Aab e Hayat Novel by Umera Ahmed Read Online – Episode 15

0

آب حیات از عمیرہ احمد – قسط نمبر 15

–**–**–

 

سالار اگر اسکے بنتے بگڑتے موڈ کو سمجھ نہیں پا رہا تھا تو وہ بھی خود کو نہیں سمجھ پارہی تھی۔ وہ سارا دن اسکے بارے میں سوچ سوچ کر اداس ہوتی تھی اور اس سے بات کرتے ہوئے وہ بلاوجہ جگھڑتی۔
اسے اس پر شدید غصہ آتا تھا اور کیوں آتا تھا یہ اسکی سمجھ سے باہر تھا۔
وہ سارا دن ٹی وی آن کیے ہوئے اسکی کال کے انتظار میں بیٹھی رہتی تھی یا پھر کمپیوٹر آن کر کے پرانے ای میلز پڑھتے ہوئے کسی نئے ای میل کا انتظار کرتی۔۔چند لائنوں والی ای میلز جن میں وہ انکا حال پوچھتا تھا درجنوں بار پڑھتی تھی اور پھرایک لمبا چوڑا جواب لکھ کر اسکی ای میل کے انتظار میں ساری ساری رات اسکی چیزیں نکال کر صاف کرتے ری ارینج کرتی رہتی تھی۔ پھر اسکے کولیکشن میں موجود چارلی تھیرون کی موویز دیکھتی تھی۔ یہ واقعی بے بسی کی حد تھی۔اسے اب وہ ایکٹریس بھی بری لگنا بند ہوگئ تھی جسکو وہ پہلے سالار کے سامنے دیکھنا پسند نہیں کرتی تھی۔۔۔ہر روز کھانے کی ٹیبل پر وہ اسکے بھی برتن لگا دیتی۔ یہ جیسے کھانے کی ٹیبل پہ اپنی تنہائی دور کرنے کی کوشش تھی۔۔
عید کے لیے اسلام آباد جانے تک گھر کی اس خاموشی اور تنہائی نے اسے مکمل طور پر حواس باختہ کردیا تھا۔۔۔
اسلام آباد آنے کے بعد بھی اس نے خود کو بہتر محسوس نہیں کیا تھا۔۔سالار کی پوری فیملی میں سے صرف عمار اور یسریٰ عید منانے کے لیئے وہاں موجود تھے۔۔
سالار نے طیبہ کو اس کی عید کی شاپنگ کرنے کے لیئے کہا تھا۔۔ وہ بڑے بجھے دل کیساتھ انکے ساتھ چلی گئی تھی۔۔
اسلام آباد آکر یہ بھی پہلی بار ہوا تھا کہ اس نے گیسٹ روم کی کھڑکی سے لگ کر اپنے گھر والوں میں سے کسی کے نظر آنے کا انتظار بھی نہیں کیا تھا۔۔
عید کی صبح پہلے کی طرح اس بار بھی سالار کی کال سے اٹھی۔۔وہ مانٹریال میں اپنا سیشن ختم کرکے کچھ دیر پہلے ہوٹل آیا تھا۔۔
کونسے کپڑے پہن رہی ہو تم آج؟ اس نے مبارکباد دینے کے بعد اس سے پوچھا۔۔
تمہیں بتانے کا فائدہ؟ اس نے بیڈ کے کراؤن کیساتھ پشت ٹکاتے ہوئے کہا۔۔
میں تصور کرنا چاہ رہا ہوں کہ تم کیسی لگ رہی ہو گی۔۔۔
میرے سامنے کبھی تم نے میرے کپڑوں کو غور سے دیکھا تک نہیں، اب وہاں بیٹھ کر کیا تصور کرو گے۔
امامہ ھم کم از کم آج آرگیو نہیں کرینگے۔۔۔سالار نے مداخلت کرتے ہوئے جیسے پیشگی جنگ بندی کا اعلان کردیا۔۔۔۔ تمہیں کیا چاہیئے آج؟؟ فلاورز اور کیک تو ممی سے میں نے کہا ہے تمہارے لیے کچھ اور چاہیئے؟؟
نہیں۔۔۔۔وہ بے حد اداس تھی۔۔۔
مجھے مس تو نہیں کر رہی تم۔۔۔سالار نے مذاق کیا تھا۔۔لیکن اس نے جیسے اسکی دکھتی رگ پہ ہاتھ رکھ دیا تھا۔۔اسکی آنکھوں میں آنسووں کو سیلاب امڈ آیا تھا۔۔اس نے اپنی آستین کیساتھ آنکھوں کو رگڑ کر صاف کرنے کی کوشش کی تھی۔۔۔وہ اسکی خاموشی پر غور کیے بغیر بات کر رہا تھا۔کینیڈا میں عید پہلے ہوچکی تھی اور وہ عید کے دن بھی کانفرنس اٹینڈ کرتا رہا۔۔۔
کب کی فلائٹ ہے تمہاری؟ اس نے کوشش کی تھی کہ اسکی آواز بات کرتے ہوئے نہ بھرائے۔ وہ بڑی شرمندگی محسوس کرتی اگر وہ یہ جان جاتا کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اب اسے فلائٹ کا بتا رہا تھا۔۔
تم نے مجھے کپڑوں کا کلر نہیں بتایا۔۔سالار کو بات کرتے کرتے یاد آیا۔۔تم نے ممی کے ساتھ جاکر کپڑے لیئے تھے؟
ہاں لیئے تھے۔۔۔۔۔جو آج پہنوں گی وہ ہیزل گرین ہے۔۔
ہیزل گرین؟؟ وہ بے اختیار اٹکا۔۔وہ تو آنکھیں ہوتی ہیں۔۔۔
آنکھوں کا کلر ہوتا ہے ۔ھمیشہ کی طرح اس نے تصحیح کی۔۔۔
اووہ۔۔۔۔۔آج میں جینیفر کی آنکھوں کو غور سے دیکھوں گا۔۔۔اس نے ڈنر پر اپنی کسی ساتھی کا نام لیا۔۔۔
کیوں؟؟
اسکی آنکھوں میں مجھے اپنی بیوی کے کپڑوں کا کلر نظر آئے گا۔۔وہ سنجیدہ تھا۔۔۔۔۔وہ بے اختیار ہنس پڑی۔۔۔۔
امامہ۔۔۔جب سے میں یہاں آیا ہوں تم پہلی بار ہنسی ہو۔۔سالار نے اسکی ہنسی کو نوٹس کیا۔۔۔اور شادی کے بعد اتنے مہینوں میں یہ پہلا کلر ہے جسے تم نے شناخت کیا ہے اور وہ بھی کسی عورت کی آنکھوں کی وجہ سے۔۔۔
تم جیلس ہو رہی ہو۔۔وہ ہنس پڑا۔۔
ہاں بس اب ایک یہی تو کام رہ گیا ہے میرے کرنے کو۔۔۔
اس نے مذاق اڑانے والے انداز میں کہا۔۔
یعنی نہیں ہورہی یا نہیں ہوسکتی۔۔۔۔
وہ پوچھ رہا تھا اور وہ جواب نہ دے سکی اسکی خاموشی پر وہ ہنسا۔۔
اس میں ہنسنے کی کیا بات ہے۔۔وہ جزبز ہوئی۔۔۔
اپنی خوش فہمی پر ہنسا ہوں۔کم از کم تم کسی عورت سے میرے لیئے جیلس نہیں ہوسکتی۔
وہ اسے تنگ کر رہا تھا اور وہ جانتی تھی اسکا اشارہ رمشہ کی طرف تھا۔۔
تم مجھے صرف یہ بتاؤ کہ کب آ رہے ہو؟
اس نے بات بدلنا بہتر سمجھا۔۔
وہ عید کے دوسرے دن رات کی فلائٹ سے واپس لاہور آگئ تھی۔ کیونکہ اگلی رات آٹھ بجے کی فلائٹ سے وہ آرہا تھا۔وہ زودرنجی اور حساسیت جو پچھلے چار ہفتوں سے اسے ناخوش رکھے ہوئے تھی وہ یکدم غائب ہوگئ تھی۔
اور چار ہفتے کے بعد بلآخر اس نے کیک کا وہ ٹکڑا اور کین ڈسپوز آف کردیئے۔۔۔
اگر فرقان کو سیدھا ہسپتال سے ایئرپورٹ نہ جانا ہوتا تو وہ خود اسے ریسیو کرنے چلی جاتی وہ کچھ اتنی ایکسائٹڈ ہورہی تھی۔۔
نو بج کر پینتالیس منٹ پر بلآخر ڈور بیل بجی۔ اسے دروازے تک پہنچنے میں سیکنڈز لگے تھے۔۔
خدایا۔۔کیا خوشی اسے کہتے ہیں جو اس شخص کے چہرے پر پہلی نظر ڈالتے محسوس کی میں نے۔۔۔اس نے دروازہ کھول کر ڈور ہینڈل پر اپنا کپکپاتا ہاتھ رکھا سالار کو دیکھ کر اچھنبے سے سوچا.
فرقان سے باتیں کرتا دروازہ کھلنے کی آواز پر وہ سیدھا ہوا اور ان دونوں کی نظریں ملیں۔۔۔وہی گرمجوش مسکراہٹ جس کی وہ عادی تھی۔وہ اسے دیکھتے ہی چند لمحوں کے لیئے جیسے ساکت ہوگئ۔۔
امامہ۔۔۔سامان کی ڈیلیوری دینے آیا ہوں چیک کرو۔۔کوئی بریکج یا ڈیمج تو نہیں۔۔۔فرقان نے ایک سوٹ کیس کھینچ کر اندر لیجاتے ہوئے اسے چھیڑا۔ سالار مسکرایا تھا۔
امامہ نے سلام کا جواب دینے کی کوشش کی تھی لیکن اسکے گلے میں کوئی گرہ لگنے لگی تھی۔ بات یہی تک ہوتی تو ٹھیک تھی لیکن آنکھوں میں پانی کیسے اور کیوں آگیا تھا۔وہ آگے بڑھا اور ھمیشہ کی طرح اسے گلے لگایا۔۔جیسے وہ آفس سے آنے کی بعد لگایا کرتا تھا۔۔ بے اختیار آنسووں کا ایک اور ریلہ آیا۔۔۔یہی تو وہ ڈھونڈتی پھر رہی تھی۔۔۔یہی نرم لمس۔۔اپنے گرد یہی بازوؤں کا حصار۔۔
کیسی ہو تم۔۔وہ اس سے پوچھ رہا تھا۔۔گلے گرہیں اور بڑھ گئ۔ اس نے اب اسکو خود سے الگ گیا اور اسکا چہرہ اور آنسو دیکھے۔۔
کیا ہوا؟؟ وہ ٹھٹکا۔۔۔اور سوٹ کیس اندر لیجاتے ہوئے فرقان نے پلٹ کر دیکھا۔
میں ابھی۔۔۔۔ابھی سلاد کے لیئے پیاز کاٹ رہی تھی۔ اس نے کچھ گھبراہٹ میں مسکرانے کی کوشش کرتے ہوئےبھرائ آواز میں کہا۔۔۔پھر شاید خود ہی اسے بہانہ کمزور لگا۔وہ سر میں کچھ درد تھا۔اور فلو تھا۔۔ فرقان کی مسکراتی نظروں سے وہ کچھ گڑبڑائی۔
سالار نے فرقان کو نظرانداز کیا اور ایک بار پھر اسے ساتھ لگاتے ہوئے کہا۔۔تو یار کوئی میڈیسن لینی چاہیئے تھی۔۔
کوکنگ رینج پہ کچھ رکھ کے آئی ہوں ۔۔وہ رکے بنا کچن میں چلی گئی۔
اسکے سامنے کھڑے رہ کر اس سے نظریں ملا کر جھوٹ بولنا مشکل ہوگیا تھا۔۔سنک میں چہرے پر پانی کے چھینٹے مار کر اس نے کچھ پانی پیا. آواز کی تھرتھراہٹ صرف اس سے ختم ہوسکتی تھی۔
بیٹھو کھانا کھا کر جاؤ نا۔۔۔وہ جب لاؤنج میں آئی تو سالار فرقان سے کہہ رہا تھا۔
نہیں۔۔۔اس وقت نہیں۔۔کھانے پہ انتظار کر رہے ہونگے بچے۔ کچھ دنوں بعد چلیں گے کہی ڈنر کے لیئے۔۔۔وہ بیرونی دروازے کی طرف جاتے ہوئے بولا۔۔سالار دروازے تک اسے چھوڑنے گیا۔وہ کچن میں آکر کھانا اور برتن لگانے لگی۔۔
وہ دروازے سے واپسی پر کچن میں سیل فون پر بات کرتے ہوئے آیا ۔فون پر سکندر تھے۔ امامہ نے اسے کچن کاؤنٹر پہ رکھے پانی کی بوتل کو کھولتے دیکھا. فون کندھے اور کان کے بیچ دبائے اس نے بوتل کا ڈھکن کھولا۔۔امامہ نے اسکے گلاس کی طرف جانے سے پہلے ایک گلاس لاکر اسکے سامنے کاؤنٹر پہ رکھ دیا۔سالار سے بوتل لیکر اس نے گلاس میں اسکے لیئے پانی ڈالا۔۔
سالار نے سکندر سے بات کرتے ہوئے سر کے اشارے سے اس کا شکریہ ادا کیا اور پھر پانی کی گھونٹ بھرتے ہوئے کہا۔۔
پاپا خیریت پوچھ رہے ہیں تمہاری۔۔
فریج کا دروازہ کھولتے ہوئے وہ مسکرائی۔
میں اب ٹھیک ہوں۔۔سالار نے اسکے جملے پر غور کیے بغیر سکندر تک اسکا جملہ پہنچا دیا۔۔
کاؤنٹر پر پڑے سلاد میں سے سیب کا ایک ٹکڑا ٹھا کر منہ میں ڈالتے ہوئے وہ اسی طرح سکندر سے بات کرتے ہوئے کچن سے نکلا۔۔امامہ نے اسے ٹیرس کا دروازہ کھول کر پودوں پر نظر دوڑاتے دیکھا۔۔ٹیبل پر برتن رکھتے ہوئے اسکی آنکھوں میں ایک بار پھر نمی آنے لگی۔ ایک مہینہ بعد یہ جگہ اسے گھر لگی تھی۔بات محبت کی نہیں بلکہ عادت کی تھی اور وہ اسکی عادی ہوچکی تھی اور بعض دفعہ عادت محبت سے بھی زیادہ جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔۔۔
اسے اچانک خیال آیا کہ وہ کھانا کھانے سے پہلے کپڑے تبدیل کریگا بیڈروم جاکر وی اسکے لیئے کپڑے نکال کر واش روم میں لٹکا کر آئی۔
وہ واش روم سے نکل رہی تھی جب وہ بیڈروم میں داخل ہوا۔
میں شاور لیکر کھانا کھاؤں گا۔اس نے جیسے اعلان کیا۔۔
میں نے تمہارے کپڑے اور ٹاولز رکھ دیئے ہیں اور یہ میں تمہارے لیئے نئے سلپرز لیکر آئی تھی۔ وہ سلپرز کا ڈبہ شوریک سے نکالتے ہوئے بولی۔
رہنے دو امامہ میں خود ہی نکال لوں گا۔۔۔
ریسٹ واچ اتارتے ہوئے اس نے امامہ کو منع کیا۔۔اسے کبھی بھی کسی دوسرے کا اپنا جوتا اٹھانا پسند نہیں تھا۔وہ جانتی تھی۔۔لیکن اسکے منع کرنے کے باوجود سلپرز نکال لائی تھی۔۔
کچھ نہیں ہوتا۔۔اس نے سلپرز اسکے پاس رکھ دیئے۔
وہ اب بیڈ پر بیٹھا اپنے جوتے اور جرابیں اتار رہا تھا اور وہ بے مقصد اس کے پاس کھڑی اسے دیکھ رہی تھی۔۔سالار نے کچھ حیرانی سے نوٹس کیا تھا۔۔
یہ یلو کپڑے تم نے میرے انتظار میں پہنے ہیں؟ اس نے جرابیں اتارتے ہوئے امامہ کو چھیڑا۔۔وہ بے وجہ ہنسی۔۔وہ مسٹرڈ کو یلو کہہ رہا تھا۔۔لیکن آج اس نے تصحیح نہیں کی ۔
نائس سلپرز۔۔۔اس نے سلپرز پہنتے امامہ سے کہا۔۔
میں رکھ لیتی ہوں۔۔۔امامہ نے جوتے اور جرابیں اس سے لینے کی کوشش کی۔
کیوں یار۔۔پہلے کون رکھتا تھا۔۔سالار نے کچھ حیرانی سے اسے روکا۔۔امامہ رک گئی۔۔
امامہ نے بیڈ سائڈ ٹیبل پر اس کی رسٹ واچ اور سیل فون کو دیکھا۔ ہر خالی جگہ بھرنے لگی تھی۔۔ جب تک وہ نہا کر آیا امامہ کھانا لگا چکی تھی۔۔سالار نے ڈائننگ ٹیبل پہ نظر ڈالتے ہی بے اختیار کہا۔۔
امامہ کیا کیا پکا رکھا ہے یار۔۔۔
جو جو تمہیں اچھا لگتا ہے۔ اس نے سادگی سے کہا۔۔
مجھے۔۔؟ وہ کرسی کھینچ کر بیٹھتے ہوئے ٹیبل پر ڈشز دیکھ کر جیسے سوچ میں پڑا۔۔
تم نے اپنا وقت ضائع کیا۔۔
کوئی اور وقت ہوتا تو وہ ہورے دن کی محنت پر بولے جانے والے اس جملے سے سخت ناراض ہوتی۔ لیکن اس وقت اسے کچھ بھی برا نہیں لگ رہا تھا وہ اتنی ہی سرشار تھی۔۔۔
میں نے اپنا وقت تمہارے لیئے استعمال کیا۔۔اس نے مدھم آواز میں سالار کی تصحیح کی۔۔۔
لیکن تم تھک گئی ہوگی۔۔۔
نہیں۔۔۔کیوں تھکوں گی میں؟ ١ٗٗاس نے چاولوں کی ڈش سالار کی طرف بڑھا دی۔۔
سالار نے اسکی پلیٹ میں ہمیشہ کی طرح پہلے چاول ڈالے۔۔اپنی پلیٹ کے کونے میں پڑے ان چاولوں کو دیکھ کر اسکا دل بھر آیا تھا۔۔وہ اب اپنی پلیٹ میں چاول ڈال رہا تھا۔ ایک مہینے لے بعد وہ اسکے اتنے قریب بیٹھی تھی۔ کھانا سرو کرتے ہوئے اسکے ہاتھ دیکھ رہی تھی سفید شرٹ کی آستینیں موڑے اسکے ہاتھوں نے ھمیشہ کی طرح اسکو اپنی طرف متوجہ کیا۔
پینٹنگز مکمل ہو گئ ہیں تمہاری؟ وہ کھانا شروع کرتے ہوئے اس سے پوچھ رہا تھا۔
کون سی پینٹنگز ؟اس نے بے خیالی سے کہا۔۔وہ ٹھٹکا۔۔
تم بنا رہی تھی نا کچھ۔۔۔اس نے اسے یاد دلایا۔۔۔
یہ بھی لو۔۔اس نے جواب دینے کی بجائے ایک اور ڈش اس کی طرف بڑھا دی۔
ڈر تو نہیں لگا تمہیں یہاں اکیلے رہتے ہوئے؟ اس نے پوچھا۔
کھانا اچھا ہے؟ امامہ نے ایک بار پھر جواب گول کیا۔۔
ھمیشہ اچھا ہوتا ہے ۔وہ مسکرایا۔۔۔
کتنے ناولز پڑھے تم نے؟ وہ اب ہوچھ رہا تھا۔
یہ چوپس بھی ہیں۔۔اس نے ایک اور ڈش سرو کی۔
تمہاری فلائٹ ٹھیک رہی۔۔
ہاں اوور آل کچھ بمپی رہی لیکن ٹھیک ہی تھی۔۔۔
اور کانفرنس بھی اچھی رہی؟
ایکسیلنٹ۔۔۔اس نے بے اختیار کہا۔۔
کیا روٹین تھی تمہاری؟ وہ اسے موضوع سے ہٹانے میں کامیاب نہیں ہوئی تھی۔۔۔
میری روٹین۔۔۔۔۔وہ سوچ میں پڑی۔۔۔
ہاں کیا کیا کرتی تھی سارا دن۔۔وہ اب چپاتی کا ٹکڑا توڑتے ہوئے کہہ رہا تھا۔۔
جو پہلے کیا کرتی تھی۔۔اس نے نظریں چرا کر ایک اور ڈش اس کی طرف بڑھا دی۔۔
لیکن تب تو بہت زیادہ وقت ہوتا ہوگا تمہارے ساتھ۔۔
بالکل۔۔۔ساری شام۔۔۔ساری رات۔۔۔۔
پھر تو عیش ہوگئے ہونگے تمہارے؟ اپنی پلیٹ میں قورمہ نکالتے ہوئے اس نے مسکرا کر کہا۔۔
امامہ نے جواب دینے کی بجائے اپنی پلیٹ کو دیکھا جس میں چیزوں کا ڈھیر اسی طرح پڑا تھا۔ اس سے کچھ کھایا نہیں جارہا تھا۔
تم سعیدہ اماں کو یہاں لے آتی۔۔۔سالار نے یکدم اس سے کہا۔۔اسے پتا نہیں کیا خیال آیا تھا۔
میں نے کہا تھا ان سے لیکن تمہیں تو پتا ہے انکا وہ اتنے دنوں کے لیے اپنا گھر نہیں چھوڑ سکتی۔ اس نے جواب دیا۔
دیٹس انڈر سٹینڈ ایبل۔۔۔ سالار نے کھانا کھاتے ہوئے بے اختیار ایک نوالہ اسکی طرف بڑھایا۔ وہ آخری لقمہ ھمیشہ اسے کھلاتا تھا۔۔ایک لمحے کے لیے وہ ٹھٹکی پھر اس نے لقمہ منی میں لے لیا۔لیکن اسے چبا نہ سکی۔ وہ لقمہ جیسے آخری حد ثابت ہوا۔۔ وہ بے اختیار رو پڑی۔۔وہ پانی پیتے پیتے یکدم رک گیا۔
کیا ہوا؟ وہ ہکا بکا تھا۔ ہونٹوں پہ ہاتھ رکھ کر وہ بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر روتی گئ۔
کیا ہوا ہے امامہ۔۔وہ بری طرح بدحواس ہوا۔۔کم از کم اس وقت اس طرح کی گفتگو کے دوران آنسو؟ وہ اس کی وجہ تلاش نہیں کرسکا۔۔
ایک دفعہ آنسو بہہ جانے کے بعد سب کچھ آسان ہو گیا تھا۔
فار گاڈ سیک ۔۔تم پاگل کردو گی مجھے۔۔کیا ہوا. ؟ سب کچھ ٹھیک رہا میرے بعد؟ کسی نے تمہیں پریشان تو نہیں کیا؟ وہ اب مکمل طور پر حواس باختہ تھا۔۔ ٹشو پیپر سے آنکھیں رگڑتے ہوئے امامہ نے خود پر قابو پانے کی کوشش کرتے ہوئے سر ہلایا۔
تو پھر کیوں رو رہی ہو۔۔سالار مطمئن نہیں ہوا۔
ایسے ہی بس میں تمہیں بہت مس کرتی رہی اس لیے۔۔وہ کہتے کہتے پھر رو پڑی۔۔
سالار کو لگا جیسے اس نے سننے میں غلطی کی ہو۔۔۔
کس کو مس کیا؟؟
تمہیں۔۔۔اس نے سر جھکا کر روتے ہوئے کہا۔۔وہ چند لمحوں کے لیے ساکت ہوگیا۔۔
مجھے کس لیئے؟ یہ بے یقینی کی انتہا تھی۔۔
وہ روتے روتے ٹھٹکی۔۔اس نے سر اٹھا کر اسے دیکھا پھر بے حد خفگی کے عالم میں ٹیبل سے اپنی ڈنر پلیٹ اٹھاتی ہوئ کچن چلی گئی۔۔
میرا دماغ خراب ہوگیا تھا اس لیئے۔۔۔وہ کچھ بول نہ سکا۔۔۔
وہ اب برتن اٹھا اٹھا کر لے جارہی تھی اور سالار بالکل ہونق سا پانی کا گلاس ہاتھ میں لیئے اسے اپنے سامنے سے برتن اٹھاتے دیکھ رہا تھا۔۔وہ اسکے رونے سے کبھی اتنا حواس باختہ نہیں ہوا تھا جتنا اس چھوٹے سے اعتراف سے ہوا. ۔۔۔۔
وہ چار ہفتے باہر رہ کر اس کے جس رویے کو سمجھنے کی کوشش میں ناکام ہوا تھا وہ اب سمجھ آرہا تھا۔۔اسکے لیے یہ ناقابل یقین تھا کہ امامہ اسے۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے گردن موڑ کر اسے دیکھا۔۔۔وہ کچن میں ادھر ادھر جاتے ہوئے اسی طرح آنکھیں رگڑتی ہوئی چیزیں سمیٹ رہی تھی۔۔
وہ گلاس ٹیبل پر رکھ کر کچن آگیا تھا۔وہ فریج سے سویٹ ڈش نکال رہی تھی۔۔سالار نے اسکے ہاتھ سے دونگا پکڑ کر کاؤنٹر پہ رکھ دیا۔ کچھ کہے بغیر اس نے اسے گلے لگایا۔ بڑی نرمی سے یوں جیسے تلافی کر رہا ہو۔۔معذرت کر رہا ہو۔۔وہ خفگی سے الگ ہونا چاہتی تھی اسکا ہاتھ جھٹکنا چاہتی تھی لیکن بے بس تھی۔۔برسات پھر ہونے لگی۔۔وی اسکی عادتیں خراب کر رہا تھا۔۔
انکے درمیان ایک لفظ کا بھی تبادلہ نہیں ہوا۔۔
برسات تھمنے لگی تھی۔۔وہ ہاتھ سے گال اور آنکھیں خشک کر کے اس سے الگ ہوگئ تھی۔۔
دراصل میں گھر میں اکیلی تھی اس لیئے مس کرتی رہی۔۔
انکار۔ اقرار۔۔اعتراف۔۔پھر انکار۔۔ یہ مشرقی عورت کی زندگی کا دائرہ تھا وہ بھی اس دائرے میں گھومنے لگی تھی۔۔
ہاں۔۔۔اکیلا ہو تو ایسا ہی ہوتا ہے۔۔سالار نے اسکے جھوٹ کو سچ بنانے میں اسکی مدد کی. امامہ کا حوصلہ بڑھا۔۔
دانت میں درد تھا تو۔۔۔۔تو۔۔۔۔۔۔اس لیے مجھے رونا آگیا ۔۔وہ اٹکی پھر اس نے کہا۔۔
یاں مجھے اندازہ ہے دانت کا درد بہت تکلیف دہ ہوتا ہے. ایک دفعہ ہوا تھا مجھے۔۔میں جانتا ہوں کیا حالت ہوتی ہے۔۔۔وہ نظریں ملائے بغیر جھوٹ بول رہے تھے۔
آ۔۔۔۔۔۔۔آ۔۔۔۔۔۔وہ اٹکی اب تیسرا جھوٹ اسکے ذہن میں نہیں آرہا تھا۔جو سوال آرہا تھا اس نے وہی پوچھا۔۔۔تم نے مجھے مس نہیں کیا۔۔؟
ہر دن ہر گھنٹہ ہر سیکنڈ۔۔۔ وہ اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کہہ رہا تھا اور امامہ کی آنکھوں میں جیسے ستارے جھلملانے لگے تھے۔۔
چار ہفتے تمہارے ساتھ نہیں تھا۔۔اگر تمہارا خیال ساتھ نہ ہوتا تو میں مر جاتا۔۔
تم جھوٹے ہو۔ وہ بھرائی ہوئی آواز میں ہنسی تھی۔۔
تم بھی ۔۔۔۔سالار نے بے ساختہ بتایا۔۔۔
وہ روتے ہوئے ہنس رہی تھی لیکن چار ماہ میں پہلی دفعہ سالار کے لیے وی برسات قابل اعتراض نہیں تی.-
وہ اس رات بیڈ پر اس سے چند انچ دور کروٹ کے بل لیٹی کہنی تکیے پر ٹکائے اس سے باتیں کرتی رہی تھی ۔ایک مہینے کے دوران اکھٹی ہوجانے والی ساری باتیں۔اسے اندازہ نہیں ہوا تھا کہ صرف وہ بول رہی تھی۔سالار بالکل خاموش چت لیٹا اسکا چہرہ دیکھتے ہوئے اسے سن رہا تھا۔وہ خاموش سامع پلکیں جھپکائے بغیر صرف اسکے چہرے کو دیکھ رہا تھا۔۔اسکی آنکھوں کے تاثرات اسکے چہرے پر جھلکنے والے رنگ بات کرتے ہوئے اسکی ہنسی کی کھلکھلاہٹ وہ جیسے سینیما کی فرنٹ رو میں بیٹھا ہوا ایک سحرزدہ ناظر تھا۔۔کہنی کے بل نیم دراز جب وہ تھک جاتی تو پھر اسکے کندھے پر سر رکھتے ہوئے کہتی۔۔۔اچھا چلو اب سو جاتے ہیں۔۔۔
یہ جملہ وہ شاید پچیس دفعہ کہہ چکی تھی۔۔
اس کے کندھے پہ سر رکھے اسے پھر کچھ یاد آجاتا تو وہ یکدم سر اٹھا کر اسکا چہرہ دیکھتے ہوئے پوچھتی۔ میں نے تمہیں یہ بتایا ہے کہ۔۔۔۔۔۔۔
سالار نفی میں سر ہلادیتا گفتگو پھر دوبارہ وہی سے شروع ہوجاتی۔ خاموش سامع پھر وہی فلم دیکھنے لگتا. ۔۔
یہ کونسی اذان ہو رہی ہے؟ وہ بات کرتے کرتے چونکی۔۔۔
دور کہیں سے اذانوں کی آوازیں سنائی دی۔
فجر کی۔ سالار نے پرسکون انداز میں کہا۔۔وہ بری طرح گڑبڑائی۔
او مائی گاڈ۔۔فجر ہوگئی۔۔اور میں۔۔۔تمہیں تو سونا چاہیئے تھا تم تو تھکے ہوئے تھے۔مجھے پتا ہی نہیں چلا۔ تم مجھے بتا دیتے۔۔وہ اب بری طرح نادم ہورہی تھی۔۔مجھ سے کہنا چاہیئے تھا تمہیں۔کیوں نہیں کہا تم نے۔
کیا کہتا۔۔۔وہ اب پرسکون تھا۔
یہی کہ تم سونا چاہتے ہو۔۔
لیکن میں تو سونا نہیں چاہتا تھا۔۔
لیکن مجھے تو وقت کا پتا ہی نہ چلا کم از کم تم کو مجھے بتانا چاہیئے تھا۔۔وہ واقعی شرمندہ ہورہی تھی.
تمہارا خیال ہے مجھے وقت کا احساس تھا؟
تم سو جاؤ اب۔۔۔ اور آئی ایم سوری۔ کتنی فضول باتیں کی میں نے تم بھی کیا سوچ رہے ہونگے ۔۔
میں تو نماز پڑھ کر سوؤں گا اب۔اور میں صرف یہ سوچ رہا تھا کہ آج تم نے مجھ سے اتنی باتیں کیسے کرلی۔۔
تم نے تو غور سے سنی بھی نہیں ہونگی میری باتیں۔۔وہ شرمندگی سے مسکرئی۔
ایک ایک بات سنی ہے۔۔چاہو تو دہرا سکتا ہوں۔۔۔آج تک تم نے جب جب جو کچھ بھی کہا ہے مجھے یاد ہے اور ھمیشہ یاد رہیگا۔۔۔
اسکا لہجہ ہموار تھا لیکن آنکھوں میں کوئی تاثر تھا جس نے چند لمحوں کے لیئے امامہ کو باندھا تھا۔۔
اسی طرح باتیں کروگی تو ہر رات جاگ سکتا ہوں تمہارے لیے۔۔امامہ نے نظریں چرا لی۔۔۔
اس سے کچھ دور ہٹتے ہوئے اس نے تکیے پہ سر رکھ دیا ۔وہ اب سیدھی لیٹی چھت کو دیکھ رہی تھی۔۔۔
سائڈ ٹیبل پر پڑے سیل فون کے یکدم بجتے الارم کو بند کرتے ہوئے سالار نے اس کی طرف کروٹ بدلی۔۔۔کہنی کے بل نیم دراز اس نے امامہ سے کہا۔۔
کچھ اور بتانا ہے تم نے؟ امامہ نے اسکا چہرہ دیکھا۔وہ سنجیدہ تھا۔۔
نہیں۔۔۔۔اس نے مدھم آواز میں کہا۔۔۔۔
آئی لو یو۔۔۔جواباً سالار کے جملے نے اسے چند لمحوں کے لیے ساکت کیا۔۔وہ اسکے پاس تھا اسکی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا جیسے کچھ اس سے سننے کی خواہش رکھتا ہو۔۔۔
تھینک یو۔۔۔۔
وہ بے اختیار ہنسا۔۔۔ایک گہرا سانس لیکر ۔ ایک لمحے کے لیئے آنکھیں بند کرتے ہوئے اس نے جیسے گھٹنے ٹیک دیئے۔۔وہاں اسکے قریب کوئی اور عورت ہوتی تو اسے اظہار محبت ہی ملتا ۔۔۔یہ امامہ ہاشم تھی اسکا اظہار تشکر ہی کافی تھا۔۔۔۔
*******—-&*****—******
یہ میں تمہارے لیے لایا تھا ۔۔۔وہ دس بجے کے قریب اسکے ساتھ ناشتہ کرنے کے بعد ٹیبل صاف کر رہی تھی جب وہ بیڈروم سے ایک خوبصورت پیکنگ میں ایک باکس لیکر اسکے پاس آیا تھا.
یہ کیا ہے۔۔؟وہ ٹیبل صاف کرتے کرتے رک گئی۔۔
دیکھ لو۔۔۔سالار نے باکس اسکی طرف بڑھایا۔۔۔
جیولری ہے؟ اسکو. ۔۔۔۔۔۔۔لیبل اور باکس ڈیزائن سے کچھ اندازہ ہوگیا تھا۔۔سالار جواب دینے کی بجائے کندھے اچکا کر خاموش رہا۔۔امامہ نے بڑے تجسس اور احتیاط سے اس باکس کی نفیس اور خوبصورت پیکنگ کو ہٹا کر باکس کھول لیا۔۔سرخ مخمل جیسے ایک بے حد مہین اور چمکدار کپڑے کی تہوں کے درمیان ایک کرسٹل رنگ کیس تھا اور اس کیس سے نظر آنے والی رنگ نے کچھ دیر کے لیے اسے ساکت کیا۔۔اسکویر ڈائمنڈز کے بینڈ کے ساتھ وہ ایک پلاٹینم ٹیولپ ڈائمنڈ رنگ تھی۔۔چودہ قیراط کے اس ڈائمنڈ کے گرد ننھے ننھے نیلم کے گول گول نگینوں کا ایک دائرہ تھا۔۔بہت دیر. مسمرائزڈ اس رنگ پر نظریں جمائے اس نے بے اختیار گہرا سانس لیکر اپنا پہلا رد عمل دیا یہ صرف ڈائمنڈ نہیں تھے جو اسکو حیران کر رہے تھے بلکہ وہ پیچیدہ ڈیزائن بھی جس میں وہ سارے جیولز جڑے تھے.
یہ بہت خوبصورت ہے۔۔ اس نے بمشکل کہا۔۔سالار نے ہاتھ بڑھا کر کرسٹل کا کیس کھولا رنگ کو نکالا اسکا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیکر اس نے وہ رنگ اسکی انگلی میں پہنا دی۔۔
ہاں۔۔۔یہ اب خوبصورت لگ رہی ہے۔۔
اور دیکھو یہ بالکل میری انگلی کے سائز کے مطابق ہے وہ جیسے کچھ اور ایکسائٹڈ ہوئی تھی۔۔۔
تمہاری انگلی کا سائز لیکر بنائی گئی ہے کیونکہ تمہاری ایک رنگ لیکر گیا تھا میں۔۔
اس نے اسکے ہاتھ کو چومتے ہوئے کہا جس میں رنگ پہنا تھا۔
یہ ویڈنگ گفٹ ہے تمہارے لیے۔ سالار نے اسکا ہاتھ چھوڑتے ہوئے کہا. اس نے کچھ حیران سالار کو دیکھا۔
ویڈنگ گفٹ؟؟ چار مہینے ہوگئے ہیں شادی کو۔۔۔
ہاں۔۔۔۔۔میں نے تمہیں ویڈنگ گفٹ نہیں دیا تھا۔۔پہلے یاد نہیں تھا بعد میں پیسے نہیں تھے اس نے ہنس کر کہا۔۔۔۔۔۔۔
اور اب کہاں سے آئے پیسے۔۔۔
آگئے کہیں سے۔۔اس نے ٹالا۔۔امامہ نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا۔۔
کوئی غلط کام نہیں کیا میں نے۔۔۔وہ بے اختیار شرمندہ ہوئی۔۔
میں نے کب کہا کہ۔۔۔۔۔۔۔۔
چلو ڈاکٹر صاحب کے ہاں چلتے ہیں اور سعیدہ اماں سے بھی مل کر آتے ہیں۔۔۔میرےبیگ میں کچھ گفٹس ہیں انکے لیے وہ نکال لو۔۔سالار نے اسے بات مکمل نہیں کرنے دی تھی۔۔
تھینک یو سالار۔۔۔وہ جاتے جاتے ٹھٹکا۔۔۔۔
کس لیے۔۔۔؟؟
ہر چیز کے لیے۔۔۔
یہ سب تمہارا ہی ہے۔۔۔امامہ نے نظریں چرائی۔۔۔
میں نے سوچا تمہیں یاد بھی نہیں ہوگا کہ تم نے مجھے شادی پر کوئی گفٹ نہیں دیا۔۔۔۔۔۔اپنے ہاتھ کو دیکھتے ہوئے خوشی سے سرشار ہوئی تھی۔۔۔وہ واحد گلہ تھا جو وہ سالار کے لیے دل میں رکھے ہوئے تھی.
نہیں بھولا نہیں تھا۔۔
************************
مائی گاڈ۔۔۔۔دیکھو۔۔۔وہ واک وے پر چلتے چلتے بے اختیار ٹھٹکی تھی۔۔۔
سالار نے اسکی نظروں کا تعاقب کیا۔۔وہ دونوں ریس کورس میں لگنے والے ایک میلے کو دیکھنے آئے تھے ۔اب بے مقصد میلے کی جگہ سے کچھ دور چہل قدمی میں مصروف تھے جب امامہ واک وے کے داہنی طرف درختوں کے اطراف پانی میں ڈوبی ہوئی گھاس میں نظر آنے والے عکس کو دیکھ کر ٹھٹک گئیی تھی۔اس عکس کو دیکھ کر وہ بھی کچھ دیر کے لیئے سحرزدہ سا ہوگیا تھا۔۔یوں لگ رہا تھا جیسے وہ رنگ ونور سے بھری کسی وادی کے کنارے کھڑے اس میں چمکتے ہوئے رنگیں ہیرے جواہرات کے درخت دیکھ رہے ہو یا الف لیلی کا کوئی منظر دیکھ رہے ہو ۔ جیسے جنت میں رات ہوگئی ہو۔۔۔
طویل خاموشی کے بعد اس نے امامہ کی آواز سنی۔اس نے گردن موڑ کر اسے دیکھا ۔۔
ایسی ہوتی ہوگی جنت؟؟ سالار نے اسے کہتے سنا۔۔
وہ کچھ کہنے کی بجائے دوبارہ اس پانی کو دیکھنے لگا۔۔
جنت میں ستارے ہونگے؟ وہ پوچھ رہی تھی۔۔
ہاں بہت سارے ہونگے۔۔اس نے اندازہ لگایا۔۔
اتنے رنگوں کے؟
۔ کائنات میں موجود ہر رنگ۔۔۔وہ بے اختیار محظوظ ہوکر ہنسی۔۔اسے جواب پسند آیا ۔
رات ایسی منور ہوتی ہوگی۔۔۔عکس پہ نظریں جمائے وہ جیسے بے خود ہورہے تھے۔۔
اس سے زیادہ روشن اس سے زیادہ منور۔۔۔سالار نے بے اختیار کہا۔۔اس نے اپنی انگلی سے عکس کو چھونے کی کوشش کی ۔۔سالار نے بروقت اسے کھینچا۔۔
درختوں پر لائٹس آن ہیں پانی میں کرنٹ بھی ہوسکتا ہے۔۔وہ ناراض ہوا تھا۔۔
میں اسے چھونا چاہتی تھی۔۔
یہ عکس جنت نہیں۔۔
جنت میں اور کیا ہوگا۔
تم۔۔۔۔۔۔اس نے گردن موڑ کر دیکھا اسے وہ عکس کو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
صرف میں؟؟ اور تم نہیں ہوں گے؟؟ پتا نہیں۔ اس نے گردن موڑ کے عجیب مسکراہٹ کیساتھ اسے دیکھا۔۔
تو پھر تم کیسے جانتے ہو کہ میں وہاں ہونگی۔۔۔اس نے اسے تنگ کیا۔۔
جنت کے علاوہ کہی اور رکھا جاسکتا ہے تمکو؟؟ اس نے جواباً سوال کیا۔ وہ ہنس پڑی۔۔
اتنی آسانی سے مل جاتی ہے جنت؟ اس نے سالار کو بتایا۔۔۔
مجھے آسانی سے نہیں ملے گی تمہیں آسانی سے مل جائیگی۔۔۔۔۔ اس کا لہجہ پھر عجیب سا تھا۔۔ ۔
کیوں؟؟ وہ حیران ہوئی۔۔۔
تم جتنی آسانی سے ہر چیز میں جنت ڈھونڈ لیتی ہو میں آج تک نہیں ڈھونڈ سکا۔ اس لیئے کہہ رہا ہوں۔۔۔وہ ٹھیک کہہ رہا تھا۔۔۔
دو دن پہلے وہ گھر کے لیئے ایک لیمپ خریدنے گئے تھے۔۔وہ رات کو ناول پڑھتے پڑھتے لیمپ شیڈ کو دیکھنے لگی ۔ وہ ای میل چیک کرنے کے بعد اپنا لیپ ٹاپ بند کرنے لگا تھا۔۔تو اس نے امامہ کو دیکھا۔
کیا دیکھ رہی ہو تم؟ وہ حیران ہوا۔۔
بیوٹی فل۔۔۔اس نے بے ساختہ لیمپ شیڈ کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔
ہاں اچھا ہے۔۔۔اس نے سرسری انداز میں کہا۔
یہ کونسے پھول ہیں؟؟
پھول؟؟ سالار نے لیمپ شیڈ کو حیرانی سے دیکھا ۔اس نے پہلی بات اس پرل کلر کے شیڈ پر بنے پیٹرن کو دیکھا۔۔۔سنہری مائل پیلے پھولوں کا ایک نفیس پیٹرن تھا۔۔
نہ یہ گلاب ہے نہ ہی ٹیولپ ہے۔۔وہ جیسے پھولوں کو پہچاننے کی کوشش کر رہی تھی پھر جیسے اس نے ہتھیار ڈال دییے۔۔
ایسے پھول جنت میں ہونگے؟؟ وہ ہنس پڑا۔۔
اچھا۔۔۔۔۔
دیکھو یہ پھول رنگ بدل رہے ہیں۔۔۔۔لیکن یہ رنگ نہیں بدل رہے بلکہ یہ کھل رہے ہیں۔۔۔سالار جیسے کسی سحر میں آیا تھا وہ پھول واقعی کھل رہے تھے۔۔۔
LOVELY
وہ سراہے بغیر نہ رہ سکا۔اسے اب سمجھ آیا کہ یہ لیمپ اتنا مہنگا کیوں تھا۔۔
اور ایک ہفتے پہلے اسکی دراز صاف کرتے ہوئے سالار کی ویسٹ پیپر باکس میں سے وہ ایک پوسٹ کارڈ اسکے پاس لیکر آئی تھی۔۔۔
ہاں۔۔۔۔۔اسے پھینک دیا ہے میں نے۔۔۔۔بیکار ہے۔۔۔اس نے امامہ کے ہاتھ میں وہ پوسٹ کارڈ دیکھ کر کہا۔۔وہ کارڈ کو لیئے اسکے پاس آکر بیٹھ گئی۔۔۔۔سالار دیکھو کتنی خوبصورت جھیل ہے۔۔اور دیکھو کتنا سکون ہے اس جگہ پر۔۔
یہ صندل سے بنی ہے۔اس کشتی کا رنگ دیکھو۔۔یہ صندل کا رنگ ہے۔
ایسا لگتا ہے جیسے کوئی صبح سویرے اس کشتی میں بیٹھ کر کہی جاتا ہو۔۔۔۔
کتنی سکرینٹی ہے اس سین میں ۔۔۔۔۔ایسے جیسے یہ جنت ہو۔۔۔۔میں نہ بتاتی تو تم تو اسے پھینک رہے تھے۔۔وہ بے اختیار اسکا چہرہ دیکھنے لگا۔۔۔وہ واقعی اسکی زندگی میں نہ آتی تو وہ جنت کو۔۔۔۔۔۔۔
اسکی پکچر بنالو سیل فون کیساتھ۔۔۔امامہ کی آواز نے یکدم اسے چونکا دیا. ۔۔۔سالار نے سیل فون نکال کر چند تصویریں کھینچی۔۔اور سیل اسے تھما دیا۔۔اس نے باری باری اس تصویروں کو دیکھا اور مطمئن ہوگئ۔۔
چلیں۔۔۔؟؟سالار نے اس سے کہا۔۔۔
ہاں۔۔۔۔دونوں نے آخری نظر عکس پر ڈالی اور چل پڑے۔۔۔
سالار نے چلتے ہوئے اسکا ہاتھ پکڑ لیا۔۔۔
خاموش کیوں ہوگئے۔۔۔کوئی بات کرو۔۔امامہ نے چند قدم چلنے کے بعد کہا۔۔
تم کرو میں سن رہا ہوں۔۔
ہوسکتا ہے تمہیں مجھ سے پہلے جنت مل جائے۔۔امامہ نے اپنے جملء کا مفہوم سمجھے بنا اسکو تسلی دی۔۔وہ ہنس پڑا تھا۔۔۔
چاہتا تو میں بھی یہی ہوں۔۔۔وہ بڑبڑایا۔۔۔
تم سے پہلے مرنا چاہتا ہوں میں۔۔۔اسے چلتے ہوئے ٹھوکر لگی۔۔کوئی چی جیسے اسکے جسم سے ایک لمحے کے لیئے تھراتی ہوئ گزری۔۔۔وہ جنت ڈھونڈتی پھر رہی تھ اس سے پہلے سامنے جو شے کھڑی تھی وہ اسے بھول گئ تھی۔۔۔
تم کیوں کہہ رہے ہو اسطرح۔۔وہ رک گئی اور اس نے سالار سے اپنا ہاتھ چھڑایا۔۔
تم نے ہی تو کہا تھا شاید مجھے تم سے پہلے جنت مل جائے۔۔۔
لیکن میں نے مرنے کا نہیں کہا تھا۔۔۔
کیا اس کے بنا مل سکتی ہے؟؟
وہ بول نہ سکی۔۔وہ ایک دوسرے کا چہرہ دیکھتے رہے پھر سالار نے اسکی آنکھوں میں نمی امڈتے دیکھی۔۔۔
ٹھیک ہے۔۔جو مرضی کہو۔۔اسکی آواز میں خفگی تھی۔۔
سالار نے اسکا ہاتھ پکڑ کر معذرت خواہانہ اندا میں دبایا۔۔۔
میں نے صرف تمہاری بات دہرائی تھی۔۔
اور میرا وہ مطلب نہیں تھا جو تم نے نکالا۔۔
میں سمجھتا ہوں۔۔
وہ دونوں پھر چلنے لگے۔۔۔
کیا تم جنت میں مجھے اپنا پارٹنر منتخب کروگی۔؟؟
وہ بول نہ سکی۔۔۔۔وہ ہنس پڑا۔۔۔
یعنی نہیں۔۔۔۔
میں نے یہ کب کہا۔۔۔وہ رک گئ۔
لیکن تم نے کچھ بھی کب کہا۔۔
میں سوچ رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوچ لیا ۔۔۔پھر اب بتاؤ۔۔۔وہ ہنسی
تمہیں کیا ہوا ہے۔۔۔
جنت کی بات تم نے شروع کی تھی۔۔اس نے سالار کا چہرہ دیکھا۔۔
شاید۔۔۔وہ خاموش کھڑا اسے دیکھتا رہا۔۔۔
تمہیں یقین نہیں ہے۔

اس نے ہنس کر اس سے پوچھا۔۔۔
یقین کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔۔۔
اگر تم جنت میں پہنچ گئے تو پھر تم کو ہی چننا پڑے گا۔۔۔اس نے مذاق کیا۔۔
اور اگر کوئی اور بھی پہنچ گیا تو؟ اسکی مسکراہٹ غائب ہوگئ۔۔
دونوں کے درمیان خاموشی کا لمبا وقفہ آیا تھا۔۔اس اور کا تعارف نہ امامہ نے مانگا تھا نہ سالار نے کروایا تھا۔۔مگر اس اور نے اسے سالار سے نظریں چرانے پر مجبور کیا تھا۔وہ اس سے کہہ نہ سکی بات اسکے انتخاب پر کبھی نہیں رہی تھی بات جلال کے انتخاب پر تھی۔۔اس کا انتخاب جنت میں بھی شاید وہ نہ ہوتی لیکن یہ اعتراف میں کوڑے کھانے جیسی ذلت تھی۔۔چپ بہتر تھی لیکن اسے یہ اندازہ نہیں ہوا تھا کہ اسکی چپ سالار کو اس وقت کوڑے کی طرح لگی تھی۔۔۔
***—-*****—–***-++++
سکندر عثمان کو چند لمحوں کے لیے اپنی سماعتوں پہ یقین نہیں آیا تھا۔
آپ کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔ وہ پلاٹ تو بک ہی نہیں سکتا۔ سالار کے نام ہے وہ۔۔۔۔۔۔۔
انہوں نے احتشام الدین سے کہا۔۔۔وہ انکے ایک کاروباری دوست تھے۔۔اور چند منٹ پہلے اس نے سکندر کو فون کر کے ایک پلاٹ کی فروخت کے بارے میں شکایت کی تھی۔ انکے کسی دوست نے انہی کے وکیل کے ذریعے ایسا ایک پلاٹ کچھ دن پہلے خریدا تھا ۔۔جو سکندر عثمان کا تھا۔۔اور جس کو ایک ڈیڑھ سال پہلے احتشام الدین نے خریدنے کی آفر کی تھی۔۔لیکن سکندر نے تب اسے یہ بتایا تھا کہ جائداد کی تقسیم کے دوران وہ یہ پلاٹ سالار کے نام کرچکا ہے۔البتہ اس نے وعدہ کیا تھا کہ اگر کبھی پلاٹ کو فروخت کرنے کی ضرورت پڑی تو احتشام الدین پہلی ترجیح ہوگا۔۔
میرے وکیل کے ذریعے سارا پیپر ورک ہوا ہے۔ آپ کہیں تو آپکو نیوز پیپر میں پلاٹ کی منتقلی کا ایڈ بھی بھجوا دیتا ہوں۔
آپ کے بیٹے نے پلاٹ ڈیڑھ کروڑ میں بیچا ہے۔ مجھے تو افسوس اس بات کا ہے کہ میرے وکیل نے منتقلی کے بعد بتایا مجھے۔ سکندر عثمان کا سر گھوم کر رہ گیا۔۔
میں ابھی سالار سے بات کر کے دوبارہ آپ سے بات کرتا ہوں۔ سکندر عثمان نے یکدم کہا۔
انہیں ابھی تک یقین نہیں آرہا تھا کہ وہ انکو بنا بتائے پلاٹ کیسے بیچ سکتا ہے۔ سالار اس دن اسلام آباد میں تھا اور اس وقت اپنے کسی کام سے مارکیٹ جا رہا تھا جب اسے سکندر کی کال ملی۔
سالار تم نے اپنا پلاٹ بیچ دیا ہے؟؟
اسکو ہیلو کہتے ہی سکندر نے دوسری طرف سے کہا۔۔
چند لمحے سالار کچھ بول نہ سکا۔ پلاٹ کی فروخت کا سکندر کو اتنی جلدی پتہ چل جائے گا اسے اندازہ نہیں تھا۔۔
تم میرے آفس آؤ. ۔۔۔ اس نے سرد مہری سے فون بند کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔۔
کب بیچا تھا پلاٹ؟؟
اس کے آفس پہنچ کر کرسی پہ بیٹھتے ہی سکندر نے اس سے پوچھا۔۔
پچھلے مہینے۔ اس نے لہجہ ہموار رکھنے کی کوشش کی تھی۔۔۔
کیوں؟؟
مجھے کچھ رقم کی ضرورت تھی۔۔
کس لیئے۔۔؟؟
سالار اس بار جواب دیتے ہوئے جھجکا۔۔۔
کس لیئے رقم کی ضرورت تھی۔۔
مجھے امامہ کو ایک رنگ خرید کر دینی تھی۔۔۔۔سکندر کو لگا کہ اس نے سننے میں غلطی کی ہے۔۔۔
کیا؟؟؟؟؟
امامہ کے لیئے رنگ خریدنی تھی۔۔اس نے اپنا جواب دہرایا۔۔۔
لاکھ دو لاکھ کی رنگ کے لیئے تم نے پلاٹ بیچ دیا۔۔۔
اپنا کریڈٹ کارڈ استعمال کرتے بنک سے پرسنل لون لیتے یا مجھ سے کہتے۔۔۔
میں لون لیکر اسے گفٹ نہیں کرنا چاہتا تھا۔اور ایک دو لاکھ کی انگوٹھی نہیں تھی کچھ زیادہ مہنگی تھی۔۔آپ اتنے پیسے کبھی نہ دیتے مجھے۔۔ وہ بڑی رسانیت سے کہہ رہا تھا۔۔۔
کتنی مہنگی ہوتی۔۔چار یا پانچ لاکھ کی ہوتی۔۔۔چلو دس لاکھ کی ہوتی میں دے دیتا تمہیں۔ سکندر بے حد خفا تھے۔۔وہ پلاٹ پونے دو کروڑ کا تھا جسے وہ ڈیڑھ کروڑ میں بیچ آیا تھا۔۔
دس لاکھ کی بات نہیں تھی۔۔۔سکندر نے اسے کہتے سنا۔۔۔
پھر؟؟ سکندر کے ماتھے پر بل آئے۔۔۔سالار نے اپنا گلا صاف کیا۔۔۔
13.7 یہ واحد طریقہ تھا جس وہ اس کی قیمت تین ہندسوں میں کر پایا تھا۔۔
کیا؟؟
سکندر کو کچھ سمجھ نہیں آئی۔
13.7۔۔۔سالار نے ایک بار پھر گلہ صاف کر کے اگلا لفظ کہا۔۔سکندر کو چند لمحے سانس نہیں آیا۔۔۔۔
اسے پہلی بار اس کی بات سمجھ میں آئی تھی۔۔۔
13.7ملین کی رنگ دی ہے تم نے اسے؟؟ ان کا ذہن جیسے بھک اڑ گیا۔۔سالار ٹیبل پر پڑے پیپرویٹ پر انگلیاں پھیر رہا تھا۔۔۔
سالار ایک کروڑ سینتیس لاکھ کی رنگ دی ہے تم نے اسے۔۔۔
جی۔۔۔۔۔اس بات سالار نے نظریں اٹھا کر سکندر کو دیکھا۔۔۔
سکندر بے یقینی سے اسکی آنکھوں میں دیکھتے رہے۔سالار نے نظریں چرا لی۔ وہ اب انکے عقب میں لگی پینٹنگ کو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
اسکے چہرے پہ نظریں جمائے سکندر نے ریوالونگ چیئر کی پشت سے ٹیک لگا لی۔ وہ اگر اسے الو کا پٹھا کہتے تھے تو ٹھیک ہی کہتے تھے۔
 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: