Aab e Hayat Novel by Umera Ahmed Read Online – Episode 20

0

آب حیات از عمیرہ احمد – قسط نمبر 20

–**–**–

 

وہ نیند میں سیل فون کی آواز پہ بڑبڑائی تھی۔ وہ سالار کا سیل فون تھا۔
ہیلو! سالار نے نیند میں کروٹ لیتے ہوئے کال ریسیو کی۔امامہ نے دوبارہ آنکھیں بند کرلی۔
ہاں بات کر رہا ہوں۔ اس نے سالار کو کہتے سنا۔ پھر اسے محسوس ہوا جیسے وہ یکدم بستر سے نکل گیا تھا۔۔امامہ نے آنکھیں کھولتے ہوئے نیم تاریکی میں اسے دیکھنے کی کوشش کی وہ لائٹ آن کیے بغیر اندھیرے میں ہی لاؤنج میں چلا گیا تھا۔
وہ کچھ حیران ہوئی تھی وہ کس کا فون ہو سکتا ہے۔جس کے لیے وہ رات کے اس پہر یوں اٹھ کر کمرے سے باہر گیا تھا۔
ایک جینز اور شرٹ پیک کردو میری۔ مجھے اسلام آباد کے لیے نکلنا ہے ابھی۔
کیوں خیریت تو ہے؟؟ وہ پریشان ہوگئ تھی۔
سکول میں آگ لگ گئ ہے۔ اسکی نیند پلک جھپکتے غائب ہوگئ تھی۔
سالار اب دوبارہ فون پر بات کر رہا تھا بے حد تشویش کے عالم میں کمرے میں واپس آکر اس نے اسکا بیگ تیار کیا وہ تب تک کمرے میں واپس آچکا تھا۔
آگ کیسے لگی؟؟
یہ تو وہاں جا کر پتہ لگے گا۔۔وہ بے حد عجلت میں اپنے کپڑے لیکر واش روم چلا گیا۔وہ بیٹھی رہی وہ اسکی پریشانی کا اندازہ کر سکتی تھی۔۔۔
دس منٹ میں تیار ہو کر وہ نکل گیا اور امامہ نے باقی ساری رات اسی پریشانی میں دعائیں کرتے ہوئے کاٹی۔ ۔
سالار کے گاؤں پہنچنے کے بعد بھی آگ پر قابو نہیں پایا جاسکا۔۔۔ وجہ بروقت فائر بریگیڈ کا دستیاب نہ ہونا تھا اور اسکا اتنے گھنٹوں تک نہ بجھ پانے کا کیا مطلب تھا وہ امامہ سمجھ چکی تھی۔۔
وہ پورا دن جلے پاؤں کی بلی کی طرح گھر میں پھرتی رہی۔ سالار نے اسے بلآخر آگ پر قابو پانے کی اطلاع دے دی۔مگر ساتھ یہ بھی کہ وہ اسکو رات کو فون کریگا اور اس رات وہ اسلام آباد میں رہنے والا تھا۔۔
سالار سے آدھی رات کے قریب اسکی بات ہوئی وہ آواز سے اتنا تھکا ہوا لگ رہا تھا کہ امامہ نے اس سے زیادہ دیر بات کرنے کی بجائے سونے کا کہہ کر فون بند کردیا۔ لیکن وہ خود ساری رات سو نہ سکی۔۔آگ عمارت میں لگائ گئ تھی ۔۔وہاں پولیس کو ابتدائ طور پر کچھ ایسے شواہد ملے تھے۔اور یہ بات امامہ کی نیند اور حواس باطل کرنے کے لیئے کافی تھی۔۔
وہ صرف سالار کا سکول نہیں تھا وہ پورا پروجیکٹ اب ایک ٹرسٹ کے تحت چل رہا تھا۔ جس کی مین ٹرسٹی سالار کی فیملی تھی۔۔
اور اس پروجیکٹ کو اسطرح کا نقصان ایکدم کون پہنچا سکتا ہے؟ یہی وہ سوال تھا جو اسے ہولا رہا تھا۔۔
اگلی رات کو وہ گھر پہنچا اور اسکے چہرے پر تھکن کے علاوہ اور کوئ تاثر نہیں تھا۔۔امامہ کو جیسے حوصلہ ہوا تھا۔
بلڈنگ کے سٹرکچر کو نقصان پہنچا ہے جس کمپنی نے بلڈنگ بنائ ہے وہ کچھ ایگزامن کر رہے ہیں اب دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔ شاید بلڈنگ گرا کر دوبارہ بنانی پڑ جائے۔۔
کھانے کی ٹیبل پر امامہ کے پوچھنے پر اس نے بتایا۔۔
بہت نقصان ہوا ہوگا۔۔۔یہ سوال احمقانہ تھا لیکن امامہ حواس باختہ تھی۔۔
ہاں۔۔۔۔۔جواب مختصر تھا۔
سکول بند ہوگیا؟؟ ایک اور احمقانہ سوال۔۔
نہیں۔۔۔گاؤں کے چند گھر فوری طور پر خالی کروائے ہیں اور کرائے پر لیکر سکول کے مختلف بلاکس کو شفٹ کیا ہے وہاں پر۔۔ ابھی کچھ دنوں میں سمر بریک آجائے گی تو بچوں کا زیادہ نقصان نہیں ہو گا۔۔وہ کھانا کھاتے ہوئے بتا رہا تھا۔
اور پولیس نے کیا کہا؟؟ ادھر ادھر کے سوالوں کے بعد امامہ نے بلآخر وہ سوال کیا جو اسے پریشان کیے ہوئے تھا۔
ابھی تفتیش شروع ہوئ ہے دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔۔سالار نے گول مول بات کی تھی۔ اس نے اسے یہ نہیں بتایا کہ دو دن اسلام آباد میں وہ اپنی فیملی کے ہر فرد سے اس کیس کے مشتبہ افراد میں امامہ کی فیملی کو شامل کرنے کے لیے دباؤ کا سامنا کرتا رہا تھا۔
اب کیا ہوگا؟؟ تیسرا احمقانہ سوال۔۔
سب کچھ دوبارہ بنانا پڑے گا اور بس۔۔جواب اتنا ہی سادہ تھا۔۔
اور فنڈز۔۔۔۔۔وہ کہاں سے آئینگے؟ یہ پہلا سمجھدارانہ سوال تھا۔
انڈوومنٹ فنڈ ہے سکول کا۔۔اسکو استعمال کرینگے کچھ انویسمنٹ کی ہے میں نے وہاں سے رقم نکلواؤں گا۔ وہ اسلام آباد کا پلاٹ بیچ دوں گا۔۔فوری طور پر تو تھوڑا بہت کرلوں گا۔۔
پلاٹس کیوں؟؟ وہ بری طرح بدکی تھی۔۔امامہ نے نوٹس نہیں کیا تھا کہ وہ پلاٹس نہیں پلاٹ کہہ رہا تھا۔۔
اس سے فوری طور پر رقم مل جائے گی۔ بعد میں لے لوں گا ابھی تو مجھے اس میس سے نکلنا ہے۔۔
تم وہ حق مہر کی رقم لے لو، آٹھ دس لاکھ کے قریب ویڈنگ پر ملنے والی گفٹ کی رقم بھی ہوگی اور اتنے ہی میرے اکاؤنٹ میں پہلے سے بھی ہونگے۔ پچاس ساٹھ لاکھ تو یہ ہو جائے گا اور ۔۔۔۔۔۔۔سالار نے اسکی بات کاٹی۔۔۔
یہ میں کبھی نہیں کروں گا۔۔
قرض لے لو مجھ سے، بعد میں دے دینا۔
نو۔۔۔۔اسکا انداز ختمی تھا۔۔
میرے پاس بے کار پڑے ہیں سالار! تمہارے کام آئیں گے تو۔۔۔۔۔۔۔اس نے پھر امامہ کی بات کاٹ دی۔
میں نے کہا نا نہیں۔۔۔۔۔۔اس نے اس بار ترشی سے کہا۔
میرے پیسے اور تمہارے پیسے میں کوئ فرق ہے کیا؟؟
ہاں ہے۔۔۔اس نے اسی انداز میں کہا۔۔
وہ حق مہر اور شادی پر گفٹ میں ملنے والی رقم ہے میں کیسے لے لوں تم سے۔۔ میں بے شرم ہوسکتا ہوں لیکن بے غیرت نہیں۔۔
اب تم خوامخوا جذباتی ہو رہے ہو اور۔۔۔۔۔۔۔
سالار نے اسکی بات کاٹی۔۔کون جذباتی ہو رہا ہے۔۔کم از کم میں تو نہیں ہورہا ۔وہ اسے دیکھ کر رہ گئ۔۔
میں تمہیں قرض دے رہی ہوں سالار۔۔
بہت شکریہ۔ مگر مجھے اسکی ضرورت نہیں۔۔مجھے قرض لینا ہوا تو بڑے دوست ہیں میرے پاس۔
دوستوں سے قرض لو گے بیوی سے نہیں؟؟
نہیں۔۔۔۔
میں تمہاری مدد کرنا چاہتی ہوں سالار۔۔
ایموشنلی کرو فنانشلی نہیں۔
وہ اسے دیکھتی رہ گئ۔ اسکی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ اسے کسطرح قائل کرے ۔۔
اور اگر میں یہ رقم ڈونیٹ کرنا چاہوں تو؟؟ اسے بلآخر ایک خیال آیا۔
ضرور کرو۔۔۔اس ملک میں بہت سارے خیراتی ادارے ہیں۔۔تمہارا پیسہ ہے چاہے آگ لگادو۔ لیکن میں یا میرا ادارہ نہیں لے گا ۔۔اس نے ختمی انداز میں کہا۔۔۔
تم مجھے کچھ ڈونیٹ نہیں کرنے دو گے۔۔۔
ضرور کرنا لیکن مجھے فی الحال ضرورت نہیں۔۔
وہ ٹیبل سے اٹھ گیا تھا۔
وہ بے حد اپ سیٹ اسے جاتا دیکھ رہی تھی. اسکے لیئے وہ دو پلاٹس اسکے گھر کی پہلی دو اینٹیں تھی۔ اور یہی چیز اسکے لیئے تکلیف دہ تھی۔ اور وہ احساس جرم بھی تھا جو وہ اس سارے معاملے میں اپنی فیملی کے انوالو ہونے کی وجہ سے محسوس کر رہی تھی۔۔وہ کہیں نہ کہیں اس رقم سے جیسے اس نقصان کی تلافی کرنا چاہتی تھی لیکن اسے اندازہ نہیں تھا کہ سالار نے اسکی سوچ کو پہلے سے پڑھ لیا تھا۔۔وہ جانتا تھا کہ امامہ یہ کوششیں کیوں کر رہی ۔
********—–***—*******
جو کچھ ہوا اس میں میرا کوئی قصور نہیں نہ ہی میری کوئ انوالومنٹ ہے۔۔۔
اسکے سامنے بیٹھا وسیم بڑی سنجیدگی سے اسے یقین دلانے کی کوشش کر رہا تھا۔۔اور میں یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ یہ سب ابو نے کیا ہے۔ میں نے گھر میں ایسا کچھ نہیں سنا۔۔
وسیم نے ہاشم کا بھی دفاع کرنے کی کوشش کی۔امامہ قائل نہیں ہوئی۔ وہ سالار کے سامنے اپنی فیملی کا دفاع کرنے کی کوشش کر سکتی تھی وسیم کے سامنے نہیں۔۔۔۔یہ جو کچھ ہوا تھا اس میں اسکے اہپنے ہی باپ کا ہاتھ تھا۔۔
ابو سے کہنا یہ سب کرنے سے کچھ نہیں ملے گا سالار کو کیا نقصان ہوگا یا مجھے کیا نقصان ہوگا۔ایک سکول ہی جلا ہے۔ پھر بن جائے گا۔۔ان سے کہنا وہ کچھ بھی کرلے ھم کو فرق نہیں پڑے گا۔۔
میں ابو سے یہ سب نہیں کہہ سکتا۔۔میں بہت بزدل ہوں۔۔تمہاری طرح بہادر نہیں۔۔
تمہارے جانے کے بعد اتنے سالوں میں بہت دفعہ کمزور پڑا میں بہت دفعہ شش و پنج کا شکار بھی ہوا اور شک و شبہ کا بھی۔ ۔بہت دفعہ دل چاہتا تھا زندگی کے اس غبار کو میں بھی ختم کر لوں جس سے میری بینائی دھندلائی ہوئ ہے لیکن میں بہت بزدل ہوں۔تمہاری طرح سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر نہیں جاسکتا۔۔۔۔
اب آجاؤ۔ امامہ کو خود احساس نہیں ہوا اس نے یہ بات کیوں اس سے کہہ دی۔
وسیم نے اس سے نظریں نہیں ملائ پھر سر ہلاتے ہوئے کہا۔۔۔اب تو بہت مشکل ہے جب اکیلا تھا تب کچھ نہ کرسکا اب تو بیوی بچے ہیں۔۔۔
ھم تمہاری مدد کرسکتے ہیں۔۔میں اور سالار۔۔۔کچھ بھی نہیں ہوگا تمہیں۔۔اور تمہاری فیملی کو تم ایک بار کوشش تو کرو۔۔۔
امامہ بھول گئ تھی اس نے وسیم کو کیا ڈسکس کرنے کے لیے بلایا تھا۔اور کیا باتیں لیکر بیٹھ گئ۔
انسان بہت خود غرض اور بے شرم ہوتا ہے امامہ یہ جو ضرورت ہوتی ہے نا یہ صحیح اور غلط کی سب تمیز ختم کردیتی ہے۔ کاش میں زندگی میں مذہب کو پہلی ترجیح بنا سکتا۔۔ مگر مذہب پہلی ترجیح نہیں ہے میری۔ وسیم نے گہرا سانس لیا تھا۔جیسے کوئ رنج تھا جس نے بگولہ بن کر اسے اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔
میں تمہاری طرح فیملی نہیں چھوڑ سکتا مذہب کے لیئے۔ تمہاری قربانی بہت بڑی ہے۔
تم جانتے بوجھتے جہنم کا انتخاب کر رہے ہو صرف دنیا کے لیئے؟؟ اپنی بیوی بچوں کو بھی اسی راستے پہ لے جاؤ گے کیونکہ تم میں صرف جرات نہیں ہے۔سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ کہنے کی۔۔
وہ اب بھائ کو چیلنج کر رہی تھی۔ وہ ایک دم اٹھ کر کھڑا ہوگیا۔۔جیسے بے قرار تھا۔۔
تم مجھے بہت بڑی آزمائش میں ڈالنا چاہتی ہو۔۔۔
آزمائش سے بچانا چاہتی ہوں۔۔۔آزمائش تو وہ ہے جس میں تم نے خود کو ڈال رکھا ہے۔۔
اس نے اپنی گاڑی کی چابی اٹھا لی۔۔میں صرف اسی لیئے تم سے ملنا نہیں چاہتا تھا۔۔۔وہ کہتے ہوئے اسکے روکنے کے باوجود اپارٹمنٹ سے نکل گیا تھا۔۔وسیم کو پارکنگ میں اپنی گاڑی کی طرف جاتا دیکھ کر اسے جیسے پچھتاوا ہوا تھا۔۔وہ وسیم سے تعلق توڑنا نہیں چاہتی تھی۔ لیکن اسے اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مارتے ہوئے بھی نہیں دیکھ سکتی تھی۔
****—-******—–*****–*
وسیم میرا فون نہیں اٹھا رہا۔ امامہ نے اس رات کھانے پر سالار سے کہا۔
ہوسکتا ہے وہ مصروف ہو۔ سالار نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا۔
نہیں۔ وہ ناراض ہے۔۔
اس بار سالار چونکا۔ وہ کیوں ناراض ہوگا۔۔
امامہ نے اسے اپنی اور وسیم کی ساری گفتگو سنا دی۔۔سالار گہرا سانس لیکر رہ گیا۔۔۔
تمہیں ضرورت کیا تھی اس سے اس طرح کی گفتگو کرنے کی۔ بالغ آدمی ہے وہ بزنس کر رہا ہے بیوی بچوں والا ہے اسے اچھی طرح پتا ہے کہ اس نے کیا کرنا ہے زندگی میں اور کیا نہیں۔۔۔تم لوگ آپس میں ملنا چاہتے ہو تو مذیب کو ڈسکس مت کرو۔ سالار نے اسے سنجیدگی سے سمجھایا۔
بات اس نے شروع کی تھی۔۔امامہ نے جیسے اپنا دفاع کیا۔
اور خود بات شروع کرنے کہ بعد اب وہ تمہاری کال نہیں اٹھا رہا تو تم انتظار کرو جب اسکا غصہ ٹھنڈا ہو جائے گا خود ہی تمہیں کال کرلے گا۔۔ سالار کہہ کر دوبارہ کھانا کھانے لگا۔۔وہ اسی طرح بیٹھی رہی۔
اب کیا ہوا؟؟ سالار نے سلاد کھاتے ہوئے اسکی خاموشی نوٹس کی۔۔
میری خواہش ہے وہ بھی مسلمان ہو جائے اور گمراہی کے اس دلدل سے نکل آئے۔۔
سالار نے ایک لمحہ رک کر اسے دیکھا اور پھر بڑی سنجیدگی سے کہا۔۔۔
تمہارے چاہنے سے کچھ نہیں ہوگا۔۔یہ اسکی زندگی اسکا فیصلہ ہے۔۔تم اپنی خوایش اس پر لاگو نہیں کرسکتی۔۔اور تم دوبارہ کبھی اس سے اس مسئلے پر بات نہیں کروگی نہ ہی سکول کے حوالے سے کسی گلے شکوے کے لیئے اسے بلاؤ گی۔میں اپنے مسئلے خود ہینڈل کرسکتا ہوں۔۔وہ کہہ کر کھانے کی ٹیبل سے اٹھ گیا۔۔امامہ اسی طرح حالی پلیٹ لیے بیٹھی رہی۔۔
****—–****—***—-****
اسکول کی بلڈنگ کے سٹرکچر کو واقعی نقصان پہنچا تھا ۔یہ سالار کے لیے حالیہ زندگی کا سب سے بڑا مالیاتی نقصان تھا۔۔ مختلف کیمیکلز سے انتہائی مہارت کیساتھ عمارت کے مختلف حصوں میں آگ لگائ گئ تھی۔ یہ کسی عام چور اچکے کا کام نہیں تھا۔۔اگر مقصد سالار کو نقصان پہنچانا تھا تو اسے بے حد نقصان ہوا اگر مقصد اسے چوٹ پہنچانا تھا تو یہ پیٹ پر ضرب لگانے جیسا تھا۔۔وہ دوہرا ہوا تھا لیکن منہ کے بل نہیں گرا تھا۔۔
اسے چھوڑ دو سالار۔۔۔۔وہ دوسرے ویک اینڈ پر اسلام آباد میں تھے اور طیبہ اس بار جیسے گڑگڑا رہی تھی۔ تمہیں شادی کا شوق تھا اب پورا ہوگیا۔۔اب چھوڑ دو اسے۔۔۔
آپکو اندازہ نہیں آپ کتنا تکلیف پہنچاتی ہے مجھے جب آپ مجھ سے اسطرح بات کرتی ہے۔ سالار نے انکو بات مکمل نہیں کرنے دی۔
تم نے دیکھا نہیں انہوں نے کیا کیا ہے۔۔۔
ابھی کچھ ثابت نہیں ہوا ۔اس نے پھر ماں کی بات کاٹی۔۔
تم عقل کے اندھے ہو سکتے ہو ہم نہیں۔۔۔اور کون ہے دشمن تمہارا امامہ کی فیملی کے سوا۔۔۔طیبہ برہم تھی۔۔۔
اس سب میں امامہ کا کیا قصور ہے۔۔
یہ سب اس کی وجہ سے ہو رہا ہے تم یہ بات کیوں نہیں سمجھتے۔۔
نہیں سمجھتا۔۔اور نہ ہی سمجھوں گا۔ میں کل بھی آپ سے کہہ رہا تھا آج بھی کہتا ہوں اور
آئندہ بھی کہوں گا میں امامہ کو طلاق نہیں دوں گا۔آپ کو کوئی اور بات کرنی ہے تو میں بیٹھتا ہوں اس ایشو پہ مجھے نہ آج اور نہ ہی دوبارہ بات کرنی ہے۔
طیبہ کچھ بول نہ سکی تھی۔ وہ آدھ گھنٹہ بعد تکوہاں بیٹھا رہا پھر واپس بیڈروم آگیا امامہ ٹی وی دیکھ رہی تھی۔۔وہ اپنا لیپ ٹاپ نکال کر کچھ کام کرنے لگا تھا۔اسے عجیب سا احساس ہوا تھا وہ جس چینل کو دیکھ رہی تھی اس پر مسلسل اشتہار چل رہے تھے اور وہ انہیں بڑی یکسوئی سے دیکھ رہی تھی۔۔سالار نے وقتاً فوقتاً دو تین مرتبہ اسکو اور ٹی وی کو دیکھا۔ اس نے دس منٹ کے دوران ایک بار بھی اسے چائے کا مگ اٹھاتے نہیں دیکھا تھا۔
اس نے لیپ ٹاپ بند کر دیا اور اسکے پاس صوفے پر آکر بیٹھ گیا۔امامہ نے مسکرانے کی کوشش کی سالار نے اسکے ہاتھ سے ریمورٹ لیکر ٹی وی آف کر دیا۔
تم نے میری اور ممی کی باتیں سنی ہیں کیا؟؟ وہ چند لمحوں کے لیےساکت ہوگئ۔وہ جن یا جادوگر نہیں تھا۔۔۔شیطان تھا اور اگر شیطان نہیں تھا تو شیطان کا سینئر منسٹر تھا۔اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے جھوٹ بولنا بیکار تھا۔۔اس نے گردن سیدھی کرلی۔
ہاں۔ چائے بنانے گئ تھی میں اور تم دونوں لاؤنج میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے میں نے کچن میں سنا سب۔۔۔
وہ اسے یہ نہ بتا سکی کہ طیبہ کے مطالبے نے چند لمحوں کے لیےاسکے پیروں تلے زمین نکال دی تھی۔
تم جب یہاں آتے ہو تو وہ یہ کہتی ہیں تم سے؟؟
ایک لمبی خاموشی کے بعد اس نے سالار سے پوچھا جو اسے تسلی دینے کے لیئے کچھ الفاظ ڈھونڈ رہا تھا۔
نہیں۔۔۔ہر بار نہیں کہتی ۔۔کبھی کبھی وہ اوور ری ایکٹ کرجاتی ہیں۔۔اس نے ہموار لہجے میں کہا ۔۔۔
میں اب اسلام آباد کبھی نہیں آؤں گی۔ اس نے ایک دم کہا۔
لیکن میں تو آؤں گا اور میں آؤں گا تو تمہیں بھی آنا پڑے گا۔۔۔ الفاظ سیدھے تھے لہجہ نہیں۔۔
تم اپنی ممی کی سائڈ لے رہے ہو؟؟
ہاں۔۔۔جیسے میں نے انکے سامنے تمہاری سائڈ لی تھی۔
وہ اسکے جواب پر چند لمحے کچھ بول نہ سکی۔ وہ ٹھیک کہہ رہا تھا۔
خاموشی کا ایک اور لمبا وقفہ آیا۔ پھر سالار نے کہا۔
زندگی میں اگر کبھی میرے اور تمہارے درمیان علیحدگی جیسی کوئ چیز ہوئ تو اسکی وجہ میرے پیرنٹس یا میری فیملی نہیں بنے گی۔۔کم از کم یہ ضمانت میں تمہیں دیتا ہوں۔۔وہ پھر بھی خاموش رہی تھی
کچھ بولو۔۔۔
کیا بولوں؟؟
جب تم خاموش ہوتی ہو تو بہت ڈر لگتا ہے مجھے۔
امامہ نے حیرانی سے اسے دیکھا وہ سنجیدہ تھا۔۔
مجھے لگتا ہے تم پتا نہیں اس بات کو کیسے استعمال کروگی میرے خلاف۔۔۔۔۔۔۔ کبھی۔۔۔۔۔۔اس نے جملہ مکمل کرنے کے بعد کچھ توقف سے ایک آخری لفظ کا اضافہ کیا ۔۔وہ اسے دیکھتی رہی لیکن خاموش تھی۔سالار نے اسکا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں لیا۔۔۔
تم میری بیوی ہو امامہ، وہ میری ماں ہیں۔۔میں تمہیں شٹ اپ کہہ سکتا ہوں انہیں نہیں. وہ ایک ماں کی طرح سوچ رہی ہیں اور ماں کی طرح ری ایکٹ کر رہی ہیں جب تم ماں بنو گی تو تم بھی اسی طرح ری ایکٹ کرنے لگو گی۔ انہوں نے تم سے کچھ نہیں کہا مجھ سے کہا۔۔میں نے اگنور کردیا۔جس چیز کو میں نے اگنور کردیا اسے تم سیریسلی لوگی تو یہ حماقت ہوگی۔
وہ اسے سمجھا رہا تھا وہ خاموشی سے سنتی رہی جب وہ خاموش ہوا تو اس نے مدھم آواز میں کہا ۔۔۔
میرے لئے سب کچھ کبھی ٹھیک نہیں ہوگا۔۔جب سے شادی ہوئ ہے یہی سب کچھ ہورہا ہے تمہارے لیئے ایک کے بعد ایک مسئلہ آجاتا ہے مجھ سے شادی اچھی ثابت نہیں ہوئ تمہارے لیئے۔۔ابھی سےاتنے مسئلے ہورہے ہیں تو پھر بعد میں پتا نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سالار نے اسکی بات کاٹ دی۔۔
شادی ایک دوسرے کی قسمت سے نہیں کی جاتی ایک دوسرے کے وجود سے کی جاتی ہے اچھے دنوں کے ساتھ کے لیئے لوگ فرینڈشپ کرتے ہیں شادی نہیں۔۔۔ھم دونوں کا ماضی حال مستقبل جو بھی ہے جیسا بھی ہے ایک ساتھ ہی ہے اب اگر تم کو یہ لگتا ہے کہ میں یہ توقع کر رہا تھا کہ تم سے شادی کے بعد پہلے میرا پرائز بانڈ نکلے گا یا پھر کوئی بونس ملے گا یا پروموشن ہوگی تو سوری مجھے ایسی توقعات نہیں ۔جو کچھ ہورہا ہے وہ بے وقت ہوسکتا ہے میرے لیے لیکن غیر متوقع نہیں۔۔۔
میں تمہارے لیے کس حد تک جاسکتا ہوں کتنا سنسیئر ہوں وہ وقت بتا سکتا ہے اس لیے تم خاموشی سے وقت کو گزرنے دو ۔۔یہ چائے ٹھنڈی ہوگئ ہے جاؤ دوبارہ چائے بنا لاؤ ۔۔پیتے ہیں۔۔۔وہ اسکا چہرہ دیکھتی رہی۔۔کوئ چیز اسکی آنکھوں میں امڈنے لگی تھی۔۔
اسکی ضرورت نہیں ہے امامہ ۔۔سالار نے اسکے چہرے پر پھسلتے آنسوؤں کو دیکھتے ہوئے اس سے نرمی سے کہا۔وہ سر ہلاتے ہوئے اپنی ناک رگڑتی اٹھ گئ۔۔
******—-**&*—-****—*
سالار نے اس مسئلے کو کیسے حل کیا تھا یہ امامہ نہیں جانتی تھی۔سکول کی دوبارہ تعمیر کیسے شروع ہوئ تھی اسے یہ بھی نہیں پتا تھا سالار پہلے سے زیادہ مصروف تھا اور اسکی زندگی میں آنے والا طوفان کسی تباہی کے بغیر گزر گیا تھا۔
***********************
مجھے ہاتھ دکھانے میں کوئ دلچسپی نہیں ہے۔ سالار نے دو ٹوک انکار کرتے ہوئے کہا تھا۔
لیکن مجھے ہے۔۔امامہ اصرار کر رہی تھی۔
یہ سب جھوٹ ہوتا ہے۔۔ سالار نے اسے بچوں کی طرح بہلانے کی کوشش کی۔
کوئ بات نہیں، ایک بار دکھانے سے کیا ہوگا۔اسکے انداز میں تبدیلی نہیں آئی تھی۔
تم کیا جاننا چاہتی ہو اپنے مستقبل کے بارے میں مجھ سے پوچھ لو۔۔
سالار اسے پامسٹ کے پاس لیجانے کے موڈ میں نہیں تھا۔ جو اس فائیو سٹار ہوٹل کی لابی میں تھا جہاں وہ کھانا کھانے آئے تھے۔
ویری فنی۔۔۔۔۔۔۔ اس نے مذاق اڑایا تھا۔اپنے مستقبل کا تو تمہیں پتا نہیں میرا کیا ہوگا۔
کیوں ۔تمہارا اور میرا مستقبل ساتھ ساتھ نہیں کیا۔۔سالار نے مسکرا کر اسے جتایا۔
اسی لیئے تو کہتی ہوں پامسٹ کے پاس چلتے ہیں اس سے پوچھتے ہیں۔امامہ کا اصرار بڑھا تھا۔
دیکھو ہمارا آج ٹھیک ہے ۔۔کافی ہے۔۔۔تمہیں کل کا مسئلہ کیوں ہورہا ہے۔۔۔وہ اب بھی رضامند نہیں تھا۔
مجھے ہے کل کا مسئلہ۔۔وہ کچھ جھلا کر بولی۔
کتنے لوگ ہاتھ دکھا کر جاتے ہیں اس پامسٹ کو ۔۔تمہیں پتا ہے میرے کولیگز کو اس نے انکے فیوچر کے بارے میں کتنا کچھ ٹھیک بتایا تھا۔ بھابھی کی بھی کتنی کزنز آئ تھی اسکے پاس۔۔۔۔۔۔امامہ اب اسے قائل کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔
بھابھی آئ تھی انکے پاس؟؟ سالار نے جواباً پوچھا تھا۔
نہیں۔۔۔۔وہ اٹکی۔۔
تو؟؟
تو یہ کہ انکو انٹرسٹ نہیں لیکن مجھے تو ہے۔اور تم نہیں لیکر جاؤ گے تو میں خود چلی جاؤں گی۔۔وہ یکدم سنجیدہ ہوگئ تھی۔
کس دن؟؟ سالار نے جیسے ٹالا۔۔
ابھی۔۔۔
وہ بے اختیار ہنسا اور اس نے جیسے ہتھیار ڈال کر کہا۔۔
پامسٹ کو ہاتھ دکھانا دنیا کی سب سے بڑی حماقت ہے اور میں تم سے ایسی حماقت کی توقع نہیں رکھتا تھا لیکن اب تم ضد کر رہی ہو تو ٹھیک ہے۔۔تم دکھا لو ہاتھ۔۔
تم نہیں دکھاؤ گے؟؟ اسکے ساتھ لابی کی طرف جاتے ہوئے امامہ نے پوچھا۔۔۔
نہیں۔۔۔سالار نے دو ٹوک انداز میں کہا۔۔
چلو کوئ بات نہیں ۔۔خود ہی تو کہہ رہے ہو کہ میرا اور تمہارا مستقبل ایک ہے تو جو کچھ میرے بارے میں پامسٹ بتائے گا وہ تمہارے بارے میں بھی تو ہوگا۔۔امامہ اسے چھیڑ رہی تھی۔
مثلاً ۔۔۔۔سالار نے بھنویں اچکاتے ہوئے پوچھا۔
مثلاً اچھی خوشگوار ازدواجی زندگی ۔۔اگر میری ہوگی تو تمہاری بھی ہوگی۔۔
ضروری نہیں ہے۔۔۔وہ اسے اب تنگ کرنے لگا۔۔
ہوسکتا ہے شوہر کے طور پر میری زندگی بڑی بری گزرے تمہارے ساتھ۔۔۔۔۔
تو مجھے کیا؟؟ میری تو اچھی گزر رہی ہوگی۔۔امامہ نے کندھے اچکا کر بے نیازی دکھائ۔
تم عورتیں بڑی سیلفش ہوتی ہو ۔سالار نے چلتے چلتے جیسے اسکے رویئے کی مذمت کی۔
تو نہ کیا کرو پھر ھم سے شادی۔۔نہ کیا کرو ھم سے محبت۔۔۔ھم کونسا مری جارہی ہوتی ہیں تم مردوں کے لیئے۔۔۔۔
امامہ نے مذاق اڑانے والے انداز میں کہا تھا ۔وہ ہنس پڑا۔۔۔چند لمحوں کے لیئے وہ جیسے واقعی لاجواب ہوگیا تھا۔
ہاں ھم ہی مرے جا رہے ہوتے ہیں تم عورتوں پر۔۔۔۔عزت کی زندگی راس نہیں آتی شاید اس لیئے۔وہ چند لمحوں بعد بڑبڑایا۔۔
تمہارا مطلب ہے تم شادی سے پہلے عزت کی زندگی گزار رہے تھے۔؟؟امامہ ھمیشہ کی طرح فوراً برا مان گئ تھی۔
ھم شاید جنرلائز کر رہے تھے۔۔سالار اسکا بدلتا موڈ دیکھ کر گڑبڑایا۔۔
نہیں۔۔۔تم صرف اپنی بات کرو۔
تم آگر ناراض ہورہی ہو تو چلو پھر پامسٹ کی طرف نہیں جاتے۔۔سالار نے اسے بے حد سہولت سے موضوع سے ہٹایا۔
نہیں میں کب ناراض ہوں ویسے ہی پوچھ رہی تھی۔۔۔امامہ کا موڈ یکدم بدلا۔
ویسے تم کیا پوچھو گی پامسٹ سے؟؟ سالار نے بات کو مزید گھمایا۔۔۔
بڑی چیزیں ہیں۔۔۔امامہ سنجیدہ تھی۔۔
وہ کچھ کہنا چاہتا تھا مگر تب تک وہ پامسٹ تک پہنچ چکے تھے۔۔۔
پامسٹ اب امامہ کا ہاتھ پکڑے عدسے کی مدد سے اسکی لکیروں کا جائزہ لے رہا تھا۔پھر اس نے بے حد سنجیدگی سے کہنا شروع کیا۔۔
لکیروں کا علم نہ تو ختمی ہوتا ہے نہ الہامی۔ ھم صرف وہی بتاتے ہیں جو لکیریں بتا رہی ہوتی ہیں بہر حال مقدر سنوارتا اور بگاڑتا اللہ تعالی ہی ہے۔۔۔وہ بات کرتے کرتے چند لمحوں کے لیئے رکا۔ پھر اس نے جیسے حیرانی سے اس کے ہاتھ پر کچھ دیکھتے ہوئے بے اختیار اسکا چہرہ دیکھا۔اور پھر برابر کی کرسی پر بیٹھے اسکے شوہر کو دیکھا جو اس وقت بلیک بیری پر میسجز دیکھنے میں مصروف تھا۔۔
بڑی حیرانی کی بات ہے۔۔ پامسٹ نے دوبارہ ہاتھ دیکھتے ہوئے کہا۔۔
کیا؟؟ امامہ نے کچھ بے تاب ہو کر پامسٹ سے پوچھا۔
آپکی یہ پہلی شادی ہے؟؟ سالار نے نظر اٹھا کر پامسٹ کو دیکھا۔۔اسکا خیال تھا یہ سوال اسکے لیئے تھا۔۔لیکن وہ امامہ سے مخاطب تھا۔۔
ہاں۔۔امامہ نے کچھ حیران ہوکر پہلے پامسٹ کو اور پھر اسے دیکھا۔۔
اوہ۔۔۔۔اچھا۔۔۔پامسٹ پھر کسی غور و حوض میں مصروف ہوگیا۔۔
آپکے ہاتھ پر دوسری شادی کی لکیر ہے۔۔ایک مضبوط لکیر۔۔۔ایک خوشگوار کامیاب دوسری شادی۔۔۔
پامسٹ نے امامہ کو دیکھتے ہوئے حتمی انداز میں کہا۔۔امامہ کا رنگ اڑ گیا۔۔اس نے گردن موڑ کر سالار کو دیکھا۔۔وہ اپنی جگہ ساکت تھا۔۔
آپ کو یقین ہے؟؟ امامہ کو لگا جیسے پامسٹ نے کچھ غلط پڑھا تھا۔
جہاں تک میرا علم ہے اسکے مطابق تو آپکے ہاتھ پر شادی کی دو لکیریں ہیں اور دوسری لکیر پہلی کی نسبت زیادہ واضح ہے۔۔
پامسٹ اب بھی اسکے ہاتھ پر نظریں جمائے ہوئے تھا ۔۔۔سالار نے امامہ کے کسی اگلے سوال سے پہلے والٹ سے ایک کرنسی نوٹ نکال کر پامسٹ کے سامنے میز پر رکھا پھر بڑی شائستگی سے کہتے ہوئے اٹھ گیا۔۔۔
تھینک یو۔۔بس اتنی انفارمیشن کافی ہے۔۔ھم لیٹ ہورہے ہیں ھمیں جانا ہے۔۔۔اسے اٹھ کر وہاں سے چلتا دیکھ کر امامہ نہ چاہنے کے باوجود اٹھ کر اسکے پیچھے آئ تھی۔۔۔
مجھے ابھی اور بہت کچھ پوچھنا تھا اس سے۔۔امامہ نے خفگی سے کہا۔۔
مثلاً؟؟ سالار نے کچھ تیکھے انداز میں کہا۔
اس نے مجھے اور پریشان کردیا ہے۔۔۔امامہ نے اسکے سوال کا جواب نہیں دیا۔۔لیکن جب وہ پارکنگ میں آگئے تو اس نے گاڑی میں بیٹھتے ہی سالار سے کہا۔۔۔
یہ تمہارا اپنا انتخاب تھا اس نے تمہیں نہیں بلایا تھا تم خود گئ اپنا مسقبل دیکھنے۔۔۔سالار نے بے رخی سے کہا۔۔۔
سالار تم مجھے چھوڑ دو گے کیا؟؟ امامہ نے پوچھا۔
یہ نتیجہ اگر تم نے پامسٹ کی پیش گوئی کے بعد نکالا ہے تو مجھے تم پر افسوس ہے۔۔سالار کو غصہ آیا تھا اس پر۔۔
ایسے ہی پوچھا ہے میں نے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تمہیں پہلے کم وہم تھے میرے بارے میں کہ کسی پامسٹ کی مدد کی ضرورت پڑتی۔۔سالار کی خفگی کم نہیں ہوئ تھی۔
دوسری شادی تو وہ تمہاری پریڈیکٹ کر رہا ہ۔۔ایک کامیاب خوشگوار ازدواجی زندگی اور تم مجھ سے پوچھ رہی ہو کہ کیا میں تمہیں چھوڑ دوں گا؟؟ یہ بھی تو ہوسکتا ہے تم مجھے چھوڑو۔۔۔سالار نے اس بار چھبتے ہوئے انداز میں کہا۔۔اس کی گاڑی اب مین روڈ پر آچکی تھی۔۔
میں تو تمہیں کبھی نہیں چھوڑ سکتی۔۔امامہ نے سالار کو دیکھے بغیر بے ساختہ کہا۔۔۔
پھر ہو سکتا ہے میں مر جاؤں اور اسکے بعد تمہاری دوسری شادی ہو۔۔۔سالار کو یکدم اسے چڑانے کی سوجھی۔۔
امامہ نے اس بار اسے خفگی سے دیکھا ۔تم بے وقوفی کی بات مت کرو۔
ویسے تم کرلینا شادی اگر میں مر گیا تو ۔۔اکیلی مت رہنا۔۔۔امامہ نے کچھ اور برا مانا۔۔۔۔۔
میں کچھ اور بات کر رہی ہوں تم کچھ اور بات کرنا شروع کردیتے ہو۔۔اور تمہیں اتنی ہمدردی دکھانے کی ضرورت نہیں۔
تم اصل میں یہ چاہتے ہو کہ اگر میں مر جاؤں تو تم دوسری شادی کرلینا۔وہ کچھ لمحوں کی بعد یکدم بولی۔۔وہ اسکی ذہانت پر عش عش کر اٹھا۔۔۔
تو کیا میں نہ کروں؟سالار نے جان بوجھ کر اسے چھیڑا۔
مجھے پامسٹ کے پاس جانا ہی نہیں چاہیئے تھا۔ وہ پچھتائ تھی۔
تم مجھے سود کے بارے میں سوال کر تی ہو اور خود یہ یقین رکھتی ہو کہ اللہ کے علاوہ کسی انسان کو دوسرے انسان کی قسمت کا حال پتا ہوتا ہے؟؟ وہ ھمیشہ سے صاف گو تھا۔ مگر اسکی صاف گوئ نے امامہ کو پہلے کبھی اتنا شرمندہ نہیں کیا تھا جتنا اسوقت کیا. ۔گھڑوں پانی پڑنے کا مطلب اب سمجھ آیا تھا اسے۔۔
انسان ہوں۔۔فرشتہ تو نہیں ہوں میں۔۔۔اس نے مدھم آواز میں کہا۔
جانتا ہوں۔۔اور تمہیں کبھی فرشتہ سمجھا بھی نہیں میں نے، مارجن آف ایرر دیتا ہوں تمہیں لیکن تم مجھے نہیں دیتی۔۔
وہ اسے دیکھ کر رہ گئ وہ ٹھیک کہہ رہا تھا ۔وہ بہت کم کوئ بات غلط کرتا تھا امامہ کو اسکا اعتراف تھا۔۔
زندگی اور قسمت کا پتا اگر ان چیزوں سے چلتا تو پھر اللہ تعالی انسان کو کبھی عقل نہیں دیتا۔صرف یہی چیزیں دیکر اسے دنیا میں اتار دیتا۔۔۔
وہ گاڑی چلاتے ہوئے کہہ رہا تھا اور وہ شرمندگی سے سن رہی تھی۔جب مستقبل نہیں بدل سکتے تو پھر جاننے کا کیا فائدہ۔ بہتر ہے غیب غیب ہی رہے اللہ سے اسکی خبر کی بجائے اسکا رحم و کرم مانگنا زیادہ بہتر ہے۔
وہ بول ہی نہیں سکی تھی۔سالار بعض دفعہ اسے بولنے کے قابل نہیں چھوڑتا یہ یقین یہ اعتماد تو اسکا اثاثہ تھا۔۔یہ اسکے پاس کیسے چلا گیا. امامہ کو اس رات پہلی بار یہ بے چینی ہوئ تھی۔۔ وہ ساتھی تھے رقیب نہیں تھے۔وہ ایمان کے درجوں میں اس سے پیچھے تھا وہ اسے کیسے پیچھے چھوڑنے لگا تھا اب۔۔
*****——-****—-*****-*
وہ سالار کیساتھ خانہ کعبہ کے صحن میں بیٹھی ہوئ تھی۔سالار اس کے دائیں جانب تھا یہ وہاں انکی آخری رات تھی۔وہ پچھلے پندرہ دن سے وہاں تھے۔اور اپنی شادی کے ساتویں مہینے عمرے کے لیئے آئے تھے۔احرام میں ملبوس سالار کے برہنہ کندھے کو دیکھتے ہوئے امامہ کو ایک لمبے عرصے کے بعد وہ خواب یاد آیا تھا۔۔سالار کے دائیں کندھے پر کوئ زخم نہیں تھا لیکن اسکے بائیں کندھے کی پشت پر اب بھی اس ڈنر نائف کا نشان تھا۔جو ہاشم مبین نے مارا تھا۔
تم نے پہلے کبھی مجھے اس خواب کے بارے میں نہیں بتایا۔ وہ امامہ کے منہ سے اس خواب کے بارے میں سن کر شاکڈ تھا۔کب دیکھا تھا تم نے یہ خواب؟؟
امامہ کو تاریخ مہینہ دن سب یاد ہے تھا۔ کیسے بھولتی۔۔اس دن وہ جلال سے ملی تھی اتنے سالوں کے لاحاصل انتظار کے بعد۔۔۔۔۔۔
سالار گنگ تھا۔۔وہ وہی رات تھی جب وہ یہاں امامہ کے لیے گڑگڑا رہا تھا۔اس آس میں کہ اسکی دعا قبول ہوجائے ۔۔یہ جانے بغیر کہ اسکی دعا قبول ہورہی تھی۔
اس دن میں یہاں تھا۔۔اس نے اپنی آنکھیں رگڑتے ہوئے امامہ کو بتایا۔ اس بار وہ ساکت ہوئ۔
عمرہ کے لیئے؟؟
سالار نے سر ہلایا۔وہ سر جھکائے اپنے ہونٹ کاٹتا رہا۔وہ کچھ بول نہ سکی۔ صرف اسکو دیکھتی رہی۔
اس دن تم یہاں نہ ہوتے تو شاید۔۔
ایک لمبی خاموشی کے بعد اس نے کچھ کہنا چاہا لیکن کہہ نہ سکی۔
شاید؟؟ سالار نے سر اٹھا کر اسے دیکھا تھا۔ یوں جیسے وہ چاہتا تھا کہ وہ بات مکمل کر لے۔۔وہ کیسے کہتی کہ وہ اس دن یہاں نہ ہوتا تو شاید جلال اس سے اتنی سرد مہری نہ برتتا۔۔وہ سب کچھ نہیں کہتا جو اس نے کہا تھا۔وہ اسکے اور جلال کے بیچ اللہ کو لے آیا تھا۔اور اس کے لیئے اللہ نے سالار کو چنا تھا۔۔
سالار کی باتیں اسکی سماعتوں سے چپک گئ تھی۔
اتنے سالوں میں جب بھی یہاں آیا تمہارے لیے بھی عمرہ کرتا۔۔
وہ بڑے سادہ لہجے میں امامہ کو بتا رہا تھا اسے رلا رہا تھا۔۔۔
تمہاری طرف سے ہر سال عید پر قربانی بھی کرتا رہا ہوں میں۔۔
کیوں؟؟ امامہ نے بھرائ ہوئ آواز میں اس سے پوچھا تھا۔۔
تم منکوحہ تھی میری۔ دور تھی لیکن میری زندگی کا حصہ تھی۔۔
وہ روتی گئ۔۔اسکے لیے سب کچھ اسی شخص نے کرنا تھا کیا۔۔۔
اسے سالار کے حافظ قرآن ہونے کا بھی اس وقت پتا چلا تھا۔۔۔وہ جلال کی نعت سن کر مسحور ہوجاتی تھی۔ وہاں حرم میں سالار کی قرات سن کر گنگ تھی۔
ایسی قرات کہاں سے سیکھی تم نے؟؟ وہ پوچھے بغیر نہ رہ سکی۔
جب قرآن پاک حفظ کیا تب۔۔۔۔۔۔ اب تو پرانی بات ہوگئ ہے۔اس نے بڑے سادہ لہجے میں کہا۔۔
امامہ کو چند لمحوں کے لیئے جیسے اپنے کانوں پہ یقین نہیں آیا۔
تم نے قرآن پاک حفظ کیا ہوا ہے؟؟؟ ڈاکٹر صاحب نے کبھی نہیں بتایا۔۔وہ شاکڈ تھی۔۔۔
تم نے بھی کبھی نہیں بتایا اتنے مہینوں میں۔۔
پتا نہیں ۔۔کبھی خیال نہیں آیا ۔ڈاکٹر صاحب کے پاس آنے والے زیادہ لوگ حفاظ ہیں۔۔میرا حافظ قرآن ہونا انکے لیئے انوکھی بات نہیں ہوگی۔۔وہ کہہ رہا تھا۔
تم اتنا حیران کیوں ہورہی ہو۔۔
آنسوؤں کا ایک ریلہ امامہ کی آنکھوں میں آیا۔

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: