Aab e Hayat Novel by Umera Ahmed Read Online – Episode 21

0

آب حیات از عمیرہ احمد – قسط نمبر 21

–**–**–

جلال کو پیڈسٹل پر رکھنے کی ایک وجہ اسکا حافظ قرآن ہونا بھی تھا۔ اور آج وہ جسکی بیوی تھی حافظ قرآن وہ بھی تھا۔ اللہ اسکے سامنے ہوتا تو وہ اسکے آگے گر کر روتی بہت کچھ مانگا تھا پر یہ تو صرف چاہا تھا۔ وہ اتنا کچھ دے رہا ہے اسکا دل چاہا وہ ایک بار پھر بھاگ کے حرم میں چلی جائے جہاں سے وہ ابھی آئی تھی۔
رو کیوں رہی ہو؟
وہ اسکے آنسوؤں کی وجہ جان نہ پایا۔ وہ روتے روتے ہنسی۔۔
بہت خوش ہوں اس لیئے۔ تمہاری احسان مند ہوں اس لیئے۔۔نعمتوں کا شکر ادا نہیں کر ہا رہی اس لیئے۔۔وہ روتی ہنستی اور کہتی جارہی تھی۔
بے وقوف ہو اس لیئے۔۔۔سالار نے جیسے خلاصہ کیا۔۔
ہاں وہ بھی ہوں۔۔۔اس نے پہلی بار سالار کی زبان سے اپنے لیے بے وقوف کا لفظ سن کر ناراضگی کا اظہار نہیں کیا تھا۔
ایک لمحہ کے لیے امامہ نے آنکھیں بند کی پھر آنکھیں کھول کر حرم کے صحن میں خانہ کعبہ کے بالکل سامنے، برابر میں بیٹھے سالار کو دیکھا جو بہت خوش الحانی سے قرآن پاک کی تلاوت کر رہا تھا۔۔
فبای آلاء ربکما تکذبٰن
اور تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔۔
تم جو کچھ کر رہی ہو امامہ! تم اس پر بہت پچھتاؤ گی، تمہارے ہاتھ کچھ نہ آئے گا۔ ۔
نو سال پہلے یہ ہاشم مبین نے اس کو تھپڑ مارتے ہوئے کہا تھا۔
ساری دنیا کی ذلت رسوائ، بدنامی اور بھوک تمہارا مقدر بن جائے گی۔ انہوں نے اسکے چہرے پر ایک اور تھپڑ مارا تھا۔۔
تمہاری جیسی لڑکیوں کو اللہ ذلیل و خوار کرتا ہے کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں چھوڑتا۔۔۔امامہ کی آنکھیں نم ہوگئ۔ ایک وقت آئے گا تم ھماری طرف لوٹو گی، منت سماجت کروگی، گڑگڑاؤ گی تب ھم تمہیں دھتکار دیں گے تب تم چیخ چیخ کر اپنے منہ سے اپنے گناہ کی معافی مانگو گی کہو گی کہ میں غلط تھی۔۔۔امامہ اشکبار آنکھوں سے مسکرائ۔۔
میری خواہش ہے بابا۔۔۔وہ زیر لب مسکرائ۔۔کہ زندگی میں ایک بار آپ کے سامنے آؤں اور آپکو بتادوں کہ دیکھ لیجئے۔ میرے چہرے پر کوئ ذلت و رسوائ نہیں ہے۔میرے اللہ نے میری حفاظت کی، مجھے دنیا کے سامنے تماشا نہیں بنایا۔ میں اگر آج یہاں بیٹھی ہوں تو صرف اس لیے کیونکہ میں سیدھے رستے پہ ہوں اور یہاں بیٹھے میں ایک بار پھر اقرار کرتی ہوں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اللہ کے آخری رسول ہیں۔۔اسکے بعد نہ کوئ پیغمبر آیا ہے اور نہ آئے گا۔۔وہی پیر کامل ہیں۔میں دعا کرتی ہوں کہ وہ مجھے میری آنے والی زندگی میں بھی اپنے ساتھ شرک کروائے نہ ہی مجھے اپنے آخری پیغمبر کے برابر کسی کو لاکھڑا کرنے کی جرات ہو
بے شک میں اسکےی کسی نعمت کو نہیں جھٹلاتی۔
سالار نے سورہ رحمٰن کی تلاوت ختم کرلی تھی۔ چند لمحوں کے لیئے وہ رکا پھر سجدے میں چلا گیا۔سجدے سے اٹھنے کے بعد وہ کھڑا ہوتے ہوتے رک گیا۔۔امامہ آنکھیں بند کیے دونوں ہاتھ پھیلائے دعا مانگ رہی تھی۔وہ اسکی دعا ختم ہونے کے انتظار میں وہی بیٹھ گیا۔امامہ نے دعا ختم کی۔سالار نے ایک بار پھر اٹھنا چاہا لیکن اٹھ نہ پایا۔۔امامہ نے بہت نرمی سے اسکا دایاں ہاتھ پکڑ لیا۔وہ حیرت سے اسے دیکھنے لگا۔۔
یہ جو لوگ کہتے ہیں نا کہ جس سے محبت ہوئ وہ نہیں ملا۔ایسا پتا ہے کیوں ہوتا ہے۔۔۔محبت میں صدق نہ ہو تو محبت نہیں ملتی۔نو سال پہلے جب میں نے جلال سے محبت کی تو پورے صدق کیساتھ کی۔۔دعائیں، وظیفے، منتیں۔۔کیا تھا جو میں نے نہیں کیا لیکن وہ مجھے نہیں ملا. پتا ہے کیوں؟ کیونکہ اس وقت تم بھی مجھ سے محبت کرنے لگے تھے اور تمہاری محبت میں، میری محبت سے زیادہ صدق تھا۔سالار نے اپنے ہاتھ کو دیکھا اسکی ٹھوڑی سے ٹپکنے والے آنسو اب اسکے ہاتھ پر گر رہے تھے سالار نے دوبارہ امامہ کے چہرے کو دیکھا۔۔۔
مجھے اب لگتا ہے اللہ نے مجھے بڑے پیار سے بنایا ہے وہ مجھے ایسے کسی شخص کو سونپنے پر تیار نہیں تھاجو میری قدر نہ کرتا۔۔اور جلال کبھی میری قدر نہیں کرتا۔اللہ نے مجھے سالار سکندر کو سونپا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ تم وہ شخص ہو جسکی محبت میں صدق ہے۔تمہارے علاوہ اور کون تھا جو مجھے یہاں لیکر آتا۔ تم نے ٹھیک کہا تھا تم مجھ سے پاک محبت کرتے ہو. ۔
وہ بے حس و حرکت سا اسے دیکھ رہا تھا اس نے اس اعتراف اس اظہار کے لیئے کونسی جگہ چنی تھی۔وہ اسکے ہاتھ کو نرمی اور احترام سے چومتے ہوئے باری باری اپنی آنکھوں سے لگارہی تھی۔
مجھے تم سے کتنی محبت ہوگی میں یہ نہیں جانتی۔۔دل پر میرا اختیار نہیں ہے مگر میں جتنی بھی زندگی تمہارے ساتھ گزاروں گی تمہاری وفادار اور فرمانبردار رہوں گی۔۔زندگی کے ہر مشکل مرحلے ہر آزمائش میں تمہارے ساتھ رہوں گی۔میں اچھے دنوں میں تمہاری زندگی میں آئ ہوں میں برے دنوں میں بھی تمہارا ساتھ نہیں چھوڑوں گی۔
اس نے جتنی نرمی سے اسکا ہاتھ پکڑا تھا اسی نرمی سے چھوڑ دیا۔۔سالار کچھ کہے بغیر اٹھ کر کھڑا ہوگیا۔وہ خانہ کعبہ کے دروازے کو دیکھ رہا تھا بلاشبہ اسے زمین پر اتاری جانے والی صالح اور بہترین عورتوں میں سے ایک دی گئ تھی وہ عورت جس کے لیئے سالار نے ہر وقت اور ہر جگہ دعا کی تھی۔
کیا سالار سکندر کے لیے نعمتوں کی کوئ حد رہ گئ تھی؟؟ اور جب وہ عورت اسکے ساتھ تھی تو اسے احساس ہورہا تھا کہ وہ کیسی بھاری ذمہ داری لیے بیٹھا تھا اسے اس عورت کا کفیل بنادیا گیا تھا جو نیکی اور پارسائ میں اس سے کئ زیادہ تھی۔
سالار تم سے ایک چیز مانگوں۔۔؟؟امامہ نے جیسے اسکے سوچ کے تسلسل کو روکا تھا۔سالار نے رک کر اسکا چہرہ دیکھا وہ جانتا تھا وہ اس سے کیا مانگنے والی ہے۔۔
تم ایک بار نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا آخری خطبہ پڑھو ۔۔سالار کو اندازہ نہیں تھا۔وہ اس سے یہ مطالبہ کرنے والی تھی۔۔
آخری خطبہ؟؟ وہ بڑبڑایا۔
ہاں وہی خطبہ جو انہوں نے جبل رحمت کے دامن میں دیا تھا۔ اس پہاڑ پر جہاں چالیس سال بعد آدم و حوا بچھڑ کر ملے اور بخشے گئے تھے ۔۔۔امامہ نے مدھم آواز میں کہا۔۔
ایک جھماکے کے ساتھ سالار کو پتا چل گیا تھا وہ اس سے آخری خطبہ کیوں پڑھوانا چاہتی ہے۔
اس نے آخری خطبے کے بارے میں سالار سے ایک دن پہلے بھی پوچھا تھا۔۔تب وہ جبل رحمت پر کھڑے تھے۔۔
تمہیں آخری خطبہ کیوں یاد آگیا؟؟ سالار نے کچھ حیران ہوکر اسے دیکھا۔
یہیں پر آخری حج کے اجتماع سے خطاب کیا تھا نا انہوں نے؟؟ وہ جبل رحمت کی چوٹی کےدامن کو دیکھ رہی تھی۔۔
ہاں۔۔۔۔سالار نے اسکی نظروں کا تعاقب کرتے ہوئے نیچھے جھانکا۔۔
تمہیں انکا خطبہ یاد ہے؟؟ امامہ نے پوچھا۔۔
سارا تو نہیں ۔۔۔۔سالار یاد کرنے کی کوشش کرتے ہوئے اٹکا۔بس چند احکامات یاد ہوں گے۔اس نے بات مکمل کرلی تھی۔
جیسے؟ امامہ نے دل گردہ نکال دینی والی بے رحمی کیساتھ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پوچھا۔۔وہ اسے بڑی نازک جگہ پر کھڑا کر کے زندگی کا مشکل ترین سوال پوچھ رہی تھی۔
مجھے ٹھیک طرح سے وہ احکامات یاد نہیں۔ میں ایک بار آخری خطبہ کو دوبارہ پڑھوں گا۔ پھر تم پوچھ لینا جو پوچھنا چاہتی ہو۔۔سالار نے بچنے کی ایک ناکام کوشش کی۔
مجھے پورا یاد ہے اور آج یہاں کھڑی ہوں تو اور بھی یاد آرہا ہے۔ میں سوچ رہی ہوں کہ انہوں نے وہ آخری خطبہ یہاں کیوں دیا تھا جہاں آدم و حوا ملے تھے۔۔شاید اس لیے کیونکہ دنیا کا آغاز انہی دو انسانوں سے ہوا اور دین مکمل ہونے کا اعلان بھی اسی میدان میں ہوا۔۔۔
اور اسی میدان میں ایک دن دنیا کا خاتمہ بھی ہوگا۔۔۔سالار لقمہ دیے بغیر نہ رہ سکا۔۔
امامہ ہنس پڑی۔۔۔
تم ہنسی کیوں۔ سالار الجھا۔
تم تو کہہ رہے تھے تم کو وہ چند احکامات بھی یاد نہیں اب یہ کیسے یاد آگیا کہ انہوں نے دین مکمل ہونے کا اعلان یہاں کیا تھا۔۔
سالار لاجواب ہوا تھا۔ امامہ اسی پرسوچ انداز میں کہنے لگی.
مجھے لگتا ہے وہ خطبہ دنیا کے ہر انسان کے لیئے تھا ہم سب کے لیئے ۔۔اگر وہ سارے احکامات جو اس آخری خطبہ میں تھے ھم سب نے اپنائے ہوتے یا اپنا لیں تو دنیا بے سکونی کا شکار نہ ہوتی۔ جہاں آج ھم کھڑے ہیں اگر وہ نبی کریمﷺ کی اپنی امت کے لیے آخری وصیت تھی تو ہم بہت بد قسمت ہیں کہ انکی سنت تو ایک طرف ان کی وصیت تک ہمیں یاد نہیں۔عمل کرنا تو بہت دور کی بات ہے۔ وہ کچھ جذباتی انداز میں بولتی گئ۔ وہ عورت نو سال پہلے بھی اسکے پیروں تلے سے زمین نکال سکتی تھی اور آج بھی نکال رہی تھی۔
تمہیں سود کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے احکامات پتا ہے نا اس خطبے کے؟؟ وہ تلوار سالار کی گردن پہ آگری تھی۔ جس سے وہ بچنے کی آج تک کوشش کرتا آیا تھا۔ وہ کس جگہ پر کھڑی اس سے کیا پوچھ رہی تھی۔ایسی ندامت تو کبھی خانہ کعبہ کے سامنے کھڑے ہوکر اللہ کے سامنے بھی نہیں ہوئ تھی اسے جتنی اسے اس جگہ کھڑے ہوکر ہوئ۔ سالار کو اس وقت ایسا لگا جیسے جبل رحمت پہ پڑے ہر پتھر نے اس پر لعنت بھیجی تھی۔ پسینہ ماتھے پر نہیں پیروں کے تلووں تک آیا تھا۔ اسے لگا جیسے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے کھڑا ہے۔ پھر وہ وہاں پر ٹہر نہ سکا اور امامہ کا انتظار کیئے بغیر جبل رحمت سے اترتا چلا گیا۔ وہ رحمت کا حقدار نہیں تھا تو وہاں کیسے کھڑا ہوتا۔۔اسے نیچے آ کر محسوس ہوا ۔۔اور آج امامہ نے وہ سوال حرم میں کردیا تھا۔ سالار نے اس بار اس سے یہ نہیں پوچھا کہ وہ اس سے کیا مانگے گی۔۔اس نے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر حرم کے صحن سے نکلنے سے پہلے امامہ سے کہا تھا۔۔
میں جب بھی سود چھوڑوں گا تمہارے لیئے نہیں چھوڑوں گا۔۔۔۔۔۔بلکہ نبی پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لیئے چھوڑوں گا۔۔۔امامہ نے بڑی ٹھنڈی آواز میں کہا۔۔تو پھر انہی کے لیئے چھوڑ دو۔۔
سالار ہل نہ سکا۔ یہ عورت اسکی زندگی میں پتا نہیں کس لیئے آئ یا لائ گئ تھی۔۔اسکو اکنامکس اور حساب کے ہر سوال کا جواب آتا تھا سوائے اس ایک جواب کے۔۔
تم تو حافظ قرآن ہو سالار۔ پھر بھی اتنی بڑی خلاف ورزی کر رہے ہو قرآن پاک اور اللہ کے احکامات کی۔۔امامہ نے کہا۔
تم جانتی ہو میں انویسٹمنٹ بینکنگ کروا رہا ہوں لوگوں کو اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
امامہ نے اسکی بات کاٹ دی۔۔تم کو یقین ہے کہ اس میں سود کا ایک ذرہ بھی شامل نہیں؟
سالار کچھ دیر بول نہ سکا۔۔پھر اس نے کہا۔
تم بینکنگ کے بارے میں میرا مؤقف جانتی ہو۔۔چلو میں چھوڑ بھی دیتا ہوں یہ۔ بالکل، ہر مسلم چھوڑ دے بنکوں کو۔۔۔اسکے بعد کیا ہوگا۔۔حرام، حلال میں تبدیل ہوجائے گا؟ اس نے بڑی سنجیدگی کیساتھ کہا۔۔
ابھی تو ہم حرام کام ہی سہی مگر اس سسٹم کے اندر رہ کر اس سسٹم کو سمجھ رہے ہیں ایک وقت آئے گا جب ہم ایک متوازی اسلامک اکنامک سسٹم لے آئیں گے۔
ایسا وقت کبھی نہیں آئے گا۔۔امامہ نے اسکی بات کاٹ دی.
تم ایسے کیوں کہہ رہی ہو؟؟
سود جن لوگوں کے خون میں رزق بن کے دوڑنے لگے۔وہ سود کو مٹانے کا کبھی نہیں سوچیں گے۔
سالار کو لگا امامہ نے اسکو طمانچہ مارا ہے۔ بات کڑوی تھی پر سچی تھی۔۔۔
میں صرف یہ چاہتی ہوں کہ اگر تم چیزوں کو بدل نہیں سکتے تو اپنی قابلیت ایک غلط کام کو عروج پہ پہنچانے کے لیے استعمال مت کرو۔
سالار سکندر کو ایک بار پھر حسد ہوا تھا۔ کیا زندگی میں ایسا کوئ وقت آنا تھا جب وہ امامہ ہاشم کے سامنے دیو بنتا۔۔۔۔کبھی بونا نہ بنتا۔۔۔فرشتہ دکھتا شیطان نہیں دکھتا۔
میں آخری خطبہ پڑھوں گا۔۔۔کہنا وہ کچھ اور چاہتا تھا اور کہہ کچھ اور دیا۔۔
مجھ سے سنو گے؟؟ امامہ نے اسکا ہاتھ تھام کر بڑے اشتیاق سے کہا ۔۔
تمہیں زبانی یاد ہے؟؟ سالار نے پوچھا۔
اتنی بار پڑھا ہے، زبانی دہرا سکتی ہوں۔۔
سناؤ۔۔۔سالار نے اسکے ساتھ چلتے ہوئے کہا۔
****—-****—-***—-**-*
سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں اور ہم اسی کی حمد بیان کرتے ہیں اور اسی سے مدد و مغفرت طلب کرتے ہیں۔ اور اسی کے سامنے توبہ کرتے ہیں اور اسی کے سامنے اپنے نفس کی خرابیوں اور برے اعمال سے پناہ چاہتے ہیں۔ جسے اللہ ہدایت دے اسے کوئ گمراہ نہیں کرسکتا اور جسے اللہ گمراہ کردے اسے کوئ ہدایت نہیں دے سکتا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئ معبود نہیں اور اسکا کوئ شریک نہیں اور میں اعلان کرتا ہوں کہ محمدﷺ اللہ کا بندہ اور رسول ہے۔
اے لوگوں! میں تمہیں اللہ سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں اور تمہیں اسکی اطاعت کا حکم دیتا ہوں۔ اور اپنے خطبے کا آغاز نیک بات سے کرتا ہوں۔۔لوگوں سنو۔۔میں تمہیں وضاحت سے بتاتا ہوں کیونکہ شاید اسکے بعد کبھی تم سے اس جگہ نہ مل سکوں۔
اچھی طرح سن لو۔ اللہ تعالی نے سود کو حرام قرار دیا ہے اور میں آج سے تمام سود کل عدم قرار دیتا ہوں اور سب سے پہلے وہ سود معاف کرتا ہوں جو لوگوں نے میرے چچا عباس بن عبدالمطلب کو ادا کرنا ہے۔ البتہ تم کو اپنی اصل رقم لینے کا حق ہے۔ جس میں نہ اوروں کا نقصان ہے نہ تمہارا۔۔
*****—-****—-*****–**-
پینتیس سالہ غلام فرید ذات کے لحاظ سے کمہار تھا اور پیشے کے لحاظ سے سکول کا چوکیدار تھا۔ گاؤں میں رہتا تھا لیکن شہر میں بسنے کے خواب دیکھتا تھا۔ اسے راتوں رات امیر بننے کا بھی بڑا شوق تھا ۔۔
وہ سات بہنوں کا اکلوتا اور سب سے بڑا بھائ تھا۔جسکی شادی کا خواب اسکے پیدا ہوتے ہی ماں نے سجا لیا تھا۔دھوم دھام کی شادی نے اگلے کئ سال غلام فرید کو وہ قرض چکانے میں مصروف رکھا۔جب وہ قرض ختم ہوا تو پھر اسکی بہنوں کی شادیوں کے لیئے قرض لینا پڑا اور اس بار خاندان والوں کے انکار پر اس نے سود پر قرضہ لیا۔سات بہنیں تھی اگلے سال کسی نہ کسی کی شادی آجاتی تھی۔۔پچھلا قرضہ وہی کا وہی کھڑا رہتا۔مزید قرضہ سر چڑھ جاتا اور پھر ایک کے بعد ایک بچے کی پیدائش۔۔۔غلام فرید کو کبھی کبھی لگتا تھا کہ اسکا نام غلام قرض ہونا چاہیئے۔۔شادی کے تیرہ سالوں میں قرضہ تو اس نے ادا کردیا لیکن سود کی رقم اسکے سر پر اسکے بالوں سے بھی زیادہ ہوگئ تھی۔اسکی بیوی بھی سکول میں صفائ کا کام کرتی تھی۔دو بڑے بچے بھی گاؤں کی دو دکانوں پہ کام کرتے تھے کئ سالوں سے سود کی وہ سل پھر بھی اسکے سینے سے ہٹی ہی نہیں۔بوجھ تھا کہ بڑھتا ہی گیا۔کئ بار وہ سوچتا تھا کہ ایک رات چپکے سے بیوی بچوں سمیت گاؤں سے بھاگ جائے۔۔غلام فرید کے خوابوں کی گاڑی ساری رات چھکا چھک چلتی رہتی۔گاؤں سے بھاگ جانا آسان تھا لیکن ان لوگوں سے چھپنا آسان نہیں تھا جس سےاس نے قرضہ لیا ہوا تھا وہ لوگ اسکی چمڑی ادھیڑنے کےپر قادر تھے اور اسے کتوں کے آگے پھنکوا دیتے۔
راہ فرار غلام فرید کے پاس نہیں تھی اوراگر کوئ تھی تو صرف ایک۔۔۔کہ وہ امیر ہوجاتا۔۔اور پتا نہیں کیوں اسے لگتا تھا کہ وہ امیر ہوسکتا ہے۔۔۔۔
*******—-*****—-****-*
اے لوگوں میں نے تم میں ایسی چیزیں چھوڑی ہے کہ تم اسے مضبوطی سے تھامے رکھو گے تو کبھی گمراہ نہ ہو گے۔یعنی اللہ کی کتاب اور نبی کی سنت۔ اور تم لغو سے بچو کیونکہ تم سے پہلے لوگ اسی کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔۔۔
***—*******—-*****-*
چنی، غلام فرید کی آخری اولاد تھی اگر اسکی بیوی نسیمہ زندہ رہتی۔ اور وہ سب کچھ نہ ہوتا جو ہوگیا۔ڈیڑھ سالہ چنی کو اسکی پیدائش سے پہلے کئ بار مارنے کی کوشش کی گئ۔ نسیمہ کو جب اپنے نویں بار حاملہ ہونے کا علم ہوا تو اس نے گاؤں کی دائ سے ملنے والی ہر اس چیز کا استعمال کیا جس سے اسقاط حمل ہوجاتا۔۔چنی کو تو کچھ نہیں ہوا لیکن خود نسیمہ ان مضر صحت ادویات کے استعمال سےکئ قسم کی بیماریوں کا شکار ہوگئ۔
چنی کو مارنے کی ایک کوشش تب بھی کی گئ جب ساتویں مہینے طبیعت خراب ہونے پر نسیمہ کو شہر جانا پڑا اور وہاں الٹرا ساؤنڈ میں اسے اپنے ہونے والے بچے کی جنس کا پتہ چلا۔ نویں اولاد لڑکی ہونے کا مطلب تھا کہ اسکی بیٹیوں کی تعداد چھ ہوجائے گی۔۔۔۔نسیمہ کو جیسے غش آگیا تھا۔۔سات بہنیں بیاہتے بیاہتے غلام فرید اور اسکا یہ حال ہوگیا تھا اب چھ بیٹیاں بیاہتے انہیں کس دوزخ سے گزرنا تھا۔۔اس خیال نے آخری دو تین مہینے میں اسے ہر اس بد احتیاطی پر اکسایا جس سے بچی کی جان چلی جاتی۔نسیمہ کی اپنی خوش قسمتی تھی کہ وہ خود جان سے ہاتھ نہین دھو بیٹھی اس سے۔۔۔۔۔۔۔۔
چنی صحتمند پیدا ہوئ۔ اسکا پیدا ہونا جیسے اسکی اپنی ذمہ داری بن گئ تھی۔ماں کو ہفتے بعد ہی ڈیوٹی پر جانا تھا۔۔یہ کوئی شہر نہیں تھا کہ میٹرنیٹی لیو جیسی سہولت سے اسے نوازا جاتا۔۔اور وہ بھی نویں بچے کی پیدائش پر۔ باہ کے پاس تو پہلے ہی اپنے بچوں کے لیئے وقت نہیں تھا۔اسکے سر کا بوجھ مزید بڑھ گیا تھا۔
دو کمروں کا وہ گھر جو غلام فرید کا واحد خاندانی ترکہ تھا۔ چنی کی پیدائش کے چند ہفتوں بعد سود میں گروی رکھا گیا تھا۔ اسکول والوں نے اس وقت میں غلام فرید کی مدد کی اور اسے ایک کوارٹر دے دیا جس میں صرف ایک کمرہ تھا لیکن یہ بھی غنیمت تھا. چنی کی پیدائش اپنے ماں باپ کو خوب یاد رہی کہ اسکی پیدائش نے انہیں بے گھر کیا۔۔لیکن چنی کی خوش قسمتی یہ تھی کہ روایتی انداز میں اس ہر منحوس کا لیبل نہیں لگا۔۔
نحیف و نزار، سانولی رنگت والی چنی سارا دن گرمی میں بان کی ایک چارپائ پر پڑی رہتی، روتی کھلبلاتی پھر خود ہی اپنا انگوٹھا چوستی اور سو جاتی ۔۔کسی بہن کو خیال آجاتا تو چنی کو اسکے سستے سے پلاسٹک کے اس فیڈر میں دودھ مل جاتا جس میں اسکے ہر بہن بھائ نے دودھ پیا تھا جو اتنے سالوں میں اتنا گدلا، میلا اور گھس گیا تھا کہ اس میں ڈالا جانے والا دودھ بھی میلا لگنے لگتا تھا. وہ بلاشبہ جراثیم کی آماجگاہ تھی۔لیکن وہ غریب کی اولاد تھی اور غریب کی اولاد بھوک سے مرجاتی ہے۔۔۔گندگی سے نہیں۔۔۔
پورے دن میں ایک بار ملنے والا دودھ کا فیڈر وہ واحد غذا تھی جس پر چنی سارا دن گزارا کرتی تھی۔نسیمہ شام کو تھکی ہاری آتی تھی جو بھی روکھی سوکھی ملتی کھا کر کمرے میں لیٹ کر اپنے کسی بچے سے اپنی ٹانگیں دبوا لیتی تھی اور وہی سوجاتی تھی اسے پتہ بھی نہیں تھا کہ اس کمرے میں ایک نوزائیدہ اولاد ہے۔ہاں کبھی کبھار وہ اس وقت چنی کو دیکھنے بیٹھ جاتی تھی جب بڑی بچیوں کو اچانک وہم ہوتا تھا کہ چنی مر گئ ہے کیونکہ وہ کبھی سانس نہیں لے پاتی اور کبھی اسکا جسم اتنا ٹھنڈا ہوجاتا کہ نسیمہ کو لگتا انکا بوجھ واقعی کم ہوگیا ہے۔۔۔لیکن چنی اپنے ماں باپ کےسارے ارمانوں پر پانی پھیرتے ہوئے پھر سانس لینا شروع کردیتی تھی۔
بھوک واحد مسئلہ نہیں تھا چنی کو۔۔۔سارا سارا دن وہ پیشاب اور پاخانہ میں لتھڑی پڑی رہتی تھی۔چنی کے جسم پر کھجلی ہوئ اور پھر ایسے بڑھ گئ جیسے اسکی جلد عادی ہوکر خود ہی ٹھیک ہوتی گئ۔
کئ ہفتوں تک کسی کو خیال نہیں آیا کہ چنی کی پیدائش رجسٹر کروانی ہے۔۔اسکا کوئ نام ہونا چاہیئے۔چنی نام اسے اس کی ماں نے اسکی جسامت دیکھ کر دیا تھا پھر گاؤں میں حفاظتی ٹیکوں کی مہم والے آئے تو غلام فرید کو چنی کا نام اور پیدائش رجسٹر کروانی پڑی غلام فرید نے اسکے لیئے بھی تین سو روپے کسی سے ادھار لیئے تھے۔اور وہ ادھار بھی گاؤں کی مسجد کے امام سے۔اور ان تین سو روپوں نے اسکی زندگی میں کیا کردار ادا کرنا تھا۔اسکا اندازہ نہ غلام فرید کو تھا نہ ہی اس بچی کو۔ جسکا نام کنیز رکھ دیا گیا تھا۔گاؤں میں کسی کو یہ اندازہ نہیں تھا کہ کنیز ولد غلام فرید عرف چنی کو اس نام کی کوئ ضرورت نہیں کیونکہ اسکو اللہ نے کسی اور کام کے لیے چنا تھا۔۔
++++******++++****+
دیکھو میں نے حق پہنچا دیا ہے۔ پس اگر کسی کے پاس امانت رکھوئ گئ ہے تو وہ اسکا پابند ہے کہ اس امانت رکھوانے والے کو اسکی امانت پہنچائے اور بیشک تم سب کو اللہ کی طرف لوٹنا اور حساب دینا ہے۔۔۔
++++—-++++—-++++
امام صاحب سے تین سو کا وہ قرض ہی تھا جس نے پہلی بار غلام فرید کو یہ احساس دلایا کہ امیر بننا کوئی اتنا مشکل کام نہیں۔مولوی نے اسکو قرض دینے کیساتھ یہ ذمہ داری بھی سونپی تھی کہ وہ سکول کے مالکان سے مسجد کے لیے چندہ لیکر انہیں دے۔مولوی ان لوگوں میں سے تھا جو آخرت میں بھی جنت چاہتا تھا اور دنیا میں بھی جنت جیسا عیش و آرام۔
غلام فرید نے اسکو یقین دلایا کہ سکول کے مالکان اسکی بہت مانتے ہیں۔مولوی سے جھوٹ تو بول دیا اس نے مگر اب مولوی کے بار بار اصرار کرنے پر اس نے سکول کے مالکان سے مسجد کے چندے کی بات کر ہی لی۔۔اسکول کے مالک نے مولوی کو بلایا اور اس سے تفصیلات مانگی کہ کس لیئے رقم چاہیئے۔۔اس نے چھوٹے موٹے اخراجات کی ایک لمبی تفصیل پیش کردی۔سکول کے مالک نے تفصیلات جاننے کے بعد نہ صرف اس وقت کچھ وم مہیا کی بلکہ ہر مہینے ایک معقول رقم دینے کا وعدہ بھی کرلیا۔۔مولوی کی خوشی کا کوئ ٹھکانہ نہ رہا۔اسکی نظروں میں غلام فرید کی عزت ایک دم بڑھ گئ اور گاؤں میں پہلی دفعہ غلام فرید کو کسی نے عزت دی تھی۔۔وہ بھی مسجد کے امام نے۔۔۔جس نے نہ صرف جمعے کے خطبے میں لاؤڈ سپیکر پر سکول مالکان اور انتظامیہ کی دردمندی کے قصیدے پڑے بلکہ غلام فرید کی کوششوں کو بھی سراہا۔۔
سکول کے مالک نے یہ رقم غلام فرید کے ہی ہاتھوں مولوی کو پہنچانے کا وعدہ کیا تھا۔اسکو سونپی جانے والی ذمہ داری نے اسکی اہمیت مولوی کی نظر میں دوگنی کردی۔اگر مولوی کو یہ رقم مسجد کے انتظام و انصرام کے لیئے چاہیئے ہوتی تو وہ اسکی بالکل عزت نہ کرتا۔۔۔مگر مولوی کو یہ رقم اپنے لیئے چاہیئے تھی۔گاؤں کے دوسرے زمیندار اور صاحب حیثیت لوگوں سے وصول پائے جانے والے چندوں کی طرح جن کے بارے میں مولوی سے کوئ سوال و جواب نہیں کرتا تھا۔۔۔البتہ ان سب لوگوں کو جمعہ کی نمازکے خطبے کے دوران لاؤڈ سپیکر پر اس چندے کا اعلان چاہیئے ہوتا تھا او مولوی اس اعلان کو قصیدوں کے تڑکے کیساتھ پیش کرنے کے ماہر تھے۔۔
یہ پہلی بار ہوا تھا کہ پیسوں کے حوالے سے جواب دہی کا سسٹم بنانے کی کوشش کی تھی جو مولوی کو قابل قبول نہیں تھی لیکن چندے کی ماہانہ رقم کا ٹھکرانے کا حوصلہ بھی نہیں تھا اس میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سکول کا مالک وہاں دوسرے مہینے آیا تھا اور مولوی نے غلام فرید کے ساتھ ملکر مسجد میں ہونے والی تمام مروتیں اسے دکھائ تھی۔وہ مطمئن ہوکر لوٹا۔مگر یہ صرف اس مہینے ہوا اگلے مہینے غلام فرید کے ہاتھ سے وصول کرنے والے رقم کا مولوی نے کیا کیا تھا۔۔اسکا غلام فرید کو اندازہ بھی نہیں ہوا۔وہ مسجد میں دو چار بار گیا تھا اسکا استقبال خوب اچھی طرح کیا گیا۔۔مولوی نے اپنے گھر سے کھانا چائے پانی بھی دیا۔لیکن چندے کے استعمال کے بارے میں بس آئیں بائیں شائیں کرتا رہا۔۔غلام فرید کو چندے کے درست استعمال سے کوئ دلچسپی نہیں تھی مگر اپنے ہاتھ سے ہر مہینے بیس ہزار کی رقم جس مشکل سے مولوی کو دے رہا تھا یہ صرف وہ ہی جانتا تھا۔مگر اسے خوف تھا تو صرف اللہ کا ۔کیونکہ وہ مسجد کا پیسہ تھا۔۔اسکے دل سے چندے کے حوالے سے اللہ کا خوف ختم کرنے میں مولوی نے بنیادی کردار ادا کیا۔۔۔اگر مولوی مسجد کے پیسوں کو لوٹ کا مال سمجھ کر کھا رہا تھا تو غلام فرید کو بھی حق تھا۔۔اسکے سر پہ بھی تو قرضہ تھا وہ چار مہینے خود میں یہ ہمت پیدا کرتا رہا کہ وہ مولوی سے اس سلسلے میں بات کرسکے۔اسے ان پیسوں میں حصہ چاہیئے تھا۔۔آدھا آدھا یا کم از کم پانچ ہزار تو بنتا ہی تھا۔سکول کے مالک کو اطمینان ہوگیا تھا کہ مولوی نے مسجد کی حالت کو بہتر کرلیا ہوگا اسکے ماہانہ بھیجے گئے پیسوں سے قرآن پاک کی تعلیم کے لیئے آنے والے بچوں اور مسجد کے بنیادی قسم کے اخراجات پورے ہوتے رہینگے۔۔غلام فرید نگران تھا کہ وہ یہ دیکھے لہ مسجد میں آنے والے بچوں کو قرآن پاک قاعدے سپارے مسجد ہی مہیا کرے۔غلام فرید کو اندازہ ہوگیا تھا کہ مسجد میں آنے والے کسی بچے کو مسجد سے کچھ نہیں مل رہا اور اگر کچھ مل رہا تو بلکل بھی مفت نہیں مل رہا۔یہ اسکی بے چینی کا آغاز تھا۔۔اور اس وقت اسکی بے چینی اپنے انتہا پر پہنچ گئ جب چوتھے مہینے مولوی نے نیا موٹر سائیکل خرید لیا۔وی اسکی نئ موٹر سائیکل کو دیکھ کر اس قدر حسد اور خفگی کا شکار ہوا کہ وہ پیسوں کا ذکر کیئے بغیر صرف مٹھائ کھا کر آگیا تھا۔مولوی نے ماہانہ چندے کا پوچھا کیونکہ وہ مہینے کی پہلی تاریخ تھی۔غلام فرید نے اس دن مسجد میں بیٹھ کر پہلا جھوٹ بولا تھا کہ سکول کا مالک ملک سے باہر چلا گیا ہے اور ابھی واپس نہیں آیا۔۔مولوی کو ایک دم فکر لاحق ہوئ کہ اگر سکول کا مالک فوری طور پہ واپس نہ آیا تو پھر اس مہینے کے پیسے کون دے گا۔۔ غلام فرید نے اسکو سکول کے مالک کا فون نمبر دے دیا تھا جو غلط تھا۔۔۔۔۔
وہ بیس ہزار کی رقم جیب میں لیئے اس دن ایک عجیب سی کیفیت کیساتھ مسجد سے نکلا تھا یوں جیسے اسکی لاٹری نکلی تھی۔اسے پتا تھا مولوی ہر سال مختلف چیزوں سے اکٹھی ہونے والی رقم کو اپنی رقم کے طور پر گاؤں کے انہی سودخوروں کو بزنس میں سرمایہ کاری کے لیئے دیتے تھے جو سود خور غلام فرید جیسے ضرورتمندوں کو وہ رقم دیکر انہیں ساری عمر کے لیئے چوپایہ بنا دیتے ہیں۔
مولوی نے ایک ڈیڑھ ہفتہ مزید رقم کا انتظار کیا اور پھر کچھ بے صبری میں وہ نمبر گھما دیا تھا۔نمبر آف تھا۔ دو دن وقفے وقفے سے کئ بار فون کرنے پر بھی جب فون بند ملاتو مولوی غلام۔فرید کی بجائے سکول پہنچ گئے۔
اور وہاں جاکر انہیں یہ خبر ملی کہ سکول کا مالک کچھ دن پہلے سکول سے ہوکر جاچکے تھے۔۔مولوی کا پارہ اب ہائ ہوگیا تھا۔اس نے غلام فرید کو اسکے کوارٹر پر جالیااور جب غلام فرید نے انہیں ایک بار پھر وہی کہہ کر ٹرخانے کی کوشش کی تو مولوی نے اسکے جھوٹ کا پول کھول دیا کہ وہ سکول سے ہوکر آیا ہے اور سب جانتا ہے۔۔۔غلام فرید نے کہا کہ ہوسکتا ہے وہ آیا ہو اور اس دن میری چھٹی ہو اور مالک کی ملاقات مجھ سے نہیں ہوئ۔
مولوی اس پر کچھ زیادہ بھڑکے۔۔غلام فرید کو اندازہ ہوگیا کہ وہ اب مولوی سے مزید جھوٹ نہیں بول سکتا اسے اب دو ٹوک صاف صاف بات کرنی پڑی۔۔اس نے مولوی کو بتایا کہ اسے ہر مہینے اس رقم میں اپنا حصہ چاہیئے۔۔کچھ لمحوں کے لیئے مولوی کو یقین نہ آیا کہ گاؤں کا ایک کمی کمین مسجد کے امام سے کیا مطالبہ کر رہا ہے۔جب انہیں یقین آیا تو اسکے منہ سے غصہ میں جھاگ نکلنے لگا تھا۔تم اللہ کے گھر کے لیئے ملنے والے ہدیے سے اپنا حصہ مانگ رہے ہو دوزخی انسان۔۔
انہوں نے غلام فرید کو ڈرانے کی کوشش کی تھی لیکن اسے اندازہ نہیں تھا کہ دوزخ جیسی زندگی گزار کر وہ موت کے بعد دوزخ سے کیا ڈرتا۔۔
اللہ کے گھر کے پیسے اگر اللہ کے گھر پہ لگتے تو کبھی نہ مانگتا مولوی صاحب۔۔۔اس نے بھی تن کر کہہ دیا اس سے۔۔مولوی نے اسکو دھمکایا کہ وہ سکول کے مالک سے بات کرینگے۔اور اسے سارا کچا چٹھا سنادینگے۔۔
جواباً غلام فرید نے اسے دھمکایا کہ وہ بھی سکول کے مالک کو یہ بتادے گا کہ مولوی چندے والی رقم کو خود استعمال کر رہے ہیں اور انہوں نے مسجد کے پیسوں کو ایک سود خور کو دے رکھا ہے اور وہ اسکا سود کھا رہے ہیں۔۔بلکہ وہ پورے گاؤں میں انکو بدنام کر دے گا۔مولوی کے تن بدن میں آگ لگ گئ تھی اسکا بس چلتا تو غلام فرید کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے کتوں کو ڈال دیتا۔۔۔وہ اسے جی بھر کے برا بھلا کہتا رہا۔اس دن مولوی نے غلام فرید کو دنیا بھر کی ہر وہ گالی دی جو اس نے کبھی بھی کسی سے سنی تھی لیکن غلام فرید ڈھٹائ سے اپنے پیلے دانتوں کیساتھ منہ کھول کر انکے سامنے ہنستا رہا۔۔
ٹھیک ہے مولوی صاحب مجھے تو کیڑے پڑے گے سانپ اور بچھو قبر میں میری لاش نوچیں گے اور مجھے مرتےوقت کلمہ بھی نصیب نہیں ہوگا۔میرے ساتھ جو بھی مرنے کے بعد ہوگا لیکن آپکے بیس ہزار تو آپکی زندگی میں بند ہوجائیں گے۔۔۔اسی مہینے سے۔۔۔میں مالک کو کہہ دیتا ہوں کہ میں نے اس لیئے آپکو پیسے نہیں دییے کیونکہ آپ تو مسجد میں پیسہ لگا ہی نہیں رہے ہیں تو سوچیں زیادہ نقصان جنتی کا ہوا یا دوزخی کا۔۔۔
سب گالم گلوچ اور لعنت ملامت کی بعد مولوی نے گھر آکر اپنی بیوی سے مشورہ کیا اور پھر اگلے دن بڑے ٹھنڈے دل و دماغ کیساتھ مولوی نے غلام فرید کیساتھ پندرہ ہزار وصول کرنے پر اتفاق کرلیا۔اور اس سے بھی بڑی اعلی ظرفی کا مظاہرہ اس نے تب کیا جب غلام فرید نے کہا کہ اس مہینے کے بیس ہزار وہ پہلے ہی خرچ کرچکا ہے۔۔یہ پچھلے چار مہینے کے پیسوں سے اسکا کمیشن تھا۔مولوی کا دل چاہا کہ اس غلام فرید نامی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کو اپنے ہاتھوں سے گاؤں کے بیچ کھیتوں میں اس طرح پھانسی پر لٹکا دے جسطرح لوگ کھیتوں میں پرندوں کو ڈرانے کے لیئے بیچا لگاتے ہیں۔مگر اسے یاد آیا کہ سال کے آخر میں اس نے اپنی بیٹی کی شادی بھی کرنی تھی اور وہ زمین بھی خریدنی تھی جسکا بیعانہ وہ کچھ دن پہلے دے کر آئے تھے۔۔۔۔
غلام فرید کو یقین نہیں آیا تھا کہ بیٹھے بٹھائے اس کو ہر ماہ تنخواہ سے کچھ ہی تھوڑی رقم ملنے لگی تھی۔اور وہ رقم اگر وہ سود والوں کو دے دیتا تو بہت جلد اسکا سود ختم ہونے والا تھا۔۔مگر اسے اندازہ نہیں تھا کہ مولوی سے دشمنی پال کر اس نے زندگی کی سب سے بڑی غلطی کرلی تھی۔۔۔۔۔سود لینے سے بھی بڑی غلطی۔۔۔
******———-***********
اے لوگوں! عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو ۔تم نے اللہ کو گواہ بنا کر اسکو خود پر حلال کیا۔اور انہیں اپنی امان میں لیا۔تمہیں اپنی عورتوں پر حقوق حاصل ہیں بالکل ویسے ہی جیسے تمہاری عورتوں کو تم پر حقوق حاصل ہیں۔۔۔ان پر تمہارا یہ حق ہے کہ وہ کسی ایسے شخص کیساتھ دوستی نہ کرے جسے تم پسند نہیں کرتے اور تمہاری حرمت کی نگہبانی کرے۔اور اگر وہ تمہاری فرمانبردار رہتی ہیں تو پھر یہ انکا حق ہے کہ تم انکے ساتھ اچھا سلوک کرو اور انکے نان نفقہ کی ذمہ داری اٹھاؤ۔۔۔۔
*******———-*********
احسن سعد نے تین سال کی عمر میں اپنی ماں کو اپنے باپ کے ہاتھوں پہلی بار پٹتے دیکھا تھا۔ اس نے کوئ بے حیائ کا کام کیا تھاوہ کام کیا تھا وہ تین سال کی عمر میں جان نہ سکا۔ لیکن اپنے باپ کی زبان سے بار بار ادا ہونے والا وہ لفظ اسکے ذہن پر نقش ہوگیا تھا۔
اسے یہ بھی یاد تھا کہ اسکے باپ نے اسکی ماں کے چہرے پہ دو تین تھپڑ بھی مارے تھے اسکا بازو بھی مروڑا تھا اور پھر اسے دھکا دیکر زمین پر گرا لیا تھا۔۔اسے وہ چاروں غلیظ گالیاں بھی یاد تھی۔جو اسکے باپ نے اسکی ماں کو دی تھی۔۔
وہ خوف کے مارے کمرے میں موجود صوفے کے پیچھے چھپ گیا تھا۔۔کیونکہ اسکو پہلا خیال یہ آیا تھا کہ اسکا باپ اب اسکو پٹے گا۔
اس کے باپ نے اسے چھپتے دیکھا تھا ۔مار کٹائ کے اس سین کے بعد فوراً اسکے باپ نے اسے صوفے کے پیچھے سے بڑے پیار سے نکالا تھا۔پھر اسے گود میں اٹھا کر گھر سے باہر لے گیا۔اگلے دو گھنٹے وہ باپ کیساتھ من پسند جگہوں کی سیر کرتا اور من پسند چیزیں کھاتا رہا لیکن اسکا ذہن وہی اٹکا ہوا تھا۔۔
تم تو میرے پیارے بیٹے ہو سب سے زیادہ پیارے ہو مجھے۔۔اس کا باپ ان دو گھنٹوں میں مسلسل بہلاتا رہا اسکو۔۔وہ باپ کے گلے بھی لگ جاتا اور باپ کے کہنے پر اسکو چومتا بھی لیکن وہ اس دن بہت خوفزدہ ہوا تھا۔۔
واپسی پر اس نے اپنی ماں کو معمول کے کاموں میں مصروف پایا تھا۔وہ کھانا پکا رہی تھی۔جیسے روز پکاتی تھی۔۔اسکے باپ کو چائے بنا کر دی تھی جیسے روز دیتی تھی۔مگر فرق صرف یہ تھا کہ آج انکے چہرے پہ انگلیوں کے چند نشان تھے اور انکی آنکھیں سرخ اور سوجھی ہوئ تھی۔اس دن اسکا دل ماں کے پاس سونے کو نہیں چاہا تھا۔وہ اپنی پانچ سالہ بہن کے بستر میں سونے لے لیئے گیا تھا اور بہت دیر تک سو نہ سکا۔
اگلے چند روز وہ پریشان رہا اور خاموش بھی ۔۔اسکی ماں نے اسکی خاموشی نوٹس کی یا نہیں لیکن اسکے باپ نے کی تھی۔وہ اسکا اکلوتا بیٹا تھا اسے اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز تھااب وہ باپ سے ہلکا سا کھنچا تھاتو اس کے لیئے اسے نظرانداز کرنا نا ممکن تھا اگلے کئ دن اسکا باپ اس پر معمول سے زیادہ توجہ دیتا رہا اسکے سارے نخرے اٹھاتا اور ہر فرمائش پوری کرتا رہا۔وہ آہستہ آہستہ نارمل ہوتا گیا اور وہ پہلی اور آخری بار ہوا تھاجب اسکے باپ نے اسکی ماں کو مارنے کے بعد اسکے اتنے نخرے اٹھائے تھے۔بعد کے سالوں میں اسکی ماں کئ بار اسکے سامنے پٹی تھی اس نے ان غلیظ گالیوں کو معمول کے الفاظ میں تبدیل ہوتے دیکھا جب بھی انکے باپ کو غصہ آتا تھا تو وہ ان الفاظ کا بے دریغ استعمال کرتا تھا۔۔اب وہ خاموش تماشائی کی طرح وہ منظر دیکھتا تھا۔اور ایسے ہر منظر کے بعد اسکا باپ اسکو شام کی سیر کے لیئے لیکر جاتا تھا اور اسے بتایا کرتا تھا کہ اللہ بے حیائ کو کتنا ناپسند کرتا ہے اور عورت سب سے زیادہ بے حیائ کے کاموں میں ملوث ہے۔اور بے حیائ کرنے والوں کو سزا دینی چاہیئے۔
پانچ سال کی عمر میں قرآن پاک کی بہت ساری آیات اسکو باپ نے یاد کروائ تھی اور بے حیائ کے کاموں کی وہ فہرست بھی۔ جس کے کرنے پر عورت کو سزا دینا واجب ہوجاتا تھا۔اور بے حیائ کے ان کاموں میں شوہر کی نافرمانی، پردے کی پابندی نہ کرنا۔کسی نامحرم سے ملنا یا بات کرنا، گھر سے اجازت کے بغیر جانا، کسی قسم کا فیشن کا سنگھار کرنا، شوہر سے اونچی آواز میں بات کرنا، کھانا دیر سے یا بدمزہ بنانا، ٹی وی دیکھنا، میوزک سننا، نماز روزے کی پابندی نہ کرنا اسکے دادا دادی کی خدمت نہ کرنا اور اس طرح کے کئ کام تھے جو اسے مکمل ازبر تھے۔
وہ جن قاری سے قرآن سیکھتا تھا ان سے ماں باپ کے ادب کے بارے میں احکامات بھی سنتا تھا۔خاص طور پر ماں کے حوالے سے۔۔۔
مگر وہ یہ سمجھنے سے قاصر تھا کہ بے حیائ کے کام کرنے والی عورت کی وہ کیسے عزت کرسکتا تھا۔آسان تشریح اس کے باپ نے اسکو کی کہ وہ بڑا ہوکر مرد بننے والا ہے ایک ایسا مرد جو کسی بھی عورت کو بے حیائ کے کاموں پر سزا دینے کا اور گالیاں دینے کا پورا حق رکھتا ہے۔اسکا آئیڈیل، اسکا باپ تھا۔ باریش داڑھی کیساتھ اسلامی شعائر پر سختی سے کاربند، پانچ وقت نماز پڑھنے والا، ایک بے حد خوش اخلاق، نرم خو انسان اورسعادت مند بیٹا ۔۔۔۔جو زندگی کا ایک بڑا حصہ مغرب میں گزارنے کے بعد بھی ایک مثالی اور عملی مسلمان تھا۔ وہ بھی بڑا ہوکر ویسا ہی بننا چاہتا تھا۔۔
 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: