمجھ گئے کہ کوئی خاص بات ہے۔ وہ خود بھی رنگ اور برش کرسیوں پر رکھ کر ان کے پیچھے دوڑے۔ جب وہ گھر کے پچھلے حصے کی جانب آئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک چڑیا کا گھونسلا زمین پر پڑا ہے،اس کے تین چھوٹے چھوٹے بچے زمین پر پھدکتے پھر رہے ہیں اورچڑیا اور چڑا پریشانی کے عالم میں زور زور سے شور مچا رہے ہیں۔ درخت پر جہاں پہلے ان کا گھونسلا تھا وہاں ایک کوّا بیٹھا کائیں کائیں کر رہا تھا۔

بچے سمجھ گئے کہ چڑیا کا گھونسلا اس کوّے نے گرایا ہے۔ عمربھائی نے کوّے کو درخت سے اڑا دیا۔ پھر انہوں نے درخت سے سیڑھی لگائی اور گھونسلے کو زمین پر سے اٹھا کر اس کی جگہ پررکھا۔ اتنی دیر میں زاہد، ثاقب اور فائزہ نے چڑیا کے ننھے ننھے بچوں کو زمین پر سے اٹھالیا تھا اور ایک ایک کرکے عمر بھائی کودینے لگے۔ انہوں نے ان بچوں کو احتیاط سے گھونسلے میں رکھ دیااور نیچے آکر سیڑھی ہٹا لی۔ تھوڑی دیر بعد چڑیا اور چڑا بھی اپنے گھونسلے میں چلے گئے۔ بچوں نے خوشی سے تالیاں بجائیں۔

فائزہ بولی۔ “میں پلیٹوں میں ان کا دانہ پانی بھی رکھوں گی”۔

اس کی بات سن کر عمر بھائی کچھ سوچنے لگے۔ انھیں فائزہ کی بات بہت پسند آئی تھی۔ یہاں سے فارغ ہو کر وہ سب دوبارہ اپنے کام میں لگ گئے۔ زیادہ دیر نہیں گزری تھی کہ ان کے کانوں میں مٹی کے برتن بیچنے والے کی آواز آئی۔ “مٹی کے برتن لے لو۔ کونڈا لے لو۔ پیالہ لے لو۔ ہانڈی لے لو۔ گولک لے لو”۔

عمر بھائی نے کھلے دروازے سے باہر دیکھا۔ برتن بیچنے والے آدمی نے اپنے گدھے پر لدے جھابے میں بہت سے چھوٹے بڑے مٹی کے برتن رکھے ہوئے تھے اور آوازیں لگا رہا تھا۔

اسے دیکھ کرعمر بھائی بچوں سے بولے۔ “زبردست۔ اس کمہار کو دیکھ کر ذہن میں ایک آئیڈیا آیا ہے۔ ہم اس سے مٹی کے کونڈے لے کر چھینکے بنائیں گے”۔

“چھینکے؟ یہ کیا ہوتے ہیں اور ان کو بنا کر ہم کیا کریں گے؟” ان کے کزن ظفر نے ہاتھ میں پکڑے برش سے سر کھجا کر حیرت سے پوچھا۔

“جب ہم انہیں بنائیں گے تو خود ہی دیکھ لینا۔ بس یہ سمجھ لو کہ ان کی وجہ سے سارے پرندے خوش ہو جائیں گے”۔ عمر بھائی نے جواب دیا۔

پھر انہوں نے برتن والے کو روک کر اس سے دو مٹی کے کونڈے خریدے۔ اس نے دونوں کی قیمت تین سو روپے بتائی تھی۔ سب بچوں کو یہ دیکھ کر بڑی حیرت ہوئی کہ عمر بھائی نے پیسے کم کرنے یا بھاؤ تاؤ کی کوشش نہیں کی تھی۔ گرمی بہت پڑ رہی تھی۔ جب وہ کونڈے رکھنے گھر میں گئے تو پیسوں کے ساتھ پانی کی ایک ٹھنڈی بوتل بھی اس برتن بیچنے والے کے حوالے کی۔ وہ خوش ہوگیا اور دعائیں دیتا ہوا چلا گیا۔

اس کے جانے کے بعد ان کے کزن ثاقب نے پوچھا۔ “عمر بھائی دوباتیں میں نے آپ سے دریافت کرنا ہیں۔ پہلی تو یہ کہ آپ نے کونڈوں کی قیمت کم نہیں کروائی۔ دوسری بات، برتن بیچنے والے نے پانی مانگا بھی نہیں تھا مگر آپ اس کے لیے پانی کی ٹھنڈی بوتل لے کر آگئے”۔

عمر بھائی نے جواب دیا۔ “تمھاری پہلی بات کا تو یہ جواب ہے کہ ہمیں چھوٹے دُکانداروں سے بھاؤ تاؤ نہیں کرنا چاہیے۔ وہ شدید گرمی سردی میں دن بھر مارے مارے پھرتے ہیں۔ اگر ان کی کوئی چھوٹی موٹی دُکان بھی ہو تواس سے زیادہ آمدنی نہیں ہوتی۔ اگر انھیں کچھ پیسے زیادہ بھی مل جائیں تو اچھا ہے۔ تمہاری یہ بات ٹھیک ہے کہ اس نے پانی نہیں مانگا تھا مگر میں نے سوچا کہ گرمی کی وجہ سے اسے یقیناً پیاس لگ رہی ہوگی مگر جھجک کی وجہ سے اس نے مناسب نہیں سمجھاہوگا کہ ہم سے پانی مانگے۔ اس لیے میں نے اسے پانی لا کر دے دیا۔ اس بات میں یہ بھی سبق ہے کہ ہمیں کسی کے کہنے سے پہلے ہی اس کی ضرورت کو سمجھ کر اس کی مدد کرنا چاہیے۔ ایسی باتوں کا شمار نیک سلوک میں ہوتا ہے اور ہمارا مذہب بھی ہمیں اچھے اور نیک سلوک کا درس دیتا ہے۔ چلو اب چل کر چھینکا بناتے ہیں”۔

سب بچے ان کے پیچھے پیچھے چلدئیے۔ پتوں پر پینٹ کا کام تھوڑی دیر کے لیے روک دیا گیا تھا۔ عمر بھائی انھیں لے کر دوبارہ کوٹھی کے پچھلے حصے میں آئے۔ گھنے درختوں کی وجہ سے وہاں سایہ تھا اور کچھ خنکی بھی تھی۔ وہ اپنا اوزاروں کا بکس بھی اٹھالائے تھے۔ انہوں نے ڈرل مشین نکال کر دونوں کونڈوں کے کناروں پر تین تین چھوٹے چھوٹے سوراخ کیے۔ پھر ان میں دو دو فٹ کی پتلی رسیاں باندھ دیں۔

ان کی بہن فائزہ جلدی سے بولی۔ “میں سمجھ گئی۔ عمر بھائی ان کونڈوں کا ترازو بنا رہے ہیں۔ میں جب امی کے ساتھ کبھی مارکیٹ میں کسی دُکان پر جاتی ہوں تو دُکاندار ترازو کے ایک پلڑے میں لوہے یا پیتل کے باٹ رکھتا ہے اور دوسرے پلڑے میں چیزیں رکھ کر تولتا ہے”۔

عمر بھائی نے نفی میں سر ہلا دیا اور بولے۔ “ترازو بھی قریب قریب ایسے ہی بنتا ہے۔ مگر میں ترازو نہیں چھینکا بنا رہا ہوں۔ بہت سالوں پہلے گھر کی خواتین ان چھینکوں میں دودھ اور دوسری کھانے پینے کی چیزیں رکھ دیا کرتی تھیں اور اس وجہ سے ان میں رکھی چیزیں بلیوں سے محفوظ رہتی تھیں”۔

“عمر بھائی۔ کیا یہ جادو کے چھینکے ہیں کہ ان میں چیزیں رکھ دیں تو یہ بلیوں سے محفوظ ہوجاتی ہیں؟” ظفر نے پوچھا۔

“خیر یہ جادو کی تو کوئی چیز نہیں ہے، بس اس میں ہمارے بزرگوں کی حکمت چھپی ہوئی ہے۔ ایسے چھینکے بنا کر ان میں کھانے پینے کی اشیا رکھ کر انہیں گھر میں کسی اونچی جگہ پر لٹکا دیاجاتا تھا۔ اونچائی پر ہونے کی وجہ سے بلیاں ان تک نہیں پہنچ پاتی تھیں۔ لیکن یہ والے چھینکے ہم پرندوں کے لیے بنا رہے ہیں۔ ان میں دانہ پانی ڈال کر درخت پر لٹکا دیں گے”۔ عمر بھائی نے بتایا۔

اس کے بعد عمر بھائی نے وہ چھینکے سیڑھی لگا کر آم کے درخت کی شاخوں پر مضبوطی سے باندھ دیے اور ایک میں پانی اوردوسرے میں باجرہ ڈال دیا۔ زیادہ دیر نہیں گزری تھی کہ درختوں پررہنے والی چڑیاں اور دوسرے پرندے ان میں سے دانا کھانے لگے اور پانی پینے لگے۔ جب ان کا اچھی طرح پیٹ بھر گیا تو وہ پانی کے کونڈے میں غوطے لگا لگا کر نہانے لگے۔ سب بچوں کو یہ منظر بہت اچھا لگ رہا تھا ادر وہ پرندوں کی حرکتوں کو دلچسپی سے دیکھ رہے تھے۔ پرندوں کو خوش دیکھ کرانھیں خود بھی مسرت کا احساس ہو رہا تھا۔

عمر بھائی نے کہا۔ “ان پرندوں کے گھر بھی یہاں پر ہیں اور اب ان کے کھانے پینے کا بھی انتظام ہوگیا ہے۔ یہ خیال فائزہ نے سجھایا تھا اور یہ بڑی اچھی بات ہوئی ہے۔ ہمیں بے زبانوں کے آرام اور ان کی بھوک پیاس کا خیال رکھنا چاہیے۔ یہ بھی اللہ کی مخلوق ہیں اور اللہ کی مخلوق سے محبت کرنا اور ان کا خیال رکھنا بہت ثواب کا کام ہے”۔

اس کام سے فارغ ہو کر وہ لوگ پھر گملوں کے پاس آکر اپنے کام میں مصروف ہوگئے۔ عمر بھائی نے کہا۔ “چودہ اگست کے بارے میں توتم سب ہی جانتے ہو۔ اس روز ہمارا ملک معرض وجود میں آیا تھا۔ اب تم میں سے کوئی یہ بتائے کہ اپنے وطن کی کیا اہمیت ہوتی ہے؟

“فائزہ اروی کے بڑے سے پتے پر ستارہ بناتے ہوئے بولی۔ “اپنا وطن بہت اہم ہوتا ہے۔ اس میں ہمارے گھر ہوتے ہیں اور ان گھروں میں ہم اپنے ماں باپ اور بھائی بہنوں اور دادا دادی کے ساتھ رہتے ہیں۔ اس میں ہمارے اسکول ہوتے ہیں، سیر و تفریح کے مقامات ہوتے ہیں۔ ہرچیز کی شاپس ہوتی ہیں۔ اور ایسی ہی بہت سی دوسری چیزیں بھی۔ ہم آزادی سے ہر طرف گھومتے پھرتے ہیں”۔

عمر بھائی بولے۔ “بالکل ٹھیک۔ تم نے دیکھا ہوگا کہ جب کوے نے چڑیا کا گھونسلہ زمین پر گرا دیا تھا تو وہ اور اس کا چڑا کیسے بے تاب ہوگئے تھے۔ وہ حالانکہ بے زبان ہیں مگر انھیں احساس ہوگیا تھا کہ بغیر گھر کے ان کے بچے محفوظ نہیں رہیں گے اس لیے وہ پریشانی کے عالم میں شور مچا رہے تھے۔ ہمارا ملک بھی ہمارا گھر ہے۔ یہ محفوظ ہوگا تو ہم سب بھی اس میں اطمینان، عزت اور سکون سے رہ سکیں گے۔ اب میں تمہارا دھیان چند دوسری چیزوں کی طرف دلاتا ہوں۔ اپنے پیارے پاکستان میں رہتے ہوئے تم لوگ اسکول جاتے ہو، سب کے ابّو اپنے اپنے کاموں پر چلے جاتے ہیں۔ امی کو اگر کوئی چیز چاہیے ہوتی ہے اور اگر گھر میں کوئی بچہ موجود نہ ہو تو وہ خود مارکیٹ سے جا کر اسے لے آتی ہیں۔ اسکول سے آنے کے بعد تم گھر سے نکل کر گھومتے پھرتے ہو، چھٹی والے روز اکثر لڑکوں کے اپنے دوستوں کے ساتھ کرکٹ میچ ہوتے ہیں۔ میچ کھیلنے کے لیے وہ لوگ دور دور کے میدانوں میں جاتے ہیں۔ خیبر سے کراچی تک جس کا دل چاہے کسی بھی شہر، گاؤں اور دیہات میں آرام سے گھومے پھرے، تفریح کرے،اپنے ضروری کام انجام دے، دوستوں اور رشتہ داروں سے ملے۔ نماز کا وقت ہوجائے تو پورے ملک میں جگہ جگہ مسجدیں ہیں، آرام سے نماز ادا کرے، رمضان کے مہینے میں روزے رکھے۔ بقرعید کوگائے، بیل، بکرا، دنبہ اور اونٹ جس کی چاہے قربانی دے۔ یہ سب چیزیں ہم اپنے وطن میں کس قدر آزادی اور آسانی سے کرتے ہیں۔ اللہ کا شکر ہے کہ ہمارے دلوں میں نہ کسی قسم کا خوف ہوتا ہے اورنہ دھڑکا۔ ہم سینہ تان کر اور پوری آزادی سے ہر طرف گھومتے پھرتے ہیں۔ ہمارے ساتھ اگر کوئی برا آدمی کسی قسم کا ظلم کرتا ہے تو اس کو پکڑنے کے لیے ہماری پولیس موجود ہوتی ہے اوردوسرے ادارے بھی ہوتے ہیں۔ یہ سب مل کر ہماری حفاظت کرتے ہیں۔ شر پسند اور لڑاکا پڑوسی ملکوں سے حفاظت کے لیے ہماری بہادر فوج موجود ہے۔ ہمیں اس بات کا بھی خوف نہیں ہوتا کہ کسی دوسرے دشمن ملک کی فوجیں ہمارے ملک میں گھس آئیں گی اور مردوں کو گولیوں کا نشانہ بنا کر ہمارے گھروں کو لوٹ کر،انہیں آگ لگا کر ہماری ماں بہنوں کو اٹھا کر لے جائیں گی۔ یہ اس لئے کہ اللہ کے کرم سے ہماری فوج دنیا کی بہترین فوجوں میں سے ایک ہے اور ہر دم چوکس رہتی ہے اور تمام جدید سامان حرب سے لیس ہے ۔ ان ہی فوجی بھائیوں کی بہادری اور جوانمردی کی وجہ سے دشمن کی ہمّت نہیں ہوتی کہ وہ ہمارے پاک وطن کو میلی آنکھ سے دیکھے۔ وہ خالی خولی دھمکیاں تو دیتا رہتا ہے مگر اس میں کچھ کرنے کی ہمت نہیں ہوتی۔ یہ سب چیزیں ہمارے لیے نعمتیں ہیں اور ہمیں اس لیے حاصل ہیں کہ ہم اپنے پیارے وطن پاکستان میں رہتے ہیں۔ ان تمام باتوں کو دیکھتے ہوئے تم لوگ خود ہی اندازہ کر لو کہ اس پاکستان کی وجہ سے ہم کتنے اطمینان اور سکون سے زندگی گزار رہے ہیں۔ یہاں ہماری جانیں بھی محفوظ ہیں، ہمارا مال بھی اورہماری عزتیں بھی۔ یہاں ہمیں ہر طرح کی آزادی حاصل ہے۔ ان تمام باتوں کے لیے ہم اللہ کا جس قدر بھی شکر ادا کریں کم ہے۔ اپنا ملک ہمارے لیے جنت سے کم نہیں۔ مزے سے پڑھو لکھو، گھومو پھرو،کھاؤ پیو کسی قسم کی کوئی پابندی نہیں”۔

“قائد اعظم اور ان کے ساتھیوں کی کوششوں سے یہ ملک آزاد ہوا تھااور یہ ان کا ہم پر بہت بڑا احسان ہے۔ میں تو اپنے پاکستان سے بہت محبّت کرتی ہوں”۔ فائزہ بڑے جوش سے بولی۔

“اور ہم بھی۔ پاکستان ہمیں اپنی جان سے بھی زیادہ پیارا ہے”۔ زاہدنے کہا۔

عمر بھائی نے کہا۔ “بہت اچھی بات ہے۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ اس بیش بہا نعمت پر ہم اللہ کا شکر ادا کریں اوراس کی قدر کریں۔ اس کا ہر طریقے سے خیال رکھیں اور اس کی ترقی اور خوش حالی کے لیے اچھے اچھے کام کریں۔ اس میں بسنے والے ہر فرد کے ساتھ میل محبّت سے اور بھائی بھائی بن کررہیں۔ ایک دوسرے کی مدد کریں۔ خوب دل لگا کر پڑھیں، اور جب پڑھ لکھ کر کسی قابل ہوجائیں اور کسی بھی فیلڈ میں جائیں تو پھرخوب محنت اور ایمانداری سے اپنا اپنا کام انجام دیں تاکہ ہمارا ملک ترقی کرے، اس میں خوب خوشحالی آئے، کوئی غریب نہ رہے اورپوری دنیا میں اس کا نام مزید روشن ہوجائے۔ ہمارے پیارے ملک کاہم پر جو احسان ہے ہم اسی طریقے سے اس کا بدلہ اتار سکتے ہیں”۔

عمر بھائی کی باتوں نے ان پر بڑا اثر کیا تھا۔ سب بچوں نے سچے دل سے وعدہ کیا کہ وہ بہت اچھے بچے بنیں گے، خوب شوق سے پڑھیں گے، ایک دوسرے کے ساتھ پیار محبّت سے رہیں گے اور بڑے ہو کر اپنے ملک کے لیے اچھے اچھے کام کریں گے۔

دوپہر کے کھانے کا وقت ہوگیا تھا۔ پودوں کے پتوں پر جھنڈے بنانے کا کام روک کر سب کھانا کھانے چلے گئے۔ کھانے کے بعد وہ دوبارہ اپنے کام میں جت گئے۔

اس کے بعد سب بچے ایک ہفتہ تک رات دن اس کام میں بڑی تندہی سے لگے رہے۔ کام بہت دشوار تھا، ہر گملے میں بے شمار پتے ہوتے تھے اور ہر پتے پر سفید رنگ سے پٹی اور چاند تارہ بنانابہت دشوار کام تھا اور اس میں وقت بھی بہت لگتا تھا۔ مگر دھن کے پکے یہ بچے اس کام میں لگے ہی رہے۔ اس کام میں مصروف ہونے کی وجہ سے وہ اپنے معمول کے کھیل بھی نہیں کھیلتے تھے۔

آخر کار یہ کام چودہ اگست سے پہلے اختتام کو پہنچ گیا۔ سارے گملوں میں موجود پودوں کے ایک ایک پتے پر پاکستان کا حسین و جمیل جھنڈا اپنی پوری آب و تاب سے جگمگا رہا تھا۔ تمام گملے بہت خوبصورت نظر آرہے تھے۔ جب ہوا کا تیز جھونکا آتا تو ان کے پتوں پر بنے جھنڈے لہلہانے لگتے تھے۔

عمر بھائی نے تمام بچوں کی ان گملوں کے ساتھ ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کردی تھی۔ اس ویڈیو کو بے شمار لوگوں نے دیکھا اور پسند کیا اور اچھے اچھے کمنٹس دے کر ان کی محنت کو سراہا۔ لوگ اس انوکھے آئیڈیا پرحیران بھی تھے۔

چودہ اگست کو ہر محلے کی طرح ان کی گلی کو بھی بڑے بڑے جھنڈوں، چھوٹی چھوٹی جھنڈیوں اور برقی قمقموں سے سجایا گیاتھا۔ عمر بھائی اور بچوں نے گھر سے باہر اپنے دروازے پر مٹی اور چھوٹے چھوٹے پتھروں سے ایک خوبصورت وادی بنائی۔ اس میں پہاڑی اور جھیل بھی تھی اور چند ایک گھر بھی۔ انہوں نے سنہرے، چاندی اور سبز کلر کی چمکی سے کارڈ بورڈ پر “جشن آزادی مبارک ہو” لکھ کر اس بورڈ کو دیوار پر لٹکا دیا تھا۔ جھنڈے والے پودوں کے گملے اس وادی کے آس پاس سجا دیے گئے تھے۔

ان گملوں کی دھوم ہر طرف مچ گئی تھی اور بچے اپنے والدین کے ساتھ دور دور سے انہیں دیکھنے آ رہے تھے اور ان کی گلی میں رش لگ گیا تھا۔ گملوں کو دیکھ کر سب حیران ہوتے اوران لوگوں کی محنت کی تعریف کرتے۔ بہت سارے بچے اپنے موبائلوں میں ان کی ویڈیو بھی بنا رہے تھے۔ اس کی اطلاع چند میڈیاوالوں کو بھی ہوگئی تھی۔ انہوں نے وہاں آکر سب بچوں کے ساتھ گملوں کی ویڈیو بنائیں اور ان کے انٹرویو خصوصی پروگراموں میں چلائے جنہیں لوگوں نے بڑے شوق سے دیکھا۔ ان کی امی اور ابّو بھی ان کے اس کام سے بہت خوش تھے۔ انہوں نے بھی سب بچوں کی بہت تعریف کی اور انھیں خوب شاباش دی۔ ان سب کی محنت رنگ لے آئی تھی اور اس کامیابی پر وہ بہت خوش تھے۔

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

Mukhtar Ahmad

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: