Aab e Hayat Novel by Umera Ahmed Read Online – Episode 17

0

آب حیات از عمیرہ احمد – قسط نمبر 17

–**–**–

 

وہ اب اپنے گلے سے ٹائی اتار رہا تھا۔ وہ چند لمحے کھڑی اسے دیکھتی رہی پھر آگے بڑھ آئی۔ وہ کرسی کھینچ کر بیٹھی ہی تھی کہ وہ کرسی دھکیلتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا۔
سالار میری بات سنو۔
ابھی کچھ اور رہ گیا ہے جو تم نے مجھے بتانا ہے؟ اس نے سالار کی آنکھوں میں پہلے کبھی تحقیر نہیں دیکھی تھی لیکن آج دیکھ رہی تھی۔
مجھے وضاحت کا موقع تو دو۔
وضاحت؟ کس چیز کی وضاحت؟ تم مجھے یہ بتانا چاہتی ہو کہ تم نے اپنے ایکس بوائے فرینڈ کے لیے اپنے شوہر کو دھوکہ دینا کیوں ضروری سمجھا؟
اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔
یا تم مجھے یہ بتاؤ گی کہ تمہاری ایکس بوائے فرینڈ کی وہ کون سی خوبی ہے جو تمہیں اپنے شوہر میں نظر نہیں آئی۔ وہ اپنے لہجے سے اسے کاٹ رہا تھا۔ اس سے بہتر ہے کہ تم مجھے یہ بتاؤ کہ تم کب سے اس سے مل رہی ہو؟
میں اتفاقا اس سے ملی وہ بھی صرف ایک بار۔۔۔۔۔ اس نے بھرائی ہوئی آواز میں کچھ کہنا چاہا۔ سالار نے پوری قوت سے ڈائننگ ٹیبل پر ہاتھ مارا۔
Stop befooling me women…
وہ پوری قوت سے چلایا۔ امامہ کی ہاتھ کانپنے لگے۔
تم سمجھتی ہو میں اب تم پہ اعتبار کر لوں گا؟ تم نے میری نظروں میں اپنی عزت ختم کر دی آج۔
You are nothing but a bloody cheater.
وہ کہتے ہوئے وہاں رکا نہں تھا۔ بیڈروم میں جانے کی بعد وہ سٹڈی روم میں چلا گیا۔
اس نے اپنی مٹھیاں بھینچ کر جیسے اپنے ہاتھوں کی کپکپاہٹ دور کرنے کوشش کی۔ اس کےالفاظ بار بار اس کے کانوں میں گونج رہے تھے۔ بات اتنی بڑی نہیں تھی جتنی سالار نے بنا لی تھی۔ لیکن اتنی چھوٹی بھی نہیں تھی جتنا امامہ سمجھی تھی۔ وہ اس کے اور جلال کے ماضی کے تعلق سے اگر واقف نہ ہوتا تو کبھی بھی کسی کلاس فیلو کیساتھ کھانا کھانے پر اتنا ہنگامہ کھڑا نہ کرتا۔
وہ اٹھ کر بیڈروم میں آگئی۔ سونے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوسکتا تھا۔۔وہ ساری رات جاگتی رہی سالار بیڈروم نہیں آیا۔اسےیقین تھا کہ صبح تک اسکا غصہ ختم نہیں تو کم ضرور ہوجائے گا۔۔اور وہ اس سے دوبارہ بات کرنا چاہتی تھی۔۔
وہ فجر کے وقت کمرے میں آیا تھا اس پر ایک نظر ڈالے بغیر وہ کہتے تبدیل کر کے نماز کے لیئے چلا گیا۔۔اسکی واپسی معمول کے مطابق جم اور جاگنگ کے بعد آفس جانے سے کچھ دیر پہلے ہوئی تھی۔۔اس نے امامہ کو تب بھی مخاطب نہیں کیا۔۔امامہ کے نکالے ہوئے کپڑوں کی بجائے وہ اہنے نکالے ہوئے کپڑے لیکر واش روم گیا۔۔
وہ کچھ دلبرداشتہ ہوکر کچن میں ناشتہ بنانے لگی۔۔سالار تیار ہوکر لاؤنج آیا لیکن ناشتے کی ٹیبل پر جانے کی بجائےسٹڈی روم چلاگیا۔اسے پتا تھا ۔وہ اپنا لیپ ٹاپ لینے گیا ہوگا وہاں لیکن ایسا وہ ناشتہ کرنے کے بعد کرتا تھا آج پہلے لینے کا مطلب تھا کہ۔۔۔۔
سالار ناشتہ لگا دیا ہے میں نے۔۔ امامہ نےاس سے کہا۔۔۔
اس کے لیئے تم جلال کو بلا لو۔۔اس نے بات نہیں کہی تھی اسے کوڑا مارا تھا۔۔۔وہ سفید پڑ گئ۔وہ ایک لمحہ رکے بنا اپارٹمنٹ کا دروازہ کھول کر باہر نکل گیا۔۔
وہ کتنی دیر وہاں کھڑی رہی اسکے لفظ کسی خاردار تار کی طرح اسے اپنی گرفت میں لیئے ہوئے تھے۔۔۔
وہ سارا دن کچھ کھا نہ سکی۔۔اس نے دو بار سالار کو کال کی لیکن اس نے ریسیو نہیں کی۔۔اس نے ٹیکسٹ میسج کے ذریعے اس سے معافی مانگی۔۔اس نے ٹیکسٹ کا بھی کوئی جواب نہیں دیا۔۔۔وہ روزانہ سات یا آٹھ بجے کے قریب گھر اتا تھا اگر اسے کبھی دیر سے آنا ہوتا تو اسے مطلع کردیتا تھا۔۔لیکن اس دن وہ رات کو تقریباً دس بجے آیا تھا۔۔۔
آج بہت دیر ہوگئی؟ امامہ نے دروازہ کھولنے پر پوچھا۔۔۔سالار نے جواب نہیں دیا۔۔
وہ کھڑی صرف اسے دیکھتی رہ گئی۔
لاؤنج میں ریموٹ سے ٹی وی آن کرتے ہوئے وہ بیڈروم میں چلا گیا۔۔یہ جیسے اشارہ تھا کہ وہ دوبارہ ٹی وی دیکھنے کے لیئے وہاں آٰئے گا۔ امامہ کو یقین تھا کہ وہ کھانا نہیں کھائے گا لیکن پھر بھی بوجھل دل سے وہ کھانا لگانے لگی۔
وہ دس پندرہ منٹ بعد کپڑے تبدیل کر کے لاؤنج میں آگیا تھا۔ فریج سے انرجی ڈرنک نکال کر وہ صوفے پر بیٹھ کر چینل سرفنگ کرنے لگا۔
کھانا تیار ہے۔۔امامہ نے اسے انفارم کیا۔۔وہ ٹی وی دیکھتا رہا۔۔
تم کھانا کیوں نہیں کھا رہے۔۔وہ آگے بڑھی۔۔اس نے ٹی وی سے نظریں ہٹا کر اسے دیکھا۔۔
یہ میرا گھر ہے، یہاں موجود ہر چیز میری ہے، اور کھانا کھانا نہ کھانا میرا مسلہ ہے تمہارا نہیں۔۔۔اسکی آنکھوں میں بے رخی کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔۔۔
مں نے تمہارے انتظار میں ابھی تک کھانا نہیں کھایا۔۔
Stop this bullshit
وہ عجیب سے انداز میں ہنسا تھا۔۔۔
میں تمہارے ہاتھوں بے وقوف ضرور بن گیا ہوں لیکن بے وقوف ہوں نہیں۔۔۔
سالار تم جو سمجھ رہے ہو ایسا بلکل نہیں۔۔وہ اسکے سامنے صوفے پر بیٹھ گئ ۔۔۔
بلکل تم ٹھیک کہہ رہی ہو میں جو تمہیں سمجھا تھا وہ غلط تھا۔۔
امامہ کے خلق میں پھر گرہیں پڑنے لگی۔۔
تم میری بات کیوں نہیں سن لیتے۔۔اس نے بھرائ ہوئ آواز میں کہا۔۔
امامہ ۔۔۔آج میرے سامنے رونا مت، تم مجھے استعمال کر رہی ہو ایکسپلائٹ کر رہی ہو،،، کرو ۔۔لیکن ایموشنلی بلیک میل مت کرو
۔وہ اسکے آنسو دیکھ کر بری طرح مشتعل ہوا تھا۔۔
ٹھیک ہے تم بات سننا نہیں چاہتے۔۔مت سنو۔۔لیکن معاف کردو مجھے۔۔۔میری غلطی ہے مجھے اس سے نہیں ملنا چاہیئے تھا۔۔اس نے کپکپاتی ہوئی آواز میں کہا۔۔۔
اسطرح ملنے کی بجائے تمہیں اس سے شادی کرلینی چاہیئے ۔۔اس نے اسکی بات کاٹ کر کہا۔۔
سالار وہ شادی شدہ ہے۔۔وہ بات مکمل نہ کرسکی۔۔اسکے آنسو بہنے لگے تھے اور اسکے بات ادھورا چھوڑنے پر وہ سلگا تھا۔۔
بہت دکھ ہے تمہیں اسکے شادی شدہ ہونے کا؟؟ تو کہو اس سے تم سے دوسری شادی کرلے یا بیوی کو طلاق دے لیکن اسے ایسا کرنے کی کیا ضرورت ہے تم تو ویسے ہی اسے دستیاب ہو۔۔
وہ سانس نہ لے سکی۔۔کم از کم اسے اسکی زبان سے یی سننے کی توقع نہیں تھی۔۔
کیا مطلب ہے تمہارا؟ اس نے بے یقینی سے کہا۔۔
تم جو مطلب نکالنا چاہتی ہو نکال لو۔۔اس نے کہا۔۔
میرے کیریکٹر پر بات کر رہے ہو تم ؟؟اسکا چہرہ سرخ ہونے لگا تھا۔۔
کیریکٹر ہے تمہارا؟؟ اس نے اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے کہا۔۔
کیریکٹر تھا تو شادی کی تھی تم نے ۔۔۔اسے اپنی بھرائ ہوئ آواز اے خود ہی جھنجھلاہٹ ہونے لگی تھی۔۔
شادی نہیں غلطی کی تھی۔and i regret it وہ اسکا منہ دیکھ کر رہ گئ۔خاموشی کا ایک لمبا وقفہ آیا تھا۔۔پھر اس نے اپنے خلق میں پھنسا آنسووں کا گولہ نگلتے ہوئے کہا۔۔
میری فیملی ہوتی نا تو میں تم سے اس طرح کی ایک بات بھی نہ سنتی۔لیکن اب اور کچھ مت کہنا ورنہ میں تمہارا گھر چھوڑ کر چلی جاؤں گی۔۔
سالار نے جواب میں ٹیبل پر پڑا اپنا سیل اٹھایا۔۔اس نے فرقان کو کال کی۔
تمہارا ڈرائیور سو تو نہیں گیا۔۔
نہیں۔۔۔دوسری طرف سے فرقان نے کہا۔۔
تمہیں ضرورت ہے؟؟
ہاں۔۔۔۔
اچھا میں اسے بتاتا ہوں۔۔سالار نے سیل فون بند کردیا۔۔
ڈرائیور تمہیں چھوڑ آتا ہے تم پیکنگ کر کے جاسکتی ہو۔۔لیکن مجھے کبھی گھر چھوڑنے کی دھمکی مت دینا۔۔جو کچھ تم میرے گھر میں رہ کے کر رہی ہو بہتر ہے یہاں سے چلی جاؤ۔۔۔وہ اٹھ کر بیڈروم چلا گیا۔۔
وہ بت کی طرح وہی بیٹھی رہی۔۔اس نے اسے دھکے دیکر نہیں نکالا تھا لیکن وہ یہی سمجھی۔۔۔چند لمحے بعد وہ اٹھ کر اپارٹمنٹ سے باہر آئی۔۔
لفٹ میں اس نے اپنے دوپٹے سے بھیگی آنکھوں اور چہرے کو رگڑ کر خشک کیا۔۔وہ ڈرائیور کے سوالوں سے بچنا چاہتی تھی۔۔
مجھے سعیدہ اماں کی طرف چھوڑ دو۔۔اس نے گاڑی کی پچھلی سیٹ پر بیٹھے ہوئے کہا۔۔
سعیدہ اماں نے نیند سے اٹھ کر دروازہ کھولااور امامہ کو دیکھ کر بری طرح پریشان ہوئی۔۔مگر اس سے زیادہ پریشان وہ اسے اندر آکر بلک بلک کر روتے دیکھ کر ہوئی تھی۔۔
سالار نے گھر سے نکال دیا؟ وہ سن کر حواس باختہ ہوگئ تھی۔۔وجہ کیا تھی۔۔وہ سعیدہ اماں کو تو کیا کسی کو بھی نہیں بتا سکتی تھی۔۔
بھائی جان کو فون ملا کردو۔۔۔میں ان سے بات کرتی ہوں۔۔ایسے کیسے گھر سے نکال سکتا ہے وہ۔۔سعیدہ اماں کو غصہ آنے لگا۔۔۔
امامہ نے اسکے اصرار کے باوجود آدھی رات کو ڈاکٹر سبط علی کو فون نہیں کیا۔۔۔یہ مصیبت اسکی تھی وہ اسکے لیئے لوگوں کی نیند خراب نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔
وہ خود پچھلی رات نہیں سوئ اور اب اسطرح روتے روتے اسکا سر درد سے پھٹنے لگا تھا۔۔فجر کی نماز کے بعد وہ سونے کے لیئے لیٹ گئ۔نیند مشکل سے آئ لیکن آ گئ تھی۔۔
دوبارہ اسکی آنکھ دوپہر کو کھلی اور آنکھ کھلنے پر اسے یہ سب ایک بھیانک خواب کی طرح لگا تھا۔۔۔
سالار نے کوئ فون تو نہیں کیا؟؟ اس نے سعیدہ اماں کے کمرے میں آنے پر پوچھا۔۔
نہیں ۔۔۔۔تم نہالو میں کھانا لگانے لگی ہوں۔۔پھر بھائ صاحب کی طرف چلتے ہیں۔۔سعیدہ اماں کہہ کر نکل گئ۔۔پتا نہیں اسے کیوں امید تھی کہ وہ پچھتا رہا ہوگا شاید اسکے چلے جانے کے بعد اسے احساس ہوگیا ہوگا کہ اس نے زیادتی کی ہے۔بارہ گھنٹے غصہ ختم ہونے کے لیئے کافی تھے اگر یہ سب کچھ اس نے غصے میں کیا تھا ۔
اس نے بوجھل دل کیساتھ شاور لیا اور سعیدہ اماں کے گھر پڑے ہوئے اپنے کپڑوں میں سے ایک جوڑا نکال کر پہن لیا۔۔اسے بہت بھوک لگ رہی تھی لیکن دو لقمے لیتے ہی اسکی بھوک مرگئ۔۔
سعیدہ اماں نے زبردستی اسے کھانا کھلایا۔۔وہ کھانے کے فوراً بعد ڈاکٹر صاحب کی طرف جانا چاہتی تھی لیکن امامہ ڈاکٹر صاحب کو انکے آفس فون پر اس طرح کی گفتگو سے پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی۔
لیکن سعیدہ اماں اس پر تیار نہیں تھی وہ اسے زبردستی ڈاکٹر صاحب کے گھر لے آٰئی۔۔کلثوم آنٹی سب کچھ سن کر سعیدہ اماں کی طرح حواس باختہ ہوئی ۔۔ڈاکٹر صاحب ابھی آفس سے نہیں آئے تھے۔۔۔
لیکن بیٹا جھگڑا کس بات پر ہوا۔۔؟؟؟امامہ کے پاس اس ایک سوال کا جواب نہیں تھا۔۔
سعیدہ اماں اور کلثوم آنٹی کے ہر بار پوچھنے پر اسے احساس ہوتا کہ اس سوال کا جواب اسکی نیت صاف ہونے کے باوجود اسکو مجرم بنا رہا تھا۔۔اگر وہ انکو یہ بتاتی کہ وہ اپنے ایک پرانے دوست کے ساتھ کھانے پر گئ تھی تو وہ کبھی کسی اچھے رد عمل کا اظہار نہیں کرتے۔۔وہ یہ سب ڈاکٹر صاحب کو بھی نہیں بتاسکتی تھی جو گھر آتے ہی اسے اس طرح دیکھ کر پریشان ہوئے تھے۔
اسے میرے کیریکٹر پر شک ہے۔۔اس نے انکے بار بار پوچھنے پر سر جھکائے ہوئے کہا۔۔ڈاکٹر سبط علی کو جیسے شاک لگا تھا۔۔سعیدہ اماں اور کلثوم آنٹی بھی بول نہ سکی۔۔ڈاکٹر صاحب نے اسکے بعد کوئ سوال نہیں کیا اس سے۔۔۔
وہ رات کو آئے گا تو میں اس سے بات کروں گا۔۔پریشانی کی بات نہیں۔۔ٹھیک ہوجائے گا سب۔۔۔اس نے امامہ کو تسلی دی۔۔
میں اسکے ساتھ نہیں رہنا چاہتی۔۔میں جاب کرلوں گی لیکن اب اسکے گھر نہیں جاؤں گی۔۔ڈاکٹر سبط علی نے اسکی کسی بات کے جواب میں کچھ نہیں کہا۔۔وہ اب بھی شاک میں تھے۔سالار سکندر کے بارے میں جو تاثر وہ آج تک بنائے بیٹھے تھے وہ بری طرح مسخ ہوا تھا۔وہ خود کو یقین دلانے کی کوشش کر رہا تھا کہ یہ سب کسی غلط فہمی کا نتیجہ ہوسکتا ہے ورنہ سالار اس لڑکی کو آدھی رات اس طرح کا الزام لگا کر نہیں نکال سکتا جس کو وہ اپنی بیٹی کہتے تھے۔
فرقان اس رات اکیلا آیا تھا۔ سالار اسکے ساتھ نہیں تھا۔ڈاکٹر صاحب نے لیکچر کے بعد اسے روک لیااور سالار لے بارے میں پوچھا۔۔
وہ کچھ مصروف تھا اس لیئے وہ نہیں آسکا۔۔فرقان نے اطمینان سے کہا۔۔
آپ کو اس نے بتایا ہے کہ اس نے امامہ کو گھر سے نکال دیا ہے؟؟ فرقان چند لمحے بول نہ سکا۔
امامہ کو؟؟؟ اس نے بے یقینی سے کہا۔۔۔
آپکے ڈرائیور کے ذریعے ہی اس نے کل امامہ کو سعیدہ بہن کے گھر بجوایا تھا۔۔
فرقان کو پچھلی رات سالار کی کال یاد آگئ۔
مجھے یقین نہیں آرہا،، کیسے؟؟؟مطلب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فرقان کا دماغ واقعی چکرا گیا۔۔۔سالار امامہ پر جس طرح جان چھڑکتا تھا کم از کم اس کے لیے یہ بات ماننا ممکن نہیں تھا کہ وہ اسے گھر سے نکال سکتا ہے۔۔اور وہ بھی اس طرح آدھی رات کو۔ وہ اسے کل جم میں بہت خاموش لگا تھا اور آج تو آیا ہی نہیں تھا۔۔
میں اسے ابھی فون کرتا ہوں میری تو کچھ سمجھ میں نہیں آرہا۔۔۔
فرقان نے پریشان ہوتے سالار کو اپنے سیل سے کال کی سالار کا سیل آف تھا۔ اس نے دوبارہ گھر کے نمبر پر ٹرائی کیا کسی نے فون نہیں اٹھایا۔ اس نے کچھ حیران ہو کر ڈاکٹر صاحب کو دیکھا۔۔
فون نہیں اٹھا رہا۔۔سیل آف ہے۔۔میں گھر جاکر اس سے بات کرتا ہوں آپ امامہ کو میرے ساتھ بھیج دے ۔۔فرقان واقعی پریشان ہوگیا تھا۔
نہیں۔۔۔۔امامہ آپکے ساتھ نہیں جائیگی۔اس نے نکالا ہے خود ہی آکر معذرت کر کے لے جائے۔ڈاکٹر صاحب نے دو ٹوک انداز میں کہا۔۔
آپ اسے جاکر میرا پیغام دے۔۔فرقان نے ڈاکٹر سبط علی کو کبھی اتنا سنجیدہ نہیں دیکھا۔۔****
*****—–*****—–***—-
سالار نے بیل کی آواز کو چند بار نظرانداز کرنے کی کوشش کی لیکن جب اسے اندازہ ہوگیا کہ فرقان جانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا اور اسکا یہ ارادہ کیوں تھا وہ جانتا تھا۔ اس نے جاکر دروازہ کھولا اور پھر دروازہ کھلا چھوڑ کر اندر آگیا۔۔۔
تم نے امامہ کو گھر سے نکال دیا ہے؟ فرقان نے اندر آتے ہی اپنے عقب میں دروازہ بند کرتے ہوئےکہا۔
میں نے نہیں نکالا، وہ خود گھر چھوڑ کر گئی ہے۔سالار نے پیچھے دیکھے بغیر سٹڈی روم میں جاتے ہوئے کہا۔۔
مجھ سے جھوٹ مت بولو۔ تم نے خود مجھے ڈرائیور کو بھیجنے کا کہا تھا۔۔
فرقان اسکے پیچھے سٹڈی روم میں آگیا۔۔۔
ہاں۔۔کہا تھا کیونکہ اس نے مجھے گھر چھوڑنے کی دھمکی دی تھی۔۔تو میں نے کہا ٹھیک ہے تمہیں کل جانا ہے تم آج چلی جاؤ ۔۔لیکن میں نے اسے نکالا نہیں۔۔۔
اس نے اپنی کرسی پر بیٹھتے ہوئے بے تاثر چہرے سے کہا۔۔فرقان نے سگریٹ کے ٹکڑوں سے بھرے ایش ٹرے کو دیکھااور پھر اس سلگتے ہوئے سگریٹ کو جسے وہ دوبارہ اٹھا رہا تھا۔۔
بیویاں گھر چھوڑنے کی دھمکیاں دیتی رہتی ہیں اسکا یہ مطلب نہیں کہ اسے اس طرح گھر سے نکال دو۔۔فرقان نے بیڈ پر بیٹھتے ہوئے کہا۔۔
دیتی ہوگی but she dare not do that to me…..
اس نے فرقان کی بات کاٹ کر کہا۔۔
ڈاکٹر صاحب کتنے پریشان ہیں تمہیں اندازہ ہے؟؟
یہ میرا اور اسکا معاملہ ہے وہ ڈاکٹر صاحب کو بیچ میں کیوں لائی ہے۔۔وہ سلگا تھا۔۔
وہ کیسے نہ لیکر آتی تم اسے گھر سے نکالتے اور ڈاکٹر صاحب کو پتا نہ چلتا؟
وہ چاہتی تو نہ پتا چلتا۔ اگر اتنی جرات تھی کہ گھر چھوڑ کر چلی گئ تو پھر اتنا حوصلہ بھی ہونا چاہیئے تھا کہ منہ بند رکھتی۔۔۔اس نے سگریٹ کا ٹکڑا ایش ٹرے میں پھینکتے ہوئے کہا۔۔۔
تمہیں کیا ہوا ہے؟
کچھ نہیں۔۔۔۔۔
کس بات پہ جھگڑا ہوا ہے تم دونوں کا۔؟
بس ہوگیا کسی بات پر۔۔۔وہ کم از کم وجہ بتانے کا کوئ ارادہ نہیں رکھتا تھا۔۔
فرقان آدھے گھنٹے بحث کے بعد اس سے وجہ معلوم نہ ہوسکی اور پھر اس نے ہتھیار ڈال دیئے۔
ٹھیک ہے جو ہو گیا سو ہوگیا اب تم اسے لے آؤ۔۔
یہ میں نہیں کروں گا۔۔نہ میں نے اسے نکالا ہے نہ میں اسے لیکر آؤں گا۔۔وہ خود آنا چاہتی ہے تو آجائے۔۔اس نے دو ٹوک انداز میں کہا۔۔
اور ڈاکٹر صاحب یہ سب نہیں ہونے دینگے۔۔انکا پیغام یہی ہے کہ تم جا کر معذرت کر کے اسے لے آؤ۔۔سالار خاموش رہا۔۔۔
میرے ساتھ چلو ابھی اسے لے آتے ہیں۔۔
میں نہیں جاؤں گا۔۔ڈاکٹر صاحب سے میں خود بات کرلوں گا۔۔
ابھی کرو بات۔۔۔۔۔۔
میں ابھی بات نہیں کرنا چاہتا۔۔میں چاہتا ہوں وہ کچھ دن وہاں رہے یہ اسکے لیئے اچھا ہوگا۔۔۔فرقان اگلے دو گھنٹے بیٹھے اسے یہی سمجھاتا رہا۔۔لیکن وہ اسکے انکار کو اقرار میں نہ بدل سکا۔۔وہ بے حد ناخوش سالار کے اپارٹمنٹ سے گیا۔ اسکی خفگی نے سالار کے فرسٹریشن میں اور بھی اضافہ کیا۔۔
******—–****—-*****-*
ڈاکٹر سبط علی اگلے چار دن اسکا انتظار کرتے رہے وہ نہیں آیا نہ ہی اس کا کوئی فون آیا تھا۔ انہیں خود اسکو فون کرنے میں عار تھا۔ انہیں کہیں نہ کہیں یہ توقع تھی کہ وہ انکا اتنا احترام ضرور کرتا ہے کہ ان کا پیغام ملنے پر آجاتا۔۔لیکن اسکی مکمل خاموشی نے جیسے انہیں ذہنی دھچکا پہنچایا تھا۔ امامہ اس دن سے انکے گھر پر تھی۔
فرقان ڈاکٹر سبط علی اور سالار کے اپارٹمنٹ کے درمیان گھن چکر بنے ہوئے تھے۔۔اس ساری صورت حال میں سب سے زیادہ ابتر ذہنی حالت امامہ کی تھی۔۔اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ وہ اسکے معاملے میں اس طرح کا رویہ دکھا سکتا ہے۔۔
چوتھے دن ڈاکٹر سبط علی نے سالار کو فون کردیا۔۔وہ آفس میں بیٹھا ہوا تھا اور سیل پر ڈاکٹر صاحب کا نمبر دیکھ کر چند لمحے وہ ہل نہ سکا ۔۔یہ ایک ایسی کال تھی جس سے وہ بچنا بھی چاہتا تھا اور جسے وہ اٹینڈ نہ کرنے کی جرات بھی نہیں کرسکتا تھا۔۔رسمی سلام۔دعا کے بعد ڈاکٹر سبط علی نے بغیر کسی تمہید کے اس سے کہا۔۔
آپ اگر شام کو میری طرف آسکتے ہیں تو ٹھیک ہے ورنہ میں آجاتا ہوں۔۔اگر معاملہ ختم کرلیں گے تو ٹھیک ہے ورنہ معاملہ ختم کرلیں گے۔۔۔
انکے الفاظ میں اسکے لیئے کسی بھی قسم کا ابہام نہیں تھا۔۔
میں آجاؤں گا۔۔۔
مہربانی ہوگی آپکی۔۔۔۔اس نے مزید کوئی بات کیے بنا سلام کر کے فون بند کردیا۔۔۔
وہ فون ہاتھ میں پکڑے بیٹھا رہا ڈاکٹر سبط علی کا یہ لہجہ اسکے لیئے نیا تھا اور غیر متوقع وہ جملہ تھا جو اس نے آخر میں کہا۔۔معاملہ ختم کرنے تک نوبت کیسے آگئ تھی۔اسکے نزدیک یہ ایک جھگڑا تھا۔۔پہلی بار اسکے پیٹ میں گرہیں پڑی تھی۔۔
اس شام پہلے کی طرح ڈاکٹر سبط علی نے اسے دروازے سے ریسیو نہیں کیا۔نہ اس سے مصافحہ کیا نہ اسکے لیئے اٹھے تھے۔۔۔وہ لاؤنج میں کوئی کتاب پڑھ رہے تھے۔۔اس کے آنے پر اس نے کتاب بند کر کے سائیڈ پہ رکھی۔سالار سلام کر کے سامنے والے صوفے پر بیٹھ گیا۔
میں تم سے بہت لمبی چھوڑی بات نہیں کروں گا سالار۔۔سالار نے سر اٹھا کر انہیں دیکھا۔۔وہ انکے منہ سے پہلی بات تم کا طرز تخاطب سن رہا تھاورنہ وہ تو اپنے ملازم کو بھی آپ کہہ کر مخاطب کرتا تھا۔۔
میں پچھلے چار دن سے صرف اس بات پر شرمندہ ہوں کہ میں نے امامہ کی شادی تم سے کیوں کرائ۔تم اس قابل نہیں تھے۔۔محبت کے دعوے کرنا اور بات ہوتی ہے لیکن کسی عورت کو اپنے گھر میں عزت سے رکھناایک بلکل الگ بات ہے۔۔تم صرف پہلا کام کر سکتے تھے۔۔
لاؤنج سے منسلک کمرے میں وہ ڈاکٹر صاحب کی آواز اور اسکی خاموشی کو سن رہی تھی۔۔
اپنی بیوی کو اس طرح نکالنے والے مرد کو میں مرد تو کیا انسان بھی نہیں سمجھتا۔۔۔تمہیں اگر اس بات کا پاس نہیں تھا کہ وہ تمہاری بیوی ہے تو اس بات کا پاس ہونا چاہیئے تھا کہ وہ میری بیٹی ہے۔۔
میں نے اسے گھر سے نہیں نکالا وہ خود۔۔۔۔۔۔۔سالار نے کچھ کہنے کی کوشش کی۔۔ڈاکٹر صاحب نے اسکی بات کاٹ دی۔
تم نے گاڑی ارینج کی تھی۔۔۔اندر بیٹھی امامہ کانپنے لگی تھی۔۔اس نے ڈاکٹر صاحب کو کبھی اتنی بلند آواز میں بات کرتے نہیں سنا تھا۔
تمہیں جرات کیسے ہوئی کہ تم اسکے کردار کے بارے میں بات کرو۔۔
سالار نے نظریں اٹھا کر انہیں دیکھا انکا چہرہ سرخ ہورہا تھا۔۔
آپ نے اس سے یہ پوچھا کہ یہ بات میں نے کیوں کی تھی۔۔۔اندر بیٹھی امامہ کا چہرہ فق ہوگیا۔۔
میں اس سے کچھ نہیں پوچھوں گا میں تمہارے کردار کو نہیں جانتا لیکن وہ نو سال سے میرے پاس ہے وی کوئ ایسا کام نہیں کرسکتی جس پر تم اسکے کردار پر انگلی اٹھاؤ۔۔
اسے یقین تھا وہ اب جلال کا نام لے گا۔۔۔۔اب لے گا۔۔۔۔۔اسکا پورا جسم سرد پڑا تھا۔۔سالار کا ایک جملہ اسے اس وقت ڈاکٹر صاحب کی نظروں میں گرانے والا تھا۔۔۔۔۔ایک۔۔۔۔۔دو۔۔۔۔۔تین۔۔۔۔۔چار۔۔۔۔اسکا دل سیکنڈز سے بھی زیادہ تیز رفتاری سے دھڑکنے لگا۔۔۔
پھر امامہ نے اسکی آواز سنی، ایک لمحے کے لیئے اسکا دل رک گیا۔۔
آئ ایم سوری۔۔۔اسے یقین نہیں آیا۔۔۔یہ وہ جملہ نہیں تھا جسکی وہ توقع کر رہی تھی۔۔اسکی سوری نے اسے شاک کیا تو ڈاکٹر صاحب کو اور بھی مشتعل کردیا۔۔
ایک بات یاد رکھنا تم سالار۔۔جو کچھ تم کو زندگی میں ملنا ہے اس عورت کے مقدر سے ملنا ہے یہ تمہاری زندگی سے نکل گئ تو خواری کے سوا کچھ تمہارے ہاتھ نہیں آئیگا۔۔ہاتھ ملو گے ساری عمر تم۔۔۔تمہاری خوش قسمتی ہے کہ اللہ نے تمہیں امامہ کا کفیل بنایا کبھی رازق بننے کی کوشش بھی مت کرنا رازق تم نہیں ہو اسکے اللہ اسکو تم سے بہتر کفیل دے دیگا۔۔۔
وہ کاٹو تو لہو نہیں کے مصداق بنا بیٹھا تھا۔۔
شرمساری سی شرمساری تھی جو وہ محسوس کر رہا تھا۔۔اور اندر بیٹھی امامہ بھی اسی طرح ندامت کے سمندر میں غرق تھی۔۔۔
اسے گھر میں رکھنا ہے تو عزت سے رکھو ورنہ ابھی اور اسی وقت اسے چھوڑ دو۔تم سے کئ گنا اچھے انسان کیساتھ اسکو بیاہ دوں گا۔۔
میں آپ سے اور اس سے بہت شرمندہ ہوں۔۔آپ اسے بلائیں میں اس سے معذرت کرلیتا ہوں۔
اندر بیٹھی امامہ جیسے زمین میں گڑ گئ تھی۔۔
کلثوم آنٹی اسے بلانے آئ تھی اور اسکا دل چاہا لہ وہ کہی بھاگ جائے۔زندگی میں اپنے شوہر کا جھکا ہوا سر دیکھنے سے بڑی ندامت کا سامنا اس نے آج تک نہیں کیا تھا۔
میں بہت زیادہ معذرت خواہ ہوں جو کچھ ہوا نہیں ہونا چاہیئے تھا ۔جو کچھ کیا غلط کیا میں نے مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیئے تھا۔۔سالار نے نظریں اٹھائے بغیر اسکے بیٹھتے ہی کہا۔۔امامہ کے رنج میں کچھ اور اضافہ ہوا۔۔آج سالار کیساتھ زیادتی ہوئ تھی اور اسکا ذمہ دار وہ خود کو ٹھرا رہی تھی۔۔
بیٹا آپ جانا چاہیں تو چلی جائیں اور نہیں جانا چاہیں تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر صاحب نے اس سے کہا۔۔
نہیں۔۔۔میں جانا چاہتی ہوں۔۔اس نے اپنی آنکھیں رگڑتے ہوئے کہا۔۔
ٹھیک ہے پھر اپنا سامان پیک کرلیں۔۔ڈاکٹر صاحب نے اس سے کہا۔۔وہ اٹھ کر اپنے کمرے میں آگئ۔اس نے سامان بیگ میں رکھا ۔ڈاکٹر صاحب امامہ کے اٹھتے ہی سٹڈی روم میں چلے گئے اور وہ سر جھکائے بیٹھا رہا۔۔
بیٹا کھانا لگواؤں؟؟ کلثوم آنٹی نے جیسے ماحول بہتر کرنے کی کوشش کی۔۔
نہیں ۔۔۔میں کھانا کھا کر آیا تھا۔۔
اس نے اب بھی نظریں نہیں اٹھائی۔وہ نظریں اٹھانے کے قابل ہی نہیں رہا تھا۔۔
ملازم سوفٹ ڈرنک کا ایک گلاس اسے دیکر گیا سالار نے چند گھونٹ لیکر گلاس واپس رکھ دیا۔۔
امامہ کو پیکنگ میں پانچ منٹ سے زیادہ نہیں لگے تھے سالار نے کھڑے ہوکر خاموشی سے اس سے بیگ لے لیا۔۔ڈاکٹر صاحب بھی انکو گاڑی تک چھوڑنے آئے تھے لکن ھمیشہ کی طرح سالار سےاس بار بغلگیر نہیں ہوئے۔۔
گاڑی کے سڑک پر آنے تک دونوں میں کوئ بات نہیں ہوئی پھر سالار نے کہا۔۔۔
میں شرمندہ ہوں میں نے تمہارے ساتھ غلط رویہ اپنایا۔۔۔
سالار میں تم سے بہت شرمندہ ہوں مجھے پتا نہیں تھا کہ ابو کو غصہ آئے گا۔۔انہوں نے تمہارے ساتھ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سالار نے اسکی بات کاٹ دی نہیں انہوں ٹھیک لیا جو بھی کیا غلط تو کچھ بھی نہیں کہا اس نے لیکن میں نے تمہارے کیریکٹر کے بارے میں کچھ نہیں کہا تھا۔
تمہارا مطلب ہے کہ تم یہ سب کہو گے اور میں یہ نہ سمجھوں کہ تم میرے کردار پہ انگلی اٹھا رہے ہو۔۔سالار خاموش رہا تھا۔
وہ مجھے اتفاقاً اس دن پارک میں مل گیا تھا اس نے کہنا شروع کیا اس دفعہ سالار نے اس کو نہیں ٹوکا۔۔۔ابھی چند ماہ پہلے اس نے دوسری شادی کی ہے اس نے لنچ کے لیئے اصرار کیا مجھے خیال بھی نہیں آیا کہ تمہیں برا لگ سکتا ہے اور میں نے تو لنچ بھی نہیں کیا۔ کچھ دیر بیٹھے رہے پھر وہ آدمی اور انکی مسز آگئیں۔۔مجھے دیر ہورہی تھی تو میں وہاں سے گھر آگئ۔بس اتنی سی بات تھی میری غلطی بس یہ تھی کہ میں نے تمہیں بتایا نہیں۔
اور میری غلطی یہ تھی کہ میں نے تمہاری بات سنی نہیں ۔سن لینی چاہیئے تھی۔۔آئ اوور ری ایکٹڈ۔۔
وہ اب مدھم آواز میں اعتراف کر رہا تھا۔۔
بے عزتی کروانی تھی اس لیئے۔۔۔وہ بڑبڑایا۔۔۔
وہ اسے کہنا چاہتی تھی کہ وہ اسکی کتنی احسان مند ہورہی تھی لیکن کہہ نہ سکی۔۔اسکے ایک لمحے کی چپ نے اسکی عزت رکھ کہ جیسے سارے دنوں کے رویوں کا کفارہ ادا کردیا۔۔
مجھے نہیں پتا تھا کہ تمہیں کسی آدمی کیساتھ میرا ملنا اتنا برا لگے گا۔۔ورنہ میں تو کبھی۔۔۔۔۔۔کچھ دیر کے بعد امامہ نے کہا۔۔۔
سالار نے اسکی بات کاٹءلی۔۔۔وہ کوئ آدمی نہیں تھا امامہ۔۔۔
وہ اب میرے لیئے صرف کوئ آدمی ہے۔۔سالار نے گردن موڑ کر اسے دیکھا اس نے ناک رگڑتے ہوئے ایک بار پھر آنکھیں صاف کرنے کی کوشش کی۔۔
طبیعت ٹھیک ہے تمہاری؟
ہاں ٹھیک ہے۔۔۔اس نے امامہ کے ماتھے پہ ہاتھ رکھ کے جیسے ٹمپریچر چیک کیا۔۔
بخار ہے؟؟
تھوڑا سا ہے۔۔
ڈاکٹر کے پاس لے جاتا ہوں۔۔
نہیں۔۔میڈیسن لے رہی ہوں میں۔بیگ میں ہے۔۔وہ خاموش ہوگیا۔۔اس ایک واقعے نے اعتماد کے اس رشتے میں عجیب دراڑیں پیدا کردی تھی۔۔۔
اس رات گھر آکر انکے درمیان کوئی بات چیت نہیں ہوئ۔امامہ میڈیسن لیکر سو گئ اور سالار سٹڈی روم جاکر سگریٹ پیتا رہا۔۔
وہ پچھلے کئ مہینوں سے اسے خوش کرنے کی آخری حد تک جارہا تھا اسکے سارے ناز نخرے اٹھا رہا تھا اسے یقین تھا وہ سب کچھ امامہ کے دل سے جلال انصر نامی شخص سے متعلقہ ہر طرح کے جذبات نکال دے گا۔۔وہ اسکے قریب آرہی تھی۔۔لیکن جلال کسی بھوت کی طرح دوبارہ نمودار ہوگیا تھا۔۔اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ وہ اسے اتنی خوبصورتی سے دھوکا دے رہی تھی۔۔وہ دو دن پہلے ہونے والی ایک ایک بات کو یاد کر کے سلگتا رہا۔وہ ملاقت اگر اتفاقی تھی تو اسکے بعد اس نے امامہ کی جو حالت دیکھی تھی وہ اس کے لیئے ناقابل برداشت تھی۔۔اس دن اسکے آفس میں امامہ جو آخری چیز بھولی تھی وہ باتھ روم بیسن کی سل پہ رکھی ہوئ اسکی شادی کی رنگ تھی۔۔وہ رنگ اسکے جانے کے بعد سالار کو وہاں سے ملی تھی۔۔اسکا خیال تھا گھر پہنچ کر اسے رنگ یاد آجائے گی لیکن اس دن تو کیا اگلے دو دن تک امامہ کو کچھ یاد نہیں آیا۔۔وہ مسلسل انگلی میں رہنے والی اتنی قیمتی چیز کو کیسے فراموش کر سکتی ہے۔
جلال سے ہونے والی اس ملاقات کے بعد اس نے اسکے رنگ اتارنے کو جیسے نیا مفہوم پہنا دیا تھا۔۔
*****—****—***–*
باجی آپ کہاں تھی۔۔؟
اگلی صبح وہ ملازمہ کے بیل دینے پر جاگی۔۔
میں چند دن اپنے گھر رہنے گئ تھی۔
منہ ہاتھ دھو کر وہ واپس آئ تو ملازمہ سٹڈی روم کی صفائ کر رہی تھی۔سگریٹ کے ٹکڑوں سے بھرے ایش ٹرے نے اسے چونکا دیا۔۔۔
مجھے لگتا ہے باجی سالار صاحب سگریٹ پینے لگے ہیں۔۔ہر روز اسی طرح ایش ٹرے بھرا ہوتا ہے۔۔اب روز روز تو کوئ مہمان نہیں آتا ہوگس۔۔
وہ جواب دیئے بغیر وہاں سے نکل گئی۔۔۔
******+—***—–*
اگلی صبح اس نے ایش ٹرے پھر سگریٹ کے ٹکڑوں سے بھرا ہوا دیکھا۔وہ اس بات سے پریشان ہوئ کہ وہ سموکر نہیں تھا لیکن عادی بن رہا ہے۔۔ کئ دنوں کے بعد اس رات سالار نے کھانا بڑی رغبت سے کھایا۔ وہ عام طور پر ایک چپاتی سے زیادہ نہیں کھاتا تھا۔ لیکن آج اس نے دو چہاتیاں کھائی۔
اور بنادوں؟؟ امامہ نے اسے دوسری چپاتی لیتے ہوئ دیکھ کر پوچھا۔
نہیں میں پہلے ہی اوور ایکٹنگ کر رہا ہوں۔اس نے منع کیا۔۔
امامہ نے اسکی پلیٹ میں کچھ سبزی ڈالنے کی کوشش کی اس نے روک دیا۔۔
نہیں میں ویسے ہی کھانا چاہ رہا ہوں۔۔امامہ نے کچھ حیرانی سے اسکا چہرہ دیکھا۔وہ جانتی تھی اسے اسکے ہاتھ کی چپاتی پسند ہے۔اس دن پہلی بار اس نے آخری لقمہ اسے نہیں دیا۔۔وہ کھانا کھانے کے بعد ٹیبل سے اٹھ گیا۔۔وہ برتن اکھٹے کر رہی تھی جب وہ کچھ پیپرز لیئے آیا۔۔۔۔۔
یہ کیا ہے؟؟ امامہ نے کچھ حیرانی سے پیپرز کو دیکھا۔۔۔
بیٹھ کر دیکھ لو۔ وہ اس کے قریب کرسی کھینچ کر بیٹھ گیا۔
وہ بھی کچھ الجھے انداز میں پیپرز لیکر بیٹھ گئی۔
پیپرز پر ایک نظر ڈالتے ہی اسکا رنگ فق ہوا۔
طلاق کے پیپرز ہیں یہ؟ وہ بمشکل بول سکی۔
***********

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: