Aab e Hayat Novel by Umera Ahmed Read Online – Episode 16

0

آب حیات از عمیرہ احمد – قسط نمبر 16

–**–**–

 

کہاں سے لی تھی رنگ؟ بلآخر انہوں نے لمبی خاموشی کو توڑا۔
Tiffanyسے۔
انہیں ایسے ہی کسی نام کی توقع تھی۔
ڈیزائن کیا ہوگا؟ اس مالیت کی رنگ نادر ہوتی ہے۔
جی! jewellery statment
اس نے tiffany کی سب سے مہنگی رینج میں آنے والی جیولری کولیکشن کا نام لیا۔
تو کوئی اس سے زیادہ مہنگی رنگ نہیں تھی؟ ابھی دوسرا پلاٹ پڑا تھا۔ چار ہیرے اور لگوا دیتے اس میں۔
سکندر نے ٹیبل پر پڑے سگار کیس سے ایک سگار نکالتے ہوئے بے حد سنجیدگی سے اس سے کہا۔ سالار کے دائیں گال میں ڈمپل پڑا۔ اس نے یقیناً اپنی مسکراہٹ ضبط کی تھی۔ سکندر کا خیال تھا اس کی یہ مسکراہٹ شرمندگی کی وجہ سے تھی۔ انکے پاؤں تلے سے یقیناً زمین کھسک جاتی اگر انہیں یہ پتہ چلتا کہ اس نے پہلے دونوں پلاٹس بیچ کر اسے ایک نیکلس دینے کا سوچا تھا۔ لیکن پھر اسے انگوٹھی کا خیال آگیا جو امامہ مستقل طور پہ پہن سکتی تھی۔
میں کتابوں میں جب رانجھا، فرہاد، رومیو، مجنون وغیرہ کے بارے میں پڑھتا تھا تو میں سوچتا تھا کہ یہ ساری لفاظی ہے۔ کوئی مرد اتنا الو کا پٹھا نہیں ہو سکتا۔ لیکن تم نے تو یہ ثابت کردیا مجھ پر کہ یہ ممکن ہے۔ کسی بھی زمانے میں کوئی بھی مرد کسی بھی عورت کے لیے عقل سے پیدل ہو سکتا ہے۔
سالار نے اس بے عزتی کو سر جھکائے شہد کے گھونٹ کی طرح پیا۔ اسکی اتنی بے عزتی کرنا تو سکندر کا حق تھا۔۔
بیوی کے لیے تو صرف ایک شاہجہان نے پیسے لٹائے تھے وہ بھی اسکے مرنے کے بعد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تمہیں کیا ہو گیا تھا؟ سکندر نے جیسے اسے شرم دلائی۔۔۔
میں نے دراصل امامہ کو ابھی تک شادی کا کوئی گفٹ نہیں دیا تھا۔ اسکے لہجے میں بلا کا اطمینان تھا۔۔۔
سکندر زندگی میں پہلی بار اسکی ڈھٹائی سے متاثر ہوئے تھے۔
تو اپنے پیسوں سے اسے گفٹ دیتے۔ انہوں نے طنزیہ کہا تھا۔
وہ بھی دے دیے ہیں اسے۔ اس نے طنز کا جواب سنجیدگی سے دے کر انہیں حیران کر دیا۔
وہ اس بادشاہ کی شکل دیکھ کر رہ گئے جو اپنی بیوی پر اپنی سلطنت لٹانے پر تلا تھا۔
اپنا سگار ایش ٹرے میں رکھتے ہوئے وہ ٹیبل پر کچھ آگے جھکے اور انہوں نے جیسے ایک ہمراز کی طرح کہا۔ سالار ایسا بھی کیا ہے امامہ میں کہ تم عقل سے پیدل ہو گئے ہو؟
یہ طنز نہیں تھا۔ وہ واقعی جاننا چاہتے تھے۔
سالار نے چند لمحے سوچنے کے بعد کہا۔
بس! وہ اچھی لگتی ہے مجھے۔
وہ اس وقت سکندر کو تیس سالہ مرد نہیں بلکہ تین سال کا ایک معصوم بچہ لگا۔
ایک طویل سانس لیتے ہوئے وہ سیدھے ہوگئے۔
اسے پتہ ہے اس رنگ پرائس کا؟؟
نہیں۔۔۔۔
سکندر کچھ حیران ہوئے۔ تو یہاں اپنی محبوبہ کو مرعوب اور متاثر کرنے کا کوئی جذبہ بھی کارفرما نہیں۔
آپ بھی ممی یا کسی اور سے بات نہ کریں۔ میں نہیں چاہتا کہ امامہ کو پتا چلے۔ وہ اب ان سے کہہ رہا تھا۔
باقی تیرہ لاکھ کا کیا کیا؟ وہ اب کچھ اور کارناموں کے بارے میں جاننا چاہتے تھے۔
سات لاکھ تو امامہ کو حق مہر دیا، وہ ڈیو تھا۔ اس نے حق مہر کی اصل رقم بتائے بغیر کہا۔ اور باقی چھ لاکھ میں نے کچھ خیراتی اداروں میں دے دیئے۔
سکندر کا غصہ دھویں کے مرغولوں میں تبدیل ہونے لگا۔ غصے کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔
سالار نے باپ کے ہونٹوں پہ ایک مشفقانہ لیکن بےحد معنی خیز مسکراہٹ نمودار ہوتے دیکھی۔
اور حق مہر صرف سات لاکھ تو نہیں ہوگا۔۔۔۔۔ ہے نا سالار؟ وہ کتنے ملین دیا گیا؟ انہوں نے بےحد پچکارتی ہوئی آواز میں اس سے کہا۔
سالار بے اختیار ہنسا۔
جانے دیں پاپا۔۔
یعنی ملین میں ہے۔ ان کا اندازہ ٹھیک تھا۔۔
اب میں جاؤں؟ سالار نے جواب دینے کی بجائےپوچھا۔ سکندر نے سر ہلادیا۔۔۔
وہ اپنی کرسی سے اٹھ کر ان کی طرف آیا۔ اور اس نے جھکتے ہوئے سکندر کو ساتھ لگایا۔ پھر وہ سیدھا ہو گیا۔
سالار! جو دوسرا پلاٹ ہے، اس کے پیپرز مجھے لاہور پہنچ کر بھجوادینا۔ سکندر نے کہا۔
پاپا، ٹرسٹ می۔۔۔ سالار نے کہا۔
شٹ اپ۔۔۔۔
اوکے! وہ ہنس پڑا تھا۔۔
****—**–*-*–*******+-*
Oh tiffany statement!
وہ اس رات کسی ڈنر پر تھے جب اس کی رنگ مسز یوئرز نے نوٹس کی۔
وہ بزنس کلاس کا ایک بڑا نام تھی۔ اور اپنے لباس اور جیولری کی وجہ سے خاصی مشہور تھی۔۔
مائی ویڈنگ رنگ! امامہ نے مسکرا کر کہا۔۔۔
وہ اسکا ہاتھ پکڑے بے حد مرعوب انداز میں کہہ رہی تھی۔۔اور انکا یہ انداز اس ٹیبل پہ بیٹھی تمام خواتین میں اس رنگ کو دیکھنے کا اشتیاق پیدا کر رہا تھا۔۔
The most beautiful and expensive picec of jewellary under this roof tonight…
لکی ویمن۔ تمہارے شوہر کا ذوق بہت اعلی ہے۔۔۔
امامہ ان ستائشی جملوں پہ فخریہ انداز میں مسکرائی۔۔
کیا قیمت ہوگی؟ بائیں جانب بیٹھی مسز زبیر نے بھی اس رنگ کو ستائشی انداز میں دیکھتے ہوئے کہا۔۔
مجھے نہیں پتا۔۔شاید چار پانچ لاکھ۔ امامہ نے گلاس اٹھا کر پانی کا گھونٹ بھرتے اندازہ لگایا۔۔
ایک لمحہ کے لیے اس نے ٹیبل پر چھا جانے والی خاموشی کو محسوس کیا۔۔پھر خود پہ جمی نظروں کو۔۔۔
ڈالرز یا پاؤنڈز؟؟
اس نے حیرانی سے مسز یوئرز کی شکل دیکھی۔ پھر ہنس پڑی۔۔ اس نے اسے مذاق سمجھا تھا۔۔ میرا شوہر اتنا بے وقوف نہیں ہوسکتا۔۔اس نے بے ساختہ کہا۔
مسز یوئیرز نے دوبارہ سوال نہیں کیا۔ وہ سمجھی امامہ قیمت نہیں بتانا چاہتی۔۔۔
سالار اس رنگ کی قیمت کیا ہے؟ اس رات بیڈ پر بیٹھے ناول پڑھتے ہوئے امامہ کو ایک دم مسز یوئرز کا سوال یاد آگیا۔۔
کیوں؟؟ وہ بھی کوئی کتاب پڑھتے ہوئے چونکا۔
سب لوگوں نے بہت تعریف کی۔ اس نے بےحد فخریہ انداز میں کہا ۔
دیٹس گُڈ۔۔۔ وہ مسکرا کر دوبارہ کتاب کی طرف متوجہ ہوا۔۔
مسز یوئرز نے قیمت پوچھی تھی میں نے کہا چار پانچ لاکھ کی ہوگی۔انہوں نے پوچھا ڈالرز یا پاؤنڈز میں۔۔۔ میں نے کہا میرا شوہر اتنا بے وقوف نہیں ہوسکتا۔۔۔۔وہ بے اختیار ہنس پڑا۔۔۔۔
کیا ہوا؟؟؟ وہ چونکی۔۔
کچھ نہیں۔۔۔کچھ پڑھ رہا تھا۔۔سالار نے بے ساَختہ کہا۔۔
تو کیا قیمت ہے اسکی؟ امامہ نے دوبارہ پوچھا۔
یہ انمول ہے ۔۔سالار نے اسکا ہاتھ پکڑ کر کہا۔۔
کوئی بھی چیز جو تمہارے ہاتھ میں ہو انمول ہے۔۔
پھر بھی۔۔۔۔۔۔اس نے اصرار کیا۔۔
Two hundred and fifty sex
سالار نے ڈالرز ساتھ نہیں لگایا۔۔
اوہ اچھا! میں زیادہ ایکسپینسیو سمجھ رہی تھی۔وہ کچھ مطمئن ہوگئ اور دوبارہ ناول پڑھنے لگی۔ وہ اسکا چہرہ دیکھنے لگا۔۔اسے فریب دینا، بہلانا بہت آسان تھا۔
امامہ نے چند لمحے بعد اسکی نظروں کو اپنے چہرے پہ محسوس کیا ۔
کیا ہوا؟؟ وہ مسکرادی۔ وہ ان نظروں کی عادی تھی۔
تمہیں کچھ بتانا چاہتا تھا۔
کیا؟؟
You are the best thing ever happened to me,
وہ ایک لمحے کے لیئے حیران ہوئی پھر ہنس پڑی۔۔
آئی لو یو۔۔وہ پھر ہنس پڑی اور بلش ہوئی۔۔۔
تھینک یو۔۔۔جواب وہی تھا جو ہمیشہ آتا تھا۔۔اس بار وہ ہنس پڑا
******—–******—-******
امامہ!
وہ گاڑی کے دروازے کو بند کرتے ہوئے کرنٹ کھا کر پلٹی۔۔۔وہ جلال تھا۔۔۔۔پارکنگ میں اسکے برابر والی گاڑی سے اسے نکلتے ہوئے دیکھ کر ٹھٹکا تھا۔۔
اوہ مائی گاڈ! میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ آج تم سے یہاں ملاقات ہوگی۔۔
ہاؤ آر یو؟ وہ بے حد ایکسائٹڈ انداز میں اسکی طرف آیا تھا ۔
وہ بت بنی اسے دیکھ رہی تھی۔۔وہ اسکی اڑی رنگت پہ غور کیے بنا بے تکلف دوستوں کی طرح کہہ رہا تھا۔۔۔
امامہ نے بلآخر مسکرانے کی کوشش کی۔۔یہ ضروری تھا۔۔۔۔بے حد ضروری تھا۔۔۔جلال سے زیادہ خود اسکے لیے۔۔اسے نہ وہ پرانا دوست سمجھ سکتی تھی نہ بے تکلف ہوسکتی تھی۔۔۔
میں ٹھیک ہوں، آپ کیسے ہیں۔۔۔؟ اس نے مسکرانے کی کوشش کی۔۔نظریں تو وہ اس سے اب بھی نہیں ملاسکتی تھی وہ ویسا ہی تھا جیسے اس نے آخری بار کلینک پر دیکھا تھا۔۔
میں تو بالکل ٹھیک ہوں۔۔میں نے چند ماہ پہلے شادی کرلی ہے۔۔
اسکی سمجھ میں نہیں آیا اس نے اسے یہ خبر دینا کیوں ضروری سمجھا۔۔کیا اسکا اس سے کوئی تعلق تھا۔۔
بہت اچھی ہے میری بیوی ، وہ بھی ڈاکٹر ہے۔۔برٹش نیشنل ہے۔اسپیشلائزیشن بھی اس نے وہی سے کی ہے۔۔۔۔امیزنگ وومین۔۔۔اس نے چار جملوں میں اس پر اپنی بیوی کی حیثیت واضح کی۔۔۔
ایک لمحے کے لیئے وہ بھول گئی کہ وہ بھی کسی کی بیوی ہے۔۔اسکے منہ سے کسی دوسری عورت کے لیے اپنی بیوی کے الفاظ نے اسے چند لمحوں کے لیئے ادھیڑا تھا۔۔
مبارک ہو ۔۔اس نے بلآخر وہ الفاظ کہہ دیے جو اسے کہنا چاہئے تھے۔
تھینکس۔۔۔میں تمہیں ضرور بلاتا لیکن تمہارا کنٹیکٹ نمبر میرے پاس نہیں تھا۔ پہلی بار تو نہیں بلا سکا تھا لیکن دوسری بار تو بلا سکتا تھا۔۔۔جلال نے بات کرتے کرتے جیسے مذاق کیا تھا۔۔وہ مسکرا نہ سکی۔۔
تم نے تو اسکے بعد کوئی رابطہ ہی نہیں کیا۔۔کوئی فون، کوئی وزٹ کچھ نہیں۔۔۔میں تو انتظار ہی کرتا رہا۔۔ وہ اب اسکا جاٰئزہ لے رہا تھا۔۔
یہ امامہ سات آٹھ ماہ پہلے والی امامہ سے بے حد مختلف تھی۔۔۔۔وہ اب بھی پہلے کی طرح ایک چادر میں ملبوس تھی لیکن اسکی چادر اور لباس بے حد نفیس اور مہنگے تھے۔۔اسکے ہاتھوں اور کانوں میں پہنی ہوئی جیولری نے جلال کو اور بھی چونکا دیا۔۔اسکی فنگر میں ایک رنگ تھی لیکن یہ وہ وہم تھا جسکی وہ تصدیق نہیں چاہتا تھا۔۔امامہ ہاشم بہت بدل چکی تھی۔۔۔کیسے ۔۔۔۔۔اس سوال نے اسے بے چین کیا۔۔۔
اس کے عقب میں کھڑی اس قیمتی گاڑی کو بظاہر سرسری دیکھتے ہوئے جلال نے اس سے پوچھا۔۔
تم اب بھی اسی فارماسیوٹیکل کمپنی میں کام کرتی ہو؟؟ اس کا جی چاہا تھا کہ کاش اس میں آنے والی ساری تبدیلیاں کسی بونس یا کسی ہینڈسم پیکج کی مرہون منت ہو۔۔مرد کو اپنی متروکہ عورت کو موو ڈون دیکھ کر ہتک کا احساس ہوتا ہے اور وہ اس احساس سے بچنا چاہتا تھا۔۔
نہیں میں نے جاب چھوڑ دی تھی۔۔۔اس نے مدھم آواز میں کہا۔ ۔
اوہ اچھا۔۔۔وہ بڑبڑایا۔۔۔
تو تم کچھ نہیں کر رہی آج کل؟؟؟
امامہ چند لمحے خاموش رہی۔
میری شادی ہوگئی ہے۔۔وہ اب بھی یہ نہ کہہ سکی کہ میں نے شادی کرلی ہے۔۔جلال کے چہرے سے ایک لمحے کے لیئے مسکراہٹ غائب ہوگئی۔۔
اوہ اچھا۔۔۔مبارک ہو۔۔وہ بروقت سنبھلا۔۔
تم نے بتایا ہی نہیں ۔۔نہ انوائٹ کیا۔۔کیا کرتا ہے وہ۔۔؟؟
آپ جانتے ہیں اسے۔۔سالار سکندر ۔۔اس نے گلا صاف کر کے کہا۔۔۔
اوہ۔۔۔ایک لمحے کے لیے جلال کے پاس کہنے کے لیے کچھ نہیں بچا ۔
وہ بنکر ہے۔۔۔۔۔۔۔
میں جانتا ہوں۔۔جلال اسکی بات کاٹ کر اسے سالار کے بنک اور اسکے عہدے کے بارے میں بتانے لگا۔۔
آپ کو کیسے پتا؟ وہ حیران ہوئی۔۔
آدھے شہر کو تمہارے شوہر کے بارے میں پتا ہوگا ۔۔
آؤ لنچ کرتے ہیں۔۔گپ شپ لگائیں گے۔۔اتنے عرصہ بعد ملے ہیں بہت ساری باتیں کرنی ہیں۔اس نے بے تکلفی اور گرمجوشی سے کہا۔۔
نہیں میں گروسری کے لیے آئ ہوں۔۔ڈنر کے لیئے مجھے کچھ چیزیں چاہیئے تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
امامہ نے اسے ٹالنا چاہا اسے یقین تھا وہ اصرار نہیں کریگا۔۔جلال کے بارے میں اسکا اندازہ آج بھی غلط تھا۔۔
یار گروسری بھی ہوجائے گی میں خود کروا دوں گا لیکن لنچ کے بعد۔۔وہ سامنے ریسٹورنٹ ہے ایک گھنٹے میں فارغ ہوجائیں گے ھم۔۔۔جلال نے اسے بات مکمل نہیں کرنے دی۔
میں۔۔۔۔۔۔۔اس نے کچھ کہنا چاہا لیکن جلال کچھ بھی سننے کے موڈ میں نہیں تھا۔۔وہ بادل نخواستہ اسکے ساتھ ریسٹورنٹ آگئی۔۔۔
تو کیسی گزر رہی ہے تمہاری لائف اپنے شوہر کیساتھ۔۔۔مینیو آرڈر کرتے ہوئے جلال نے بے تکلفی سے کہا۔۔۔امامہ نے اسکا چہرہ دیکھا وہ صرف سوال نہیں تھا۔۔۔وہ جیسے جاننا چاہتا تھا کہ وہ اسکے علاوہ کسی اور مرد کیساتھ خوش رہ سکتی ہے یا نہیں۔۔۔
بہت اچھی گزر رہی ہے میں بہت خوش ہوں سالار کیساتھ
گُڈ۔۔۔ارینج میرج تو نہیں ہوگی؟؟ سالار اور تم نے اپنی مرضی سے کی ہوگی۔۔۔اس نے جلال کا چہرہ پڑھنے کی کوشش کی۔۔وہ اس سوال سے کیا جاننا چاہتا تھا۔۔۔
ہاں! سالار نے اپنی مرضی سے مجھ سے شادی کی ہے۔۔اس نے فیملی سے پوچھا نہیں تھا بلکہ بتایا تھا۔۔سالار کا خیال تھا کہ مرد کو شادی کرتے ہوئے اپنی مرضی دیکھنی چاہیے فیملی کی نہیں۔۔۔
جلال کے چہرے کا رنگ بدلا تھا ۔۔۔
بہت زیادہ انڈیپینڈنٹ سوچ رکھتا ہے وہ۔۔اس نے چند لمحوں بعد جلال کو جیسے تاویل دینے کی کوشش کی۔۔۔تاویل پچھلے جملے سے بھی زیادہ چبھی تھی۔۔
ظاہر ہے۔۔۔سالانہ لاکھوں کمانے والے شوہر کی تعریف بیوی پر فرض ہوتی ہے۔۔
اس بار اسکا ہنس کر کہا ہوا جملہ امامہ کو چبھا تھا۔۔۔۔
لاکھوں کا تو مجھے پتہ نہیں لیکن اچھے شوہر کی تعریف بیوی پہ فرض ہوتی ہے۔۔
جلال نے اسکے جملے کو نظرانداز کرتے ہوئے ہنس کر کہا۔۔۔۔تو پتا رکھا کرو نا اسکے لاکھوں کا۔۔کیسی بیوی ہو تم؟؟ ڈیڑھ دوکروڑ تو بنا ہی لیتا ہوگا سال میں۔۔۔بہت بڑے بڑے مرجرز کروا رہا ہے تمہارا شوہر تمہیں پتا نہیں؟؟
نہیں۔۔۔ھم اور چیزوں کے بارے میں باتیں کرتے رہتے ہیں۔۔۔ضروری چیزوں کے بارے میں۔۔۔
اسکا لہجہ بے حد سادہ تھا لیکن جلال کے پیٹ میں گرہیں پڑی تھی۔اس نے زوردار قہقہہ لگایا۔ بعض دفعہ ہنسی کی شدید ضرورت پڑ جاتی ہے۔۔
چالاک مردوں کو ایسی ہی بیویوں کی ضرورت ہوتی ہے۔۔تم لوگوں کی رہائش کہاں ہے۔۔؟؟
اس نے جوتا مارا۔۔۔پھر معصومیت سے سوال کیا۔۔امامہ نے اسکے تبصرے پر کچھ کہنے کی بجائے اسے اپنا ایڈریس بتا دیا۔۔وہ اسکے ساتھ سالار کو مزید ڈسکس نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔
اوہ۔۔۔اپارٹمنٹ۔۔وہ بھی رینٹڈ۔۔۔کوئی گھر ور لینا چاہیئے تھا تم لوگوں کو۔۔اگر تم لوگ انٹرسٹڈ ہو تو میرے دو تین گھر ہیں پوش ایریا میں۔۔تم لوگ رینٹ کرلو۔۔۔جلال نے فیاضانہ آفر کی۔۔۔
نہیں۔۔۔۔نہیں ضرورت نہیں۔۔ھم کم فرٹیبل ہے وہاں۔۔۔امامہ نے کہا۔۔
تم سالار کیساتھ کسی دن آؤ نا کھانے پر۔۔بات کرتے کرتےاس نے یوں کہا جیسے وہ صرف دوست ہی تھے اور دوست رہے تھے۔۔وہ بول نہ سکی۔۔اگر وہ بے حس تھا تو بہت زیادہ۔۔اگر ظالم تھا تو انتہا کا۔۔۔
جلال میں اب چلتی ہوں۔۔بہت دیر ہورہی ہے۔۔
اسے پتا نہیں اچانک کیا ہوا وہ اپنا بیگ اٹھا کر یکدم کھڑی ہوگئ۔جلال کیساتھ وہ کپل بھی چونکا۔۔نہیں کھانا آنے والا ہے کھا کر نکلتے ہیں۔۔۔
نہیں مجھے گروسری کر کے پھر کوکنگ بھی کرنی ہے۔اور میرے شوہر کو تو گھر آتے ہی کھانا تیار ملنا چاہیئے۔۔آج ویسے بھی اس نے کچھ خاص ڈشز کہیں ہیں۔۔۔
اسکا انداز اتنا حتمی تھا کہ جلال اس بار اصرار نہ کرسکا۔۔
اچھا سالار کا کوئی ویزیٹنگ کارڈ اور اپنا کانٹیکٹ نمبر تو دے دو۔اس نے امامہ سے کہا۔اسکے بیگ میں سالار کے چند کارڈز تھے۔۔اس نے ایک کارڈ نکال کر جلال کے سامنے ٹیبل پہ رکھ دیا۔۔۔
اپنا فون نمبر بھی لکھ دو۔
وہ ایک لمحہ کے لیے ہچکچائی پھر اس نے کارڈ کی پشت پر اپنا سیل نمبر لکھ دیا۔۔
جلال کے پاس کھڑا آدمی تب تک کارڈ پر نام پڑھ چکا تھا۔۔۔
اوہ۔۔آپ سالار سکندر کی بیوی ہیں؟؟ وہ اسکے سوال پہ بری طرح چونکی ۔۔
فاروق صاحب بھی بنکر ہے۔ سالار کو جانتے ہونگے۔۔جلال نے فوراً کہا۔۔
بہت اچھی طرح سے۔۔۔اس آدمی کا انداز اب بالکل بدل چکا تھا۔۔۔اس نے امامہ کو اپنی بیوی سے متعارف کرایا۔۔
آپ کے شوہر بہت بریلیئنٹ بنکر ہے۔۔
فاروق نے اسکے لیے ستائشی کلمات ادا کیئے۔
ہمیں انوائٹ کیا تھا اس نے کچھ ماہ پہلے ویڈنگ ریسپشن پہ لیکن ھم امریکہ میں تھے۔مسز فاروق اب بڑی گرمجوشی سے کہہ رہی تھی۔۔اور امامہ کی جان پہ بن آئی تھی۔۔وہ اندازہ نہیں کرپائی تھی کہ وہ سالار کے کتنے قریب تھے یا صرف سوشل سرکل کا حصہ تھے۔۔۔
بہت کلوز فرینڈشپ ہے امامہ اور سالار کیساتھ میری بلکہ فیملی ٹائیز ہیں۔۔۔بس درمیان میں کچھ عرصہ آؤٹ آف ٹچ رہے ہیں ھم۔۔دس بارہ سال تو ہوگئے ہونگے ھماری فرینڈشپ کو امامہ؟؟ اسکی سمجھ میں نہیں آیا وہ کیا کہہ رہا ہے۔اس نے کچھ حیرانی سے جلال کو دیکھا۔۔
ویری نائس۔۔۔آپ سالار کیساتھ آئیں کسی دن ھماری طرف۔۔۔فاروق نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔چند رسمی جملوں کے تبادلے کی بعد وہ انہیں خداحافظ کہہ کر باہر نکل آئی لیکن وہ بہت اپ سیٹ تھی۔۔۔وہ سٹور میں کیا خریدنے آئی تھی بھول گئ تھی۔۔۔وہ ٹرالی لیئے ایک شیلف سے دوسرے شیلف کو دیکھتے گزرتی رہی۔۔پھر خالی ٹرالی پر نظر پڑنے پر اس نے سوچا کہ وہ کیا خریدنے آئ تھی لیکن ذہن کی سکرین پہ کچھ بھی نمودار نہیں ہوا۔۔اس نے بے مقصد چند چیزیں اٹھائ اور باہر آگئی۔۔پارکنگ سے گاڑی نکالنے کے بعد اسے ایک دم احساس ہوا کہ وہ گھر نہیں جانا چاہتی پھر اسے وہ ساری چیزیں یاد آنے لگی جسے وہ خریدنے آئ تھی۔۔لیکن اب وہ دوبارہ کہیں گروسری کے لیئے جانے کے موڈ میں نہیں تھی۔۔بے مقصد دوپہر میں سڑک پر ڈرائیو کرتے ہوئے اسے خود اندازہ نہیں ہوا تھا کہ وہ کہاں جارہی ہے۔اس کا خیال تھا کہ اس نے کچھ غلط ٹرن لی تھی اور اب رستہ بھول گئی ہے۔۔بہت دیر بعد اسے احساس ہوا کہ وہ لاشعوری طور پہ اس روڈ پر جارہی تھی۔۔جس طرف سالار کا آفس تھا۔۔وہ مال روڈ پر تھی اور ون وے کی وجہ سے اب پلٹ نہیں سکتی تھی۔۔ایک سگنل پر ایک لمبے چھوڑے ٹریفک جام میں پھنسے اسے وہ سڑک اور اپنی زندگی ایل جتنا لمبے لگے تھے۔۔۔
گاڑی بند ہوگئ اور سگنل کھل گیا تھا۔۔بے تحاشہ ہارن کی آوازوں پر اس نے چونک کر گاڑی سٹارٹ کرنے کی کوشش کی وہ ناکام رہی اور بری طرح نروس ہوئی۔۔ایک ٹریفک وارڈن اسکے قریب آیا۔۔
گاڑی سٹارٹ نہیں ہورہی ہے۔۔امامہ نے اس سے کہا۔۔
پھر لفٹر سے اسے ہٹانا پڑے گا۔۔ورنہ ٹریفک جام ہوجائے گا۔۔اس نے اسے بتایا۔۔سگنل تب تک دوبارہ بند ہوچکا تھا۔۔۔وہ وائرلیس پر لفٹر کو بلانے لگا۔۔۔اور وہ بے حد ہڑبڑانے والے انداز میں گاڑی سٹارٹ کرنے کی کوشش کرنے لگی۔۔وہ ناکام رہی۔۔لفٹر آنے پر وہ گاڑی سے باہر نکل آئی۔لفٹر میں بیٹھا آدمی اسے قریبی پارکنگ میں اسے پہنچانے کے بارے میں بتاتا ہوا کسی ٹیکسی میں اسے وہاں تک جانے کا کہہ کر غائب ہوگیا۔۔مال روڈ پر اس ٹریفک میں اسے کوئی ٹیکسی یا رکشہ نہیں مل سکتا تھا۔۔ لیکن واحد کام جو وہ کر سکتی تھی وہ سڑک کراس کر کے کچھ فاصلے پر سالار کے آفس جانا تھا۔۔اس نے سیل نکال کر سالار کو فون کرنا شروع کردیا لیکن اسکا سیل آف تھا۔۔۔اسکا مطلب ی تھا کہ اسکو اسکے آفس ہی جانا تھا۔۔چند منٹ اور چلنے کے بعد اسکے جوتے کا اسٹریپ نکل گیا۔آج برا نہیں بلکہ بدترین دن تھا۔وہ اس ٹوٹے ہوئے جوتے کیساتھ اسکے آفس نہیں جانا چاہتی تھی لیکن اس کے علاوہ کوئی اور چارہ بھی نہیں تھا۔۔اسے اپنی حالت پہ رونا آنے لگا تھا۔۔
اسکے بنک کے اس شاندار عمارت کے سامنے جوتا گھسیٹتے ایک لمحہ لے لیے ہچکچائی لیکن پھر اسکے ذہن میں آیا کہ وہ سیدھی اسکے آفس چلی جائے۔۔گارڈ کو اپنا تعارف کرواتے ہوئے اس نے انکی آنکھوں میں اتنی حیرانی اور بے یقینی دیکھی تھی کہ اسکے عزت نفس میں کچھ اور کمی بھی آئ تھی۔لیکن مین ریسیپشن میں داخل ہوتے ہی اسکی عزت نفس مکمل طور پر ختم ہوچکی تھی۔شاندار انٹیریئر والا وسیع و عریض ماربلڈ ہال اس وقت سوٹڈ بوٹڈ کورپوریٹ کلائنٹس سے بھرا ہوا تھا۔۔آفس کا یہ لے آؤٹ کبھی اسکے تصور میں آجاتا تھا تو وہ وہاں کبھی نہ آتی لیکن اب وہ آچکی تھی۔۔ریسیپشن کاؤنٹر پر اس نے سالار سکندر سے اپنا رشتہ ظاہر کرنے کی حماقت نہیں کی تھی۔۔
مجھے سالار سکندر سے ملنا ہے۔۔۔
کیا آپ نے اپوائنمنٹ لیا ہے میڈم؟؟
ریسپشنسٹ نے بے حد پروفیشنل انداز میں کہا۔۔اسکا ذہن ایک لمحہ کے لیئے بلینک ہوگیا تھا۔۔
اپوائنمنٹ۔۔۔۔وہ حیران ہوئ۔۔اس نے جواب دینے کی بجائے ہاتھ میں پکڑے سیل پر ایک بار پھر اسکا نمبر ڈائل کیا۔۔اس بار کال ریسیو نہیں ہوئ لیکن بیل بجی تھی۔۔
میں اسکی دوست ہوں۔۔اس نے کال ختم کرتے ہوئے بے ربطی سے کہا۔۔
ابھی وہ ایک میٹنگ میں ہے انہیں تھوڑی دیر میں انفارم کردیتی ہوں۔۔۔آپکا نام؟؟
ریسپشنسٹ نے کہا۔۔۔
امامہ۔۔۔وہ اپنا نام بتا کر ہال میں پڑے صوفوں میں سے ایک صوفے پر جاکر بیٹھ گئ۔۔
اسے تقریباً پندرہ منٹ انتظار کرنا پڑا تھا۔۔
پندرہ منٹ بعد اس نے چند افراد کے ساتھ سالار کو بات چیت کرتے ریسیپشن پر نمودار ہوتے دیکھا۔۔ان لوگوں کو دروازے تک چھوڑ کر وہ ادھر ادھر دیکھے بغیر لمبے لمبے ڈگ بھرتا ہوا واپس جانے لگا۔۔ریسیپشنسٹ نے اسے روکا۔۔۔امامہ نے سالار کو اسکی بات سنتے اور پھر ٹھٹکتے دیکھا۔۔وہ اپنی ایڑھیوں پر گھوم گیا۔۔اسے اتنی دور سے بھی سالار کے چہرے پہ حیرت نظر آئء تھی۔۔پھر وہ مسکرایا۔۔۔
اس نے پلٹ کر ریسیپشنسٹ سے یقیناً اسکا تعارف کرایا تھا۔۔۔پھر وہ رکے بغیر اسکی طرف آیا۔۔اگر وہ اس وقت اس سے گھر میں سامنا کر رہی ہوتی تو اس وقت اس سے لپٹ کر بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رو رہی ہوتی۔۔
واٹ اے پلیزنٹ سرپرازئز۔۔۔
اس نے قریب آتے ہوئے کہا وہ بہت خوشگوار موڈ میں تھا۔۔
میرا جوتا ٹوٹ گیا ہے ۔۔اس نے بے ربطی سے جواب دیا اس نے سالار سے نظریں ملائے بغیر کہا وہ جانتی تھی کہ وہ اس کی آنکھیں پڑھنا جانتا تھا۔
سامنے سگنل پہ میری گاڑی خراب ہوگئی اور لفٹر اسے کہیں لے گیا ہے۔اور یہاں تمہارا آفس تھا تو یہی آگئ۔۔لیکن شاید نہیں آنا چاہیئے تھا۔کیونکہ تم مصروف ہو بس تم مجھے گھر بھجوا دو۔۔وہ ایک کے بعد ایک مسئلہ بتاتے ہوئے اسے بے ڈھنگے انداز میں کہا۔۔
نو پرابلم۔۔۔سالار نے اسکے چہرے کو دیکھتے ہوئےاسی تسلی دی۔۔
سوری میم آپ مجھے اپنا تعارف کرادیتی تو میں آپکو آفس میں بٹھاتی۔۔
ڈیسک پہ بیٹھی لڑکی نے قریب آکر معذرت کی۔۔
اٹس اوکے۔۔۔۔کسی کو بھیج کر یہاں قریبی کسی شو سٹور سے اس سائز کے جوتے منگوائیں۔
اس نے لڑکی سے کہا اور پھر اگلا جملہ امامہ سے کہا ۔۔۔
امامہ یہ ٹوٹا ہوا جوتا اتار دو۔۔
اتار دوں؟؟ وہ ہچکچائی۔
ہاں کوئی حرج نہیں میرے باتھ روم میں وضو کے سلپرز ہیں وہ پہن کر پاؤں دھو لینا تب تک نیا جوتا آجائے گا۔۔۔اور کس سگنل سے گاڑی لیکر گئے ہے۔۔امامہ نے اسے اندازے سے بتایا۔۔۔اس نے ڈیسک سے آنے والی لڑکی کو گاڑی کا نمبر دیا اور کچھ ہدایات دی. ۔۔وہ تب تک ٹوٹے ہوئے جوتے اتار چکی تھا۔۔اسکا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیٰے وہ اسے وہاں سے لے آیا۔۔اپنے ہاتھ پر اسکی گرفت محسوس کرتی ہوئے امامہ نے سوچا اسے اس وقت اس سہارے کی بے حد ضرورت تھی۔۔وہ راستے میں ملنے والے افراد سے ریلیکس انداز میں اسکا تعارف کراتے ہوئے اپنے آفس لے آیا۔۔
ویسے تم یہاں آ کیسے گئی۔۔اس نے آفس کا دروازہ بند کرتے ہوئے امامہ سے پوچھا ۔۔۔
میں؟؟؟؟ اسے بہانہ یاد نہیں آیا۔۔۔سالار نے کچھ لمحے اسکے جواب کا انتظار کیا پھر بات بدل دی۔۔۔
تم کھڑی کیوں ہو بیٹھ جاؤ۔۔
اپنی ٹیبل کی طرف جاتے ہوئے اس نے انٹرکام کا ریسیور اٹھاتے ہوئے اس سے کہا۔۔۔۔۔
وہ انٹرکام پر اسکے لیئے کوئی جوس لانے کا کہہ رہا تھا۔ جب اسکا فون بجنے لگا۔ اس نے کال ریسیو کی۔۔چند لمحے بات کرتا رہا پھر اس نے امامہ سے کہا۔۔۔امامہ تمہارا کریڈٹ کارڈ کہاں ہے؟؟
وہ اسکے سوال پر چونکی ۔اسکے پاس ایک سپلمنٹری کارڈ تھا۔۔
میرے بیگ میں۔۔۔۔
ذرا چیک کرو۔۔۔۔
اس نے بیگ سے والٹ نکالا اور پھر باری باری بیگ کا ہر حصہ چیک کیا۔۔کارڈ وہاں نہیں تھا۔۔۔
اسکے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے۔۔
اس میں نہیں ہے۔۔اس نے اڑی ہوئی رنگت کیساتھ سالار سے کہا۔۔
اس نے جواب دینے کی بجائے فون پر کہا۔۔۔
بالکل میری بیوی چھوڑ آئ تھی وہاں۔۔میں منگوا لیتا ہوں۔۔تھینک یو۔۔اس نے فون بند کردیا۔۔۔۔امامہ کی جان میں جان آئی۔۔
کہاں ہے کارڈ؟؟ امامہ نے پوچھا۔۔۔
کہاں شاپنگ کی ہے تم نے؟؟ سالار نے اسکی طرف آتے پوچھا۔۔
اسے ڈپارٹمنٹل سٹور یاد آیا۔۔
وہاں چھوڑ دیا تھا میں نے؟؟؟ اسے جیسے یقین نہیں آیا۔۔۔۔
ہاں اسٹور کے مینیجر نے ہیلپ لائن کو انفارم کیا وہ تمہارے سیل پر ٹرائ کرتے رہے لیکن تم۔نے کال ریسیو نہیں کی. ۔۔اب انہوں نے مجھے کال کیا ہے۔
ایک آدمی ٹرے میں پانی اور جوس کا ایک گلاس لے آیا تھا۔۔اسے اس وقت اسکی شدید ضرورت محسوس ہورہی تھی۔۔
سالار دوسرے صوفے پر آکر بیٹھ گیا۔۔اس بار انٹرکام دوبارہ بجا اور وہ اٹھ گیا۔۔گاڑی کا پتا چل گیا تھا امامہ گاڑی کے پیپرز کہاں ہیں؟؟ اس نے ایک بار پھر فون ہولڈ پہ رکھتے ہوئے اس سے پوچھا ۔۔
امامہ کو اپنی اگلی حماقت یاد آئی۔۔گاڑی کےپیپرز گاڑی میں ہی تھے۔ وہ پیپرز اور لائسنس گاڑی میں چھوڑ آئی تھی ۔اس برانڈ نیو گاڑی پر اگر کوئ ہاتھ صاف کرتا تو یہ دونوں چیزیں انعام میں ملتی۔ کیونکہ لفٹر اسے مطلوبہ پارکنگ میں چھوڑ کر وہاں سے جاچکا تھا۔۔جوس ایکدم اسکے حلق میں اٹکنے لگا. ۔۔
گاڑی میں۔۔۔اس نے نظریں ملائے بغیر کہا۔۔جواباً اسے ملامت نہیں کی گئی تھی جسکی وہ توقع کر رہی تھی۔۔
آئ ڈی کارڈ کی کاپی ہے؟؟ وہ کسی کو گاڑی لانے کے لیے بھیجنا چاہتا تھا۔۔وہ گلاس رکھ کر ایک بار پھر آئ ڈی کارڈ اپنے بیگ میں ڈھونڈنے لگی۔۔وہاں اسکا کوئی وجود نہیں تھا۔۔۔اسے یاد آیا کہ وہ دوسرے بیگ میں ہے۔۔اسکا دل وہاں سے بھاگ جانے کو چاہا اسے خود پر شدید غصہ آرہا تھا۔۔ اس دفعہ سالار نے اسکے جواب کا انتظار نہیں کیا تھا۔ میرے پیپرز میں دیکھو میری وائف کی آئ ڈی کارڈ کی کاپی ہوگی۔ وہ ڈرائیور کو دے دو اور کار کی چابیاں بھی بھجوا دیتا ہوں۔۔اس نے فون پر کہا۔۔۔
تمہیں اگر فریش ہونا ہو تو میرے سلپرز یہاں پڑے ہیں۔۔۔
یہ آفر بروقت آئی تھی۔۔۔اسے واقعی اس وقت کوئی ایسی جگہ چاہیئے تھی جہاں وہ اپنا منہ چھپا لیتی ۔ باتھ روم کا دروازہ بند کیئے وہ اپنے منہ پر پانی کے چھینٹے مارتی گئ۔
سنا ہے تمہاری کوئی گرل فرینڈ آئ ہوئ ہے۔؟؟
اس نے باہر رمشہ کی آواز سنی۔۔وہ سالار کو چھیڑ رہی تھی۔۔ وہ جواباً ہنسا۔۔
ہاں آج کی تھکا دینے والی میٹنگ کے بعد کسی گرل فرینڈ کا ایک وزٹ تو ڈیزرو کرتا تھا میں۔۔وہ آئینہ میں اپنا عکس دیکھتے ہوئے انکی باتیں سنتی رہی۔۔۔وہ دونوں اب کسی کلائنٹ اور آج کی میٹنگ کو ڈسکس کر رہے تھے۔اسکا دل چاہا کہ وہ واپس کمرے میں نہ جائے وہ اس سین سے غائب ہونا چاہتی تھی۔۔
باتھ روم کا دروازہ کھلنے پر رمشہ خیر مقدمی انداز میں اسکی طرف آئی۔۔۔
چلو کسی بہانے تمہاری بیگم تو یہاں آئی۔رمشہ نے اس سے ملتے ہوئے کہا۔۔
سالار جواب دینے کی بجائے صرف مسکرایا۔۔
چند منٹ وہ کھڑی باتیں کرتی رہی پھر اس نے کہا۔۔
اب اگلی میٹنگ ہے۔۔ تو تم آ رہے ہو کیا۔۔۔؟؟
ہاں میں آتا ہوں۔۔۔تم اسٹارٹ کرلو میٹنگ میں دس پندرہ منٹ میں آتا ہوں۔۔۔اس نے کہا۔۔۔
رمشہ امامہ کو خدا حافظ کہتے ہوئے نکل گئ۔
تم چلے جاؤ۔۔ گاڑی آئیگی تو میں چلی جاؤں گی۔۔اس نے کمرے میں پڑے جوتے کے ڈبے سے نیا جوتا نکالتے ہوئے سالار سے کہا۔۔
تم سینڈوچ کھاؤ۔ تم نے ہی صبح بنا کر دیئے تھے۔ آج کلائنٹس کے ساتھ لنچ کیا یہ کھا نہ سکا۔۔وہ ٹیبل پر پڑے سینڈوچ کا ایک ٹکڑا اٹھا کر کہہ رہا تھا۔۔
مجھے بھوک نہیں ہے۔۔۔اس وقت حلق سے کچھ اتارنا بہت مشکل تھا۔۔۔
کیوں بھوک نہیں ہے۔۔۔۔لنچ کیا ہے کیا تم نے/؟؟؟
نہیں لیکن بھوک نہیں۔۔۔
پھر کھاؤ صرف ایک کھاؤ۔۔۔وہ اسے بہلا رہا تھا۔۔
امامہ کیساتھ کوئ مسئلہ تھا اور اس وقت پوچھنا بے کار تھا۔۔۔وہ جب پریشان ہوتی تھی تو اسی طرح چیزیں بھولتی تھی۔وہ سر جھکائے سینڈوچ کھانے لگی جو اس نے اسکے سامنے پلیٹ میں رکھا تھا۔۔
اسکا خیال تھا کہ سالار اسکی ان حرکات پہ اب تبصرہ کریگا لیکن وہ ادھر ادھر کی باتیں کرتا رہا۔۔۔سینڈوچ ختم ہونے کے بعد اس نے امامہ سے چائے کا پوچھا۔۔۔اور اسکے انکار پر اس نے انٹرکام پر کسی سے ڈرائیور کو گاڑی نکالنے کے لیئے کہا۔۔
میں تمہیں اپنی گا ڑی میں بھجوا رہا ہوں تمہاری گاڑی جب آئیگی تو میں بھجوا دیتا ہوں۔۔
میں خود ڈرائیو کر کے چلی جاتی ہوں۔۔۔اس نے کہا۔۔۔
تمہیں ڈرائیور ڈراپ کردے گا تم اپ سیٹ ہو اور میں نہیں چاہتا تم ڈرائیو کرو۔۔وہ بول نہ سکی۔۔۔
میں خود چلی جاتی ہوں۔۔اس نے بنک ایگزٹ پر سالار سے کہا۔۔
یار کلائنٹس کو بھی یہاں تک چھوڑنے آتا ہوں تم تو بیوی ہو میری ۔۔وہ مسکرایا تھا۔۔
ڈرائیور پارکنگ میں کھڑی گاڑی دروازے کے سامنے لایا تھا ۔ڈرائیور گاڑی کا دروازہ کھولنے آیا۔مگر اس سے پہلے سالار اسکے لیے گاڑی کا پچھلا دروازہ کھول چکا تھا۔۔
وہ گاڑی میں بیٹھنے کی بجائے اسے رک کر دیکھنے لگی۔۔وہ اسکا شکریہ ادا کرنا چاہتی تھی لیکن اسکے حلق میں ایک بار پھر گرہیں پڑنے لگی تھیں۔۔
Anything else ma’am
سالار نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔۔
تھینک یو۔۔اس نے بلآخر کہا۔۔
Always at your disposal ma’am
اس نے اپنا بازو اس کے گرد پھیلاتے ہوئے اسے گاڑی میں بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے کہا۔۔۔
وہ گاڑی میں بیٹھ گئی۔۔سالار نے دروازہ بند کردیا۔چلتی ہوئ گاڑی میں امامہ نے ایک لمحے کے لیئے مڑ کر دیکھا وہ ابھی وہی کھڑا تھا۔۔وہ یقیناً گاڑی کے مین روڈ پہ جانے کا انتظار کر رہا تھا اس نے اپنا چہرہ دونوں ہاتھوں سے ڈھانپ لیا۔۔
جسکی ذمہ داری تھی وہ شخص اس کے لیے کھڑا تھا۔۔ وہ جلال کی ذمہ داری نہیں تھی۔۔وہ پھر کیوں یہ توقع کر رہی تھی کہ وہ اسکے لیئے اتنی کرٹسی دکھاتا۔۔اس نے ٹھیک کیا تھا اسکے ساتھ ٍڈرائیور بھیج کر وہ واقعی اس وقت ڈرائیو کرنے کے قابل نہیں تھی۔۔گھر آ کر بھی وہ بے مقصد لاؤنج میں بیٹھی رہی ۔۔آج کا دن بے حد برا تھا۔۔تکلیف دہ یادوں کا سلسلہ تھا جو ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا۔۔
کیا ہوا ہے تمہیں۔۔۔سالار نے اس رات کھانے کی ٹیبل پہ اس سے پوچھا۔۔
کچھ نہیں۔۔۔جواب حسب توقع تھا۔۔
سالار نے کھانا کھاتے کھاتے ہاتھ روک کر اسے دیکھا۔۔
کوئی پریشانی نہیں۔۔بس اپنی فیملی کو مس کر رہی ہوں۔۔اس نے جھوٹ بولا۔۔
سالار نے اسے کریدا نہیں۔ وہ اسے صرف بہلانے کی کوشش کر رہا تھا۔۔وہ ڈنر کے بعد کام کے لیے سٹڈی روم میں چلا گیا امامہ نے سونے کی کوشش کی لیکن سو نہ سکی۔۔کتنا وقت اس نے اندھیرے میں بستر پر چت لیٹے چھت کو گھورتے ہوئے گزارا اسکو پتہ ہی نہ چلا۔۔سوچوں کا تسلسل تب ٹوٹا جب اسے دروازہ کھلنے کی آواز آئی۔۔۔۔۔سالار سونے کے لیئے حتی الامکان آہستگی سے دروازہ کھولا تھا۔۔پھر وہ دروازہ بند کر لے لائٹ آن کیے بغیر اسی طرح احتیاط سے دبے پاؤں واش روم کی طرف گیا۔۔
امامہ نے آنکھیں بند کرلی۔۔نیند اب بھی آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔وہ کپڑے تبدیل کر کے سونے کے لیئے آ کر لیٹا تھا۔۔اس نے امامہ کی طرف کروٹ لی۔۔اور پھر امامہ نے اسکی آواز سنی۔۔
تم جاگ رہی ہو؟ ۔۔۔۔۔
تمہیں کیسے پتا چل جاتا ہے۔۔وہ کچھ جھلائی۔۔
پتا نہیں کیسے؟ بس پتا چل ہی جاتا ہے۔۔کیا پریشانی ہے؟؟ ایک لمحہ کے لیئے اسکا دل چاہا کہ وہ اسے بتادے اپنی اور جلال کی ملاقات کے بارے میں لیکن دوسرے ہی لمحے اس نے اس خیال کو جھٹک دیا۔۔
کچھ نہیں بس میں ڈپریسڈ تھی۔
اسی لیئے تو کہا تھا باہر چلتے ہیں۔۔۔سالار نے کہا۔۔
میں ٹھیک ہوں اب۔۔۔امامہ نے ایک دم کسی ننھے بچے کی طرح اس کے سینے میں منہ چھپاتے ہوئے کہا ۔وہ اسکے سر کو چومتے ہوئے اسے تھپکنے لگا۔۔۔امامہ کا دل بھر آیا۔۔۔
اگر اسکی زندگی میں جلال انصر نام کا کوئی باب نہ آیا ہوتا تو کتنا ہی اچھا ہوتا۔۔وہ اس شخص کیساتھ بہت خوش رہ سکتی تھی۔۔
*****—-+****—-********
جلال کیساتھ اسکی ہونے والی ملاقات اتفاقی تھی ایک ایسا اتفاق جسے وہ دوبارہ نہیں چاہتی تھی۔اسے پتہ نہیں تھا کہ یہ اتفاقی ملاقات اسکے لیئے کتنے خطرناک اثرات لیکر آنے والی تھی۔۔۔مہینوں یا سالوں میں نہیں بلکہ دنوں میں۔۔۔
دو دنوں بعد وہ ایک ڈنر میں مدعو تھے۔۔وہ اس وقت سالار کیساتھ کھڑی چند لوگوں سے مل رہی تھی۔۔جب اس نے ہیلو کی ایک شناسا آواز سنی۔امامہ نے گردن موڑ کر دیکھا اور پھر وہ ہل نہ سکی۔۔وہ فاروق تھا جو بے حد گرمجوشی کیساتھ سالار سے مل رہا تھا۔۔
میری بیوی۔۔۔۔۔۔۔۔سالار اب اسکا تعارف کروا رہا تھا۔۔تعارف کی ضرورت نہیں ہے میں پہلے ہی ان سے مل چکا ہوں۔۔۔سالار نے کچھ حیران سا ہوکر فاروق کو دیکھا۔۔
آپ مل چکے ہیں امامہ سے؟؟؟
بالکل ابھی پرسوں ہی تو ملے ہیں۔۔ڈاکٹر جلال انصر کیساتھ لنچ کر رہی تھی۔۔دراصل جلال ھمارے فیملی ڈاکٹر ہیں۔۔انہوں نے بتایا کہ یہ انکی پرانی کلاس فیلو ہے اور جب انہوں نے اسکو آپکا ویزیٹنگ کارڈ دیا تب مجھے پتہ چلا کہ یہ آپکی وائف ہیں۔۔۔
فاروق بڑے خوشگوار انداز میں کہہ رہا تھا۔۔۔
میں نے اور میری مسز نے تو کھانے پہ بھی انوائٹ کیا تھا۔ لیکن انہوں نے کہا کہ آپ آجکل مصروف ہیں۔۔
فاروق نے نہ امامہ کی فق ہوتی رنگت کو دیکھا نہ سالار کے بے تاثر چہرے کو۔۔جو کچھ وہ کہہ رہا تھا سالار کو اس پر یقین نہیں آرہا تھا۔اسکے کان جیسے سن ہورہے تھے۔۔وہ جلال انصر سے مل رہی ہے؟؟ لیکن کب سے۔۔۔۔
فاروق کی بات سنتے ہوئے امامہ نے اسے خشک ہوتے گلے کیساتھ دیکھا۔۔اس نے اسکے بے تاثر چہرے کو دیکھ کر غلط اندازہ لگایا تھا۔۔
میں اسے سب کچھ بتادوں گی وہ میری بات سمجھ لے گا اسکے بے تاثر چہرے نے امامہ کو عجب خوش فہمی میں مبتلا کردیا۔
آپ ظہیر صاحب سے ملے ہیں؟؟ اس نے ایک دم سالار کو فاروق کی بات کاٹتے دیکھا۔۔۔
آئے ہوئے ہیں کیا؟؟
ہاں ابھی ہم لوگ آپ ہی کی بات کر رہے تھے۔۔آئیے میں آپکو ملواتا ہوں ۔۔سالار فاروق کو لیئے ایک طرف چلا گیا۔۔
وہ دوبارہ پلٹ کر اسکی طرف نہیں آیا۔۔ایسا پہلی بار ہوا تھا کہ وہ کسی پارٹی میں اسکے پاس نہیں آیا تھا۔۔۔وہ کچھ پریشان ہوگئی۔ لیکن اسے ابھی بھی یقین تھا کہ سالار اس چیز کو بڑا ایشو نہیں بنائے گا۔۔۔
گاڑی میں بیٹھتے ہوئے بھی اسکی خاموشی ویسے ہی تھی۔۔گاڑی کے مین روڈ پر آنے کے چند منٹوں بعد امامہ نے اسکی طویل خاموشی کو توڑنے کی کوشش کی۔۔
تم مجھ سے ناراض ہو۔۔۔؟؟
Will you please shut up
وہ فریز ہوگئی تھی۔۔۔
میں اس وقت گاڑی ڈرائیو کرنا چاہتا ہوں۔۔تمہاری بکواس سننا نہیں چاہتا۔۔وہ اس پر چلایا نہیں تھا لیکن جو کچھ اسکی نظروں میں اور اسکے ٹھنڈے لہجے میں تھا۔۔۔وہ امامہ کو مارنے کے لیئے کافی تھا۔ وہ اسے دوبارہ مخاطب کرنے کی ہمت نہ کرسکی ۔۔اتنے مہینوں میں اس نے اسے اندھا دھند گاڑی کو ڈرائیو کرتے ہوئے دیکھا ۔۔
اپارٹمنٹ میں داخل ہونے کی بعد وہ اپنی جیکٹ لاؤنج میں صوفے صوفے پر پھینکتے ہوئےسیدھا کچن میں گیا۔۔امامہ کی سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ کچن میں جائے یااسکے بیڈروم میں آنے کا انتظار کرے ۔۔اپنی چادر اتارتے ہوئے وہ کچھ دیر اپارٹمنٹ کے بیرونی دروازے کے پاس ہی کھڑی رہی اس کا ذہن اب ماؤف ہونے لگا تھا۔۔وہ اتنے عرصہ کے بعد ایک دوست اور ایک عاشق کے ساتھ رہ رہی تھی لیکن آج پہلی بار ایک شوہر کا سامنا کر رہی تھی۔
کوریڈور میں کھڑے کھڑے اس نے سینڈلز اتارے۔۔تب ہی اس نے سالار کو کچن ایریا سے پانی کا گلاس لے جاتے اور پھر ڈائننگ ٹیبل کی کرسی پر بیٹھے دیکھا ۔۔اب اسکی پشت امامہ کی طرف تھی ۔۔پانی کا گلاس خالی کر کے ٹیبل پر رکھتے ہوئے وہ اب اپنی ٹائ اتار رہا تھا

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: