Aab e Hayat Novel by Umera Ahmed Read Online – Episode 13

0

آب حیات از عمیرہ احمد – قسط نمبر 13

–**–**–

 

سکندر نے عید کے تحفے کے طور پہ ایک بریسلیٹ دیا تھا اسے اور سوائے سالار کے سب نے ہی اسے کچھ نہ کچھ دیا تھا۔ امامہ کا خیال تھا، وہ اس بار ضرور اسے زیور میں کوئی چیز تحفے میں دے گا۔ اسے لاشعوری طور پہ جیسے انتظار تھا کہ وہ اسے کچھ دے۔ اس نے اس بار بھی اسے کچھ رقم دی تھی۔ وہ کچھ مایوس ہوئی لیکن اس نے سالار سے کوئی شکایت نہیں کی۔
عید کی رات شہر کے نواح میں واقع سکندر عثمان کے فارم ہاؤس میں ایک بڑا فیملی ڈنر تھا۔ وہاں سالار کی بیوی کی حیثیت سے پہلی بار وہ متعارف ہوئی تھی۔اور طیبہ کے تیار کیے گئے سرخ لباس میں وہ بالکل نئی نویلی دلہن لگ رہی تھی۔ امامہ کو اب احساس ہوا تھا کہ سالار کا اسے اسلام آباد لانے اور اپنی شناخت نہ چھپانے کا فیصلہ ٹھیک تھا۔ اسے اس عزت و احترام کی اشد ضرورت تھی جو اسے وہاں ملی تھی۔
اوپن ایر میں باربی کیو کے دوران اپنی پلیٹ لیکر وہ کچھ دیر کے لیے فارم ہاؤس کے برآمدے میں لکڑیوں کی سیڑھیوں پہ بیٹھ گئی۔ باقی افراد ٹولیوں کی شکل میں سامنے کھلے سبزے میں ڈنر کرتے ہوئے مختلف سرگرمیوں میں مصروف تھے۔
تم یہاں کیوں آکر بیٹھ گئی؟ امامہ کے قریب آتے ہوئے اس نے دور سے کہا۔
ایسے ہی۔ شال لینے آئی تھی۔ پھر یہیں بیٹھ گئی۔ وہ مسکرائی۔ اس کے قریب بیٹھتے ہوئے سالار نے سوفٹ ڈرنک کا گلاس اپنی ٹانگوں کے درمیان نچلی سیڑھی پہ رکھا۔
امامہ لکڑی کے ستون سے ٹیک لگائے ایک گھٹنے پر کھانے کی پلیٹ ٹکائے کھانا کھاتے ہوئے دور لان میں سٹیج پر بیٹھے گکوکار کو دیکھ رہی تھی۔
سالار نے اس کا کانٹا اٹھا کر اس کی پلیٹ سے کباب کا ایک ٹکڑا اپنے منہ میں ڈالا۔ وہ اب گلوکار کی طرف متوجہ تھا جو اپنی غزل شروع کرچکا تھا۔
انجوائے کر رہی ہو؟ سالار نے اس سے پوچھا۔
ہاں۔ اس نے مسکرا کر کہا۔ وہ اب غزل سن رہی تھی۔
کسی کی آنکھ پرنم ہے محبت ہوگئی ہوگی۔
زباں پر قصہ غم ہے محبت ہوگئی ہوگی۔
وہ بھی سوفٹ ڈرنک پیتے ہوئے غزل سننے لگا۔
کبھی ہنسنا کبھی رونا کبھی ہنس ہنس کے رو دینا،
عجب دل کا یہ عالم ہے محبت ہوگئی ہوگی۔
اچھا گا رہا ہے۔۔امامہ نے ستائشی انداز میں کہا۔۔
سالار نے کچھ کہنے کی بجائے سر ہلا دیا۔
خوشی کا حد سے بڑھ جانا بھی اب اک بیقراری ہے
نہ غم ہونا بھی اک غم ہے محبت ہوگئی ہوگی۔۔۔
سالار سوفٹ ڈرنک پیتے ہوئے ہنس پڑا۔ امامہ نے اس کا چہرہ دیکھا۔ وہ شاید کہیں اور پہنچا ہوا تھا۔
تمہیں کچھ دینا چاہ رہا تھا میں نے۔
وہ جیکٹ کی جیب سے کچھ نکالنے کی کوشش کر رہا تھا۔
بہت دنوں سے دینا چاہتا تھا لیکن۔۔۔۔۔۔۔ وہ بات کرتے کرتے رک گیا۔
اس کے ہاتھ میں اک ڈبیا تھی۔ امامہ کے چہرے پہ بے اختیار مسکراہٹ آئی۔ تو بلآخر اسے اس کا خیال آ ہی گیا۔ اس نے ڈبیا لیتے ہوئے سوچا اور اسے کھولا۔ وہ ساکت رہ گئی۔ اندر ایر رنگز تھے۔ ان ایر رنگز سے تقریباً ملتے جلتے جو وہ اکثر پہنا کرتی تھی۔ اس نے نظریں اٹھا کر سالار کو دیکھا۔
میں جانتا ہوں یہ اتنے ویلیوایبل تو نہیں ہوں گے جتنے تمہارے فادر کے ہیں لیکن مجھے اچھا لگے گا اگر تم کبھی کبھار اسے بھی پہنو۔
ان ایر رنگز کو دیکھتے ہوئے اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔
تم نہیں پہننا چاہیتی تو بھی ٹھیک ہے۔ میں ریپلیس کرنے نہیں دے رہا۔ سالار نے اس کی آنکھوں میں نمودار ہوتی نمی کو دیکھ کر بے ساختہ کہا۔
کچھ کہنے کی بجائے امامہ نے اپنے دائیں کان میں لٹکتا جھمکا اتارا۔
میں پہنا سکتا ہوں؟
سالار نے ایک ایر رنگ نکالتے ہوئے کہا۔ امامہ نے سر ہلادیا۔ سالار نے باری باری اس کے کانوں میں ایر رنگز پہنا دیئے۔ وہ نم آنکھوں کے ساتھ مسکرا دی۔ وہ دیر تک مبہوت سا اسے دیکھتا رہا۔
اچھی لگ رہی ہو۔ مجھ سے زیادہ کوئی تم سے محبت نہیں کرسکتا، کوئی مجھ سے زیادہ تمہاری پرواہ نہیں کرسکتا۔ مجھ سے زیادہ خیال نہیں رکھ سکتا تمہارا۔ میرے پاس تمہارے علاوہ کوئی قیمتی چیز نہیں۔ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے وہ اسے کہہ رہا تھا۔ مجھے نوازا گیا ہے۔ سیدھا ہوتے ہوئے اس نے امامہ سے کہا۔
رومانس ہو رہا ہے؟ اپنے عقب میں آنے والی کامران کی آواز پہ وہ ٹھٹکے۔
کوشش کر رہے ہیں۔ سالار نے پلٹے بغیر کہا۔۔
گڈ لک۔۔۔۔۔۔ وہ کہتا ہوا اس کے پاس سے سیڑھیوں سے اترتے ہوئے انہیں دیکھے بغیر چلاگیا۔
امامہ کی رکی ہوئی سانس بحال ہوئی۔ وہ جھینپ گئی تھی۔ سالار اور اس کی فیملی کم از کم ان معاملات میں آزاد خیال تھے۔
لکڑی کی ان سیڑھیوں پر ایک دوسرے کے پاس بیٹھے وہ گلوکار کی سریلی آواز کو سن رہے تھے
زندگی کے وہ لمحے یاد بن رہے تھے۔
*********—*-*****—-*-*
لاہور واپسی پر عید ڈنر کا ایک لمبا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔ وہ امامہ کو اپنے سوشل اور بزنس سرکل میں متعارف کروا رہا تھا۔
عید کے چوتھے دن وہ اسے پہلی بار اپنے ہی بنک کی طرف سے دیے گئے عید کے ڈنر میں لیکر گیا تھا اور ایک بڑے ہوٹل میں ہونے والے اس ڈنر میں جاتے ہی امامہ کو پسینہ آنے لگا۔ گیدرنگ کا ایک بڑا حصہ غیر ملکی مردوں اور عورتوں پر مشتمل تھا۔ وہ فیملی ڈنر تھا۔کم از کم سالار اسے یہ ہی بتا کر اسے وہاں لایا تھا۔ لیکن وہاں آنے والی فیملیز کون تھی یہ اس نے نہیں بتایا تھا۔ چند لمحوں کے لیے اسے لگا جیسے وہ مس ورلڈ کے مقابلہ حسن میں آگئی ہو۔ وہاں موجود عورتیں بیس سے ساٹھ سال کی عمر تک کے درمیان تھی لیکن یہ طے کرنا زیادہ مشکل تھا کہ ان میں سے کون عمر کی کس سیڑھی پر ہے۔ سگریٹ پیتے ہوئے ہاتھ میں ڈرنکس لیے وہ گرمجوشی اور بے تکلفی کے ساتھ مختلف مردوں سے گلے ملتے ہوئے گفتگو میں مصروف تھیں۔ شیفون کے لباس پر دوپٹہ اوڑھے امامہ کو اپنا آپ الو باٹا لگا۔
وہاں کھڑے جیسے اس نے خود کو جانچنا شروع کیا تھا۔ اس نے پہلی بار سالار اور اپنے حلییے کا فرق بھی نوٹس کیا۔ ایک برانڈڈ سیاہ ڈنر سوٹ میں سرخ دھاری دھار ٹائی کے ساتھ وہ بالکل اس ماحول کا حصہ لگ رہا تھا۔ وہاں کھڑے اس پر یہ ہولناک انکشاف بھی ہوا کہ اس کا حلیہ سالار کی اس لک کے ساتھ بالکل میچ نہیں کر رہا۔ وہ اوڈ کپل تھے۔ اسے احساس کمتری کا دوسرا بڑا دورہ بڑے غلط وقت اور غلط جگہ پر پڑا تھا۔ وہ اس کا تعارف باری باری مختلف لوگوں سے کروا رہا تھا۔ اور امامہ اس پذیرائی اور گرمجوشی پر حیران تھی۔ جو اسے مل رہی تھی۔ پھر اسے ایکدم احساس ہوا اس کی وجہ بھی سالار تھا۔ یہ پروٹوکول مسز سالار سکندر کے لیے تھا۔ امامہ ہاشم کے لیے نہیں۔ یہ ٹیگ جس کے گلے میں لٹکا ہوتا، اسے یہ ہی پروٹوکول ملتا۔ چاہے اس کا حلیہ اس سے بھی بدتر ہوتا۔ اس کا احساس کمتری کا پارہ اوپر جا رہا تھا۔ سالار کے ساتھ کھڑےاسے اپنے ہی حلییے کی چند اور خواتین بھی بلآخر اس مجمع میں نظر آ ہی گئی۔ اور اسے کچھ حوصلہ ملا۔
ڈرنک پلیز! مشروبات کی ٹرے پکڑے ویٹر نے بالکل اس کے پاس آ کر کہا۔ وہ چونکی اور اس نے ٹرے پر نظر دوڑائی۔ وائن گلاس میں ایپل جوس تھا۔ اس نے ایک گلاس اٹھا لیا۔ اپنے سامنے کھڑے ایک غیر ملکی جوڑے سے باتیں کرتے ہوئے سالار نے بے حد غیر محسوس انداز میں امامہ کو دیکھے بنا اس کے ہاتھ سے گلاس لے لیا ۔وہ چونک اٹھی۔ ایک لمحے کے لیے اسے خیال آیا جیسے وہ خود پینا چاہتا ہو لیکن اس کا گلاس ہاتھ میں لیے اسی طرح وہ اس جوڑے سے باتیں کرتا رہا۔ ویٹر دائرے میں کھڑے تمام افراد کو سرو کرتا ہوا واپس سالار کے پاس آیا۔ سالار نے امامہ کا گلاس بے حد غیر محسوس انداز سے ٹرے میں واپس رکھتے ہوئے ویٹر سے کہا۔
سوفٹ ڈرنک پلیز۔
امامہ کچھ سمجھ نہیں پائی تھی۔ ٹرے میں رکھا اپنا گلاس اس نے دور جاتے دیکھا۔ پھر اس نے سالار کو دیکھا وہ اب بھی وہاں مصروف تھا۔ ویٹر چند لمحوں بعد ایک دوسری ٹرے لیے موجود تھا۔ اس بار اس کے گلاس اٹھانے سے پہلے ہی سالار نے ایک گلاس اٹھا کر اسے دیا اور دوسرا خود پکڑ لیا۔
اوہ ہیلو۔۔۔۔سالار۔۔۔۔۔۔۔ وہ چالیس پینتالیس سال کی ایک عورت تھی جس نے سالار کے قریب آتے ہوئے اس سے ہاتھ ملایا۔ اور پھر بے حد دوستانہ انداز میں بے تکلفی کے ساتھ اس کے بازو پہ ہاتھ رکھ لیا۔ وہ وہاں موجود دوسرے مردوں کی طرح عورتوں سے گلے نہیں مل ریا تھا۔ لیکن ان میں سے کچھ عورتوں سے ہاتھ ملا رہا تھا۔ امامہ کے لیے یہ ہضم کرنا بالکل مشکل ہو رہا تھا۔
مجھے کسی نے تمہاری بیوی کے بارے میں بتایا۔ یہ میرے لیے ایک بڑی خبر ہے۔ کب شادی کی تم نے؟ وہ عورت اب کہہ رہی تھی اس سے۔ سالار نے شائستگی سے امامہ کا تعارف کرایا۔
مسز لئیق نے اس سے ملتے ہوئے اسے ڈنر پر مدعو کیا۔ سالار نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کوئی دن طے کیے بغیر دعوت قبول کرلی۔ امامہ نے اپنے عقب میں کسی کو دیکھ کر سالار کو مسکراتے ہوئے دیکھا۔
ہائے رمشا۔۔۔۔
امامہ نے بےاختیار پلٹ کر دیکھا۔
اوہ ہائے۔۔۔۔ رمشا بھی مسکراتی ہوئی اس کے پاس آئی۔ سالار نے دونوں کا ایک دوسرے سے تعارف کرایا۔رمشا بڑی خوشدلی سے اس سے ملی۔
بڑی لکی ہیں آپ۔ اگر آپ اسے نہ ملتی تو اس بندے سے میں نے شادی کرلینی تھی۔ رمشا نے بڑی بے تکلفی سے امامہ سے کہا۔ بسکچھ دیر ہوگئی مجھے سالار سے ملنے میں۔ وہ بھی جواباً خوشدلی سے ہنسا تھا۔
ولیمہ کب ہے؟ وہ پوچھ رہی تھی۔
بیس تاریخ کو اسلام آباد میں۔ وہ سالار سے کہہ رہی تھی۔ امامہ نے اس بار سالار کو اسے ٹالتے نہیں دیکھا۔وہ اس کے ساتھ ملاقات طے کر رہا تھا۔ اس کے پاس آنے والی وہ پہلی لڑکی تھی جس کے ساتھ سالار کا رویہ کچھ زیادہ ہی بے تکلفی لیے ہوئے تھا۔ امامہ اس پر سے نظریں نہ ہٹا سکی۔
************************
کوئی بات کرو۔ واپسی پر سالار نے اس کی خاموشی محسوس کر کے کہا۔
کیا بات کروں۔؟
کوئی بھی۔ وہ پھر خاموش ہوگئی۔
عجیب لوگ تھے سارے۔ کچھ دیر بعد سالار نے اسے بڑبڑاتے ہوئے سنا۔ وہ چونک کر اس کی طرف متوجہ ہوا۔
عجیب کیوں؟
تمہیں عورتیں اس طرح کی لباس میں یہ سب کرتی اچھی لگتی ہے؟ اس نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے اس سے پوچھا۔
تم نے وہ پہنا جو تمہیں اچھا لگا۔ انہوں نے بھی وہ پہنا جو ان کو اچھا لگا۔ اس نے بے یقینی سے سالار کو دیکھا۔ کم از کم وہ اس سے ایسے جواب کی توقع نہیں کر رہی تھی۔
تمہیں کچھ برا نہیں لگا؟
میرے لیے وہ سب ریسپیکٹ ایبل لوگ تھے۔ کچھ میرے کلائنٹس تھے اور کچھ کو میں ویسے ہی جانتا ہوں۔
تمہیں برا کیوں لگے گا سالار تم مرد ہو۔ تمہیں تو بہت اچھا لگے گا اگر تمہیں عورتیں اس طرح کے کپڑوں میں نظر آئیں گی۔ بات کرتے ہوئے اسے اندازہ نہیں ہوا کہ اس کا لہجہ کتنا سخت تھا۔ سالار کا چہرہ سرخ ہو گیا۔
میں ایسی گیدرنگز میں مرد بن کر نہیں جاتا مہمان بن کر جاتا ہوں۔ مجھے اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ کس نے کیا پہنا ہے۔ میرے لیے ہر عورت بغیر اپنے پہناوے کے قابل احترام ہے۔ میں لباس کی بنا پر کسی کا کردار نہیں جانتا۔ اگر تمہارا خیال ہے کہ تم نے دوپٹا لیا ہوا ہے تو تم قابل عزت ہو۔ اور وہ عورت جو ایک قابل اعتراض لباس پہنے ہوئے ہے وہ عزت کے قابل نہیں۔ تو تم بالکل غلط ہو۔ وہ بول نہ سکی۔ سالار کے لہجے میں پہلی بار اس نے ترشی محسوس کی۔
تمہیں کیسا لگے گا اگر کوئی تمہارے پردے کی وجہ سے تمہارے بارے میں یہ ہی بات کہے۔ جیسی تم ان کے بارے میں کہہ رہی ہو۔
تم ان کی حمایت کیوں کر رہے ہو۔ وہ جھنجھلائی۔
میں کسی کی حمایت نہیں کر رہا صرف یہ کہہ رہا ہوں کہ دوسرے لوگ کیا کرتے ہیں اور کیا نہیں یہ ہمارا مسئلہ نہیں۔۔۔۔۔۔۔
تمہیں یہ سب پسند ہے؟ وہ اس کے سوال پر ہنسا تھا۔
یہ ایشو نہیں ہے مجھے یہ سب اپنی زندگی کے لیے پسند نہیں ہے لیکن مجھے ایسے ڈنر میں اس لیے جانا پڑتا ہے کیونکہ مجھے اپنی جاب کی وجہ سے کسی حد تک سوشل رہنا ہے۔
ایک بات پوچھوں؟ سالار نے کچھ حیرانی سے اسے دیکھا۔ لیکن کچھ کہا نہیں۔
اگر میں تمہاری زندگی میں نہیں آتی تو تم اس طرح کی لڑکیوں سے شادی کرلیتے جو آج وہاں تھی؟
وہ رمشا کا نام لینا چاہتی تھی لیکن اس نے نہیں لیا۔
تمہارا مطلب ہے کہ میں پردہ کرنے والی اور پردہ نہ کرنے والی میں سے کس سے شادی کرتا؟ سالار نے براہ راست سوال کر دیا۔
وہ اس کا چہرہ دیکھتی رہی وہ واقعی یہ ہی پوچھنا چاہتی تھی۔
آنیسٹلی میں تمہیں ایک بات بتاؤں۔ میں کسی عورت کا صرف پردہ دیکھ کر اس سے شادی نہ کرتا۔ کسی عورت کا پردہ کرنا نہ کرنا میرے لیے اتنا اہم نہیں جتنا اس میں کچھ دوسری خوبیوں کا ہونا۔ اسے آج شاک پہ شاک لگ رہے تھے۔ اگر ایک عورت اللہ کے احکامات پہ عمل کرتی ہیں سر اور جسم چھپاتی ہے۔
لیکن میں اس ایک چیز کے علاوہ بھی اس عورت میں کچھ اور خوبیاں چاہتا جس سے میں نے شادی کرنی ہوتی۔
کیسی خوبیاں؟ اسے تجسس ہوا۔
صبر و برداشت اور اطاعت۔ وہ اس کا چہرہ دیکھ کر رہ گئی۔
یہ دونوں نادر کوالٹیز ہیں۔ باقی سب کچھ ہوتا ہے لڑکیوں میں۔ ڈگریز، اوور لک اور مینرزم اور پردہ بھی۔ لیکن یہ دو کوالٹیز ناپید ہوتی جا رہی ہے۔ اگر اسے کوئی زعم تھا تو ختم ہوگیا تھا۔
میں کیوں اچھی لگی تمہیں؟ اس نے بلآخر سالار سے پوچھ ہی لیا۔ خالی پردہ تمہیں امپریس نہیں کرتا۔تحمل اور اطاعت تو کبھی دکھائی نہیں میں نے۔ پھر؟
پتہ نہیں۔ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب مجھے کبھی نہیں ملا۔ تمہیں ناپسند کرنے کے کئی جواز بتا سکتا ہوں۔ لیکن پسند کرنے کے لیے میرے پاس کوئی جواز نہیں۔ وہ گاڑی ڈرائیو کرتے ہوئے کہہ رہا تھا۔
پہلے تم مجھے intrigue کرتی تھی۔ پھر تم مجھے ایریٹیٹ کرنے لگی اس کے بعد تم مجھے haunt کرنے لگی۔ پھر میں تم سے جیلس ہونے لگا۔ پھر حسد کرنے لگا اور پھر محبت۔ وہ قدرے بے بسی سے ہنسا۔
ان ساری سٹیجز میں صرف ایک چیز کامن تھی۔ میں تمہیں کبھی بھی اپنے ذہن سے نہیں نکال سکا۔ مجھے تمہارا خیال آتا تھا اور آتا ہے۔ اور بس میرا دل تمہاری طرف کھنچتا تھا۔ خوار جو کرنا تھا اللہ نے مجھے میری اوقات بتا کر۔ بس اور کوئی بات نہیں تھی۔ اس لیے یہ تو کبھی پوچھو ہی مت کہ کیوں اچھی لگی تم مجھے۔ وہ محبت سے زیادہ بے بسی کا اظہار تھا۔
اور اگر یہ سب نہ ہوا ہوتا تو پھر تم میرے بجائے کسی اور لڑکی سے شادی کر لیتے۔ مثلاً رمشا سے۔۔۔
سالار نے چونک کر اسے دیکھا اور پھر ہنس دیا۔۔۔
تو یہ سوال رمشا کی وجہ سے ہو رہے تھے۔ یو آر سلی۔
تمہیں پسند ہے نا وہ؟ وہ اس کی ہنسی کو نظرانداز کر کہ سنجیدہ ہی رہی۔
ایک دوست اور کولیگ کے طور پر۔ سالار نے کہا۔
امامہ نے کچھ نہیں کہا۔ سالار کو لگا جیسے وہ گہری سوچ میں ہے۔
کیا ہوا؟ سالار نے اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔
کچھ نہیں۔ تمہارے ساتھ کھڑی اچھی لگی تھی وہ مجھے اور پھر۔۔۔۔۔۔۔۔،،،
بعض دفعہ ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے بہت سے لوگ اچھے لگتے ہیں حتی کہ دو دشمن بھی ساتھ ساتھ کھڑے اچھے لگتے ہیں۔ اس سے کیا ہوتا ہے۔ سالار نے اس کی بات کاٹی۔
کچھ نہیں، ایسے ہی خیال آیا تھا۔
میں تمہارے ساتھ بہت خوش ہوں امامہ! یہ میری زندگی کا سب سے اچھا وقت ہے۔ فی الحال دنیا میں ایسی کوئی شے نہیں جس کی مجھے کمی محسوس ہو رہی ہو۔ اس لیے تم اپنے اندازوں اور خیالوں سے باہر آؤ۔ ڈنر میں جاؤ، کھانا کھاؤ، لوگوں سے گپ شپ کرو اینڈ دیٹس اٹ۔۔۔ اس دنیا کو اپنے ساتھ گھر لیکر مت آؤ۔
اس رات ناول پڑھتے ہوئے وہ سالار کیساتھ ہونے والی گفتگو کے بارے میں سوچ رہی تھی۔ وہ اپنے لیپ ٹاپ پر کچھ کام کر رہا تھا۔ ناول سے نظریں ہٹا کر وہ سالار کو دیکھنے لگی۔ وہ اپنے کام میں منہمک تھا۔
سالار ۔ اس نے کچھ دیر بعد اسے مخاطب کیا۔
ہاں! اسی طرح کام کرتے ہوئے اس نے کہا۔
تم اچھے انسان ہو ویسے۔ اس کی تعریف کرتے ہوئے وہ عجیب سی شرمندگی محسوس کر رہی تھی۔
اچھا۔۔۔ وہ اسی طرح مصروف تھا۔ امامہ کو لگا اس نے اس کی بات غور سے نہیں سنی۔ میں نے تمہاری تعریف کی ہے۔ اس نے دہرایا۔
بہت شکریہ۔ اس کا لہجہ اب بھی اتنا ہی سرسری تھا۔
تمہیں خوشی نہیں ہوئی؟ اس کا اتنا نارمل رہنا ہی۔امامہ کو ہضم نہیں ہوا تھا۔
کس چیز سے؟ وہ چونکا۔
میں نے تمہاری تعریف کی۔
اور میں نے تمہارا شکریہ ادا کردیا۔
لیکن تمہیں اچھا نہیں لگا؟ وہ کچھ متجسس تھی۔
کیا اچھا لگتا مجھے؟ میری باتیں سن کر مجھے اچھا آدمی کہہ رہی ہو۔ عمل دیکھ کر کہتی، تب خوشی ہوتی مجھے۔ اور فی الحال میں ایسا کوئی عمل تمہیں پیش نہیں کرسکتا۔ امامہ بول نہ سکی۔ وہ پھر اپنے لیپ ٹاپ کی طرف متوجہ تھا۔ وہ کچھ دیر چپ چاپ اس کا چہرہ دیکھتی رہی اور پھر کہا۔
تم نے میرے ہاتھ سے وہ ڈرنک کیوں لی تھی؟ اسے اچانک یاد آیا تھا۔
کیونکہ میں نہیں چاہتا تھا کہ تم مجھے شوٹ کر دو۔وہ اس کے بے تکے جواب پر حیران ہوئی۔
یہ کیا بات ہوئی؟
شراب تھی وہ۔ وہ ہل نہ سکی۔
سوری! سالار نے اسکرین سے نظریں ہٹاتے ہوئے اس سے معذرت کی۔ امامہ کا رنگ اڑ گیا تھا۔
ان پارٹیز میں ہارڈ ڈرنک بھی ہوتی ہے۔ سوشل ڈرنک سمجھی جاتی ہے وہاں۔ وہ سنجیدگی سے اسے بتاتے ہوئے دوبارہ اسکرین کی طرف متوجہ ہوا۔
امامہ کا دل یکدم جیسے ہر چیز سے اچاٹ ہوگیا تھا۔اس نے زندگی میں پہلی بار شراب دیکھی تھی اور شراب ہاتھ میں لی تھی۔ اگر وہ سالار کے ساتھ کھڑی نہ ہوتی تو شاید پی بھی لیتی۔ اس کا شوہر ان پارٹیز میں جانے کا عادی تھا۔ا ور وہ وہاں کس حد تک اجتناب کر پاتا تھا۔ کرتا بھی تھا یا نہیں۔۔۔ اس کا اعتماد پھر تڑخنے لگا۔
وہ چند ہفتوں میں کسی کا کردار نہیں جانچ سکتی تھی۔ وہ بھی تب جب وہ اسے شادی کے اس پہلے مہینے میں مکمل طور پر متاثر کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
چند لمحے پہلے دل میں سالار کے لیے نمودار ہونے والا احترام سیکنڈز میں غائب ہوا تھا۔
وہ جس شیشے سے اسے دیکھ رہی تھی۔ وہ پھر دھندلا گیا۔ اس کی سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ سالار سے اگلا جملہ کیا کہے وہ اپنی ای میلز کی طرف متوجہ ہوچکا تھا۔ وہ اٹھ کر کمرے سے باہر نکل آٰئی۔دوسرے بیڈروم کے واش روم میں آکر وہ بے مقصد اپنا دایاں ہاتھ رگڑ رگڑ کر دھوتی رہی۔ وہ احمقانہ حرکت تھی لیکن اس وقت وہ اپنی ڈپریشن ختم کرنے لے لیے اور کچھ نہیں کرسکتی تھی۔ وہ بے مقصد گھر کے ہر کمرے میں پھرتی رہی نیند اس کی آنکھوں سے مکمل غائب ہوچکی تھی۔
اللہ سکون کے آسمان کو اندیشوں کی زمین کے بغیر کیوں نہیں کھڑا کرتا۔ اس نے سوچا۔ وہ تاریکی اور سردی میں کتنی ہی دیر ٹیرس کی ریلنگ کے پاس کھڑی رہی وقت کا احساس ہی نہیں ہوا۔
تم کیا کر رہی ہو یہاں؟ اپنے عقب میں سالار کی آواز نے اس کی سوچوں کے تسلسل کو توڑا۔ وہ کمرے سے اس کی طویل عدم موجودگی کی بنا پر اسے ڈھونڈتا ہوا یہاں آگیا تھا۔
میں۔۔۔۔ امامہ نے چونک کر پلٹ کر اسے دیکھا۔ میں نیچے دیکھ رہی تھی۔
نیچے کیا ہے؟ سالار نے اس کے قریب آکر نیچے جھانکا۔
نیچھے؟ امامہ کو خود پتہ نہیں تھا۔ نیچے۔۔۔۔۔ کچھ بھی نہیں۔ سالار نے اس کے چہرے کو غور سے دیکھنے کی کوشش کی۔ وہ اسے غائب دماغ لگی تھی۔یا پریشان۔۔۔
اندر چلیں؟ وہ کچھ کہنے کی بجائے شال ٹھیک کرتے ہوئے اس کے ساتھ اندر آگئی۔
تم سو جاؤ میں تھوڑی دیر بعد آؤں گی۔ اس نے اندر آتے ہوئے سالار سے کہا۔
میں کچھ دیر ٹی وی دیکھوں گی۔ سالار ٹھٹک گیا۔
امامہ ریموٹ ہاتھ میں لیکر اب ٹی وی آن کر رہی تھی۔ شادی کے بعد پہلی بار وہ ٹی وی دیکھنے میں اتنی دلچسپی ظاہر کر رہی تھی۔
ٹی وی پر کوئی خاص پروگرام آرہا ہے؟ اس نے پوچھا۔
نہیں ویسے ہی دیکھوں گی۔ امامہ نے اس کی طرف دیکھے بنا کہا۔ وہ چاہتی تھی کہ وہ چلا جائے۔
وہ جانے کی بجائے صوفے پر اس کے قریب آکر بیٹھ گیا۔ اس نے امامہ کے ہاتھ سے ریموٹ لیکر ٹی وی آف کردیا۔ امامہ نے کچھ جز بز ہوکر اسے دیکھا۔
میں شراب نہیں پیتا امامہ۔ میں یہ پھل چکھ چکا ہوں، اس کا ذائقہ کیا ہے؟ اس کا اثر کیا ہے؟ میں دونوں سے واقف ہوں۔ مجھے شراب میں کوئی غم ڈبونا ہے نا کسی سرور کی تلاش ہے۔ میرے لیے یہ ان گناہوں میں سے ایک ہے جن کو میں چھوڑ چکا ہوں۔ تم ہر روز بس اللہ سے یہ دعا کیا کرو کہ وہ مجھے سیدھے راستے سے نہ بھٹکائے۔ وہ اس سے سوال کی توقع کر رہی تھی جواب کی نہیں۔ وہ کسی سائکالوجسٹ کی طرح اس کا ذہن پڑھ رہا تھا۔
اب تمہیں ٹی وی دیکھنا ہے تو دیکھو۔ ورنہ آکر سو جاؤ۔ گڈ نائٹ۔۔۔۔۔۔۔
اس نے ٹی وی آن کر کے ریموٹ امامہ کے ہاتھ میں دیا اور بیڈروم میں چلا گیا۔ وہ اسے دیکھتی رہ گئی تھی۔
************——-**–****
سالار کے ساتھ اس گفتگو نے اس کے لیے بہت آسانی پیدا کر دی تھی۔ دوبارہ ڈنر پر جاتے ہوئے امامہ نے وہاں آنے والے لوگوں کو نہیں جانچا تھا۔ اس بار وہ اسے اتنے برے بھی نہیں لگے۔
تم کسی سے کوئی بات کیوں نہیں کرتی؟ وہ شاید چوتھا ڈنر تھا جب واپسی پر رات کو سونے سے قبل کپڑے تبدیل کرتے سالار نے اس سے پوچھا تھا۔ وہ ناول پڑھتے ہوئے چونکی۔
کیسی بات؟
کوئی بھی بات۔ وہ بیڈ پر بیٹھتے ہوئے بولا۔
جب کوئی مجھ سے کچھ پوچھتا ہے تو میں جواب دیتی ہوں۔
لیکن تم بھی تو کسی سے کچھ پوچھا کرو۔ وہ ان پارٹیز میں اس کی مسلسل خامشی کو نوٹ کر رہا تھا۔
کیا پوچھا کرو؟
تم حال چال پوچھا کرو۔ پھر فیملی کے بارے میں پوچھا کرو، بچوں کے بارے میں بات کر سکتی ہو۔ فار گاڈ امامہ عورتوں کو تو یہ بتانا نہیں پڑتا کہ انہوں نے آپس میں کیا باتیں کرنی ہے۔ وہ اسے بتاتے ہوئے کچھ سٹپٹا گیا۔
اچھا میں کوشش کروں گی۔ اس نے کچھ سوچ کر جواب دیا۔
میرا یہی سوشل سرکل ہے، یہی لوگ بار بار ملیں گے تمہیں۔ ان ہی میں سے تم نے دوست بنانے ہیں۔
لیکن میں نے دوست بنا کر کیا کرنا ہے؟ اس نے دوبارہ ناول کھولتے ہوئے کہا۔ سالار نے ہاتھ بڑھا کر ناول اس سے لے لیا۔
کتابیں اچھی ہوتی ہے لیکن ایک دنیا اس کے باہر ہے۔وہ بھی اچھی ہے۔ وہ سنجیدہ تھا۔ وہ اس کا چہرہ دیکھتی رہی۔
لوگوں سے چھپ چھپ کر بھاگ بھاگ کر اب بہت مشکل ہو گیا ہے دوبارہ ان کے ساتھ چلنا۔ وہ خود بھی سمجھ نہ پائی کہ وہ کیا کہنا چاہتی ہے۔
اسی لیے چاہتا ہوں کہ تم لوگوں کیساتھ انٹرایکٹ کرو ۔اب ضرورت نہیں رہی چھپنے کی۔ جہاں میں تمہیں لیکر جاتا ہوں، وہاں تم میری فیملی ہو۔ وہاں تم سے کوئی تمہاری فیملی کے بارے میں انویسٹی گیٹ نہیں کریگا۔ وہ اسے سمجھا رہا تھا۔
اچھا میں کوشش کروں گی۔ اس نے غیر محسوس انداز میں سالار سے کتاب لیتے ہوئے کہا۔
بھابھی کے ہاں بھی جایا کرو۔ وہ اسے نوشین کے بارے میں کہہ رہا تھا۔
جاتی ہوں۔ اس نے ٹالنے والے انداز میں کہا۔ وہ اسے چپ چاپ کچھ دیر دیکھتا رہا۔
اب اس طرح مت دیکھو مجھے۔ امامہ نے اس کی نظریں اپنے چہرے پر محسوس کرتے ہوئے گردن موڑ کر کہا۔ میں نے کہا ہے نا میں کوشش کروں گی۔
وہ کچھ کہنے کی بجائے کمبل لیتا ہوا چت لیٹ گیا۔وہ دوبارہ کتاب پڑھنے لگی لیکن کچھ دیر بعد پھر اسے سالار کی نظریں خود پر محسوس ہوئی۔
اب کیا ہے؟ اس نے کچھ جھنجھلا کر سالار کو دیکھا۔
کچھ نہیں۔ امامہ نے اس کی نظروں میں عجیب سا تاثر محسوس کیا تھا۔ وہ بہت سنجیدگی کے ساتھ کچھ سوچ رہا تھا۔
********—–*****—***
عید کے دو ہفتے بعد اسلام آباد کے ایک ہوٹل میں ان کے ولیمہ کی تقریب منعقد ہوئی تھی۔ اگر سالار کی ضد نہ ہوتی تو سکندر کبھی اس تقریب لے لیے اسلام آباد کا انتخاب نہ کرتے۔ ولیمہ کی تقریب خاصی سادگی سے ہوئی۔ دو ہزار کے قریب افراد کی موجودگی میں امامہ اتنا ہی غیر آرام دہ محسوس کر رہی تھی جتنا اسے کرنا چاہیئے تھا۔ لیکن اس کے باوجود وہ خوش تھی۔ وہ باقاعدہ طور پر سالار کی فیملی کا حصہ بن کر جیسے کسی چھت کے نیچے آ گئی تھی۔
وہ ولیمہ کے بعد دو ہفتوں کے لیے بہماس گئے تھے۔پاکستان سے باہر سالار کے ساتھ امامہ کا یہ پہلا سفر تھا۔ ان دونوں میں سے کوئی بھی نہیں جانتا تھا کہ زندگی میں دوبارہ کبھی ان پندرہ دنوں جیسے پرسکون اور بے فکری کے دن ان کی زندگی میں دوبارہ کبھی نہیں آنے والے تھے۔ ان کا رشتہ نیا تھا لیکن تعلق پرانا تھا۔
سالار کا فون انٹرنیشنل رومنگ پر تھا۔ لیکن دن کا زیادہ وقت وہ آف رہتا تھا۔ بنک اور ان سے متعلقہ کاموں کو اس نے پندرہ دنوں کے لیے اپنی زندگی سے نکال دیا تھا۔ سالار بہماس پہلے بھی دو مرتبہ آچکا تھا۔ وہ اسے لیکر ان تمام جگہوں پر جارہا تھا جہاں کی سی فوڈز مشہور تھی۔
ہم اپنے گھر میں اس طرح کا ایک لانچ بنائیں گے۔
سالار نے گردن موڑ کر اسے دیکھا۔ ایک لمحے کے لیے اسے مذاق لگا۔ لیکن وہ سنجیدہ تھی۔
کس پر بنائیں گے؟ سالار نے اسے جیسے کچھ یاد دلانے کی کوشش کی۔
جھیل پر۔ بلا کی سنجیدگی تھی۔
اور جھیل کہاں سے آئے گی؟ وہ ہکا بکا تھا۔
وہ تم بناؤ گے نا۔ وہ اسے دیکھ کر رہ گیا۔
اور اس جھیل میں پانی کہاں سے آئیگا؟
امامہ نے ایک لمحے کے لیے سوچا۔۔۔۔ نہر سے۔ وہ ہنس پڑا لیکن امامہ نہیں ہنسی۔
پانی کی نہر نکالنا دودھ کی نہر نکالنے سے زیادہ مشکل ہے سویٹ ہارٹ۔
اس نے امامہ کے کندھوں پر بازو پھیلایا۔ امامہ نے اس کا ہاتھ جھٹک دیا۔
تم نہیں بنا کر دوگے؟ وہ سوال نہیں تھا۔ دھمکی تھی۔
ھم یہاں آجایا کرینگے بلکہ اگلے سال میں تمہیں ماریشس لیکر جاؤں گا۔ پھر اس سے اگلے سال مالدیپ۔۔۔
امامہ نے اس کی بات کاٹی۔
تم نہیں بنا کردوگے جھیل۔۔۔
امامہ جھیل کیسے بنا کر دوں میں تمہیں۔ ہاں یہ ہو سکتا ہے کہ ھم کسی ایسی جگہ پر گھر بنائے جہاں قدرتی طور پر آس پاس اس طرح پانی ہو۔ سالار نے اسے ٹالنے کی کوشش کی۔
ہاں یہ ٹھیک ہے۔ اس پر بر وقت اثر ہوا تھا اور سالار نے جیسے سکھ کا سانس لیا۔
سالار تم بہت اچھے ہو۔ امامہ نے اب اس کا ہاتھ پیار سے پکڑ کر کہا۔
امامہ یہ بلیک میلنگ ہے۔ سالار نے ہاتھ چھڑائے بنا گہرا سانس لیکر احتجاج کیا۔ وہ اس کے جھوٹ کو اس کے گلے کی ہڈی بنا رہی تھی۔
ہاں۔۔۔ہے تو۔۔۔اس نے بڑے آرام سے کندھے اچکا کر ہنستے ہوئے کہا۔
وہاں دوبارہ امامہ نے باقی دن لانچ کا ذکر نہیں کی اور اس پر سالار نے اللہ کا شکر ادا کیا۔ اسے امید تھی کہ وہ بھول جائیگی۔
واپس آنے کے چوتھے دن بعد اس نے فخریہ انداز میں سالار کو اس گھر کے نئے ڈیزائنز دکھائے۔ وہ جھیل اور لانچ بھی اس کا حصہ بن چکے تھے۔ وہ ہنی مون اسے بہت مہنگا پڑا تھا۔ وہ دنیا کی پہلی بیوی تھی جس نے ہنی مون پر جھیل اور لانچ کی شاپنگ کی تھی۔ اور وہ دنیا کا پہلا شوہر تھا جس نے اس شاپنگ پر اعتراض نہیں کیا تھا۔
ان کے اپارٹمنٹ کی دیوار پر اب کچھ اور تصویروں کا اضافہ ہوگیا تھا۔ جن میں ایک چیز کامن تھی۔ ان کے چہرے اور آنکھوں میں نظر آنے والی خوشی اور چمک اور ان کے ہونٹوں پر موجود مسکراہٹ۔
وہ ایک دوسرے کے لیے بنے تھے۔ کم از کم وہ تصویریں ہر لحاظ سے یہ ثابت کرنے پر تلی ہوئی تھی۔
زندگی آہستہ آہستہ اپنے معمول پر آرہی تھی۔ سالار واپس آنے کےبعد مصروف ہوگیا۔ وہ بنک سے تقریباً دس بجے گھر آرہا تھا اور پہلے کی طرح گھر سے باہر کافی کے لیے نکلنے کا سلسلہ کچھ عرصہ کے لیے منقطع ہو گیا۔ سالار کے اصرار کے باوجود وہ کھانے پہ اس کا انتظار کرتی تھی۔
وہ نوشین کے ساتھ اب وقتاً فوقتاً گھر سے نکلنے لگی تھی۔ اس کی زندگی کا دائرہ اب گھر سے باہر بڑھنے لگا تھا اور سالار اس چیز کی حوصلہ افزائی کر رہا تھا۔

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: