Aab e Hayat Novel by Umera Ahmed Read Online – Episode 19

0

آب حیات از عمیرہ احمد – قسط نمبر 19

–**–**–

 

معاملہ کس حد تک بڑھ جائے گا اسکا اندازہ سالار کو نہیں تھا۔ یہ صرف دو بارسوخ فیملیز کا مسئلہ نہیں رہا تھا بلکہ یہ کمیونٹیز کا مسئلہ بن گیا تھا۔ اسلام آباد پولیس کے تمام اعلیٰ افسران اس معاملے کو حل کرنے کے لیے وہاں موجود تھے۔ ہاشم مبین کو سب سے زیادہ مسئلہ ریسٹورنٹ کی انتظامیہ کی وجہ سے ہو رہا تھا جہاں یہ سب کچھ ہوا۔
ابتدائی غصے اور اشتعال کے بعد بلآخر ہاشم فیملی نے واقعے کی سنگینی کو محسوس کرنا شروع کر دیا مگر مسئلہ یہ ہو رہا تھا کہ سکندر فیملی کسی قسم کی لچک دکھانے کو تیار نہ تھے۔
فجر تک وہاں بیٹھنے کے بعد بھی مسئلے کا کوئی حل نہیں نکلا اور وہ گھر واپس آگئے۔
سالار واپسی پر سارا راستہ سکندر کو کیس واپس لینے پر قائل کرتا رہا اور ناکام رہا۔
شاہنواز کے گھر گیسٹ روم میں داخل ہوتے ہی امامہ نے اس سے پوچھا۔
ابو اور بھائی ریلیز ہوگئے؟ اسکا دماغ گھوم گیا تھا۔واحد چیز جس کی امامہ کو پرواہ تھی وہ یہ تھی کہ اس کے ابو اور بھائی ریلیز ہو جائے۔ اسکا زخم کیسا تھا۔ اسکی طبیعت کیسی تھی۔ امامہ کو جیسے اس سے کوئی دلچسپی ہی نہیں تھی۔
نہیں۔۔۔اور ہونگے بھی نہیں۔۔۔ وہ بے حد خفگی سے کہتا ہوا واش روم چلاگیا۔ پین کلرز لینے کے باوجود اس وقت تک جاگتے رہنے کی وجہ سے اسکی حالت واقعی خراب تھی اور رہی سہی کسر امامہ کی عدم استحکام و بے توجہی نے پوری کردی تھی۔
وہ پولیس سٹیشن میں ہیں؟ اسکے واش روم سے نکلتے ہی اس نے سرخ سوجی ہوئی آنکھوں کیساتھ اس سے پوچھا تھا۔ وہ جواب دیے بغیر بیڈ پر کروٹ کے بل لیٹ گیا۔ اور آنکھیں بند کرلی۔
وہ اٹھ کر اسکے پاس آکر بیٹھ گئی۔
کیس واپس لے لو سالار۔ انہیں معاف کردو.۔ اسکے بازو پر ہاتھ رکھتے ہوئے اس نے ملتجیانہ انداز میں اس سے کہا۔۔۔ سالار نے آنکھیں کھول دی۔۔۔۔
امامہ میں اس وقت سونا چاہتا ہوں تم سے بات نہیں کرنا چاہتا۔۔
میرے ابو کی کتنی عزت ہے شہر میں۔۔۔وہ وہاں کیسے رہ رہے ہونگے اور کیسے برداشت کر رہے ہونگے یہ سب کچھ۔ وہ رونے لگی۔۔۔
عزت صرف تمہارے ابو کی ہے؟ میری، میرے ماں باپ، میری فیملی کی کوئی عزت نہیں؟
وہ بے ساختہ کہہ گیا۔۔وی سر جھکائے ہونٹ کاٹتے ہوئے روتی رہی.
یہ سب میری وجہ سے ہوا ۔مجھے تم سے شادی نہیں کرنی چاہیئے تھی۔۔
تمہارے پاس ہر چیز کی وجہ شادی ہے۔۔تم میرے ساتھ شادی کر کے جہنم میں آگئ ہو ۔۔شادی نہ ہوئ ہوتی تو جنت میں ہوتی تم۔۔ہے نا۔۔۔۔۔وہ بری طرح برہم ہوا۔۔
میں تمہیں تو الزام نہیں دے رہی میں تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نے خائف ہوتے ہوئے کچھ کہنا چاہا ۔۔
کچھ میرے ساتھ بھی وفاداری کا مظاہرہ کرو۔ ویسی وفاداری جیسے تم اہنے باپ اور بھائیوں کے لیے دکھا رہی ہو۔۔۔وہ بول نہیں سکی۔۔اس نے جیسے اسے جوتا کھینچ مارا تھا۔۔اسکا چہرہ سرخ ہوگیا تھا۔
وہ ایک لفظ کہے بغیر اسکے بستر سے اٹھ گئ سالار نے آنکھیں بند کرلی۔۔
دوبارہ اسکی آنکھ ساڑھے بارہ بجے کندھے میں ہونے والی تکلیف سے کھلی۔اسے ٹمپریچر بھی ہورہا تھا۔کندھے کو حرکت دینا مشکل ہوگیا تھا۔ بستر سے اٹھتے ہی اسکی نظر امامہ پر پڑی ۔۔وہ صوفے پر بیٹھی ہوئ تھی۔۔وہ رکے بغیر واش روم چلا گیا.
نہا کر تیار ہونے کے بعد وہ باہر نکلا اور امامہ سے بات کیئے بغیر وہ بیڈروم سے چلا گیا۔۔اسے اپنا آپ وہاں اجنبی لگنے لگا تھا وہ واحد انسان تھا جو اس کی سپورٹ تھا اب وہ بھی اس سے برگشتہ ہورہا تھا۔
میں کیس واپس لے رہا ہوں۔۔ لنچ ٹیبل پر بیٹھےاس نے اعلانیہ انداز میں کہا۔ پورے ٹیبل پر ایک دم خاموشی چھا گئ۔وہاں سکندر کیساتھ شاہنواز اور اسکی فیملی بھی تھی۔۔
میں نے اس پورے معاملے کے بارے میں سوچا ہے اور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔طیبہ نے بے حد تلخی سے اسکی بات کاٹی۔۔
تم سوچنا کب کا چھوڑ چکے ہو۔۔۔یہ تمہاری بیوی کی پڑھائ گئ پٹی ہے۔۔
ممی۔۔۔۔امامہ کو اس ساری ایکویشن سے نکال دیں۔
اچھا تو پھر اسے طلاق دیکر اس مسئلہ کو ختم کردو ۔
وہ ماں کا چہرہ دیکھتا رہا پھر اس نے ہاتھ میں پکڑا کانٹا رکھ دیا۔۔۔
یہ میں کبھی نہیں کروں گا۔
تو پھر ہم بھی وہ نہیں کرینگے جو تم چاہتے ہو۔امامہ کے باپ اور بھائی جیل میں رہینگے۔۔طیبہ نے بھی اسکے انداز میں کہا۔۔۔۔
کیس واپس لینے کا مطلب ہے انکو شہہ دینا۔ تم پوری فیملی کو خطرے میں ڈال رہے ہو۔۔شاہنواز نے مداخلت کی۔۔۔
رسک تو کیس چلنے کی صورت میں بھی ہوگا۔۔۔ وہ جانتا تھا وہ جو کہہ رہا ہے اس سے پوری فیملی کی کتنی ملامت اسے ملنے والی تھی۔ وہ امامہ کو خوش کرسکتا تھا یا اپنی فیملی کو۔ اور اپنی فیملی کو ناخوش کرنا اسکے لیئے زیادہ بہتر تھا۔۔۔
**************
امامہ رات کے نو بجے تک ویسے ہی کمرے میں بیٹھی رہی ۔۔سالار کا کوئ اتا پتا نہیں تھا۔ وہ تھکن کے عالم میں صوفے پر کب سوگئ اسے انداۃ نہیں ہوا۔۔
رات گئے اسکی آنکھ سالار کے کندھا ہلانے پر کھلی تھی۔وہ ہڑبڑا گئ۔
اٹھ جاؤ ہمیں جانا ہے۔۔وہ کمرے سے اپنی چیزیں سمیٹ رہا تھا۔
وہ کچھ دیر بیٹھی آنکھیں رگڑتی رہی.
کیس واپس لے لیا ہے میں نے تمہاری فیملی ریلیز ہوگئ ہے ۔وہ ٹھٹکی تھی۔
وہ بیگ کی زپ بند کر رہا تھا۔۔کسی نے جیسے امامہ کے کندھوں سے منوں بوجھ ہٹادیا تھا۔۔اسکے چہرے پر آنے والے اطمینان کو وہ نوٹس کیے بغیر نہ رہ سکا۔
اسکے پیچھے باہر لاؤنج میں آتے ہوئے اس نے ماحول میں موجود تناؤ اور کشیدگی محسوس کی تھی۔۔۔شاہنواز اور سکندر دونوں ہی بے حد سنجیدہ تھے اور طیبہ کے ماتھے پر شکنیں تھی۔ وہ نروس ہوئ تھی۔ وہ سالار کیساتھ جس گاڑی میں تھی وہ ڈرائیور چلا رہا تھا۔ سالار پورا راستہ کھڑکی سے باہر دیکھتا رہا۔اور گہری سوچ میں ڈوبا رہا۔۔
گھر پہنچنے کے بعد بھی سب کی خاموشی اور سرد مہری ویسی ہی تھی ۔۔سالار طیبہ اور سکندر کے ساتھ باہر لاؤنج میں بیٹھ گیا اور وہ کمرے میں آگئ۔۔
آدھا گھنٹہ بعد ملازم اسے کھانے پہ بلانے آیا تھا۔۔
اسکی آمد سے کوئ خاص ردعمل نہیں ہوا. صرف سالار اپنی پلیٹ میں کچھ ڈالے بغیر اسکا انتظار کر رہا تھا۔ اس کے بیٹھنے پر اسی نے اس سے پوچھتے ہوئے چاول کی ڈش اسکی طرف بڑھائ اور پھر کھانے کے دوران وہ بغیر پوچھے کچھ نہ کچھ اس کی طرف بڑھاتا گیا۔۔۔
وہ کھانے کے بعد بیڈروم میں سالار کیساتھ ہی آئ تھی وہ ایک دفعہ پھر بات چیت کیئے بغیر سونے کے لیئے لیٹ گیا۔۔۔
سالار! آنکھیں بند کیئے اسکی سمجھ میں کچھ نہ آیا کہ جواب دے یا نہ دے۔۔
سالار؟
بولو۔۔بلآخر اس نے کہا۔۔
زخم گہرا تو نہیں تھا؟؟ نرم آواز سے اس نے پوچھا تھا ۔
کون سا والا؟؟ ٹھنڈے لہجے میں کیا ہوا سوال اسے لاجواب کرگیا.
تمہیں درد تو نہیں ہورہا؟؟
اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے اس نے سوال بدلا تھا۔۔۔
اگر ہو بھی تو کیا فرق پڑتا ہے۔۔میرا زخم ہے۔میرا درد ہے۔۔
وہ پھر لاجواب ہوئ۔۔
بخار ہورہا ہے تمہیں کیا؟ اسکا ہاتھ کندھے سے ہٹ کر پیشانی پہ گیا. ۔۔اسکا ہاتھ ہٹاتے ہوئے سالار نے بیڈ سائڈ لیمپ آن کردیا۔
امامہ تم وہ کیوں نہیں پوچھتی جو پوچھنا چاہتی ہو؟؟ اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا اس نے۔
وہ چند لمحے بے بسی سے اسے دیکھتی رہی پھر جیسے ہتھیار ڈال دیئے۔۔
ابو سے کیا بات ہوئ تمہاری؟
اس نے جواب میں ہاشم مبین کی گالیوں کو بے حد بلنٹ انداز میں انگلش میں ٹرانسلیٹ کیا ۔۔امامہ کی آنکھوں میں آنسو آگئے ۔۔
میں گالیوں کا نہیں پوچھ رہی ویسے کیا کہا تھا انہوں نے۔۔۔؟
امامہ نے خفگی سے اسکی بات کاٹ دی۔۔
اوہ سوری۔۔۔انکی گفتگو میں ستر فیصد گالیاں تھی اور کتنا ایڈیٹ کرونگا۔۔ باقی باتوں میں انہوں نے مجھے کہا کہ میں سور ہوں لیکن کتے کی موت مروں گا اور جو کچھ میں نے انکی بیٹی کیساتھ کیا وہ میری بیٹی اور بہن کیساتھ ہو۔۔اسکے لیئے وہ خصوصی طور پہ بددعا فرمائیں گے۔۔تمہارے لیئے بھی انکے کچھ پیغامات ہیں لیکن وہ اس قابل نہیں کہ تمہیں بتا سکوں۔۔یہ تھی انکی گفتگو۔۔وہ نم آنکھوں کیساتھ گنگ بیٹھی اسکا چہرہ دیکھتی رہی۔
انہوں نے تم سے ایکسکیوز نہیں کی؟ بھرائ آواز میں اس نے پوچھا.
کی تھی انہوں نے۔۔۔انہیں بڑا افسوس تھا کہ اس وقت انکے پاس کوئی پسٹل کیوں نہیں تھا یا کوئی اچھا والا چاقو ۔۔کیونکہ وہ مجھے زندہ سلامت دیکھ کر بے حد ناخوش تھے۔۔اسکا لہجہ طنزیہ تھا۔۔
پھر تم نے کیس کیوں ختم کردیا۔؟؟
تمہارے لیئے کیا۔۔۔اس نے دو ٹوک انداز میں کہا۔۔وہ سر جھکا کر رونے لگی۔
میں تم اور تمہاری فیملی سے کتنی شرمندہ ہوں میں بتا نہیں سکتی۔۔اس سے تو اچھا تھا وہ مجھے مار دیتے۔۔۔۔
میں نے تم سے کوئی شکایت کی ہے؟؟ وہ سنجیدہ تھا۔۔
نہیں۔۔۔لیکن تم مجھ سے ٹھیک طرح بات نہیں کر رہے کوئ بھی نہیں کر رہا۔
میں کل رات سے خوار ہو رہا تھا مجھے تو تم رہنے دو مجھے اس حوالے سے تم سے کوئ شکایت نہیں لیکن جہاں تک میری فیملی کا تعلق ہے تو وہ تھوڑا بہت تو ری ایکٹ کرینگے۔۔۔یہ فطری بات ہے۔۔دو چار ہفتے گزر جائیں پھر سب ٹھیک ہوجائیں گے۔۔اس نے رسانیت سے کہا۔۔
امامہ نے بھیگی ہوئ آنکھوں سے اسے دیکھا وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
میری کوئی عزت نہیں کرتا۔۔۔
سالار نے اسکی بات کاٹ دی۔۔یہ تم کیسے کہہ سکتی ہو ۔۔کسی نے تم سے کچھ کہا؟؟ پاپا نے؟ ممی نے ی کسی اور نے؟
کسی نے کچھ نہیں کہا لیکن۔۔۔۔۔۔
سالار نے پھر اسکی بات کاٹ دی۔۔اور کوئی کچھ کہے گا بھی نہیں تم سے۔ جس دن تم سے کوئ کچھ کہے تب کہنا کہ تمہاری عزت نہیں کرتا کوئ۔۔۔وہ بے حد سنجیدہ تھا۔۔۔
میں تمہیں کبھی اپنے باپ کے گھر بھی نہیں لیکر آتا اگر مجھے یہ خدشہ ہوتا کہ تمہیں عزت نہیں ملے گی۔تم سے شادی جیسے بھی ہوئ تھی تم میری بیوی ہو اور ہمارے سرکل میں ایسا کوئی نہیں جو یہ بات نہیں جانتا۔
اب یہ رونا دھونا بند کردو۔ اس نے قدرے جھڑکنے والے انداز میں کہا ۔
ساڑھے چھ بجے کی فلائٹ ہے۔۔سو جاؤ اب۔اس نے آنکھیں بند کرلی وہ اسکا چہرہ دیکھنے لگی ۔۔کچھ بھی کہے بنا وہ اسکے سینے پہ سر رکھ کر لیٹ گئی یہ پرواہ کیے بغیر کہ اسکے سر رکھنے سے اسکے کندھے میں تکلیف ہوسکتی ہے۔۔وہ جانتی تھی وہ اسے کبھی نہیں ہٹائے گا۔۔اور سالار نے اسکو نہیں ہٹایا۔۔بازو اس کے گرد حمائل کرتے ہوئے اس نے دوسرے ہاتھ سے لائٹ آف کردی۔۔
ممی ٹھیک کہتی ہے۔۔۔اس کے سینے پہ سر رکھے اس نے سالار کو بڑبڑاتے سنا۔۔
کیا؟؟ وہ چونکی۔۔۔
تم نے مجھ پر جادو کیا ہوا ہے۔۔۔وہ ہنس پڑی۔۔۔
***—*****—-***—-**–
اس واقعے کے چند ہفتوں بعد وہ لاہور میں بھی بڑے محتاط رہے لیکن آہستہ آہستہ ہر ڈر اور خوف ختم ہونے لگا۔ امامہ کی فیملی کی طرف سے اس بار اسطرح کی دھمکیاں بھی نہیں ملی تھی جیسی امامہ کے چلے جانے کے بعد وہ سکندر کو دیتے تھے۔
پولیس اسٹیشن میں تصفیہ کے دوران سکندر نے ہاشم مبین کو صاف صاف بتا دیا تھا کہ سالار اور امامہ کو کسی بھی طرح پہنچنے والے نقصان کی ذمہ داری وہ ہاشم کے خاندان کے علاوہ کسی پہ نہیں ڈالے گے۔
سالار نے ٹھیک کہا تھا کچھ عرصہ بعد انکی فیملی کا رویہ بھی امامہ کیساتھ ٹھیک ہوگیا طیبہ کی تلخی بھی ختم ہوگئ اور اس میں زیادہ ہاتھ امامہ کا ہی تھا وہ فطرتاً صلح جو اور فرمانبرار تھی اور احسان مند ہونے کے لیے اتنا کافی تھاکہ وہ اس انسان کی فیملی تھی جو اسے سر پہ اٹھائے پھرتا تھا۔
*****——-*******—*****
کوئ وسیم ہاشم صاحب ملنا چاہتے ہیں آپ سے۔ اپنی آفس کی کرسی میں جھولتا سالار ایک دم ساکت ہوگیا۔۔
کہاں سے آئے ہیں؟؟
اسلام آباد سے۔۔کہہ رہے ہیں کہ آپکے دوست ہیں۔ ریسپشنسٹ نے مزید بتایا۔۔۔
بھیج دو۔۔۔۔اس نے انٹرکام رکھ دیا اور خود سیدھا ہوکر بیٹھ گیا ۔۔وسیم کے آنے کا وہاں مقصد کیا تھا۔۔وہ کچھ دیر سوچتا رہا پھر کرسی سے اٹھ کر دروازے کی طرف بڑھا تب وسیم دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا۔۔ایک لمحے کے لیئے دونوں ساکت ہوئے۔۔پھر سالار نے ہاتھ بڑھایا۔۔ایک طویل عرصے کے بعد دونوں کی ہونے والی یہ پہلی ملاقات تھی۔۔
کیا لوگے؟ چائے؟ کافی؟ سالار نے بیٹھتے ہوئے کہا۔
کچھ نہیں ۔۔۔میں صرف چند منٹ کے لیے آیا ہوں۔۔وسیم نے جواباً کہا۔۔وہ دونوں کسی زمانے میں گہرے دوست تھے لیکن اس وقت انکو اپنے درمیان موجود تکلف کی دیوار کو ختم کرنا بلکل مشکل لگ رہا تھا۔
سالار نے دوبارہ کچھ پوچھنے کی بجائے انٹرکام اٹھا کر چائے کا آرڈر دے دیا۔۔۔
امامہ کیسی ہے؟؟ اسکے ریسیور رکھتے ہی وسیم نے پوچھا۔۔
شی از فائن۔ سالار نے نارمل انداز میں جواب دیا۔۔
میں اس سے ملنا چاہتا تھا تمہارے گھر کا ایڈریس تھا میرے پاس لیکن میں تم سے پوچھنا چاہتا تھا۔ وسیم نے جتانے والے انداز میں کہا۔۔
ظاہر ہے تمہیں یہ پتا چل سکتا ہے کہ میں کہاں کام کرتا ہوں تو ہوم ایڈریس معلوم کرنا زیادہ مشکل نہیں تھا۔سالار نے معمول کے انداز میں کہا۔۔
میں ملنا چاہتا ہوں اس سے۔۔۔۔وسیم نے کہا۔۔
مناسب تو شاید نہ لگے لیکن پھر بھی پوچھوں گا۔۔کس لیئے؟ سالار نے جواباً فرینک انداز میں کہا.
کوئ وجہ نہیں ہے میرے پاس. وسیم نے جواباً کہا۔اس دن ریسٹورنٹ میں جو چٹ۔۔۔۔۔
وہ تم نے بھیجی تھی میں جانتا ہوں۔ سالار نے اسکی بات کاٹی تھی۔وسیم ایک لمحے کے لیئے بول نہ سکا۔۔
تم نے اور امامہ نے جو کچھ کیا وہ بہت غلط کیا۔لیکن اب جو بھی ہوا وہ ہوچکا۔۔میں امامہ سے ملنا چاہتا ہوں۔۔۔
تمہاری فیملی کو پتا ہے؟ سالار نے پوچھا۔۔
نہیں۔۔۔انہیں اگر پتا چل گیا تو وہ مجھے گھر سے نکال دینگے۔۔سالار اسکا چہرہ دیکھ ریا تھا سچ اور جھوٹ جانچنے کی کوشش کر رہا تھا۔۔اسکی نیت کیا تھی وہ یہ اندازہ نہیں کرسکتا تھا۔لیکن وہ اور امامہ ایک دوسرے کے بہت قریب تھے وہ یہ جانتا تھا۔لیکن سالار کے لیئے پھر بھی یہ مشکل تھا کہ اسے ملنے کی اجازت دے.
وسیم میں نہیں سمجھتا کہ اب اسکا کوئی فائدہ ہے۔امامہ میرے ساتھ خوش ہے اپنی زندگی میں سیٹلڈ ہے۔میں نہیں چاہتا وہ اپ سیٹ ہوجائے یا اسے کوئی نقصان پہنچے۔۔۔
میں نا تو اسے اپ سیٹ کرنا چاہتا ہوں نا ہی اسے کوئ نقصان پہنچانا چاہتا ہوں۔ میں بس کبھی کبھی اس سے ملنا چاہتا ہوں۔وسیم نے بے تابی سے کہا۔۔
میں اس پر سوچوں گا وسیم لیکن یہ بڑا مشکل ہے۔۔میں نہیں چاہتا کہ کوئ تمہیں استعمال کر کے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وسیم نے اسکی بات کاٹ دی۔۔
میں بھی نہیں چاہتا کہ اسے کوئ نقصان پہنچے ۔ایسی کوئ خواہش ہوتی تو اتنے سالوں میں تم سے پہلے رابطہ کر لیا ہوتا۔میں جانتا تھا وہ شادی کر کے تمہارے ساتھ گئ تھی۔ تم انوالوڈ تھے پورے معاملے میں لیکن میں نے فیملی کو یہ نہیں بتایا۔۔
سالار ایک لمحے کے لیئے ٹھٹکا پھر اس نے کہا۔۔وہ اتنے عرصے سے میرے ساتھ نہیں تھی ۔۔۔۔۔۔۔
نہیں ہوگی۔۔لیکن وہ تم سے شادی کر کے گئ تھی۔ یہ میں جانتا تھا۔۔
میں سوچوں گا وسیم۔۔۔سالار نے بحث کرنے کی بجائے پھر وہی جملہ دہرایا۔ وسیم مایوس ہوا تھا۔۔۔
میں دو دن کے لیئے ہوں لاہور میں ۔۔اور یہ میرا کارڈ ہے۔میں اس سے واقعی ملنا چاہتا ہوں۔۔وسیم نے کارڈ اسکے سامنے ٹیبل پر رکھ دیا اس رات وہ خلاف معمول کچھ زیادہ ہی پریشان تھا۔ امامہ نے نوٹس کیا لیکن وجہ معلوم نہیں تھی اسکو۔
وہ کھانے کے بعد کام کرنے کے لیئے معمول کے مطابق اسٹڈی میں جانے کی بجائے اسکے پاس آکر لاؤنج میں بیٹھ گیا۔ پانچ دس منٹ کی خاموشی کے بعد امامہ نے بلآخر ایک گہرا سانس لیکر اسے کہتے سنا۔۔
امامہ۔۔۔۔اگر تم وعدہ کرو کہ تم خاموشی اور تحمل سے میری بات سنو گی آنسو بہائے بغیر تو مجھے تم سے کچھ کہنا ہے.
وہ چونک کر اسکی طرف متوجہ ہوئی۔ کیا کہنا ہے؟ وہ کچھ حیران تھی۔۔
وسیم تم سے ملنا چاہتا ہے۔۔۔اس نے بلا تمہید کہا۔۔
وہ ہل نہ سکی۔
وسیم۔۔۔میرا بھائی؟؟ امامہ کے لہجے میں بے یقینی تھی۔ سالار نے سر ہلادیا اور اسکو اپنی آج کی ملاقات کی تفصیلات بتانے لگا اور اس دوران برسات شروع ہوچکی تھی۔۔
سالار نے بے حد تحمل کا مظاہرہ کیا۔ اسکے علاوہ وہ اور کس چیز کا مظاہرہ کرسکتا تھا۔۔۔
تم نے کیوں اسے یہاں آنے نہیں دیا۔۔تم اسے ساتھ لیکر آتے۔اس نے ہچکیوں میں روتے ہوئے اسکی بات کاٹی۔۔
مجھے پتا تھا وسیم مجھے معاف کردے گا وہ بھی مجھے اتنا مس کرتا ہوگا جتنا میں اسکو مس کرتی ہوں۔۔میں تم سے کہتی تھی نا کہ وہ۔۔۔۔۔۔ سالار نے اسکی بات کاٹی۔۔
جذباتی ہونے کی ضرورت نہیں ہے امامہ۔۔۔میں نہیں جانتا کہ وہ کیوں ملنا چاہتا ہے تم سے، لیکن اسکے تمہارے ساتھ ملنے سے بڑے نقصان دہ نتائج بھی برآمد ہوسکتے ہیں۔ سا لار اسکے آنسووں سے متاثر ہوئے بغیر بولا تھا۔۔وہ وسیم کے حوالے سے واقع خدشات کا شکار تھا۔۔۔
کچھ نہیں ہوگا۔۔۔مجھے پتا ہے کچھ نہیں ہوگا۔۔وہ بہت اچھا ہے۔۔تم اسے فون کر کے ابھی بلا لو ۔
میں اسے کل بلواؤں گا لیکن وہ اگر کبھی اکیلے یہاں آنا چاہے یا تمہیں کہیں بلائے تو تم نہیں جاؤ گی۔۔سالار نے اسکی بات کاٹتے ہوئے کہا۔۔
اور میں ایک بار پھر دہرا رہا ہوں نہ وہ یہاں اکیلا آئے گا نہ تم اس کے فون کرنے پہ کہیں جاؤ گی۔۔سالار نے بڑی سختی سے اسے تاکید کی۔
میں اسکے بلانے پہ کہیں نہیں جاؤں گی لیکن اسکے یہاں آنے پر کیوں اعتراض ہے تمہیں۔۔؟ اس نے احتجاج کیا۔
وہ میرے گھر پر ہوتے ہوئے آئے مجھے کوئ اعتراض نہیں لیکن وہ اکیلا یہاں نہ آئے وہ تو خیر میں نیچے سیکیورٹی والوں کو بھی بتادوں گا۔۔
وہ میرا بھائی ہے سالار۔۔۔امامہ کو بے عزتی محسوس ہوئی۔
جانتا ہوں، اسی لیئے تم سے یہ سب کہہ رہا ہوں میں تمہارے حوالے سے اس پر یا کسی پر بھی اعتبار نہیں کرسکتا۔۔
لیکن،،،،،،
تم مجھے صرف یہ بتاؤ تمہیں اس سے ملنا ہے یا نہیں۔۔۔اگر تمہیں بحث کرنی ہےاس ایشو پر تو بہتر ہے وسیم آئے ہی نا۔۔سالار نے اسے جملہ مکمل نہیں کرنے دیا۔۔
ٹھیک ہے میں اسے اکیلے نہیں بلاؤں گی یہاں۔۔۔امامہ نے گھٹنے ٹیک دیئے۔
مجھے اس سے فون پر بات کرنی ہے۔۔۔سالار نے کچھ کہنے کی بجائے وسیم کا وزٹنگ کارڈ لا کر اسے دیا۔۔وہ خود اسٹڈی میں چلا گیا۔۔چند بار بیل ہونے ہر وسیم نے فون اٹھایا تھا اور اسکی آواز سننے پر امامہ کے خحق میں آنسوؤں کا پھندا لگا تھا۔
ہیلو۔۔۔میں امامہ ہوں۔۔
وسیم دوسری طرف کچھ دیر بول نہ سکا اسکی آواز بھرانے لگی تھی وہ دو گھنٹے ایک دوسرے کیساتھ بات کرتے رہے تھے۔ وسیم شادی کرچکا تھا اور اسکے تین بچے تھے وہ بہتے آنسوؤں کیساتھ یہ سب سنتی رہی۔۔
سالار دو گھنٹے بعد اسٹڈی سے نکلا تھا وہ اس وقت بھی فون کان سے لگائے سرخ آنکھوں کیساتھ فون پر وسیم سے گفتگو میں مصروف تھی۔ وہ اسکے پاس سے گزر کر بیڈروم گیا تھا۔اور امامہ نے ایک بار بھی اسے سر اٹھا کر نہیں دیکھا۔۔وہ اسکا انتظار کرتے کرتے سو گیا۔۔فجر کی نماز کے لیئے جب وہ مسجد جانے کے لیئے اٹھا تو وہ اس وقت بھی بستر پر نہیں تھی۔لاؤنج میں آتے ہی وہ کچھ دیر کے لیئے ہل نہ سکا۔۔وہاں کا انٹیریر راتوں رات بدل چکا تھا۔۔
تم ساری رات یہ کرتی رہی ہو؟؟ سالار پانی پینے کے لیئے کچن میں گیا تھا۔ تو اس نے کچن کے فرش کو کیبنٹ سے نکالی گئ چیزوں سے بھرا ہوا پایا۔۔اسکا دماغ گھوم کر رہ گیا۔۔۔
کیا؟؟ وہ اسی طرح کام میں مصروف اطمینان سے بولی۔۔
تمہیں پتا ہے، کیا کرتی رہی ہو تم۔ سالار نے پانی کا گلاس خالی کر کے کاؤنٹر پہ رکھ دیا اور باہر نکل گیا۔۔۔بیرونی دروازے تک پہنچ کر وہ کسی خیال کے تحت واپس آیا تھا۔۔۔
امامہ۔۔۔۔آج سنڈے ہے اور میں ابھی مسجد سے آکر سوؤں گا. خبردار تم نے بیڈروم کی صفائی اس وقت شروع کی۔
پھر میں کس وقت صفائی کروں گی بیڈروم کی۔۔۔۔میں نے وسیم کو لنچ پہ بلوایا ہے۔۔امامہ نے پلٹ کر کہا۔۔سالار کی چھٹی حس نے بروقت کام کیا تھا۔۔۔۔
بیڈروم کی صفائی کا وسیم کے لنچ کیساتھ کیا تعلق ہے؟ وہ حیران ہوا تھا۔تم نے اسے بیڈروم میں بٹھانا ہے؟؟
نہیں۔۔۔لیکن،،، وہ اٹکی تھی۔۔۔
امامہ بیڈروم میں کچھ نہیں ہوگا۔۔۔مجھے سونا ہے آکر ابھی۔۔ اس نے امامہ کو ایک بار پھر یاد دہانی کرائی تھی۔۔۔۔
یہ سامان لا دینا مجھے سونے سے پہلے، کھانے کی تیاری کرنی ہے مجھے۔۔۔۔امامہ نے کاؤنٹر پہ پڑی ایک لسٹ کی طرف اشارہ کیا۔۔
میں فجر کی نماز پڑھنے جارہا ہوں اور یہ سامان تمہیں سو کر اٹھنے کے بعد لا کر دوں گا۔۔وہ لسٹ کو ہاتھ لگائے بغیر چلا گیا۔۔
تمام حدشات کے باوجود واپسی پراس نے اپنے بیڈروم کو اسی حالت میں دیکھ کر اللہ کا شکر ادا کیا تھا۔۔۔
اس نے دس بجے مطلوبہ اشیاء لا کر دی تھیں۔۔کچن تب تک کسی ہوٹل کے کچن کی شکل اختیار کرچکا تھا۔۔۔۔وہ پتا نہیں کون کونسی ڈشز بنا رہی تھی۔ وہ کم از کم 25 افراد کا کھانا تھا۔۔جو وہ اپنے بھائی کے لیئے بنا رہی تھی۔ سالار نے اسے کوئی نصیحت نہیں ک۔وہ لاؤنج میں بیٹھا انگلش لیگ کا کوئ میچ دیکھتا رہا۔۔
وسیم دو بجے آیا تھا اور دو بجے تک امامہ کو گھر میں کسی مرد کی موجودگی کا احساس تک نہیں ہوا.
وسیم کا استقبال اس نے سالار سے بھی پہلے دروازے پر کیا تھا۔بہن اور بھائ کے درمیان ایک جذباتی سین ہوا۔۔
اسکے بعد ساڑھے چھ بجے تک وسیم کی موجودگی میں وہ ایک خاموش تماشائی کا کردار ادا کرتا رہا۔۔وہ کھانے کی ٹیبل پر موجود تھا لیکن اسے محسوس ہورہا تھا کہ اسکا ہونا نہ ہونا برابر تھا۔۔امامہ کو بھائ کے علاوہ کچھ نظر نہیں آرہا تھا۔۔امامہ نے کھانے کی ٹیبل پر اسے کچھ سرو بھی نہیں کیا۔
وسیم کے جانے کے بعد سالار کی توقع کے عین مطابق بچا ہوا تقریباً سارا کھانا ملازمہ فرقان اور چند دوسرے گھروں میں بھیج دیا گیا۔۔
وہ عشاء کی نماز پڑھ کر آیا تو وہ اسکے لیئے ڈائننگ ٹیبل پر کھانا لگا کر خود سو رہی تھی۔۔وہ ویک اینڈ پر رات کا کھانا ہمیشہ باہر کھاتے تھے ۔۔
اس نے پہلی بار امامہ کے گھر پہ موجودگی کے باوجود اکیلے ڈنر کیا اور وہ بری طرح پچھتایا وسیم کو امامہ سے ملنے کی اجازت دے کر۔
*****—–****—-*****–*
امامہ۔۔۔۔یہ وسیم نامہ بند ہوسکتا ہے اب۔۔؟؟ وہ تیسرا دن تھا جب ڈنر پر بلآخر سالار کی قوت برداشت جواب دے گئ تھی۔
کیا مطلب؟؟ وہ حیران ہوئ تھی۔۔
مطلب یہ کہ دنیا میں وسیم کے علاوہ بھی کچھ لوگ ہیں جن کی تمہیں پرواہ کرنی چاہیئے ۔۔سالار نے ان ڈائریکٹ انداز میں کہا۔۔۔
مثلاً کون؟؟ اس نے جواباً اتنی سنجیدگی سے پوچھا تھا کہ وہ کچھ بول نہ سکا۔۔۔
اور کون ہے جس کی مجھے پرواہ کرنی چاہیئے ۔۔وہ اب بڑبڑاتے ہوئے سوچ رہی تھی۔
میرے کہنے کا مطلب تھا کہ تم گھر پہ توجہ دو اب۔۔
وہ اب اسکے علاوہ اور کیا کہتا۔۔یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ مجھ پہ توجہ دو۔۔
گھر کو کیا ہوا؟؟ وہ مزید حیران ہوئی۔۔وہ اس بار مزید کوئ تاویل نہ دے سکا۔۔
تمہیں میرا وسیم کے بارے میں باتیں کرنا اچھا نہیں لگتا؟؟ اس نے یکدم جیسے اندازہ لگایا۔۔اسکے لہجے میں ایسے بے یقینی تھی کہ وہ ہاں نہ کہہ سکا۔۔۔
میں نے کب کہا کہ مجھے برا لگتا ہے۔۔ویسے ہی کہہ رہا ہوں تمہیں. وہ بے ساختہ بات بدل گیا۔
ہاں میں بھی یہ سوچ رہی تھی تم ایسا کیسے سوچ سکتے ہو وہ تمہارا بیسٹ فرینڈ ہے۔۔وہ یکدم مطمئن ہوئ۔
سالار اس سے یہ نہ کہہ سکا کہ وہ اسکا فرینڈ ہے نہیں کبھی تھا۔۔۔
تمہارے بارے میں بہت کچھ بتاتا تھا وہ۔۔
سالار کھانا کھاتے کھاتے رکا۔۔۔میرے بارے میں کیا؟؟
سب کچھ۔۔وہ روانی سے بولی۔۔
سالار کے پیٹ میں گرہیں سی پڑی۔۔سب کچھ کیا؟؟ مطلب جو بھی تم کرتے تھے۔
سالار کی بھوک اڑی تھی۔
مثلاً کیا؟؟ وہ پتا نہیں اپنے کن حدشات کو ختم کرنا چاہتا تھا۔۔وہ سوچ میں پڑی۔۔
جیسے تم جن سے ڈرگز لیتے تھے انکے بارے میں،، اور جب تم لاہور میں اپنے کچھ دوسرے دوستوں کیساتھ ریڈ لائٹ ایریا گئے تھے۔۔۔۔۔ وہ بات مکمل نہ کرسکی. پانی پیتے ہوئے سالار کو اچھو لگا۔
تمہیں اس نے یی بھی بتایا ہے کہ میں۔۔۔۔۔۔۔۔سالار خود بھی اپنا سوال پورا دہرا نہ سکا۔۔۔
جب بھی جاتے تھے تو بتاتا تھا۔۔
سالار کے منہ سے بے اختیار وسیم کے لیئے زیرلب گالی نکلی تھی اور امامہ نے اسکے ہونٹوں کی حرکت کو پڑھا تھا۔۔وہ بری طرح اپ سیٹ ہوئ۔
تم نے اسے گالی دی ہے؟؟ اس نے شاکڈ ہوکر سالار سے کہا۔۔
ہاں وہ سامنے ہوتا تو میں اسکی دو چار ہڈیاں بھی توڑ دیتا ۔وہ اپنی بہن سے یہ باتیں جا کر کرتا تھا۔
میں تصور بھی نہیں کرسکتا۔۔وو واقعی بری طرح برہم ہوا ۔سب کچھ کی دو جھلکیوں نے اسکے ہاتھوں کے طوطے اڑا دیئے تھے۔امامہ اسکے بارے میں کیا کچھ جانتی ہے اسکا اندازہ اسے آج ہوا۔۔۔
تم میرے بھائی کو دوبارہ گالی مت دینا۔امامہ کا موڈ بھی آف ہوگیا تھا۔وہ کھانے کے برتن سمیٹنے لگی تھی۔ سالار کچھ کہنے کی بجائے بے حد خفگی سے کھانے کی میز سے اٹھ گیا تھا۔۔
وہ تقریباً دو گھنٹے بعد بیڈروم میں سونے کے لیئے آئ تھی۔۔وہ اس وقت معمول کے مطابق اپنی ای میلز چیک کرنے میں مصروف تھا۔وہ خاموشی سے اپنے بیڈ پر آکر لیٹ گئ۔۔۔
میں نے وسیم کو ایسا کچھ نہیں کہا جس پر تم اس طرح ناراض ہو کر بیٹھو۔۔
سالار نے مفاہمت کی کوششوں کا آغاز کردیا۔۔۔۔وہ اسی طرح بے حس و حرکت لیٹی رہی۔۔
امامہ میں تم سے بات کر رہا ہوں۔۔۔۔سالار نے کمبل کھینچا تھا۔۔
تم اپنے چھوٹے بھائی عمار کو وہی گالی دے کر دکھاؤ۔۔اسکے تیسری بار کمبل کھینچنے پر وہ بے حد خفگی سے اسکی طرف کروٹ بدل کر بولی۔
سالار نے بلا توقف وہی گالی عمار کو دی۔ چند لمحوں کے لیئے امامہ کی سمجھ میں نہ آیا کہ وہ کیا کہے اس سے. اگر دنیا میں ڈھٹائی کی کوئ معراج تھی تو وہ سالار تھا۔
میں پاپا کو بتاؤں گی۔ امامہ نے بھرائ ہوئ آواز میں کہا۔۔
تم نے کہا تھا عمار کو گالی دینے کو۔ ویسے تمہارے بھائ کو اس سے زیادہ خراب گالیاں میں اس کے منہ پر دے چکا ہوں اور اس نے کبھی مائنڈ نہیں کیا۔ اگر تم چاہو تو اگلی بار جب وہ یہاں آئے تو میں تمہیں دکھا دوں گا۔۔۔
وہ جیسے کرنٹ کھا کر اٹھ بیٹھی تھی۔
تم وسیم کو یہاں میرے سامنے گالیاں دو گے؟؟ اسے بے حد رنج ہوا تھا۔۔
جو کچھ اس نے کیا ہے میری جگہ کوئ بھی ہوتا تو اسے گالیاں ہی دیتا اور وہ بھی اس سے بری۔ سالار نے لگی لپٹی کے بغیر کہا۔۔
لیکن چلو آئ ایم سوری۔۔وہ اسکی شکل دیکھ کر رہ گئ۔
سکندر ٹھیک کہتے تھے انکی یہ اولاد سمجھ میں نہ آنے والی چیز تھی۔
لیکن پاپا۔۔وہ میرا بڑا خیال رکھتے ہیں میری کوئ بات نہیں ٹالتے ہر خواہش پوری کرتے ہیں۔۔۔
اس نے ایک بار سکندر کے پوچھنے پر کہ وہ اسکا خیال رکھتا تھا کے جواب میں سالار کی تعریف کی تھی۔۔۔
امامہ یہ جو تمہارا شوہر ہے یہ اللہ نے اس دنیا میں صرف ایک پیس پیدا کیا ہے تیس سال میں نے باپ کے طور پر جس طرح اسکے ساتھ گزارے ہیں وہ میں ہی جانتا ہوں۔۔یہ تمہارے سامنے بیٹھ کر تمہاری آنکھوں میں دھول جھونک سکتا ہے اور تمہیں کبھی پتا بھی نہیں چلے گا۔۔۔ اس نے جو کرنا ہوتا ہے وہ کر کے ہی رہتا ہے چاہے ساری دنیا ختم ہوجائے اسے سمجھا سمجھا کر اور کبھی اس خوش فہمی میں مت رہنا کہ یہ تمہاری بات مان کر اپنی مرضی نہیں کریگا۔۔۔سالار سر جھکائے مسکرا کر باپ کی باتیں سنتا رہا۔اور امامہ کچھ الجھی ہوئ کبھی اسے اور کبھی سکندر کو دیکھتی۔آہستہ آہستہ چل جائے گا. تمہیں پتا کہ سالار کیا چیز ہے۔۔
یہ پانی میں آگ لگانے والی گفتگو کا ماہر ہے۔
تمہارا امپریشن بہت خراب ہے پاپا پر۔۔تمہیں کوئ وضاحت کرنی چاہیئے تھی۔۔
کیسی وضاحت؟؟ وہ بلکل ٹھیک کہہ رہے تھے۔تمہیں انکی باتیں غور سے سننا چاہیئے تھی۔
وہ تب بھی اسکا منہ دیکھتی رہ گئ تھی اور اب بھی۔۔۔
آئ ایم سوری۔۔وہ پھر کہہ رہا تھا۔
تم شرمندہ تو نہیں ہو۔۔اس نے اسے شرمندہ کرنے کی آخری کوشش کی۔
ہاں وہ تو میں نہیں ہوں۔ لیکن چونکہ تمہیں میرا سوری کرنا اچھا لگتا ہے اس لیئے آئ ایم سوری۔۔
اس نے تپانے والی مسکراہٹ کیساتھ کہا۔۔امامہ نے جواب دینے کی بجائے بیڈ سائڈ ٹیبل پر پڑا پانی کا پورا گلاس پی لیا اور دوبارہ کمبل کھینچ کر لیٹ گئ۔
پانی اور لادوں؟؟ وہ اسے چھیڑ رہا تھا۔۔۔امامہ نے پلٹ کر نہیں دیکھا۔۔۔

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: