Aab e Hayat Novel by Umera Ahmed Read Online – Episode 23

0

آب حیات از عمیرہ احمد – قسط نمبر 23

–**–**–

افریقہ میں ایباکا سے ملنے کے بعد زندگی میں پہلی بار سالار نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے خطبے کے ان الفاظ کو سمجھا تھا کہ کسی کالے کو گورے پر اور کسی گورے کو کالے پر کوئی سبقت نہیں۔ وہ ھمیشہ ان الفاظ کو صرف ذات برادری اور اونچ نیچ کے حوالے سے دیکھتا رہا تھا۔ وہ اس سیاہ فام آبادی کا استحصال دیکھ رہا تھا جو دنیا کے ایک بڑے خطے پر بستی تھی۔ اور پھر اس گوری آبادی کی ذہنی پسماندگی کی ہوس کو دیکھ رہا تھا جس کا وہ بھی حصہ تھا۔ اسے خوف محسوس ہوا۔ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے آخری الفاظ آنے والے زمانوں کے حوالے سے اسی سیاہ فام آبادی کے حوالے سے پیش گوئی کی گئی تھی۔ یا کوئی تنبیہہ جسے صرف سفید فام لوگ ہی نہیں مسلمان بھی نظر انداز کیے ہوئے تھے۔ صدیوں پہلے غلامی کا جو طوق سیاہ فاموں سے ہٹایا گیا تھا۔ اکیسویں صدی کے مہذب زمانے میں افریقہ میں استعماریت نے وہ طوق ایک بار پھر اس کے گلوں میں ڈال دیا تھا۔
انہیں سیاہ فام لوگوں میں ایک ایباکا بھی تھا۔ جو امریکہ جیسے ترقی یافتہ ملک میں اپنی زندگی کے پچیس سال گزارنے کے بعد بھی وہاں سے اس سیاہ دور میں لوٹ آیا تھا۔ صرف اپنے لوگوں کی بقاء کے لیے۔ بقاء کے لفظ کا مفہوم سالار نے ایباکا سے سیکھا تھا اور اسکے لیے کیا کیا قربان کیا جاسکتا ہے وہ ابھی اس سے سیکھ رہا تھا۔ وہ اگر سالار سکندر کو متاثر کر رہا تھا تو وہ کسی کو بھی متاثر کر سکتا تھا۔
وہ دنیا کے دو ذہین ترین انسانوں کا آمنا سامنا تھا۔ یہ کیسے ممکن تھا ایک متاثر ہوتا اور دوسرا نہیں ہوتا۔
سالار سکندر! میں زندگی میں تم سے زیادہ قابل اور ذہین انسان سے نہیں ملا۔ سالار مسکرا کر رہ گیا۔
میں خود انٹرنیشنل آرگنائزیشنز میں کام کر چکا ہوں اور ان میں کام کرنے والے مختلف افراد سے مل چکا ہوں، لیکن تم ان سب میں سے مختلف ہو اور مجھے یقین ہے تم میری مدد کروگے۔
تعریف کا شکریہ، لیکن اگر تم اس خوشامد کا سہارا لیکر میری مدد چاہتے ہو اور تمہارا خیال ہے کہ میں تمہارے منہ سے یہ سب سننے کے بعد آنکھیں بند کر کے تمہاری خاطر اس صلیب پر چڑھ جاؤں گا تو میرے بارے میں تمہارا اندازہ غلط ہے۔ میں جو کچھ بھی کروں گا، سوچ سمجھ کے کروں گا۔
ایباکا کی اس فیاضانہ تعریف کو خوشامد قرار دینے کے باوجود سالار جانتا تھا ایباکا کو اس کی شکل میں ایک مسیحا مل گیا ہے۔ مسیحا بھی وہ جو ورلڈ بنک میں کام کرنے کے باوجود اپنا ضمیر زبرستی بے ہوش تو کر سکتا تھا، سلا نہیں سکتا تھا۔۔
تمہارا سینس آف ہیومر بہت اچھا ہے۔ ایباکا نے مسکراتے ہوئے کہا۔
یہ چیز مجھ میں نہیں پائ جاتی۔
سالار نے ترکی بہ ترکی کہا۔۔۔اور جس صورت حال میں تم مجھے ڈال بیٹھے ہو اس کے بعد تو کئ سالوں تک بھی اسکے پیدا ہونے کے کوئ امکانات نہیں۔۔۔
میں بہت سارے مسلمانوں کیساتھ پڑھتا رہا ہوں، کام کرتا رہا ہوں، ملتا رہا ہوں، مگر تم ان سے مختلف ہو۔۔وہ عجیب تبصرہ تھا۔
میں کس طرح مختلف ہوں۔؟ سالار پوچھے بغیر نہ رہ سکا۔
تم ایک اچھے مسلمان ہونے کیساتھ ایک اچھے انسان بھی ہو۔ جن سے میرا واسطہ پڑا تھا وہ یا تو اچھے مسلمان تھے یا اچھے انسان۔۔۔
سالار کچھ دیر بول نہ سکا۔۔ بولنے کے قابل ہی کہاں چھوڑا تھا اسے افریقہ کے اس بے دین انسان نے۔
اچھا مسلمان تمہاری نظر میں کیا ہے؟؟ سالار نے بہت دیر خاموش رہنے کی بعد پوچھا۔
تمہیں میری بات بری تو نہیں لگی۔ ایباکا ایک دم محتاط ہوگیا۔
نہیں، مجھے تمہاری بات انٹرسٹنگ لگی۔ مگر تمہاری زبان سے ادا ہونے والا یہ پہلا جملہ تھا جس میں تمہاری کم علمی جھلکی۔
اس بار ایباکا الجھا۔ وہ مذہب ڈسکس کرنے نہیں بیٹھے تھے وہاں لیکن مذہب ڈسکس ہورہا تھا۔
اچھا مسلمان؟؟ جو باعمل ہو، ساری عبادات کرتا ہے، پورک نہیں کھاتا، شراب نہیں پیتا، نائٹ کلب نہیں جاتا۔ میرے نزدیک وہ ایک اچھا مسلمان ہے۔ جیسے ایک اچھا عیسائی یا ایک اچھا یہودی۔۔۔
ایباکا کو اندازہ نہیں تھا وہ اپنی کم علمی میں جو باتیں کر رہا تھا وہ سالار کو شرمسار کرنے کے لیے کافی تھیں۔۔ایباکا اسے اچھا مسلمان بھی مان رہا تھا اور اچھا انسان بھی۔ لیکن کیا وہ اس معیار پہ پورا اترتا تھا۔۔۔۔
ریونڈ جانسن کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟ سالار نے بے ساختہ کہا۔
ویل۔۔۔ ایباکا کہہ کر مسکرایا تھا انکے مجھ پر بہت احسانات ہیں لیکن وہ کبھی میرے آئیڈیل نہ بن سکے۔۔۔
کیوں؟ وہ سوال و جواب سالار کو عجیب لطف دے رہے تھے۔
انکے احسانوں کی ایک قیمت تھی وہ مجھے کرسچن بنانا چاہتے تھے جب میں نے وہ مذہب اپنا لیا تو انہوں نے وہ سارے احسانات ایک کرسچن بچے پر کیئے۔ ایک انسان کے طور پہ ایک انسان سمجھ کر تو اس نے میرے لیئے کچھ نہیں کیا۔ مذہب کسی کے دل و دماغ میں زبردستی نہیں ڈالا جا سکتا۔
میں نے تھوڑا بہت سب مذاہب کا مطالعہ کیا۔ لیکن پتہ نہیں کیوں جو انسان ان مذاہب کا پیروکار ہوجاتا ہے۔ وہ اپنی اچھائیاں کھو بیٹھتا ہے ۔تمہیں لگ رہا ہوگا میں فلاسفر ہوں۔ ایباکا کو بات کرتے کرتے احساس ہوا تھا۔سالار بہت دیر سے خاموش تھا۔
نہیں؟ اتنا فلاسفر تو میں بھی ہوں۔۔ سالار نے مسکرا کر کہا۔۔تم امریکہ سے یہاں واپس کیسے آگئے۔
؟ سالار نے اس سے وہ سوال کیا جو اسے اکثر الجھاتا تھا۔
ایک چیز جو میں نے ریونڈ جانسن سے سیکھی تھی وہ اپنے لوگوں کے لیئے ایثار تھا، اپنی ذات سے آگے کسی دوسرے کے لئے سوچنا۔امریکہ بہت اچھا تھا وہاں میرا مستقبل تھا۔لیکن صرف میرا مستقبل تھا۔میری قوم کے لیے کچھ نہیں تھا۔میں کانگو میں کچھ اور بننے کا خواب لیکر آیا ہوں۔ایباکا کہہ رہا تھا۔
اور وہ کیا؟؟ سالار کو پھر تجسس ہوا۔
کانگو کا صدر بننے کا۔ سالار کے چہرے پر مسکراہٹ آئ۔
تم ہنسے نہیں؟؟ ایباکا نے جواباً کہا تھا۔۔
تم نے ایسی کوئی بات نہیں کی جس پہ میں ہنس پڑوں۔ ہارورڈ سکول سے پڑھنے کے بعد تمہیں اتنے ہی بڑے خواب دیکھنے چاہیئے۔۔ایباکا اسکی بات پر مسکرا دیا تھا۔۔
وہ مہینے سالار کے لیے بے حد پریشانی کے تھے۔۔کیا کرنا چاہیئے اور کیا کر سکتا تھا کے درمیان فاصلہ تھا۔ وہ ایباکا کی مدد نہ بھی کرتا تب بھی وہ جتنی جانفشانی سے اپنی حقوق کی جنگ لڑ رہا تھا سالار کو یقین تھا جلد یا بدیر ورلڈ بنک کے چہرے پر کالک ملنے والا ایک بڑا سکینڈل سامنے آنے والا ہے۔ حفاظتی اقدامات کا وقت اب گزر چکا تھا پیٹرس ایباکا صرف کنگالا یا سواحلی بولنے والی ایک پگمی نہ تھا جسے کانگو کے جنگلات تک محدود کیا جاسکتا ہے۔ وہ امریکہ میں اپنی زندگی کا بڑا حصہ گزارنے والا شخص تھا جس کے کانٹیکٹس تھے اگرچہ وہ اس وقت اس کے کام نہیں آرہے تھے لیکن اس سے وہ کمزور نہیں پڑا تھا بلکہ زیادہ طاقتور بن کر ابھرا تھا۔وہ نہ صرف پگمیز بلکہ بانٹو قبیلے کی آواز بھی بن چکا تھا۔ جن کا انحصار جنگلات پہ تھا۔۔
اگلا کوئ قدم اٹھانے سے پہلے ہی ایباکا کیساتھ اس کا میل جول ان لوگوں کی نظروں میں آگیا تھا جن کے مفادات ورلڈ بنک کے ذریعے پورے ہو رہے تھے۔سالار پہ نظر رکھی جانے لگی تھی اس سے پہلے کے اس کے خلاف کوئ کاروائی ہوتی انگلینڈ کے ایک اخبار نے ایباکا کی فراہم کی گئ معلومات کی تحقیق کرنے کے بعد کانگو کے پگمیز اور ورلڈ بنک کے کانگو بارانی جنگلات میں ہونے والے پراجیکٹس کے بارے میں ایک کور سٹوری شائع کی تھی۔ جس میں ورلڈ بنک کے کردار کے حوالے سے بہت سارے اعتراضات اٹھائے گئے تھے۔
واشنگٹن میں ورلڈ بنک کے ہیڈ کوارٹر میں جیسے ہلچل مچ گئ۔ ورلڈ میڈیا میں اس معاملے کی رپورٹنگ اور کوریج کو دبانے کی کوشش کی گئ مگر اس سے پہلے ہی یورپ اور ایشیاء کے بہت سارے ممالک کے ممتاز اخبارات اس آرٹیکل کو ری پرنٹ کر چکے تھے اور ورلڈ بنک میں وہ ہلچل اس وقت عروج پر پہنچی جب سالار سکندر کی طرف سے ہیڈ آفس کو کانگو میں چلنے والے ان ہراجیکٹس کے حوالے سے ایک تفصیلی ای میل کی گئ۔ اور یہی وہ وقت تھا جب سالار کو نامعلوم ذرائع سے دھمکیاں ملنے کا آغاز ہوا۔ وہ پراجیکٹس جو ان چلانے والی کمپنیوں کو اربوں ڈالرز کی آمدنی دے رہے تھے۔ بنک کے اپنے کنٹری ہیڈ کی مخالفت کا باعث بنتے تو وہ کمپنیز اور ان کے پیچھے کھڑی بین الاقوامی خاموش طاقتیں، خاموش تماشائی تو نہ بنے رہتے۔ کوئ عام صورت حال ہوتی تو اس وقت تک سالار سے استعفی لیکر اسے بڑے ہتک آمیز طریقے سے ملازمت سے فارغ کیا جا چکا ہوتا۔ مگر اس وقت اسکا استعفی انٹرنیشنل میڈیا کے تجسس کو ابھار دیتا۔
ای میل کا جواب سالار کو ایک تنبیہہ کی شکل میں دیا گیا تھا۔ جو سادہ الفاظ میں خاموش ہو جانے کی تاکید کی تھی۔
بنک نے نہ صرف اس ای میل میں ہونے والے اسکے تجزیہ کو ناپسند کیا تھا بلکہ پیٹرس ایباکا کی فراہم کردہ معلومات پر گارڈین میں شائع ہونے والی کور سٹوری کا ملبہ بھی اس کے سر پر ڈالتے ہوئے اسے ایباکا اور اس کور اسٹوری میں استعمال ہونے والی معلومات کا ذریعہ قرار دیا گیا ۔۔۔۔
یہ الزام سالار سکندر کے فروفیشنل کام پر ایک دھبہ تھا۔ پیٹرس ایباکا سے ہمدردی رکھنے، متاثر ہونے اور میل جول رکھنے کے باوجود سالار نے اسے بنک کے کسی انفارمیشن یا دستاویزات کی بات بھی نہیں کی تھی۔ ایباکا نے ساری معلومات کہاں سے لی تھی وہ ایباکا کے علاوہ اور کوئ نہیں جانتا تھا۔ اس تنبیہ کے جواب میں سالار نے بنک کو اپنے استعفی کی پیشکش کی تھی۔ اسے اب یہ محسوس ہوا کہ اسے مانیٹر کیا جاتا تھا۔ اسکی فون کالز ٹیپ ہورہی تھی۔اور اسکی ای میلز ہیک ہورہی تھی۔دنوں میں اسکے آفس کا ماحول تبدیل ہوگیا تھا ۔۔اس نے بنک کی ناراضی اور ہدایات کے باوجود ایباکا سے نہ تو اپنا میل جول ختم کیا نہ ہی رابطہ۔۔۔
استعفی کی پیشکش کیساتھ اس نے بنک کو کانگو میں چلنے والے جنگلات پراجیکٹ کے خلاف اپنی تفصیلی رپورٹ بھی بھیجی تھی جو سالار کی اپنی معلومات تھی۔اور توقع کے مطابق انہیں واشنگٹن طلب کر لیا گیا تھا۔
امامہ کو اس ساری صورت حال کے بارے میں کچھ علم نہیں تھا۔ وہ امید سے تھی اور سالار اسے اس ٹینشن کا حصہ دار نہیں بنانا چاہتا تھا جس سے وہ گزر رہا تھا۔۔۔ وہ صرف ایباکا اوراسکے جدوجہد کے بارے میں جانتی تھی۔
امامہ کو صحیح معنوں میں تشویش تب ہوئی جب اس نے میڈیا میں سالار سکندر کا نام بھی نمودار ہوتے دیکھا جسکے بارے میں میڈیا کہہ رہا تھا کہ وہ اس پراجیکٹ کے حوالے سے ہیڈ آفس کو اختلافی رپورٹ دے چکا تھا۔
اور انہیں حالات میں اچانک واشنگٹن سے اسکا بلاوا آگیا تھا اور یہ وہ وزٹ تھا جس پر امامہ نے آخر اس سے پوچھ ہی لیا۔
سب کچھ ٹھیک ہے سالار؟؟ وہ اس رات سالار کی پیکنگ کر رہی تھی۔ جب اس نے اچانک پوچھا۔۔ وہ اپنا بریف کیس تیار کر رہا تھا۔
ہاں یار! تم کیوں پوچھ رہی ہو؟؟ سالار نے جواباً اس سے پوچھا۔
تم واشنگٹن کیوں جا رہے ہو؟؟ وہ اپنے خدشوں کو کسی مناسب سوال کی شکل میں نہ ڈھال سکی۔
میٹنگ ہے۔۔اور میں تو اکثر آتا جاتا رہتا ہوں اس بار تم اس طرح سوال کیوں کر رہی ہو۔اس نے اپنا بریف کیس بند کر کے امامہ سے کہا۔
پہلے کبھی تم اتنے پریشان نہیں لگے۔
نہیں۔۔۔ایسی کوئ بڑی پریشانی نہیں ہے۔ بس شاید یہ ہوگا کہ مجھے اپنی جاب چھوڑنی پڑے گی۔امامہ کے کندھے ہر ہاتھ رکھ کر اس نے ممکنہ حد تک اپنا لہجہ نارمل رکھنے کی کوشش کی۔ اس بار بھونچکا ہونے کی باری امامہ کی تھی۔
جاب چھوڑنی پڑے گی؟؟ تم تو اپنی جاب سے بہت خوش تھے۔۔وہ حیران نہ ہوتی تو کیا ہوتی۔
تھا۔۔۔۔لیکن اب نہیں ہوں۔۔۔۔۔۔۔سالار نے مختصراً کہا۔کچھ مسئلے ہیں، تمہیں آکر بتاؤں گا۔ تم اپنا اور بچوں کا خیال رکھنا ۔۔کہاں ہیں دونوں؟؟
سالار نے بات بڑی سہولت سے بدل دی تھی۔ایک لمحے کو اسے خیال آیا کہ ان حالات میں اسے اہنے بچوں اور امامہ کو کنشاسا میں اکیلا چھوڑ کر نہیں جانا چاہیئے۔لیکن حل کیا تھا اسکے پاس۔امامہ کی پریگنینسی کے آخری مراحل چل رہے تھے ۔وہ ہوائی جہاز کا سفر نہیں کر سکتی تھی۔۔
تم اپنا اور بچوں کا خیال رکھنا۔میں صرف تین دن کے لیئے جارہا ہوں۔ جلدی واپس آؤں گا۔وہ اب بچوں کے کمرے میں سوئے ہوئے جبریل اور عنایہ کو پیار کر رہا تھا۔ اسکی فلائٹ چند گھنٹوں بعد تھی۔
ملازمہ کو اپنے پاس گھر پہ رکھنا میری غیر موجودگی میں۔۔اس نے امامہ کو ہدایت کرتے ہوئے کہا۔
تم ہماری فکر مت کرو۔ تین دن کی ہی تو بات ہے تم صرف اپنی میٹنگ کو دیکھو۔ آئی ہوپ وہ ٹھیک رہے. امامہ کو اس وقت تشویش اس میٹنگ کی تھی۔
اسے آدھے گھنٹے میں نکلنا تھا اسکا سامان پیک تھا۔وہ دونوں چائے کا ایک آخری کپ پینے کے لیے لاؤنج میں ساتھ بیٹھے تھے۔اور اس وقت چائے کا پہلا گھونٹ پینے سے پہلے سالار نے اس سے کہا۔
میں تم سے محبت کرتا ہوں اور ھمیشہ کرتا رہوں گا۔۔۔
امامہ اپنی چائے اٹھاتے ہوئے ٹھٹکی، پھر ہنسی ۔۔۔
آج بہت عرصہ بعد تم نے کہیں جانے سے پہلے ایسی کوئ بات کہی ہے ۔۔خیریت ہے۔؟؟
وہ اب اسکا ہاتھ تھپک رہی تھی۔سالار نے مسکرا کر چائے کا کپ اٹھا لیا۔
ہاں خیریت ہے لیکن تمہیں اکیلا چھوڑ کر جارہا ہوں اس لیئے فکرمند ہوں۔۔۔۔۔
اکیلی تو نہیں ہوں میں۔۔۔۔جبریل اور عنایہ میرے ساتھ ہے۔ تم پریشان مت ہونا۔۔۔۔۔
سالار چائے کا گھونٹ بھرتا رہا امامہ بھی چائے پینے لگی۔ لیکن اسے یہ محسوس ہوا جیسے وہ اس سے کچھ کہنا چاہتا تھا۔۔۔
تم مجھ سے کچھ پوچھنا چاہتے ہو؟ وہ پوچھے بنا نہ رہ سکی۔۔وہ چائے پیتے ہوئے چونکا پھر مسکرایا۔۔
وہ ھمیشہ اسے بوجھ لیتی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک اعتراف کرنا چاہتا ہوں لیکن ابھی نہیں کروں گا واپس آکر کروں گا۔۔۔اس نے چائے کا کپ رکھتے ہوئے کہا۔
مجھے تمہاری یہ عادت سخت ناپسند ہے۔۔۔۔۔۔ہر دفعہ کہیں جاتے ہوئے مجھے الجھا جاتے ہو۔ میں سوچتی رہوں گی کہ پتا نہیں کیا اعتراف کرنا ہے۔۔
امامہ نے ھمیشہ کی طرح برا مانا تھا اور اسکا گلہ غلط نہیں تھا۔وہ ہمیشہ ایسا ہی کرتا تھا ۔اور جان بوجھ کر کرتا تھا۔۔
اچھا دوبارہ کبھی نہیں کروں گا ۔۔وہ ہنستے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا۔۔اس کے جانے کا وقت ہو رہا تھا۔۔بازو پھیلائے وہ ہمیشہ کی طرح جانے سے پہلے امامہ سے آخری بار مل رہا تھا۔۔ہمیشہ کی طرح گرمجوش معانقہ۔
آئ ول مس یو۔۔جلدی آنا۔۔وہ ہمیشہ کی طرح جذباتی ہوئ تھی اور وہی کلمات دہرائے تھے۔۔جو وہ ہمیشہ دہراتی تھی۔
پورچ میں کھڑے ایک آخری بار اس کو خدا حافظ کہنے کے لیئے اس نے الوداعیہ انداز میں سالار کی گاڑی کے چلتے ہی ہاتھ ہلایا تھا۔۔گاڑی تیز رفتاری سے طویل پورچ کو عبور کرتے ہوئے کھلے ہوئے گیٹ سے باہر نکل گئ۔امامہ کو لگا تھا وقت اور زندگی دونوں تھم گئے تھے۔۔وہ جب کہیں چلا جاتا وہ اسی کیفیت سے دوچار ہوتی ۔۔۔۔
*********———-*******
وہ اس وقت نیویارک میں تھی۔ اسکے ہاں پہلا بچہ ہونے والا تھا۔وہ ساتویں آسمان پر تھی کیونکہ جنت اسکے پیروں کے نیچے آنے والی تھی نعمتیں ہی تھی کہ گنی نہیں جارہی تھی۔ تیسرا مہینہ تھا اسکی پریگنینسی کا جب سالار نے ایک رات اسے نیند سے جگا دیا تھا۔ وہ سمجھ نہیں پائ تھی کہ سالار نے اسے نیند سے جگا کر کیا بتانے کی کوشش کی تھی۔اور یہیں کیفیت سالار کی بھی تھی اسکی سمجھ میں نہیں آرہا تھا۔کہ وہ اسے کن الفاظ میں اتنے بڑے نقصان کی اطلاع دے۔ اس سے پہلے سکندر اور وہ یہیں ڈسکس کر رہے تھے۔کہ امامہ کو اطلاع دینی چاہیئے یا اس حالت میں اس سے یہ خبر چھپانی چاہیئے۔۔
سکندر کا خیال تھا کہ امامہ کو ابھی نہیں بتانا چاہئیے لیکن سالار کا فیصلہ تھا کہ وہ اس سے اتنی بڑی خبر چھپا کر ساری عمر کے لیے اسے کسی رنج میں مبتلا نہیں کرسکتا۔۔۔۔۔وہ وسیم سے ویسے بھی رابطے میں تھی۔اسے ویسے بھی ایک آدھ دن میں اطلاع مل جاتی۔ وہ دونوں قادیانوں کی ایک عبادت گاہ پر ہونے والی فائرنگ میں درجنوں دوسرے لوگوں کی طرح مارے گئے تھے اور امامہ چند گھنٹوں پہلے یہ نیوز دیکھ چکی تھی وہ اس جانی نقصان پر رنجیدہ بھی ہوئ تھی۔ایک انسان کے طور پر۔مگر اسکے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ ان لوگوں میں اس کے دو اتنے قریبی لوگ بھی شامل ہوسکتے ہیں۔۔اسے شبہ ہوتا بھی کیسے۔۔وہ اسلام آباد کی عبادت گاہ نہیں تھی کسی اور شہر کی تھی سعد اور وسیم وہاں کیسے جاسکتے ہیں۔اور وسیم تو اپنی عبادت گاہ بھی بہت کم جاتا تھا۔۔۔بے یقینی اس لیے بھی تھی کیونکہ ایک ہفتہ بعد وہ اور سعد نیویارک آنے والے تھے وہ دس سال بعد سعد سے مل رہی تھی ۔۔۔بے یقینی اس لیئے بھی تھی کیونکہ وسیم نے وعدہ کیا تھا کہ وہ اپنے عقائد سے تائب ہوجائے گا۔اور وہ سعد کو بھی سمجھائے گا جو اس سے زیادہ کٹر تھا اپنے عقائد میں ۔ ۔۔ایک دن پہلے تو اس نے وسیم سے بات کی تھی۔۔۔
اور سالار۔۔۔وہ کیا کہہ رہا تھا ۔۔۔کیا وہ پاگل ہوگیا تھا۔یا وہ کوئی ڈراؤنا خواب دیکھ رہی تھی۔
وہ صبر نہیں تھا۔۔وہ شاک بھی نہیں تھا۔۔وہ بے یقینی تھی۔۔سالار کو اندازہ تھا مگر وہ یہ نہیں سمجھ رہا تھا کہ اسے اس انکشاف کے بعد اس سے کیسے نکالے۔۔۔
وہ کئی گھنٹے گم صم، آنسو بہائے بغیر سالار کے کسی سوال اور بات کا جواب دیئے بغیر ایک بت کی طرح وہی بستر پہ بیٹھی رہی، یوں جیسے انسان نہیں برف کی سل بن گئ تھی۔۔اسکی حالت کو دیکھ کر سالار کو شدید پچھتاوا ہوا کہ اس نے سکندر کی بات نہ مان کر غلطی کردی ہے۔۔سالار اپنے ڈاکٹر کزن کو بلا لایا تھا گھر پر ہی اسے دیکھنے۔۔۔
اس کے بعد کیا ہوا تھا امامہ کو ٹھیک سے یاد نہیں۔۔سالار کو لمحہ لمحہ یاد تھا۔وہ کئ ہفتے اس نے اسے پاگل پن کی سرحد پر جاتے اور وہاں سے پلٹتے دیکھا۔وہ چپ ہوتی تو کئ کئ دن چپ رہتی، روتی تو گھنٹوں روتی، سوتی تو پورا دن اور رات آنکھیں نہیں کھولتی اور جاگتی تو دو، دو دن بستر پر چند لمحوں کے لیئے بھی لیٹے بغیر، لاؤنج سے بیڈروم اور بیڈروم سے لاؤنج کے چکر کاٹتے کاٹتے اپنے پاؤں سجالیتی۔۔۔یہ صرف ایک معجزہ تھا کہ اسکی ذہنی حالت اور کیفیت میں بھی جبریل کو کچھ نہیں ہوا تھا۔ وہ جیسے یہ فراموش ہی کر بیٹھی تھی کہ اسکے اندر ایک اور زندگی پرورش پا رہی تھی۔۔۔
اور وحشت جب کچھ کم ہوئ تو اس نے سالار سے پاکستان جانے کا کہا۔اسے اپنے گھر جانا تھا ۔۔سالار نے اس سے یہ سوال نہیں کیا تھا کہ وہ کس گھر کو اپنا گھر کہہ رہی ہے ۔۔اس نے خاموشی سے دو سیٹیں بک کروالی تھی۔۔۔۔
مجھے اسلام آباد جانا ہے۔ اس نے سالار کے پوچھنے پر کہا تو اس نے بحث نہیں کی تھی۔اگر اسکے گھر والوں سے ملاقات اسکو نارمل کر دیتی تو وہ اس ملاقات کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتا تھا
ہاشم مبین انکے ہمسائے تھے۔انکے گھر آنے والی قیامت سے سالار کا خاندان بے خبر نہیں تھا۔۔مذہب کا فرق تھا۔۔خاندانی اختلافات تھے، دشمنی تھی لیکن اس کے باوجود انکی یہ خواہش کبھی نہ تھی کہ ہاشم مبین کیساتھ ایسا ہوتا۔۔بڑھاپے میں دو بیٹوں کی موت کیسا صدمہ تھا، سکندر اندازہ کرسکتے تھے۔۔وہ خود باپ تھے۔انہوں نے ہاشم مبین کے گھر جا کر ان سے تعزیت کی تھی۔اس صدمے میں بھی بہت سرد مہری سے ہاشم مبین نے اسکی تعزیت قبول کی تھی۔
سکندر کو امید نہیں تھی کہ وہ امامہ سے ملیں گے۔ اس نے سالار سے اپنی خدشات کا اظہار ضرور کیا تھا لیکن امامہ کو جس حالت میں انہوں نے دیکھا تھا وہ سالار کو ایک کوشش کرنے سے روک نہ سکے تھے۔۔انہیں امامہ کو دیکھ کر دلی رنج ہوا۔ ہاشم مبین نے نہ صرف فون پر سکندر سے بات کرنے سے انکار کیا تھا بلکہ سالار کو گھر پر گیٹ سے اندر جانے نہیں دیا۔سکندر اور وہ دونوں مایوسی کے عالم میں واپس آگئے۔امامہ کی سمجھ میں اس کی مایوسی اور بے بسی نہ آسکی تھی۔
سالار اسکے سامنے بے بس تھا لیکن پہلی بار اس نے امامہ کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے تھے۔۔
تمہیں اگر اپنے گھر جانا ہے تو پہلے اپنے باپ سے بات کر لو وہ اجازت دے تو پھر میں تمہارے ساتھ چلوں گا۔لیکن میں تمہیں بغیر اجازت کے وہاں گیٹ پر گارڈز کے ہاتھوں ذلیل ہونے کے لیے نہیں بھیج سکتا۔۔
اسکے رونے اور گڑگڑانے کے باوجود سالار نہیں پگھلا تھا۔امامہ نے اپنے باپ سے فون پر بات کر کے اجازت لے لی تھی۔مگر اس فون کال نے سب کچھ بدل دیا۔جو چیز سالار اسے نہیں سمجھا سکا تھا وہ ہاشم مبین نے اس کو سمجھا دی تھی۔
یہ جو کچھ ہوا ہے تمہاری وجہ سے ہوا ہے تم جن لوگوں کیساتھ بیٹھی ہو انہی لوگوں نے جان لی ہے میرے دونوں بیٹوں کی۔ اور تم اب میرے گھر آنا چاہتی ہو۔قاتلوں کیساتھ میرے گھر آنا چاہتی ہو۔وہ ہذیانی انداز میں چلاتے اور گالیاں دیتے رہے۔۔
تم لوگ۔۔۔اور ہم لوگ۔۔فرق کتنا بڑا تھا امامہ کو یاد آگیا تھا۔ ہاشم مبین کی مزید کوئ بات سننے سے پہلے اس نے فون بند کردیا۔اسکے بعد وہ بلک بلک کر روئ تھی۔اس گھر میں صرف وسیم اسکا تھااور وسیم جاچکا تھا۔
وہ سالار کیساتھ واپس نیو یارک آگئ تھی۔ وہ سمجھ رہا تھا وہ نارمل ہوگئ تھی آہستہ آہستہ ٹھیک ہوجائے گی۔لیکن ایسا نہ ہوا وہاں کی تنہائ نے امامہ کے اعصاب کو مفلوج کرنا شروع کیا۔سالار پی ایچ ڈی کر رہا تھا اور ساتھ ہی ایک آرگنائزیشن میں پارٹ ٹائم کام کرتا تھا۔وہ صبح پانچ بجے گھر سے نکلتا تھااور رات کو آٹھ، نو بجے اسکی واپسی ہوتی تھی اور وہ واپسی پہ اتنا تھکا ہوا ہوتا تھا کہ ایک دو گھنٹہ ٹی وی دیکھ کر کھانا کھا کر سو جاتا ۔۔امامہ بارہ چودہ گھنٹے ایک بیڈروم کے آٹھویں منزل کے اس اپارٹمنٹ میں بالکل تنہا ہوتی تھی۔۔۔وسیم اسکے ذہن سے نہیں نکلتا تھا وہ روز اپنے فون میں موجود اسکے اور اپنے میسجز کو جو سینکڑوں کی تعداد میں ہوتے پڑھنا شروع کر دیتی اور پھر گھنٹوں اسی میں گزار دیتی ۔۔تسلی دلاسا اور دل جوئ کے لیئے سالار جو کر سکتا تھا، کرچکا تھا۔
وہ صبح سویرے گھر سے اسکے بارے میں سوچتے ہوئے نکلتا اور رات کو جب گھر واپس آتا تو بھی اسی کے بارے میں سوچ رہا ہوتا۔ امامہ کی ذہنی کیفیت نے جیسے اسکے اعصاب شل کرنا شروع کر دیئے۔جبریل کی پیدائش میں ابھی بہت وقت تھا۔اور وہ اسے اس جہنم سے نکالنا چاہتا تھا۔جس میں وہ ہر وقت نظر آتی تھی۔
سائکاٹرسٹ اسکی پریگنینسی کی وجہ سے اس کو تیز دوائیاں نہیں دے رہے تھے۔
اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہونے سے پہلے ہی ایک رات امامہ نے کہا تھا۔۔۔۔۔
مجھے پاکستان جانا ہے۔
کیوں؟؟ سالار کو اپنا سوال خود بے تکا لگا۔
پھر اس نے جو کہا تھا اس نے سالار کا دماغ بھک سے اڑا دیا۔
کل میں نے وسیم کو دیکھا۔ وہاں کچن کاؤنٹر کے پاس، وہ پانی پی رہا تھا۔۔۔بات کرتے ہوئے اسکی آواز بھرائ
مجھے لگتا ہے میں کچھ عرصہ اور یہاں رہوں گی تو پاگل یوجاؤں گی ۔یا شاید ہونا شروع ہوچکی ہوں اور میں ایسا نہیں چاہتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹھیک ہے، ہم واپس چلے جاتے ہیں مجھے صرف چند ہفتے دے دو سب کچھ وائنڈ اپ کرنے کے لیئے۔۔سالار نے لمحوں میں فیصلہ کیا تھا۔اسکا چہرہ دیکھتے ہوئے امامہ نے نفی میں سر ہلایا۔
تم پی ایچ ڈی کر رہے ہو۔ تم کیسے جاسکتے ہو میرے ساتھ۔۔
میں پی ایچ ڈی چھوڑ دوں گا۔۔ڈاکٹریٹ کی ڈگری ضروری نہیں، تم اور تمہاری زندگی ضروری ہے۔۔۔۔۔سالار نے جواباً کہا۔۔۔۔
کچھ کہنے کی کوشش میں امامہ کی آواز بھرائ وہ کہہ نہ پائ اس نے دوبارہ بولنے کی کوشش کی اور اس بار وہ بلک بلک کر رونے لگی تھی۔
نہیں تم ساتھ نہیں آؤ گے۔۔یہ کیوں ضروری ہے کہ ساری زندگی تم قربانیاں ہی دیتے رہو میرے لیئے۔۔۔اب پی ایچ ڈی چھوڑ دو۔۔۔اپنا کیرئیر چھوڑو۔۔تمہاری زندگی ہے۔ قیمتی ہے تمہارا وقت، تم کیوں اپنی زندگی کے اتنے قیمتی سال میرے لیئے ضائع کرو۔۔۔
سالار نے کچھ کہنے کی کوشش کی۔ کوئ اور موقع ہوتا تو اسکا یہ اعتراف اسکو خوشی دیتا لیکن اب اسے تکلیف دے رہی تھی۔۔وہ روتے ہوئے اسی طرح کہہ رہی تھی۔ ۔۔۔آئی ایم ناٹ سوٹیبل فار یو۔۔۔۔جتنا سوچتی ہوں مجھے یہی احساس ہوتا ہے تمہارا ایک برائٹ فیوچر ہے لیکن میرا وجود تمہاری ترقی کے راستے میں رکاوٹ ہے۔ مجھے احساس جرم ہوتا ہے ۔
وہ چپ چاپ اسکا چہرہ دیکھ رہا تھا وہ رو رہی تھی اور بول رہی تھی۔میں تم سے بہت شرمندہ ہوں لیکن میں بے بس ہوں، میں کوشش کے باوجود بھی اپنے آپ کو نارمل نہیں رکھ پاتی۔۔۔۔اور اب۔۔۔وسیم کو دیکھنے کے بعد تو میں اور بھی.۔۔۔۔۔۔اور بھی۔۔۔۔۔۔وہ بولتے بولتے رک گئ۔۔صرف اسکے آنسو اور ہچکیاں نہیں تھمی تھی۔۔۔
سالار تم بہت اچھے انسان ہو، بہت اچھے ہو، تم بہت قابل ہو۔۔۔۔۔تم مجھ سے بہتر عورت ڈیزرو کرتے ہو، میں نہیں ۔۔ تمہیں ایسی عورت ملنی چاہیئے جو تمہارے جیسی ہو۔۔تمہیں زندگی میں آگے بڑھنے میں سپورٹ کرے، میری طرح تمہارے پاؤں کی بیڑی نہ بنے۔۔
اور یہ سب کچھ تم آج کہہ رہی ہو جب ھم اپنا پہلا بچہ ایکسپیکٹ کر رہے ہیں؟؟
مجھے لگتا ہے یہ بچہ بھی مر جائے گا۔ اس نے عجیب بات کہی تھی۔۔۔سالار نے اسکا ہاتھ پکڑنے کی کوشش کی۔ اس نے ہاتھ چھڑا لیا۔۔۔
تم کیوں اس طرح سوچ رہی ہو ۔۔اسے کچھ نہیں ہوگا سالار پتا نہیں کس کو تسلی دینا چاہتا تھا۔ لیکن اس وقت امامہ سے زیادہ اسکی حالت قابل رحم ہو رہی تھی۔۔
تم بس مجھے پاکستان بھیج دو۔۔ امامہ نے اسکی بات کے جواب میں کچھ نہیں کہا۔۔۔اس نے ایک بار پھر وہی مطالبہ دہرایا تھا۔
میں تمہیں اسلام آباد نہیں بھیجوں گا۔۔سالار نے دو ٹوک انداز میں کہا۔
مجھے وہاں جانا بھی نہیں۔۔۔میں سعیدہ اماں کے پاس رہ لوں گی۔وہ اسکی بات پر حیران ہوا تھا۔سعیدہ اماں نہیں، تم ڈاکٹر صاحب کے پاس چلی جاؤ اگر وہاں رہنے پر تیار ہو تو میں تمہیں بھیج دیتا ہوں۔۔سالار نے کچھ سوچ کر کہا۔
ٹھیک ہے مجھے انہیں کے پاس بھیج دو۔۔۔وہ تیار ہوگئ تھی۔۔۔
اگر تم وہاں جا کر خوش رہ سکتی ہو تو ٹھیک ہے ۔۔واپس کب آؤ گی؟؟
وہ خاموش رہی۔۔۔
واپس آجانا۔۔۔اس کی لمبی خاموشی کو سالار نے مختصر زبان دی تھی۔۔ مشورہ نہیں تھا۔منت تھی۔خواہش نہیں تھی، بے بسی تھی۔۔۔امامہ نے اسکی بات خاموشی سے سن کر خاموشی سے ہی اسکا جواب دیا۔
وہ ایک ہفتہ بعد پاکستان واپس چلی آئ تھی اور جیسے کسی قید سے چھوٹ آئ تھی۔ وہ واپس نہ آنے کے لیئے جارہی تھی سالار کو اسکا احساس اسکی ہر ہر حرکت سے ہو رہا تھا۔ لیکن وہ پھر بھی اسے جانے دینا چاہتا تھا۔اگر دوری سے وہ صحت یاب ہوسکتی تھی تو دور ہوجائے لیکن وہ ٹھیک ہوجائے۔۔۔چار مہینے اور گزرتے تو اسکی اولاد دنیا میں آجاتی۔اور وہ اسکی بقا بھی چاہتا تھا اور ہمت بھی اپنی جانتا تھا جو آہستہ آہستہ ختم ہو رہی تھی۔وہ ڈپریشن امامہ کے وجود سے جیسے اسکے وجود میں داخل ہونے لگا تھا۔۔۔
جس شام اسکی فلائٹ تھی۔ وہ ایک بار پھر دل گرفتہ ہورہا تھا اسے لگا اب وہ گھر ٹوٹنے والا تھا جسے اس نے بہت مشکل سے بنایا تھا۔۔امامہ بھی خاموش تھی لیکن پتا نہیں کیوں سالار کو وہ پرسکون لگی۔۔پر سکون، مطمئن۔۔خوش۔۔وہ اسکے چہرے کی کتاب پر اس دن یہ نہیں پڑھنا چاہتا تھا۔۔
مت جاؤ۔۔۔۔۔وہ ٹیکسی کے آنے پر اسکا بیگ اٹھا کر لاؤنج میں لے آیا تھا۔۔وہ اپنا ہینڈ کیری کھینچتے ہوئے اس کے پیچھے آئ تھی۔۔اور وہ بھی دوسرے سامان کی طرح سالار کو تھمانے کی کوشش کی، جب سالار نے اسکا ہاتھ تھام لیا۔۔اس نے خلاف توقع ہاتھ نہیں کھینچا تھا بس ہاتھ، اسکے ہاتھ میں رہنے دیا تھا۔۔بہت دیر سالار اسکا ہاتھ یوں ہی پکڑے رہا تھا پھر اس نے بہت دل گرفتگی سے اسکا ہاتھ چھوڑ دیا تھا۔وہ لمس امامہ کیساتھ آیا تھا۔ اس قید سے آزاد ہونے کے بعد بھی اسے بے قرار کرتا تھا۔وہ کئ سال بعد ایک دفعہ پھر ڈاکٹر سبط علی کے گھر پناہ لینے آئ تھی۔اور اس بار بھی پناہ مل گئ۔ ڈاکٹر صاحب اور اسکی بیوی اسکی ذہنی حالت سے واقف تھے۔کچھ دنوں کے لیئے امامہ نے یوں محسوس کیا تھا جیسے وہ کسی قید تنہائی سے نکل آئ تھی۔ مگر یہ کیفیت بھی وقتی تھی۔سکون یہاں بھی نہیں تھا۔۔۔سالار اسے روز فون کرتا تھا کبھی وہ ریسیو کر لیتی اور کبھی نہیں۔۔۔کبھی وہ اس سے لمبی بات کرتی، کبھی مختصر۔۔
******
پتہ نہیں کتنے دن تھے جو اس نے اسی طرح گزارے ۔
نہر کے کنارے اونچے لمبے درخت ہوا سے ہلتے تو انکے پتوں سے سورج کی کرنیں چھن چھن کر نہر کے پانی پر پڑتی لحظہ بھر کے لیئے اسے روشن کرتی غائب ہوتی۔۔۔
بس ایک لمحہ تھا جب اس نے سوچا کہ اسے اس پانی میں اترنا چاہئیے۔۔ اس سے پہلے کہ وہ قدم اٹھاتی کسی عورت کی آواز پر ٹھٹک گئ تھی۔۔۔
یہ ذرا گٹھا تو بندھوا دے میرے ساتھ بٹیا۔۔
وہ ایک ستر، اسی سالہ بوڑھی عورت تھی۔جو ایندھن کے لیے وہاں درختوں کی خشک لکڑیاں چننے کے بعد اسے ایک چادر نما کپڑے میں باندھ رہی تھی۔۔اس نے کچھ کہے بنا نہر کے کنارے سے ہٹتے ہوئے اسکی طرف قدم بڑھا دیے۔۔ گٹھا اتنا بڑا تھا کہ اسے یقین نہیں تھا کہ وہ اسکو اپنے سر پر اٹھا لے گی لیکن اس نے امامہ کی مدد سے وہ گھٹا بڑی آرام سے سر پر اٹھا لیا۔۔
ذرا میری بکری کی رسی مجھے پکڑانا۔۔امامہ کو تامل ہوا لیکن پھر اس نے جا کر تھوڑی بہت جدوجہد کے بعد اس بکری کی رسی پکڑ ہی لی تھی۔
آپ چلیں میں ساتھ چلتی ہوں۔۔کہاں جانا ہے آپکو۔۔
بس یہ یہاں آگے ہی جانا ہے، سڑک کے دوسری طرف۔بوڑھی عورت نے سڑک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اسے بتایا ۔۔
امامہ بکری کی رسی کھینچتی ہوئ، چپ چاپ اسکے پیچھے چل پڑی۔
سڑک پار کرتے ہی امامہ کو دس بیس کے قریب وہ جھگیاں نظر آگئ جنہیں اماں اپنا گھر کہتی تھی۔ وہ کچھ تامل کے بعد ایسی ہی ایک جھگی میں اماں کے پیچھے چلتی ہوئ داخل ہوئ۔
اس نے احاطے کے ایک کونے میں سر پر لادا ہوا گٹھرا اتار پھینکا تھا ۔۔ایک چولہے پر مٹی کی ایک ہنڈیا چڑھی ہوئ تھی۔وہاں ایک آسودہ سی حرارت تھی جیسے وہ کسی گرم آغوش میں آگئ تھی۔
اری تو کھڑی کیوں ہے اب تک۔۔بیٹھ کر دم تو لے۔ میری خاطر کتنا چلنا پڑ گیا تجھے۔میں نے کہا بھی تھا میں لے جاتی ہوں بکری کو، میرا تو روز کا کام ہے۔ پر تُو تو شہر کی کُڑی ہے تجھ سے کہاں ہوتی ہے کوئ مشقت۔۔۔
اس نے کچھ فاصلے ہر ہڑی چوکی کو اسکی طرف کھسکایا۔
میں بھی مشقت ہی کاٹتی آئی ہوں اماں۔۔یہ مشقت تو کچھ بھی نہیں۔۔۔
امامہ اس سے کہتے ہوئے آگے بڑھ آئ تھی۔۔وہ بوڑھی عورت ہنس پڑی۔۔۔
بس مجھے مشقت نہیں لگتی۔۔۔تجھے لگتی ہے۔۔یہی تو فرق ہے۔۔
امامہ اس کا چہرہ دیکھنے لگی وہ اس حلیے اور اس جگہ رہنے والی عورت سے ایسی بات کی توقع نہیں رکھتی تھی۔
آدمی کیا کرتا ہے تیرا؟؟ وہ اماں کے اس سوال پر اچانک چونکی۔۔۔
کیا کرتا ہے؟ اس نے جیسے یاد کرنے کی کوشش کی۔۔کام کرتا ہے۔
کیا کام کرتا ہے۔۔؟ اماں نے پھر پوچھا۔۔
باہر کام کرتا ہے۔۔وہ بڑبڑائ۔۔
پردیس میں ہے؟ بوڑھی عورت نے پوچھا۔
ہاں۔۔۔وہ اسی طرح ساگ کو دیکھتے ہوئے بولی۔
تُو یہاں کس کے پاس ہے؟ سسرال والوں کے پاس؟؟
نہیں۔۔۔۔۔۔۔
پھر؟؟؟
میں کسی کےپاس نہیں۔۔۔
آدمی نے گھر سے نکال دیا کیا۔۔اس نے چونک کر اماں کا چہرہ دیکھا۔
نہیں۔۔۔۔۔۔
تو پھر لڑ کر آئی ہے کیا؟؟
نہیں۔۔اس نے بے ساختہ سر ہلادیا۔۔
تو پھر یہاں کس لیے آئ ہے؟؟
سکون کے لیئے۔۔اس نے بے اختیار کہا۔۔
سکون کہیں نہیں ہے۔۔وہ اس عورت کا چہرہ دیکھنے لگی۔
جو چیز دنیا میں ہے ہی نہیں، اسے دنیا میں کیا ڈھونڈنا۔۔اس نے حیرت سے اس عورت کو دیکھا۔وہ گہری بات کر گئ تھی۔
پھر بندہ رہے کیوں دنیا میں، اگر بے سکون ہی رہنا ہے۔۔وہ اس سے یہ سوال نہیں پوچھنا چاہتی تھی جو پوچھ لیا تھا۔
تو پھر کہاں رہے؟؟ وہ لاجواب ہوئ۔
تیرا آدمی کہتا نہیں، واپس آنے کو؟
پہلے کہتا تھا، اب نہیں کہتا۔
بیچارہ اکیلا ہے وہاں؟؟
وہ ایک لمحے کے لیئے ٹھٹکی۔ہاں۔۔اس نے مدھم آواز میں کہا۔
تُو اکیلا چھوڑ کر آگئ اسے؟ اس نے جیسے افسوس کیا تھا۔
تجھ سے پیار نہیں کرتا تھا؟؟ وہ ایک لمحہ کے لیے ساکت ہوئ۔
کرتا تھا۔۔اسکی آواز بے حد مدھم تھی۔۔
خیال نہیں رکھتا تھا؟ ۔
رکھتا تھا۔۔۔آواز اور بھی مدھم ہوتی گئ۔۔
روٹی کپڑا نہیں دیتا تھا؟؟
دیتا تھا۔ وہ اپنی آواز بمشکل سن پائ۔۔
تو نے پھر بھی چھوڑ دیا اسے۔ تو نے بھی اللہ سے بندے والا معاملہ کیا اسکے ساتھ۔سب کچھ لیکر بھی دور ہوگئ اس سے۔
وہ بول نہ سکی۔
تجھے یہ ڈر بھی نہ لگا کہ کوئ دوسری عورت لے آئے گا وہ؟
نہیں۔۔۔۔
تجھے پیار نہیں ہے اس سے؟؟ کیا سوال آیا تھا۔
کبھی پیار کیا تھا؟؟ آنکھوں میں سیلاب آیا ۔
کیا تھا۔۔اس نے آنسوؤں کو بہنے دیا۔
پھر کیا ہوا۔۔
نہیں ملا۔۔سر جھکائے اس نے آگ میں کچھ لکڑیاں ڈالی۔
ملا نہیں یا اس نے چھوڑ دیا۔۔اس کے منہ میں جیسے ہری مرچ آئ۔۔
اس نے چھوڑ دیا۔۔
پیار نہیں کرتا ہو گا۔۔اماں نے بے ساختہ کہا۔۔۔
پیار کرتا تھا، لیکن انتظار نہیں کرسکتا تھا۔۔اس نے پتا نہیں کیوں صفائ دی اسکی۔
جو پیار کرتا ہے وہ انتظار کرتا ہے۔ جواب کھٹاک سے آیا تھا۔
اس آدمی کی وجہ سے گھر چھوڑ آئ اپنا؟؟
نہیں، بس وہاں بے سکونی تھی مجھے اس لیئے۔۔
کیا بے سکونی تھی۔۔وہ برستی آنکھوں کیساتھ بتاتی گئ۔۔۔
اماں چپ چاپ سنتی رہی۔ اسکے خاموش ہونے پر بھی وہ کچھ نہ بولی۔
وہاں نہر کنارے کیا کر رہی تھی/؟
بہت بزدل ہوں اماں ۔۔مرنے کے لیے نہیں کھڑی تھی۔
یعنی تم تو بڑی بہادر ہو۔ مجھ سے بھی زیادہ بہادر۔۔
نہیں میں تو بہت کمزور ہوں۔۔امامہ نے کہا۔
تجھے اپنی ہونے والی اولاد کا بھی خیال نہیں آتا۔پیار نہیں آتا اس پر۔۔۔اسکی آنکھیں ایک بار پھر برسنے لگی۔
کوئ اسطرح گھر چھوڑ کے آتا ہے جیسے تم چھوڑ کر آگئ۔۔۔۔مر جاتے ہیں بڑے بڑے پیارے مر جاتے ہیں پر کوئ ایک کے مرنے پر باقیوں کو چھوڑ دیتا ہے؟؟؟
میں اب کسی سے پیار نہیں کرنا چاہتی اماں۔۔۔میں جس سے بھی پیار کرتی ہوں وہ مجھ سے چھن جاتا ہے۔۔بار بار پیار کروں۔۔بار بار گنوا دوں۔۔میں اب اس تکلیف سے نہیں گزر سکتی۔۔
وہ روتی جارہی تھی۔۔
یہ تو نہیں، بلکہ یہ تو کوئ انسان بھی نہیں کرسکتا کہ اپنوں کو اس لیئے چھوڑ دے کہ اسکے بچھڑنے کی تکلیف سے بچ جائے۔ایک کا درد جھیل نہیں پا رہی ہو تو سب کو اکٹھا چھوڑ کر سہہ پاؤ گی؟؟ امامہ کے پاس جواب نہیں تھا۔۔
اس جھگی کے اندر میرا جوان بیٹا ہے ٹھہرو ذرا میں اسے لیکر آتی ہوں ۔۔
وہ عورت ایکدم اٹھ کر اندر چلی گئ۔چند منٹ کے بعد وہ ایک ریڑھی نما ٹرالی کو دھکیلتی ہوئ باہر لائ۔جس میں ایک دبلا پتلا مرد ایک بستر پر لیٹا ہوا قہقہے لگا رہا تھا۔ جیسے وہ ماں کی توجہ ملنے پر خوش ہو۔ وہ ذہنی اور جسمانی طور پہ معذور تھا۔
میرا اکلوتا بیٹا ہے یہ۔اڑتیس سال میں نے اسکے سہارے گزارے ہیں اللہ کے بعد۔
پانچ بیٹے پیدا ہوئے پر ختم ہوگئے۔ پپھر یہ پیدا ہوا تو شوہر نے کہا اسے کسی درگاہ پہ چھوڑ آتے ہیں۔میں نہیں پال سکتا ایسی اولاد کو۔۔پر میں کیسے مان سکتی تھی مجھے تو پیار ہی بڑا تھا اس سے۔۔
شوہر دو چار سال سمجھاتا رہا پر میں نہ مانی۔۔اللہ کی دی ہوئ چیز کو کیسے پھینک دیتی۔۔
شوہر کو بڑا پیار تھا مجھ سے، پر اسے اولاد بھی چاہیئے تھی۔وہ مرگیا تو ساری جائداد رشتہ داروں نے چھین لی بس بیٹا میرے پاس رہنے دیا۔یہ ٹھیک ہوتا تو یہ بھی چھین لیتے ۔۔اڑتیس سال سے اسکا اور میرا ساتھ ہے۔ اسکو شوہر کے کہنے پر درگاہ چھوڑ آتی تو میرا کیا ہوتا۔
کوئ بوجھ تھا جو امامہ کے کندھوں سے ہٹ رہا تھا۔کوئی سحر تھا جو ٹوٹ رہا تھا۔
جو وچھوڑا اللہ نے دیا اس پر صبر کر اور خود کسی کو وچھوڑا نہ دے۔اللہ پسند نہیں کرتا یہ۔
غم بہت بڑا تھا میرا اماں۔
اللہ نے تجھے غم دیا تم نے اپنے آدمی کو۔۔۔تو کونسا اپنا غم اپنے اندر رکھ کر بیٹھ گئ تھی۔
اسے سالار یاد آیا۔۔اسکی آنکھیں دھندلائ۔
اسکی محبت، اسکی عنایات یاد آئ اور اس اولاد کا خیال آیا جسے اس نے بڑی دعاؤں میں مانگا تھا اور جب دعا پوری ہوئ تو وہ کسی چیز کی قدر نہیں کر رہی تھی۔
وہ جانے سے پہلے ایک بار پھر اس بوڑھی عورت سے ملنے آئ تھی اسکے لیئے کچھ چیزیں لیکراسے بے حد کوشش کے باوجود نہ وہ جھگی ملی نہ وہ عورت۔
جبریل سکندر اپنی پیدائش سے بھی پہلے اپنی ماں کے بہت سارے رازوں کا امین تھا۔۔۔
••••**********
امریکہ کے ہسپتال کے نیورو سرجری کے ڈیپارٹمنٹ کے آپریشن تھیٹر میں ڈاکٹر جس شخص کا دماغ کھولے بیٹھے تھے۔ وہ آبادی کے اس 2.5 فیصد سے تعلق رکھتا تھا جو 150آئ کیو لیول رکھتے تھے۔اور اسکے ساتھ غیر معمولی صلاحیتوں کے مالک تھے۔۔۔
وہ آپریشن آٹھ گھنٹے سے ہو رہا تھا اور نجانے مزید کتنی دیر جاری رہنا تھا۔ڈاکٹرز کی اس ٹیم کو لیڈ کرنے والا ڈاکٹر دنیا کے قابل ترین سرجن میں سے ایک مانا جاتا تھا۔

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: