Aab e Hayat Novel by Umera Ahmed Read Online – Episode 22

0

آب حیات از عمیرہ احمد – قسط نمبر 22

–**–**–

اے لوگوں تمہارے خون، تمہارے مال ایک دوسرے کے لیے اس طرح محترم ہیں جیسے آج کا یہ دن(عرفہ کا دن) یہ مہینہ اور یہ شہر۔
خبردار! زمانہ جاہلیت کی ہر رسم اور طریقہ آج میرے قدموں کے نیچے ہیں اور جاہلیت کے خون معاف کر دیئے گئے ہیں اور پہلا خون، جو میں اپنے خونوں سے معاف کرتا ہوں وہ ابن ربیعہ حارث کا خون ہے۔ دیکھو میرے بعد گمراہ نہ ہو جانا کہ پھر ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگ جاؤ۔
*********———********
غلام فرید کی زندگی میں صرف چند اچھے مہینے آئے تھے۔ ایسے مہینے جس میں پہلی بار اس نے راتوں کو سکون سے سونا سیکھا تھا۔
غلام فرید بہت معصوم تھا یا شاید بہت بے وقوف۔وہ سمجھ رہا تھا کہ اس نے زندگی میں پہلی بار کوئی بڑی کامیابی حاصل کر لی ہے۔ جیسے امیر بننے کی طرف پہلا قدم اٹھایا ہے۔ مولوی کے ساتھ اس نے جو کچھ کیا تھا اسکے بعد کئ دن تک مولوی کی نیندیں اڑی رہی۔ بیس ہزار کی رقم بیٹھے بٹھائے پندرہ ہزار رہ گئ تھی۔ اسکا صدمہ تو تھا ہی لیکن ساتھ اس بات کا اندیشہ بھی اسے ہو گیا کہ مسجد کی رقم کو سود خوری کے کاروبار میں لگانے کی خبر اگر کسی طرح گاؤں میں پھیل گئ تو اور کچھ ہو نا ہو لیکن مستقبل میں اس کے چندے بند ہو جائیں گے۔
بدنامی کی تو خیر اسے فکر نہیں تھی وہ اگر بدنام ہو بھی جاتا تو بھی کوئ اسے مسجد کی امامت سے نہیں ہٹا سکتا تھا کیونکہ یہ اس کو باپ داد کی جاگیر کی طرح ورثے میں ملی تھی۔ اور گاؤں والوں کو تو صحیح طرح وضو کرنا بھی نہیں آتا تھا۔ وہ امام مسجد کو دینی لحاظ سے کیا جانتے۔ اور اگر ہٹا بھی دیتے تو اسکی جگہ لاتے کس کو؟
بیوی، مولوی کو سودی کاروبار میں لگائ رقم واپس لینے نہیں دے رہی تھی۔ وہ پہلا خیال تھا جو غلام فرید کی دھمکی کے بعد مولوی کو آیا تھا۔ وہ جتنی جلدی ہو سکے اپنی رقم واپس لے۔ تاکہ وہ غلام فرید کو جھوٹا ثابت کرسکیں۔
بیوی کا کہنا تھا اور کونسی ایسی جگہ ہے جہاں پیسہ لگانے پر پچیس فیصد منافع مل جائے۔ بنک والے تو آٹھ یا نو بھی رو دھو کر دیتے ہیں۔۔ بیٹیوں کے جہیز کہاں سے بنے گے؟ انکی شادی کے اخراجات کیسے پورے ہونگے ۔۔مسجد کی امامت تو تین وقت کی روٹی ہی پوری کرسکتی ہے۔مولوی کو بیوی کی باتیں سمجھ تو آرہی تھی لیکن ساتھ انکو یہ دھڑکا بھی لاحق تھا کہ کہیں کسی دن غلام فرید باقی پندرہ ہزار دینے سے انکاری نہ ہوجائے۔ اور انکا حدشہ ٹھیک نکلا۔
دو ماہ بعد غلام فرید نے اپنے گھر کے کچھ ناگزیر اخراجات کی بناء پر مولوی کو رقم دینے سے معذرت کرلی۔ اور ان سے اگلے ماہ کی مہلت مانگی۔ یہ وہ لمحہ تھا جب مولوی نے گالم گلوچ لعنت و ملامت نہیں کی تھی انہیں۔مولوی نے اسکو جہنم سے ڈرانے کی بجائے خود اسکی زندگی جہنم بنانے کا فیصلہ کرلیا تھا۔انہوں نے اپنی بیوی کو بتائے بغیر گاؤں کے اس شخص سے رقم کا مطالبہ یہ کہہ کر کیا تھا کہ مسجد کی تزئین و آرائش کی لیئے فوری طور پہ ایک بڑی رقم چاہیئے اس لیئے وہ چاہتے تھے کہ اپنی رقم میں سے کچھ مسجد میں چندہ کرے جو جواب مولوی کو ملا تھا وہ اسکے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔ اس آدمی نے رقم واپس کرنے سے صاف انکار کر دیا۔اسکا کہنا تھا کہ فی الحال رقم کاروبار میں لگی ہوئ ہے اور وہ اگلے دو تین سال تک اسکا منافع تو دے سکتا ہے لیکن اصل رقم واپس نہیں کرسکتا۔۔مولوی کو وہاں کھڑے کھڑے دن میں تارے نظر آنے لگے۔ اس نے پانچ لاکھ کی رقم اس آدمی کو دی ہوئی تھی۔
اس دن غلام فرید سے مولوی کی نفرت کچھ اور بڑھ گئ۔ گھر جاکر انہوں نے بیوی کو یہ قصہ سنایا۔وہ بھی دل تھام کر رہ گئ مگر اس نے مولوی کو یہ کہہ کر تسلی دی ۔
چلیں مولوی صاحب دو تین سال بعد ہی سہی دے گا تو دے گا نا۔۔۔اور شکر ہے اس نے منافع دینے سے انکار نہیں کیا میں تو پہلے ہی آپکو روک رہی تھی. لیکن پتا نہیں آپکو کیا سوجھی کہ لگی لگائی روزی پہ لات مارنے چلے۔۔اسے مولوی سے یہ کہتے ہوئے یہ پتا نہیں تھا کہ یہ لگی لگائ روزی خود ہی انہیں لات مار دینے والی تھی۔۔
اگلے مہینے پھر مولوی کو غلام فرید سے پیسے نہیں ملے۔۔۔اور اس مہینے ساہوکار نے اس کو منافع کی رقم بھی نہیں دی تھی۔ ایک ماہ پہلے مولوی کے رقم کے مطالبے نے جیسے اسے چوکنا کر دیا تھا۔کہ وہ پارٹی ٹوٹنے والی ہے تو وہ کیوں منہ بھر بھر کے اسکو منافع کھلاتا۔۔۔اب اسکی باری تھی۔ دیا گیا سارا منافع واپس وصول کرنے کی۔لیکن اس نے مولوی سے یہ باتیں نہیں کی۔بلکہ اس سے چھ مہینے کی مہلت مانگی اور یہ کہا تھا کہ چھ ماہ کا منافع وہ اکٹھا دے گا پھر اس پر شدید مالی بحران آیا تھا اس نے مولوی سے نا صرف دعا کی درخواست کی بلکہ کوئ قرآنی وظیفہ بھی مانگا تھا۔
مولوی کو ٹھنڈے پسینے آگئے تھے اس کی باتیں سن کر۔ اور کچھ بعید نہیں کہ ہارٹ ہی فیل ہوجاتا۔ وہ لکھ پتی سے ککھ پتی بن گئے تھے وہ بھی دن دہاڑے۔۔
مولوی صاحب چپ چاپ وہاں سے تو اٹھ کر آگئے لیکن اس نے اپنے مالی نقصان کا سارا غصہ غلام فرید پہ اتارا تھا۔
انہوں نے سکول سے اسکے مالک کا نمبر لیا تھا اور پھر اسے فون کر کے غلام فرید پر جی بھر کر الزامات لگائے۔مالک کا رد عمل فوری تھا۔وہ پہلی فرصت میں گاؤں آیا تھا اور مولوی سے ملاقات کے بعد غلام فرید کی صفائیاں اور وضاحتیں سننے کے باوجود اسے نوکری سے فارغ کر دیا۔
غلام فرید کے سر پہ جیسے پہاڑ آگرا تھا۔ صرف اسے نہیں اسکی بیوی کو بھی نکال دیا گیا تھا اور ان سے کوارٹر بھی خالی کروالیا گیا تھا۔۔
گیارہ لوگوں کا وہ خاندان چھت سے بے چھت ہوگیا تھا۔ وسائل اتنے نہیں تھے کہ وہ گاؤں میں کوئ مکان کرائے پر لے لیتے ۔مولوی کے طفیل غلام فرید پورے گاؤں میں بیوی سمیت بدنام ہوگیا تھا۔وہ ایک چور تھا جس نے اللہ کے پیسوں کو بھی نہیں چھوڑا تھا۔گاؤں والوں نے مولوی کے دہرائے گئے قصے سن سن کر غلام فرید کا سوشل بائکاٹ کردیا۔ غلام فرید نے بھی مولوی کے کارنامے گاؤں والوں کو بتانے کی کوشش کی لیکن ایک کمین اور چور کی بات پہ کون یقین کرتا ۔۔مولوی بری الذمہ اور معصوم قرار پایا.
پتا نہیں وہ کونسا لمحہ تھا جب غلام فرید اپنا ذہنی توازن کھونا شروع ہوا۔بھوک اور تنگدستی نے اسکا دماغ خراب کردیا۔ گاؤں والوں کی باتوں اور طعنوں نے۔۔۔لڑکپن میں داخل ہوتی بیٹیوں پر پڑتی گاؤں کے لڑکوں کی گندی نظروں اور اپنی بے بسی نے۔یا پھر ان سود خوروں کی دھمکیوں نے جو اسے سود کی قسطیں ادا نہ کرنے پر بار بار اس احاطے کے ٹوٹے دروازے کےباہر کھڑے ہوکر مار پیٹ کرتے جہاں جانوروں کے ایک باڑے کے برابر غلام فرید نے بھی لکڑی کی چھت ڈال کر وقتی طور پہ اپنے خاندان کو چھت فراہم کی تھی۔
پتا نہیں کیا ہوا تھا غلام فرید کو ۔چنی ایک سال کی تھی جب غلام فرید نے ایک رات اپنے خاندان کے نو کے نو افراد کو ذبح کردیا ۔چنی واحد بچ گئ تھی۔وہ غلام فرید کو مری ہوئ لگی۔نو انسانوں کو مارنے کے بعد غلام فرید نے اپنی جان نہیں لی تھی۔وہ زندہ تھا ہی کب ۔۔خاندان کو مار دینا ہی وہ حل تھا جیسے، جو ایک ان پڑھ شخص نے غربت اور قرض سے نجات کے لیے نکالا تھا جب کوئ حل ہی باقی نہ رہا تھا۔۔
ایک سال کی چنی کو کچھ یاد نہیں تھا۔۔نہ قاتل نہ مقتول۔
*********———**********
اے لوگوں نا تو میرے بعد کوئ پیغمبر یا نبی آئے گا نہ تمہارے بعد کوئ نئی امت، میں تمہارے پاس اللہ کی کتاب اور اپنی سنت چھوڑے جارہا ہوں اگر تم ان پر عمل کرو گے تو کبھی گمراہ نہ ہوںگے
*******——–**********
وہ رات ہاشم مبین کی زندگی کی مشکل ترین راتوں میں سے ایک تھی۔ انہوں نے ایک بھیانک خواب دیکھا تھا کچھ دیر پہلے۔مگر خواب انسان جاگتی آنکھوں سے کیسے دیکھ سکتا ہے اور خواب میں بھی انسان کی اپنی اولاد اپنے والدین کے ساتھ ایسی بے رحمی کا سلوک کیسے کر سکتی ہے۔ کہ انسان ایک لمحے کے لیے اسکے اپنی سگی اولاد ہونے پر شبہ کرے۔۔۔
وہ اسٹڈی میں بیٹھے اپنی جائداد اور بنک بیلنس اور دوسرے اثاثہ جات کی فائلز اپنے سامنے میز پر ڈھیر کیے صرف یہ سوچ رہا تھا کہ یہ سب انکے ساتھ کیوں ہورہا تھا۔
اولاد باپ کے مرنے کے بعد ترکہ پر لڑے تو سمجھ میں آتا ہے۔ مگر اولاد ماں باپ کی زندگی میں ہی انکے سامنے اس طرح جائداد کے حصوں اور پائی پائی پر لڑے جیسے ماں باپ مر گئے ہو تو ماں باپ کو کونسی صلیب پر چڑھنا پڑتا ہے۔۔۔ ہاشم مبین آج کل اسی صلیب پر چڑھے ہوئےتھے۔ ہاشم مبین نے ساری زندگی ایک بادشاہ کی طرح گزاری تھی وہ سب پر حاوی رہے تھے اور انکی کسی بھی اولاد کی یہ مجال نہیں تھی کہ وہ اسکے سامنے سر اٹھائے۔ اور اب اسی ہاشم مبین پر وہی اولاد انگلیاں بھی اٹھا رہی تھی اور گستاخانہ باتیں بھی کر رہی تھی۔ اس نے ساری زندگی اپنی اولاد کو بہترین لائف سٹائل دینے کے لیے کئ سمجھوتے کیے۔۔جس میں وہ صحیح اور غلط کی تمیز بھی بھول گئے۔۔کب کب اس نے ضمیر کا سودا کیا تھا وہ بھی اسے یاد آرہا تھا اور کب کب انسانیت کا اور کب اپنےمذہب کا۔
وہ بے چین ہو کر اٹھ کر کمرے میں پھرنے لگے۔ مال و زر کا وہ ڈھیر جو اس نے اپنا مذہب بیچ اور بدل کر اکٹھا کیا تھا وہ شاید اسی قابل تھا کہ اسکی اولاد اسے لوٹ لیتی۔
اور پھر زندگی کے اس لمحے پر اسے ایک غلطی اور اس ایک غلطی کیساتھ امامہ یاد آئی۔
انہوں نے اسے ذہن سے جھٹکا۔۔ پھر جھٹکا۔۔ پھر جھٹکا۔۔اور پھر وہ رک گئے۔فائدہ کیا تھا اس کوشش کا. پہلے کبھی اس میں کامیاب ہوئے تھے جو آج ہوتے؟؟
کتنے سال ہوئے تھے اسے دیکھے ہوئے۔۔اس سے ملے ہوئے۔۔۔آخری بار انہوں نے اسے ہوٹل میں دیکھا تھا سالار کیساتھ۔۔اور آخری بار انہوں نے اسکی آواز کب سنی؟ اس سے کب بات کی تھی؟ انہیں یہ بھی یاد تھا ۔۔۔۔
یہ کیسے بھول جاتا۔۔وسیم کی موت پر۔۔
کتنے سال گزر گئے تھے ۔انہوں نے ایک گہرا سانس لیا ۔آنکھوں میں آنے والی نمی صاف کی ۔۔پتا نہیں یہ نمی وسیم کے لیئے آئ تھی یا امامہ کے لیئے۔۔۔
آنے والے ہفتے میں سب کچھ بکنا اور بٹنا تھا۔۔ یہ گھر، یہ فیکٹری، زمین، پلاٹس، اکاؤنٹس گاڑیاں، سب اثاثے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اگر کچھ بٹنے کے قابل نہ تھا تو وہ ہاشم مبین اور اسکی بیوی تھی۔جنہیں کوئ بھی ساتھ رکھنے پر تیار نہیں تھا ۔۔۔۔
یہ وہی رات تھی جب انہوں نے پہلی بار امامہ سے ملنے کا سوچا تھا یہ وہی رات تھی جب انہوں نے سوچا کہ شاید انکی باقی اولاد کی طرح امامہ کو بھی جائداد میں حصہ دینا چاہیئے۔۔اور وہ یہ جانتے تھے کہ وہ اس سوچ پر کبھی عمل نہیں کرسکتے ۔وہ امامہ کو اپنی جائداد کا وارث نہیں بناسکتے تھے کیونکہ اس کے لیئے اسے بہت سارے اعترافات کرنے پڑتے۔ عمر کے اس حصے میں اس نے پہلی دفعہ یہ سوچا کہ وہ کچھ اعتراف کر لیں تاکہ ضمیر کا بوجھ تھوڑا کم ہو۔۔گناہ کا بوجھ گھٹانا تو اب ناممکن رہا.
*********—–***********
اور شیطان سے خبردار رہو وہ اس بات سے مایوس ہوچکا ہے کہ زمین پر اسکی پرستش کی جائے لیکن وہ اس بات پر راضی ہے کہ تمہارے درمیان فتنہ و فساد پیدا کرتا رہے اس لیئے تم اس سے اپنے دین و ایمان کی حفاظت کرو۔۔
**********——-*********
مویشیوں کے اس احاطے میں اپنے خاندان کی لاشوں کے پاس چند گھنٹے بیٹھے رہنے کے بعد غلام فرید اس رات پہلی بار جا کر جانوروں کے باڑے میں سویا تھا۔
اس کے خاندان کی لاشیں صبح سویرے دودھ لینے والے کچھ لوگوں نے دیکھی تھی اور اسکے بعد گاؤں میں کہرام مچ گیا۔ غلام فرید اس کہرام کے دوران بھی جانوروں کے باڑے میں ہی چھری پاس رکھے بیٹھا اسے گھورتا رہا۔
پورا گاؤں اس احاطے میں آگیا تھا تو لوگوں نے غلام فرید کو بھی دیکھ لیا۔ اور اس خون آلود چھری کو بھی۔وہ پہلا موقع تھا جب گاؤں میں سے کوئ اسکو گالی نہ دے سکا ہمیشہ کی طرح۔ وہ اس سے دہشت زدہ ہوگئے تھے۔اس کو دور دور سے دیکھ کر ایسے سرگوشیاں کر رہے تھے جیسے وہ چڑیا گھر میں رکھا ہوا پنجرے میں بند کوئ جنگلی جانور ہو۔اس دن گاؤں میں سے کسے نے نا تو اسے ماں، بہن، بیوی، بیٹی کی فحش گالی دی تھی نا ہی کوئ طعنہ دیا تھا اور نہ ہی لعنت و ملامت ۔۔نہ ڈرایا، دھمکایا گیا۔۔اور نہ اسے یاد کرایا گیا کہ اس نے اگر اس تاریخ تک سود کی قسط ادا نہ کی تو اسکے ٹکڑے کرنے کے بعد اسکی بیوی اور بیٹیوں کیساتھ کیا کیا جائے گا۔
زندگی میں پہلی بار اس دن غلام فرید نے جیسے چند لمحوں کے لیے جانور بننے کے بعد انسان جیسا درجہ حاصل کرلیا تھا۔۔۔۔۔۔۔
پولیس آنے سے قبل مولوی صاحب بھی موقع واردات پر پہنچے وہ رستے میں سن چکے تھے کہ غلام فرید نے کیا کیا تھا۔۔لیکن اسکے باوجود نو لاشوں اور اسکے درمیان بلکتی ایک بچی نے ان پر لرزہ طاری کردیا۔ اسے لگا جیسے غلام فرید کو اللہ نے اسکے کیئے کی سزا دی ہے۔۔ اس برائی پر جو اس نے مولوی کیساتھ کی تھی۔اور یہ بات وہ اگلے کئی مہینے جمعے کے خطبے میں دہراتے رہے۔اپنی مومنیت رجسٹر کروانے کا اس سے اچھا اور کونسا موقع ہوسکتا تھا۔۔
پولیس کے پہنچنے پر مولوی صاحب نے ہی انکا استقبال کیا تھا اور وہ شیطان دکھایا تھا جو پھانسی کا حقدار تھا۔ اس شیطان نے کسی بھی مزاحمت کے بغیر خود کو پولیس کے حوالے کردیا۔
ہاں میں نے ہی مارا ہے سب کو اور صرف اس لیئے کیونکہ میں نہیں چاہتا تھا کہ وہ بھی ویسی زندگی جیے جیسے غلام فرید جی رہا تھا۔میں کچھ بھی کرلیتا کسی جائز طریقے سے اپنا قرض نہیں اتار سکتا تھا۔ غلام فرید نے پولیس کے سامنے اپنے اعترافی بیان میں کہا۔۔
*****-*****——-********
جان جاؤ کہ ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے اور تمام مسلمان ایک امت ہے۔ کسی کے لیئے جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائ سے کچھ لے سوائے اسکے جسے اسکا بھائ رضامندی سے دے اور اپنے نفس پر اور دوسرے پر زیادتی نہ کرو۔
********———*********
بھوک سے روتی بلکتی اور خون میں لتھڑی ہوئ چنی کو سب سے پہلے جس نے دیکھا اس نے اسے بھی زخمی سمجھا تھا۔ لیکن جب اسکی مدد کرنے اور اسے طبی امداد دینے کے لیئے اٹھایا گیا تو. یہ پتا چل گیا کہ وہ صحیح سلامت تھی۔گاؤں والوں کے لیئے یہ ایک معجزہ تھا۔غلام فرید کا کوئ بھائ نہیں تھا اور بہنوں میں سے صرف ایک اس بات پر تیار ہوئ کہ وہ چنی کو انکے پاس رکھے گی۔ نسیمہ کے خاندان میں کوئ بھی اس پر تیار نہیں ہوا تھا کہ وہ ایک قاتل کی بیٹی کو اپنے گھر میں پالے۔
لیکن فوری طور پر چنی کی دیکھ بھال، صلہ رحمی کے جذبے کے تحت انکے ایک پرانے ہمسائے نے کرنا شروع کردی۔ چنی کو پیدائش کے بعد زندگی میں پہلی بار پیٹ بھر کر خوراک اور اچھے کپڑے اور بستر نصیب ہوا تھا اس دن۔۔جس دن اسکا خاندان قتل ہوا ۔وہ چنی جس کو کبھی ماں باپ نے غور سے نہیں دیکھا تھا اسے دیکھنے پورا گاؤں امڈ آیا۔سوائے اسکے دودھیالی اور ننھیالی خاندانوں کے۔ جنہیں یہ خدشہ تھا کہ کہیں یہ ذمہ داری انکے گلے نہ پڑ جائے۔۔۔غربت اتنی بڑی لعنت ہوتی ہے کہ انسان کے اندر سے خونی رشتوں اور انسانیت کے بنیادی صفات مٹا دیتی ہے ۔۔
صرف غلام فرید کی ایک بہن ایسی تھی جس کے چار بچے تھے اور ان میں سے بھی تین بیٹے تو دونوں خاندانوں کا دباؤ اسی پر پڑا تھا۔۔۔صدمے اور غم سے بے حالی کی کیفیت میں وہ اپنے اکلوتے بھائ کی آخری نشانی کو اپنے پاس رکھنے پر تیار تو ہوگئ تھی۔ لیکن اسکے شوہر اور سسرال والوں نے اسکا وہ صدمہ اس حادثے کے دوسرے دن ہی اپنے تیوروں اور ناراضگی سے ختم کردیا۔اس سے پہلے کہ وہ باقیوں کی طرح چنی کی ذمہ داری سے ہاتھ اٹھاتی اس علاقے میں انتظامی عہدیداران اور سیاست دانوں اور سماجی شخصیات کی آمد شروع ہوگئ۔ اور جو بھی آرہا تھا وہ چنی کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے ساتھ کچھ نہ کچھ مالی امداد بھی کرتے جاتے تھے۔
مالی امداد کے لیے دیے جانے والے چیکوں اور کیش رقومات کے سلسلے نے ایک دم چنی کے رشتہ داروں کے اندر صلہ رحمی جگا دی۔ چنی بوجھ نہیں بلکہ بوجھ ہٹانے والی تھی۔اسکا اندازہ سب کو ہو گیا۔اور یہاں سے چنی کی کفالت کے لیے جھگڑوں کا آغاز ہوگیا۔۔
دونوں سائڈ سے پورے کے پورے خاندان والے اس ہمسایہ کے گھر دھرنا دیکر بیٹھ گئے ۔۔۔اور نوبت لڑائ تک پہنچی تو اس ہمسایہ نے پولیس کو بلوا لیا۔۔۔پولیس نے چنی کو اس ہمسایہ کی کفالت میں رینے دیا اور فریقین سے کہا کہ وہ چنی کی کسٹڈی کے لیے عدالت سے رجوع کرے۔ تب تک بچی اسی گھر میں رہیگی۔۔
چنی کو اپنے پاس رکھنے والے ہمسایہ نے اس کے لیئے ملنے والی نقد رقومات کو چنی پر خرچ کرنے کے بہانے کھل کر خرچ کرنا شروع کردیا۔ جیسے وہ ایک بہتی گنگا تھی جس میں ہر کوئ ہاتھ دھو رہا تھا۔
کیش رقوم کا وہ سلسلہ بہت جلد ختم ہو گیا۔ لوگوں کی ہمدردیاں اسکی یاداشتوں کےساتھ کم ہوتی گئ۔۔اور پھر ایک وقت آیا جب چنی ہمسایوں کے لیئے ایک بوجھ بن گئ تھی۔۔سرکاری امداد کا وہ چیک جسکو استعمال کرنے پر فی الحال پابندی تھی اور وہ صرف اسکو مل سکتا تھا جسے چنی کی کسٹڈی ملتی اور وہ اسکے رشتہ داروں میں ہی کسی کو ملنا تھی۔ سو اس سے پہلے کہ عدالت کیس کا فیصلہ کرتی ہمسائے چنی کے سب سے بڑے ماموں کو کچھ رقم کے عوض چنی تھما گئے تھے اور ساتھ انہوں نے عدالت میں بیان بھی دیا کہ چنی اسی ماموں کے گھر سب سے زیادہ اچھی پرورش پاسکتی ہے ۔۔
تین مہینے بعد تمام رشتہ داروں کی آہ و بکا کے باوجود چنی کا وہ ماموں چنی کی کسٹڈی اور دس لاکھ روپے کی رقم کا چیک عدالت سے حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا تھا۔
سونے کی چڑیاں اب ماموں کے سر پر بیٹھ گئ تھی اس سے پہلے ایک ریڑھا چلا کر پھل سبزیاں ادھر سے اُدھر ڈھوتا تھا۔ دس لاکھ سے اس نے فوراً زمین کا ایک ٹکڑا خرید کر کاشتکاری کا آغاز کردیا ۔چنی کی اس طرح ناز برداری یہاں نہیں کی گئ جیسی وقتی طور پہ سہی لیکن اس کے ہمسایہ نے کی تھی۔
ماموں کے بچوں نے زندگی میں پہلی بار اپنے باپ کے پاس اتنا پیسہ دیکھا تھا۔ جس سے وہ انہیں سب کچھ لیکر دے سکتا تھا۔اللہ نے معجزاتی طور پر انکی زندگی بدل دی تھی لیکن اس معجزے کا سہرا کوئ بھی چنی کے سر باندھنے کو تیار نہیں تھا۔ چنی کی صحیح خوش قسمتی کا آغاز اس دن ہوا تھا جب چنی کے خاندان کیساتھ ہونے والے حادثے کے تقریباً چھ مہینے کے بعد سکول کا مالک چنی کو دیکھنے آیا تھا۔ جہاں غلام فرید کام کرتا تھا اور ایک سزا کے طور پر نکالے جانے نے چنی سے اس کا خاندان چھین لیا تھا۔
*********——-*********
تم سب آدم کی اولاد ہو اور آدم مٹی سے بنے تھے۔کسی عرب کو عجمی پر اور کسی عجمی کو عربی پر کسی گورے کو کالے پر اور کسی کالے کو گورے پر کوئ فضیلت نہیں مگر تقوٰی کے۔ اور اپنے غلاموں کا خیال رکھو جو تم کھاؤ اس میں سے انکو کھلاؤ اور جو تم پہنو اسی میں سے انکو پہناؤ اور اگر وہ ایسی خطا کرے جو تم معاف نہ کرنا چاہو تو انہیں فروخت کر دو لیکن کوئ سزا مت دو۔۔
************&&*******
بیرونی گیٹ ہمیشہ کی طرح گھر میں کام کرنے والی میڈ نے کھولا تھا۔ سالار نے ابھی ڈرائیونگ سیٹ کا دروازہ کھولا ہی تھا جب ہر روز کی طرح لان میں کھیلتے اسکے دونوں بچے بھاگتے ہوئے اس کے پاس آگئے تھے۔ چار سالہ جبریل پہلے پہنچا تھا۔ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے بیٹھے اس نے اپنے بیٹے کا چہرہ چوما تھا وہ پسینے میں شرابور تھا۔
السلام علیکم۔۔گاڑی میں پڑے ٹشو باکس سے ٹشو نکال کر اس نے جبریل کا ماتھا اور چہرہ صاف کیا ۔۔دو سالہ عنایہ ہانپتی کانپتی شور مچاتی گرتی پڑتی اسکے پاس آگئ تھی۔۔اس نے ہمیشہ کیطرح اسے گود میں لیا تھا بہت زور سے اسے بھینچنے کے بعد اس نے باری باری بیٹی کے دونوں گال چومے ۔جبریل تب تک گاڑی کا دروازہ بند کرچکا تھا۔
اس نے عنایہ کو نیچے اتار دیا۔وہ دونوں باپ سے ملنے کی بعد دوبارہ لان میں بھاگ گئے تھے۔ وہ کچھ دیر کھڑا اپنے بچوں کو دیکھتا رہا پھر گاڑی کے پچھلے حصے سے اپنا بریف کیس اور جیکٹ نکالتے ہوئے وہ گھر کے اندرونی دروازے کی طرف بڑھ گیا۔۔
امامہ تب تک اس کے استقبال کے لیئے دروازے تک آچکی تھی۔دونوں کی نظریں ملی تھی۔وہ اسکے پاس آتی ہوئ مسکرائ۔۔
تم جلدی آگئے آج۔؟؟
اس نے ہمیشہ کی طرح اسے گلے لگاتے ہوئے کہا ۔۔ہاں آج زیادہ کام نہیں تھا۔
تو ڈھونڈ لیتے۔۔وہ اسکے ہاتھ سے جیکٹ لیکر ہنسی۔۔وہ جواب دینے کی بجائے مسکرایا۔
وہ اس کے لیے پانی لے آئی۔
تمہاری طبیعت ٹھیک ہے؟وہ اسکے ہاتھ میں پکڑی ٹرے سے گلاس اٹھا رہا تھا۔جب امامہ نے اچانک پوچھا تھا۔اس نے چونک کر اسکی شکل دیکھی۔
ہاں۔۔بالکل۔۔کیوں؟؟
نہیں۔ مجھے تھکے ہوئے لگے ہو اس لیئے پوچھ رہی ہوں۔۔سالار نے جواب دینے کی بجائے گلاس منہ سے لگایا وہ ٹرے لیکر چلی گئ۔۔
کپڑے تبدیل کر کے وہ سٹنگ ایریا میں آگیا تھا۔ کانگو کا موسم اسے کبھی پسند نہیں رہا تھا اس کی وجہ وہ بارش تھی جو کسی بھی وقت شروع ہو سکتی تھی اور اب بھی شاید کچھ دیر میں پھر شروع ہونے والی تھی۔
چائے۔ وہ امامہ کی آواز پر باہر لان میں دیکھتے ہوئے بے اختیار پلٹا ۔وہ ایک ٹرے میں چائے کے دو مگ اور ایک پلیٹ میں چند بسکٹ لیئے کھڑی تھی۔۔۔
تھینکس۔ وہ مگ اور ایک بسکٹ اٹھاتے ہوئے مسکرایا۔
باہر چلتے ہیں بچوں کےپاس۔۔وہ باہر جاتے ہوئے بولی۔
میں تھوڑی دیر میں آتا ہوں کسی کال کا انتظار کر رہا ہوں۔۔۔
وہ سر ہلاتے ہوئے باہر چلی گئ۔۔چند منٹوں بعد اس نے امامہ کو لان میں نمودار ہوتے دیکھا تھا۔ لان کے ایک کونے میں پڑی کرسی پر بیٹھتے وہ کھڑکی میں سالار کو دیکھ کر مسکرائ تھی۔ وہ بھی جواباً مسکرا دیا تھا۔۔۔
امامہ اب مکمل طور پر بچوں کی طرف متوجہ تھی۔۔چائے کا گھونٹ لیتے ہوئے دائیں کندھے پر پڑی شال سے اپنے جسم کا وہ حصہ چھپائے جہاں ایک نئی زندگی پرورش پارہی تھی ۔انکے ہاں تیسرے بچے کی آمد متوقع تھی۔
سالار کے ہاتھ میں پکڑی چائے ٹھنڈی ہو چکی تھی۔ایک گہری سانس لیکر اس نے مگ پاس پڑے ٹیبل پر رکھ لیا۔
امامہ کا اندازہ ٹھیک تھا، وہ ٹھیک نہیں تھا۔وہ کھڑکی سے باہر نظر آنے والی ایک خوش حال فیملی دیکھ رہا تھا ایک پرفیکٹ لائف اور اسکے بچوں کے بچپن کے قیمتی لمحے،، اپنے اندر ایک اور ننھا وجود لیے اسکی بیوی کا مطمئن اور مسرور چہرہ۔۔
چند پیپرز کو پھاڑ کر پھینک دینے سے زندگی ایسی ہی خوبصورت رہ سکتی تھی۔۔
وہ ایک لمحے کے لیے بری طرح کمزور پڑا تھا۔ اولاد اور بیوی واقعی انسان کی آزمائش ہوتے ہیں.
اسکا فون بجنے لگا تھا۔۔ایک گہرا سانس لیکر اس نے فون کرنے والے کی آئ ڈی دیکھی۔کال ریسیو کرتے ہوئے اسے اندازہ تھا۔۔۔۔۔۔۔۔اس وقت وہ دوسری طرف کس سے بات کرنے والا تھا اسے اپنی فیملی کی زندگی اور استعفیٰ میں سے ایک چیز کا انتخاب کرنا تھا۔۔۔
*********——*******–*
خوب سن لو۔۔اپنے پروردگار کی عبادت کرو۔ پانچ وقت کی نماز قائم کرو۔ رمضان کے روزے رکھو۔اپنے مال کی زکواۃ خوشی سے ادا کرو ۔۔اپنے حاکم کی اطاعت کرو ۔۔چاہے وہ ایک ناک کٹا حبشی ہی کیوں نا ہو۔۔اور اس طرح اپنے رب کی جنت میں داخل ہوجاؤ۔۔۔
افریقہ کا دوسرا سب سے بڑا ملک کانگو، پچھلی کئ دہائیوں سے دنیا میں صرف پانچ چیزوں کی وجہ سے پہچانا جاتا تھا۔
خانہ جنگی۔۔۔۔جس میں اب تک پینتالیس لاکھ لوگ جان گنوا چکے تھے۔۔۔۔غربت کے لحاظ سے یو این کے اکنامک اینڈکٹر میں، کانگو یو این کے 188ممالک کی فہرست میں 187ویں نمبر پہ تھا۔۔معدنی وسائل کے ذخائر کے لحاظ سے کانگو دنیا کا امیر ترین ملک تھا۔۔گھنے جنگلات سے بھرا ہوا اور پگمیز یعنی پستہ قامت سیاہ فام لوگ کانگو کے ان جنگلات میں صدیوں سے پائ جانے والی انسانوں کی ایک ایسی نسل جو مہذب زمانے کے واحد غلام، جنہیں غلام بنانا قانوناً جائز تھا۔۔ورلڈ بنک نے یو این کی خوراک کے عالمی ادارے کیساتھ مل کر کانگو میں ان جنگلات کی تباہی کے ایک عظیم الشان پراجیکٹ کا آغاز کیا۔۔
سالار سکندر جس وقت اس پراجیکٹ کے ہیڈ کے طور پر کانگو پہنچا تو اس منصوبے کو تین سال گزر چکے تھے۔۔اسے یہ اندازہ نہیں تھا کہ ورلڈ بنک اسے کس طرح استعمال کرنے والا تھا لیکن اسے یہ اندازہ بہت جلد ہوگیا تھا ایباکا سے ملاقات کے بعد۔۔۔
********———********
پیٹرس ایباکا سے سالار کی پہلی ملاقات بڑے ڈرامائ انداز میں ہوئ تھی۔ اسے کانگو میں آئے تقریباً ایک سال ہونے والا تھا جب لاموکو نامی جگہ کو اپنی ٹیم کیساتھ وزٹ کرتے ہوئے پیٹرس ایباکا تقریباً دو درجن کے قریب پگمیز کیساتھ اچانک وہاں آگیا تھا۔ گارڈز نے ایباکا اور اسکے گروپ کو یکدم نمودار ہوتے دیکھ کر حواس باختگی کے عالم میں بے دریغ فائرنگ شروع کر دی۔
سالار نے دو پگمیز کو زخمی ہو کر گرتے دیکھا اور باقیوں کو درختوں کی اوٹ میں چھپتے اور پھر بلند آواز میں ایباکا کو کسی درخت کی اوٹ سے انگریزی زبان میں یہ پکارتے سنا تھا کہ وہ حملہ کرنے نہیں آئے بات کرنے آئے ہیں ۔سالار اس وقت اپنی گاڑی کی اوٹ میں تھا سب سے پہلے اس نے ایباکا کی پکار سنی۔۔چند لمحوں کے لیئے وہ حیران رہ گیا تھا کسی پگمیز کا انگریزی بولنا۔۔یقیناً حیران کن تھا لیکن اس سے زیادہ حیران کن اس کا امریکی لب و لہجہ تھا جس میں ایباکا چلا چلا کر کہہ رہا تھا کہ اسے ان سے بات کرنی ہے وہ صرف ملنا چاہتا ہے اسکے پاس کوئ ہتھیار نہیں۔۔
سالار نے گارڈز سے کہا کہ وہ اس پکارنے والے آدمی سے بات کرنا چاہتا ہے۔ فائرنگ بند کردیں۔۔کیونکہ دوسری طرف سے نہ تو فائرنگ ہورہی اور نہ ہی کسی ہتھیار کا استعمال۔۔۔۔۔
اسکے گارڈز کچھ دیر تک اس سے بحث کرتے رہے اور اس بحث کو ختم کرنے کا واحد حل سالار نے نکالا تھا۔۔جو اس کی زندگی کی سب سے بڑی بے وقوفی ثابت ہوسکتی تھی۔ اگر دوسرا گروپ واقعی مسلح ہوتا وہ یکدم زمین سے اٹھ کر گاڑی کی اوٹ سے باہر نکل آیا تھا اسکے گارڈز پگمیز کی اچانک آمد پر اتنے حواس باختہ نہیں ہوئے تھے جتنے اس کے بالکل اس طرح سامنے آجانے سے ہوئے تھے۔ سالار انکی حواس باختگی سمجھ سکتا تھا یہ پاکستان نہیں تھا بلکہ خانہ جنگی کا شکار کانگو تھا ۔۔جہاں کسی کی جان لینا مچھر کے برابر تھا۔۔۔
فائرنگ اب بند ہوگئ تھی۔ اسکی تقلید میں اسکے گارڈز بھی باہر نکل آئے تھے۔ فائرنگ کے تھمتے ہی ایباکا بھی نکل آیا تھا۔سالار نے چلا کر گارڈز کو گولی چلانے سے منع کیا۔پھر وہ اس ساڑھے چار فٹ قد کے بے حد سیاہ، چپٹی ناک والے اور موٹی سیاہ آنکھوں والے آدمی کی طرف متوجہ ہوا۔۔جو اپنے ساتھیوں کے برعکس جینز اور شرٹ میں تھا۔ ان ننگے پاؤں والے پگمیز کے درمیان جاگرز پہنے وہ عجیب سا لگ رہا تھا۔۔
پیٹرس ایباکا ۔۔۔اس پستہ قامت شخص نے آگے بڑھتے ہوئے سالار سے اپنا تعارف کرواتے ہوئے سالار سے ہاتھ ملانے کے لیئے ہاتھ بڑھایا، جسے تھامنے سے پہلے سالار نے بڑے نپے تلے انداز میں اسکا سر سے پاؤں تک جائزہ لیا ۔۔وہ ابھی تک یہی سمجھ رہا تھا کہ وہ بھی ان مفلوک الحال لوگوں میں ہوگا جو غیر ملکیوں کی گاڑیاں سامنے آنے پر امداد کے لیے انکے سامنے آجاتے ہیں ۔۔سالار بھی ایباکا سے کسی ایسی ہی ڈیمانڈ کا انتظار کر رہا تھا۔لیکن جواباً ایباکا کی زبان سے اپنا نام سن کر حیران رہ گیا۔۔اس نے ایباکا سے اپنا تعارف نہیں کرایا تھا تو پھر وہ اسے کیسے جانتا تھا۔وہ ایباکا سے یہ سوال کیئے بنا نہ رہ سکا۔اس نے بتایا کہ وہ اسکے بارے میں بہت کچھ جانتا ہے۔ لوموکا مین ہونے والے وزٹ کے بارے میں بھی، اسے بنک کے آفس میں کام کرنے والے کسی مقامی آدمی نے بتایا تھا جس نے ایباکا کی سرتوڑ کوششوں کے باوجود سالار سے ملاقات کے لیئے اپوائنمنٹ کے حصول میں مدد سے انکار کر دیا تھا۔ وہ سالار کے آفس نمبرز پر روزانہ ڈھیروں کالز کرتا تھا۔ویب سائٹ پر موجود اسکی ای میل پر اس نے سینکڑوں ای میلز کی تھی۔جنکا جواب ہر بار صرف موصولی ہی کا آیا تھا۔فون کالز ریسیو کرنے والے سالار کے عملے کے افراد اس کی ملاقات کا مقصد جان کر اسے بڑے نارمل انداز میں ٹال دیتے تھے۔ اسکی گفتگو سنتے ہوئے سالار اسکے بیان و زبان سے متاثر ہوئے بنا نہ رہ سکا۔ یہ ناقابل یقین بات تھی لیکن اس کے بعد سالار نے جو کچھ سنا تھا اس نے اس کے چودہ طبق روشن کر دیئے تھے ۔۔پیٹرس ایباکا ہاورڈ بزنس اسکول کا گریجویٹ اور وال سٹریٹ میں جے پی مارگن گروپ کیساتھ پانچ سال کام کرنے کے بعد کانگو آیا تھا۔۔
اپنے والٹ سے نکالے ہوئے کچھ ویزٹنگ کارڈز اس نے سالار کی طرف بڑھادیئے۔۔اس نے بے حد بے سے اسے پکڑا تھا ۔کانگو کے جنگلات میں تیروں اور نیزوں سے شکار کر کے بھوک مٹانے والا جنگلی ہاورڈ سکول تک کیسے پہنچ گیا اور پھر وہ جے پی مارگن گروپ کے ساتھ منسلک رہنا ۔۔تو پھر وہ یہاں کیا کررہا تھا۔۔
اس سوال کا جواب ایباکا نے سالار سکندر کو اسکے آفس میں دوسرے دن اپنی دوسری ملاقات میں کاغذات کے ایک انبار کیساتھ دیا تھا۔ جو وہ اس ملاقات میں سالار سکندر کو دینے آیا تھا۔۔
ایباکا کا دس سال کی عمر میں لوموکا میں ایک بچے کے طور پر ایک مشنری سے متعارف ہوا تھا جو اسے اپنے ساتھ کانگو کے جنگلات میں وہاں کے لوگوں کیساتھ رابطہ اور کمیونیکیشن کے لیئےساتھ لیئے پھرتا رہا اور پھر اسےاس حد تک اس بچے سے لگاؤ ہو گیا کہ بیماری کی وجہ سے کانگو چھوڑنے پر وہ ایباکا کو بھی اپنے ساتھ امریکہ لے گیا تھا جہاں اس نے اسے پیٹریس کا نام دیا ۔
ایک نیا مذہب بھی، لیکن سب سے بڑھ کر یہ کہ اس نے ایباکا کو تعلیم دلوائی۔۔ایباکا بے حد ذہین تھا اور رپورنڈ جانسن نے اسکی ذہانت کو جانچ لیا۔وہ ایباکا کو اسکے بعد ہر سال کانگو لاتا رہا جہاں ایباکا کا خاندان اسی طرح جی رہا تھا۔ دس سالہ ایباکا نے اگلے پچیس سال امریکہ میں گزارے مگر اسکے بعد وہ امریکہ چھوڑ آیا تھا۔
وہ اپنے لوگوں کے پاس رہنا چاہتا تھا۔کیونکہ انہیں اس کی ضرورت تھی اور انہیں اسکی ضرورت اس لیئے تھی کیونکہ ورلڈ بنک سے ہونے والے تعاون سے بہت سے منصوبوں میں سے ایک منصوبہ جنگل کے اس حصے میں شروع ہو گیا تھا۔۔جہاں ایباکا کا قبیلہ آباد تھا۔اس کا خاندان اور اس سے بڑھ کر وہ دس ہزار لوگ جو جنگل کے اس حصے سے بے دخل کیئے جارہے تھے۔ جس میں وہ صدیوں سے رہ رہے تھے۔جنگل کٹنے جارہا تھا وہ ساری زمین صاف ہوتی پھر وہاں اس معدنیات کی تلاش شروع ہوتی جو اس منصوبے کا دوسرا حصہ تھا۔اور ایباکا کا مسئلہ اسکا اپنا خاندان نہیں تھا۔اسکا مسئلہ وہ پورا جنگلات کا حصہ تھا جو اب جگہ جگہ زونز بنا کر کاٹا جارہا تھا۔
ہم پانچ لاکھ لوگ ہیں۔ لیکن یہ جنگل تو کانگو کے ساڑھے تین کروڑ لوگوں کو روزگار دے رہا ہے ۔ورلڈ بنک ٹمبر انڈسٹری کو معاونت دے رہا ہے کیونکہ اس سے ہماری غربت ختم ہوگی جب جنگل ہی غائب ہوکر یورپ اور امریکہ کی فیکٹریز اور شورومز میں مہنگے داموں بکنے والی لکڑی کی اشیاء میں تبدیل ہوجائیں گی تو کانگو کے لوگ کیا کرینگے۔ تم لوگ ہم سے وہ بھی چھیننا چاہتے ہو جو اللہ نے ہمیں دیا ہے۔اگر ہم ویسٹ میں ان سے سب کچھ چھیننے پہنچ جائے تو تمہیں کیسا لگے گا۔؟؟ایباکا نے اپنا کیس بہت تہذیب سے پیش کیا تھا۔
سالار کے پاس اسکے سوالوں کے رٹے رٹائے جوابات تھے اس پراجیکٹ کی طرح کانگو میں ہونے والی اور بہت سی پراجیکٹس کی تفصیلات اسکی انگلیوں پر تھی۔ وہ وہاں ورلڈ بنک کا کنٹری ہیڈ تھا۔ مگر ایسا پہلی بار ہوا تھا کہ پیٹرس ایباکا کے انکشافات اور سوالات اسے پریشان کرنے لگے تھے۔ بہت کچھ ایسا تھا جو اسکی ناک کے نیچے ہو رہا تھا لیکن اسکو پتا نہیں تھا۔ لیکن وہ اس سب کا حصہ دار تھا۔کیونکہ وہ سب کچھ اسی کے دستخطوں سے منظور ہورہا تھا۔
ایباکا کے فائلوں کے انبار وہ کئ ہفتوں تک پڑھتا رہا۔کئی ہفتے وہ اپنے آپ سے جنگ کرتا رہا۔۔ورلڈ بنک کی ایما پر وہاں ایسی کمپنیوں کو لکڑی استعمال کرنے کی اجازت دے دی گئ تھی جنکا ٹریک ریکارڈ افریقہ کے دوسرے بہت سے ممالک میں اسی حوالے سے قابل اعتراض رہا تھا۔ لکڑی کٹ رہی تھی جنگل صاف ہورہا تھا آبادی بے دخل ہورہی تھی اور جن شرائط پر ان کمپنیز کو لائسنس دیا گیا تھا وہ ان شرائط کو بھی پورا نہیں کر رہی تھی۔ انہیں لکڑی کے عوض اس علاقے کے لوگوں کی معاشی حالت سدھارنے کا فریضہ دیا گیا تھا۔ اور وہ کمپنیاں کروڑوں ڈالرز کی لکڑی لے جانے کے عوض چند عارضی نوعیت کے سکول اور ڈسپنسریز لوگوں کو فراہم کر رہی تھی۔خوراک خشک دودھ نمک اور مسالا جات کی شکل میں دی جا رہی تھی۔۔اور یہ سب ورلڈ بنک آفیشلز کے نگرانی کے باوجود ہورہا تھا کیونکہ پگمیز کو اس ملک میں اچھوت کا درجہ حاصل تھا۔وہ ان کمپنیز کے خلاف عدالت نہیں جا سکتے تھے۔اگلے دو ماہ سالار کو ایباکا کیساتھ انفرادی حیثیت میں ان جگہوں کو خود جاکر دیکھنے میں لگے جن کے بارے میں ایباکا نے اسے دستاویزات دی تھی۔۔اور پھر اسے اندازہ ہوگیا کہ وہ دستاویزات اور ان میں پائی جانے والی معلومات بالکل ٹھیک تھی۔ضمیر کا فیصلہ بہت آسان تھا۔جو کچھ ہو رہا تھا غلط ہورہا تھا۔ وہ اسکا حصہ نہیں بننا چاہتا تھا۔لیکن مشکل یہ تھی کہ اب وہ کیا کرے۔ایک استعفی دیکر اس ساری صورت حال کو اسی طرح چھوڑ کر نکل جاتا یا وہ وہاں پر ہونے والی بے ضابطگیوں کے خلاف آواز بلند کرتا۔جو کچھ ورلڈ بنک وہاں کر رہا تھا۔وہ انسانیت کی دھجیاں اڑانے کے برابر تھا۔

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: