Aab e Hayat Novel by Umera Ahmed Read Online – Episode 10

0

آب حیات از عمیرہ احمد – قسط نمبر 10

–**–**–

اس نے سالار کا بازو اپنے گرد حمائل ہوتے ہوئے محسوس کیا۔ وہ اب اس کی پیشانی چومتے ہوئے کہہ رہا تھا۔
”گڈ نائٹ۔” یہ اسے سلانے کی ایک اور کوشش تھی۔
وہ چند لمحے خاموش رہی پھر اس نے کچھ بے چین ہو کر کہا۔
”سالار!”
سالار نے بے اختیار گہرا سانس لیا اور آنکھیں کھول دیں۔
”تمہیں کیا ہوا ہے…؟”
”کچھ نہیں۔” جھوٹ ”ضروری” تھا، لیکن سچ بے حد ”مضر” تھا۔
”تم میرے ساتھ اتنے روڈ ہوئے۔” اس نے بالآخر شکایت کی۔
”آفس کے کسی پرابلم کی وجہ سے میں کچھ اپ سیٹ تھا شاید اس لیے روڈ ہو گیا۔” اس نے معذرت کی، وہ اس کے بالوں میں انگلیاں پھیر رہا تھا۔
”کیسا پرابلم؟”
”ہوتے رہتے ہیں امامہ… you just don’t worry اگر آئندہ کبھی بھی میرا ایسا موڈ ہو تو تم پریشان مت ہونا، نہ ہی مجھ سے زیادہ سوال کرنا۔ میں خود ہی ٹھیک ہو جاؤں گا۔”
امامہ کی سمجھ میں اس کی توجیہہ نہیں آئی تھی لیکن وہ پرسکون ہو گئی تھی۔
”میں اس لیے پریشان ہو رہی تھی، کیونکہ مجھے لگا کہ شاید تمہیں میری کوئی بات بری لگی ہے۔ میں نے بینکرز کو برا کہا تھا نا اس لیے۔”
”تمہیں تو سات خون معاف کر سکتا ہوں میں، یہ تو کوئی بات ہی نہیں۔”
اس نے ایک بار پھر گہرا سانس لیتے ہوئے کہا۔
”تم ٹھیک کہتے ہو، ڈاکٹرز میں بھی بہت سی برائیاں ہوتی ہیں لیکن مجھے بس اچھے لگتے ہیں وہ… بس محبت ہے مجھے ڈاکٹرز سے… میں بھی ان کی ساری خامیاں اگنور کر سکتی ہوں۔” سالار کی آنکھوں میں نیند یک دم غائب ہو گئی۔ وہ کسی اور حوالے سے وضاحت دے رہی تھی، اس نے اسے کسی اور پیرائے میں لیا۔
”تمہیں واقعی ڈاکٹرز سے نفرت ہے؟” وہ اب یقینی کے ساتھ پوچھ رہی تھی۔
”جو چیز تمہیں پسند ہو، میں اس سے نفرت کر سکتا ہوں…؟ مذاق کر رہا تھا میں۔” امامہ کے ہونٹوں پر مطمئن مسکراہٹ آئی۔ اس نے بھی سالار کے گرد اپنا بازو حمائل کرتے ہوئے کہا۔
”اب مجھے نیند آرہی ہے، تم بھی سو جاؤ۔”
اس نے آنکھیں بند کر لیں۔ وہ اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرتا رہا۔ محبوب کی دو خصوصیات یونیورسل ہوتی ہیں۔ وہ بے نیاز ہوتا ہے… اور … اور اپنی بے نیازی سے بے خبر بھی… اور یہ دونوں خصوصیات اس کے محبوب میں بھی تھیں۔ جلال النصر سے اسے ایک بار پھر شدید قسم کا حسد محسوس ہوا۔ لیکن رشک اسے اپنے آپ پر آیا کہ وہ اس کے ”پاس” تھی۔ اور اس کی تھی۔
٭٭٭٭
”صاحب نے نیوز پیپرز کا کہا تھا کہ آپ سے پوچھ لوں اور یہ میگزین ہیں، ان میں سے جو پسند ہیں، بتا دیں، میں لے آیا کروں گا۔”
نیوز ہاکر نے اسے ایک کاغذ تھماتے ہوئے کہا۔ جس پر اخبارات اور میگزینز کی ایک لسٹ تھی۔ وہ نیند میں بیل بجنے کی آواز پر اٹھ کر آئی تھی۔ کچھ دیر تک تو سمجھ ہی نہیں پائی کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔ سالار کے گھر اس نے صرف اتوار کو اخبار دیکھا تھا، وہ بھی سالار نے ہاکر سے خود لیا تھا۔ وہ خود آفس میں ہی اخبار دیکھتا تھا۔ اب وہ یقینا اس کی وجہ سے اخبار لگوا رہا تھا ۔ ایک نظر اس لسٹ پر ڈال کر اس نے ہاکر کو ایک اخبار اور ایک میگزین کا بتایا۔ وہ اخبار اسے تھما کر چلا گیا۔ وہ جمائیاں لیتے ہوئے اخبار اندر لائی اور رکھ دیا۔ دس بجنے والے تھے، کھڑکی سے باہر دھند چھٹ رہی تھی لیکن ابھی بھی کچھ تھی۔
جتنی دیر میں ملازمہ آئی، وہ اخبار دیکھ چکی تھی۔ ملازمہ آج اکیلی نہیں تھی اس کے ساتھ مالی بھی تھا۔ وہ فرقان کے پودے دیکھنے آیا تھا۔ وہ سالار کے پودے اتوار کے دن دیکھنے آتا تھا یا پھر نوشین خود اس کے ساتھ وہاں آتی تھی۔ سالار کے اپارٹمنٹ کی ایک چابی ان کے پاس بھی تھی۔ آج نوشین نے یہاں امامہ کی موجودگی کی وجہ سے اسے بھیج دیا تھا۔
وہ اس کے ٹیرس پر جانے کے کچھ دیر کے بعد خود ہی باہر نکل آئی۔ مالی کے پاس کھڑے خاموشی سے اسے دیکھتے رہنے کے دوران اسے احساس ہوا کہ اسے کسی قسم کی ہدایات کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ ماہرانہ انداز میں اپنا کام کر رہا تھا، وہ واپس اندر آگئی۔ ملامہ نے بڑے پر جوش انداز میں کچن میں رکھے ہوئے برتنوں کو نوٹس کرنے کے بعد تعریف کی۔ امامہ بے اختیار خوش ہوئی۔
”باجی! اب یہ گھر، گھر لگ رہا ہے۔” اس نے امامہ سے کہا۔ وہ سالار کی اسٹڈی کو ویکیوم کر رہی تھی۔ امامہ مسکراتی ہوئی سالار کی اسٹڈی ٹیبل پر پڑی ڈسٹ صاف کرنے لگی۔
باجی! میں کرتی ہوں، آپ رہنے دو۔” ملازمہ نے اسے روکا۔
”نہیں، تم باقی سب کر لینا میں ابھی فارغ ہوں، اس لیے کر رہی ہوں۔” وہ اس سے یہ نہیں کہہ سکی کہ وہ نہیں چاہتی کہ سالار کا کوئی کاغذ اِدھر اُدھر ہو جائے لیکن یہ سوچتے ہوئے وہ یہ بھول گئی تھی کہ اس گھر میں اس اسٹڈی ٹیبل کو اتنے عرصے سے وہ ملازمہ ہی صاف کر رہی ہے۔
میل ٹرے دعوتی کارڈز کے بند اور کھلے لفافوں سے تقریباً بھری ہوئی تھی۔ امامہ نے ایک لفافہ کھول کر دیکھا۔ وہ کسی افطار پارٹی کا انویٹیشن تھا۔ ایک کے بعد ایک، وہ سارے لفافے کھول کر دیکھتی گئی۔ سب کارڈز کسی نہ کسی افطار پارٹی یا تقریب سے متعلق تھے اور بعض کارڈز میں تو وہ دو یا تین جگہوں پر بھی انوائٹڈ تھا۔ وہ یقینا بےحد سوشل زندگی گزار رہا تھا۔ یہ اس کا اندازہ تھا، یقینا وہ اس کے گھر آجانے کی وجہ سے پچھلے ایک ہفتے سے ان پارٹیز میں نہیں جا رہا تھا۔ یہ اس کا ایک اور تجزیہ تھا۔ پندرہ بیس کارڈز دیکھنے کے بعد اس کا دل اچاٹ ہو گیا۔ اس نے کارڈز اٹھا کر واپس رکھ دیے۔ کچھ اور کارڈز دیکھتی یا نیچے میل کے کسی لفافے کے ایڈرس پر نظر ڈال لیتی تو شاید اسے سالار کا شعبہ نظر آجاتا کہ وہ انویسٹمنٹ میں تھا، پی آر میں نہیں۔ کم از کم وہ یہ جھوٹ تو ضرور پکڑ سکتی تھی۔
”باجی! رات کو کوئی مہمان آئے تھے؟” وہ ملازمہ کی آواز پر چونکی۔ وہ ایش ٹرے ہاتھ میں لیے کچھ حیرانی سے پوچھ رہی تھی۔
”نہیں۔” امامہ نے سوال سمجھے بغیر کہا۔
”تو یہ سگریٹ کس نے پیے ہیں؟ سالار صاحب تو سگریٹ نہیں پیتے۔” ملازمہ بےحد حیران تھی۔
امامہ کچھ دیر بول نہیں سکی۔ ملازمہ جیسے سالار کے بیان کی تصدیق کر رہی تھی۔ یعنی وہ واقعی عادی نہیں تھا جو ایک آدھ سگریٹ وہ بھی کبھی کبھار پیتا ہو گا، اسے ملازمہ کسی مہمان کا پیا ہوا سگریٹ سمجھ لیتی ہو گی۔
”اوہ! ہاں… اس کے کچھ دوست آئے تھے، مجھے یاد ہی نہیں تھا۔” امامہ نے چند لمحوں کے بعد کہا۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ اور کہتی، ڈور بیل بجی۔
”میں دیکھتی ہوں۔” امامہ اس سے کہہ کر باہر نکل آئی۔
”لانڈری collect کرنے آئے ہیں۔”
دروازے پر ایک لڑکا سالار کے کچھ ڈرائی کلینڈ اور دھلے ہوئے کپڑوں کے ہینگرز لیے ہوا کھڑا تھا۔ اس کی طرف ایک بل کے ساتھ بڑھاتے ہوئے اس نے کہا۔
”کپڑے چیک کر لیں۔”
بل کے ساتھ لانڈری کے لیے بھیجے گئے کپڑوں کی لسٹ بھی تھی۔ امامہ نے ہینگرز لاؤنج میں لانے کے بعد باری باری لسٹ اور کپڑوں کو ملانا شروع کیا، کپڑے پورے تھے۔
ملازمہ تب تک باہر نکل آئی تھی۔ امامہ بل کے پیسے لینے اندر چلی گئی۔ جب وہ واپس آئی تو اس نے ملازمہ کو دروازے پر لانڈری بوائے کو ایک لانڈری بیگ تھماتے ہوئے دیکھا۔ جس کے اوپر ایک لسٹ چسپاں تھی۔ یقینا وہ ان کپڑوں کی لسٹ تھی جو لانڈری کے لیے دیے جا رہے تھے۔ لانڈری بوائے ایک رائٹنگ پیڈ پر کچھ اندارج کر رہا تھا۔
”باجی! آپ نے بھی دینے ہیں کپڑے؟” ملازمہ نے اسے آتے دیکھ کر کہا۔
”نہیں، میں یہ بل دینے آئی ہوں۔” امامہ نے بل کی رقم اس لڑکے کی طرف بڑھائی۔ اس نے جواباً ایک رسید اس کی طرف بڑھا دی۔
”بل تو مہینے کے شروع میں اکٹھا ہی جاتا ہے۔” ملازمہ نے اسے روکا۔
وہ دروازہ بند کرتے ہوئے اندر آگئی۔ امامہ نے رسید پر نظر ڈالی۔ وہ سالار کے کپڑوں کی لسٹ تھی جو وہ لے کر گیا تھا۔
”تم نے لانڈری کے کپڑے کہاں سے لیے ہیں؟” امامہ نے اس لسٹ کو پڑھتے ہوئے ملازمہ کو روکا۔
”سالارصاحب کپڑے بیگ میں ڈال کر اوپر لسٹ رکھ جاتے ہیں۔ لانڈری میں ہی رکھتے ہیں بیگ…” ملازمہ یہ کہہ کر دوبارہ اندر چلی گئی۔
امامہ نے بل پر نظر ڈالی۔ لانڈری تو وہ خود بھی کر سکتی تھی۔ ہر ہفتے اتنے پیسے اس پر خرچ کرنا فضول خرچی تھی، اس نے سوچا۔
ملازمہ ابھی وہیں تھی جب ایک آدمی وہ پردے لے کر آیا تھا جو اس نے بننے کے لیے دیے تھے۔
”باجی! آپ نے کوئی پردے بننے کے لیے دیے ہیں؟”
ملازمہ نے انٹر کام کی بیل بجنے پر ریسیور اٹھا کر اس سے پوچھا۔
امامہ کچھ حیران ہوئی۔ ”ہاں…کیوں؟”
”وہ نیچے گیٹ پر ایک آدمی لے کر آیا ہے، گارڈ انٹر کام پر پوچھ رہا ہے۔ ہاں! بھیج دو، باجی نے پردے بنوائے ہیں۔” ملازمہ نے اس کو بتا کر ریسیور میں کہا۔ ریسیور رکھ کر وہ دوبارہ لاؤنج صاف کرنے میں لگ گئی تھی۔ کچن کاؤنٹر پر گلاس سیٹ کو کپڑے سے صاف کرتے ہوئے، امامہ کو عجیب طرح کا احساس کمتری ہوا۔ اس نے اتنے دنوں وہاں چلتے پھرتے کئی بار انٹر کام کو دیکھا تھا لیکن اس کی سمجھ میں نہیں آیا کہ اس انٹر کام کی وہاں کیا افادیت ہے، جب کہ دروازہ اتنا قریب تھا۔ ملازمہ اس گھر کی ہر چیز کو اس سے زیادہ ذہانت ، پھرتی اور سہولت کے ساتھ استعمال کر رہی تھی۔
٭٭٭٭
”سالار! لاؤنج اب اچھا لگ رہا ہے نا؟”
سالار نے لاؤنج کی کھڑکیوں پر لگے نئے پردوں پر ایک نظر ڈالی۔ وہ ابھی چند لمحے پہلے گھر آیا تھا۔ امامہ نے بے حد خوشی کے عالم میں آتے ہی اسے اطلاع دی۔ وہ نہ بھی دیتی تب بھی لاؤنج میں پہلا قدم رکھتے ہی وہ اس ”واضح” تبدیلی کو نظر انداز نہیں کر سکتا تھا۔
”بہت۔” اس نے اپنی مایوسی کو چھپاتے ہوئے کہا۔ امامہ نے فخریہ انداز میں پردوں کو دیکھا۔
وہ آج بھی افطاری راستے میں ہی کر آیا تھا۔ امامہ نے افطاری فرقان کے گھر پر کی تھی اور اب وہ دونوں ایک ساتھ ڈنر کر رہے تھے۔
”تو جناب کا آج کا دن کیسا گزرا؟”
کھانا شروع کرتے ہوئے سالار نے اس سے پوچھا۔ وہ اسے پورے دن کی ایکٹیویٹیز بتانے لگی۔ آج ان دونوں کے درمیان ہونے والی یہ پہلی تفصیلی گفت گو تھی۔ سالار نے اسے دن میں دو بار، ایک یا ڈیڑھ منٹ کے لیے کال کی تھی مگر بات صرف حال احوال تک ہی رہی تھی۔
”یعنی آج بہت کام کرنا پڑا۔” سالار نے اس کے دن کی تفصیل سن کر کہا۔
”کیا کام؟ میں نے کیا کیا؟ میں نے تو کچھ بھی نہیں کیا۔” امامہ نے اس کی بات پر کچھ حیران ہو کر اسے دیکھا۔
”جتنا بھی کیا ہے، بہت ہے۔”
”میں تمہاری لانڈری خود کر دیا کروں گی اگلے ہفتے سے۔ ” امامہ نے سالار کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے کہا۔ ”اور پریس بھی کر دیا کروں گی۔”
”میں تمہیں کپڑے دھونے کے لیے نہیں لے کر آیا۔“ سالار نے اس کی بات کاٹی۔
”مجھے پتا ہے، لیکن میں فارغ ہوتی ہوں سارا دن اور پھر مجھے اپنے کپڑے بھی تو دھونے ہوتے ہیں، تو تمہارے بھی دھو سکتی ہوں۔”
”تم اپنے کپڑے بھی کیوں دھوؤ گی۔ لانڈری وین ہر ہفتے آتی ہے۔ تم اپنے بھی دے دیا کرو۔” سالار نے کھانا کھاتے کھاتے رک کر کہا۔
”پیسے ضائع ہوں گے۔” اس نے بے اختیار کہا۔
”کوئی بات نہیں۔” سالار نے اسی انداز میں کندھے اچکا کر کہا۔
امامہ نے اس کا چہرہ دیکھا۔
”اور میں سارا دن کیا کروں؟”
”وہی جو دوسری عورتیں کرتی ہیں۔ سویا کرو، ٹی وی دیکھو، فون پر دوستوں کے ساتھ گپ شپ لگاؤ۔” اس نے مسکراتے ہوئے کہا۔
”میرے کوئی دوست نہیں ہیں۔” وہ یک دم سنجیدہ ہو گئی۔
سالار نے کچھ حیران ہو کر اس کا چہرہ دیکھا۔ ”کوئی تو ہو گی؟”
”نہیں، کوئی بھی نہیں ہے۔”
”کیوں؟”
وہ کھانا کھاتے کھاتے کچھ سوچنے لگی تھی، پھر اس نے کہا۔

”کالج اور یونی ورسٹی میں تو میں اتنی خوف زدہ رہتی تھی کہ کسی کو دوست بنانے کا خیال ہی نہیں آیا۔ دوستی ہوتی تو پھر سوال ہوتے۔ میرے بارے میں… فیملی کے بارے میں… پھر اگر کوئی گھر آتا اور ابو کی فیملی کو کوئی پہلے ہی سے جانتا ہوتا تو… یا سعیدہ اماں کو ہی … دوستی اس وقت بڑی مہنگی چیز تھی میرے لیے… میں افورڈ نہیں کر سکتی تھی… پھر آفس جاب میں کولیگز کے ساتھ تھوڑی بہت گپ شپ ہوتی تھی لیکن مجھے اکیلے رہنے کی اتنی عادت ہو گئی تھی کہ میں لوگوں کے ساتھ کبھی بھی comfortable نہیں رہتی تھی۔ میں ان کے ساتھ گھوم پھر نہیں سکتی تھی… ان کے گھر نہیں جا سکتی تھی… اپنے گھر نہیں بلا سکتی تھی… کیسے دوستی ہوتی پھر… اسی لیے مجھے کتابیں پڑھنا اچھا لگتا تھا… پینٹ کرنا اچھا لگتا تھا۔”
”لوگوں سے میل جول ہونا چاہیے، دوست ہونی چاہیں۔ پہلے کی بات اور تھی لیکن اب تمہیں تھوڑا سوشلائز کرنا چاہیے۔ اب تمہارا گھر ہے، تم کولیگز کو انوائٹ کر لیا کرو یا کم از کم ان سے فون پر ہی بات کر لیا کرو۔” وہ اسے بڑی سنجیدگی سے سمجھا رہا تھا۔
”تم خود سوشل ہو، اس لیے کہہ رہے ہو۔” امامہ نے جواباً کہا۔
”ہاں، میری جاب کی ضرورت ہے سوشل ہونا۔ ماہ رمضان کے بعد کو فنکشنز ہیں… ڈنر بھی ہیں کچھ … تمہیں ملواؤں گا کچھ دوستوں سے بھی… اچھا لگے گا تمہیں۔” وہ اس سے کہہ رہا تھا۔
”میں نے تمہارے ڈیسک پر دیکھے ہیں، افطار، ڈنرز کے کارڈز۔ تم میری وجہ سے نہیں جا رہے؟” امامہ نے کہا۔
”نہیں، میں افطار پارٹیز یا ڈنرز میں نہیں جاتا۔” سالار نے سرسری انداز میں کہا۔
”کیوں؟” وہ حیران ہوئی۔
”کیونکہ میں سمجھتا ہوں یہ پارٹیز ماہ رمضان کی اسپرٹ کا مذاق اڑاتی ہیں۔ میں ماہ رمضان میں کسی کے گھر افطار پر نہیں جاتا۔”
”لیکن فرقان کے گھر تو جاتے ہو۔” امامہ نے بے ساختہ کہا، وہ مسکرا دیا۔ وہ اس وقت بھی فرقان کے گھر سے آیا ہوا کھانا کھا رہے تھے۔
”میں فرقان کے گھر ماہ رمضان سے پہلے بھی کھانا کھاتا رہا ہوں اور اگر وہ مجھے افطار یا ڈنر کے لیے بلاتا ہے تو کھانے میں کوئی اہتمام نہیں کرتا۔ ہم وہی کھاتے ہیں جو اس کے گھر میں عام دنوں میں پکتا ہے لیکن عام دنوں میں اس کے گھر میں یہ نہیں پکتا۔” سالار نے ٹیبل پر پڑی تین چار چیزوں کی طرف اشارہ کیا۔
”پھر…؟” وہ مزید حیران ہوئی۔
”یہ سارا اہتمام فرقان اور بھابھی تمہارے لیے کر رہے ہیں کیونکہ ہماری نئی نئی شادی ہوئی ہے تو تمہارے لیے سحری اور افطاری میں بھی اہتمام ہو رہا ہے، ورنہ تو ہم سادہ کھانا کھاتے ہیں۔ ماہ رمضان میں ہم لوگ اپنے کچن کے لیے گرو سری عام مہینوں کی نسبت آدھا خرچ کرتے ہیں اور آدھے پیسوں سے ہم کسی اور فیملی کو پورے مہینے کا راشن منگوا دیتے ہیں۔ کھانا ٹھنڈا ہو رہا ہے تمہارا۔” سالار نے سے متوجہ کیا، وہ خود کھانا ختم کر کے اب میٹھا کھا رہا تھا۔
یہ ڈاکٹر سبط علی کے گھر کی روایت تھی۔ ماہ رمضان میں ان کے گھر آنے والا راشن آدھا ہو جاتا تھا۔ گھر کے دو ملازموں کے ماہ رمضان کا راشن اس باقی راشن کی قیمت سے آتا تھا۔
امامہ!” سالار نے پھر اسے کھانے کی طرف متوجہ کیا۔
وہ کھانا کھانے لگی۔ سالار میٹھا بھی ختم کر چکا تھا اور اب منتظر تھا کہ وہ کھانا ختم کر لے۔ وہ خود ساتھ ساتھ سیل پر مسلسل میسجز کرنے میں مصروف تھا۔ وہ کسی حد تک بدل گیا تھا اور اس کے اندر آنے والی تبدیلی کس حد تک ڈاکٹر صاحب کی مرہون منت تھی اور کس حد تک اس کی اپنی سوچ کی، اندازہ لگانا مشکل تھا… وہ کھانا کھاتے ہوئے ہمیشہ اس کے کھانا شروع کرنے کا انتظار کرتا تھا۔ کھانا کھاتے ہوئے کچھ نہ کچھ اس کی پلیٹ میں ضرور رکھتا تھا اور اس کے کھانا ختم کرنے کے بعد ہی کھانے کی ٹیبل سے اٹھتا۔ وہ یہ باتیں نوٹس نہیں کرنا چاہتی تھی، لیکن وہ یہ نوٹس کیے بغیر بھی رہ نہیں سکتی تھی۔ وہ عجیب تھا۔ ”عجیب؟” اس کے علاوہ کوئی دوسرا لفظ امامہ کے ذہن میں نہیں آیا۔
ڈنر کے بعد وہ رات کو کچن کا سودا سلف خریدنے کے لیے گئے تھے۔ امامہ نے اگر سالار کی یہ گفت گو نہ سنی ہوتی تو یقینا وہ کچن کے لیے ایک لمبی چوڑی لسٹ بنائے بیٹھی تھی، لیکن اس نے خریداری کرتے ہوئے بہت احتیاط سے کام لیا۔ خریدی جانے والی زیادہ تر اشیاء کنٹینرز اور جارز ہی تھے۔ کھانے پکانے کا سامان اس نے بہت کم خریدا تھا۔
آج انہوں نے ایک اور جگہ سے کافی پی تھی۔
”تمہارا وہ پرابلم حل ہو گیا؟” امامہ کو گاڑی میں اچانک یاد آیا۔
”کون سا پرابلم؟” سالار نے چونک کر اسے دیکھا۔
”وہ جس کی وجہ سے تم کل رات پریشان تھے۔” امامہ نے اسے یاد دلایا۔
وہ بے اختیار بڑبڑایا۔ ”کاش ہو جاتا۔”
”یعنی نہیں ہوا۔” امامہ متفکر ہوئی۔
”ہو جائے گا۔” سالار نے عجیب سی مسکراہٹ کے ساتھ اس کا چہرہ دیکھا۔
”پرسوں میں کراچی جا رہا ہوں۔” سالار نے بات بدلی۔
”کتنے دن کے لیے؟” وہ چونکی۔
”صبح جاؤں گا اور رات کو آجاؤں گا۔ میں مہینے میں دو تین بار جاتا ہوں کراچی۔ تم چلو گی ساتھ؟” وہ ہنسا۔ امامہ نے حیرانی سے اسے دیکھا۔
”ایک دن کے لیے؟”
”ہاں…”
”تم آفس کے کام سے جا رہے ہو، میں کیا کروں گی وہاں؟”
”تم انیتا کے ساتھ شاپنگ کے لیے چلی جانا، وہ تمہیں گھما پھرائے گی کراچی۔ کبھی گئی ہو پہلے وہاں؟” سالار پوچھ رہا تھا۔
”نہیں۔” وہ کچھ ایکسائیٹڈ ہونے لگی تھی۔ سمندر اسے پسند تھا اور زندگی میں پہلی بار اسے سمندر دیکھنے کا موقع مل رہا تھا۔
”انیتا سے ٹائی اپ کرتا ہوں پروگرام… میں آفس میں، تم میری بہن کے ساتھ بازاروں میں… ہم تو اسی طرح کا ہنی مون منا سکتے ہیں فی الحال۔” وہ اسے پھر چھیڑ رہا تھا۔
وہ ہنس پڑی۔ وہ اس سے کہہ نہیں سکی کہ جس زندگی وہ گزار کر آئی تھی، اس کے مقابلے میں یہ آزادی اسے جنت جیسی محسوس ہو رہی ہے۔
٭٭٭٭
”یہ کیا ہے؟”
وہ خریدا ہوا سودا سلف، جارز اور کنٹینرز میں ڈالنے میں مصروف تھی جب سالار اپنے اسٹڈی روم سے ایک لفافہ لے کر کچن ایریا میں آیا۔
”اس میں تمہاری چیک بک ہے۔” سالار نے اسے بتایا اور لفافہ کاؤنٹر پر رکھ کر چلا گیا۔
امامہ نے لفافہ کھول کر اندر موجود چیک بک نکالی۔ اس کے ساتھ ایک پے سلپ بھی نکل آئی۔ وہ تیس لاکھ کی تھی۔ امامہ کو لگا کہ اسے کچھ غلط فہمی ہوئی ہے۔ اس نے سلپ کو دوبارہ دیکھا۔ وہ واقعی تیس لاکھ ہی کی تھی۔ اس نے اس کے اکاؤنٹ میں تیس لاکھ کیوں جمع کروائے؟ یقینا اس سے کوئی غلطی ہو گئی تھی۔
وہ لفافہ پکڑے اسٹڈی روم میں آگئی۔ سالار اپنے کمپیوٹر پر کوئی کام کر رہا تھا۔
”سالار! تمہیں پتا ہے، تم نے کتنا بڑا blunder کیا ہے؟” امامہ نے اندر آتے ہوئے کہا۔
”کیسا blunder؟” وہ چونکا۔
امامہ نے اس کے قریب آکر پے سلپ اس کے سامنے کی۔
”اسے دیکھو ذرا… یہ کیا ہے؟”
”پے سلپ ہے۔” سالار نے ایک نظر اس پر ڈالتے ہوئے دوبارہ ڈیسک ٹاپ پر نظر دوڑانا شروع کر دی۔
”کتنی رقم جمع کروائی ہے تم نے میرے اکاؤنٹ میں؟”
”تیس لاکھ۔” وہ حیران ہوئی۔
”ابھی کچھ رہتی ہے، سات لاکھ اور کچھ… چند ماہ میں وہ بھی دے دوں گا۔” وہ کچھ ٹائپ کرتے ہوئے سرسری انداز میں کہہ رہا تھا۔
”لیکن کیوں دو گے مجھے؟ کس لیے؟” وہ حیران تھی۔
”تمہارا حق مہر ہے۔” سالار نے اسی انداز میں کہا۔
”میرا حق مہر دو لاکھ روپے ہے۔” امامہ کو لگا کہ شاید وہ بھول گیا ہے۔
”وہ آمنہ کا تھا، میں تمہیں زیادہ حق مہر دینا چاہتا ہوں۔” سالار نے کندھے اچکا کر کہا۔
”لیکن یہ تو بہت ہی زیادہ ہے سالار۔” وہ یک دم سنجیدہ ہوئی۔” تم سے کس نے کہا، مجھے اتنی رقم دو؟”
”تم نے خود مجھے لکھ کر دی تھی یہ رقم۔” سالار نے اس بار مسکراتے ہوئے مانیٹر سے نظریں ہٹا کر اسے دیکھا۔
”میں نے کب…” وہ کہتے کہتے رک گئی۔ ”وہ فگر تم اس لیے لکھوا رہے تھے…؟” اسے یاد آگیا۔
”ہاں۔” اس کی لاپروائی اب بھی برقرار تھی۔
”تم پاگل ہو۔” امامہ کو بے اختیار ہنسی آئی۔
”شاید۔” سالار نے بے ساختہ کہا۔
”اچھا، میں ایک ارب لکھ دیتی تو کیا کرتے؟” وہ اب طنز کر رہی تھی۔
”تو ایک ارب بھی دے دیتا۔” ” کیا فیاضی تھی۔
”کہاں سے دیتے؟ فراڈ کرتے؟” وہ بے ساختہ ناراض ہوئی۔
”کیوں کرتا؟ کما کر دیتا۔” سالار نے اس کی بات کا برا مانا۔
”ساری عمر کماتے ہی رہتے پھر؟”
”اچھا ہوتا، ساری عمر تمہارا قرض دار رہتا۔ واقعی اچھا ہوتا، تو ایک ارب چاہیے کیا؟”
وہ تیکھی مسکراہٹ کے ساتھ کہہ رہا تھا۔ امامہ کو کئی سال پہلے والے سالار کی جھلک نظر آئی۔
”کیوں دے رہے ہو؟” اس نے سنجیدگی سے کچھ دیر اسے دیکھ کر کہا۔
”بیوی ہو تم، اس لیے۔”
”اتنے پیسے کہاں سے آئے تمہارے پاس؟”
”امامہ! میری سیونگز ہیں یہ۔” سالار نے بے حد تحمل سے کہا۔
”سیونگز ہیں تو مجھے کیوں دے رہے ہو؟” وہ کچھ خفا ہوئی۔
”میرا دل چاہتا ہے، میں تمہیں دوں۔ اگر یہ پوری دنیا میری ہوتی تو میں یہ ساری دنیا تمہیں دے دیتا۔ میں کما رہا ہوں اور روپیہ آجائے گا میرے پاس۔ مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا” کیا شاہانہ انداز تھا۔
”لیکن اتنی زیادہ رقم۔۔۔۔۔۔” سالار نے اس کی بات کاٹی۔
”میں اتنی زیادہ رقم نہیں دینا چاہتا تھا لیکن تمہاری مرضی کا حق مہر دینا چاہتا تھا، اس لیے تم سے ایک فگر لکھنے کو کہا۔ تمہیں پتا ہے جو فگر تم نے لکھی تھی، اس دن میرے اکاؤنٹ میں ایگزیکٹ اتنی ہی اماؤنٹ تھی۔” وہ اب رقم دہراتے ہوئے ہنس رہا تھا۔
”اب اس کو تم کیا کہو گی اتفاق…؟ مجھے اتفاق نہیں لگا، مجھے لگا وہ رقم میرے پاس تمہاری امانت تھی… یا حق تھا… اس لیے تمہیں دے رہا ہوں۔ تیس لاکھ دیا ہے کچھ رقم کا ادھار کر لیا ہے تم سے… ورنہ اگلے دو تین ماہ اِدھر اُدھر سے مانگ رہا ہوتا۔ اس لیے تم آرام سے رکھو یہ پیسے، مجھے اگر کبھی ضرورت ہوئی تو تم سے مانگ لوں گا۔ اب میں تھوڑا سا کام کر لوں؟”
امامہ نے کچھ نہیں کہا تھا، وہ دروازہ بند کر کے باہر نکل آئی۔ ڈائننگ ٹیبل کی کرسی پر بیٹھ کر وہ ایک بار پھر اس پے سلپ کو دیکھنے لگی۔ وہ اس شخض کو کبھی نہیں سمجھ سکتی تھی۔ کبھی نہیں… وہ لا ابالی نہیں تھا… کم از کم اتنے دن میں اسے یہ احساس نہیں ہوا تھا… لیکن وہ سمجھ دار بھی نہیں تھا… کم از کم وہ پے سلپ اسے یہی بتا رہی تھی… وہ اگر اسے خوش کرنا چاہتا تھا… تو وہ نہیں ہوئی تھی… احسان مند دیکھنا چاہتا تھا تو ہاں، اس کے کندھے جھکنے لگے تھے… ایسی چاہ اس نے زندگی میں کسی اور شخص سے چاہی تھی… ایسی نوازشات کی طلب اسے کہیں اور سے تھی … اس کے وجود کو گیلی لکڑی وہ پیسہ نہیں بنا رہا تھا، بلکہ وہ فیاضی بنا رہی تھی جو وہ دکھا رہا تھا۔ وہ اس سے برابری چاہ رہی تھی… برابر نہیں ہو پا رہی تھی… اس شخص کا قد لمبا نہیں ہو رہا تھا، بلکہ اس کا اپنا ہی وجود سکڑنے لگا تھا۔
٭٭٭
”امامہ! ہم کل صبح کے بجائے، آج شام کو جا رہے ہیں۔ رات کراچی میں رکیں گے اور پھر کل رات کو ہی واپس آجائیں گے۔ سات بجے کی فلائٹ ہے۔ میں شام ساڑھے پانچ بجے تمہیں پک کروں گا، تم پیکنگ کر لو۔”
اس نے بارہ بجے کے قریب فون کر کے آفس سے کراچی کا نیا پروگرام بتایا تھا۔ وہ یک دم نروس ہونے لی۔ اتنی جلدی پیکنگ، ٹھیک ہے وہ ایک رات کے لیے جا رہے تھے۔ پھر بھی… وہ اب اسے اپنے ان کپڑوں کے بارے میں بتا رہا تھا جو وہ ساتھ لے کر جانا چاہتا تھا۔ وہ پیکنگ کرتے ہوئے بےحد بولائی ہوئی تھی۔
وہ ساڑھے پانچ بجے وہاں موجود تھا۔ وہ جانتی تھی کہ اس نے گاڑی میں روزہ افطار کر لیا ہو گا، لیکن پھر بھی وہ ایک باکس میں اس کے لیے کھانے کی چیزیں اور جوس لے کر آئی تھی۔ ایئرپورٹ تک کی ڈرائیو میں دونوں باتیں کرتے ہوئے ساتھ وہ چیزیں بھی کھاتے رہے۔
وہ ساڑھے چھے بجے ایئر پورٹ پر پہنچے، بورڈنگ شروع ہو چکی تھی۔ وہ فرسٹ کلاس سے سفر کر رہے تھے۔ اسی لیے ٹریفک کی وجہ سے کچھ لیٹ ہونے کے باوجود سالار مطمئن تھا۔
ایگزیکٹو لاؤنج سے جہاز میں سوار ہوتے ہوئے سالار کی فرسٹ کلاس کے کچھ اور پسنجرز سے سلام دعا ہوئی۔ چند ایک سے اس نے امامہ کا بھی تعارف کروایا۔ وہ سب کارپوریٹ سیکٹر سے تعلق رکھتے تھے یا پھر سالار کے کسٹمرز تھے۔
جہاز کے ٹیک آف کے چند منٹوں کے بعد کسی دوسری کمپنی کا کوئی ایگزیکٹو، سالار سے کوئی معاملہ ڈسکس کرنے کے لیے اس کے پاس آیا۔ چند لمحے اس سے باتیں کرنے کے بعد سالار اس سے معذرت کر کے اس ایگزیکٹو کے ساتھ اس کی سیٹ پر چلا گیا۔ وہ کچھ دیر اس کے انتظار میں بیٹھی رہی، پھر کچھ بور ہو کر اس نے ایک میگزین اٹھا لیا۔
سالار کی واپسی، لیڈنگ کے اعلان کے پانچ منٹ بعد ہوئی۔ وہ ”سوری” کہتا ہوا اس کے پاس بیٹھ کر سیٹ بیلٹ باندھنے لگا۔
”تم بور تو نہیں ہوئیں؟”
نہیں… مجھے تو بہت مزہ آرہا تھا۔” اس نے بے حد خفگی سے جواب دیا۔
اس نے میگزین سے نظریں نہیں ہٹائیں۔ سالار نے بڑے آرام سے اس کے ہاتھ سے میگزین لے کر پاس سے گزرتی ایئر ہوسٹس کو تھما دیا۔ وہ شکریہ اد کرتی ہوئی چلی گئی۔
”یہ بدتمیزی ہے۔” امامہ نے اس کے جانے کے بعد کچھ دبی ہوئی آواز میں احتجاج کیا۔
”ہاں… ہے تو سہی لیکن تم مجھے دیکھ نہیں رہی تھیں۔” اس نے اطمینان اور ڈھٹائی کے ساتھ کہا۔ امامہ کی سمجھ میں نہیں آیا وہ اس سے خفا ہو یا ہنسے۔
”جتنی باتیں تم ان لوگوں سے کر رہے تھے، تم نے مجھ سے کبھی نہیں کیں۔”
وہ اس کے شکوے پر ہنسا۔” بینک کے کسٹمرز ہیں۔ یہ ان باتوں کے پیسے دیتے ہیں۔”
اس نے کچھ ملامت بھری نظروں سے سالار کو دیکھا۔ ”تم کتنے materialistic ہو۔”
”ہاں ، وہ تو ہوں۔” اس نے آرام سے جواب دیا۔
”میں بھی دے سکتی ہوں تمہیں پیسے۔” وہ اس کے جملے پر چونکا۔
”ارے، میں تو بھول ہی گیا تھا، فی الحال تو تم مجھ سے زیادہ امیر ہو۔ میرے بینک کی کسٹمر بھی ہو اور میں تمہارا قرض دار بھی ہوں، تو تم سے باتیں کرنا تو فرض ہے میرا۔” وہ مسکراتے ہوئے بولا۔
”بینکرز… ” وہ کچھ کہنے لگی تھی۔ سالار نے بے اختیار اپنا ہاتھ اس کے ہونٹوں پر رکھتے ہوئے اسے روکا اور کہا۔
”میں اپنا ٹرپ خراب نہیں کرنا چاہتا امامہ…! تم سے واپسی پر سنوں گا کہ بینکرز کیسے ہوتے ہیں۔” اس نے یک دم سنجیدہ ہوتے ہوئے کہا۔
امامہ نے حیرانی سے اسے دیکھا۔ اس میں سنجیدہ ہونے والی کیا بات تھی، اس نے سوچا۔ ایئر پورٹ پر ہوٹل کی گاڑی نے انہیں پک کیا تھا۔
”میں نے سوچا تھا کہ ہم انیتا کے گھر پر ٹھہریں گے۔” امامہ نے گاڑی میں بیٹھتے ہوئے کہا۔
”میں کبھی انیتا کے گھر نہیں ٹھہرا، میں ہوٹل میں رہتا ہوں۔” سالار نے اسے بتایا۔ ”کراچی اکثر آتا جاتا ہوں میں۔” وہ کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے اس سے کہہ رہا تھا۔ ”بعض دفعہ تو یہاں آکر انتیا سے بات تک نہیں ہو پاتی۔”
امامہ نے اس کا چہرہ دیکھا لیکن کچھ کہا نہیں۔ وہ مسلسل سیل پر کچھ میسجز کرنے میں مصروف تھا۔ وہ ساتھ ساتھ اسے سڑک کے دونوں اطراف آنے والے علاقوں کے بارے میں بھی بتا رہا تھا۔
”پھر مجھے تمہارے ساتھ نہیں آنا چاہیے تھا۔ میری وجہ سے…”
سالار نے نے اس کے اچانک اس طرح کہنے پر اسے ٹوکا۔
”تمہیں ساتھ لے کر آنا مجھے اچھا لگ رہا ہے اور تمہیں انیتا کی فیملی سے ملوانے کے لیے یہاں لے کر تو آنا ہی تھا مجھے۔” امامہ نے اس کا چہرہ غور سے پڑھنے کی کوشش کی۔
”سچ کہہ رہا ہوں۔” اس نے امامہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے کہا۔ ”تمہیں میرے ساتھ آنا اچھا نہیں لگا؟” سالار نے یک دم اس سے پوچھا، وہ مسکرا دی۔
”آپ اپنی وائف کے ساتھ پہلی بار یہاں ٹھہر رہے ہیں۔”
ہوٹل میں چیک ان کرتے ہوئے ریسپشن پر موجود لڑکے نے مسکراتے ہوئے سالار سے کہا۔
اس فائیو اسٹار ہوٹل کے چند کمرے مستقل طور پر سالار کے بینک نے بک کیے ہوئے تھے اور ان کمروں میں باقاعدگی سے ٹھہرنے والوں میں سے ایک وہ بھی تھا، لیکن آج وہ پہلی بار اس کی بیوی کو دیکھ رہے تھے۔
سالار نے مسکراتے ہوئے سر ہلایا اور سائن کرنے لگا۔ وہ لڑکا اب امامہ سے کچھ خوش گوار جملوں کا تبادلہ کر رہا تھا۔ جیسے کوئی آہستہ آہستہ اس کے گرد موجود ساری سلاخیں گرا رہا ہو۔ وہ باہر کی اس دنیا سے مسحور ہو رہی تھی، جس سے وہ سالار کی وجہ سے متعارف ہوئی تھی۔
بیچ لگژری پر انیتا اور اس کی فیملی نے اس کے لیے ڈنر ارینج کر رکھا تھا۔ وہ لوگ آدھے گھنٹے میں تیار ہونے کے بعد تقریباً ساڑھے گیارہ بجے وہاں پہنچے۔ انیتا اور اس کے شوہر کے علاوہ اس کے سسرال کے بھی کچھ لوگ وہاں موجود تھے۔ یہ سالار اور اس کی بیوی کے لیے ایک فیملی ڈنر تھا۔ اس کا استقبال بڑی گرم جوشی سے کیا گیا۔ اس کی گھبراہٹ ابتدائی چند منٹوں کے بعد ختم ہونا شروع ہو گئی۔ وہ کافی لبرل فیملی تھی اور ان دونوں کی شادی کے حوالے سے ہونے والی رسمی گفت گو کے بعد، گفت گو کے موضوعات بدل گئے تھے۔ امامہ چیف گیسٹ تھی لیکن وہاں کسی نے اسے ٹیلی سکوپ کے نیچے نہیں رکھا تھا اور اس چیز نے امامہ کے اعتماد میں اضافہ کیا۔ کھانا ابھی سرو نہیں ہوا تھا۔ وہ ڈرنکس لیتے ہوئے گپ شپ کر رہے تھے۔ امامہ گفت گو میں ایک مسکراتے ہوئے خاموش سامع کا رول ادا کر رہی تھی۔ اس کی زیادہ توجہ بیچ لگژری ویو کے گرد نظر آنے والے سمندر اور شہر کی روشنیوں پر تھی۔ وہ لوگ اوپن ایر میں تھے۔ کراچی میں لاہور جیسی سردی نہیں تھی لیکن یہاں اسے سردی محسوس ہو رہی تھی۔ سالار نے آنے سے پہلے اسے گرم شال لینے کا نہ کہا ہوتا تو یقینا اس وقت اس کے دانت بج رہے ہوتے۔ وہاں موجود تمام خواتین سویٹرز کے بجائے، اسی طرح کی شالیں اپنے کندھوں پر ڈالے ہوئے تھیں۔
”سالار! میں وہاں آگے جا کر نیچے سمندر دیکھنا چاہتی ہوں۔” اس نے ساتھ بیٹھے ہوئے سالار کی طرف جھکتے ہوئے مدھم آواز میں سرگوشی کی۔
”تو جاؤ۔” سالار نے اطمینان سے کہا۔
”میں کیسے جاؤں؟ اس طرح اکیلے… تم ساتھ آؤ میرے۔” اس نے اس کے مشورے پر جزبز ہوتے ہوئے کہا۔
”نہیں، تم خود جاؤ… دیکھو… اور بھی لوگ کھڑے ہیں، تم بھی جا کر دیکھ آؤ۔” سالار نے اس سے کہا۔ وہ اب اس کی گود میں پڑا بیگ اٹھا کر نیچے زمین پر رکھتے ہوئے بلند آواز میں اس سے کہہ رہا تھا۔
امامہ نے کچھ جھجکتے ہوئے اس لمبی ٹیبل کے گرد موجود افراد پر نظر ڈالی، وہ سب گفت گو میں مصروف تھے۔ ان میں سے کوئی بھی ان کی طرف متوجہ نہیں تھا۔ وہ کچھ ہمت پاتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی۔ اس کے بائیں طرف بیٹھی انیتا اس کی طرف متوجہ ہوئی۔
”وہاں سے جا کر دیکھو، وہاں سے زیادہ اچھا ویو ہے۔” انیتا نے اشارے سے اسے گائیڈ کیا۔ امامہ نے سر ہلایا۔
وہاں اس وقت اس کے علاوہ اور بھی کچھ فیملیز موجود تھیں اور سالار ٹھیک کہہ رہا تھا۔ کوئی نہ کوئی وقتاً فوقتاً اٹھ کر اسی طرح اس عرشہ نما جگہ کے کنارے کھڑے ہو کر سمندر کو دیکھنے لگتا۔ وہ اپنی جگہ سے اٹھتے ہوئے نروس تھی لیکن پھر وہ نارمل ہونا شروع ہو گئی۔
سالار وہیں بیٹھا کولڈ ڈرنک پیتے اسے جاتے ہوئے دیکھتا رہا۔ امامہ نے دوبارہ پلٹ کر کچھ نروس ہو کر اسے دیکھا تھا۔ وہ دونوں بار مسکرا دیا۔ یہ نو سال پہلے کی وہ پر اعتماد لڑکی نہیں تھی جو آدھی رات کو اپنے گھر کی دیوار کود کر اس کے کمرے میں آگئی تھی۔ اس سے شادی کی تھی، پھر گھر سے چلی گئی تھی۔
وہ وسیم کی اس بہن کے بارے میں وسیم سے بہت کچھ سن چکا تھا لیکن پچھلے دس دنوں سے وہ جس لڑکی کو دیکھ رہا تھا، یہ وہ لڑکی نہیں تھی۔ وقت نے جتنی توڑ پھوڑ اس کی زندگی میں پیدا کی تھی اس سے زیادہ توڑ پھوڑ اس نے عرشے کی طرف جاتی ہوئی اس لڑکی کی زندگی میں پیدا کی تھی۔ اس کی انداز و اطوار ہی تبدیل ہو گئے تھے۔ نو سال اگر کسی شخص کو اس کے گھر والوں سے الگ کر دیا جائے، خوف اور دباؤ کے ساتھ چند جگہوں تک محدود کر کے باقی دنیا سے کاٹ دیا جائے تو وہ کس حد تک کنفیوزڈ، ڈبل مائنڈ، غیر محفوظ اور ڈیپنڈنٹ ہو سکتا ہے۔ وہ اس کا عملی مظاہرہ امامہ کی اس حالت میں دیکھ رہا تھا اور یہ چیز اسے تکلیف پہنچا رہی تھی۔ وہ کم از کم اسے اس حالت میں نہیں دیکھنا چاہتا تھا۔
”سالار… سالار…” وہ انیتا کی آواز پر بے اختیار چونکا۔ اس نے پوری قوت سے اس کے کندھے پر ہاتھ مارا تھا۔
”یا تو اسے وہاں بھیجتے نہ، اب بھیج ہی دیا ہے تو دو چار منٹوں کے لیے کسی اور چیز کو بھی دیکھ لو۔” وہ اب اسے ڈانٹ رہی تھی۔ وہ مسکرا کر سیدھا ہو گیا۔ اس کا بہنوئی غفران اس سے کچھ پوچھ رہا تھا۔
ہوا امامہ کے بالوں کو بکھیر رہی تھی۔ وہ انہیں بار بار کانوں کے پیچھے کر کے سنبھالنے کی کوشش کر رہی تھی لیکن انہیں کھلا چھوڑ کر آنے پر پچھتا بھی رہی تھی۔ اس تیز ہوا میں وہ شیفون کے دوپٹے کو سر پر ٹکانے کی کوشش چھوڑ چکی تھی، ہاں وہ پشمینہ شآل اس کی مہین شیفون کی قمیص کو اڑنے سے تو روک نہیں پا رہی تھی لیکن اس کے جسم کو اچھی طرح ڈھانپے رکھنے میں مؤثر تھی۔ وہ کئی سالوں میں آج پہلی بار کسی پبلک پلیس پر سر ڈھانپے بغیر کھڑی تھی۔ اسے بے حد عجیب لگ رہا تھا۔ اگر وہ سالار کے ساتھ نہ ہوتی تو کبھی بھی ایسی حالت میں کسی کھلی جگہ پر کھڑے ہونے کا تصور بھی نہیں کر سکتی تھی۔ دس دن پہلے تک تو وہ گھر سے باہر نکلتے ہوئے اپنا چہرہ بھی چھپاتی تھی۔ وہ واحد گیٹ اپ تھا جس میں وہ خود کو بے حد محفوظ سمجھتی تھی۔ سالار سے شادی کے بعد اس نے چہرہ چھپانا چھوڑ دیا تھا اور اب اس کے ساتھ خود کو محفوظ سمجھتی تھی۔
تاریک سمندر میں نظر آتی روشنیوں کے عکس کو دیکھتے ہوئے اس نے ایک بار پھر گردن کے گرد لپٹے دوپٹے کو سر پر لینے کی کوشش کی۔ یہاں اس کی کوشش کو نوٹس کرنے والا کوئی نہیں تھا۔ یہ کام اس ہوا میں شال، دوپٹے اور کھلے بالوں کے ساتھ آسان نہیں تھا۔
”میں بال سمیٹ دوں تمہارے؟” وہ جیسے کرنٹ کھا کر پلٹی، پھر جیسے اطمینان کا سانس لیا۔
”تم نے تو مجھے ڈرا ہی دیا۔” اس نے سالار کو اپنے عقب میں دیکھ کر بے اختیار کہا۔ وہ کس وقت آیا تھا، اسے پتا ہی نہیں چلا تھا۔
”تم میرا دوپٹا پکڑو گے؟” اس نے سالار کی اوٹ میں آتے ہوئے اپنا دوپٹا اسے پکڑا دیا۔ وہ اب وہاں کھڑی دوسروں کو نظر نہیں آرہی تھی۔
”تمہیں مجھ کو بتانا چاہیے تھا کہ یہاں اتنی تیز ہوا ہو گی، میں بال تو کھلے چھوڑ کر نہ آتی۔” وہ اپنے بالوں کو ڈھیلے جوڑے کی شکل میں لپیٹتے ہوئے اس سے شکایتی انداز میں کہہ رہی تھی۔ وہ اس کا چہرہ دیکھتا رہا۔ وہ اب اپنی شال اتار کر اسے دیتے ہوئے، دوپٹا اس سے لے رہی تھی۔
”یہ کون سا کلر ہے؟” وہ دوپٹے کو اپنے سر اور گردن کے گرد لپیٹتے ہوئے اس کے سوال پر ٹھٹکی۔
”کرمزن…کیوں؟”
سالار نے شال اس کے کندھوں کے گرد لپیٹتے ہوئے کہا۔ ”میں تمہیں بتانا چاہتا تھا، تم اس کلر میں بہت اچھی لگتی ہو۔” اس نے اس کے بائیں گال کو اپنی انگلیوں کی پوروں سے بہت آہستہ سے چھوا تھا۔
امامہ کی آنکھوں میں حیرت امڈ آئی۔ اگلے لمحے سالار کو یہ طے کرنا مشکل ہو گیا کہ اس کا لباس زیادہ قرمزی تھا یا اس کا چہرہ، وہ بے اختیار گہرا سانس لے کر رہ گیا۔
”اب تم اتنی سی بات پر بھی یوں بلش ہوا کرو گی تو معاملہ جان لیوا ہو جائے گا۔ مار دو گی تم بڑی جلدی مجھے۔” وہ کھلکھلا کر ہنسی۔
وہ تقریباً اڑھائی بجے واپس اپنے ہوٹل میں آئے تھے۔ امامہ کو اتنی نیند آرہی تھی کہ اس نے جیولری اتار دی چہرہ بھی دھو لیا لیکن کپڑے تبدیل کیے بغیر سو گئی تھی۔
٭٭٭٭
سالار صبح کب آفس کے لیے نکلا، امامہ کو پتا ہی نہیں چلا۔ وہ تقریباً دس بجے اٹھی۔ جب تک وہ اپنا سامان پیک کر کے تیار ہوئی، تب تک انیتا اسے لینے کے لیے آ چکی تھی۔
وہ لوگ تقریباً ساڑھے گیارہ بجے ہوٹل سے چیک آؤٹ کر کے نکلے اس کے بعد وہ انیتا کے ساتھ کراچی کے مختلف مالز میں گھومتی پھرتی رہی۔ انتیا نے اسے سالار کے دیے ہوئے کریڈٹ کارڈ کو استعمال کرنے ہی نہیں دیا۔ اس دن وہی اس کو شاپنگ کرواتی رہی۔
شاپنگ کے بعد انیتا اسے اپنے گھر لے گئی، اس نے وہاں افطار کیا۔ ساڑھے سات بجے وہ گھر سے ایر پورٹ کے لیے نکلی اور اسی وقت سالار سے اس کی فون پر بات ہوئی۔ وہ بھی ایر پورٹ کی طرف جا رہا تھا۔
وہ سالار کی نسبت جلدی ایر پورٹ پہنچی۔ بورڈنگ ابھی شروع نہیں ہوئی تھی۔ ایگزیکٹو لاؤنج میں پہنچتے ہی ایک بار پھر وہ کسی نہ کسی سے ہیلو ہائے کرنے لگا۔ یہ وہ فلائٹ تھی جس سے وہ عام طور پر کراچی سے واپس آیا کرتا تھا اور اس کی طرح باقی لوگ بھی ریگولر ٹریولر تھے لیکن وہ اس وقت اتنی خوش تھی کہ اس نے سالار کی توجہ کسی اور طرف ہونے پر بھی اعتراض نہیں کیا۔
وہ خوش تھی، یہ اس کے چہرے پر لکھا تھا اور سالار کو اس کی یہ خوشی حیران کر رہی تھی۔
”یہ تمہارا کریڈٹ کارڈ اور پیسے۔”
اس نے لاؤنج میں بیٹھنے کے کچھ دیر بعد ہی اپنے بیگ سے دونوں چیزیں نکال کر سالار کو تھما دیں۔
”انیتا نے مجھے بل پے کرنے نہیں دیے۔ اسی نے سارے بلز دیے ہیں۔ تم اسے پے کر دینا۔” امامہ نے اسے بتایا۔
”کیوں؟ کوئی بات نہیں اگر اس نے پے کیے ہیں۔ اسے ہی کرنے چاہیے تھے۔”
سالار نے کریڈٹ کارڈ اپنے والٹ میں رکھتے ہوئے کہا۔ ہاتھ میں پکڑے ہوئے پیسے اس نے واپس امامہ کے بیگ میں ڈال دیے تھے۔
”لیکن ہم نے تو اسے یا اس کی فیملی کو کچھ بھی…”
سالار نے اس کی بات کاٹی۔ ”تم نیکسٹ ٹائم آؤ گی تو لے آنا کچھ اس کے لیے۔ دو چار ہفتے تک وہ ویسے بھی اپنے نئے گھر میں شفٹ ہو رہی ہے۔ تو تمہیں اچھا لگا کراچی آکر…؟” سالار نے موضوع بدلا۔
امامہ کا چہرہ ایک بار پھر چمکنے لگا… وہ اسے ان جگہوں کے بارے میں بتا رہی تھی جہاں وہ انیتا کے ساتھ گئی تھی۔ سالار مسکراتے ہوئے اسے سنتا رہا۔ وہ بچوں جیسے جوش و خروش کے ساتھ اپنی شاپنگ کی تفصیل بتا رہی تھی۔
”میں نے ابو، آنٹی اور سعیدہ اماں کے لیے بھی کچھ گفٹس لیے ہیں۔” وہ بتا رہی تھی۔
”اچھا!” سالار نے دل چسپی لی لیکن گفٹس کی نوعیت نہیں پوچھی۔
”فرقان بھائی کی فیملی اور تمہارے پیرنٹس کے لیے بھی۔”
”امامہ! صرف میرے پیرنٹس نہیں ہیں وہ، تمہارا بھی کوئی رشتہ ہے ان سے۔” سالار نے اعتراض کیا۔
وہ اب بھی اس کے ماں باپ کا ذکر اسی طرح کرتی تھی۔ اس وقت یک دم امامہ کو احساس ہوا کہ اس نے سالار کے لیی کچھ بھی نہیں خریدا۔ یہ بھول تھی یا لاپروائی، لیکن اسے شاپنگ کے دوران سالار کا خیال تک نہیں آیا۔ اسے بے حد ندامت ہوئی۔
”کیا ہوا؟” سالار نے اسے خاموش دیکھ کر پوچھا۔
وہ کچھ دیر خاموش رہی پھر اس نے کچھ شرمندگی سے کہا۔
”سالار! مجھے تمہارے لیے کچھ خریدنا یاد نہیں رہا۔”
”کوئی بات نہیں، تم نے اپنے لیے شاپنگ کی ہے تو سمجھو، تم نے میرے لیے ہی خریدا ہے۔” سالار نے اسی مسکراہٹ کے ساتھ اس کا کندھا تھپک کر جیسے تسلی دی۔
 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: