Aab e Hayat Novel by Umera Ahmed Read Online – Episode 2

0

آب حیات از عمیرہ احمد – قسط نمبر 2

–**–**–

وہ شخص دیوار پر لگی تصویر کے سامنے اب پیچھلے پندرہ منٹ سےکھڑا تھا پلکیں جھپکائے بغیر ٹکٹکی لگائے اس لڑکی کا چہرہ دیکھتے ہوئے۔ چہرے میں کوئی شباہت تلاش کرتے ہوئے۔ اس شخص کے شجرہ میں دبے آتش فشاں کی شروعات ڈھونڈتے ہوئے۔ اگر وہ اس شخص کو نشانہ بنا سکتا تھا تو اسی ایک جگہ سے بنا سکتا تھا۔ وہ ہونٹ کاٹتے ہوئے ساتھ ساتھ کچھ بڑبڑا بھی رہا تھا۔۔۔ خود کلامی۔۔۔ ایک اسکینڈل کا تانا بانا تیار کرنے کے لئے ایک کے بعد ایک مکرو فریب کا جال۔۔۔ وجوہات۔۔۔۔ حقائق کو مخفی کرنے۔۔۔۔ وہ ایک گہرا سانس لے کر اپنے عقب میں بیٹھے لوگوں کو کچھ ہدایت دینے کے لئے مڑا تھا۔
سی آئی اے ہیڈ کوارٹر کے اس کمرے کی دیواروں پر لگے بورڈ چھوٹے بڑے نوٹس، چارٹس، فوٹو گرافس اور ایڈریسز کی چٹوں سے بھرے ہوئے تھے۔
کمرے میں موجود چار آدمیوں میں سے تین اس وقت کمپیوٹر پر مختلف ڈیٹا کھنگالنے میں لگے ہوئے تھے۔
وہ یہ کام پچھلے ڈیڑھ ماہسے کر رہے تھے۔ اس کمرے میں جگہ جگہ بڑے بڑے ڈبے پڑے تھے جو مختلف فائلز، ٹیپس، میگزینز اور نیوز پیپر کے تراشوں اور دوسرے ریکارڈ سے بھرے ہوئے تھے۔ کمرے میں موجود ریکارڈ کیبنٹس پہلے ہی بھری ہوئی تھیں،، کمرے میں موجود تمام ڈیٹا ان کمپیوٹر کی ہارڈ ڈسکس میں بھی محفوظ تھا۔
کمرے میں موجود آدمی پچھلے ڈیڑھ ماہ سے اس شخص کے بارے میں آن لائن آنے والے تمام ریکارڈ اور معلومات اکٹھی کر رہا تھا۔ کمرے میں موجود تیسرا آدمی اس شخص اور اس کی فیملی کے ہر فرد کی ای میلز کا ریکارڈ کھنگالتا رہا تھا۔ چوتھا شخص اس فیملی کی مالی معلومات چیک کرتا رہا تھا۔ اس ساری جدوجہد کا نتیجہ ان تصویروں اور شجرہ نسب کی صورت میں ان بورڈز پر موجود تھا۔
وہ چار لوگ دعوا کر سکتے تھے کہ اس شخص اور اس کی فیملی کی پوری زندگی کا ریکارڈ اگر خدا کے پاس موجود تھا تو اس کی ایک کاپی اس کمرے میں تھی۔ اس شخص کی زندگی کے بارے میں کوئی بھی ایسی چیز نہیں تھی جو ان کے علم میں نہیں تھی یاں جس کے بارے میں وہ ثبوت نہ دے سکتے تھے۔
سی آئی اے کے شدید آپریشنز سے لے کر گرل فرینڈ تک اور اس کی مالی معاملات سے لے کر اسکی اولاد کی پرسنل اور پرائیوٹ لائف تک اس کے پاس ہر چیز کی تفصیلات تھیں۔
لیکن سارا مسئلہ یہ تھا کہ ڈیڑھ ماہ کی اس محنت اور پوری دنیا سے اکھٹے کئے ہوئے اس ڈیٹا میں سے وہ ایسی کوئی چیز نہیں نکال سکے تھے جس سے اس کی کردار کشی کرسکتے۔
وہ ٹیم جوپیندرہ سال سے اسی مقاصد پر کام کرتی رہی تھی یہ پہلی بار تھا کہ وہ اتنی سر جوڑ محنت کے باوجود اس شخص اور اس کے گھرانے کے کسی شخص کے حوالے سے کسی قسم کا بری حرکت یا عمل کی نشان دہی نہیں کر پائی تھی۔ دو سو پوانٹس کی وہ لسٹ جو انہیں دی گئی تھی وہ دو سو کراسز سے بھری ہوئی تھی اور یہ ان سب کی زندگی میں پہلی بار ہوا تھا۔ انہوں نے ایسا صاف ریکارڈ کسی کا نہیں دیکھا تھا۔
کسی حد تک ستائش کے جذبات رکھنے کے باوجود ایک آخری کوشش کررہے تھ۔ ایک آخری کوشش۔۔
کمرے کے ایک بورڈ سے دوسرے بورڈ اور دوسرے بورڈ سے تیسرے بورڈ تک جاتے جاتے وہ آدمی اس کے شجرہ نسب کی اس تصویر پر رکا ہوا تھا۔ اس تصویر کے آگے کچھ اور تصویریں تھیں اور ان کے ساتھ کچھ بلٹ پوائنٹس۔۔۔۔۔۔۔ ایک دم بجلی کا سا جھٹکا لگا۔ اس نے اس لڑکی کی تصویر کے نیچے تاریخ پیدائش دیکھی۔ پھر مڑ کر کمپیوٹر کے سامنے بیٹھے ہوئے آدمی کو وہ سال بتاتے ہوئے کہا۔
دیکھو اس سال یہ کہاں تھا؟
کمپیوٹر پر بیٹھے آدمی نے چند منٹوں کے بعد اسکرین دیکھتے ہوئے کہا۔
پاکستان میں۔۔۔۔۔۔ اس شخص کے ہونٹوں پر بے اختیار مسکراہٹ آگئی تھی۔
کب سے کب تک؟۔۔۔ اس آدمی نے اگلا سوال کرتے ہوئے کہا ۔۔۔ کمپیوٹر پر بیٹھے ہوئے آدمی نے تاریخیں بتائیں۔
آخر کار ہمیں کچھ مل ہی گیا۔ اس آدمی نے بے اختیار ایک سیٹی بجاتے ہوئے کہا تھا۔ انہیں جہاز ڈبونے کے لئے تار پیڈو مل گیا تھا۔۔۔۔
یہ پندرہ منٹ پہلے کی روداد تھی۔ پندرہ منٹ بعد اب وہ جانتا تھا کہ اسے اس آتش فشاں کا منہ کھولنے کے لئے کیا کرنا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔.۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ یہاں کسی جذباتی ملاقات کے لئے نہیں آئی تھی۔ سوال و جواب کے لمبے چوڑے سیشن کے لئے بھی نہیں۔۔۔ لعنت و ملامت کے کسی منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لئے بھی نہیں۔۔۔ وہ یہاں کسی کا ضمیر جنجھوڑنے آئی تھی۔۔۔ نہ ہی کسی سے نفرت کا اظہار کرنے کے لئے۔۔۔ اور نہ ہی کسی کو بتانے آئی تھی کہ وہ اذیت کے ماؤنٹ ایورسٹ پر کھڑی تھی۔۔۔ نہ ہی وہ اپنے باپ کو گریبان سے پکڑنا چاہتی تھی۔۔ نہ اسے یہ بتانا چاہتی تھی کہ اس نے اس کی زندگی تباہ کر دی ہے۔۔۔
اس کے صحت مند ذہن اور جسم کو ہمیشہ کے لئے مفلوج کر دیا تھا۔۔
وہ یہ سب کچھ کہتی۔۔۔ یہ سب کرتی اگر اسے یقین ہوتا کہ یہ سب کرنے کے بعد اسے سکون مل جائے گا۔۔۔
اس کا باپ احساس جرم یا پچھتاوے جیسی چیز کو پالنے لگا تھا،،،،
پچھلے کئی ہفتوں سے وہ آبلہ پا تھی۔۔۔ وہ راتوں کو سکون آور گولیاں لئے بغیر سو نہیں پارہی تھی اور اس سے بڑھ کر تکلیف دہ چیز یہ تھی وہ سکون آور ادویات لینا نہیں چاہتی تھی۔۔۔ وہ سونا نہیں چاہتی تھی۔۔۔۔ وہ سوچنا چاہتی تھی اس بھیانک خواب کے بارے میں جس میں وہ چند ہفتے پہلے داخل ہوئی تھی اور جس سے اب وہ ساری زندگی نکل نہیں سکتی تھی۔
وہ یہاں آنے سے پہلے پچھلی پوری رات روتی رہی تھی۔ یہ بے بسی کی وجہ سے نہیں تھا۔ یہ اذیت کی وجہ سے بھی نہیں تھا۔ یہ اس غصے کی وجہ سے تھا جو وہ اپنے باپ کے لئے اپنے دل میں اتنے دنوں سے محسوس کر رہی تھی۔ ایک آتش فشاں تھا یا جیسے کوئی الاو،ٔ جو اس کو اندر سے سلگا رہا تھا اندر سے جلا رہا تھا۔
کسی سے پوچھے، کسی کو بتائے بغیر یوں اٹھ کر آجانے کا فیصلہ جذباتی تھا، احمقانہ تھا اور غلط تھا۔ اس نے زندگی میں پہلی بار اک جذباتی، احمقانہ اور غلط فیصلہ، بے حد سوچ سمجھ کر کیا تھ۔ ایک اختتام چاہتی تھی وہ اپنی زندگی کے اس باب کے لئے جس کے بغیر وہ آگے نہیں بڑھ سکتی تھی اور جس کی موجودگی کا انکشاف اس کے لئے دل دہلادینے والا تھا۔
اس کا ایک ماضی تھا وہ جانتی تھی لیکن اسے کبھی یہ اندازہ نہیں تھا کہ اس کے ماضی کا ماضی بھی ہو سکتا ہے۔
ایک دفعہ کا ذکر تھا جب وہ خوش تھی اپنی زندگی میں۔ جب وہ خود کو باسعادت سمجھتی تھی۔ اور مقرب سے ملعون ہونے کا فاصلہ اس نے چند سیکنڈز میں طے کر لیا تھا۔ چند سیکنڈز شاید زیادہ وقت تھا شاید اس سے بھی کم وقت تھا جس میں وہ احساس کمتری، احساس محرومی، احساس ندامت اور ذلت و بدنامی کے ایک ڈھیر میں تبدیل ہوئی تھی۔
اور یہاں وہ اس کو دوبارہ وہی شکل دینے آئی تھی اس بوجھ کو اس شخص کے سامنے اتار پھینکنے آئی تھی جس نے وہ بوجھ اس پر لادا تھا۔ کسی کو اس وقت یہ پتا نہیں تھا کہ وہ وہاں تھی ۔۔۔۔ کسی کو پتا ہوتا تو وہاں آہی نہیں سکتی تھی ۔۔۔ اس کا سیل فون پچھلے کئی گھنٹوں سے آف تھا ۔۔ وہ چند گھنٹوں کے لئے خود کو اس دنیا سے دور لے آئی تھی جس کا وہ حصہ تھی ۔۔۔ اس دنیا کا حصہ یا پھر اس دنیا کا حصہ جس میں وہ اس وقت موجود تھی ۔۔۔ یا پھر اس کی کوئی بنیاد نہیں تھی ۔۔۔
وہ کہیں کی نہیں تھی ۔۔۔ اور جہاں کی تھی ۔ جس سے تعلق رکھتی تھی اس کو اپنا نہیں سکتی تھی ۔۔
انتظار لمبا ہوگیا تھا ۔۔۔ انتظار ہمیشہ لمبا ہوتا ہے ۔۔۔ کسی بھی چیز کا انتظار ہمیشہ لمبا ہوتا ہے ۔۔ چاہے آنے والی شے پاؤں کی زنجیر بننے والی ہو یاں پھر گلے کا ہار ۔۔۔ سر کا تاج بن کر سجنا ہو اس نے پاؤں کی جوتی ۔۔۔ انتظار ہمیشہ لمبا ہی لگتا ہے ۔۔
وہ ایک سوال کا جواب چاہتی تھی اپنے باپ سے ۔۔۔ صرف ایک چھوٹے سے سوال کا ۔۔۔ اس نے اس کی فیملی کو کیوں مار ڈالا؟؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

گرینڈ حیات ہوٹل کا پال روم اس وقت اسکرپ نیشنل اسپیلنگ بی کے ۹۲ ویں مابلے کے فائنل میں پہنچنے والے فریقین سمیت دیگر شرکاء، ان کے والدین، بہن بھائیوں اور اس مقابلے کو دیکھنے کے لئے موجود لوگوں سے کچھا کچھ بھرا ہونے کے باوجود ایسا خاموش تھا کہ سوئی گرنے کی آواز بھی سنی جا سکے۔
وہ دو افراد جو فائنل میں پہنچے تھے ان کے درمیان چودھواں راؤنڈ کھیلا جارہا تھا۔ تیرہ سالہ نینسی اپنے لفظ کے ہجے کرنے کے لئے اپنی جگہ پر آچکی تھی۔ پچھلے بیانوے سالوں سے اس پال روم میں دنیا کے بیسٹ اسپیلر کی تاج پوشی ہو رہی تھی۔ امریکا کی مختلف ریاستوں کے علاوہ دنیا کے بہت سارے ممالک میں اسپیلنگ بی کے مقامی مقابلے جیت کر آنے والے پندرہ سال سے کم عمر کے بچے اس آخری راؤنڈ کو جیتنے کے لئے سر دھڑ کی بازی لگا رہے تھے۔ ایسی ہی ایک بازی کے شرکاء آج بھی اسٹیج پر موجود تھے۔
سسافراس نینسی نے رکی ہوئی سانس کے ساتھ پروناؤنسر کا لفظ سنا ۔۔ اس نے پروناؤسر کو لفظ دہرانے کے لئے کہا ۔۔ پھر اس نے لفظ کو دہرایا ۔۔ وہ چیمپیئن شپ ورڈ میں سے ایک تھا لیکن فوری طور پر اسے وہ یاد نہیں آسکا ۔۔ بہر حال اس کی ساؤنڈ سے وہ اسے بہت مشکل لگا تھا اور اگر سننے میں اتنا مشکل نہیں تھا تو اس مطلب تھا وہ ترکی لفظ ہو سکتا تھا۔
نو سالہ دوسرا فائنلسٹ اپنی کرسی پر بیٹھے گلے میں لٹکے اپنے نمبر کارڈ کے پیچھے انگلی سے اس لفظ کی ہجے کرنے میں لگا ہوا تھا ۔۔ وہ اس کا لفظ نہیں تھا لیکن وہاں بیٹھا ہر بچہ ہی لاشعوری طور پر اس وقت یہی کرنے میں مصروف تھا۔ جو مقابلے سے آؤٹ ہو چکا تھا۔
نینسی کا ریگولر ٹائم ختم ہو چکا تھا ۔۔
ایس ۔ اے ۔ ایس ۔ ایس ۔۔ اس نے رک رک کر الفاظ کی ہجے کرنا شروع کی وہ پہلے چار حروف بتانے کے بعد ایک لمحہ کے لئے رکی۔ زیر لب اس نے باقی کے پانچ حروف دہرائے پھر دوبارہ بولنا شروع کیا۔
اے ۔ ایف ۔ آر ۔ وہ ایک بار پھر رکی ۔ دوسرے فائنلسٹ نے بیٹھے بیٹھے زیر لب آخری دو حروف دہرائے ۔۔
یو ۔ ایس ۔۔ مائیک کے سامنے کھڑی نینسی نے بھی بالکل اس وقت یہی دو حروف بولے اور پھر بے یقینی سے اس گھنٹی کو بجتے سنا جو اسپیلنگ کے غلط ہونے پر بجتی تھی ۔۔ شاک صرف اس کے چہرے پر نہیں تھا ۔۔۔ دوسرے فائنلسٹ کے چہرے پر بھی تھا ۔۔ پروناؤنسر اب سسافراس کے درست اسپیلنگ دہرا رہا تھا ۔۔۔ نینسی نے بے اختیار آنکھیں بند کیں۔
آخری لیٹر سے پہلے اے ہونا چاہیئے تھا ۔۔۔ میں نے یو کیا سوچ کر لگا دیا؟
اس نے خود کو کوسا۔ تقریباَ فق رنگت کے ساتھ نینسی گراہم نے مقابلے کے شرکاء کے لئے رکھی ہوئی کرسیوں کی طرف چلنا شروع کردیا ۔۔
ہال تالیوں سے گونج رہا تھا۔ یہ ممکنہ رنر اپ کو کھڑے ہو کر دی جانے والی داد و تحسین تھی ۔۔۔ نو سالہ دوسرا فائنل میں پہنچنے والا بھی اس کے لئے کھڑا تالیاں بجا رہا تھا ۔۔۔ نینسی کے قریب پہنچنے پر پر اس نے آگے بڑھ کر ہاتھ ملایا ۔۔۔
نینسی نے ایک مدہم سی مسکراہٹ کے ساتھ اسے جواب دیا اور اپنی سیٹ سنبھال لی۔ ہال میں موجود لوگ دوبارہ اپنی نشستیں سنبھال چکے تھے اور دوسرا فائنلسٹ مائیک کے سامنے آچکا تھا ۔۔ نینسی اسے دیکھ رہی تھی۔
اسے ایک موہوم سی امید تھی کہ اگر وہ بھی اپنے لفظ ہجے غلط کرتا ہے تو وہ دوبارہ فائنل میں آسکتی ہے ۔۔۔
دیٹ واز آ کیچ 22 اس سے ہاتھ ملاتے ہوئے اس نے کہا ۔۔ وہ اندارہ نہیں لگا سکی وہ اس کے لئے کیا کہہ رہا تھا یا وہ اس لفظ کو واقعی اپنے لئے کیچ 22 ہی سمجھ رہا تھا ۔۔۔ وہ چاہتی تھی ایسا ہوتا ۔۔ ہر کوئی چاہتا ۔۔۔ سینئر اسٹیج پر ان نو سالہ فائنلسٹ تھا ۔۔ اپنی اسی شرارتی مسکراہٹ اور گہری چمکتی آنکھوں کے ساتھ اس نے اسٹیج سے نیچے بیٹھے چیف پروناؤسر کو دیکھتے ہوئے سر ہلایا۔ جو ناتھن جواباَ مسکرایا تھا اور صرف جوناتھن ہی نہیں وہاں کے سب کے لبوں پر ایسی مسکراہٹ تھی ۔ وہ نوسالہ فائنلسٹ اس چیمپئن شپ کو دیکھنے والے حاضرین کا سویٹ ہارٹ تھا۔
اس کے چہرے پر بلا کی معصومیت تھی۔ چمکتی ہوئی تقریبا گول آنکھیں جو کسی کارٹون کریکٹر کی طرح پر جوش اور جان دار تھیں اور تقریبا گلابی ہونٹ جن پر وقتاَ فوقتاَ زبان پھیر رہا تھا اور جن پر آنے والا ذرا سا خم بہت سے لوگوں کو بلا وجہ مسکرانے پر مجبور کررہا تھا ۔۔۔ وہ معصوم فتنہ تھا یہ صرف اس کے والدین جانتے تھے جو دوسرے بچوں کے والدین کے ساتھ اسٹیج پر بائیں کی جانب بیٹھے ہوئے تھے ۔۔ وہاں بیٹھے دوسرے فائنلسٹس کے والدین کے برعکس وہ بے حد سکون تھے ۔۔ اس کے چہرے پر تھی تو وہ ان سات سالہ بیٹی کے چہرے پر تھی جو دو دن پر مشتمل اس پورے مقابلے کے دوران ہلکان رہی تھی اور وہ اب بھی آنکھوں پر گلاسز ٹکائے پورے انہماک کے ساتھ اپنے نو سالہ بھائی کو دیکھ رہی تھی جو پروناؤنسر کے لفظ کے لئے تیار تھا ۔۔Cappelleti
جو ناتھن نے لفظ ادا کیا۔ اس فائنلسٹ کے چہرے پر بے اختیار مسکراہٹ آئی تھی جسے وہ بمشکل اپنی ہنسی کو کنٹرول کررہا ہو ۔۔ اس کی آنکھیں پہلے کلاک وائز اور پھر اینٹی کلاک وائز گھوم رہی تھیں ۔۔ ہال میں کچھ کھلکھلاہٹیں ابھری تھیں ۔۔ اس نے چیمپیئن شپ میں اپنا ہر لفظ سننے کے بعد ایسے ہی ری ایکٹ کیا تھا۔ کمال کی خود اعتمادی تھی اس میں کئی دیکھنے والوں نے اسے داد دی اس کے حصے میں آنے والے الفاظ دوسروں کی نسبت زیادہ مشکل ہوتے تھے یہ اس کے لئے مشکل وقت ہوتا تھا لیکن بے حد روانی اور بغیر اٹکے، بغیر گھبرائے اسی پر اعتماد مسکراہٹ کے ساتھ وہ ہر پہاڑ سر کرتا رہا تھا اور اب اس کی آخری چوٹی سامنے آگئی تھی۔
ڈیفینیشن پلیز اس نے اپنا ریگولر ٹائم استعمال کرنا شروع کیا ۔۔۔
اس کی بہن اسے بے چینی سے دیکھ رہی تھی اس کے والدین اب بھی سکون میں تھے اس کے تاثرات بتا رہے تھے کہ یہ لفظ اس کے لئے آسان تھا وہ ایسے ہی تاثرات کے ساتھ پچھلے تمام الفاظ ہجے کرتا تھا ۔۔
پلیز اس لفظ کو کسی جملے میں استعمال کرو وہ اب پروناؤنسر سے کہہ رہا تھا پروناؤنسر کا بتایا ہوا جملہ سننے کے بعد گلے میں لٹکے ہوئے کارڈ نمبر کی پشت پر انگلی سے وہ لفظ کو لکھنے لگا ۔۔۔
اب آپ کا ٹائم ختم ہونے والا ہے اسے آخری تیس سیکنڈز کے شروع ہونے کی اطلاع دی گئی جس میں اس نے اپنے لفظ کی ہجے کرنا تھا اس کی آنکھیں گھومنا بند ہوگئی ۔۔
سی اے پی پی ای ٹی آئی وہ ہجے کرتے ہوئے ایک لحظہ کے لئے رکا پھر ایک سانس لیتے ہوئے اس نے دوبارہ ہجے کرنا شروع کیا ۔۔
ای ٹی ٹی آئی ۔۔
ہال تالیوں سے گونج پڑا اور بہت دیر تک گونجتا رہا ۔۔
اسپیلنگ بی کا نیا چیمپئن صرف ایک لفظ کے فاصلے پر رہ گیا تھا ،،،
تالیوں کی گونج تھمنے کے بعد جوناتھن نے اسے آگاہ کیا کہ اسے اب ایک اضافی لفظ کے حروف بتانے ہیں ۔۔
اس نے سر ہلایا ۔۔۔ اس لفظ کی ہجے نہ کر سکنے کی صورت میں نینسی دوبارہ مقابلے میں آسکتی ہے ۔۔Weissnichtwo اس کے لئے لفظ پروناؤنس کیا گیا ایک لمحے کے لئے اس کے چہرے سے مسکراہٹ غائب ہوئی تھی پھر اس کا منہ کھلا اور اس کی آنکھیں پھیل گئی اوہ مائی گاڈ اس کے منہ سے بے اختیار نکلا تھا وہ سکتہ میں تھا پوری چیمپیئن شپ میں یہ پہلی بار تھا کہ اس کی آنکھیں اور وہ خود اس طرح جامد ہوا تھا ۔۔۔
نینسی بے اختیا اپنی کرسی پر بیٹھی ہوئی تھی تو کوئی ایسا لفظ آگیا تھا جو اسے دوبارہ چیمپئن شپ میں لے جاسکتا تھا ۔۔
اس کے والدین کو پہلی بار اس کے تاثرات نے کچھ بے چین کیا تھا اس کا بیٹا اب اپنے نمبر کارڈ سے اپنا چہرہ حاضرین سے چھپا رہا تھا حاضرین اس کی انگلیوں اور ہاتھوں کی کپکپاہٹ بڑی آسانی سے اسکرین پر دیکھ سکتے تھے۔
اور ان میں سے بہت سو نے اس بچے کے لئے واقعی بہت ہمدردی محسوس کی۔ وہاں بہت کم تھے جو اسے جیتتے ہوئے دیکھنا نہیں چاہتا تھے ۔۔۔
ہال میں بیٹھا ہوا صرف ایک شخص مطمئن اور پر سکون تھا ۔۔۔ پر سکون ۔۔۔ یا پر جوش ۔۔۔۔؟۔۔۔۔۔ کہنا مشکل تھا اور وہ اس بچے کی سات سالہ بہن تھی جو اپنے ماں باپ کے درمیان بیٹھی ہوئی تھی اور جس نے اپنے بھائی کے تاثرات پر پہلی بار بڑے اطمینان کے ساتھ کرسی کی پشت کے ساتھ مسکراتے ہوئے ٹیک لگائی۔ گود میں رکھے ہوئے اپنے دونوں ہاتھوں کو بہت آہستہ آہستہ اس نے تالی کے انداز میں بجانا شروع کیا اس کے ماں باپ نے بیک وقت اس کے تالی بجاتے ہاتھوں اور اس کے مسکراتے چہرے کو الجھے انداز میں دیکھا پھر اسٹیج پر اپنے لرزتے کانپتے کنفیوزڈ بیٹے کو جو نمبر کارڈ کے پیچھے اپنا چہرہ چھپائے انگلی سے کچھ لکھنے میں مصروف تھا ۔
 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: