Aab e Hayat Novel by Umera Ahmed Read Online – Episode 11

0

آب حیات از عمیرہ احمد – قسط نمبر 11

–**–**–

 

سالار سے بات ختم کرنے کے بعد سکندر اٹھ کر اوپر والے فلور پر چلے گئے۔ دروازے پر دستک دے کر وہ اندر آئے تھے۔
”بیٹا! نیچے آنا تھا، ہم لوگوں کے پاس آکر بیٹھیں کچھ دیر۔”
سکندر یہ کہتے ہوئے اندر آئے اور امامہ کچھ ہڑ بڑا کر اٹھی تھی۔
وہ ان کے وہاں آنے کی توقع نہیں کر رہی تھی اور اس کے چہرے پر ایک نظر ڈالتے ہی سکندر ایک لمحے کے لیے خاموش ہو گئے تھے۔ اس کی آنکھیں بری طرح سوجی ہوئی تھیں۔
”رونے والی کیا بات ہے بیٹا…؟” سکندر نے اس کے سر کو تھپکتے ہوئے کہا۔
”نہیں… وہ… میں…” وہ بے حد ندامت سے ان سے نظریں ملائے بغیر بولی۔
”چلیں! نیچے آئیں، طیبہ بھی پوچھ رہی ہیں آپ کا۔” سکندر نے ایک بار پھر اس کا سر تھپکا۔
یہ سالار نہیں تھا، جسے وہ دھڑلے سے انکار کر دیتی۔ ”جی۔” اس نے یہ کہتے ہوئے صوفے پر پڑا کمبل اٹھانے کی کوشش کی۔ سکندر نے اسے روک دیا۔
”ملازم اٹھا لے گا… آپ آجائیں ۔”
اس کا چہرہ دیکھ کر طیبہ بھی بے چین ہو گئیں۔ جیسے بھی حالات میں شادی ہوئی، بہرحال وہ ایک ایسی فیملی تھی۔ جسے وہ طویل عرصے سے جانتے تھے اور جن کی دیوار کے ساتھ ان کی دیوار جڑی تھی۔ اس رشتے کا پاس، بہو ہونے کے ناطے ان پر کچھ زیادہ ذمہ داری عائد کرتا تھا۔ خود وہ بھی امامہ کو بچپن سے دیکھتے آئے تھے۔ کسی نہ کسی حد تک وہ ان کے لیے بے حد شناسا تھی۔
وہ لوگ اسے تسلیاں دیتے اس سے باتیں کرتے رہے۔ پھر سکندر نے اسے آرام کرنے کے لیے کہا۔ وہ کمرے میں آکر کچھ دیر کے لیے کھڑکی کے پاس بیٹھی رہی، پھر کچھ تھکی ہوئی آکر بیڈ پر لیٹ کر سو گئی۔
ساڑھے چار بجے اسے ملازم نے انٹر کام پر اٹھایا تھا۔ افطار کا وقت قریب تھا، سکندر اور طیبہ بھی اس کا انتظار کر رہے تھے۔ سالار بھی افطار سے چند منٹ پہلے ہی پہنچا تھا۔ سکندر اور طیبہ اس رات بھی کہیں مدعو تھے۔ کچھ دیر اُن کے پاس بیٹھ کر وہ انہیں خدا حافظ کہتے ہوئے چلے گئے۔ رات کو وہ بارہ بجے کے قریب واپس آئے، گیارہ بجے سالار اور اس کی فلائٹ تھی۔ طیبہ جانے سے پہلے امامہ کوکچھ تحائف دینے آئیں تو امامہ کو وہ تحائف یاد آگئے جو وہ کراچی سے ان دونوں کے لیے لے کر آتی تھی۔
امامہ کو حیرت ہوئی جب سالار، طیبہ سے ملنے کے بعد سونے کے لیے لیٹ گیا تھا۔
”تم مجھے دس بجے اٹھا دینا۔” اس نے امامہ کو ہدایت دی تھی۔
”گیارہ بجے فلائٹ ہے، دیر تو نہیں ہو جائے گی…؟” امامہ نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔
”نہیں، پہنچ جائیں گے۔” اس نے آنکھیں بند کرتے ہوئے کہا۔
وہ کچھ دیر بیٹھی اسے دیکھتی رہی پھر وہ دوبارہ اوپر کے فلور کے اسی کمرے میں آگئی۔
اس کے گھر کے پورچ میں کوئی گاڑی بھی نہیں کھڑی تھی۔ وہ ویک اینڈ تھا اور وہ یقینا گھر پر نہیں تھے۔ کہاں ہو سکتے تھے۔ امامہ نے اندازہ لگانے کی کوشش کی۔ نو سال کے بعد یہ اندازہ لگانا بہت مشکل تھا۔ اسے امید یہ تھی کہ وہ وہاں بیٹھی انہیں واپس آتے دیکھ سکتی ہے، لیکن دس بجے تک کوئی گاڑی نہیں آئی۔ وہ بوجھل دل اور نم آنکھوں کے ساتھ اٹھ کر نیچے آگئی۔ سالار کو جگانے کی ضرورت نہیں پڑی۔ وہ جانے کے لیے سامان سمیٹ کھڑا تھا۔ امامہ کا دل مزید بوجھل ہوا، تو بالآخر ایک بار پھر سب کچھ چھوڑ کر جانے کا وقت آگیا تھا۔
باہر پورچ میں ڈرائیور ایک گارڈ کے ساتھ گاڑی میں انتظار کر رہا تھا۔ سکندر عثمان نے گارڈ کو ایرپورٹ تک ساتھ جانے کی ہدایت کی تھی۔ وہ ہر طرح کی احتیاطی تدابیر کر رہے تھے۔ سالار نے سامان گاڑی میں رکھنے کے بعد چابی ڈرائیور سے لے لی۔ امامہ نے حیرانی سے اسے دیکھا تھا۔
”ہم لوگ بائی روڈ جا رہے ہیں، پاپا آئیں تو انہیں بتا دینا۔
ڈرائیور نے کچھ احتجاج کرنے کی کوشش کی۔ شاید سکندر اسے ضرورت سے زیادہ ہدایات کر گئے تھے، لیکن سالار کی ایک جھاڑ نے اسے خاموش کر دیا۔
”اور اب اتنی وفاداری دکھانے کی ضرورت نہیں ہے کہ میرے گھر سے نکلتے ہی پاپا کو فون کر دو۔”
وہ گاڑی میں بیٹھا ہوا اس سے کہہ رہا تھا۔ اسے یقین تھا وہ اس کے گھر سے نکلتے ہی یہی کام کرے گا۔ اس لیے گیٹ سے نکلتے ہی اس نے سکندر کے فون پر کال کی تھی۔ وہ کچھ دیر کے لیے سکندر کا فون انگیج کرنا چاہتا تھا۔
”پاپا! ہم لوگ نکل رہے تھے تو سوچا آپ سے بات کر لوں۔” سالار نے سکندر سے کہا۔
”اچھا کیا۔”
”ذرا ممی سے بات کرا دیں۔” اس نے سکندر کے کچھ کہنے سے پہلے ہی سکندر سے کہا۔ اسے خدشہ تھا کہ سکندر ڈرائیور کی ان کمنگ کال دیکھ کر چونکیں گے۔ وہ اگر گاڑی میں ان سے بات کر رہا ہے تو ڈرائیور انہیں کیوں کال رہا تھا۔ البتہ طیبہ اس سے بات کرتے ہوئے کسی ان کمنگ کال کو چیک نہیں کرتیں اور اگر کرتیں بھی تو ان کو شک نہیں ہوتا۔ اگلے پندرہ منٹ وہ طیبہ کے ساتھ باتیں کرتا رہا۔ ساتھ بیٹھی امامہ کچھ حیران تھی۔ لیکن اس نے اسے نظر انداز کیا تھا۔ وہ اتنی لمبی باتیں کرنے کا عادی نہیں تھا۔ جتنا وہ اب یک دم باتونی ہو گیا تھا۔
ادھر یہی حیرانی طیبہ کو بھی ہو رہی تھی۔ سکندر ڈنر ٹیبل پر چند دوسرے افراد کے ساتھ مصروف تھے۔ پندرہ منٹ لمبی گفتگو کے بعد جب سالار کو یقین ہو گیا کہ ڈرائیور اب تک سکندر کو کئی کالز کرنے کے بعد تنگ آکر کر کالز کرنا چھوڑ چکا ہو گا یا کم از کم دوبارہ کرنے کی اگلی کوشش کچھ دیر بعد ہی کرے گا تو اس نے خدا حافظ کہتے ہوئے فون آف کر دیا۔ طیبہ اور سکندر کی واپسی بارہ بجے سے پہلے متوقع نہیں تھی اور اب اگر ڈرائیور سے پانچ دس منٹ بعد بھی ان کی بات ہوتی تو وہ بہت فاصلہ طے کر چکے ہوتے۔
”بائی روڈ آنے کی کیا ضرورت تھی؟” اس کا فون بند ہوتے دیکھ کر امامہ نے اس سے پوچھا۔
”یونہی دل چاہ رہا تھا۔ کچھ یادیں تازہ کرنا چاہتا ہوں۔” سالار نے سیل فون رکھتے ہوئے کہا۔
”کیسی یادیں؟” وہ حیران ہوئی۔
”تمہارے ساتھ پہلے سفر کی یادیں۔” وہ کچھ دیر اس سے نظریں نہیں ہٹا سکی۔
وہ اس شخص سے کیا کہتی کہ وہ اس سفر کو یاد نہیں کرنا چاہتی۔ وہ اس کے لیے سفر نہیں تھا، خوف اور بے یقینی میں گزارے چند گھنٹے تھے جو اس نے گزارے تھے۔ مستقبل اس وقت ایک بھیانک بھوت بن کر اس کے سامنے کھڑا تھا اور اس راستے میں وہ بھوت مسلسل اسے ڈراتا رہاتھا۔
”میرے لیے خوش گوار نہیں تھا وہ سفر۔” اس نے تھکے سے لہجے میں سالار سے کہا۔
”میرے لیے بھی نہیں تھا۔” سالار نے بھی اسی انداز میں کہا۔
‘کئی سال ہانٹ کرتا رہا مجھے، دیکھنے آیا ہوں کہ اب بھی ہانٹ کرتا ہے۔” وہ بات ختم کرتے ہوئے اسے دیکھ کر بہت مدھم انداز میں مسکرایا۔
امامہ خاموش رہی۔ کئی سال پہلے کی وہ رات ایک بار پھر سے ایک اس کی آنکھوں کے سامنے آنے لگی تھی اور آنکھوں کے سامنے صرف رات ہی نہیں بلکہ جلال بھی آیا تھا۔ اس رات کی تکلیف کا ایک سرا اس کی ذات کے ساتھ بندھا تھا۔ دوسرا اس کی فیملی کے ساتھ۔ اس نے دونوں کو کھویا تھا۔ اگلی صبح کا سورج لاکھ ہمیشہ جیسا ہوتا، اس کی زندگی ویسی نہیں رہی تھی۔ کبھی وہ سوچ سکتی تھی کہ وہ کبھی اس رات کو صرف تکلیف سمجھ کر سوچے گی، تقدیر سمجھ کر نہیں… اس کی آنکھیں بھیگنے لگی تھیں۔ برابر میں بیٹھا شخص آج اس کے آنسوؤں سے بے خبر نہیں تھا، لیکن اس وقت بے خبر تھا۔ اس نے کچھ کہے بغیر ہاتھ بڑھا کر اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیا، امامہ آنکھیں پونچھنے لگی تھی۔ وہ سارا نقشہ جو اس نے اپنی زندگی کا کھینچا تھا، اس میں یہ شخص کہیں نہیں تھا۔ زندگی نے کس کو کس کے ساتھ جوڑا… کس تعلق کو، کہاں سے توڑا تھا… پتا ہی نہیں چلا… سفر خاموشی سے ہو رہا تھا، لیکن طے ہو رہا تھا۔
”اب بہت احتیاط سے گاڑی چلا رہا ہو۔” امامہ کو کئی سال پہلے کی اس کی ریش ڈرائیونگ یاد تھی۔ ”زندگی کی قدر ہو گئی ہے اب؟” اس نے سالار سے ہاتھ چھڑاتے ہوئے پوچھا۔
”تمہاری وجہ سے احتیاط کر رہا ہوں۔” وہ بول نہیں سکی۔ خاموشی کا ایک اور وقفہ آیا۔
وہ شہر کی حدود سے باہر نکل آئے تھے اور سڑک پر دھند محسوس ہونے لگی تھی۔ یہاں دھند گہری نہیں تھی، لیکن موجود تھی۔
”کبھی دوبارہ سفر کیا اکیلے اس روڈ پر…” امامہ نے کچھ دیر بعد پوچھا۔
”موٹر وے سے جاتا ہوں اب اگر گاڑی میں جانا ہو تو… بس ایک بار آیا تھا کچھ ماہ پہلے۔” وہ کہہ رہا تھا۔ ”جب پاپا نے مجھے تمہارے ہاتھ کا لکھا ہوا نوٹ دیا۔ کیا رات تھی؟”
وہ جیسے تکلیف سے کراہا اور پھر ہنس پڑا۔
”امید تھی جس کو، اس رات میں میں مجسم فنا ہوتے دیکھا۔ سمجھ میں آیا مجھے کہ تب اس رات تم کس حالت سے گزری ہو گی۔ اذیت سے بہت زیادہ… موت سے ذرا سی کم… لیکن تکلیف اس کو کوئی بھی نہیں کہہ سکتا۔”
ونڈاسکرین سے باہر دیکھتے ہوئے، وہ جو کچھ اس تک پہنچانا چاہ رہا تھا، پہنچ رہا تھا۔ اس کانچ سے وہ بھی گزری تھی۔ نم ہوتی آنکھوں کے ساتھ، گردن سیٹ کی پشت سے ٹکائے، وہ اسے دیکھ رہی تھی۔
”میں سارا راستہ بس یہی سوچتا رہا کہ میں اب کروں گا کیا۔ کیا کروں گا میں زندگی میں سوچ رہا تھا۔ اللہ نے مجھے ضرورت سے زیادہ زندگی دے دی ہے… تمہارے ساتھ برا کیا تھا… برا تو ہونا ہی تھا میرے ساتھ… یاد ہے نا، میں نے تمہارے ساتھ سفر میں کیسی باتیں کی تھیں۔”
اس نے عجیب سے انداز میں ہنس کر ایک لمحہ کے لیے گردن موڑ کر اسے دیکھا۔ ایک لمحہ کے لیے دونوں کی نظریں ملی تھی، پھر سالار نے نظریں چراتے ہوئے گردن سیدھی کر لی۔ سفر پھر خاموشی سے طے ہونے لگا تھا۔ وہ تعلق جو ان کے بیچ تھا، وہ جیسے خاموشی کو بھی گفت گو بنا رہا تھا۔ لفظ اس وقت خاموشی سے زیادہ بامعنی نہیں ہو سکتے تھے۔
امامہ بھی گردن سیدھی کرکے سڑک کو دیکھنے لگی۔ دھند اب گہری ہو رہی تھی۔ جیسے وہ سڑک پر نہیں بلکہ اپنے ماضی کی دھند میں داخل ہو رہے تھے۔ گہری، معدوم نہ ہونے اور ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہ دینے والی گہری دھند… کیا کیا اپنے اندر چھپائے ہوئے تھی، لیکن جو کچھ تھا، وہ بوجھل ہو گیا تھا، فراموش نہیں ہوا تھا۔
سیل فون کی رنگ ٹون نے ان دونوں کو چونکا دیا۔ سیل پر سکندر کا نمبر چمک رہا تھا۔ سالار ہنس پڑا۔ امامہ اس کی بے مقصد ہنسی کو نہیں سمجھی۔
”ہیلو!” سالار نے کال ریسیو کرتے ہوئے صرف اتنا ہی کہا تھا۔ اسے حیرت تھی، سکندر عثمان کی کال اتنی دیر سے نہیں آنی چاہیے تھی۔ شاید ڈرائیور نے ان کے گھر پہنچنے پر ہی انہیں سالار کے ایڈونچر کے بارے میں مطلع کیا تھا۔ سالار نے آواز کچھ کم کر دی تھی۔ جو کچھ سکندر اسے فون پر کہہ رہے تھے، وہ نہیں چاہتا تھا کہ وہ امامہ تک پہنچتا۔
”جی…جی۔”وہ اب تابع داری سے کہہ رہا تھا۔ سکندر اس پر بری طرح برس رہے تھے اور کیوں نہ برستے وہ، انہیں بے وقوف بنانا جیسے سالار کے لیے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا اور یہ احساس سکندر کے غصے میں اضافہ کر رہا تھا۔ انہوں نے کچھ دیر پہلے طیبہ کے پرس میں پڑے اپنے سیل پر ڈرائیور کی مسڈ کالز دیکھی تھیں اور اس سے بات کر کے وہ خون کے گھونٹ پی کر رہ گئے تھے۔ بائی روڈ لاہور جانا، اس وقت ان کے لیے اس کی حماقت کا اعلا ترین مظاہرہ تھا لیکن اس نے جتنے اطمینان سے ان کی آنکھوں میں دھول جھونکی تھی، وہ ان کے لیے زیادہ اشتعال انگیز تھا۔
”اب غصہ ختم کر دیں پاپا! ہم دونوں بالکل محفوظ ہیں اور آرام سے سفر کر رہے ہیں۔” اس نے بالآخر سکندر سے کہا۔
”تم ظفر کو دھمکیاں دے کر گئے تھے کہ وہ مجھے انفارم نہ کرے؟”
”دھمکی… میں نے ایک مؤدبانہ درخواست کی تھی اس سے کہ وہ آپ کو فی الحال انفارم نہ کرے… آپ ڈنر چھوڑ کر خوامخواہ پریشان ہوتے۔” وہ بڑی رسانیت سے ان سے کہہ رہا تھا۔
”میری دعا ہے سالار! کہ تمہاری اولاد بالکل تمہارے جیسی ہو اور تمہیں اتنا ہو خوار کرے، جتنا تم ہمیں کرتے ہو، پھر تمہیں ماں باپ کی پریشانی کا احساس ہو گا۔” وہ ہنس پڑا۔
”پاپا! اس طرح کی باتیں کریں گے تو میں اولاد ہی پیدا نہیں کروں گا۔”
امامہ نے اس کے جملے پر چونک کر اسے دیکھا۔
”پاپا دعا کر رہے ہیں کہ ہماری اولاد جلد پیدا ہو۔”
امامہ کو چونکتے دیکھ کر سالار نے فون پر بات کرتے ہوئے اسے بتایا۔ وہ بے اختیار سرخ ہوئی لیکن اس کی سمجھ میں نہیں آیا کہ یہ اس طرح کی دعا کا کون سا وقت اور طریقہ ہے۔ دوسری طرف سکندر فون پر اس کا جملہ سن کر کچھ بے بسی سے ہنس پڑے تھے۔ ان کا غصہ کم ہونے لگا تھا۔ کئی سالوں کے بعد انہیں سالار سے اس طرح بات کرنا پڑی تھی۔ وہ اب اس سے پوچھ رہے تھے کہ وہ کہاں ہے۔ سکندر کو اپنے حدود اربعہ کے بارے میں بتا کر سالار نے فون بند کر دیا۔
”پاپا ناراض ہو رہے تھے…؟” امامہ نے سنجیدگی سے پوچھا۔
”خوش ہونے والی تو کوئی بات نہیں ہے۔” اس نے جواباً کہا۔
”تم جھوٹ کیوں بولتے ہو؟” امامہ نے جیسے اسے شرم دلانے کی کوشش کی تھی۔
”کیونکہ اگر میں سچ بولوں تو لوگ مجھے وہ نہیں کرنے دیتے، جو میں کرنا چاہتا ہوں۔” کمال کی منطق تھی اور بے حد سنجیدگی سے پیش کی گئی تھی۔
”چاہے تمہارے جھوٹ سے کسی کو دکھ پہنچے۔”
”میرے جھوٹ سے کسی کو دکھ نہیں پہنچاتا، بلکہ غصہ آتا ہے۔”
اسے سمجھانا بے کار تھا، وہ سالار تھا۔ وہ اب اندازہ لگا سکتی تھی کہ سکندر نے اسے فون پر کیا کہا ہو گا۔
رات کے تقریباً پچھلے پہر وہ اس سروس اسٹیشن پر پہنچے تھے۔
”یہ جگہ یاد ہے تمہیں؟” سالا رنے گاڑی روکتے ہوئے اس سے پوچھا۔ امامہ نے دھند زدہ اس جگہ کو دیکھا، جہاں کچھ لائٹس دھند اور اندھیرے کا مقابلہ کرنے میں مصروف تھیں۔
”نہیں۔” اس نے سالار سے کہا۔
”یہ وہ جگہ ہے جہاں تم نے رک کر نماز پڑھی تھی۔” وہ دروازہ کھولتے ہوئے نیچے اُتر آیا۔
امامہ نے قدرے حیران نظروں سے اس جگہ کو دوبارہ دیکھنا شروع کیا۔ اب وہ اسے کسی حد تک شناخت کر پا رہی تھی۔ وہ بھی دروازہ کھول کر اتر آئی۔ ایک کپکپی اس کے جسم میں دوڑی۔ وہ آج بھی ایک سویٹر اور چادر میں ملبوس تھی۔
وہ کمرا بدل چکا تھا، جہاں انہوں نے بیٹھ کر کبھی چائے پی تھی۔
”چائے اور چکن برگر۔” سالار نے کرسی پر بیٹھتے ہوئے اس آدمی سے کہا، جو جمائیاں لیتے ہوئے انہیں اندر لے کر آیا تھا اور اب آرڈر کے انتظار میں کھڑا تھا۔ امامہ اس کے آرڈر پر اسے دیکھ کر مسکرائی۔
”اب کھا لو گے؟” وہ جانتا تھا، اس کا اشارہ کس طرف تھا۔ وہ کچھ کہے بغیر مسکرا دیا۔
”لاسٹ ٹائم ہم وہاں بیٹھے تھے۔ تم نے وہاں نماز پڑھی تھی۔”
وہ ہاتھ کے اشارے سے اس کمرے کی مختلف اطراف اشارہ کرتے ہوئے کہہ رہا تھا۔ امامہ کو یاد نہیں تھا، کمرے میں جگہ جگہ ٹیبلز اور کرسیاں لگی ہوئی تھیں۔
فجر کی اذان میں ابھی بہت وقت تھا اور فی الحال اس جگہ پر کام کرنے والے چند آدمیوں کے علاوہ اور کوئی بھی نہیں تھا۔
اب اس جگہ پر چائے اور برگر اتنے برے نہیں تھے جتنے اس وقت تھے۔ پریزنٹیشن بھی بہت بہتر تھی، لیکن ان دونوں میں سے کوئی نہ ذائقے کو دیکھ رہا تھا نہ پریزنٹیشن کو۔ دونوں اپنے اپنے ماضی کو زندہ کر رہے تھے۔ یہ چند گھونٹ اور چند لقموں کی بات نہیں تھی، زندگی کی بات تھی جو نہ جانے ریل کی پٹڑیوں کی طرح کہاں کہاں سے گزر کر ایک اسٹیشن پر لے آئی تھی۔ وہ اس مقام پر کھڑے تھے، جہاں ان پٹڑیوں کا کانٹا بدلا تھا۔ دور قریب… ایک دوسرے میں مدغم … اور اب ایک دوسرے کے ساتھ۔
اس راستے پر کچھ نئی یادیں بنی تھیں۔ ان کی شادی کے بعد سڑک کے راستے ان کا پہلا سفر اور ان نئی یادوں نے پرانی یادوں کو دھندلانے کے عمل کا آغاز کر دیا تھا۔
ٹیبل پر بل کے پیسے رکھنے کے بعد وہ اٹھ کھڑا ہوا۔ امامہ نے بھی اس کی پیروی کی۔ سالار نے چلتے ہوئے اس کا ہاتھ اپنے دائیں ہاتھ میں پکڑ لیا۔ امامہ نے اس کا چہرہ دیکھا۔ اس کے چہرے پر ایک نرم سی مسکراہٹ آئی تھی۔
”امامہ! وہ پسٹل کہاں ہے؟”
وہ عمارت سے باہر آتے ہوئے اس کے سوال پر چونکی۔ اسے کیا یاد آیا تھا، وہ ہنس پڑی۔
”ابو کے پاس ہے۔” اس نے سالار سے کہا۔
”تم واقعی چلا سکتی تھیں؟” سالار نے پتا نہیں کیا یقین دہانی چاہی۔
”ہاں۔” امامہ نے سر ہلایا۔
”لیکن اس میں گولیاں نہیں تھیں۔” وہ اس کے اگلے جملے پر بے اختیار ٹھٹکا۔ ”میرے پاس بس پسٹل ہی تھا۔” وہ اطمینان سے کہہ رہی تھی۔
اس نے بے اختیار سانس لیا۔ اس کی آنکھوں میں دھول اس نے جھونکی تھی یا اللہ نے، وہ اندازہ نہیں کر سکا۔ اس پسٹل نے اسے جتنا شاک اور غصہ دلایا تھا اگر اسے اندازہ ہو جاتا کہ وہ بلٹس کے بغیر تھا تو سالار اس دن امامہ کو پولیس کے ہاتھوں ضرور اریسٹ کروا کر آتا۔ وہ پسٹل ہاتھ میں لیے کیوں اتنی پر اعتماد نظر آئی تھی اسے… یہ اسے اب سمجھ میں آیا تھا۔
”تم ڈر گئے تھے۔” امامہ ہنس رہی تھی۔
”نہیں… ڈرا تو نہیں تھا، مگر شاکڈ رہ گیا تھا۔ تم سارا راستہ روتی رہی تھیں۔ میں توقع بھی نہیں کر سکتا تھا کہ تم مجھ پر پسٹل نکال لو گی۔ تمہارے آنسوؤں نے دھوکا دیا مجھے۔”
وہ اب کچھ خفگی سے کہہ رہا تھا۔ امامہ کھلکھلا کر ہنسی۔
وہ دونوں اب گاڑی میں بیٹھ رہے تھے۔ بیٹھنے کے بعد بھی جب وہ گاڑی اسٹارٹ کرنے کے بجائے، ونڈ اسکرین سے باہر دیکھتا رہا تو امامہ نے اس سے کہا۔
”گاڑی کیوں نہیں اسٹارٹ کر رہے؟”
”مجھے کیوں یہ خیال نہیں آیا کہ تمہار اپسٹل خالی بھی ہو سکتا ہے… کیوں خیال نہیں آیا…؟” وہ جیسے بڑبڑاتا ہوا ایک بار پھر کراہا۔
”اب رونا مت۔” امامہ نے اسے چھیڑا۔” ویسے کیا کرتے تم، اگر تمہیں یہ پتا چل جاتا؟”
”میں سیدھا جا کر پولیس کے حوالے کرتا تمہیں۔” اس نے گاڑی اسٹارٹ کرتے ہوئے کہا۔
”تمہیں شرم نہ آتی؟” امامہ بگڑی۔
”تمہیں آئی تھی، جب تم نے مجھ پر پسٹل نکال لیا تھا، میں محسن تھا تمہارا۔” سالار نے بھی اسی انداز میں کہا۔
”محسن تھے… تم مجھے دھمکا رہے تھے۔”
”جو بھی تھا، کم از کم میں یہ ڈیزرو نہیں کرتا تھا کہ تم گن پوائنٹ پر رکھ لیتی مجھے۔”
لیکن میں نے تمہیں کوئی نقصان تو نہیں پہنچایا۔” امامہ نے مدافعانہ لہجے میں کہا۔
”تو میں نے کون سا نقصان پہنچایا تھا؟” گاری اب دوبارہ مین روڈ پر تھی۔
لاہور کی حدود میں داخل ہونے تک امامہ اس سے ایک بار پھر خفا ہو چکی تھی۔
٭٭٭٭
وہ اگلے دو تین دن تک اسلام آباد کے ٹرانس میں ہی رہی… وہ وہاں جانے سے جتنی خوف زدہ تھی اب وہ خوف یک دم کچھ ختم ہوتا ہوا محسوس ہو رہا تھا اور اس کا حتمی نتیجہ یہ نکلا تھا کہ وہ اب اسلام آباد کے اگلے دورے کی منتظر تھی۔ اس گیسٹ روم کی کھڑکی میں کھڑے سارا دن کس کو، کس وقت دیکھا تھا، وہ اگلے دو تین دن سالار کو بھی بتاتی رہی اور تیرے دن اس کی تان ایک جملے پر آکر ٹوٹی تھی۔
”سالار! ہم اسلام آباد میں نہیں رہ سکتے؟”
سالار بیڈ پر بیٹھا لیپ ٹاپ گود میں رکھے کچھ ای میلز کرنے میں مصروف تھا، جب امامہ نے اس سے پوچھا۔ وہ پچھلے آدھے گھنٹے سے اس سے صرف اسلام آباد کی ہی باتیں کر رہی تھی اور سالار بے حد تحمل سے اس کی باتیں سن رہا تھا اور اس کا جواب بھی دے رہا تھا۔
”نہیں۔” اپنے کام میں مصروف سالار نے کہا۔
”کیوں؟”
”کیونکہ میری جاب یہاں ہے۔”
”تم جاب بدل لو۔”
”نہیں بدل سکتا۔” وہ چند لمحے خاموش رہی پھر اس نے کہا۔
”میں اسلام آباد میں نہیں رہ سکتی؟”
اس بار سالار نے بالآخر اسکرین سے نظریں ہٹا کر اسے دیکھا۔
”اس بات کا کیا مطلب ہے؟” اس نے بے حد سنجیدگی سے اس سے پوچھا۔
”میرا مطلب ہے کہ میں وہاں رہ لوں گی تم ویک اینڈ پر آجایا کرنا۔”
ایک لمحہ کے لیے سالار کو لگا کہ وہ مذاق کر رہی ہے لیکن وہ مذاق نہیں تھا۔
”میں ہر ویک اینڈ پر اسلام آباد نہیں جا سکتا۔” اس نے بے حد تحمل سے اسے بتایا۔ وہ کچھ دیر خاموش رہی۔ سالار دوبارہ لیپ ٹاپ کی طرف متوجہ ہو گیا۔
”تو تم مہینے میں ایک دفعہ آجایا کرو۔”
وہ اس کے جملے سے زیادہ اس کے اطمینان پر ٹھٹکا تھا۔
”بعض دفعہ میں مہینے میں ایک بار بھی نہیں آ سکتا۔” اس نے کہا۔
”تو کوئی بات نہیں۔”
”یعنی تمہیں فرق نہیں پڑتا؟” وہ ای میلز کرنا بھول گیا تھا۔
”میں نے یہ تو نہیں کہا۔” امامہ نے بے ساختہ کہا۔ اسے اندازہ بھی نہیں تھا کہ وہ اس کے احساسات کو اتنی صفائی سے زبان دے گا۔
”پاپا اور ممی اکیلے ہوتے ہیں وہاں، اس …” سالار نے اس کی بات کاٹی۔
”وہ وہاں اکیلے نہیں ہوتے۔ عمار اور یسریٰ ہوتے ہیں ان کے پاس، وہ دونوں آج کل پاکستان سے باہر ہیں۔ دوسری بات یہ کہ پاپا اور ممی بڑی سوشل لائف گزار رہے ہیں۔ ان کو تمہاری سروسز کی اتنی ضرورت نہیں ہے جتنی مجھے ہے۔” سالار نے بے حد سنجیدگی سے اس سے کہا۔
وہ کچھ دیر خاموش اس کی گود میں پڑے لیپ ٹاپ کی اسکرین کو گھورتی رہی، پھر بڑبڑائی۔
”میں اسلام آباد میں خوش رہوں گی۔”
”یعنی میرے ساتھ خوش نہیں ہو؟” وہ جزبز ہوا۔
”وہاں زیادہ خوش رہوں گی۔” وہ اب بالآخر صاف صاف اپنی ترجیحات بتا رہی تھی۔
”پاپا ٹھیک کہتے تھے مجھے تمہیں اسلام آباد نہیں لے کر جانا چاہیے تھا۔ ماں باپ کی بات سننی چاہیے۔” وہ بے اختیار پچھتایا۔ ”دیکھو! اگر میں تمہیں اسلام آباد بھیج دیتا ہوں تو کتنی دیر رہ سکتی ہو تم وہاں، ہمیں اگلے سال پاکستان سے چلے جانا ہے۔” وہ اسے پیار سے سمجھانے کی ایک اور کوشس کر رہا تھا۔
”تو کوئی بات نہیں، تم پاکستان تو آیا کرو گے نا۔”
سالار کا دل خون ہوا۔ زندگی میں آج تک کسی نے اس کی ذات میں اتنی عدم دل چسپی نہیں دکھائی تھی۔
میں امریکا میں رہوں اور میری بیوی یہاں ہو، اتنا ابنارمل لائف اسٹائل نہیں رکھ سکتا میں۔”
اس نے اس بار دو ٹوک انداز میں کہا۔ وہ کچھ دیر چپ رہی پھر چند لمحوں کے بعد سالار نے اس کے کندھے پر بےحد محبت اور ہمدردی سے اپنا ہاتھ رکھا۔
”سالار! تم دوسری شادی کر لو اور دوسری بیوی کو ساتھ لے جانا۔”
اس بار جیسے اس کے حواس غائب ہوئے۔ اگر یہ مذاق تھا۔ تو بے ہودہ تھا اور اگر واقعی تجویز تھی تو بے حد سنگدلانہ تھی۔ وہ کئی لمحے بے یقینی سے اس کا چہرہ دیکھتا رہا۔ وہ شادی کے تیرے ہفتے اسے دوسری شادی کا مشورہ دے رہی تھی تاکہ وہ اپنے ماں باپ کے قریب رہ سکے۔
”سنو! میں تمہیں سمجھاتی ہوں۔” امامہ نے اس کے تاثرات سے کچھ نروس ہوتے ہوئے اس سے کچھ کہنے کی کوشش کی۔ سالار نے بڑی بے رخی سے اپنے کندھے سے اس کا ہاتھ جھٹکا۔
”خبردار! آئندہ میرے سامنے تم نے اسلام آباد کا نام بھی لیا اور اپنے احمقانہ مشورے اپنے پاس رکھو۔ اب میرا دماغ چاٹنا بند کرو اور سو جاؤ۔” وہ بری طرح بگڑا تھا۔
اپنا لیپ ٹاپ اٹھا کر وہ بے حد خفگی کے عالم میں بیڈ روم سے نکل گیا تھا۔ امامہ کی سمجھ میں نہیں آیا کہ اس میں اتنا ناراض ہونے والی کیا بات ہے۔ اس وقت اسے واقعی اندازہ نہیں ہو رہا تھا کہ اپنے ماں باپ کی محبت میں وہ کتنے احمقانہ انداز میں سوچنے لگی تھی۔
لائٹس آف کر کے اس نے کچھ دیر کے لیے سونے کی کوشش کی لیکن اسے نیند نہیں آئی۔ اسے بار بار اب سالار کا خیال آرہا تھا۔ چند لمحے لیٹے رہنے کے بعد وہ یک دم اٹھ کر کمرے سے نکل آئی۔ وہ لاؤنج کا ہیٹر آن کیے، قریب پڑے صوفے پر بیٹھا کام کر رہا تھا۔ دروازہ کھلنے کی آوازپر ٹھٹکا تھا۔
”اب کیا ہے؟” امامہ کو دکھتے ہی اس نے بےحد خفگی سے کہا۔
”کچھ نہیں، میں تمہیں دیکھنے آئی تھی۔” وہ اس کے سختی سے پوچھنے پر کچھ جزبز ہوئی۔
”کافی بنا دوں تمہیں؟” وہ مصالحانہ انداز میں بولی۔
”مجھے ضرورت ہو گی تو میں خود بنا لوں گا۔” وہ اسی انداز میں بولا۔
وہ اس کے قریب صوفے پر آکر بیٹھ گئی۔ کچھ کہے بغیر اس نے سالار کے بازو پر ہاتھ رکھتے ہوئے اس کے کندھے پر سر ٹکا دیا۔ یہ ندامت کا اظہار تھا۔ سالار نے کسی رد عمل کا اظہار نہیں کیا۔ اسے مکمل طور پر نظر انداز کرتے ہوئے وہ لیپ ٹاپ پر اپنا کام کرتا رہا لیکن یہ بڑا مشکل تھا۔ وہ اس کے کندھے پر سر ٹکائے اس کے اتنے قریب بیٹھی ہو اور وہ اسے نظر انداز کر دے… کر دیتا اگر صرف اس کی بیوی ہوتی… یہ ”امامہ ” تھی۔ لیپ ٹاپ کے کی بورڈ پر چلتی اس کی انگلیاں تھمنے لگیں، پھر ایک گہرا سانس لے کر وہ بڑبڑایا۔
”اب اس طرح بیٹھو گی تو میں کام کیسے کروں گا؟”
”تم مجھے جانے کا کہہ رہے ہو؟”امامہ نے برا مانا۔
”میں تمہیں جانے کا کہہ سکتا ہوں؟” اس نے اس کا سر چوما۔ ”بہت احمقانہ بات کہی تھی تم نے مجھے۔”
ایسے ہی کہا تھا، مجھے کیا پتا تھا تم اتنی بدتمیزی کرو گے میرے ساتھ؟” وہ ہکا بکا رہ گیا۔
”بد تمیزی… کیا بد تمیزی کی ہے میں نے…؟ تمہیں ایکسکیوز کرنا چاہیے جو کچھ تم نے مجھ سے کہا۔”
وہ سمجھا، وہ ندامت کا اظہار کر نے آئی ہے، لیکن یہاں تو معاملہ ہی الٹا تھا۔ امامہ نے بے حد خفگی سے اس کا کندھے سے اپنا سر اوپر اٹھاتے ہوئے اس سے کہا۔
”اب میں ایکسکیوز کیا کروں تم سے…؟
”سالار نے اس کی اٹھی ہوئی ٹھوڑی دیکھی۔ کیا مان تھا…؟ کیا غرور تھا…؟ جیسے وہ اس سے یہ تو کروا ہی نہیں سکتا۔
”ایکسکیوز کروں تم سے؟” خفا سی آنکھوں اور اٹھی ٹھوڑی کے ساتھ وہ پھر پوچھ رہی تھی۔
سالار نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے جھک کر اس کی ٹھوڑی کو چوما، یہ مان اسے ہی رکھنا تھا۔ وہ اس کا سر جھکا دیکھنے کا خواہش مند نہیں تھا۔
”نہیں، تم سے ایکسکیوز کروا کر کیا کروں گا میں۔” وہ بے حد نرمی سے اس کی ٹھوڑی کو دوبارہ چومتے ہوئے بولا۔
امامہ کے ہونٹوں پر بے اختیار مسکراہٹ آئی۔ کیا غرور تھا جو اس کی آنکھوں میں جھلکا تھا۔ ہاں، وہ کیسے اس سے یہ کہہ سکتا تھا۔ اس سے الگ ہوتے ہوئے اس نے سالار سے کہا۔
”اچھا، اب تم ایکسکیوز کرو مجھ سے ، کیونکہ تم نے بدتمیزی کی ہے۔”
وہ اب اطمینان سے مطالبہ کر رہی تھی، وہ مسکرا دیا۔ وہ معترف سے اعتراف چاہتی تھی۔
”آئی ایم سوری۔” سالار نے اس کا چہرہ دیکھتے ہوئے کہا۔
”کوئی بات نہیں، اب آئندہ تم یہ نہ کہنا کہ میں اسلام آباد کی بات نہ کروں۔” وہ بےحد فیاضانہ انداز میں اس کی معذرت قبول کرتے ہوئے بولی۔
سالار کے ہونٹوں پر بے اختیار مسکراہٹ پھیلی تو سارا مسئلہ اسلام آباد کا تھا۔ اسے شاید یہ خدشہ ہو گیا تھا کہ وہ دوبارہ اسے وہاں نہیں لے کر جائے گا اور وہ اسی خدشے کے تحت اس کے پاس آئی تھی۔ کیا اندازِ دلبری تھا، وہاں اس کے لیے کچھ نہیں تھا۔ جو بھی تھا، کسی کے طفیل تھا۔ وہ ہنس پڑا۔
”کیا ہوا؟” اس نے الجھ کر سالار کو دیکھا۔
”کچھ نہیں۔” سالار نے ذرا سا آگے جھکتے ہوئے بڑی نرمی اور محبت سے اسے اس طرح گلے لگا کر اس کا سر اور ماتھا چوما، جس طرح وہ روز آفس سے آنے کے بعد دروازے پر اسے دیکھ کر کرتا تھا۔
گڈ نائٹ۔” وہ اب اسے خدا حافظ کہہ رہا تھا۔
”گڈ نائٹ۔” وہ اپنی شال لپیٹتے ہوئے صوفے سے اٹھ کھڑی ہوئی۔
بیڈ روم کا دروازہ کھولتے ہوئے اس نے گردن موڑ کر سالار کو دیکھا، وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا۔ وہ الوداعیہ انداز میں مسکرادی، وہ بھی جواباً مسکرایا تھا۔ امامہ نے کمرے میں داخل ہو کر دروازہ بند کر دیا۔ وہ بہت دیر تک اس بند دروازے کو دیکھتا رہا۔
یہ عورت جس مرد کی زندگی میں بھی ہوتی، وہ خوش قسمت ہوتا لیکن وہ خوش قسمت نہیں تھا۔ ”خوش قسمتی” کی ضرورت کہاں رہ گئی تھی اسے!
٭٭٭٭
”حبیب صاحب کی بیوی نے کئی چکر لگائے میرے گھر کے … ہر بار کچھ نہ کچھ لے کر آتی تھیں آمنہ کے لیے۔
کہتی تھیں ہمیں جہیز نہیں چاہیے، بس آمنہ کا رشتہ دے دیں۔ کہتی کیا تھیں بلکہ منتیں کرتی تھیں… امامہ کے دفتر اپنے بیٹے کو بھی لے گئیں ایک دن … بیٹا بھی خود آیا ماں کے ساتھ ہمارے گھر … بچپن سے پلا بڑھا تھا میری نظروں کے سامنے…”
وہ صحن میں چار پائی پر بیٹھا سر جھکائے، سرخ اینٹوں کے فرش پر نظریں جمائے سعیدہ اماں کی گفت گو پچھلے آدھے گھنٹے سے اسی خاموشی کے ساتھ سن رہا تھا۔ اس کی خاموشی سعیدہ اماں کو بری طرح تپا رہی تھی۔ کم بخت نہ ہوں نہ ہاں، کچھ بولتا ہی نہیں۔ مجال ہے ایک بار ہی کہہ دے کہ آپ نے اپنی بچی کی شادی میرے ساتھ کر کے میری بڑی عزت افزائی کی یا یہی کہہ دے کہ بہت گنوں والی ہے آپ کی بچی۔ وہ باتوں کے دوران مسلسل کھول رہی تھیں۔
اتوار کا دن تھا اور وہ امامہ کے ساتھ صبح باقی کا سامان ٹھکانے لگانے آیا تھا۔ وہ الیکٹرونکس اور دوسرے سامان کو کچھ چیریٹی اداروں میں بھجوانے کا انتظام کر کے آیا تھا۔ امامہ نے اس پر اعتراض نہیں کیا تھا لیکن سعیدہ اماں کو ان دونوں نے یہ نہیں بتایا تھا کہ وہ سامان ان کے گھر نہیں، کہیں اور بھجوایا جا رہا ہے۔
سہ پہر ہو رہی تھی اور وہ ان تمام کاموں سے فارغ ہو کر وہیں دھوپ میں صحن میں بچھی ایک چار پائی پر بیٹھ گیا تھا۔ امامہ اندر کچن میں افطاری اور کھانے کی تیاری کر رہی تھی۔ انہیں آج افطاری وہی کرنی تھی۔
دھوپ کی وجہ سے سالار نے اپنا سویٹر اتار کر چارپائی کے ایک کونے پہ رکھ دیا تھا۔ جینز کی جیب میں رکھا ایک رومال نکال کر اس نے چہرے پر آئی ہلکی سی نمی کو پونچھا۔ یہ امامہ کے رشتے کی چوتھی داستان تھی، جو وہ سن رہا تھا۔
بیسن کو برتن میں گھولتے ہوئے امامہ نے صحن میں کھلنے والی کچن کی کھڑکی سے سالار کو دیکھا، اسے اس پر ترس آیا۔ وہ کچن میں سعیدہ اماں کی ساری گفت گو سن سکتی تھی اور وہ گفت گو کس حد تک ”قابل اعتراض” ہو رہی تھی، وہ اس کا اندازہ کر رہی تھی۔ تین دفعہ اس نے مختلف بہانوں سے سعیدہ اماں کو آکر ٹالنے کی کوشش کی، گفت گو کا موضوع بدلا لیکن جیسے ہی وہ کچن میں آتی، باہر صحن میں پھر وہی گفت گو شروع ہو جاتی۔
اونچا لمبا جوان۔ قد تم سے کچھ آدھ فٹ زیادہ ہی ہو گا۔”
حبیب صاحب کے بیٹے کا حلیہ بیان کرتے ہوئے سعیدہ اماں مبالغے کے آخری حدوں کو چھو رہی تھیں۔ سالار کا اپنا قد چھ فٹ دو انچ کے برابر تھا اور آدھ فٹ ہونے کا مطلب تقریباً پونے سات فٹ تھا، جو کم از کم لاہور میں پایا جانا ناممکن نہیں، تو مشکل ضرور تھا۔
”اماں! زیرہ نہیں مل رہا مجھے۔ ” امامہ نے کھڑکی سے جھانکتے ہوئے سعیدہ اماں کو کہا۔
اس کے علاوہ اب اور کوئی بھی چارہ نہیں تھا کہ وہ انہیں اندر بلا لیتی۔
”ارے بیٹا ! ادھر ہی ہے جدھر ہمیشہ ہوتا ہے۔ زیرے نے کہاں جانا ہے۔” سعیدہ اماں نے اٹھتے ہوئے کہا۔
امامہ نے زیرے کی ڈبیا کو سبزی کی ٹوکری میں ڈال دیا۔ تھوڑی دیر اس نے سعیدہ اماں کو زیرے کی تلاش میں مصروف رکھنا تھا، پھر بعد میں کچھ اور کام سونپ دیتی انہیں، وہ پلان کر رہی تھی۔
”مولوی صاحب سے دم والا پانی لا کر دو گی تمہیں… وہی پلانا… اس سے دل موم ہو گا اس کا۔”
سعیدہ اماں نے کچن میں داخل ہوتے ہوئے جو کچھ کہا، وہ نہ صرف امامہ نے، بلکہ باہر صحن میں بیٹھے سالار نے بھی سنا تھا۔
”کیوں… کیا ہوا…؟” امامہ نے چونک کر پوچھا۔ وہ آلو کاٹ کر بیسن میں ڈال رہی تھی۔
”کیسا پتھر دل ہے اس کا … مجال ہے کسی بھی بات میں ہاں میں ہاں ملائے۔” وہ دل گرفتہ ہو رہی تھیں۔
”اماں! اب آپ اس طرح کی باتیں کریں گی تو وہ کیسے ہاں میں ہاں ملائے گا۔ آپ نہ کیا کریں اس طرح کی باتیں، اسے برا لگتا ہو گا۔” امامہ نے دبی آواز میں سعیدہ اماں کو منع کیا۔
”کیوں نہ کروں، اسے بھی تو پتا چلے کوئی فالتو چیز نہیں تھی ہماری بچی… لاکھوں میں ایک، جسے ہم نے بیاہا ہے اس کے ساتھ … یہ زیرہ کہاں گیا…؟” سعیدہ اماں بات کرتے ہوئے ساتھ زیرے کی ڈبیا کی گمشدگی پر پریشان ہونے جلگیں۔
”میں نے آپ سے کہا ہے نا! اب وہ ٹھیک ہے میرے ساتھ۔” امامہ نے اماں کو سمجھایا۔
”تو بڑی صابر ہے بیٹا… میں جانتی نہیں ہوں کیا… بات تو کرتا نہیں میرے سامنے تجھ سے… بعد میں کیا کرتا ہو گا۔” سعیدہ اماں قائل نہیں ہوئی تھیں۔
صحن میں چار پائی پر بیٹھے سالار نے جوتے اتار دیے۔ سویٹر کو سر کے نیچے رکھتے ہوئے وہ چارپائی پر چت لیٹ گیا۔ اندر سے امامہ اور سعیدہ اماں کی باتوں کی آواز اب بھی آرہی تھی لیکن سالار نے ان آوازوں سے توجہ ہٹا لی۔ وہ سرخ اینٹوں کی دیوار پر چڑھی سبز پتوں والی بیلیں دیکھ رہا تھا۔ دھوپ اب کچھ ڈھلنے لگی تھی مگر اس میں اب بھی تمازت تھی۔ برابر کے کسی گھر کی چھت سے چند کبوتر اُڑ کر صحن کے اوپر سے گزرے۔ ان میں سے ایک کبوتر کچھ دیر کے لیے صحن کی دیوار پر بیٹھ گیا۔ ایک طویل عرصے کے بعد اس نے دھوپ میں ایسا سکون پایا تھا۔ دھوپ میں سکون نہیں تھا، زندگی میں سکون تھا۔ اس نے آنکھیں بند کیں۔ پھر چند لمحوں کے بعد چونک کر آنکھیں کھولیں۔ وہ بڑے غیر محسوس انداز میں اس کے سر کے نیچے ایک تکیہ رکھنے کی کوشش کر رہی تھی۔ اسے آنکھیں کھولتے دکھ کر اس نے کچھ معذرت خواہانہ انداز میں کہا۔
”گردن تھک جاتی اس طرح تمہاری۔” اس نے سالار کا سویٹر نکالتے ہوئے کہا۔
سالار نے کچھ کہے بغیر تکیہ سر کے نیچے لے لیا۔ وہ اس کا سویٹر تہہ کرتے ہوئے۔ اپنے بازو پر ڈالتے اندر چلی گئی۔ ایسی ناز برداری کا کہاں سوچا تھا اس نے… اور وہ ایسی ناز برداری چاہتا ہی کہاں تھا اس سے … ساتھ کی خواہش تھی وہ مل گیا تھا… کچھ اور ملتا نہ ملتا۔ اس نے دوبارہ آنکھیں بند کر لیں۔
”سو گیا ہے کیا؟” سعیدہ اماں نے کھڑکی سے اسے دیکھتے ہوئے اندر آتی امامہ سے پوچھا۔
”جی، سو رہا ہے۔
”اچھا، میں نے تو سوچا تھا ابھی اور تھوڑا سا سمجھاؤں گی اسے، یہ سو کیوں گیا؟” سعیدہ اماں کو مایوسی اور تشویش ایک ساتھ ہوئی تھی۔
”تھک گیا ہے اماں… آپ نے دیکھا تو ہے کتنا کام کیا ہے اس نے … مزدوروں کے ساتھ مل کر سامان اٹھوایا، کل بھی گھر میں کام کرواتا رہا ہے۔ آج کل بینک میں بھی بہت مصروف رہتا ہے۔” امامہ مدھم آواز میں اماں کو بتاتی گئی۔
اس نے کچن کی کھڑکی بند کر دی تھی۔ سالار کی نیند کتنی کچی تھی، اسے اندازہ تھا۔
”ہاں! لیکن… ” امامہ نے بے اختیار سعیدہ اماں کو آہستہ سے ٹوکا۔
”اماں! آہستہ بات کریں، وہ اٹھ جائے گا پھر۔”
”دیکھ، تجھے کتنا خیال ہے اس کا… اور ایک وہ ہے… ” سعیدہ اماں رنجیدہ ہوئیں۔
امامہ اب بری طرح پچھتا رہی تھی۔ سالار کے بارے میں وہ سعیدہ اماں سے اس طرح کی غیبت نہ کرتی تو سعیدہ اماں اسے ”قابل اعتبار”سمجھتیں۔ اب مسئلہ یہ ہو رہا تھا کہ سعیدہ اماں کو اس کی لاکھ یقین دہانیوں کے باوجود بیٹھے بٹھائے سالار کی پہلی بیوی کے حولے سے پتا نہیں کیا کیا خدشات ستاتے رہتے، انہیں جیسے یقین تھا کہ امامہ ان سے ضرور کچھ چھپانے لگی ہے۔ وہ سالار کے ساتھ اتنی خوش نہیں تھی، جتنا وہ ظاہر کرتی تھی، اور اس تاثر کی بنیادی وجہ سالار کی وہ مکمل خاموشی تھی، جو وہ سعیدہ اماں کی امامہ کے سلسلے میں کی جانے والی باتوں پر اختیار کرتا تھا۔ سالار کی خاموشی کی وجہ اس گفت گو کی نوعیت تھی، جو سعیدہ اماں اس سے کرتی تھیں۔
ایک چیز جو امامہ نے اس ساری صورتِ حال میں سیکھی تھی، وہ یہ تھی کہ اسے اپنے شوہر کے بارے میں، کسی دوسرے سے کوئی شکایت نہیں کرنی۔ اس کی زبان سے نکلے ہوئے کچھ لفظ اب اسی پر بہت بھاری پڑ رہے تھے۔
”بس افطار اور کھانے کے لیے یہی کچھ … میں نے کتنا سامان منگوایا ہے۔ بیٹا! دو چار کھانے تو تم بناؤ، میں نے کہا بھی تھا ساتھ والوں کی نبیلہ کو بلا لو۔” امامہ نے سعیدہ اماں کو ٹوکتے ہوئے کہا جو کچن میں کھانے کے سامان کو تیار ہوتا دیکھ کر چونکیں۔ وہاں مہمان داری کے کوئی انتظامات نظر نہیں آرہے تھے۔
”اماں! سالار نے منع کیا ہے۔ وہ نہیں کھاتا یہ چیزیں۔” امامہ نے چاول نکالتے ہوئے کہا۔
”پہلے اس کو کوئی پکا کر دینے والا نہیں تھا لیکن اب ہے نا۔”
”پکا کر دینے والا ہوتا تو تب بھی نہ کھاتا۔ اماں وہ کھانے پینے کا شوق نہیں ہے۔”
”کسی بھی چیز کا شوق نہیں ہے اسے؟”
”کسی بھی چیز…؟” وہ سوچ میں پڑ گئی۔
”اماں، جھینگے وغیرہ پسند ہیں اسے، لیکن اب اس وقت وہ تو نہیں کھلا سکتی نا میں اسے۔ آپ کو تو پتا ہے مجھے کتنی گھن آتی ہے اس طرح کی چیزوں سے۔” امامہ نے اماں کو بتایا۔
”لیکن اگر اسے پسند ہے تو بنا دیا کر بیٹا!” امامہ نے جواب میں کچھ نہیں کہا۔ ”ہاں” آسان نہیں تھی اور ”نہ کا مطلب سعیدہ اماں کا ایک لمبا لیکچر سننا تھا۔
٭٭٭٭
خون کہاں سے نکل رہا تھا، وہ اندازہ نہیں کر سکا، لیکن اس کے ہاتھوں پر خون لگا ہوا تھا۔ وہ ہتھیلیوں کو تکلیف اور خوف کے عالم میں دیکھ رہا تھا، پھر اس نے جھک کر اپنے سفید لباس کو دیکھا۔ اس کا لباس بے داغ تھا۔ پھر ہاتھوں پر لگا ہوا خون… اور جسم میں ہونے والی یہ تکلیف… وہ سمجھ نہیں پا رہا تھا۔ اس کی ہتھیلیوں سے خون کے چند قطرے اس کے سفید قمیص کے دامن پر گرے۔
سالار! عصر کا وقت جا رہا ہے، نماز پڑھ لو۔” وہ ہڑبڑا کر اٹھا تھا۔
امامہ اس کے پاس کھڑی اس کا کندھا ہلاتے ہوئے، اسے جگا رہی تھی۔
سالار نے چاروں طرف دیکھا، پھر اپنے دونوں ہاتھوں کو، اس کی ہتھیلیاں صاف تھیں۔ اس کا سانس بے ترتیب تھا، امامہ اس کا کندھا ہلا کر چلی گئی تھی۔ سالار اٹھ کر بیٹھ گیا۔ وہ خواب تھا، جو وہ دیکھ رہا تھا۔ چارپائی پر بیٹھے، اس نے خواب کو یاد کرتے ہوئے کچھ آیات کی تلاوت شروع کر دی۔ وہ بہت عرصے کے بعد کوئی ڈراؤنا خواب دیکھ رہا تھا۔ صحن کی دھوپ اب ڈھل چکی تھی۔ اس نے بے اختیار اپنی گھڑی پر وقت دیکھا، عصر کی جماعت کا وقت نکل چکا تھا اسے اب گھر میں ہی نماز پڑھنی تھی۔ اپنی جرابیں اتارتے ہوئے بھی وہ خواب کے بارے میں سوچ کر پریشان ہوتا رہا۔ امامہ تب تک اس کا سویٹر اور وضو کرنے کی اندر سے چپل لے آئی تھی۔
”طبیعت ٹھیک ہے تمہاری؟” اسے سویٹر دیتے ہوئے امامہ نے پہلی بار اس کے چہرے کو غور سے دیکھا۔ اس کا چہرہ اسے کچھ سرخ لگا تھا۔ اس نے سالار کی پیشانی پر ہاتھ رکھ کر اس کا ٹمپریچر چیک کیا۔
”بخار نہیں ہے، دھوپ میں سونے کی وجہ سے لگا ہو گا۔”
سالار نے سویٹر پہنتے ہوئے اس سے کہا۔ امامہ کو وہ کسی گہری سوچ میں لگا

 
Read More:  Aab e Hayat Novel by Umera Ahmed Read Online – Episode 28

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: