عقل مند وزیر زادہ ( بچوں کی کہانی ) از مختار احمد

0
عقل مند وزیر زادہ ( بچوں کی کہانی ) از مختار احمد

–**–**–

بہت پرانے زمانے کی بات ہے کسی ملک پر خدا دوست نامی ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ یہ بادشاہ بہت نیک اور صلح پسند تھا۔ اس کی ملکہ بھی بہت اچھی اور غریبوں سے محبّت کرنے والی عورت تھی۔ ان کی ایک بیٹی بھی تھی جس کا نام شہزادی انعم تھا۔ شہزادی انعم اپنی خوب صورتی، ذہانت اور اچھے اخلاق کی وجہ سے دور دور تک مشہور تھی۔

شاہ خدا دوست کے یوں تو بہت سے وزیر تھے مگر ان میں ملنسار نامی وزیر اپنی ذہانت اور عقلمندی کی وجہ سے اس کے بہت قریب تھا اور وہ اس پر بہت اعتماد کرتا تھا۔

اس وزیر کا ایک بیٹا بھی تھا جس کا نام خوش بخت تھا۔ وہ شہزادی انعم سے دو تین سال بڑا تھا۔ بادشاہ کو اپنے اس وزیر سے اتنی محبّت تھی کہ اس نے اس کا محل بھی اپنے محل کے برابر میں ہی تعمیر کروایا تھا۔

وزیر ملنسار کے بیٹے خوش بخت کا بچپن شہزادی انعم کے ساتھ کھیلتے کودتے گزرا تھا اور اب وہ دونوں جوان ہوگئے تھے۔ خوش بخت بہت ذہین اور بہادر لڑکا تھا۔ بچپن ہی سے ایک ساتھ رہنے کی وجہ سے دونوں ایک دوسرے سے بہت مانوس ہوگئے تھے۔

جب خوش بخت چھوٹا تھا تو شاہ خدا دوست نے اس کی تعلیم و تربیت کا انتظام بھی شہزادی انعم کے ساتھ محل میں ہی کروادیا تھا جہاں دونوں ماہر اساتذہ سے تعلیم کے ساتھ ساتھ تلوار بازی اور تیر اندازی کا فن بھی سیکھتے تھے۔ شاہ خدا دوست اس سے اپنے بیٹوں کی طرح محبّت کرتا تھا۔ ملکہ بھی خوش بخت کی اچھی عادتوں کی وجہ سے اسے بہت پسند کرتی تھی۔ اب رہی شہزادی انعم تو اسے تو خوش بخت بچپن ہی سے بہت اچھا لگتا تھا۔

شاہ خدا دوست کا ملک جس پر وہ حکومت کرتا تھا، نہایت چھوٹا سا تھا۔ اس میں تین چار بڑے بڑے شہر اور سو ڈیڑھ سو گاؤں تھے۔ اس کی فوج بھی زیادہ بڑی نہیں تھی۔

بادشاہ ایک بات سے بہت پریشان رہتا تھا۔ اس کے پڑوسی ملک پر شاہ بہرام نامی بادشاہ کی حکومت تھی۔ شاہ بہرام کا ملک بھی بہت بڑا تھا اور اس کی فوج بھی بہت زیادہ تھی۔ وہ نہایت ظالم اور لالچی انسان تھا اور اسے دولت حاصل کرنے کا بے حد شوق تھا۔ اس شوق کو پورا کرنے کے لیے اس کی فوجیں آئے دن آس پاس کی چھوٹی ریاستوں پر حملہ کرکے وہاں کے رہنے والوں کا مال و دولت لوٹ کر چلی جاتیں اور اس لوٹ مار کی خوشی میں وہ لوگ خوب جشن مناتے۔

اس کے علاوہ جب ان چھوٹے چھوٹے ملکوں میں کسانوں کی فصلیں تیار ہوجاتیں اور وہ انھیں کاٹ کاٹ کر جمع کر رہے ہوتے تاکہ انہیں فروخت کرکے پیسے کمائیں تو شاہ بہرام کی فوجیں ہلّہ بول کر سارا اناج اپنے ساتھ لے جاتیں اور بے چارے کمزور اور نہتے کسان منہ دیکھتے رہ جاتے۔ ان کا بقیہ پورا سال نہایت غربت اور پریشانی میں گزرتا۔

ان چھوٹی ریاستوں کی فوجیں ان کا مقابلہ کرنے کی کوشش تو کرتی تھیں مگر کم تعداد کی وجہ سے انھیں شکست کا سامنا کرنا پڑجاتا تھا۔

اس بات سے شاہ خدا دوست بہت پریشان تھا۔ شاہ بہرام کی فوجوں نے اس کے ملک پر بھی کئی دفعہ حملہ کیا تھا۔ اس نے ان کا مقابلہ کرنے کی پوری کوشش کی مگر کم فوج ہونے کی وجہ سے ہر بار اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

اسے اس بات کا بہت افسوس ہوتا تھا کہ وہ اپنے ملک کے لوگوں کی جان و مال کی حفاظت کرنے میں ناکام ہوگیا ہے۔ اس نے سوچا کہ اسے اس ناکامی کی وجہ سے بادشاہ بننے کا کوئی حق نہیں ہے۔ اس نے فیصلہ کر لیا کہ وہ بادشاہت چھوڑ دے گا۔ اس سلسلے میں اس نے اپنے وفا دار وزیر ملنسار سے بھی بات کی تھی۔

بادشاہ کی بات سن کر وزیر ملنسار سوچ میں پڑ گیا تھا۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ اتنا اچھا بادشاہ تخت و تاج سے دستبردار ہوجائے۔ اس کی سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ بادشاہ کو اس کے فیصلے سے باز رکھنے کے لیے کیا کرے۔ جب اس کی سمجھ میں اس الجھے ہوئے مسلے کا کوئی حل نہ آیا تو اس نے اپنے بیٹے خوش بخت سے مشوره کرنے کی ٹھانی۔

گھر جا کر وزیر نے خوش بخت کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا اور اس سے حل طلب کیا۔ خوش بخت نے باپ کی بات سن کر کہا۔ “ابّا جان۔ آپ بالکل فکر نہ کریں۔ میں محل جا کر بادشاہ سلامت سے اس سلسلے میں بات کروں گا”۔

وزیر یہ سن کر مطمئین ہوگیا۔ اسے اپنے بیٹے کی ذہانت پر پورا بھروسہ تھا اور اسے امید تھی کہ وہ بادشاہ کو اس کے ارادے سے باز رکھنے میں ضرور کامیاب ہوجائے گا۔

بادشاہ کے اس فیصلے کا علم ملکہ اور اس کی بیٹی شہزادی انعم کو بھی ہوگیا تھا اور وہ دونوں بھی بہت فکرمند تھیں۔

شام کو جب وزیر زادہ خوش بخت شہزادی انعم کے پاس محل آیا تو وہ اپنے باپ کے ساتھ باغ میں چہل قدمی کررہی تھی۔ بادشاہ بہت اداس تھا۔

خوش بخت اس کے قریب آیا اور ہاتھ باندھ کر نہایت ادب سے بولا۔ “جہاں پناہ۔ مجھے اپنے والد صاحب کی زبانی آپ کی پریشانی کا علم ہو گیا ہے۔ میں اسی سلسلے میں آپ سے بات کرنے کے لیے حاضر ہوا ہوں۔ اس پریشانی کا ہرگز یہ حل نہیں کہ آپ بددل ہو کر تخت و تاج چھوڑ دیں۔ اگر زندگی میں کوئی مصیبت آجائے تو اس کا مقابلہ کرنا چاہیے”۔

“ہم کیسے مقابلہ کریں۔ پڑوسی ملک بہت بڑا ہے۔ اس کی فوج بھی بہت زیادہ ہے۔ وہ لوگ جب چاہتے ہیں ہمارے ملک پر ہلّہ بول کر ہمارے لوگوں کو اپنے ظلم و ستم کا نشانہ بنا کر اور ان کا مال اسباب لوٹ کر چلتے بنتے ہیں۔ ہماری فوج بہت کم ہے۔ ایک حد تک تو ان کا مقابلہ کرتی ہے۔ پھر پسپا ہوجاتی ہے۔ ہم بہت شرمندگی محسوس کرتے ہیں کہ اپنی رعایا کو ان کے ظلم و ستم سے نہیں بچا سکتے”۔ بادشاہ نے اداسی سے کہا۔ اسکی بات سن کر شہزادی انعم بھی مغموم نظر آنے لگی۔

“جہاں پناہ۔ آپ کے شکوے میں ہی اس مصیبت کا حل موجود ہے”۔ خوش بخت نے سر جھکا کر کہا۔ “اگر آپ کی فوج تعداد میں کم ہے تو اس کا واحد حل یہ ہے کہ فوج کی تعداد زیادہ کرلی جائے تاکہ دشمن پر غلبہ پایا جا سکے”۔

خوش بخت کی بات سن کر بادشاہ کچھ دیر کے لیے خاموش ہوگیا پھر اس نے آہستگی سے کہا۔ “ہم فوج کی تعداد بڑھا تو لیں مگر ہمارے خزانے میں اتنے پیسے نہیں ہیں۔ سارا اناج اور دوسری چیزیں تو دشمن ملک کی فوجیں لوٹ کر لے جاتی ہیں جس کی وجہ سے لوگ غریب ہو گئے ہیں اور خزانے میں محصول بھی نہیں جمع کراسکتے۔ شاہی خزانہ تو بھرتا ہی ان محصولات سے ہے جو رعایا حکومت کو دیتی ہے۔ ہم ان سپاہیوں کو تنخواہ کہاں سے دیں گے۔ ان کے لیے جنگی ساز و سامان کہاں سے آئے گا۔ خزانہ تو خالی پڑا ہے۔ اس میں چند لاکھ اشرفیاں باقی رہ گئی ہیں۔ ہم تو بہت پریشان ہوگئے ہیں”۔

“جہاں پناہ۔ یہ سب کچھ آپ مجھ پر چھوڑ دیجیے”۔ خوش بخت نے بڑے یقین سے کہا۔ “ میرے ذہن میں ایک منصوبہ ہے۔ اس پر عمل کر کے ہم اپنے دشمن کو زیر کرسکتے ہیں۔ بس میں آپ سے یہ چاہتا ہوں کہ آپ مجھے اجازت دے دیں کہ میں اپنے اس منصوبے پر عمل پیرا ہوسکوں۔ اس کے علاوہ مجھے ایک لاکھ اشرفیاں بھی درکار ہوں گی۔ ان کا انتظام شاہی خزانے سے کرنا ہوگا”۔

اس کی بات سن کر بادشاہ کی آنکھیں خوشی سے چمکنے لگیں۔ شہزادی انعم بھی خوش نظر آنے لگی۔ اسے یقین تھا کہ خوش بخت اس مسلے کو حل کرنے میں ضرور کامیاب ہوجائے گا۔

“ہماری طرف سے تمہیں پوری اجازت ہے کہ اس سلسلے میں جو کچھ بھی کرنا چاہتے ہو کرو۔ ہم اس بات سے بہت خوش ہیں کہ تم نے ہماری مشکل کو محسوس کرکے ہماری مدد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تمہاری عقل اور دانشمندی سے امید ہے کہ ہم اور ہمارا ملک اس مشکل سے نکل جائے گا۔ ہم شاہی خزانچی کو بھی حکم دے دیں گے کہ ایک لاکھ اشرفیاں تمھارے حوالے کر دے”۔ شاہ خدا دوست نے کہا۔

پھر اس نے اسی وقت شاہی فرمان جاری کردیا جس میں حکم دیا گیا تھا کہ حکومت کے تمام لوگ خوش بخت کے احکامات پر عمل کریں اور اسے جس قسم کی بھی مدد درکار ہو اسے مہیا کریں۔

یہ خبر ہر طرف پھیل گئی تھی۔ وزیر بہت خوش تھا کہ بادشاہ سلامت نے اس کے بیٹے کو ایک اہم کام کرنے کے لیے منتخب کر لیا ہے۔

اگلے روز خوش بخت کو ایک لاکھ اشرفیاں مل گئیں۔ اس نے شاہی ہرکاروں کے ذریعے ملک بھر کے تمام آہن گروں یعنی لوہاروں کو طلب کرلیا۔ یہ سب لوگ دھاتوں کو بھٹیوں میں پگھلا کر مختلف اشیا بنانے میں ماہر تھے۔

اس کا حکم ملتے ہی چند دنوں میں ملک بھر کے تمام لوہار اور ان کے ساتھ کام کرنے والے مزدور حاضر ہوگئے۔ اس دوران خوش بخت نے محل سے کچھ دور ایک بہت بڑی جگہ پر ان کے رہنے سہنے کے لیے خیمے لگوا دیے۔ اس نے اسی جگہ لوہے اور دوسری دھاتوں کو پگھلانے کے لیے بہت ساری بڑی بڑی بھٹیاں بھی لگوا دی تھیں۔

جب سب لوہار اور ان کے کاریگر وہاں پر جمع ہوگئے تو خوش بخت نے ان سے کہا۔ “آج سے آپ سب لوگ شاہی آہن گر ہیں۔ آپ کو اچھی تنخواہیں دی جائیں گی مگر سب لوگوں کو چوبیس گھنٹے اسی جگہ رہنا پڑے گا تاکہ یہاں ہر وقت کام ہوتا رہے۔ آپ کو پتہ ہے کہ ہمارے پڑوسی ملک کی فوجیں آئے دن ہمارے ملک پر حملہ کرکے یہاں کے لوگوں کا مال اسباب اور اناج لوٹ لیتی ہیں۔ یہاں سے وہ لوگ ہمارے نوجوانوں کو بھی پکڑ کر لے جاتے ہیں اور انھیں غلام بنا لیا جاتا ہے۔ اگر یہ ہی صورتحال برقرار رہی تو ایک روز وہ ہمارے ملک پر قبضہ کرکے ہم سب کو بھی اپنا غلام بنالیں گے۔ غلامی بہت بری ہوتی ہے – کسی کا غلام بن جانے والے لوگ زندہ تو رہتے ہیں مگر ترقی نہیں کرتے۔ انھیں پڑھنے لکھنے اور اپنی مرضی کی زندگی گزارنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ آزاد ملک کے آزاد لوگ ہی اپنے ملک کو ترقی کی راہ پر ڈالتے ہیں اور ایک خوش گوار زندگی گزارتے ہیں۔ اپنے وطن کی حفاظت کے لیے یہ ضروری ہے کہ ہم اپنی فوج کی تعداد بڑھائیں تاکہ ہمارا پڑوسی ملک ہم پر بری نظر نہ ڈال سکے اور ہم اور ہمارے گھر والے ان کے ظلم و ستم سے محفوظ رہ سکیں۔ ہمارے ملک کا ہر فرد ایک سپاہی ہوگا مگر اس کے لیے ہمیں جنگی ساز و سامان کی ضرورت پڑے گی۔ اب آپ لوگوں کا کام یہ ہے کہ اپنے دشمن سے بچاؤ کے لیے دن رات ہتھیاروں کی تیاری میں لگ جائیں”۔

خوش بخت کی بات ان سب کی سمجھ میں آگئی تھی۔ وہاں آئے ہوئے تمام لوہاروں اور مزدوروں نے عہد کیا کہ وہ اپنے ملک کی سلامتی کے لیے جی جان سے کام کریں گے۔ انہوں اپنا کہا کر دکھایا اور چند ہی مہینوں میں انہوں نے دن رات کام کرکے چمکتی دمکتی تلواروں، خنجروں، نیزوں ، تیروں اور زرہ بکتروں کے ڈھیر لگادیے۔

جب یہ سارا سامان ایک بہت بڑی تعداد میں تیار ہو گیا تو خوش بخت نے ایک دوسرا حکم نام جاری کردیا کہ ملک کا ہر وہ نوجوان جو اٹھارہ سال سے تیس سال کی عمر کا ہے اپنا نام آکر شاہی رضا کار سپاہیوں میں لکھوائے۔ ایسے تمام لوگوں کو جنگی تربیت دی جائے گی اور انھیں شمشیر زنی ، تیر اندازی اور گھڑ سواری کا ماہر بنایا جائے گا۔ یہ تربیت لینے والے باقائدہ فوج کے ملازم نہیں ہونگے مگر جنگ ہونے کی صورت میں وہ سب رضاکارانہ طور پر شاہی فوج کے ساتھ مل کر دشمن کا مقابلہ کریں گے تاکہ اپنے ملک کی حفاظت کرسکیں۔

اس اعلان کے ہوتے ہی پورے ملک میں ایک جوش و خروش پیدا ہوگیا۔ سب لوگ اپنے ملک سے بے حد پیار کرتے تھے اور اس کی حفاظت کے لیے اپنی جان اور مال لٹانے کو تیار تھے۔ چند ہی دنوں میں بے شمار نوجوان حاضر ہوگئے۔

خوش بخت نے اپنی نگرانی میں سپہ سالار اور دوسرے جنگی ماہروں اور فوج کے تجربہ کار سپاہیوں کی مدد سے انھیں جنگی تربیت دینا شروع کردی۔ یہ تمام نوجوان دن میں تو محنت مزدوری کرتے تاکہ ان کا گھر بار چلتا رہے اور رات کا کچھ حصہ جنگی تربیت لینے میں گزارتے۔ زیادہ دن نہیں گزرے تھے کہ شاہی فوج میں ایسے ہزاروں نوجوانوں کا اضافہ ہوگیا جو شمشیر زنی، نیزہ بازی اور تیر اندازی میں اپنا جواب نہیں رکھتے تھے۔

پھر ایک روز ایسا ہوا کہ شاہ بہرام کی فوجوں نے شاہ خدا دوست کے ملک پر چڑھائی کرنے کا منصوبہ بناکر ان کے ملک کی طرف پیش قدمی شروع کردی۔ اس موقع پر ان کا بادشاہ شاہ بہرام بھی ان کے ساتھ تھا۔ اسے شہزادی انعم کے متعلق خبریں مل گئی تھیں کہ وہ بہت خوب صورت اور ذہین ہے۔ اب اس کا ارادہ تھا کہ وہ شاہ خدا دوست کو شکست دے کر اسے قتل کردے گا اور اس کے ملک پر قبضہ کرکے شہزادی انعم سے شادی کر لے گا۔

خوش بخت نے ایک کام اور بھی کیا تھا۔ اس نے چاروں طرف اپنے جاسوس پھیلا دیے تھے جو ہر دم ظالم اور مکّار شاہ بہرام کی فوج پر نظر رکھتے تھے۔ شاہ بہرام کے ارادوں کی خبر انھیں ہوئی تو انہوں نے یہ اطلاع خوش بخت تک پہنچا دی کہ دشمن نے حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کرلی ہے اور ان کے ملک کی جانب چل پڑے ہیں۔

یہ اطلاع ملتے ہی خوش بخت نے اپنی فوج کو تیاری کا حکم دیا۔ اس کی ساری فوج نہ صرف تعداد میں بہت زیادہ ، بلکہ نہایت منظم بھی ہو چکی تھی۔ دشمن کو ان تمام باتوں کا علم ہی نہیں تھا۔ وہ تو یہ ہی سمجھ رہے تھے کہ اس مرتبہ پھر وہ ان کمزور لوگوں پر حملہ کرکے نہ صرف ان کا مال اسباب لوٹ لیں گے بلکہ ان کے ملک پر قبضہ بھی کرلیں گے اور اس کے بعد شہزادی انعم کی شادی ان کے بادشاہ سے ہوجائے گی۔

وزیر زادہ شاہ بخت اپنی فوج کی قیادت کر رہا تھا اور زرہ بکتر پہن کر ہاتھ میں چمکتی تلوار لے کر سب سے آگے تھا۔ اس کے پیچھے پہلی قطار میں ہزاروں آہنی زرہ بکتر پہنے سپاہی اس کے ساتھ آ رہے تھے۔ ان سپاہیوں کے پیچھے تیر انداز اور نیزے بھالوں سے لیس گھڑ سوار سپاہی تھے۔

جیسے ہی دشمن سے سامنا ہوا، یہ سب کے سب ان پر پل پڑے۔ شاہ بخت اور اس کے سپاہی چونکہ لوہے کی زرہ بکتریں پہنے ہوئے تھے اس لیے دشمن کے فوجیوں کی تلواروں کا ان پر کوئی اثر نہ ہوا مگر ان کی تیز اور چمکتی ہوئی تلواروں نے کشتوں کے پشتے لگا دیے اور دشمن کے سپاہیوں کا تیزی سے صفایا ہونے لگا۔ دشمن کے جو سپاہی گھوڑوں پر سوار دور تھے، ماہر تیر انداز ان پر تیر چلانے لگے۔ ان تیر اندازوں کا نشانہ پکّا تھا جس کی وجہ سے کچھ ہی دیر میں دشمن کے بے شمار سپاہیوں کو اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑ گئے۔

لڑائی کو شروع ہوے تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ دشمن کی فوج نے پسپائی اختیار کرنا شروع کردی۔ اس کے بہت سے سپاہی مارے گئے تھے، جو باقی بچ گئے تھے انہوں نے فرار ہو کر اپنی جان بچانے کی کوشش کی مگر گھڑ سوار نیزے بردار سپاہیوں نے انھیں بھاگنے کا موقع نہیں دیا اور ان کا تعاقب کرکے انھیں گرفتار کرلیا۔ ان کے ساتھ ان کا لالچی بادشاہ بھی گرفتار ہوگیا تھا۔

میدان جنگ کی پل پل کی خبریں شاہ خدا دوست کو محل میں مل رہی تھیں۔ اسے جب یہ پتہ چلا کہ دشمن کو شکست ہوگئی ہے تو وہ بہت خوش ہوا۔ اسے خوش بخت پر بہت فخر محسوس ہو رہا تھا جس کی بہترین حکمت عملی کی وجہ سے دشمن کو عبرت ناک شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

زیادہ دیر نہیں گزری تھی کہ زنجیروں میں جکڑا ظالم اور لالچی بادشاہ شاہ بہرام اس کے روبرو کھڑا تھا۔ اس کے چہرے پر پریشانی کے اثرات تھے اور یہ سوچ سوچ کر اس پر خوف طاری تھا کہ جانے اب اس کے ساتھ کیا سلوک ہو۔

شاہ خدا دوست نے ایک قہر آلود نگاہ اس پر ڈالی اور بولا۔ “تمھارے لالچ اور ظلم نے تمہیں یہ دن دکھایا ہے۔ اگر تم لوٹ مار کا بازار گرم نہ کرتے اور اپنے ارد گرد کے چھوٹے اور کمزور ملکوں سے میل ملاپ اور پیار محبّت سے رہتے تو کبھی بھی اس ذلت سے دو چار نہ ہوتے۔ طاقت کے نشے نے تمہیں ظالم اور مغرور بنا دیا تھا۔ ظالم اور مغرور لوگوں کا یہ ہی انجام ہوتا ہے”۔

پھر شاہ خدا دوست نے شاہ بہرام کو ایک دور دراز ویران جزیرے پر چھڑوا دیا جہاں پر ایک انسان بھی موجود نہیں تھا۔ اس کے بعد اس نے اس کے ملک کو بھی اپنی مملکت میں شامل کر لیا – اس ملک کے خزانے معصوم لوگوں کے لوٹ مار کے مال سے بھرے ہوئے تھے۔

خوش بخت کے مشورے پر شاہ خدا دوست نے ان میں موجود وہ تمام دولت ان لوگوں کو واپس کردی جنہیں لوٹ کر شاہ بہرام نے انہیں بھرا تھا۔ اس کامیابی پر شاہ خدا دوست کی رعایا میں خوشی کی ایک لہر دوڑ گئی تھی۔ انہوں نے پورے ایک ہفتے تک اس فتح کا جشن منایا۔

ظالم اور لالچی شاہ بہرام سے نجات پانے کے بعد اب آس پاس کے ملکوں میں رہنے والوں کو بھی کوئی ڈر خوف نہ رہا تھا اور وہ بھی ہنسی خوشی زندگی گزارنے لگے۔

چند ہی دنوں میں شاہ خدا دوست کے ملک میں بہت خوش حالی آگئی۔ لوگ خوش حال ہوئے تو مختلف محصولات کی مد میں ملنے والی رقم سے شاہی خزانے میں تیزی سے اضافہ ہونے لگا جسے شاہ خدا دوست اپنی رعایا کی فلاح و بہبود پر خرچ کرنے لگا۔

وزیر زادہ خوش بخت نے جن سپاہیوں کو فوج میں رضا کارانہ طور پر بھرتی کیا تھا، شاہ خدا دوست نے نہ صرف انھیں انعام و اکرام سے نوازا بلکہ انھیں باقاعدہ فوج میں شامل کرنے کے احکامات جاری کرکے ان کی بہترین تنخواہیں بھی مقرر کر دیں۔

اس طرح خوش بخت کی عقلمندی کی وجہ سے ایک ظالم اور لالچی بادشاہ سے سب کو نجات مل گئی۔ شاہ خدا دوست اس سے بہت خوش تھا۔ کچھ دنوں بعد اس نے ملکہ سے مشوره کرکے شہزادی انعم کی شادی خوش بخت سے کردی اور اسے تخت و تاج سونپ کر خود یاد الہی میں مصروف ہوگیا۔

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: