چالاک مجرم ( بچوں کی کہانی ) از مختار احمد

0
چالاک مجرم ( بچوں کی کہانی ) از مختار احمد

–**–**–

خالد اور ساجد دو بھائی تھے۔ خالد کی عمر سولہ سال اور ساجد کی عمر چودہ سال تھی۔ وہ اپنے ماں باپ کے ساتھ ایک گاؤں میں رہا کرتے تھے۔ اگرچہ ان کا باپ خود تو پڑھا لکھا نہیں تھا مگر زمانے کو دیکھتے ہوئے پڑھائی لکھائی کی اہمیت سے بخوبی واقف ہوگیا تھا۔ اس کی بیوی بھی نہایت سمجھدار عورت تھی۔ وہ بھی تعلیم کو بہت ضروری سمجھتی تھی۔ اسے بچپن میں خود بھی پڑھنے لکھنے کا بہت شوق تھا مگر حالات کی وجہ سے وہ پرائمری پاس کرکے گھر میں بیٹھ گئی تھی۔

دونوں نے صلاح مشورے کے بعد اپنے دونوں بچوں کو تعلیم حاصل کرنے کے لیے ان کی خالہ کے پاس بھیج دیا تھا جو اپنے شوہر اور دو بچوں کے ساتھ ایک قریبی شہر میں رہتی تھی۔ خالد اور ساجد اپنی خالہ کے بچوں عارف اور طارق سے گھل مل گئے تھے۔ یہ چاروں بچے دل لگا کر پڑھتے تھے اور فارغ اوقات میں کھیل کود کے ساتھ ساتھ اچھی اچھی کتابیں بھی پڑھا کرتے تھے۔ کتابیں پڑھنے کی وجہ سے ان کی معلومات میں بہت اضافہ ہوگیا تھا جس کی وجہ سے وہ بہت سمجھدار ہوگئے تھے۔

ان کے سالانہ امتحانات ختم ہوگئے تھے اور نتیجہ آنے تک سب بچوں کو چھٹی دے دی گئی تھی۔ خالد نویں اور ساجد آٹھویں جماعت میں تھا۔ اسکول بند ہوئے تو دونوں بھائی اپنے خالو اور خالہ سے اجازت لے کر بس میں بیٹھ کر اپنے گاؤں آگئے۔ ان کے جانے کا سن کر عارف اور طارق اداس ہوگئے تھے۔ انہوں نے خالد اور ساجد کو تاکید کی کہ وہ جلد سے جلد واپس آنے کی کوشش کریں۔

دونوں بھائی گھر پہنچے تو انھیں دیکھ کر ان کے ماں باپ بہت خوش ہوئے۔ رات کو باتوں ہی باتوں میں ان کی ماں نے انھیں بتایا کہ گاؤں میں سخت خوف و ہراس پھیلا ہوا ہے۔ کوئی رات ایسی نہیں گزرتی جب گاؤں کے کسی رہائشی کا ایک آدھ مویشی غائب نہ ہوجاتا ہو۔ جس جگہ سے جانور غائب ہوتا ہے وہاں زمین پر بڑے بڑے پنجوں کے نشانات ہوتے ہیں۔ ان نشانات کو دیکھ کر ایک کھوجی نے بتا یا تھا کہ یہ شیر کے پنجوں کے نشانات ہیں۔ اس اطلاع نے گاؤں میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔ گاؤں سے کچھ دور ایک جنگل ہے۔ اس میں چھوٹے بڑے بہت سے جانور رہتے ہیں مگر کسی نے یہ نہیں سنا تھا کہ ان میں شیر بھی ہے۔ گاؤں کے لکڑ ہاروں نے بھی شیر کے خوف سے جنگل جانا چھوڑ دیا ہے اور اب دوسرے کام کرکے بیوی بچوں کا پیٹ پال رہے ہیں۔

ماں سے یہ ساری باتیں سن کر دونوں بھائیوں کو افسوس ہوا۔ گاؤں کے لوگ بے حد غریب تھے، اور اکثر کا تو گزر بسر ہی مویشیوں پر تھا۔ وہ دونوں بچے نہایت ذہین اور بہادر تھے۔ انہوں نے سوچا کہ وہ گاؤں والوں کی مدد کریں گے اور کسی ترکیب سے شیر سے ان کو نجات دلائیں گے۔

گاؤں آنے کے اگلے روز وہ صبح کے وقت اپنے گھر کی چھت پر چڑھے ہوئے تھے کہ ان کے کانوں میں محلے کے ایک گھر سے شور کی آوازیں آنے لگیں۔ یہ آوازیں خالہ جنت کے گھر سے آ رہی تھیں۔ ان کی ماں جلدی سے گھر سے نکل کر خالہ جنت کے گھر کی طرف چلی۔ خالد اور ساجد بھی ماں کے پیچھے لپکے۔

خالہ جنت کے گھر پہنچ کر پتہ چلا کہ رات اس کے گھر بھی شیر آگیا تھا اور اس کی دو بکریوں میں سے ایک بکری کو لے کر چلتا بنا۔ دونوں بھائیوں نے اس جگہ کا معائینہ کیا۔ خالہ جنت اپنی بکریوں کو صحن میں بنے ایک چھپر کے نیچے باندھتی تھی۔ صحن کی دیواریں بہت نیچی تھیں۔ اس کا شوہر تو تھا نہیں اس لیے اس کا گزارہ بکریوں کا دودھ اور مرغیوں کے انڈے بیچ کر ہوتا تھا۔ صحن میں چھوٹے بڑے کئی دڑبے دونوں بھائیوں کو نظر آئے جن میں بند مرغیاں کڑکڑا رہی تھیں۔

زمین میں ایک جگہ لوہے کا کھونٹا تھا جس سے بندھی ایک ٹوٹی ہوئی پتلی سی رسی زمین پر پڑی تھی۔ وہیں ایک دوسری بکری کھڑی جگالی کر رہی تھی۔ آس پاس کی زمین کچی اور گیلی تھی اور اس پر جگہ جگہ شیر کے پنجوں کے نشانات نظر آ رہے تھے جو لمبائی میں آٹھ نو انچ کے تھے۔ پھر دونوں بھائیوں نے وہاں سے ہٹ کر صحن میں دیکھا۔ باہر کے دروازے والی دیوار کے قریب انھیں شیر کے پنجوں کے نشانات نظر آئے۔ دونوں بھائی غور سے ان پنجوں کا جائزہ لینے لگے۔

ان کی ماں نے انھیں دیکھ لیا تھا۔ وہ جلدی سے ان کے قریب آئی اور گھبرائے ہوئے لہجے میں بولی۔ “تم دونوں یہاں کیا کر رہے ہو؟ چلو گھر چلو۔ ایسا نہ ہو کہ شیر پھر سے آجائے”۔

اپنی ماں کی سادہ لوحی پر دونوں بھائی مسکرانے لگے اور ماں کے پیچھے پیچھے گھر آگئے۔ محلے والے خالہ جنت کو تسلیاں دے رہے تھے۔

دونوں بھائی گھر آکر پھر چھت پر چڑھ گئے۔ وہ اسی واقعہ کے متعلق باتیں کر رہے تھے کہ اچانک انہوں نے گلی میں ایک ٹیکسی داخل ہوتے دیکھی۔ ٹیکسی ایک گھر کے سامنے رکی۔ یہ شیر جان کا گھر تھا۔

شیر جان کو دونوں بھائی بچپن سے جانتے تھے۔ وہ اسی گاؤں میں پیدا ہوا تھا۔ وہ بہت غریب تھا اور ان بھائیوں کی معلومات کے مطابق دو تین سال سے گاؤں کے لوہار کے پاس کام کرتا تھا۔ شروع شروع میں تو اس کے مالک نے اسے لوہے کو ٹھونکنے پیٹنے کے کام پر لگایا۔ جب اس کا ہاتھ کچھ چل نکلا تو اسے دستی دھونکنی پر بیٹھا دیا اور وہ لوہا، پیتل اور دوسری دھاتوں کو پگھلا کر انھیں پکی مٹی سے بنے سانچوں میں ڈال کر مختلف چیزیں بنانے لگا۔ بہت جلد وہ اپنے اس کام میں ماہر ہوگیا تھا۔

ٹیکسی کا دروازہ کھلا اور اس میں سے شیر جان اترا۔ اب جو اچانک انہوں نے شیر جان کے یہ ٹھاٹ بات دیکھے کہ جسم پر قیمتی کپڑے ہیں، پاؤں میں نفیس جوتے ہیں اور وہ ٹیکسی سے اترا ہے تو انھیں بہت حیرت ہوئی۔ ٹیکسی سے اتر کر وہ اپنے گھر کی جانب بڑھا۔

خالد نے دیکھا کہ خالہ جنت کے گھر سے شور شرابہ سن کر اس کے ہونٹوں پر ایک عجیب سی مسکراہٹ آگئی تھی۔ اس بات نے اسے چونکا دیا۔ تھوڑی دیر بعد اس نے ساجد سے کہا۔ “ساجد یہ جو اچانک جنگل سے نکل کر شیر آگیا ہے اور گاؤں کے لوگوں کے مویشی لے جاتا ہے اس کے بارے میں تم کیا کہتے ہو؟”

“یہ ایک ٹانگ کا شیر ہے”۔ ساجد نے مسکرا کر کہا۔ “میں نے شیر کے پنجوں کو غور سے دیکھا تھا۔ سارے نشانات ایک ہی پنجے کے ہیں، چار پنجوں کے نہیں۔ حیرت کی بات یہ بھی ہے کہ خون کا ایک قطرہ بھی وہاں پر نظر نہیں آرہا تھا۔ ایسا معلوم دیتا ہے جیسے شیر بکری کو منہ میں دبا کر نہیں گود میں اٹھا کر لے گیا ہے”۔

خالد اپنے بھائی کو تحسین آمیز نظروں سے دیکھتے ہوئے بولا۔ “لوگ ٹھیک ہی کہتے ہیں کہ تم ذہانت میں اپنے بھائی پر گئے ہو”۔

“لوگ کہتے ہیں تو کہنے دو”۔ ساجد نے ہنس کر کہا۔ “ضروری تو نہیں کہ ان کی ہر بات ہی ٹھیک ہو”۔

خالد اس کی بات سن کر جھینپ گیا تھا اس لیے اس کی بات سنی ان سنی کر کے بولا۔ “ان وارداتوں سے گاؤں کے غریب لوگ کافی پریشان ہیں۔ ہمیں اس ایک ٹانگ کے شیر کو پکڑنا ہوگا”۔

“میرا تو خیال ہے کہ ان وارداتوں کے پیچھے جس کا بھی ہاتھ ہے وہ جلد ہی پکڑا جائے گا۔ یا یوں کہہ لو کہ ہم اسے جلد ہی پکڑ لیں گے۔ تم نے یہ بات نوٹ کی تھی کہ خالہ جنت کے گھر سے شور کی آواز سن کر شیر جان مسکرا رہا تھا؟”

“اس بات پر تو میں نے غور نہیں کیا تھا۔ ویسے کسی کی مصیبت پر خوش ہونا اچھی بات نہیں ہے”۔ ساجد بولا۔ خالد خاموشی سے کچھ سوچنے لگا۔

ان دونوں کو شیر جان پر شبہ ہو چلا تھا۔ اس لیے انہوں نے اس کی نگرانی کا فیصلہ کرلیا۔ ان کی چھت پر سے محلے کے تمام گھر بہ آسانی نظر آتے تھے۔ دونوں بھائی وقفے وقفے سے چھت پر چڑھ کر محلے کا جائزہ لینے لگے۔ ایک بات انہوں نے نوٹ کی تھی کہ دوپہر کو شیر جان سے ملنے کے لیے ایک ایسا شخص بھی آیا جو چال ڈھال اور حلیے سے کوئی شریف آدمی نہیں لگ رہا تھا۔ اس کی بڑی بڑی مونچھیں، لال لال
آنکھیں اور موٹا سا پیٹ تھا۔

خالد اور ساجد کو چونکہ شیر جان پر شبہ ہوگیا تھا اس لیے انہوں نے اس سلسلے میں تفتیش کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ شام کو وہ گاؤں کے اس لوہار کے پاس پہنچے جس کے پاس شیر جان کام کرتا تھا۔ ایک ہی گاؤں میں رہنے کی وجہ سے لوہار دونوں بھائیوں سے اچھی طرح واقف تھا۔ وہ ان سے بڑے اچھے طریقے سے ملا۔ وہ اس بات پر خوش تھا کہ وہ لوگ شہر میں رہ کر تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ جب انہوں نے شیر جان کے بارے میں پوچھ گچھ کی تو اس نے بتایا کہ کئی دن ہوئے شیر جان وہاں سے نوکری چھوڑ کر جا چکا ہے اور اب اسے کچھ پتہ نہیں کہ وہ کیا کر رہا ہے۔ کچھ دیر مزید بیٹھ کر وہ وہاں سے اٹھ کر گھر چلے آئے۔

گھر پہنچ کر ساجد نے کہا۔ “اگر وہ نوکری چھوڑ چکا ہے تو پھر اس کا گزارہ کیسے ہوتا ہے۔ ہمیں اس بات کا بھی کھوج لگانا ہوگا”۔

رات ہوئی تو دونوں بھائی پھر چھت پر چڑھ گئے۔ ان کی ماں پریشان ہوگئی تھی۔ وہ ڈر رہی تھی کہ کہیں وہ شیر چھت پر چڑھ کر اس کے بچوں کو کوئی نقصان نہ پہنچا دے۔ دونوں بھائیوں نے اسے اطمینان دلا دیا کہ چھت بہت اونچی ہے اور اس تک جانے والا دروازہ بھی بند رہتا ہے، اس لیے فکر کی کوئی بات نہیں۔

آدھی رات کا وقت تھا۔ خالد اور ساجد کی نظریں شیر جان کے گھر پر لگی ہوئی تھیں۔ اچانک دونوں سنبھل کر بیٹھ گئے۔ اس کے گھر کا دروازہ دھیرے سے کھلا۔ چاندنی چٹکی ہوئی تھی اس لیے ہر چیز صاف نظر آرہی تھی۔ شیر جان نے تھوڑا سا سر نکال کر باہر گلی میں جھانکا۔ گلی سنسان پڑی ہوئی تھی۔ وہ باہر نکلا۔ باہر نکل کر اس نے دروازہ بند کردیا مگر اس کی کنڈی نہیں لگائی۔ اس کے ہاتھ میں کپڑے کا ایک تھیلا بھی نظر آرہا تھا۔ ابھی وہ چند قدم ہی آگے بڑھا تھا کہ ایک دیوار کی اوٹ سے وہ ہی شخص نکلا جو آج دوپہر اس سے ملنے آیا تھا۔

خالد اور ساجد جلدی سے نیچے اترے۔ انہوں نے نہایت خاموشی سے باہر کے دروازے کی کنڈی کھولی اور دیواروں سے لگے لگے ان دونوں کے پیچھے چل پڑے۔ چاند کی روشنی چاروں طرف پھیلی ہوئی تھی اس لیے ان دونوں کا تعاقب کرنے میں انھیں بہت احتیاط سے کام لینا پڑ رہا تھا۔

گلی سے نکل کر وہ ایک میدان میں آگئے۔ اس میدان میں بہت سی جھاڑیاں تھیں جن کی وجہ سے خالد اور ساجد کو کافی آسانی ہوگئی کیوں کہ اگر شیر جان اور اس کا ساتھی گھوم کر پیچھے دیکھ بھی لیتے تو وہ زمین پر بیٹھ کر خود کو ان کی نظروں سے بچا سکتے تھے۔

میدان ختم ہوا تو اس کے بعد کچّے پکّے گھروں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ کچھ آگے جانے کے بعد وہ دونوں ایک گھر کے سامنے رکے جس کی صحن کی دیواریں کافی چھوٹی چھوٹی تھیں۔ وہ دونوں اس دیوار کو عبور کرکے اندر داخل ہوگئے۔ تھوڑی دیر بعد اس گھر کا دروازہ کھلا اور اس میں سے شیر جان کا ساتھی ایک بکری کے ساتھ باہر نکلا اور ایک طرف کو چل پڑا۔

شیر جان نے اپنے ساتھی کو رخصت کیا اور پھر دوبارہ گھر میں داخل ہو گیا۔ پھر اس نے اندر سے دروازے کی کنڈی لگائی اور دیوار پھلانگ کر باہر آنے ہی والا تھا کہ دیوار پر رکھی ایک اینٹ اس کا ہاتھ لگنے سے زمین پر گر پڑی اور دھب کی ایک تیز آواز گونجی۔

اس آواز کو سنتے ہی گھر میں سے کسی نے چلا کر پوچھا۔ “کون ہے؟”

اس کے ساتھ ہی گھر کا دروازہ کھلا اور ایک شخص باہر نکلا۔ چاندنی رات میں شیر جان کا ہیولا اسے نظر آگیا تھا اس لیے وہ چور چور کا شور مچا کر اس کی طرف لپکا۔

اس صورت حال سے شیر جان گھبرا گیا۔ وہ جلدی سے دیوار پر چڑھا اور باہر کود گیا۔ اسی دوران اس کے ہاتھ میں موجود تھیلا چھوٹ کر زمین پر گر پڑا تھا۔ اسے اس بات کا موقع ہی نہ ملا کہ وہ اسے اٹھاتا۔ وہ بگٹٹ ایک جانب بھاگتا چلا گیا۔ گھر سے نکلنے والا آدمی بھی شور مچاتا ہوا اس کے پیچھے بھاگا۔

خالد اور ساجد نے بھی تھیلا زمین پر گرتے دیکھ لیا تھا۔ اس سے پہلے کہ شور شرابہ سن کر لوگ اپنے اپنے گھروں سے نکلتے، ساجد بجلی کی سی تیزی سے بھاگتا ہوا گیا اور تھیلا اٹھا کر دوبارہ خالد کے پاس آیا اور بولا۔ “بھاگو۔ ایسا نہ ہو کہ ہم ہی دھر لیے جائیں”۔

اتنی دیر میں شور شرابہ سن کر آس پاس کے لوگ بھی باہر نکل آئے تھے۔ وہ دونوں جھاڑیوں کی آڑ لیتے ہوئے بھاگنے لگے اور تھوڑی ہی دیر میں بہت دور نکل آئے۔ ان کا رخ گاؤں کے پولیس اسٹیشن کی جانب تھا۔ پولیس اسٹیشن کی عمارت تاریکی میں ڈوبی ہوئی تھی مگر ایک کمرہ روشن نظر آ رہا تھا۔ اس کمرے میں ایک سب انسپکٹر اونگھتا ہوا نظر آیا۔ اس کے سامنے بنچ پر ایک سپاہی پڑا خراٹے لے رہا تھا۔

ان کے قدموں کی آہٹ سن کر سب انسپکٹر نے آنکھیں کھول دیں اور حیرت سے انھیں دیکھنے لگا۔ وہ انھیں پہچانتا تھا۔

خالد نے کہا۔ “جناب انسپکٹر صاحب۔ ہم آپ کو زحمت دینے آئے ہیں۔ ہم نے اس شیر کا پتہ چلا لیا ہے جو گاؤں والوں کے مویشی لے جاتا ہے۔ آپ ہمارے ساتھ چلیں اور اسے پکڑ لیں”۔

شیر کا نام سن کر سب انسپکٹر کی سٹی گم ہوگئی۔ وہ کرسی پر سنبھل کر بیٹھتے ہوئے بولا۔ “میں شیر کو کیسے پکڑوں گا۔ میں نے اپنے افسروں سے کہہ دیا ہے کہ وہ کسی تجربہ کار شکاری کو بھیجیں تاکہ وہ شیر کو مار سکے۔ میں نے آج ہی چٹھی لکھی ہے۔ اس چٹھی میں میں نے یہ بھی لکھا ہے کہ گاؤں والے بے چارے بہت پریشان اور خوفزدہ ہیں۔ اور شیر کے ڈر سے شام ہوتے ہی گھروں میں چھپ کر بیٹھ جاتے ہیں”۔

اس کی بات سن کر خالد مسکرانے لگا۔ اس نے تھیلے میں ہاتھ ڈال کر کوئی چیز نکالی اور اسے سب انسپکٹر کے سامنے میز پر رکھ دیا۔ سب انسپکٹر نے اس پر ایک حیرت زدہ نگاہ ڈالی اور بولا۔ “شکل سے تو یہ کسی جانور کا پنجہ لگ رہا ہے مگر بنایا گیا ہے کسی دھات سے”۔

“بس اب آپ زحمت کیجیے اور ہمارے ساتھ چلیے۔ گاؤں کے مویشی چرانے والے مجرموں کا سراغ ہم نے لگا لیا ہے۔ مویشیوں کو شیر نہیں یہ لوگ چرا کر لے جاتے ہیں اور زمین پر اس دھاتی پنجے سے نشانات لگا دیتے ہیں تاکہ لوگ سمجھیں کہ انھیں شیر اٹھا کر لے گیا ہے”۔ ساجد نے کہا۔ پھر اس نے مختصر الفاظ میں شیر جان اور اس کےساتھی کے بارے میں اسے بتایا۔

اس کی بات سن کر سب انسپکٹر جلدی سے کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا۔ “ان لوگوں کا تو بڑا انوکھا منصوبہ تھا جس سے ان لوگوں نے گاؤں والوں کو بیوقوف بنایا تھا۔ اگر یہ مجرم پکڑے گئے تو بہت اچھا ہو گا۔ اس کارنامے کی بدولت میری رکی ہوئی ترقی بھی ہوجائے گی۔ تم دونوں تو بہت عقلمند اور بہادر ہو۔ تم نے میری ایک بہت بڑی مشکل حل کردی ہے۔ میں تم دونوں کا احسان کبھی نہیں بھولوں گا”۔ اس نے ممنونیت بھرے لہجے میں کہا۔

پھر اس نے سوئے ہوئے سپاہی کو اٹھایا اور اسی عمارت میں موجود تین دوسرے سپاہیوں کو لے کر خالد اور ساجد کے ساتھ چل پڑا۔ خالد اور ساجد کو یقین تھا کہ شیر جان اب تک اپنے گھر پہنچ گیا ہوگا۔ وہ سب تیز تیز قدموں سے اس کے گھر کی طرف روانہ ہوگئے۔

سب انسپکٹر کو خدشہ تھا کہ ان کی آمد کا سن کر شیر جان فرار ہونے کی کوشش کرے گا۔ اس لیے اس نے فیصلہ کیا کہ خاموشی سے دو سپاہی دیوار پر چڑھ کر اس کے گھر میں داخل ہونگے اور اسے قابو کرلیں گے۔

شیر جان بڑی آسانی سے قابو میں آگیا تھا۔ سب انسپکٹر نے شیر کے پنجے کا دھاتی سانچہ اسے دکھایا تو اس کا رنگ پیلا پڑ گیا اور اس کے ہاتھ پاؤں ڈھیلے پڑ گئے۔ اسے ہتھکڑی لگا کر پولیس اسٹیشن کے لاک اپ میں بند کردیا گیا۔ اس نے اپنے ساتھی کا پتہ بھی بتا دیا تھا۔ وہ برابر والے گاؤں کا رہائشی تھا–شیر جان جس مویشی کو چراتا تھا وہ اسے بیچ آتا تھا اور دونوں آدھے آدھے پیسے بانٹ لیتے تھے۔ اسی رات اسے بھی گرفتار کرلیا گیا۔

بعد میں تفتیش کے دوران شیر جان نے اپنے جرم کی تفصیل بتائی۔ اس نے بتایا کہ ایک دفعہ اسے جنگل سے کسی شیر کا پنجہ ملا تھا۔ اسے دیکھ کر اس کے ذہن میں ایک خیال آیا۔ اس نے سوچا کہ وہ ہو بہو اسی طرح کا ایک دھاتی پنجہ بنائے گا پھر گاؤں کے لوگوں کے مویشی چرا کر اس جگہ پر اس پنجے سے نشانات بنادیا کرے گا۔ شیر کے پنجوں کے نشانات زمین پر دیکھ کر سب یہ ہی سمجھیں گے کہ ان کے جانور کو شیر لے گیا ہے۔ لوہار کا کام کرتے کرتے وہ اس فن میں کافی ماہر ہوگیا تھا۔ اس نے بڑی آسانی سے شیر کے پنجے کی دھاتی نقل بنا لی اور پھر گاؤں کے لوگوں کے مویشی چرانا شروع کردئیے۔ اس کا ساتھی جس کا نام سہراب تھا ان وارداتوں میں اس کے ساتھ ہوتا تھا اور وہ ہی ان جانوروں کو منڈی میں لے جا کر فروخت کیا کرتا تھا۔

اگلے روز خالد اور ساجد کے اس کارنامے کی دھوم پورے گاؤں میں مچ گئی تھی۔ سب انسپکٹر بہت اچھا آدمی تھا۔ اس نے پورے واقعہ کی ایک رپورٹ بنا کر اپنے افسران بالا کو بھیج دی۔ اس کے افسر بہت خوش ہوئے کیوں کہ شیر کی ان وارداتوں کی شکایتیں ان تک بھی پہنچ رہی تھیں اور وہ بھی پریشان تھے۔ انہوں نے یہ مسلہ حل ہوجانے کے بعد سب انسپکٹر کے ترقی کے آرڈر بھی جاری کردیے اور خالد اور ساجد کی عقلمندی اور بہادری کے صلے میں انھیں دس دس ہزار روپے دینے کا بھی اعلان کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ جن لوگوں کے مویشی شیر جان اور سہراب نے چرائے تھے، ان کی قیمت بھی ان کے مالکوں کو ادا کردی جائے گی۔ جن سپاہیوں نے اس آپریشن میں حصہ لیا تھا انھیں بھی ایک ایک ہزار روپے اور تعارفی اسناد دینے کا اعلان کیا گیا۔

دونوں لڑکے پورے گاؤں میں مشہور ہوگئے تھے۔ سارے گاؤں والے ان کے ماں باپ کو مبارک باد دینے ان کے گھر آرہے تھے۔ بات تو حالانکہ بہت خوشی کی تھی مگر ان کی ماں فکرمند نظر آ رہی تھی۔ خالد کے پوچھنے پر وہ بولی۔ “میرا دل ڈر رہا ہے۔ جیل سے چھوٹ کر آنے کے بعد شیر جان اور اس کا ساتھی سہراب تمہارے دشمن نہ بن جائیں”۔

خالد نے سر جھٹک کر کہا۔ “دشمن بنتے ہیں تو بن جائیں۔ جو شخص بھی کوئی جرم کرتا ہے، ہم سب کا یہ فرض بنتا ہے کہ اس کو کیفر کردار تک پہنچانے میں قانون کی مدد کریں۔ اگر ہم ڈر ڈر کر رہے تو جرائم پیشہ لوگ زیادہ دیدہ دلیری سے اپنا کام کریں گے اور معصوم لوگوں کا جینا دوبھر کردیں گے۔ ویسے بھی ہم اکیلے تھوڑی ہیں، ہمارے ساتھ ہماری پولیس ہے، قانون نافذ کرنے والے دوسرے ادارے ہیں۔ اس کے علاوہ ہمارا میڈیا ہے جو ایسے لوگوں کو بے نقاب کرنے میں پیچھے نہیں رہتا”۔

خالد اپنی بات ختم کر کے خاموش ہوا تو ساجد بولا۔ “اور امی۔ اپنے ملک کو ایسے عناصر سے پاک کرنا ایک بہت اچھا کام ہے۔ وہ دونوں چالاک مجرم پکڑے جا چکے ہیں اور اب اپنے کیے کی سزا بھگتیں گے۔ ایک اچھی بات یہ بھی ہوئی ہے کہ جن لوگوں کے مویشی چوری ہوگئے تھے، ان سب کو ان کے مویشیوں کے پیسے بھی مل جائیں گے۔ ہمارے گاؤں کے لوگ بہت خوش ہیں۔ آپ فکر نہیں فخر کریں کہ آپ کے دونوں بچے کتنے بہادر ہیں۔ اچھا اب یہ بتائیں کہ آپ ان روپوں کا کیا کریں گی جو ہمیں انعام میں ملے ہیں؟”

ان کی بات سن کر ان کی ماں کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی اور وہ بولی۔ “ان روپوں کو میں تم دونوں کے نام سے بینک میں جمع کروا دوں گی تاکہ وہ تمہاری آگے کی پڑھائی لکھائی میں کام آئیں۔ یہ کارنامہ تم نے اپنی ذہانت سے انجام دیا ہے اور پتہ ہے ذہانت تعلیم سے ہی آتی ہے۔ یہ کارنامہ انجام دے کر تم نے اپنے ماں باپ کا سر فخر سے بلند کردیا ہے”۔

ماں کی بات سن کر خالد اور ساجد کے چہرے خوشی سے تمتمانے لگے تھے۔ “بس امی۔ آپ دعا کرتی رہیں کہ ہم ہمیشہ اپنے ملک کے لیے اور اس میں رہنے والوں کے لیے ایسے ہی اچھے اچھے کام انجام دیتے رہیں”۔ ساجد نے کہا اور دونوں بھائی محبّت سے اپنی ماں سے لپٹ گئے۔

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: