Aab e Hayat Novel by Umera Ahmed Read Online – Episode 12

0

آب حیات از عمیرہ احمد – قسط نمبر 12

–**–**–

 

وہ اس ہفتے پھر اسے اپنے ساتھ کراچی لے کر گیا۔لیکن اس بار رات کی فلائٹ سے واپس آگئے تھے وہ۔ پہلے کی طرح اس بار بھی وہ اسی ہوٹل میں رہے۔سالار آفس میں مصروف رہا جبکہ وہ انیتا کے ساتھ گھومتی پھرتی رہی۔ سالار سے اس کی دوبارہ ملاقات اسی طرح رات فلائٹ سے پہلے ہوئی تھی۔ وہ کچھ چپ تھی۔ سالار نے محسوس کیا لیکن اس کے ساتھ اس فلائٹ میں اس کے بنک کے کچھ غیر ملکی عہدیداران بھی سفر کر رہے تھے۔ امامہ سے اس کو بات کرنے کا موقع ایرپورٹ سے واپسی پر ملا۔ کار پارکنگ میں کھڑی اپنی گاڑی میں بیٹھتے ہی اس نے امامہ سے پہلا سوال یہی کیا۔
تم اتنی خاموش کیوں ہو؟
کس سے باتیں کروں؟ تم تو مصروف تھے۔ امامہ نے جواباً کہا۔
چلو اب بات کرو۔ سالار نے موضوع بدلتے ہوئے کہا۔
کیسا رہا آج کا دن؟
بس ٹھیک تھا۔
کہا گئی تھی آج تم؟
اس نے سالار کو ان تین جگہوں کے نام بتائے جہاں وہ انیتا کے ساتھ گئی تھی۔ مگر سالار کو اس کی باتوں میں پچھلی دفعہ کی طرح جوش نظر نہیں آیا۔
تمہاری پے کتنی ہے سالار؟ وہ چند لمحوں کے لیئے ٹھٹکا۔
وہ بےحد سنجیدہ تھی۔ وہ بے اختیار ہنس دیا۔
نو کمنٹس۔
میں سیریس ہوں۔
میں بھی سیریس ہوں۔ میں شوہر ہوں تمہارا لیکن بے وقوف نہیں۔
جس اپارٹمنٹ میں ہم رہ رہے ہیں وہ تمہارا ذاتی ہے؟
اگلے سوال نے سالار کو اور زیادہ حیران کیا۔
نہیں یہ رینٹڈ ہے۔ لیکن تم یہ سب کیوں پوچھ رہی ہو؟ اپنے جواب پر اسے امامہ کے چہرے پر مایوسی اتنی صاف نظر آئی کہ اب وہ بھی سنجیدہ ہوگیا۔
ایسے ہی پوچھ رہی تھی۔ میں سمجھی تمہارا اپنا ہوگا۔
میں سوچ رہی تھی کہ تم نے مجھے جو پیسے دیئے ہیں اس سے ہم کوئی پلاٹ خرید لیں۔
امامہ۔۔۔۔۔۔ کیا پرابلم ہے؟ سالار نے اس بار اس کے کندھوں کے گرد بازو ہھیلاتے ہوئے کہا۔
کوئی پرابلم نہیں۔ اپنا گھر تو بنانا چاہیئے نا ہمارا۔ وہ اب بھی سنجیدہ تھی۔
تم انیتا کا گھر دیکھ کر آئی ہو؟ ایک جھماکے کی طرح سالار کو خیال آیا تھا۔
ہاں۔ امامہ نے سر ہلایا۔ سالار نے گہرا سانس لیا۔ اس کا اندازہ ٹھیک نکلا۔
بہت اچھا گھر ہے نا اس کا؟ وہ اب سالار سے کہہ رہی تھی۔
ہاں بہت اچھا ہے۔ سالار نے ہاتھ ہٹاتے ہوئے کہا۔
تم نے سوئمنگ پول کی بوٹ دیکھی ہے؟
نہیں۔ میں نے کافی مہینوں پہلے ان کا گھر دیکھا تھا تب وہ انٹیریر نہیں ہوا تھا۔ ویسے سوئمنگ پول میں بوٹ کا کیا کام؟
اصلی والی نہیں ہے۔ چھوٹی سی ہے۔ لکڑی کی لگتی ہے لیکن کسی اور میٹیریل سے بنی ہے۔ اس پر ایک چھوٹی سی ونڈ مل ہے اور وہ ہوا سے اس سارے سوئمنگ پول میں حرکت کرتی رہتی ہے۔ وہ مسکراتے ہوئے اس کا چہرہ دیکھتا رہا۔ وہ اسے کشتی کی ایک ایک چیز بتا رہی تھی۔
انیتا نے بڑا ظلم کیا ہے مجھ پر۔ اس کے خاموش ہونے پر سالار نے کہا۔
کیوں؟ وہ چونکی۔
میری شادی کے تیسرے ہفتے میری بیوی کو اپنا گھر دکھا دیا۔
کہیں زمین خرید لیتے ہیں سالار۔ امامہ نے اس کی بات نظرانداز کی۔
امامہ! میرے پاس دو پلاٹ ہیں۔ پاپا نے دیئے ہیں۔اسلام آباد میں تو گھر بنانا اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہے۔ سالار نے اسے تسلی دی۔
کتنے بڑے پلاٹ ہیں؟ وہ ایک دم پرجوش ہوئی۔
دس دس مرلے کے ہیں۔
بس؟ کم ازکم ایک دو کنال تو ہونا چاہیئے۔ وہ ایک دم مایوس ہوئی۔
ہاں دس مرلے کم ہیں۔ دو کنال تو ہونا چاہیئے۔ سالار نے تائید کی۔
نہیں۔ دو نہ ہو۔ ایک بھی کافی ہے۔ اس میں ایک سبزیوں کا فارم بنائیں گے۔ جانور بھی رکھیں گے۔ ایک سمر ہاؤس بنائیں گے۔ اور ایک فش فارم بھی بنا لیں گے۔
سالار کو لگا امامہ کو جگہ اندازہ کرنے میں غلطی ہوئی تھی۔
ایک کنال میں یہ سب کچھ نہیں بن سکتا امامہ۔ اس نے مدھم آواز میں کہا۔ وہ چونکی۔
لیکن میں تو ایکڑ کی بات کر رہی تھی۔ وہ چند لمحے بھونچکا سا رہ گیا۔
اسلام آباد میں تمہیں ایکڑز میں زمین کہاں سے ملے گی؟ چند لمحوں بعد اس نے سنبھل کر کہا۔
اسلام آباد سے باہر تو مل سکتی ہے نا؟ امامہ سنجیدہ تھی۔
تم پھر گھر نہ کہو۔ یہ کہو کہ فارم ہاؤس بنانا چاہتی ہو تم۔
نہیں۔ فارم ہاؤس نہیں۔ ایک بڑی سی کھلی سی جگہ پر ایک چھوٹا سا گھر۔ جیسے کوئی وادی۔۔۔ اس طرح کی وادی میں گھر۔
پاپا کا بھی ایک فارم ہاؤس ہے۔ کبھی کبھار جاتے ہیں ھم لوگ۔ تمہیں بھی لے جاؤں گا وہاں۔ سالار نے اسے پھر ٹالا۔
میں فارم ہاؤس کی بات نہیں کر رہی، اصلی والے گھر کی بات کر رہی ہوں۔ امامہ اب بھی اپنی بات پہ اڑی ہوئی تھی۔
جس طرح کا میرا پروفیشن ہے امامہ اس میں فارم ہاؤسز یا شہر سے باہر رہائش رکھنا میں افورڈ نہیں کر سکتا۔ کم از کم جب تک میں کام کر رہا۔ اور بڑے شہروں میں بہت مشکل ہے ایکڑز میں گھر بنانا۔ یہ تمہارے ان رومینٹک ناولز میں ہوسکتا ہے لیکن ریئل لائف میں نہیں۔ جو چیز ممکن ہے اور پریکٹیکل ہے وہ یہ ہے کہ چند سالوں بعد کوئی لگژری فلیٹ لیا جائے۔ یا دو چار کنال کا کوئی گھر بنا لیا جائے اس سے زیادہ افورڈیبل نہیں۔ ہاں یہ ضرور کرسکتا ہوں کہ پانچ دس سال بعد اسلام آباد یا لاہور سے باہر کوئی فارم ہاؤس بنا لیا جائے۔ لیکن میں جانتا ہوں بیس یا تیس سال میں ہم دس یا بیس بار سے زیادہ وہاں جا نہیں پائیں گے وہ بھی چند دنوں کے لیئے۔ وہ ہمارے لیئے ایک سفید ہاتھی ثابت ہو گا۔ جس پر ہر ماہ ہمارے اخراجات ہوں گے۔
سالار کو اندازہ نہیں تھا کہ اس نے ضرورت سے کچھ زیادہ صاف گوئی کا مظاہرہ کیا تھا۔ امامہ کا رنگ کچھ پھیکا سا پڑ گیا تھا۔ وہ حقیقت تھی جو وہ اسے دکھا رہا تھا۔ سالار نے اسے دوبارہ بولتے نہیں دیکھا۔ سارا رستہ اس کی خاموشی سالار کو چھبتی رہی۔
اچھا تم گھر کا ایک اسکیچ بنا دو میں دیکھوں گا اگر فیزیبل ہوا تو بنایا جاسکتا ہے۔
یہ سونے سے پہلے سرسری انداز میں امامہ سے کہا تھا اور ایک سیکنڈ میں امامہ کے چہرے کا رنگ تبدیل ہوتے دیکھا۔ ایک چھوٹی سی بات اسے اتنا خوش کر دے گی اسے اندازہ نہیں تھا۔
سحری کے وقت جب وہ الارم کی آواز پر اٹھا تو وہ بستر میں نہیں تھی۔
تم آج پہلے اٹھ گئیں۔
وہ کچن میں کام کر رہی تھی جب سالار سحری کے لیے وہاں گیا۔ وہ جواب دینے کی بجائے مسکرائی۔ سالار کو حیرت ہوئی۔
آج اس نے سحری ختم کرنے میں بڑی عجلت دکھائی تھی اور کیوں دکھائی تھی یہ راز زیادہ دیر تک راز نہیں رہا تھا۔ کھانا ختم کرتے ہی وہ اپنا اسکیچ بک اٹھا لائی تھی۔
یہ میں نے سکیچ کرلیا ہے جس طرح کا گھر میں کہہ رہی تھی۔
سحری کرتے ہوئے سالار بری طرح چونکا تھا۔ وہ اپنی کسی ہدایت پر اتنا فوری عمل درآمد کی توقع نہیں کر رہا تھا۔ وہ اسکیچ بک اس کے سامنے کھولے بیٹھی تھی۔ ٹشو سے ہاتھ صاف کرتے ہوئے اسکیچ بک کو تھامے ہوئے سالار نے ایک نظر اس پر ڈالی اور دوسری اس گھر پر جو اسکیچ میں نظر آرہا تھا۔ گھر سے زیادہ اسے اسٹیٹ کہنا زیادہ بہتر تھا۔ اس نے ہر وہ چیز شامل کی تھی جس کا ذکر اس نے رات کو کیا تھا۔پہاڑوں کے دامن میں کھلے سبزے میں ایک چھوٹا گھر جس کے سامنے ایک جھیل تھی اور اس کے اردگرد چھوٹے چھوٹے سٹرکچرز تھے اور سمر ہاؤس۔ اس نے اپنے سٹرکچرز کو کلر بھی کیا ہوا تھا۔
اور یہ آگے بھی ہے۔ اس نے سالار کو سکیچ بک بند کرتے دیکھ کر جلدی سے اگلا صفحہ پلٹ دیا۔
وہ اس کے گھر کا یقیناً عقبی حصہ تھا۔ جہاں پر اصطبل اور پرندوں کی مختلف قسم کی رہائش گاہیں بنائی گئی تھی۔ اس میں وہ فش فارم بھی تھا جس کا وہ رات کو ذکر کر رہی تھی۔
تم رات کو سوئی نہیں۔ سکیچ بک بند کرتے سالار نے اس سے پوچھا۔
یہ سکیچز گھنٹوں کی محنت کے بغیر نہیں بن سکتے تھے۔ امامہ کو اس تبصرے نے جیسے مایوس کر دیا۔وہ سالار سے کچھ اور سننے کی توقع کر رہی تھی۔
اچھا ہے نا؟ اس نے سالار کے سوال کا جواب
دیئے بغیر کہا۔
کانٹا ہاتھ میں لیئے دیر تک وہ اس کا چہرہ دیکھتا رہا۔
بہت اچھا ہے۔ ایک لمبی سی خاموشی کے بعد کہے جانے والے اس جملے سے وہ کھل اٹھی۔ تمہارے دونوں پلاٹس بیچ کر ہم کسی جگہ پر ذرا بڑی جگہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ذرا بڑی جگہ؟ ایک ایکڑ کی بات کر رہی ہو کم از کم تم۔ اور زمین تو چلو کسی نہ کسی طرح ہاتھ آجائے گی لیکن اس گھر کی مینٹینینس کے اخراجات۔۔۔۔۔ویل۔۔۔ مجھے کم از کم کروڑ پتی ہو کر مرنا پڑے گا۔ اگر ارب پتی نہیں تو۔ سالار نے اس کی بات کاٹ کر کہا۔
امامہ نے بے حد خفگی سے سکیچ بک بند کر دی۔ ٹھیک ہے میں نہیں کروں گی اب گھر کی بات۔
وہ پلک جھپکتے ہی اٹھ کر سکیچ بک سمیت غائب ہوگئی۔
وہ کانٹا ہاتھ میں پکڑے بیٹھا رہ گیا۔ وہ ایک بہت مضحکہ خیز صورت حال کا سامنا کر رہا تھا۔ سالار سحری ختم کر کے بیڈروم میں آگیا۔ا مامہ صوفے پر سکیچ بک کھولے بیٹھی تھی۔ سالار کو دیکھ کر اس نے سکیچ بک بند کر کے سائیڈ ٹیبل پر رکھ دی۔
اگر تمہں فوری طور پہ گھر چاہئیے تو میں خرید دیتا ہوں تمہیں۔ اس نے بے حد سنجیدگی کے ساتھ اس کے پاس صوفے پر بیٹھتے ہوئے کہا۔
مجھے اس طرح کا گھر چاہیئے۔ اس نے پھر سکیچ بک اٹھا لی۔
ایک ایکڑ ہو یا نہ ہو لیکن ایسا ایک بنا دوں گا میں تمہیں۔ وعدہ۔ لیکن اب یہ ہوم مینیا کو اپنے سر سے اتارو۔
وہ امامہ کا کندھا تھپکتے ہوئے اٹھ گیا۔
وہ بے اختیار مطمئن ہو گئی۔ وعدے کا لفظ کافی تھا فی الحال اس کے لیے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ماہ رمضان کے باقی دن بھی اسی طرح گزرے تھے۔عید کے فوراً بعد سالار کا بنک کوئی نیا انویسٹمنٹ پلان لانچ کرنے والا تھا۔ اور وہ ان دنوں اسی سلسلے میں بہت مصروف رہا۔ امامہ کی مصروفیت کا دائرہ گھر سر شروع ہو کر گھر پہ ہی ختم ہوتا تھا۔ وہ اسے دن میں دو تین بار بنک سے چند منٹ کے لیے کال کر لیتا تھا۔
امامہ کا خیال تھا کہ وہ وقتی طور پر مصروف ہے اسے اندازہ نہیں تھا کہ وہ وقتی طور پہ اپنی مصروفیت کو حتی الامکان کم کیے ہوئے تھا۔
بازاروں میں عید کی تیاریوں کی وجہ سے رش بڑھتا جا رہا تھا۔ وہ اپنی مصروفیت کے باوجود اسے ہر رات ایک آدھ گھنٹے کے لیے باہر لے جایا کرتا تھا۔ وہ روزانہ رات کے اس ایک گھنٹے کا انتظار کرتی تھی۔
وہ عید سے دو دن قبل اسلام آباد آگئے تھے۔ کامران اور معیز اپنی فیملیز کے ساتھ پاکستان آئے ہوئے تھے۔وہ ان سے فون پر بات کر چکی تھی لیکن سالار کی بیوی کی حیثیت سے یہ ان کی پہلی ملاقات تھی۔ وہ سب اس سے بہت دوستانہ انداز سے ملے۔ وہ کون تھی وہ سب پہلے سے جانتے تھے۔ لہذا کسی نے کوئی سوال نہیں کیا۔
وہ سکندر عثمان کی وسیع و عریض سٹنگ ایریا میں بیٹھی، وہاں موجود تمام لوگوں کی گپ شپ سن رہی تھی۔ سالار کے تینوں بھائیوں کے سسرال اسلام آباد میں ہی تھی اور اس وقت موضوع گفتگو تینوں بھائیوں کی سسرال کی طرف سے آنے والے قیمتی تخائف تھے جو عید پر ان کے لیے بھیجے گئے تھے۔امامہ کو وہاں بیٹھے شدید احساس کمتری ہوا۔ اس کے اور سالار کے پاس وہاں کسی دوسرے سے کسی تحفے کی تفصیلات شیئر کرنے کے لیے کچھ نہ تھا ۔
اسلام آباد آنے سے پہلے ڈاکٹر سبط علی سعیدہ اماں اور ڈاکٹر فرقان کے علاوہ ان کی بیٹیوں نے بھی اس کے لیے کچھ کپڑے بھجوائے تھے۔ لیکن ان میں سے کوئی بھی چیز اس کے ماں باپ کے گھر سے نہیں آئی تھی۔ کچھ چیزوں کی کمی اس کی زندگی میں ہمیشہ رہنی تھی۔
تم نے کیا بنوایا ہے عید کے لیے؟ کامران کی بیوی زوہا نے اچانک پوچھا۔
میں نے؟ وہ گڑبڑائی۔
چند لمحوں کے لیے سب کی نظریں اس پر جم گئی۔
سالار نے کپڑے لے کر دیے ہے مجھے ۔ قمیص شلوار ہی ہے۔
امامہ کے لیے تو عید کے کپڑے میں نے بھی بنوائے ہیں ۔یہ پہلی عید ہے اس کی۔ تم عید پر تو میرے والے کپڑے ہی پہننا۔ طیبہ نے مداخلت کرتے ہوئے اسے بتایا۔
امامہ نے مسکرانے کی کوشش کی۔ وہ اس کے علاوہ اور کچھ نہیں کر سکتی تھی۔ اس کے کندھوں کے بوجھ میں کچھ اور اضافہ ہو گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تم صبح چل رہی ہو میرے ساتھ؟
سالار نائٹ ڈریس میں ملبوس چند لمحے پہلے واش روم سے نکلا تھا۔ پہلی دفعہ کی طرح اس بار بھی وہ اسی کھڑکی کے سامنے کھڑی تھی۔
ہاں۔ اس نے سالار کو دیکھے بغیر کہا۔
طبیعت ٹھیک ہے تمہاری؟ اپنے بیڈ پر بیٹھتے ہوئے اس نے غور سے امامہ کو دیکھا۔
ہاں۔ اس نے اسی انداز میں جواب دیا۔ سالار کمبل کھینچتے ہوئے بیڈ پر لیٹ گیا۔ امامہ نے پلٹ کر اسے دیکھا۔ وہ اپنے سیل پر الارم سیٹ کر رہا تھا۔ وہ سوچے سمجھے بغیر اس کی طرف آگئی۔ سالار نے چونک کر اسے دیکھا۔ وہ کچھ کہے بغیر اس کے قریب بیٹھ گئی۔ سیل فون سائڈ ٹیبل پر رکھتے ہوئے وہ حیران ہوا۔ وہ پریشان تھی اور یہ پوچھنے کے لیے اسے اب تصدیق کی ضرورت نہیں تھی۔ وہ پہلے کی طرح اب بھی اس کی اداسی کو اسلام آباد آنے کا نتیجہ ہی سمجھا تھا۔ لیٹے لیٹے سالار نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ وہ اس کے ہاتھ کی گرفت میں اپنے ہاتھ کو دیکھتی رہی۔ پھر اس نے نظریں اٹھا کر سالار کو دیکھا۔
تمہیں مجھ سے شادی نہیں کرنی چاہیئے تھی۔ وہ بھونچکا سا رہ گیا۔
پھر کس سے شادی کرنی چاہیئے تھی۔ وہ حیران ہوا۔
کسی سے بھی۔ میرے علاوہ کسی سے بھی۔
اچھا مشورہ ہے لیکن دیر سے ملا ہے۔ اس نے بات مذاق میں اڑانے کی کوشش کی۔ امامہ نے ہاتھ چھڑا دیا۔
تم پچھتا رہے ہو نا اب؟ وہ اٹھ کر بیٹھ گیا۔
میں کیوں پچھتاؤں گا۔ وہ اب سنجیدہ ہوگیا ۔
تمہیں پتہ ہوگا۔ اس نے اٹھنے کی کوشش کی لیکن سالار نے اسے روک دیا۔
نہیں مجھے نہیں پتا۔ تم بتادو۔ وہ واقعی حیرت زدہ تھا۔
تمہارا بھی دل چاہتا ہوگا کہ کوئی تمہیں بھی کپڑے دے۔۔تحائف دے اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ بات مکمل نہ کرسکی۔اس کی آواز پہلے بھرائی اور پھر آنسو ٹپکنے لگے۔
وہ ہکا بکا اس کا چہرہ دیکھ رہا تھا۔ جو بات اس کے وہم و گمان میں بھی نہ تھی وہ اس کے لیے احساس جرم بن رہی تھی۔
میرے خدایا۔۔۔ امامہ تم کیا کیا سوچتی رہتی ہو۔۔۔۔۔وہ واقعی ششدر تھا۔ وہ اپنی آنکھوں کو رگڑ کر صاف کرنے کی ناکام کوشش کر رہی تھی۔
بس تمہیں مجھ سے شادی نہیں کرنی چاہیئے تھی۔ وہ دلبرداشتہ تھی۔
بات تحفوں کی نہیں تھی بلکہ سبکی کی تھی جو لاؤنج میں بیٹھے ان لوگوں کے درمیان اس نے محسوس کی تھی۔
سالار نے جواب میں کچھ کہنے کی بجائے اسے گلے سے لگا کر تسلی دینے والے انداز میں تھپکا۔ اسے تسلی نہیں ہوئی اس نے اس کا ہاتھ ہٹایا اور اٹھ کر چلی گئی۔ آدھے گھنٹے تک واش روم میں آنسو بہانے کے بعد اس کے دل کا بوجھ تو ہلکا نہیں ہوا البتہ اس کے سر میں درد ہونے لگا تھا۔ کپڑے تبدیل کر کے جب واپس وہ کمرے میں آئی تو وہ کمرے کی لائٹ آن کیے ہوئے اسی طرح بیٹھا تھا۔ امامہ کو کچھ شرمندگی ہوئی۔ وہ اس سے کچھ نہ کہتی تو ٹھیک تھا۔ وہ اس سے نظریں ملائے بغیر بیڈ کی دوسری طرف آ کر لیٹ گئی۔ وہ بھی لائٹس آف کر کے لیٹ گیا۔ اس نے امامہ کو مخاطب نہیں کیا تھا۔ اور یہ اس کے لیے جیسے نعمت مترقبہ تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
امامہ بی بی آپ اتنی عقلمند نہیں جتنا میں آپ کو سمجھتا تھا۔ بہت ساری چیزیں ہیں جس میں آپ خاصی حماقت کا مظاہرہ کرتی ہیں۔
اگلی صبح گاؤں جاتے ہوئے ڈرائونگ کے دوران وہ بے حد سنجیدگی سے اسے کہہ رہا تھا۔ وہ سامنے سڑک کو دیکھتی رہی۔
کیا ہو جاتا ہے تمہیں بیٹھے بٹھائے۔ کیوں الٹی سیدھی باتیں سوچتی رہتی ہو؟
تم اب مجھ سے اس طرح کی باتیں کر کے مجھے اپ سیٹ کر رہے ہو۔ اس نے نہایت بیزاری سے کہا۔
میں بات کروں گا۔ اس نے جواباً اسے ڈانٹا تھا۔
مجھے سسرال کے کپڑوں اور تحائف میں دلچسپی نہیں ہے۔ تمہیں کیا لگتا ہے کیا میں عید پر سسرال سے آئے کپڑے پہنوں گا؟ ہاں البتہ تمہیں اگر اس بات کا دکھ ہے کہ تمہیں تحائف نہیں ملے تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہاں ہے مجھے دکھ۔۔۔پھر؟ امامہ نے بےحد خفگی سے اس کی بات کاٹی۔
تو پھر یہ ہے کہ میں تمہیں لے دیتا ہوں یہ سب کچھ، پہلے بھی لے کر دیے ہیں، سالار کا لہجہ کچھ نرم پڑا۔
تم یہ سب کچھ نہیں سمجھ سکتے۔ امامہ نے اسی انداز میں کہا۔
ہاں ہو سکتا ہے، لیکن تم بھی یہ بات سمجھ لو کہ کچھ چیزیں تم بدل نہیں سکتی تمہیں اسے قبول کرنا ہوگا۔
کیا تو ہے۔
تو پھر اتنا رونا کیوں۔
سب نے محسوس کیا ہوگا کہ میری فیملی نے۔۔۔۔۔ اس نے رنجیدہ ہوتے ہوئے بات ادھوری چھوڑ دی۔
تم سے کسی نے کچھ کہا؟
نہیں۔
تو پھر؟
کہا نہیں لیکن پھر بھی دل میں سوچا تو ہوگا نا۔
تم ان کے دلوں تک مت جاؤ جو میں کہہ رہا ہوں تم صرف وہ سنو۔ سالار نے اس کی بات کاٹ کر کہا۔ یہ بے معنی چیزیں ہیں، ایک نارمل ارینج میرج ہوتی تو بھی میں سسرال سے کوئی تحائف لینا پسند نہیں کرتا۔ جن رواجوں کو میں پسند نہیں کرتا ان کی وجہ سے کوئی حسرت اور پچھتاوے بھی نہیں مجھے۔
تم سے زیادہ کوئی قیمتی گفٹ ہو سکتا ہے میرے لیے؟ وہ جانتا تھا کہ وہ اس کی بات سے متاثر نہیں ہو رہی ہو گی۔ اس نے امامہ سے مزید کچھ نہ کہا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس وسیع و عریض کمپاؤنڈ اور اس کے اندر موجود چھوٹی بڑی عمارتوں نے چند لمحوں کے لیے امامہ کو حیران کردیا۔ اس نے سالار سے اس سکول اور دوسرے پراجیکٹس کے بارے میں سرسری تذکرہ سنا تھا لیکن اسے اندازہ نہیں تھا کہ یہ کام اتنا منظم ہو رہا ہے۔
کمپاؤنڈ میں آج صرف ڈسپنسری کھلی تھی۔ اور اس وقت بھی وہاں مریضوں کی ایک خاصی تعداد موجود تھی۔ یہ عید کی تعطیلات تھی۔
سالار کی گاڑی کو کمپاؤنڈ میں داخل ہوتے دیکھ کر کچھ دیر کے لیے کمپاؤنڈ میں ہلچل مچ گئی۔ کیئرٹیکر اسٹاف ایک دم الرٹ ہوگئے۔ وہاں کام کرنے والے اکثر افراد آج چھٹی پر تھے۔ اور جو وہاں موجود تھے انہوں نے کمپاؤنڈ کے آخری کونے میں انیکسی کے سامنے گاڑی رکنے کے بعد سالار کے ساتھ گاڑی سے نکلنے والی چادر میں ملبوس اس لڑکی کو دلچسپی سے دیکھا۔
انیکسی کا چوکیدار پہلا آدمی تھا جسے سالار نے اپنی بیوی سے متعارف کرتے ہوئے اپنی شادی کے بارے میں مطلع کیا تھا۔ اور وہ جانتا تھا جب تک وہ عمارت کے دوسرے حصوں تک جائے گا تب تک اس کی شادی کی خبر ہر طرف پھیل چکی ہوگی۔
انیکسی کے سامنے موجود لان سے گزرتے ہوئے امامہ نے بڑی دلچسپی سے اپنے قرب وجوار میں نظر اڑائی۔ بہت عرصہ بعد وہ ایسی کھلی فضا میں سانس لے رہی تھی کچھ دیر کے لیے اداسی کی ہر کیفیت کو اس نے غائب ہوتے محسوس کیا۔
ہم یہاں بیٹھ جاتے ہیں۔
انیکسی کے برآمدے میں پہنچتے ہی اس نے سالار سے کہا۔ جو چوکیدار سے دروازہ کھلوا رہا تھا۔
نہیں یہاں کچھ دیر بعد تمہیں سردی لگے گی۔ اندر لاؤنج میں بیٹھ کر بھی تمہیں یہ سب کچھ اسی طرح نظر آئے گا۔ فی الحال ذرا میں ڈسپنسری کا ایک راؤنڈ لوں گا تمہیں اگر یہاں بیٹھنا ہے تو بیٹھ جاؤ۔سالار نے اس سے کہا۔
نہیں۔ میں تمہارے ساتھ چلوں گی۔ اس نے فوراً کہا۔
کبھی ہم بھی یہاں رہنے کے لیے آئے گے۔ اس نے بے اختیار کہا۔
اچھا۔۔ امامہ کو لگا جیسے وہ اسے بہلا رہا ہے ۔۔۔۔دس منٹ بعد وہ اسے مرکزی عمارت اور اس سے منسلک دوسرے حصے دکھا رہا تھا۔ اور سٹاف کو کچھ ہدایات بھی دیتا جا رہا تھا۔
وہ سب لوگ کہہ رہے ہیں مٹھائی کھلائے جی۔چوکیدار نے سالار کو دوسرے لوگوں کی فرمائش سنا دی۔
چلیں۔۔۔۔آج افطار اور افطار ڈنر کا انتظام کرلیں۔ میں اکاؤنٹنٹ کو بتا دیتا ہوں۔ سالار نے مسکرا کر کہا۔
دو گھنٹے وہاں گزارنے کے بعد جب وہ اس کے ساتھ وہاں سے نکلی تو پہلی بار اپنے دل میں اس کے لیے عزت کے کچھ جذبات لیے ہوئے تھی۔
یہ سب کیوں کر رہے ہو تم؟ اس نے رستے میں اس سے پوچھا۔
اپنی بخشش کے لیے۔ جواب غیر متوقع تھا لیکن کہنے والا بھی تو سالار سکندر تھا۔
مجھے اندازہ نہیں تھا کہ تم اتنے رحمدل ہو۔ چند لمحے خاموش رہ کر امامہ نے اس سے کہا۔
نہیں۔ رحمدل نہیں ہوں نا ہی ترس کھا کہ کسی کے لیئے کچھ کر رہا ہوں۔ ذمہ داری سمجھ کے کر رہا ہوں۔ رحمدل ہوتا تو مسئلہ ہی کیا تھا۔ آخری جملہ اس نے جیسے بڑبڑاتے ہوئے کہا۔
کیسے شروع کیا یہ سب کچھ؟
وہ اسے فرقان سے اپنی ملاقات اور اس پراجیکٹ کے آغاز کے بارے میں بتانے لگا۔ وہ چپ چاپ سنتی رہی۔
اس کے خاموش ہونے پر اس نے جیسے سراہنے والے انداز میں کہا۔ بہت مشکل کام تھا۔
نہیں وہ لائف سٹائل بدلنا زیادہ مشکل تھا جو میرا تھا۔ وہ چند لمحے بول نہ سکی۔ اس کا اشارہ جس طرف تھا اسے یاد کرنا بہت تکلیف دہ تھا۔
ہر کوئی اس طرح کا کام نہیں کرسکتا۔ وہ مدھم آواز میں بولی۔
ھر کوئی کر سکتا ہے لیکن کرنا نہیں چاہتا۔ سروس آف ہیومینیٹی کسی کی چیک لسٹ پر نہیں ہوتی، میں خوش قسمت تھا کہ آگئی۔ وہ ہنسا۔۔۔۔۔
تم بہت بدل گئے ہو۔ امامہ نے اسے غور سے دیکھتے ہوئے کہا۔ وہ مسکرایا۔
زندگی بدل گئی تھی میں کیسے نہ بدلتا۔ نہ بدلتا تو سسرال سے آنے والے عید کے تحائف کے انتظار میں بیٹھا ہوتا۔ امامہ نے اس کے طنز کا برا نہیں مانا۔
میں مانتی ہوں کہ میں بہت ٹیپیکل ہوں۔ اس نے اعتراف کیا۔
ٹپیکل نہیں ہو، زندگی کو دیکھا نہیں ہے ابھی تم نے۔ وہ سنجیدہ ہوا۔
کم از کم یہ تو نہ کہو، مجھے زندگی نے بہت کچھ دکھایا اور سکھایا ہے۔ امامہ نے کچھ رنجیدگی سے اس کی بات کاٹی تھی۔
مثلاً کیا؟؟ سالار نے پوچھا۔
کیا نہیں سکھایا زندگی نے، گنوا نہیں سکتی میں۔ بہت سبق سکھائے ہیں زندگی نے مجھے۔
سبق سکھائے ہوں گے گُر نہیں۔
امامہ نے چونک کر اس کا چہرہ دیکھا۔ وہ عجیب سے انداز میں مسکرایا تھا۔ وہ سیدھی باتیں کبھی بھی نہیں کرتا تھا۔
اچھا لگ رہا ہوں کیا؟ سڑک پر نظریں جمائے ڈرائیو کرتے ہوئے وہ اس سے پوچھ رہا تھا۔
کیا؟ وہ اسے دیکھتے ہی بری طرح گڑبڑائی۔
تم مجھے دیکھ رہی ہو، اس لیے پوچھ رہا ہوں۔ امامہ نے حیرانی سے اس کا چہرہ دیکھا پھر بےاختیار ہنس پڑی۔ چند لمحوں کے لیے واقعی وہ اسے بے حد اچھا لگا تھا۔
-**********************
عید کے چاند کا اعلان عشاء سے کچھ پہلے ہوا تھا اور اس اعلان کے فوری بعد سکندر نے ان دونوں کو ایک گھنٹے کے اندر اندر اپنی شاپنگ مکمل کر کے واپس آنے کا کہا تھا۔
انہوں نے شاپنگ نہیں کی تھی بلکہ ایک ریسٹورنٹ سے ڈنر کیا۔ اس کے بعد مہندی لگوا کر اور چوڑیاں خرید کر واپس آگئی تھی۔ سالار کم از کم آج رات واقعی محتاط تھا۔ اور سکندر کی ہدایات کو نظرانداز نہیں کر رہا تھا۔ کیونکہ امامہ کے گھر میں مسلسل گاڑیوں کا آنا جانا لگا ہوا تھا۔ اور وہ لوگ بھی انہی مارکیٹس میں جاتے تھے جہاں سالار کی فیملی جاتی تھی۔
ساڑھے دس بجے کے قریب وہ گھر پہ تھے۔ اور اس وقت گھر میں کوئی موجود نہ تھا۔
سالار پچھلے دو گھنٹوں سے مختلف لوگوں کی فون کالز سن رہا تھا۔ یہ سلسلہ گھر آنے تک جاری تھا۔ امامہ بیزار ہونے لگی تھی۔
چلو کافی بناتے ہیں اور پھر فلم دیکھتے ہیں۔ سالار نے بلآخر اس کی بیزاری کو محسوس کرلیا تھا۔
میں ہاتھ دھو لوں؟ امامہ نے ہاتھوں پر لگی مہندی کو دیکھ کر کہا۔
نہیں۔ میں بناؤں گا کافی، تم بس میرے ساتھ کچن میں آجاؤ۔
تم بنا لوگے؟
بہت اچھی۔۔۔۔۔ اس نے سیل آف کرتے ہوئے ٹیبل پر رکھا۔
مہندی لگے ہوئے دونوں ہاتھ کچن کی ٹیبل پر کہنیاں ٹکائے وہ اسے کافی بناتے ہوئے دیکھتی رہی۔ کچن میں رکھے بلیک کرنٹ اور چاکلیٹ فج کیک کے دو ٹکڑے لیکر وہ کافی ٹرے میں رکھنے لگا تو امامہ نے کہا، کچھ فائدہ ہوا میرے کچن میں آنے کا؟
ہاں تم نے مجھے کمپنی دی، اس نے ٹرے اٹھا کر کچن سے باہر نکلتے ہوئے کہا۔
تم اکیلے بھی بنا سکتے تھے خوامخوا مجھے اپنے ساتھ لائے۔
تمہیں دیکھتے ہوئے زیادہ اچھی بنی ہے۔ وہ اس کی بات پر ہنسی۔
یہ بڑی چیپ بات ہے۔
اوہ ریئلی۔۔۔۔ وہ تمہارے رومینٹک ناولز میں بھی تو ہیرو ایسی ہی باتیں کرتا ہے۔
تم میری بکس کی بات کیوں کرتے ہو۔ وہ ایک دم بگڑی۔
اوکے۔۔۔۔ اوکے سوری۔ سالار نے ساتھ چلتے ہوئے ٹرے سے ایک ہاتھ ہٹا کر اس کے گرد ایک لمحے کے لیے حمائل کردیا۔
کونسی موویز لی تھی تم نے؟ بیڈروم میں آکر صوفے پر بیٹھتے ہوئے امامہ نے پوچھا۔
سالار نے مارکیٹ سے آتے ہوئے ایک مووی شاپ سے کچھ سی ڈیز لی تھی۔ سی ڈی پلیئر پر مووی لگاتے ہوئے سالار نے ان موویز کے نام دہرائے۔
ریموٹ پکڑے وہ کمبل اٹھا کر خود بھی صوفے پر آگیا اس کی اور اپنی ٹانگوں پر کمبل پھیلا کر اس نے کارنر ٹیبل پہ پڑا کافی کا مگ اٹھا کر امامہ کی طرف بڑھایا۔
تم پیو۔ پکڑنے کی ضرورت نہیں۔ اس نے امامہ کو مہندی والے ہاتھوں سے مگ پکڑنے سے روکا۔
سکرین پر فلم کے کریڈٹس چل رہے تھے۔ امامہ نے کافی کا گھونٹ لیا۔
کافی اچھی ہے۔ اس نے ستائشی انداز میں مسکرا کے سر ہلایا۔
تھینک یو۔ سالار نے دوسرے ہاتھ سے اپنا مگ اٹھایا۔
وہ اب سکرین کی طرف متوجہ تھا جہاں چارلی تھیرن نظر آرہی تھی۔ امامہ نے اس کا انہماک محسوس کیا تھا۔ وہ کچھ بے چین ہوئی۔ وہ اس ایکٹریس سے ناواقف تھی۔
یہ کون ہے؟ امامہ نے اپنا لہجہ حتی المقدور نارمل رکھتے ہوئے کہا۔
تم نہیں جانتی؟ سالار اب کانٹے کے ساتھ کیک کا پیس اس کے منہ میں ڈال رہا تھا۔
نہیں۔۔۔۔۔۔۔
چارلیز تھیرن ہے۔ میرے نزدیک دنیا کی سب سے خوبصورت عورت ہے۔ کیک امامہ کو کڑوا لگا تھا۔ وہ پورا سکرین کی طرف متوجہ تھا۔
خوبصورت ہے نا؟ کیک کھاتے ہوئے اس نے سکرین سے نظریں ہٹا کر امامہ کو دیکھا۔
ٹھیک ہے بس۔ اس نے سرد مہری سے کہا۔
مجھے تو خوبصورت لگتی ہے۔ سکرین پہ نظریں جمائے وہ بڑبڑایا۔
امامہ کی دلچسپی اب فلم سے ختم ہوگئی تھی۔
خوبصورت ہے لیکن بری ایکٹریس ہے۔ چند سین گزرنے کے بعد اس نے کہا۔
آسکر جیت چکی ہے۔ ابھی تک اس کی نظریں سکرین پر تھی۔ امامہ کو چارلیز اور بری لگی۔
مجھے اس کی ناک اچھی نہیں لگ رہی۔ چند لمحے مزید گزرنے پر امامہ نے کہا۔
ناک کون دیکھتا ہے۔ وہ اسی انداز میں بڑبڑایا۔ امامہ نے چونک کر اسے دیکھا۔ سالار سنجیدہ تھا۔
پھر؟؟
مجھے بال پسند ہیں اس کے۔ امامہ دوبارہ سکرین دیکھنے لگی۔
سالار کو بے اختیار ہنسی آئی۔ اس نے ہنستے ہوئے امامہ کو ساتھ لگایا۔
تم ذرا بھی ذہین نہیں ہو۔
کیا ہوا؟ امامہ کو اس کے ہنسنے کی وجہ سمجھ نہیں آئی۔
کچھ نہیں ہوا۔ مووی دیکھو۔ امامہ نے ریموٹ اٹھا کر سی ڈی پلیئر بند کردیا۔
کیا ہوا؟؟ وہ چونکا
فضول مووی ہے۔ بس تم مجھ سے باتیں کرو۔ امامہ نے جیسے اعلان کردیا۔
باتیں ہی تو کر رہا ہوں۔ مہندی خراب ہوئی ہو گی۔سالار نے اس کا ہاتھ دیکھتے ہوئے کہا۔
نہیں سوکھ گئی ہے۔ میں ہاتھ دھو کر آتی ہوں۔ وہ ریموٹ رکھ کر چلی گئی۔
چند منٹوں کے بعد جب وہ واپس آئی تو مووی دوبارہ آن تھی۔ امامہ کو آتے دیکھ کر اس نے مووی آف کردی۔ وہ اس کے پاس آکر بیٹھ گئی۔ کافی پیتے ہوئے سالار نے اس کے مہندی والے ہاتھ باری باری پکڑ کر دیکھے۔
تمہارے ہاتھوں پر مہندی بہت اچھی لگتی ہے۔اس کی ہتھیلی اور کلائی کے نقش و نگار پر انگلی پھیرتے ہوئے اس نے کہا۔ وہ بلاوجہ مسکرا دی۔
چوڑیاں کہاں ہیں۔ سالار کو یاد آیا۔
پہنوں؟ وہ پرجوش ہوئی۔
ہاں۔۔۔۔
وہ چوڑیاں پہن کر دوبارہ اس کے پاس آگئی۔ اس کی کلائی ایکدم سرخ چوڑیوں سے سج گئی۔ اپنی کلائیاں سالار کے سامنے کر کے اس نے اسے چوڑیاں دکھائی۔
پرفیکٹ۔ وہ نرمی سے مسکرایا۔ وہ اب اس کی چوڑیوں پر انگلی پھیر رہا تھا۔ معجزہ لگتا ہے یہ۔ چند لنحوں بعد گہری سانس لی کر کہا اس نے۔
اپنے بازو اس کے گرد حمائل کر کے اس نے امامہ کو خود سے قریب کیا۔ امامہ نے اس کے سینے پہ سر رکھ دیا۔ وہ اس شخص سے محبت نہیں کرتی تھی لیکن بار بار اس کی قربت میں ایسے ہی سکون اور تحفظ کا احساس ہوتا۔ وجہ وہ رشتہ تھا جو ان کے درمیان تھا یا کچھ اور۔
ایک بات مانو گی؟ سالار نے اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے ملائمت سے کہا۔
کیا؟ اس کے سینے پہ سر رکھے امامہ نے سر اونچا کر کے اسے دیکھا۔
وعدہ کرو پہلے۔
اوکے۔ امامہ نے بے اختیار وعدہ کرلیا۔
فلم دیکھنے دو مجھے۔ وہ بے حد خف ہوکر الگ ہوئی اس سے۔
میں دیکھنے کے لیے لیکر آیا ہوں امامہ۔
تم دوسری موویز بھی لیکر آئے ہو ان میں سے کوئی دیکھ لو۔
اوکے ٹھیک ہے۔ امامہ حیران ہوئی کہ وہ اتنی جلدی کیسے مان گیا۔ سی ڈی پلیئر میں مووی تبدیل کر کے وہ دوبارہ صوفے پر بیٹھ گیا۔
اب خوش؟ اس نے امامہ سے پوچھا۔
وہ مطمئن انداز میں مسکا کر دوبارہ اس کے قریب ہو گئی۔ اس کے سینے پہ سر ٹکائے اس نے فلم کے کریڈٹس دیکھے۔ وہ اسے بہت آہستہ آہستہ تھپک رہا تھا۔ امامہ کو نیند آگئی۔ اس کی آنکھ لگ جاتی اگر تیسرے سین میں اسے چارلیز تھیرن نظر نہ آتی۔
کچھ کہے بغیر اس نے سر اٹھا کر سالار کو دیکھا۔
آٰئی ایم سوری تینوں موویز اسی کی ہیں۔ اس نے ایک شرمندہ مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔
دیکھنے دو یار۔ اس نے جیسے التجا کی تھی۔
امامہ نے چند لمحے سکرین کو دیکھنے کے بعد کہا۔
تعریف نہیں کروگے تم اس کی۔
آئی پرامس۔ سالار نے بے ساختہ کہا۔
وہ خوبصورت نہیں ہے۔ امامہ نے جیسے اسے یاد دلایا۔
بالکل بھی نہیں۔ سالار نے تائید کی۔
اور بری ایکٹریس ہے۔
بے حد۔ امامہ کو تسلی ہوئی۔
اور تم اسے اس طرح اب کبھی نہیں دیکھو گے جیسے پہلے دیکھ رہے تھے۔ اس بار سالار ہنس پڑا۔
کس طرح دیکھتا ہوں میں؟
تم دیکھتے نہیں گھورتے ہو اسے۔
کون ایسا نہیں کرے گا وہ اتنی۔ سالار روانی میں کہتے کہتے رک گیا۔
کہہ دو نا کہ خوبصورت ہے۔ امامہ نے اس کی بات مکمل کرلی۔
میں تمہارے لیے اس کو بہن نہیں بنا سکتا۔
تو صرف ایکٹریس سمجھو اسے۔
ایکٹریس ہی تو سمجھ ریا ہوں یار۔۔۔۔۔۔چھوڑو۔۔۔۔۔۔میں نہیں دیکھتا۔۔۔۔۔۔۔۔ آدھی مووی تو ویسے ہی گزر گئی ہے۔۔۔سالار نے اس بار کچھ خفا ہوکر ریموٹ سے مووی آف کردی۔
امامہ بے حد مطمئن انداز میں صوفے سے اٹھ کر کھڑی ہوئی وہ اب صوفے سے چیزیں سمیٹ رہا تھا۔
کمبل لے آؤ گے نا تم؟ واش روم کی طرف جاتے ہوئے امامہ نے پوچھا۔
جی لے آؤں گا کوئی اور حکم ہو تو وہ بھی دیں۔
وہ کمبل اٹھاتے ہوئے خفگی سے بڑبڑایا۔

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: