Aab e Hayat Novel by Umera Ahmed Read Online – Episode 1

0

آب حیات از عمیرہ احمد – قسط نمبر 1

–**–**–

اس نے دور سے سالار کو اپنی طرف آتے دیکھا۔ اس کے ہاتھ میں سوفٹ ڈرنک کا ایک گلاس تھا۔
تم یہاں کیوں آکر بیٹھ گئی؟ امامہ کے قریب آتے ہوئے اس نے دور سے کہا۔
ایسے ہی۔۔۔۔ شال لینے آئی تھی۔۔۔۔ پھر یہی بیٹھ گئی۔ وہ مسکرائی۔ اس کے قریب بیٹھتے ہوئے سالار نے سوفٹ ڈرنک کا گلاس اپنی ٹانگوں کے درمیان نچلی سیڑھی پر رکھ دیا۔ امامہ لکڑی کے ستون سے ٹیک لگائے ایک گھٹنے پر کھانے کی پلیٹ ٹکائے، کھاتے ہوئے دور لان میں ایک کینوپی کے نیچے اسٹیج پر بیٹھے گلوکار کو دیکھ رہی تھی، جو نئی غزل شروع کرنے سے پہلے سازندوں کو ہدایت دے رہا تھا۔ سالار نے کانٹا اٹھا کر اس کی پلیٹ سے کباب کا ایک ٹکڑا اپنے منہ میں ڈالا۔ وہ بھی اب گلوکار کی طرف متوجہ تھا۔ جو اپنی نئی غزل شروع کر چکا تھا۔
ہاں۔ اس نے مسکرا کر کہا وہ غزل سن رہی تھی۔
کسی کی آنکھ پرنم ہے، محبت ہوگئی ہوگی
زبان پر قصۂ غم ہے، محبت ہوگئی ہوگی
وہ بھی غزل سننے لگا تھا۔
کبھی ہنسنا کبھی رونا، کبھی ہنس ہنس کر رودینا
عجب دل کا یہ عالم ہے، محبت ہوگئی ہوگی
اچھا گا رہا ہے۔ امامہ نے ستائشی انداز میں کہا۔ سالار نے کچھ کہنے کی بجائے سر ہلا دیا۔
خوشی کا حد سے بڑھ جانا بھی اب اک بے قراری ہے
نہ غم ہونا بھی اک غم ہے محبت ہوگئی ہوگی
سالار سوفٹ ڈرنک پیتے پیتے ہنس پڑا۔ امامہ نے اس کا چہرا دیکھا۔ وہ جیسے کہیں اور پہنچا ہوا تھا۔
تمھیں کچھ دینا چاہ رہا تھا میں۔۔۔۔۔ وہ جیکٹ کی جیب میں کچھ ڈھونڈ کر نکالنے کی کوشش کر رہا تھا۔
میں بہت دنوں سے تمھیں کچھ دینا چاہ رہا تھا لیکن۔۔۔۔ وہ بات کرتے کرتے رک گیا۔ اس کے ہاتھ میں ایک ڈبیا تھی۔
امامہ کے چہرے پر بے حد مسکراہٹ آئی۔۔۔ اچھا تو اسے خیال آگیا۔۔۔۔۔ اس نے ڈبیا لیتے ہوئے سوچا اور اسے کھولا۔ وہ ساکت رہ گئی۔ اندر ایر رنگز تھے۔ ان ایر رنگز سے ملتے جلتے جو وہ اکثر اپنے کانوں میں پہنے رہتی تھی اس نے نظریں اٹھا کر سالار کو دیکھا۔
میں جانتا ہوں یہ اتنے ویلیو ایبل نہیں ہوں گے جتنے تمھارے ابو کے ہیں لیکن مجھے اچھا لگے گا اگر تم کبھی کبھی انہیں بھی پہنو ان ایر رنگز کو دیکھ کر اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔
تم نہیں پہننا چاہتی تو بھی ٹھیک ہے میں ریپلیس کرنے کے لئے نہیں دے رہا ہوں۔ سالار نے اس کی آنکھوں میں ہوتی نمی دیکھ کر بے ساختہ کہا۔ وہ نہیں جانتا تھا۔ بہت ساری چیزیں پہلے ہی اپنی جگہ بدل چکی ہیں۔ اور وہ اپنی جگہ بنا چکی ہیں۔ اس کی خواہش اور ارادے کے نہ ہونے کے باوجود۔۔۔
کچھ کہنے کے بجائے امامہ نے اپنے دائیں کان میں لٹکتا ہوا جھمکا اتارا۔
میں پہنا سکتا ہوں؟؟ سالار نے ایک ایر رنگ نکالتے ہوئے پوچھا۔ امامہ نے سر ہلا دیا۔ سالار نے باری باری اس کے دونوں کانوں میں وہ ایر رنگ پہنا دیئے۔
وہ نم آنکھوں سے مسکرائی۔ وہ بہت دیر تک کچھ کہے بغیر محبت سے اسے دیکھتا رہا۔
اچھی لگ رہی ہو۔ وہ اس کے کانوں میں لٹکتے ہوئے، ہلکورے کھاتے موتی کو چھوتے ہوئے مدھم آواز میں بولا۔
تمھیں کوئی مجھ سے زیادہ محبت نہیں کر سکتا۔ مجھ سے زیادہ خیال نہیں رکھ سکتا۔ میرے پاس ایک واحد قیمتی چیز تم ہو۔
اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے وہ اس سے کہہ رہا تھا۔ وعدہ کر رہا تھا۔۔۔ یاد دہانی کرا رہا تھا۔۔۔ یاں کچھ جتا رہا تھا۔۔۔ وہ جھک کر اب اس کی گردن چوم رہا تھا۔
مجھے نوازا گیا ہے۔۔۔ سیدھا ہوتے ہوئے اس نے سرشاری سے کہا۔۔۔
رومانس ہورہا ہے؟؟؟ اپنے عقب میں آنے والی کامران کی آواز پر دونوں ٹھٹکے تھے۔۔۔ وہ شائد شارٹ کٹ کی وجہ سے برآمدے کے اس دروازے سے نکلا تھا۔
کوشش کررہیں ہیں۔۔ سالار نے پلٹے بغیر کہا۔
گڈ لک۔ وہ کہتے ہوئے ان کے پاس سےسیڑھیاں اترتا ہوا انہیں دیکھے بغیر چلا گیا۔ امامہ کی رکی ہوئی سانس بحال ہوئی۔ وہ جیھنپ گئی تھی سالار اور اس کی فیملی کم از کم ان معاملات میں بے حد آزاد خیال تھے ۔
کسی کو سامنے پاکر، کسی کے سرخ ہونٹوں پر
انوکھا سا تبسم ہے، محبت ہو گئی ہوگی
امامہ کو لگا وہ زیر لب گلوکار کے ساتھ گا رہا ہے۔
جہاں ویران راہیں تھیں، جہاں حیران آنکھیں تھیں
وہاں پھولوں کا موسم ہے، محبت ہوگئی ہوگی
لکڑی کی ان سیڑھیوں پر ایک دوسرے کے قریب بیٹھے وہ خاموشی کو توڑتی آس پاس کے پہاڑوں میں گونج کی طرح پھیلتی گلوکار کی سریلی آواز سن رہے تھے۔ زندگی کے وہ لمحے یادوں کا حصہ بن رہے تھے۔
دوبارہ نہ آنے کے لئے گزررہے تھے ان کے اپارٹمنٹ کی دیوار پر لگنے والی ان دونوں کی پہلی اکھٹی تصویر اس فارم ہاؤس کی سیڑھیوں ہی کی تھی۔ سرخ لباس میں گولڈن کڑھائی والی سیاہ پشمینہ شال اپنے بازوؤں کے گرد اوڑھے کھلے سیاہ بالوں کو کانوں کے پیچھے سمیٹے خوشی اس کی مسکراہٹ اور آنکھوں میں چمک نہیں بلکہ اس قرب میں جھلک رہی تھی جو اس کے اور سالار کے درمیان نظر آرہا تھا۔ سفید شرٹ اور سیاہ جیکٹ میں اسے اپنے ساتھ لگائے سالار کی آنکھوں کی چمک جیسے اس فوٹو گراف میں موجود دوسری ہر شے کو مات کر رہی تھی۔ کوئی بھی کیمرے کے لئے بنائے ہوئے اس ایک پوز میں نظر آنے والے جوڑے کو دیکھ کر چند لمحوں کے لئے ضرور ٹھٹکتا۔
سکندر نے اس فوٹو گراف کو فریم کروا کر انہیں ہی نہیں بھیجا تھا انہوں نے اپنے گھر کی فیملی وال فوٹوز میں بھی اس تصویر کا اضافہ کیا تھا
٭٭٭٭٭٭

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: