Aab e Hayat Novel by Umera Ahmed Read Online – Episode 18

0

آب حیات از عمیرہ احمد – قسط نمبر 18

–**–**–

 

نہیں یہ میں نے اپنے وکیل سے ایک ڈائیوورس ڈیڈ تیار کروایا ہے۔ اگر کبھی خدانخواستہ ایسی صورت حال ہو گئی تو یہ تمام معاملات خوش اسلوبی سے طے کرنے کی ایک کوشش ہے۔
مجھے تمہاری بات سمجھ نہیں آئی۔ وہ اب حواس باختہ تھی۔
ڈرو مت یہ کوئی دھمکی نہیں ہے۔ میں نے یہ پیپرز تمہارے تحفظ کے لیئے تیار کروائے ہیں۔ سالار نے اس کے کانپتے ہوئے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے کہا۔
کیسا تحفظ؟ اسے اب بھی ٹھنڈے پسینے آرہے تھے۔
میں نے علیحدگی کی صورت میں فنانشل سیکیورٹی اور بچوں کی کسٹڈی تمہیں دی ہے۔
لیکن میں تو طلاق نہیں مانگ رہی۔ اس کی ساری گفتگو اس کے سر پر سے گزر رہی تھی۔
میں بھی تمہیں طلاق نہیں دے رہا، صرف قانونی طور پر خود کو پابند کر رہا ہوں کہ میں علیحدگی کے کیس کو کورٹ میں نہیں لے کر جاؤں گا۔ تمہیں علیحدگی کا حق اور بچوں کی کسٹڈی دے دوں گا۔جو بھی چیزیں اس عرصے میں حق مہر تحائف جیولری یا روپے اور پراپرٹی کی صورت میں تمہیں دوں گا وہ سب خلع یا طلاق دونوں صورتوں میں تمہاری ملکیت ہوگی۔ میں ان کا دعوی نہیں کروں گا۔
یہ سب کیوں کر رہے ہو تم؟ اس نے بے حد خائف انداز میں اس کی بات کاٹی۔
میں اپنے آپ سے ڈر گیا ہوں امامہ۔ وہ سنجیدہ تھا۔
میں کبھی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ مجھے تم پہ اتنا غصہ آسکتا ہے۔ میں نے تمہیں گھر سے نہیں نکالا لیکن اس رات میں نے پرواہ نہیں کی کہ تم گھر سے کیوں اور کہاں جا رہی ہو۔ میں اتنا مشتعل تھا کہ میں نے یہ پرواہ بھی نہیں کی کہ تم بحفاظت کہیں پہنچی بھی ہو یا نہیں۔ وہ بے حد صاف گوئی سے کہہ رہا تھا۔ اور پھر اتنے دن میں نے ڈاکٹر صاحب کی بات بھی نہیں سنی۔
I just wanted to punish you
وہ ایک لمحے کے لیے رکا۔
اور اس نے مجھے خوفزدہ کر دیا۔ میرا غصہ ختم ہوا تو مجھے یقین نہیں آرہا تھا کہ میں اتنا گر سکتا ہوں، میں تمہارے ساتھ اس طرح بی ہیو کرسکتا ہوں۔ لیکن میں نے کیا۔ بہرحال میں ایک انسان ہوں، تم کو ساتھی کی بجائے حریف سمجھوں گا تو شاید آئندہ بھی کبھی ایسا کروں۔۔ ابھی شادی کو تھوڑا وقت ہوا ہے۔ مجھے بہت محبت ہے تم سے، میں خوشی خوشی یہ سارے وعدے تم سے کر سکتا ہوں، سب کچھ دے سکتا ہوں تمہیں۔ لیکن کچھ عرصہ بعد اگر ایسی کوئی سچویشن آگئی تو پتا نہیں ھمارے درمیان کتنی تلخی ہو جائے۔ تب شاید میں اتنی سخاوت نہ دکھا سکوں اور ایک عام مرد کی طرح خودغرض بن کر تمہیں تنگ کروں۔ اس لیے اب ان دنوں جب میرا دل بڑا ہے تمہارے لیے، تو میں نے کوشش کی ہے کہ یہ معاملات طے ہوجائے۔ صرف زبانی دعوے نہ کروں تمہارے ساتھ۔ میری طرف سے میرے والد کے سگنیچرز ہیں اس پر۔ تم ڈاکٹر صاحب سے اس پر سائن کروا لو۔ وہ چاہیں تو پیپرز اپنے پاس رکھیں یا تم اپنے لاکر میں رکھوا دو۔ وہ آنکھوں میں آنسو لیے اس کا چہرہ دیکھتی رہی۔
میں نے تو تم سے کوئی سیکیورٹی نہیں مانگی۔ اس کی آواز بھرائی ہوئی تھی۔
لیکن مجھے تو دینی چاہیئے نا! میں یہ پیپرز جذبات میں آکر نہیں دے رہا تمہیں۔ یہ سب کچھ سوچ سمجھ کر کر رہا ہوں۔ تمہارے بارے میں بہت پوزیسیو، بہت ان سیکیور ہوں امامہ۔۔۔۔۔۔ وہ ایک لمحے کے لیئے ہونٹ کاٹتے ہوئے رکا۔
اور اگر کبھی ایسا ہوا کہ تم مجھے چھوڑنا چاہو تو میں تمہیں کتنا تنگ کرسکتا ہوں، تمہیں اندازہ بھی نہیں ہے لیکن مجھے اندازہ ہوگیا ہے۔ وہ پھر رک کر ہونٹ کاٹنے لگا۔ تم میرا واحد اثاثہ ہو جسے میں پاس رکھنے کے لیے فیئر اور فاؤل کی تمیز کے بنا کچھ بھی کرسکتا ہوں اور یہ احساس بہت خوفناک ہے میرے لیے۔ میں تمہیں تکلیف پہنچانا چاہتا ہوں، نہ ہی تمہاری حق تلفی چاہتا ہوں ھم جب تک ساتھ رہیں گے بہت اچھے طریقے سے رہیںگے اور اگر کبھی الگ ہو جائیں تو میں چاہتا ہوں ایک دوسرے کو تکلیف دیے بغیر الگ ہوں۔
وہ اس کا ہاتھ تھپکتے ہوئے اٹھ کر چلاگیا۔ وہ پیپرز ہاتھ میں لییے بیٹھی رہی۔
****—-***—****–
پودوں کو پانی کب سے نہیں دیا؟ اگلی صبح اس نے ناشتہ کی ٹیبل پر سالار سے پوچھا۔
پودوں کو؟ وہ چونکا۔ پتا نہیں، شاید کافی دن ہوگئے۔ وہ بڑبڑایا تھا۔
سارے پودے سوکھ رہے تھے۔ وہ اسکا چہرہ دیکھتے ہوئے حیران تھی۔ وہ جم سے آنے کے بعد روز صبح پودوں کو پانی دیا کرتا تھا۔ اس سے پہلے کبھی بھی امامہ نے اسے روٹین بدلتے نہیں دیکھا۔ وہ سلائس کھاتے کھاتے ایک دم اٹھ کر ٹیرس کا دروازہ کھول کر باہر نکل گیا۔ چند منٹوں بعد وہ پریشان سا واپس آیا تھا۔
ہاں۔ مجھے خیال ہی نہیں رہا۔۔ اس دن وہ پودوں کو پانی دے کر آئی تھی۔
تمہاری گاڑی فی الحال میں استعمال کر رہا ہوں۔ دو چار دن میں میری گاڑی آجائے گی تو تمہاری چھوڑ دوں گا۔۔ اس نے دوبارہ بیٹھتے ہوئے امامہ سے کہا۔۔
تمہاری گاڑی کہاں ہے۔۔۔؟
ورکشاپ میں ہے، لگ گئ تھی۔۔اس نے عام سے لہجے میں کہا۔۔۔۔وہ چونک گئی۔۔
کیسے لگ گئ؟؟؟
میں نے کسی گاڑی کے پیچھے مار دی تھی۔ وہ کچھ معذرت خواہانہ انداز میں اسے بتا رہا تھا۔ وہ اسکا چہرہ دیکھتی رہی وہ سلائس پر مکھن لگا رہا تھا۔ وہ ایکسپرٹ ڈرائیور تھا اور یہ ناممکن تھا کہ وہ کسی گاڑی کو پیچھے سے ٹکر مار دے۔
گھر میں آنے والی دراڑیں مرد اور عورت پر مختلف طریقے سے اثر انداز ہوتی ہے۔۔عورت کی پریشانی آنسو بہانے، کھانا چھوڑ دینے اور بیمار ہونے تک ہوتی ہے۔ مرد اس میں کچھ نہیں کرتا۔ اسکا ہر رد عمل اسکے آس پاس کی دنیا پر اثرانداز ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔
امامہ نے اسکے چہرے سے نظریں ہٹالی
***—–****———–*
اس رات وہ ڈاکٹر صاحب کے گھر اس واقعے کے بعد پہلی بار لیکچر کے لیے گیا تھا۔ امامہ ھمیشہ کی طرح آج بھی انکے ساتھ تھی۔
ڈاکٹر صاحب نے آج بھی سالار کا استقبال کسی گرمجوشی کے بغیر صرف ہاتھ ملا کر کیا تھا۔ لیکچر کے بعد ڈنر پہ بھی انہوں نے سالار کے لیے وہی پرانی توجہ نہیں دکھائی۔ ڈنر پر فرقان بھی تھا اور ڈاکٹر صاحب فرقان سے گفتگو میں مصروف رہے۔۔سالار سے آنٹی نے تھوڑی سی بات چیت کی تھی۔ سالار سے زیادہ اس رات اس رویے کو امامہ نے محسوس کیا تھا۔ امامہ کو ڈاکٹر سبط علی کا سالار کو نظرانداز کرنا بری طرح چھبا تھا۔واپس آتے ہوئے وہ پریشان تھی۔
اس رات وہ سونے کے لیے نہیں گئی تھی۔ایک ناول لیکر وہ سٹڈی روم میں آگئ تھی۔وہ کام کرنے کی بجائے سگریٹ سلگائے بیٹھا تھا اسے دیکھ کر سگریٹ اس نے ایش ٹرے میں مسل دیا۔
کمرے میں اکیلی بیٹھی بور ہوتی۔ اس لیے سوچا یہاں آجاؤں۔۔اس نے سگریٹ کو نظرانداز کر کے سالار کو تاویل دی۔
تم ڈسٹرب تو نہیں ہوگے؟؟ اس نے سالار سے پوچھا۔
نہیں۔۔بلکل نہیں۔۔اس نے حیرانی سے اسے دیکھا۔۔
وہ راکنگ چیئر پہ جاکر بیٹھ گئی اور ناول کھول لیا۔۔وہ سگریٹ پینا چاہتا تھا لیکن اسکے سامنے نہیں پیتا تھا۔۔امامہ یہ جانتی تھی اس لیئے وہاں آکر بیٹھ گئ تھی۔
کچھ دیر وہ بے مقصد اسے دیکھتا رہا۔۔پھر اپنا لیپ ٹاپ نکال کر نہ چاہتے ہوئے بھی کام کرنے لگا تھا۔کافی دنوں کے بعد اس رات اس نے پریشان ہوکر سگریٹ کی بجائے کام کیا تھا۔ وہ پچھلے ایک ہفتے میں صرف گھر آکر نہیں بلکہ آفس میں بھی اسی طرح چین سموکنگ کر رہا تھا اب اسے عادتاً طلب ہورہی تھی۔۔۔
ایک ڈیڑھ گھنٹہ بعد اس نے بلآخر امامہ کو مخاطب کیا.
تم سو جاؤ کافی رات ہوگئی ہے۔۔۔امامہ نے چونک کر اسے دیکھا
تم فارغ ہوگئے ہو؟
نہیں مجھے ابھی کافی کام ہے۔
تو پھر میں بیٹھی ہوں ابھی تم کام ختم کرلو میرا بھی ایک چیپٹر رہتا ہے۔۔
سالار بے اختیار گہرا سانس لیکر رہ گیا۔۔یعنی آج رات وہ مزید کوئی سگرٹ نہیں پی سکتا تھا۔۔اس نے ایش ٹرے میں سگریٹ کے ادھ جلے ٹکڑوں کو قدرے مایوسی سے دیکھتے ہوئے سوچا.
مزید ایک گھنٹہ بعد جب وہ فارغ ہوا تو تب تک وہ اسی راکنگ چیئر پہ سو چکی تھی۔۔وہ اپنی کرسی پہ بیٹھا بے مقصد اسے دیکھتا رہا۔۔
اگلے چند دن بھی اسی طرح ہوتا رہا۔انکے درمیان آہستہ آہستہ گفتگو ہونے لگی تھی اور اسکا آغاز بھی امامہ کرتی تھی ۔۔سالار بے حد شرمندہ تھا اور اسکی خاموشی کی بنیادی وجہ یہی تھی۔وہ اس پورے واقعے سے بری طرح ہرٹ ہونے کے باوجود اسے بھلانے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔۔
ڈاکٹر سبط علی نے اگلے ہفتے بھی سالار کیساتھ ویسے ہی سلوک کیا تھا اس بار امامہ کو پہلے سے بھی زیادہ رنج ہوا۔۔۔
******——****—*******
ابو! آپ سالار سے اچھی طرح بات کیوں نہیں کرتے؟
امامہ اگلے دن سہ پہر کو ڈاکٹر سبط علی کے آفس سے آنے کے بعد انکے گھر آئ تھی۔۔۔
کیسے بات کرنی چاہیئے؟ وہ بے حد سنجیدہ تھا۔۔
جیسے آپ پہلے بات کرتے تھے۔۔
پہلے سالار نے یہ سب نہیں کیا تھا۔۔اسکے بارے میں مجھے بڑی خوش گمانیاں تھی۔۔وہ مدھم آواز میں بولے۔۔
ابو وہ برا نہیں ہے۔۔وہ بہت اچھا ہے۔میری غلطی تھی۔ورنہ بات شاید اتنی نہ بڑھتی۔وہ بہت عزت کرتا ہے میری بہت خیال رکھتا ہے لیکن اب یہ سب ہونے کے بعد وہ بہت پریشان ہے۔۔۔وہ سر جھکائے وضاحتیں دے رہی تھی۔۔آپ جب اسے اگنور کرتے ہیں تو مجھے بہت ہتک محسوس ہوتی ہے۔۔وہ یہ سلوک ڈیزرو نہیں کرتا۔۔فرقان بھائی کے سامنے کتنی بے عزتی محسوس ہوتی ہوگی اسے۔۔۔وہ بے حد رنجیدہ تھی۔۔۔۔۔
ڈاکٹر سبط علی بے ساختہ ہنس پڑے۔۔امامہ نے نظریں اٹھا کر دیکھا۔۔۔
میں جانتا ہوں سالار برا آدمی نہیں ہے وہ پریشان اور نادم ہے میں یہ بھی جانتا ہوں کہ قصور اسکا زیادہ نہیں اور میرا اسکے ساتھ رویہ آپکو برا لگتا ہوگا۔۔وہ حیرانی سے ڈاکٹر سبط علی کی چہرہ دیکھنے لگی۔۔۔
بیٹا میں آپکو اسی بات کا احساس دلانا چاہتا تھا مرد جب غصے میں گھر چھوڑ کر جاتا ہے تو ویسے ہی واپس آجاتا ہے۔ اسکے گھر سے جانے پر اسکی عزت پہ کوئی حرف نہیں آتا نہ اسکی بیوی کی عزت پر حرف آتا ہے لیکن عورت جب غصے میں گھر سے نکلتی ہے تو اپنی اور مرد دونوں کی عزت لیکر باہر آتی ہے وہ واپس بھی آئے تو دونوں کی عزت کم ہوجاتی ہے ۔۔جھگڑا ہوا تھا، کوئی بات نہیں۔۔اس نے غصے میں برا بھلا کہہ دیا، جانے کا کہہ دیا، آپ گھر کے کسی دوسرے کمرے میں چلی جاتی، وہ ہاتھ پکڑ کر تو نہیں نکال رہا تھا نا۔۔صبح تک اسکا غصہ ٹھنڈا ہوجاتا۔۔ایک آدھ دن میں بات ختم ہوجاتی، اتنا بڑا مسلہ نہ بنتا۔۔۔وہ رسانیت سے اسے سمجھا رہے تھے۔۔
مرد کے دل میں اس عورت کی کوئی عزت نہیں ہوتی جسے چھوٹی چھوٹی باتوں پہ گھر کی دہلیز پار کرنے کی عادت ہو۔۔اور یہ دوسری بار ہوا ہے۔۔۔اس نے چونک کر ڈاکٹر صاحب کو دیکھا۔۔
یاد ہے شادی کے دوسرے دن بھی آپ ناراض ہوکر سعیدہ اماں کے پاس رہ گئی تھی۔۔۔
امامہ نے نادم ہوکر سر جھکا لیا تھا۔۔اسے یہ واقعہ یاد نہیں رہا تھا۔۔۔
مرد کیساتھ انا کا مقابلہ کرنے والی عورت بیوقوف ہوتی ہے۔ وہ اسے اپنا دشمن بنا لیتی ہے۔ اکھڑ پن اور ضد سے مرد سے بات منوائی جاسکتی ہے لیکن اسکے دل میں اپنی محبت اور عزت نہیں بڑھائ جاسکتی۔۔اللہ نے آپکو محبت کرنے والا اور بہت سی خوبیوں والا شوہر دیا ہے اس نے آپکی عیب جوئی نہیں کی بلکہ آپ کو اپنے ساتھ لے گیا بہت کم مردوں میں یہ صفت ہوتی ہے۔ تو اگر کبھی کوئی کوتاہی ہوجائے اس سے تو اسکی مہربانیاں یاد کر لیا کریں
وہ سر جھکائے خاموشی سے انکی باتیں سنتی رہی۔اگر میں یہ سب باتیں اس وقت آپکو سمجھاتا جب آپ یہاں آئی تھی تو آپ کبھی میری بات نہ سمجھتی۔ آپ کو لگتا کہ اگر اس وقت آپ کے والدین ہوتے تو اس سچویشن میں آپکو سپورٹ کرتے۔ اس لیے یہ باتیں تب نہیں سمجھائی میں نے۔ وہ ٹھیک کہہ رہے تھے، وہ اسے اس وقت کچھ کہتے تو وہ بری طرح دلبرداشتہ ہو جاتی۔
اس نے کچھ کہے بغیر وہ پیپرز نکال کر انہیں دیئے، جو سالار نے اسے دییے تھے۔ یہ سالار نے دیئے ہیں مجھے، لیکن مجھے اسکی ضرورت نہیں۔۔۔
ڈاکٹر سبط علی بے حد گہری مسکراہٹ کیساتھ وہ پیپرز پڑھتے رہیں، پھر ہنس پڑے۔۔۔۔
اس نے یہ بہت مناسب اور حکمت والا کام کیا ہے۔۔میں اپنے پاس آنے والے اکثر مردوں کو ان معاملات کے حوالے سے اسی طرح تصفیے کا کہتا ہوں اور کئی مردوں نے کیا بھی ہے۔ سالار کے ذہن میں بھی وہی چیزیں ہے، لیکن اس نے آپکے لیے کچھ زیادہ کردیا ہے۔۔ وہ پیپرز پر نظر ڈالتے ہوئے مسکرا رہے تھے۔۔۔
لیکن میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ کچھ کہنا چاہتی تھی جب ڈاکٹر صاحب نے اسکی بات کاٹ دی۔۔۔
آپ بھی اس کا کچھ زیادہ خیال رکھا کریں۔۔۔
وہ اسے پیپرز لوٹا رہے تھے یہ جیسے گفتگو ختم کرنے کا ارادہ تھا۔۔۔۔
*******—–*****—-******
اس دن وہ پورا رستہ ڈاکٹر صاحب کی باتوں کے بارے میں سوچتی رہی۔ انہوں نے اسے کبھی نصیحت نہیں کی تھی یہ پہلا موقع تھا۔۔کوئ نہ کوئ غلطی انہوں نے بھی محسوس کی تھی۔۔۔
تم ڈاکٹر صاحب کے پاس گئ تھی؟؟ سالار نے شام کو گھر آتے ہی سوال کیا۔۔
ہاں تمہیں کیسے پتا چلا؟؟ وہ کھانے کے برتن ٹیبل پر لگا رہی تھی۔۔
انہوں نے مجھے فون کیا تھا۔۔وہ گردن سے ٹائی نکالتے ہوئے بولا۔۔
اوہ۔۔۔کچھ کہا انہوں نے تم سے؟؟؟ اس نے سالار کا چہرہ غور سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔
نہیں ویسے ہی کچھ دیر باتیں کرتے رہیں۔۔
امامہ کو محسوس ہوا وہ اس سے کچھ کہنا چاہتا ہے ۔۔ھمیشہ کی طرح کپڑے تبدیل کرنے کے لیئے بیڈروم میں جانے کی بجائے ٹائ نکال کر بے مقصد کچن کے کاؤنٹر سے ٹیک لگائے سلاد کھا رہا تھا۔
آج کیا ہے کھانے میں؟؟ شادی کے اتنے مہینوں میں پہلی دفعہ اس نے یہ سوال کیا تھا۔۔ امامہ نے اسے بتایا لیکن وہ حیران ہوئی تھی۔
اور سویٹ ڈش؟؟؟ یہ سوال پہلے سے بھی زیادہ اچھنبے والا تھا۔۔وہ میٹھے کا شوقین نہیں تھا. ۔۔۔
کل چائینیز بنانا۔۔وہ ایک بار پھر حیرانی سے اسکا چہرہ دیکھنے لگی۔۔وہ کھانے کے معاملے میں فرمائشیں کرنے کا کہاں عادی تھا۔۔
کل بھی چائینیز تھا۔۔۔فریج سے پانی کی بوتل نکالتے ہوئے اس نے سالار کو جیسے یاد دلایا۔۔وہ گڑبڑا گیا۔۔۔
ہاں کل بھی چائینیز تھا کوئی بات نہیں کل پھر سہی۔۔۔
آئی مین اس میں کوئی حرج نہیں۔ امامہ نے صرف سر ہلایا۔۔وہ اب فریج سے چپاتیاں بنانے کے لیے آٹا نکال رہی تھی۔۔
ایکوا بلیو کلر تم پہ بہت اچھا لگتا ہے ۔۔اس نے حیرت سے سالار کو دیکھا۔۔۔
آ۔۔۔۔۔۔آ۔۔۔۔۔ایکوا بلیو نہیں ہے یہ؟؟ اس کی آنکھوں کے تاثر نے اسے گڑبڑایا تھا۔۔
سالار تمہارے ساتھ مسئلہ کیا ہے/؟امامہ نے کہا۔۔۔
کیوں کیا ہوا؟؟ مجھے لگا یہ ایکوا بلیو ہے۔۔۔
یہ ایکوا بلیو ہی ہے۔۔اسی لیے تو پوچھ رہی ہوں کہ مسئلہ کیا ہے۔۔
وہ اسکی بات پہ ہنس پڑا۔۔پھر کچھ کہے بغیر آگے بڑھا اور اسے ساتھ لگا لیا۔۔
میں تمہارا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔۔امامہ نے اسے کہتے سنا۔ وہ جانتی تھی کہ وہ کس چیز کے لیئے شکریہ ادا کر رہا تھا۔۔
آئی ایم ریئلی سوری۔اینڈ آئ مین اٹ۔۔۔
وہ اب دوبارہ معذرت کر رہا تھا۔۔
آئ نو۔۔۔اس نے مدھم آواز میں کہا۔۔۔
آئی لو یو۔۔۔امامہ کا دل بھر آیا۔۔۔۔۔
تمہیں کیسے پتا چلا کہ یہ ایکوا بلیو ہے۔ ؟
اپنی پوروں سے آنکھیں صاف کرتے ہوئے امامہ نے بات بدلنے کی کوشش کی۔
تم ھمیشہ عجیب نام لیتی ہو کلرز کے۔ایکوا بلیو واحد عجیب نام تھا جو مجھے بلیو کلر کے لیئے اس وقت یاد آیا۔۔اس نے سادہ لہجے میں کہا۔۔۔وہ کھلکھلا کر ہنس پڑی وہ کلر بلائنڈ تھا اسے اب اندازہ ہوچکا تھا۔۔
ویری سمارٹ۔۔اس نے جیسے اسے داد دی۔۔
یو تنگ سو۔۔وہ ہنسا۔۔۔
یس آئ ڈو۔۔۔
تھینک یو دن۔۔۔وہ کہتا ہوا کچن سے نکل گیا تھا۔۔۔
کچن کے وسط میں کھڑی وہ اسے جاتے ہوئے دیکھتی رہی۔۔
*****—-*****—–****–**
کیا لو گی تم؟؟ سالار نے مینیو کارڈ پر نظر ڈالتے ہوئے کہا۔۔۔
میں تو شرمپ کی ڈشز میں سے کوئی ٹرائ کروں گا۔۔۔۔
وہ اسلام آباد میں دوسری بار کھانا کھانے نکلے تھے۔۔پندرہ منٹ بعد کھانا سرو ہوگیا اور کھانا کھانے کے دوران ویٹر نے ایک چٹ لاکر سالار کو دی اس نے حیرانی سے چٹ پر لکھی تحریر کو دیکھا۔۔۔۔
آپ یہ جگہ فوراً چھوڑ دے۔ سالار نے حیرانی سے سر اٹھا کے ویٹر کو دیکھا۔۔۔یہ کیا ہے؟
اس نے ویٹر سے پوچھا۔۔اس سے پہلے کہ وہ جواب دیتا ایک کرنٹ اسے چھو کر گزرا۔۔وہ جان گیا تھا کہ وہ کیا تھا۔۔
بے حد برق رفتاری سے چند کرنسی نوٹ نکال کر اس نے ٹیبل پر رکھتے ہوئے اس نے ویٹر کو بل کلیئر کرنے کا کہا۔۔۔امامہ حیرانی سے اسکی شکل دیکھنے لگی۔۔
کھانا چھوڑ دو، ہمیں جانا ہے۔۔اس نے کھڑے ہوکر کہا۔۔
لیکن کیوں۔۔۔وہ نہ سمجھی تھی۔۔
امامہ یہ تمہیں باہر جاکر بتاتا ہوں تم بیگ لے لو اپنا۔۔وہ کرسی دھکیلتا ہوا پلٹا اور پھر ساکت ہوگیا۔۔انہیں نکلنے میں دیر ہوگئ تھی۔۔اس نے کچھ فاصلے پر امامہ کے والد اور بڑے بھائ کو دیکھا اور وہ انہیں کی طرف آرہے تھے۔۔
وہ برق رفتاری سے امامہ کی کرسی کی طرف آیا۔۔امامہ ٹیبل کے نیچے اپنے قدموں میں رکھا ہوا بیگ اٹھا رہی تھی اس نے ابھی انہیں آتے ہوئے نہیں دیکھا تھا۔۔سالار کے اپنے قریب آنے پر بیگ اٹھاتے ہوئے وہ اٹھ کھڑی ہوئ اور اس نے بھی اپنی فیملی کے افراد کو اپنی طرف آتا دیکھا۔۔ایک لمحہ میں اسکا خون خشک ہوگیا۔۔سالار نے کچھ کہنے کی بجائے اسے اپنے اوٹ میں کیا۔۔۔
سامنے سے ہٹو! ہاشم مبین نے پاس آتے ہی بلند آواز میں اس سے کہا۔۔
آس پاس ٹیبلز پہ بیٹھے لوگ یکدم انکی طرف متوجہ ہوئے۔۔نہ صرف کسٹمرز بلکہ ویٹرز بھی۔۔
آپ ھمارے ساتھ گھر چلیں، وہاں بیٹھ کر بات کرتے ہیں۔۔۔۔ سالار نے تحمل سے ہاشم مبین کو کہا۔۔۔
اس نے جواباً ایک گالی دیتے ہوئے اسے گریبان سے پکڑا اور کھینچ کر ایک طرف ہٹانے کی کوشش کی۔۔وسیم اور عظیم سے امامہ کو وہاں سے لے جانے کا کہا۔۔ہاشم کے برعکس وسیم اور عظیم دونوں کچھ متامل تھے۔۔وہ جانتے تھے اس طرح زبردستی اس ریسٹورنٹ سے کسی کو ہال سے باہر نہیں لے جاسکتے کیونکہ سیکیورٹی کا سامنا کیے بغیر امامہ کو بحفاظت وہاں سے لے جانا مشکل تھا۔۔
وہ سالار کے عقب میں اسکی شرٹ پکڑے تھر تھر کانپتی ہوئی تقریباً اس سے چپکی ہوئ تھی ۔۔۔۔جب ہاشم نے سالار کا گریبان پکڑتے ہوئے اسے کھینچا۔۔۔۔۔۔
سالار نے اپنا دفاع کرتے ہوئے گریبان چھڑاتے ہاشم مبین کو ذرا سا پیچھے دھکیلا۔انکے لیئے یہ دھکا کافی ثابت ہوا۔وہ پیر پھسلنے سے بے اختیار نیچے گرے۔۔ ریسپشن تب تک باہر موجود سیکورٹی کو انفارم کر چکا تھا۔۔اس دھکے نے عظیم کو بھی مشتعل کردیا تھا وہ بھی بلند آواز سے گالیاں دیتے ہوئے جوش میں آیا اور بے حد غیر متوقع انداز میں سالار کے جبڑے پر ایک گھونسا رسید کیا۔۔چند لمحوں کے لیئے اسکی آنکھوں کے سامنے جیسے اندھیرا چھا گیا وہ اسکے لیئے بالکل بھی تیار نہیں تھا۔وہ ذرا سا جھکا اور عظیم اسکے پیچھے کھڑی امامہ تک جاپہنچا۔اس نے کانپتے ہوئے سالار کے پیچھے چھپنے کی کوشش کی۔ لیکن عظیم نے اسے بازو سے پکڑ کر گھسیٹتے ہوئےنہ صرف سالار سے الگ کرنے کی کوشش کی بلکہ اسکے چہرے پر ایک زوردار تھپڑ رسید کیا۔۔سالار تب تک سنبھل کر سیدھا ہوکر اسے چھڑانے کے لیئے پلٹا تھا جب اسکے بائیں کندھے کی پشت پر درد کی ایک تیز لہر اٹھی اس نے ہونٹ بھینچ کر اپنی چیخ روکی۔۔وہ ہاشم مبین تھے جس نے ٹیبل پر پڑا ہوا چاقو اس کی پشت میں مارنے کی کوشش کی۔ لیکن آخری لمحے میں ہلنے کی وجہ سےوہ اسکے بائیں کندھے میں جا کر لگا تھا۔۔
سیکورٹی اور دوسرے ویٹرز تب تک قریب پہنچ چکے تھے اور ان تینوں کو پکڑ چکے تھے۔۔امامہ نے نہ تو ہاشم مبین کو سالار کو وہ چاقو مارتے دیکھا تھا اور نہ ہی سالار کو چاقو کندھے سے نکالتے دیکھا۔۔سالار اپنی جینز کی جیب سے سیل نکال کر سکندر کو فون پر وہاں آنے کے لیئے کہہ رہے تھے اس کے چہرے پر تکلیف کے آثار تھے لیکن اسکے باوجود اپنا لہجہ نارمل رکھ کر سکندر سے بات کر رہا تھا۔۔وہ اپنے کندھے سے کمر تک خون کی نمی محسوس کر رہا تھا۔
آپ کو فرسٹ ایڈ کی ضرورت ہے آپ آجائیے۔۔مینجر نے اس کے پشت پر بہنے والے خون کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔
امامہ نے مینجر کی اس بات پر حیران ہو کر سالار کو دیکھا وہ اب فون ہر بات ختم کر رہا تھا۔۔امامہ نے اس کے ہاتھ کو پہلی بار نوٹس کیا تھاجو وہ کندھے کے اوپر رکھے ہوئے تھا۔۔
کیا ہوا ہے؟؟ امامہ نے قدرے سراسیمگی کے عالم میں پوچھا۔۔
کچھ نہیں۔۔۔۔سالار نے اپنا بازو سیدھا کیا۔۔امامہ نے اسکی خون آلود انگلیاں دیکھی ۔۔اس نے سمجھا شاید اسکا ہاتھ زخمی ہے۔
اسے کیا ہوا؟؟ اس نے کچھ حواس باختہ ہوکر پوچھا۔۔اس نے جواب دینے کی بجائے قریبی ٹیبل سے نیپکن اٹھا کر اپنے ہاتھ صاف کرتے ہوئے امامہ کو چلنے کا اشارہ کیا۔۔وہ مینجر کے کمرے میں آگئے۔۔وہ پولیس کو کال کر چکا تھا۔اور اب وہ پولیس کے آنے تک انہیں وہاں روکنا چاہتا تھا لیکن سالار زخمی تھا اسے فرسٹ ایڈ کی ضرورت تھی۔۔امامہ نے پہلی بار سالار کی خون آلود پشت دیکھی اور دھک سے رہ گئ تھی۔۔۔۔
اگلے پانچ منٹ میں پولیس، ایمبولینس اور سکندر آگے پیچھے پہنچے تھے ۔۔سکندر کے آتے ہی سالار نے امامہ کو گھر کی بجائے فوری طور پر کہیں اور بھیجنے کا کہا۔۔سکندر خود سالار کو ہاسپٹل لیجارہے تھے۔۔وہ چاہنے کے باوجود اس سے یہ نہ کہہ سکی کہ وہ اسکے ساتھ جانا چاہتی ہے۔
سکندر نے اسے فوری طور پر اپنے بڑے بھائی شاہنواز کے گھر بھیج دیا۔۔
وہ وہاں بت کی طرح آکر گیسٹ روم میں بیٹھ گئ۔سالار کو کسی نے چاقو سے زخمی کیا تھا یہ اس نے سن لیا تھا مگر یہ اسکے باپ نے کیا تھا یا بھائیوں میں سے کسی نے۔۔۔یہ وہ نہ جان سکی۔۔۔
ریسٹورنٹ کی سیکیورٹی نے پولیس کے آنے تک ان تینوں کو ایک کمرے میں بند کردیا تھا۔
اسے ابھی آئے ہوئے پانچ منٹ ہی ہوئے تھے کہ سالار کی کال آگئ۔
تم پہنچ گئ۔۔۔اس نے امامہ کی آواز سنتے ہی کہا۔۔۔
ہاں۔۔تم کہاں ہو؟؟
ابھی کلینک پر ہوں۔۔سالار نے کہا۔۔
اور ابو؟؟؟
پاپا ساتھ ہیں میرے۔۔۔سالار نے اسکے لفظوں پر غور نہیں کیا۔۔
میں اپنے ابو کا پوچھ رہی ہوں۔۔اس نے بے ساختہ کہا۔۔۔
اسے امامہ کی یہ تشویش بہت بری لگی۔۔
وہ تینوں پولیس کسٹڈی میں ہیں یہاں سے فارغ ہوکر ھم وہی جائینگے۔۔امامہ کا دل ڈوبا۔۔۔
باپ اور بھائیوں کے حوالات میں ہونے کے تصور نے چند لمحوں کے لیئے اسے سالار کے زخمی ہونے سے لاپرواہ کردیا۔۔
سالار انہیں پلیز معاف کردو۔۔۔اور ریلیز کروا دو۔۔
سکندر اس وقت اسکے پاس تھے۔۔وہ امامہ سے کچھ کہہ نہ سکا لیکن وہ خفا ہوا تھا۔۔وہ اس سے زیادہ اپنی فیملی کے لیئے پریشان تھی۔۔
وہ زخمی تھا لیکن اس نے یہ تک پوچھنے کی زحمت نہیں کی کہ وہ اب کیسا ہے؟
میں تم سے بعد میں بات کروں گا۔۔اس نے کچھ کہنے کی بجائے فون بند کردیا.
کلینک میں اس کے چیک اپ میں ایک گھنٹہ لگ گیا۔خوش قسمتی سے اسکی کوئ رگ کو نقصان نہیں پہنچا تھا۔۔۔
کلینک میں ہی سکندر کی فیملی کے افراد نے آنا شروع کر دیا اور سالار کو سکندر کے اشتعال سے اندازہ ہوگیا تھا کہ یہ معاملہ سنجیدہ نوعیت اختیار کر گیا ہے وہ خود بے حد ناراض ہونے کے باوجود معاملے کو ختم کرنے کے خواہشمند تھے لیکن سکندر نہیں مان رہے تھے۔۔۔
امامہ نے دو بار سالار سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن ایک دفعہ اس نے فون نہیں اٹھایا اور دوسری دفعہ اس نے فون بند کردیا۔۔۔یہ دوسری بار ہوا تھا کہ اس نے اپنا سیل اس کی وجہ سے آف کیا تھا۔۔۔
کیوں پیروی نہ کروں اس کیس کی؟؟؟ انہیں چھوڑ دوں تاکہ اگلی بار وہ تمہیں شوٹ کردے۔۔۔
اس نے ہسپتال سے پولیس سٹیشن جاتے ہوئے گاڑی میں سکندر سے کہا تھا۔۔میں بات بڑھانا نہیں چاہتا ۔۔
بات بڑھ چکی ہے اب اور اسکی ابتدا انہوں نے ہی کی ہے۔۔سکندر بے حد مشتعل تھے۔۔۔پاپا وہ امامہ کی فیملی ہے۔۔اس نے بلآخر کہا۔۔
نہیں۔۔۔۔وہ امامہ کی فیملی تھی۔۔اگر اسے امامہ کی پرواہ ہوتی تو اس کے شوہر پر کبھی ہاتھ نہ اٹھاتے۔اور اگر انہیں پرواہ نہیں تو امامہ کو بھی ان کی پرواہ نہیں کرنی چاہیئے۔۔یہیں ایک حد تھی جو میں کبھی نہیں چاہتا تھا کہ وہ پار کرے لیکن انہوں نے یہ حد پار کرلی ہے ۔میری فیملی میں سے کسی کو تکلیف پہنچے گی تو میں ہاشم فیملی کو کسی سیف ہیون میں نہیں رہنے دوں گا میں انہیں انہی کی زبان میں جواب دوں گا یہ بات تم اپنی بیوی کو بتا بھی دو اور سمجھا بھی دو۔۔
پاپا پلیز اس ایشو کو حل ہونا چاہیئے۔سالار نے باپ سے کہا۔۔
یہ خواہش انکو کرنی چاہیئے تب ہی یہ مسئلہ حل ہوگا۔ اسے میرے بیٹے کو ہاتھ لگانے کی جرات کیسے ہوئ اسکا خیال ہے میں یہ غنڈہ گردی براشت کرلوں گا؟؟ اب وہ مجھے پولیس سٹیشن سے نکل کر دکھائے۔۔انہیں ٹھنڈا کرنے کی ہر کوشش ناکام ہو رہی تھی۔

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: