Aab e Hayat Novel by Umera Ahmed Read Online – Episode 24

0

آب حیات از عمیرہ احمد – قسط نمبر 24

–**–**–

واشنگٹن میں ورلڈ بنک کے ہیڈ کوارٹرز میں وہ سالار سکندر کی پہلی میٹنگ نہیں تھی وہ درجنوں بار وہاں آ جا چکا تھا۔ مگر اپنی زندگی میں وہ کبھی کسی بورڈ روم میں دماغ پر اتنا بوجھ لیکر نہیں بیٹھا تھا جتنا اس دن بیٹھا تھا۔
وہ فلائٹ کے دوران دو گھنٹے سویا تھا اور باقی کا وقت اس نے اس پریزنٹیشن کو بار بار دیکھتے اور اس میں تبدیلیاں اور اضافے کرتا گزارا جو وہ اس میٹنگ میں پیش کرنے آیا تھا۔ سالار کو سانپوں کے بل میں بیٹھ کر اس کا زہر نکالنے کی تجویز پیش کرنی تھی۔ اور اسے اپنی کامیابی یا ناکامی کے بارے میں کوئی خوش فہمی یا غلط فہمی نہیں تھی۔
اس کی فلائٹ واشنگٹن میں جس وقت پہنچی اس کے ٹھیک چار گھنٹے بعد ورلڈ بنک کے دربار میں اس کی حاضری تھی۔ وہ ایک بار پھر ہوٹل کے کمرے میں سوئے بغیر کاغذات کا وہ پلندہ دیکھتا رہا جو اسے پریزنٹیشن کے ساتھ بورڈ روم میں تقسیم کرنا تھے۔ان کاغذات کے ڈھیر کو اگر وہ کورٹ میں پیش کر دیتا تو وہ کیس جیت جاتا۔ لیکن سوال یہ تھا کہ دنیا میں ایسی کون سی عدالت تھی جو اس کیس کو سنتی۔ ایباکا عالمی عدالت انصاف میں جانے کے وسائل نہیں رکھتا تھا اور وہ ورلڈ بنک میں کام کرتا تھا۔ وہ اپنے پروفیشنل معاملات خفیہ رکھنے کا پابند تھا۔ اسے یہ معلوم بھی نہیں تھا کہ پیٹرس ایباکا اس وقت نیویارک کے ایک ہسپتال میں زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہا تھا۔
*********——-*********
اس بورڈ روم کا ماحول ویسا نہیں تھا جیسا اس نے ھمیشہ دیکھا تھا۔ سنجیدگی ہر بورڈروم کا حصہ ہوتی ہے لیکن جو اس نے اس دن وہاں دیکھی وہ سرد مہری تھی۔ وہاں بیٹھے سات کے سات لوگوں کے چہروں اور آنکھوں میں ایک جیسی سرد مہری تھی۔ایسی سرد مہری جو کسی بھی کمزور اعصاب کے انسان کو حواس باختہ کرنے کے لیے کافی تھی۔ بے تاثر چہرے اور اوسان خطا کرنے والی نظریں۔۔ ایک بیضوی شکل کی میز کے گرد ٹانگوں پر ٹانگیں رکھے وہ پانچ مرد اور دو عورتیں اس کام کے ماہر تھے جو وہ اس وقت کر رہے تھے۔ ورلڈ بنک کے سالار سکندر جیسے کئی باضمیر ایمپلائیز کا دھڑن تختہ کر چکے تھے۔ سالار سکندر انکے سامنے کیا شے تھا کم از کم اس میٹنگ کے آغاز سے پہلے وہ یہی سوچ کر آئے تھے۔
سالار سکندر نے میٹنگ کے آغاز میں اس میٹنگ کی سربراہی کرنے والے ہیڈ کے ابتدائی کلمات بڑے تحمل سے سنے تھے۔ وہ سالار سکندر کی نا اہلی، ناکامیوں اور کوتاہیوں کو ڈسکس کر رہے تھے ۔سالار نے باقی چھ لوگوں کی نظریں خود پر جمی محسوس کی۔
میں ان میں سے کسی بھی بات کا جواب دینے سے پہلے اس پراجیکٹ کے حوالے سے ایک پریزنٹیشن دینا چاہتا ہوں، کیونکہ میرا خیال ہے کہ ان میں سے بہت سارے سوالات اور اعتراضات کے جواب موجود ہے جو آپ لوگ مجھ پر کر رہے ہیں۔۔۔۔
سالار نے مائیکل کے ابتدائی کلمات کے بعد اس کے کسی الزام کا جواب دینے کی بجائے کہا۔
سالار ایک کے بعد ایک سلائیڈ پراجیکٹر پر دکھاتا گیا۔ ان سات لوگوں نے وہ پریزنٹیشن بے تاثر چہرے کیساتھ ساکت بیٹھے، دم سادھے دیکھی۔
لیکن اس کے ختم ہونے کے بعد ان ساتوں کے ذہن میں جو خدشہ ابھرا تھا وہ ایک ہی تھا۔ سالار سکندر کے ہاتھ میں وہ گرینیٹ تھا جس کی پن وہ نکالے بیٹھا تھا۔ وہ جہاں بھی پھٹتا تباہی پھیلا دیتا۔
پروجیکٹر کی سکرین تاریک ہوئی۔ سالار نے اپنے لیپ ٹاپ کو بند کرتے ہوئے ان ساتوں کے چہروں پر نظر ڈالی۔۔اتنے سالوں کی پبلک ڈیلنگ کے بعد وہ اتنا اندازہ تو لگا پایا تھا کہ اس نے وہ پریزنٹیشن وہاں پیش کرنے میں اپنا وقت ضائع کیا تھا۔
تو تم اس پراجیکٹ میں کام نہیں کرنا چاہتے؟
مائیکل نے خاموشی توڑتے ہوئے اس سے جو سوال کیا تھا اس نے سالار کے خدشات کی تصدیق کی۔
میں چاہتا ہوں کہ ورلڈ بنک کانگو میں اس پراجیکٹ کو ختم کر دے۔ سالار نے بھی وقت ضائع کیے بغیر کہا۔
تم مضحکہ خیز باتیں کر رہے ہو ۔اتنے سالوں سے شروع کیے جانے والے ایک پراجیکٹ کو ورلڈ بنک ایک چھوٹے سے عہدیدار کے کہنے پر ختم کر دے کیونکہ اسے بیٹھے بٹھائے یہ فوبیا ہوگیا ہے کہ بنک کانگو میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والے پراجیکٹس کو سپورٹ کر رہا ہے۔
وہ جولیا پٹرورڈ تھی۔ جس نے بے حد تضحیک آمیز انداز میں سلگا دینے والی مسکراہٹ کیساتھ سالار سے کہا تھا۔
اگر میں فوبیا کا شکار ہوں یا یہ میرا دماغی خلل ہے تو یہ بیماری اس وقت ان جنگلات میں بسنے والے لاکھوں لوگوں کو لاحق ہوچکی ہے۔ سالار نے ترکی بہ ترکی جواب دیا تھا۔
تم کیا ہو؟ کس حیثیت میں کانگو میں بیٹھے ہو؟ ورلڈ بنک کے ایک ایمپلائی کے طور پر یا ایک ہیومن رائٹ ایکٹوسٹ کے طور پر؟ کانگو کے لوگ یا پگمیز تمہارا درد سر نہیں ہے، تمہاری ترجیح صرف ایک ہونی چاہیے کہ تم مقررہ وقت پر پراجیکٹ مکمل کرو۔
اس بار بات کو ترشی سے کاٹنے والا الیگزنڈر رافیل تھا۔ جو ورلڈ بنک کے صدر کے قریبی معاونین میں سے ایک تھا۔
تم نے وہ کانٹریکٹ پڑھا ہے۔ وہ شرائط و ضوابط پڑے ہیں جس سے اتفاق کرتے ہوئے تم نے سائن کیئے تھے۔تم اپنے کانٹریکٹ کی خلاف ورزی کر رہے ہو۔۔۔اور بنک تمہیں جاب سے نکالنے کا پورا اختیار رکھتا ہے، اسکے بدلے میں۔
میں نے اپنا کانٹریکٹ پڑھا ہے اور ورلڈ بنک کا چارٹر بھی پڑھا ہے۔ دونوں میں کہیں بھی یہ نہیں لکھا کہ مجھے کوئی ایسا کام کرنا پڑے گا جو بنیادی انسانی حقوق اور کسی ملک کے قوانین کی دھجیاں اڑا کر ہو سکے۔۔ اگر ایسی کوئی شق میرے کانٹریکٹ میں شامل تھی تو آپ مجھے ریفرنس دے۔
الیگزنڈر رافیل چند لمحے بول نہ سکا۔ اس کے ماتھے پر بل تھے اور مسلسل تناؤ میں رہنے کی وجہ سے وہ مستقل جھریوں میں تبدیل ہو چکے تھے۔
اور تم اپنے آپ کو ان لوگوں سے زیادہ قابل سمجھتے ہو جنہوں نے یہ پراجیکٹ کئی سال کی تحقیق کے بعد شروع کیا تھا۔تم سمجھتے ہو جن لوگوں نے فزبلٹی بنائ تھی وہ ایڈیٹس تھے۔وہ اب تضحیک آمیز انداز میں اس سے پوچھ رہا تھا۔۔
نہیں، وہ ایڈیٹس نہیں تھے نہ میں ایڈیٹ ہوں۔۔وہ فیئر نہیں تھے اور میں ہوں۔ بات صرف اس دیانت کی ہے جو فزبلٹی تیار کرتے وقت نظرانداز کی گئ ہے ورنہ یہ ممکن ہی نہیں کہ اس پراجیکٹ کی فزبلٹی رپورٹ تیار کرنے والے اتنے عقل کے اندھے اور نا اہل ہو کہ انہیں وہ سب نظر نہ آیا ہو جو مجھے نظر آیا ہے اور میرے علاوہ لاکھوں مقامی لوگوں کو نظر آ رہا ہے۔۔۔ورلڈ بنک کو اس پراجیکٹ کے حوالے سے زیادہ انویسٹیگیشن کرنی چاہئے ایک انکوائری کمیٹی بنا کر۔۔۔مجھے یقین ہے کہ اگر اس کمیٹی نے دیانت داری سے کام کیا تو انہیں بھی یہ سب نظر آجائے گا جو مجھے نظر آرہا ہے۔۔سالار نے رافیل کے ہتک آمیز جملوں کو نظرانداز کرتے ہوئے کہا۔
میرے خیال میں بہتر ہے کہ اس ڈیڈ لاک کو ختم کرنے کے لیے ایک کام کیا جائے جو واشنگٹن اور گومبے میں تمہارے آفس میں اس پراجیکٹ کے حوالے سے پیدا ہوگیا ہے۔
اس بار بولنے والا بل جاؤلز تھا۔ تم ریزائن کردو۔ جیسے تم نے پریزنٹیشن اور بنک کے ساتھ ہونے والی آفیشل خط و کتابت میں بھی آفر کیا تھا کہ اس پراجیکٹ کو تم اس طرح نہیں چلا سکتے۔۔ وہ بڑے تحمل اور رسانیت سے جیسے سالار سکندر کو صلاح دے رہا تھا۔
اگر یہ آپشن ورلڈ بنک کو مناسب لگتا ہے تو مجھے بھی اس پر کوئی اعتراض نہیں۔ مجھے بھی اس مسئلے کا حل صرف میرا استعفی نظر آرہا ہے۔ لیکن میں اپنی استعفے کی وجوہات میں اس پریزنٹیشن میں دیئے جانے والے سارے اعداد و شمار کو بھی شامل کروں گا اور اپنے تحفظات بھی لکھوں گا اور میں اس استعفے کو پبلک کروں گا۔
بورڈ روم میں چند لمحوں کے لیے خاموشی چھائی تھی۔ وہ بلآخر اس ایک نکتے پر آگئے تھے جس کے لیے سالار کو واشنگٹن طلب کیا تھا۔ جو ورلڈ بنک کے گلے میں ہڈی کی طرح پھنسا ہوا تھا۔ بورڈ روم میں بیٹھے ان سات افراد کے صرف دو ٹاسک تھے۔ یا سالار کو اس پراجیکٹ کے چلانے کے لیے راضی کرلیا جائے یا پھر اس سے خاموشی سے استعفی لیا جائے اور وہ ذاتی وجوہات کی بناء پر ہو۔۔ اب مسئلہ اس سے بڑھ گیا تھا۔وہ نہ صرف استعفے میں یہ سب کچھ لکھنا چاہتا تھا بلکہ اسے پبلک بھی کرنا چاہتا تھا۔
اگلے تین گھنٹے وہ ساتوں سالار کو قائل کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ انہوں نے ہر حربہ استعمال کرلیا تھا۔جب دلیلوں سے کام نہیں بنا تو انہوں نے بنک کے کانٹریکٹ میں استعفے کے حوالے سے کچھ شقوں کو اٹھا کر اسے دھمکی دی تھی کہ وہ جاب کے دوران اپنے علم میں لائے گئے تمام فروفیشنل معلومات کو صیغہ راز میں رکھنے کا پابند ہے۔ اور استعفے کو پبلک کرنے اور اس رپورٹ کو میڈیا پر لانے پر اس کے خلاف قانونی کاروائی کی جاسکتی تھی۔ اور اسے نہ صرف مالی طور پر لمبا چوڑا ہرجانہ بھرنا پڑتا بلکہ وہ آئندہ بنک یا اس سے منسلک کسی بھی چھوٹے بڑے ادارے کی جاب کرنے کے لیے نااہل قرار دیا جاتا۔سالار کو پتا تھا یہ دھمکی نہیں تھی۔۔۔بہت بڑی دھمکی تھی۔۔۔
دباؤ اور دھمکیاں جتنی بڑھتی گئی سالار سکندر کی ضد بھی اتنی ہی بڑھتی گئ۔ اگر سکندر عثمان کہتے تھے کہ ڈھٹائی میں اسکا کوئی مقابلہ نہیں کرسکتا تو وہ ٹھیک کہتے تھے۔
تم کیا چاہتے ہو؟؟ تین گھنٹے کے بعد بلآخر مائیکل نے اسکی ضد کے آگے ہتھیار ڈالتے ہوئے اس سے پوچھا۔۔
ایک غیر جانبدارانہ انکوائری ٹیم جو نئے سرے سے اس پراجیکٹ کا جائزہ لے۔ اور اسکے بعد پگمیز اور ان بارانی جنگلات کے بہترین مفاد میں اس پراجیکٹ کو ختم کیا جائے یا کوئ ایسا حل نکالا جائے جو ان جنگلات میں رہنے والے لوگوں کے لیے قابل قبول ہو اور میں مقامی لوگوں کی بات کر رہا ہوں۔ وہاں کی مقامی حکومت کی بات نہیں کر رہا۔۔
سالار نے جواباً وہی مطالبہ دہرایا۔
تمہاری قیمت کیا ہے؟ الیگزنڈر نے سالار کو جیسے بات کرنے کے قابل نہیں چھوڑا تھا۔۔کوئی تو ایسی چیز ہوگی جسکے لیے تم اس مطالبے سے ہٹ جاؤ۔۔ہمیں بتاؤ وہ کونسی ایسی چیز ہے جس پر تم ہم سے سودا کرلو۔۔رافیل نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا۔ سالار نے ٹیبل پر رکھی اپنی چیزیں سمیٹنی شروع کردی۔
میری کوئی قیمت نہیں۔۔اور میں نے ورلڈ بنک کو اسی غلط فہمی میں جوائن کیا تھا کہ میں ایسے لوگوں کے ساتھ کام کروں گا جو دنیا میں اپنی پروفیشنل مہارت اور قابلیت کی وجہ سے جانے جاتے ہیں۔ اگر بروکرز کے ساتھ کام کرنا ہوتا تو بیچنے، خریدنے اور قیمت لگانے والا، تو اسٹاک ایکسچینج میں کرتا یا کسی بنک میں انویسمنٹ بنکنگ۔۔۔
وہ نرم لہجے میں ان کے منہ پر جوتا مار گیا تھا۔ اور اس چوٹ کی شدت وہاں بیٹھے ساتوں نے ایک ساتھ محسوس کی۔ وہ سادہ زبان میں انہیں دلال کہہ رہا تھا اور ٹھیک کہہ رہا تھا۔
ان ساتوں میں سے کسی نے مزید کچھ نہیں کہا ۔۔ستے ہوئے اور تنے ہوئے چہروں کیساتھ وہ بھی اپنے کاغذات اور لیپ ٹاپ سنبھالنے لگے تھے۔ میٹنگ بغیر کسی نتیجے کے ختم ہوگئ تھی۔اور سالار کو اندازہ ہوا تھا کہ اسکے بعد ورلڈ بنک میں اس کا کیرئیر بھی ختم ہوگیا تھا۔۔۔۔
وہ میٹنگ ہیڈ کوارٹر میں ہونے والی ہر میٹنگ کی طرح ریکارڈ ہوئی تھی۔۔۔لیکن سالار کو یہ اندازہ نہیں تھا کہ وہ میٹنگ براہ راست کسی دوسری جگہ بھی پیش کی جا رہی تھی۔سالار کے اس بورڈ روم سے نکلنے سے پہلے اس سے نمٹنے کے لیئے دوسری حکمت عملی طے ہو گئ تھی۔
الیگزنڈر رافیل سالار کے پیچھے آیا تھا اور اس نے چند منٹوں کے لیے سالار سے علیحدگی میں بات کرنا چاہی ۔۔سالار کچھ الجھا لیکن پھر آمادہ ہوگیا۔وہ کونسی بات تھی جو میٹنگ میں نہیں کہی جا سکتی تھی اور یہاں کہی جا رہی تھی۔الیگزنڈر رافیل کے آفس میں وہ مزید اسی پیرائے کی کوئ گفتگو سننے کی توقع کیساتھ گیا تھا مگر اپنے آفس میں الیگزنڈر رافیل کا رویہ انکے ساتھ حیران کن طور پر مختلف تھا۔
مجھے یہ ماننے میں کوئی شبہ نہیں کہ میں تمہاری رپورٹ سے بہت متاثر ہوا ہوں اور صرف میں نہیں پریزیڈنٹ بھی۔ اس کے پہلے ہی جملے نے سالار کو حیران کردیا۔صدر ہمیشہ تم سے بہت ساری توقعات رکھتے تھے۔افریقہ کے لیئے جو وژن انکا ہے انکو صرف تم عملی جامہ پہنا سکتے ہواور یہ پراجیکٹ ان سینکڑوں پراجیکٹس میں سے بہت چھوٹا پراجیکٹ ہے جو وہ تمہارے لیے سوچتے ہیں وہ بہت بڑی شے ہے۔تمہارے ذریعے افریقہ کی تقدیر بدلی جا سکتی ہے اور میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ صدر افریقہ کے بارے میں بہت سنجیدہ ہیں۔ وہ وہاں سے غربت اور بھوک مٹانا چاہتے ہیں۔ایباکا ایک بے وقوف آدمی ہے۔۔وہ ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں کھیل رہا ہے جو افریقہ کی ترقی میں رکاوٹ ہیں۔
تم نے کوئی سوال نہیں کیا۔۔۔رافیل کو اسکی خاموشی چبھی۔اگر وہ سالار کو صدر کے حوالے سے تعریفی کلمات پہنچا کر جوش دلانا چاہتا تھا تو وہ ناکام ہو رہا تھا۔سالار کے رویے میں کوئی تبدیلی نہیں آئ تھی۔
میرے پاس جو بھی سوال تھے وہ میں اپنی رپورٹ میں اٹھا چکا ہوں مجھے خوشی ہے کہ صدر افریقہ میں میرے کام سے اور اس رپورٹ سے متاثر ہے۔ لیکن میں زیادہ خوش تب ہوں گا جب اس رپورٹ پر مجھے ورلڈ بنک سے کوئی پازیٹیو رسپانس آئے گا۔
بنک تمہیں وائس پریذیڈنٹ کا عہدہ دینا چاہتا ہے اور یہ پریذیڈنٹ کی ذاتی دلچسپی کی وجہ سے ہورہا ہے۔اور اس سلسلے میں امریکن گورنمنٹ سے بھی بات ہوئ ہے انکی.
رافیل ایسے بات کر رہا تھا جیسے بہت بڑے راز افشا کر رہا ہو اس پر۔۔ اس کی مایوسی کی انتہا نہ رہی تھی جب اس نے میز کے دوسری طرف بیٹھے اپنے سے پندرہ سال چھوٹے اس مرد کے چہرے کو اس خبر پہ بھی بے تاثر پایا۔۔
اور اس عہدے کے بدلے میں مجھے کیا کرنا ہے؟ رافیل کو اتنی لمبی تقریر کے بعد اتنا دو ٹوک سوال سننے کی توقع نہیں تھی۔۔
پریذیڈنٹ کو اس پراجیکٹ پر تمہاری سپورٹ چاہیئے۔ مطلق اور غیر مشروط سپورٹ۔۔
رافیل نے اب تمہیدوں میں وقت ضائع نہیں کیا تھا۔۔
میرا خیال ہے وہ میں نہیں دے سکوں گا۔ اس پراجیکٹ کے حوالے سے میں اپنی رائے بتا چکا ہوں۔مراعات اور عہدے میرے سٹینڈ کو نہیں بدل سکتے۔۔کیا کچھ اور کہنا ہے؟؟
سالار سکندر کو رافیل اس ملاقات سے پہلے کچھ نہیں سمجھتا تھا اور اب اسے بے وقوف سمجھ رہا تھا۔۔ اتنا بڑا عہدہ اسے پلیٹ میں رکھ کر پیش کیا جا رہا تھا اور وہ اسے ٹھکرا رہا تھا۔۔ غرور تھا تو بے جا تھا۔۔بے وقوفی تھی تو انتہا کی۔
تمہیں سب کچھ آتا ہے۔ٹیکٹ نہیں آتے اس لیئے تم کامیابی کے سب سے اوپر والے زینے پر کبھی کھڑے نہیں ہو سکو گے۔وہ اس سے ایسی بات نہیں کہنا چاہتا تھا پھر بھی کہہ بیٹھا تھا۔۔
اگر ٹیکٹ فل کا مطلب بے ضمیر اور بد دیانت ہونا ہے تو پھر یہ خصوصیت میں کبھی اپنے اندر پیدا نہیں کرنا چاہوں گا۔۔میں اپنا استعفٰی آج ہی میل کر دوں گا۔۔۔۔سالار اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔
*********——-*********
سالار جب ورلڈ بنک.، ہیڈ کوارٹر سے نکلا اس وقت بوندا باندی تھی۔ وہ کیب پر وہاں آیا تھا اور واپس بھی اسی میں جانا تھا مگر جو کچھ پچھلے چند گھنٹوں میں اندر بھگت آیا تھا۔اس کے بعد وہ بے مقصد پیدل فٹ پاتھ پر چلتا رہا۔ چلتے چلتے اس نے بے اختیار ایک گہرا سانس لیا۔ وہ چند دن پہلے تک اپنے آپ کو دنیا کا مصروف ترین انسان سمجھتا تھا اور اب چند گھنٹوں بعد دنیا کا بے کار ترین انسان۔۔
کچھ عجیب سی ذہنی کیفیت تھی اسکی۔ فی الحال کرنے کے لیئے کچھ بھی نہ تھا۔۔کوئ میٹنگ، کوئ وزٹ کوئ ایجنڈا۔۔کوئ فون کال، ای میل، کوئ پریزنٹیشن بھی نہیں۔۔لیکن سوچنے کے لیے بہت کچھ تھا۔ایک لمحے کے لیئے چلتے چلتے اسے خیال آیا کیا ہو اگر وہ سمجھوتہ کر لے؟ وہی سے واپس ہیڈ کوارٹر چلا جائے ۔وہ پیش کش قبول کر لے جو ابھی اسے دی گئ تھی۔کوئ مشکل اور ناممکن تو نہیں تھا یہ۔۔ابھی سب کچھ اس کے ہاتھ میں تھا۔۔ورلڈ بنک میں پہلے سے بھی بڑا عہدہ مل جاتا اسے۔ کیا برائ تھی اگر وہ کچھ دیر کے لیے ضمیر کو سلا دیتا۔۔کانگو اس کا ملک نہیں۔۔نا ہی پگمیز اس کے لوگ۔۔۔۔پھر؟؟
واقعی ٹھیک کہا تھا رافیل نے، وہ کیوں یہ سب کر رہا تھا ان کےلیئے۔۔اور یہ سب کرتے کرتے اپنے آپکو یہاں لایا تھا۔جہاں آگے کنواں تھا پیچھے کھائ۔۔لیکن پھر اسے وہ غربت اور بد حالی نظر آئی جو اس نے وہاں کے لوگوں میں دیکھی تھی۔ وہ امید بھری نظریں یاد آئ تھی۔۔جن سے وہ اسے دیکھتے تھے۔کاغذات کا وہ پلندہ یاد آیا جسکا ایک ایک لفظ کہہ رہا تھا کہ وہاں انسانیت کی تذلیل ہو رہی تھی۔وہ غلامانہ استحصال تھا جو اس کا مذہب چودہ سو سال پہلے ختم کرچکا تھا۔۔۔
اور یہ سب یاد کرتے ہوئے اسے امامہ بھی یاد آئی تھی۔
اس نے جیب سے سیل فون نکال کر اس سے رابطہ کرنے کی کوشش کی پر نہیں ہوا۔ایک عجیب سی اداسی اور تنہائی نے اسے آگھیرا تھا۔
سوچوں کی رفتار ایک دم ٹوٹی تھی۔وہ کس بحران میں کیا سوچنے بیٹھ گیا۔اس نے ہر منفی سوچ کو ذہن سے جھٹک دیا تھا۔ شاید یہ ذہنی دباؤ کی وجہ سے ہورہا تھا۔ اس نے خود کو پرسکون کرنے کی کوشش کی تھی۔
اپنے ہوٹل کے کمرے میں پہنچ کر اپنا لیپ ٹاپ والا بیگ رکھ کر اس نے معمول کے انداز میں ٹی وی آن کیا تھا۔۔ایک مقامی چینل پر واشنگٹن میں صبح سویرے ہونے والے ایک ٹریفک حادثے کی خبر چل رہی تھی۔ جس میں دو مسافر موقع پر مر گئے تھے۔جبکہ تیسرا شدید زخمی حالت میں ہسپتال میں تھا سالار نے ہاتھ میں پکڑے ریمورٹ سے چینل بدلنا چاہا لیکن پھر سکرین پر چلنے والی ایک ٹکر کو دیکھتے ہوئے جامد ہوگیا۔اسکرین میں اسکرول پر اب اس حادثے کی تفصیلات دی جارہی تھی اس میں زخمی ہونے والے شخص کا نام پیٹرس ایباکا بتایا جارہا تھا جو کہ ایک انقلابی تھا۔ اور سی این این کے ایک پروگرام میں شرکت کے لیے آرہا تھا۔ سالار کا دماغ جیسے بھک سے اڑ گیا۔
سالار جانتا تھا کہ وہ امریکہ میں ہے کئ دنوں سے۔ وہ امریکہ روانہ ہونے سے پہلے اس سے ملنے آیا تھا اور اس نے سالار کو بتایا تھا کہ اس کے کچھ دوستوں نے بلآخر بڑی کوششوں کے بعد کچھ بڑے نیوز چینلز کے نیوز پروگرامز میں اس کی شرکت کے انتظامات کیئے تھے۔
اس کا مطلب ہے کہ چھری میری گردن پر گرنے والی ہے۔سالار نے مسکراتے ہوئے اس سے کہا۔ تم اگر اس پراجیکٹ کے حوالے سے ورلڈ بنک اور اسکے عہدیداران پر تنقید کروگے تو سب سے پہلے میں ہی نظر میں آؤں گا۔۔اور یہ چینلز مجھ سے رسپانس کے لیئے رابطہ کریں گے۔۔
سالار کو اس مشکل صورت حال کا اندازہ ہونے لگا تھا جس میں وہ پیٹرس ایباکا کے انٹرویوز کے بعد پھنستا۔ وہ آتش فشاں جو عرصے سے پک رہا تھا اب پھٹنے والا تھا۔اور بہت سو کو ڈبونے والا تھا۔۔
میں تمہیں بچانے کی پوری کوشش کروں گا۔۔ایباکا نے اسے یقین دلایا تھا۔میں تم پر کوئی تنقید نہیں کروں گا۔بلکہ تمہاری سپورٹ کے لیے تمہاری تعریف کروں گا۔۔تم اب آئے ہو، یہ پراجیکٹ تو پہلے سے جاری ہے۔
ایباکا بے حد سنجیدہ تھا لیکن سالار کیساتھ ساتھ وہ خود بھی یہ جانتا تھا کہ اس کی یہ یقین دہانی ایک خوش فہمی تھی۔سالار اس پراجیکٹ کی سربراہی کر رہا تھا۔اور نہ ہی اسے جمعہ جمعہ چار دن ہوئے تھے وہاں آئے۔۔۔
اسے بھی میڈیا کی شدید تنقید کا سامنا ہونے والا تھا۔
تم جلد سے جلد ورلڈ بنک چھوڑ دو ۔میں تمہاری رپورٹ کا حوالہ دوں گا کہ تم اس پراجیکٹ سے ناخوش تھے اور تمہارے اس پوزیشن کو چھوڑنے کی وجہ بھی یہی ہے۔۔۔ایباکا نے جیسے اسے ایک راہ دکھائ تھی۔
میں اس سے پہلے ایک کوشش ضرور کروں گا کہ بنک کو مجبور کر سکوں کہ اس پراجیکٹ پر نظر ثانی کرے۔
وہ دونوں کا آخری رابطہ تھا۔ نیوز چینل بتا رہا تھا کہ بچنے والے مسافر کی حالت تشویش ناک تھی۔اس نے اپنا فون نکال کر یہ جاننے کی کوشش کی تھی کہ ایباکا کو کہاں لے جایا گیا تھا۔ عجیب اتفاق تھا لیکن ایکدم اسکا فون رابطوں کے مسائل کا شکار ہونے لگا تھا۔ کچھ دیر پہلے امامہ اور اب بھی وہ یہاں لوکل کال بھی نہیں کر پا رہا تھا۔کچھ دیر سیل فون کیساتھ مصروف رہنے کے بعد اس نے جھنجھلا کر کمرے میں موجود فون لائن اٹھا کر اسے استعمال کرنے کی کوشش کی وہ لائن بھی کام نہیں کر رہی تھی۔ سالار حیران ہوا تھا۔وہ ایک فائیو سٹار ہوٹل میں تھا اور اسکی فون لائن کا کام نہ کرنا حیران کن ہی تھا۔اس نے انٹرکام پر آپریٹر کے ذریعے ایک کال بک کروائی تھی۔۔۔
اگلا آدھا گھنٹہ وہ آپریٹر کی کال کا انتظار کرتا رہا ۔۔سالار کو لگا جیسے اس کو کسی سے بھی رابطہ کرنے سے روکا جا رہا ہے۔۔ اس بار کہی بھی خود کال کرنے کی بجائے اس نے ریسیپشنسٹ سے کہا تھا کہ وہ اسے پولیس انکوائری سے پتا کر کے بتائے کہ آج صبح واشنگٹن میں ہونے والے اس ٹریفک حادثے کے زخمی کو کہاں لے جایا گیا تھا۔۔اس نے چند ہی منٹوں میں سالار کو اسپتال کا نام بتا دیا۔ سالار نے اسکو کانگو میں اپنا گھر اور امامہ کا سیل فون نمبر دیا تھا۔وہ اگلی کال وہاں کرنا چاہتا تھا۔لیکن وہاں رابطہ نہ ہو سکا۔
اسپتال پہنچ کر پیٹرس کو تلاش کرنا مشکل نہیں تھا لیکن اسے ایباکا سے ملنے نہیں دیا گیا۔ وہ مخدوش حالت میں تھا اور اسکی سرجری کے بعد اسے مصنوعی تنفس پر رکھا گیا تھا۔اپنے آپ کو ایباکا کا رشتہ دار ظاہر کرنے پر اسے بحر حال دور سے دیکھنے کی اجازت دی گئ۔ مگر استقبالیہ پر موجود شخص نے اسے بے یقینی اور شبہ کی نظر سے دیکھا۔ ایک پگمی اور ایک ایشیائ کی رشتہ داری کیسے ممکن تھی۔
اسپتال کی آئ سی یو میں نالیوں، تاروں اور پٹیوں میں جکڑے ایباکا کو وہ پہلی نظر میں پہچان نہ پایا۔سالار کی سمجھ میں نہیں ایا کہ وہ کیا کرے۔۔اسکا اور ایباکا کا انسانیت کا رشتہ تھا صرف، پھر بھی وہ عجیب غمزدہ حالت میں کھڑا تھا وہاں۔
وہاں کھڑے کھڑے سالار کو ایک بار پھر خیال آیا کہ وہ چاہتا تو اب بھی سب ٹھیک کرسکتا تھا ایباکا مر رہا تھا اور اسکے مرنے کیساتھ ہی وہ سارے حقائق و شواہد بھی غائب ہونے والے تھے ۔۔پگمیز کو فوری طور پر ایباکا کا متبادل نہیں مل سکتا تھا۔جو کسی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنے حق کی بات اس دبنگ انداز میں کہہ سکتے، جس انداز میں ایباکا کہتا تھا۔۔شاید یہ ایک موقع اسے قدرت دے رہی تھی۔۔وہ الجھا۔۔۔بھٹکا۔۔ضمیر کا چابک ایک بار پھر اس پر برسا تھا۔
اسکے اپنے ہوٹل واپسی پر ایک اور بڑا سانحہ اسکا منتظر تھا۔اسکے کمرے میں اسکا لاکر کھلا ہوا تھا۔اور اس میں موجود اسکا پاسپورٹ اور کچھ دوسرے اہم ڈاکومینٹس غائب تھے اور اس کا وہ بیگ بھی غائب تھا جس میں اسکا لیپ ٹاپ اور اس رپورٹ سے متعلقہ تمام ثبوتوں کی کاپیاں تھی۔سالار کو چند لمحے یقین ہی نہیں آیا کہ یہ اسکا کمرہ ہے۔
بے حد طیش کے عالم۔میں اس نے فون اٹھا کر فوری طور پر اپنے ساتھ ہونے والے واقعے کی اطلاع مینیجر کو دی اور اسے اپنے کمرے میں طلب کرلیا گیا۔مینیجر اور سیکیورٹی گارڈز کے اسکے کمرے میں آنے پر اسکا دماغ یہ جان کر بھک سے اڑ گیا کہ اس پورے فلور پر صفائی سے متعلقہ کام کرنے کے لیئے پچھلے دو گھنٹے اس فلور کے سی سی ٹی وی کیمرے آف کیئے گئے تھے۔ایک لمحےکے لیئے اسے لگا جیسے اسکے ہاتھ پاؤں کٹ گئے ۔اسکے پاس جو کچھ بھی تھا وہ اس لیپ ٹاپ اور اس بیگ میں تھا۔اسکی ایک کاپی اسکے پاس اور ایک گومبے میں اسکے گھر کے باس لاکر میں تھی جو امامہ کی تحویل میں دیکر آیا تھا۔
وہ پہلا موقع تھا جب سالار نے ایک عجیب سا خوف محسوس کیا تھا۔۔ایباکا کا ایک حادثے میں زخمی ہونا اب اسے ایک اتفاق نہیں لگ رہا تھا ۔کوئ تھا جو ایباکا کو نقصان پہنچانے کے بعد اسکے ہاتھ پیر کاٹ رہا تھا۔اسے بے بس کر رہا تھا۔ پہلا خیال جو اس وقت اسے آیا تھا وہ امامہ اور اپنے بچوں کا تحفظ تھا۔ان سے رابطہ ہر قیمت پر ضروری تھا۔اسے امامہ کو متنبہ کرنا تھا کہ وہ ان ڈاکومینٹس کیساتھ پاکستان ایمیسی یا کسی پولیس اسٹیشن چلی جائے کم از کم تب تک جب تک وہ خود وہاں نہیں پہنچ جاتا۔۔
اس نے مینیجر سے کہا تھا کہ وہ پولیس میں رپورٹ کروانا چاہتا ہے اسکی قیمتی چیزوں کی حفاظت یقیناً ہوٹل کی ذمہ داری نہیں تھی لیکن کم از کم ہوٹل اتنی ذمہ داری تو دکھاتا کہ اس کی عدم موجودگی میں اس فلور کے سی سی ٹی وی سسٹم کو آف نہ کیا جاتا۔
مینیجر نے معذرت کرتے ہوئے فوری طور پر اسے اس نقصان کی تلافی کی آفر کی تھی اور اس سے درخواست کی تھی کہ وہ پولیس کو اس معاملے میں انوالو نہ کرے ۔لیکن سالار اس وقت اپنے حواسوں میں نہیں تھا وہ اپنے کمرےسے ہی باہر نہیں نکلا تھا وہ اس ہوٹل سے بھی باہر نکل آیا تھا۔۔۔
ایک فون بوتھ سے اس نے ایک بار پھر کانگو میں گھر اور امامہ کا نمبر ملانے کی کوشش کی نتیجہ وہی آیا تھا اسکا ذہن ماؤف ہورہا تھا۔۔
اس نے بلآخر پاکستان میں سکندر عثمان کو فون کیا تھا اور جب اسے فون پر انکی آواز سنائی دی تو کچھ دیر کے لیے اسے یقین نہیں آیا کہ وہ بلآخر کسی سے بات کرنے میں کامیاب ہو پا رہا تھا۔ سکندر کو بھی اسکی آواز سے پتا چل گیا تھا کہ وہ پریشان تھا۔
سالار نے کوئ تفصیلات بتائے بغیر مختصر انہیں بتایا کہ وہ اپنے سفری دستاویزات گم کر چکا ہے اور اس وجہ سے وہ فوری طور پر اگلی فلائٹ سے واپس نہیں جاسکتا۔اور وہ امامہ سے رابطہ نہیں کر پا رہا ۔اس نے سکندر سے کہا کہ وہ پاکستان سے امامہ کو کال کریں اور اگر رابطہ نہ ہوسکے تو پھر فارن آفس میں اپنے جاننے والوں کے ذریعے کنشاسا میں پاکستان ایمبیسی کے ذریعے انہیں تلاش کریں اور فوری طور پر اس سے کہے کہ لاکر میں پڑے سارے ڈاکومینٹس سمیت ایمبیسی چلی جائے۔۔سکندر عثمان بری طرح ٹھٹکے۔
ایسا کیا ہوا ہے کہ تمہیں یہ سب کرنا پڑ رہا ہے۔ سالار سب ٹھیک ہے نا۔۔
پاپا اسوقت آپ صرف وہ کریں جو میں کہہ رہا ہوں ۔۔میں تفصیل آپکو بعد میں بتاؤں گا۔۔وہ جھنجھلا گیا تھا۔
میں تھوڑی دیر تک آپ کو خود کال کر کے پوچھتا ہوں آپ میرے فون پر کال مت کریں نہ ہی میرے نمبر پر میرے لیے کوئ میسج چھوڑیں۔۔اس نے باپ کو مزید تاکید کی۔
سالار تم مجھے پریشان کر رہے ہو۔سکندر عثمان کا ان ہدایات کو سن کر خوفزدہ ہونا لازمی تھا۔
سالار نے فون بند کردیا تھا۔وہ باپ کو یہ نہیں بتا سکتا تھا کہ اسکے اپنے حواس اس وقت اس سے زیادہ خراب ہورہے تھے۔فون بوتھ سے کچھ فاصلے پر پڑی ایک بنچ پر بیٹھے ہوئے اس نے بے اختیار خود کو ملامت کی تھی اسے اپنی فیملی کو کانگو میں چھوڑ کر نہیں آنا چاہیئے تھا۔۔اور ان حالات میں۔۔۔۔میٹنگ جاتی بھاڑ میں۔۔۔۔وہ اسے آگے پیچھے کروا دیتا ۔۔۔کیا ضرورت تھی اتنی مستعدی دکھانے کی۔۔۔۔
اب رات ہورہی تھی اور صبح سے لیکر اس وقت تک اسکے سیل پر نہ کوئ کال آئ تھی نہ ٹیکسٹ میسج۔۔۔فون سگنلز کو بہترین حالت میں دکھا رہا تھا مگر سالار کو یقین تھا اس کا فون اور فون کے ذریعے ہوئےاسکے رابطوں کو کنٹرول کیا جا رہا تھا۔۔اور کس لیئے۔۔۔ وہ یہ سمجھ نہیں پا رہا تھا۔۔
وہ اگر اسے نقصان پہنچانا چاہتے تھے تو ان سب ہتھکنڈوں کے بغیر نقصان پہنچاتے۔ جیسے ایباکا پر وار کیا تھا۔۔اور اگر اسے بنک سے نکالنا تھا تو یہ کام تو وہ خود کر رہا تھا۔پھر یہ سب کیوں؟؟؟
اسکی ریڑھ کی ہڈی میں جیسے سنسناہٹ ہوئ تھی۔اسے اچانک احساس ہوا وہ لوگ اسے احساس دلانا چاہتے تھے کہ اسے مانیٹر کیا جا رہا تھا۔۔اسے نقصان پہنچایا جاسکتا تھا۔۔اور کس کس قسم کا۔۔اور اسے یہ بھی بتایا جارہا تھا اور یہ سب ورلڈ بنک نہیں کرسکتا۔۔صرف ورلڈ بنک نہیں۔۔۔اسے سی آئی اے چیک کر رہی تھی۔۔پتا نہیں جو پسینے چھوٹے تھے وہ جسم کے ٹھنڈا ہونے پر چھوٹے تھے یا گرم ہونے پر۔۔۔۔۔۔۔لیکن سالار کچھ دیر کے لیے پانی میں نہا گیا تھا۔اسکا دماغ اس وقت بالکل خالی تھا۔۔یہ اسکے فرشتوں نے بھی کبھی نہیں سوچا ہوگا کہ وہ کبھی ایسے معاملے میں انوالو ہوسکتا ہے کہ سی آئی اے اسکے پیچھے پڑ جاتی اور اب اسے اندازہ ہورہا تھا کہ وہ پراجیکٹ ورلڈ بنک کی خواہش نہیں امریکہ کی خواہش تھا۔اور اسے پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے کسی بھی حد تک جاسکتا تھا۔۔۔
وہ ڈیڑھ گھنٹہ وہاں بت کی طرح بیٹھا رہا ۔۔اسے تین دن کے لیئے واشنگٹن میں رہنا تھا لیکن اب اپنی سفری دستاویزات گم ہوجانے کے بعد اسے یقین تھا وہ فوری طور پر واپس نہیں جاسکتا۔کم از کم تب تک جب تک وہ ان مطالبات میں کوئی لچک نہ دکھاتا جو وہ ان سے کر رہے تھے۔
ڈیڑھ گھنٹہ بعد اس نے سکندر عثمان کو دوبارہ فون کیا تھا اور انہوں نے اسے بتایا کہ امامہ اوراسکے بچے گھر پر نہیں ہے۔ گھر لاکڈ ہے اور وہاں کوئ ملازم یا گارڈ نہیں ہے۔ جو انکے بارے میں کوئ اطلاع دیتا۔۔۔ایمبیسی کے افسران نے اس سلسلے میں کانگو کے وزارت داخلہ سے رابطہ کیا تھا مگر جو بھی پتا چلتا اس کی فیملی کے بارے میں وہ فوری پتا نہیں چل سکتا تھا۔۔کچھ وقت تو لگتا ہے۔۔۔۔
جو کچھ وہ فون پر سن رہا تھا۔اس کے جسم میں کپکپاہٹ دوڑانے کے لیے کافی تھا۔امامہ اور اسکے بچے کہیں نہیں جاسکتے تھے ۔۔اس سے پوچھے اور اسے اطلاع دییے بغیر۔۔۔۔گارڈ بنک کے فراہم کیے ہوئے تھے۔یہ کیسے ممکن تھا کہ گھر لاکڈ ہونے پر وہ بھی وہاں سے چلے گئے۔۔۔
میں کوشش کر رہا ہوں فوری طور پر ایمبیسی میرے ویزے کا انتظام کرے اور میں وہاں جا کر خود اس سارے معاملے کو دیکھوں۔۔۔۔۔۔سکندر اسے تسلی دینے کی کوشش کر رہے تھے۔
تم بھی کوشش کرو کہ فوری طور پر وہاں پہنچو ۔۔امریکن ایمیبیسی کو اس کی گمشدگی کی اطلاع دو۔تم تو امریکن نیشنل ہو تمہارے بچے بھی۔۔۔ وہ ہماری ایمبیسی سے زیادہ مستعدی سے انہیں تلاش کرلیں گے۔۔۔
سکندر نے ایک راستہ دکھایا تھا اور بالکل ٹھیک دکھایا تھا۔لیکن وہ باپ کو اس وقت یہ کہہ نہ پایا کہ وہ امریکن گورنمنٹ کیساتھ ہی الجھ پڑا ہے۔۔۔۔سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا سالار۔ تم پریشان مت ہو۔۔کانگو میں ابھی اتنا بھی اندھیر نہیں مچا کہ تمہاری فیملی اس طرح غائب ہوجائے۔۔۔۔جواب میں کہنے کے لیے سالار کے پاس کچھ نہ تھا۔۔۔مزید کچھ کہے بغیر اس نے فون رکھا اور فون بوتھ سے باہر آگیا تھا۔۔۔اس فون بوتھ سے واپس ہوٹل جانے میں اسے صرف پانچ منٹ لگے تھے لیکن اس وقت وہ پانچ منٹ اسے پانچ ہزار سال لگ رہے تھے۔۔۔آزمائش تھی کہ بلا کی طرح اس کے سر پر آئ تھی اور اس بھی زیادہ اسکی فیملی کے سر پر۔۔۔
وہ ہوٹل لے کمرے میں آکر دروازہ بند کر کے خود پر قابو نہیں رکھ پایا تھا۔۔۔وہ بے اختیار چیخیں مارتا رہا تھا۔۔اس ہوٹل کے ساتویں فلور کے ایک ڈبل گلیزڈ شیشوں والے ساؤنڈ پروف کمرے کے دروازے کو اندر سے لاک کیے وہ اسکے ساتھ چپکا پاگلوں کی طرح چلاتا رہا۔۔بالکل اس طرح جب کئ سال پہلے مارگلہ کی پہاڑیوں پر ایک تاریک رات میں ایک درخت سے بندھا چلاتا رہا تھا۔۔بے بسی کی وہی انتہا اس نے آج بھی محسوس کی تھی۔۔اور اس سے زیادہ شدت سے محسوس کی تھی کیونکہ تب جو بھی گزر رہا تھا اس کے اپنے اوپر گزر رہا تھا اور آج جو بھی گزر رہا تھا اسکی بیوی اور کم سن بچوں پر گزر رہا تھا۔اور ان کو پہنچنے والی تکلیف کا تصور بھی سالار کو جیسے صلیب پر لٹکا رہا تھا۔۔وہ لوگ جو اس کے اعصاب کو شل کرنا چاہتے تھے وہ اس میں کامیاب ہو رہے تھے۔وہ اگر اسے اوندھے منہ دیکھنا چاہتے تھے تو وہ اوندھے منہ پڑا تھا۔۔۔
وہ رات سالار پر بہت بھاری تھی۔۔وہ ساری رات ایک لمحہ کے لیے بھی نہیں سویا۔۔امامہ۔جبریل اور عنایہ کے چہرے اسکی آنکھوں کے سامنے گھومتے رہے تھے۔
اگلی صبح وہ آفس کے اوقات شروع ہونے سے بہت دیر پہلے ورلڈ بنک کے ہیڈ کوارٹر پہنچا تھا۔۔۔
الیگزنڈر رافیل نے سالار کو اپنے کمرے کی طرف آتا ہوا بڑے اطمینان سے دیکھا تھا۔ یہ وہ سالار نہیں تھا جو کل یہاں آیا تھا۔ایک دن اور ایک رات نے اسے پہاڑ سے مٹی کردیا تھا۔
مجھے صدر سے ملنا ہے۔
اس نے آتے ہی جو جملہ کہا رافیل اس جملے کی توقع نہیں کر رہا تھا۔ اسکا خیال تھا کہ وہ اس سے کہے گا کہ وہ اسکی تمام شرائط ماننے کے لیے تیار ہے۔
پریزیڈنٹ سے ملاقات۔۔۔۔۔بہت مشکل ہے یہ تو۔۔۔۔کم از کم اس مہینے میں تو یہ ممکن نہیں۔۔۔اور پھر اس ملاقات کی ضرورت ہی کیوں پیش آئ تمہیں۔۔۔اگر تمہیں وہ سب دہرانا ہے جو کل کہا تھا تو وہ میں ان تک پہنچا چکا ہوں۔۔۔
کچھ لمحوں کے لیے سالار کی سمجھ میں نہ آیا کہ وہ کیا کہے۔۔وہ ورلڈ بنک کے اس دفتر میں رونا نہیں چاہتا تھا لیکن اس وقت اسے لگ رہا تھا جیسے کسی بھی لمحے وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے گا۔
کنشاسا میں کل سے میری فیملی غائب ہے ۔میری بیوی۔۔۔میرا بیٹا اور میری بیٹی۔۔۔۔ اپنے لہجے پر قابو پاتے ہوئے اس نے رافیل کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے کہنا شروع کیا۔۔۔
اوہ۔۔۔۔۔بہت افسوس ہوا۔۔۔تمہیں فوری طور پر واپس جانا چاہیئے کانگو، تاکہ پولیس کی مدد سے اپنی فیملی کو برآمد کروا سکو۔۔
میرا پاسپورٹ اور سارے ڈاکومینٹس گم ہوچکے ہیں ہوٹل کے کمرے سے سب کچھ غائب ہوا ہے کل۔۔اور اب میں کل واپس کنشاسا نہیں جاسکتا۔۔مجھےہیڈ کوارٹر کی مدد چاہیئے اپنے پاسپورٹ اور دوسرے دستاویزات کے لیے۔۔۔اور مجھے ورلڈ بنک سے فوری طور پر ڈاکومینٹس چاہیئے تاکہ میں اپنا پاسپورٹ لے سکوں۔۔۔
رافیل نے اسکی بات خاموشی سے سننے کے بعد اسے بڑی سرد مہری سے کہا۔۔۔۔
ان حالات میں ورلڈ بنک تمہیں نئے پاسپورٹ کےلیے کوئ لیٹر جاری نہیں کرسکتا کیونکہ تم آج ریزائن کر رہے ہو۔۔میرا خیال ہے تمہیں معمول کے طریقہ کار کے مطابق پاسپورٹ کے لیے اپلائ کرنا چاہیئے اور پھر کانگو جانا چاہیئے۔۔۔۔ایک ویزیٹر کے طور پر۔۔۔۔۔۔اگر تم ورلڈ بنک کے ایمپلائ ہوتے تو ھم تمہاری فیملی کے لیے کسی بھی حد تک جاتے لیکن اب انکا تحفظ ہماری ذمہ داری نہیں۔۔۔تمہارے لیے زیادہ مناسب یہ ہے کہ تم کنشاسا میں امریکن ایمبیسی سے رابطہ کرو یا پاکستان ایمبیسی سے۔۔۔تم اوریجنلی پاکستان سے ہو نا؟؟
سالار اس کے اس تضحیک آمیز جملے کو شہد کے گھونٹ کی طرح پی گیا۔ رافیل کے دو ٹوک انکار نے اسکے ذہنی ہیجان میں اضافہ کر دیا تھا۔زندگی میں کبھی کسی مغربی ادارے سے اسے اتنی شدید نفرت نہیں ہوئی جتنی اس وقت اسے ورلڈ بنک سے ہوئ تھی۔۔۔وہ اپنی زندگی کے بہترین سال اور صلاحیتیں مغرب کو دیتا آیا تھا ۔۔اقوام متحدہ اور اس کے باقی ادارے اور اب ورلڈ بنک۔۔۔کل تک وہ وہاں ایک خاص اسٹیٹس کیساتھ آتا رہا تھا اور آج وہ اس سے ایسا سلوک کر رہے تھے جیسے وہ ایک بھکاری ہو۔جس کے لیئے ورلڈ بنک کےپاس کچھ نہیں۔
بعض لمحے انسانوں کی زندگی میں تبدیلی کے لمحے ہوتے ہیں ۔۔صرف ایک لمحے کی ضرورت ہوتی ہے۔پہلی دفعہ مارگلہ کی پہاڑی پر موت کے خوف سے وہ اس طرز زندگی سے تائب ہوا تھا جو وہ گزارتا آیا تھا اور آج دوسری بار امامہ اور اپنے بچوں کی موت کے خوف اور ورلڈ بنک میں اپنے سینئرز کے ہاتھوں ملنے والی تذلیل کے بعد وہ فیصلہ کر بیٹھا تھا۔ جو وہ اب تک کتراتا رہا تھا۔۔۔بعض خوف، سارے خوف کھا جاتے ہیں۔۔۔سالار کیساتھ بھی اس دن وہی ہوا تھا ۔وہاں بیٹھے اس نے اس دن یہ طے کیا تھا کہ وہ اگلے دس سال میں ورلڈ بنک سے بڑا ادارہ بنائے گا۔ وہ دنیا کے اس مالیاتی نظام کو الٹ دے گا، جس پر مغرب قابض تھا۔۔
تم مزید کسی ایشو کے بارے میں بات کرنا چاہتے ہو؟؟ رافیل نے بظاہر بے نیازی جتاتے ہوئے اس سے کہا۔
نہیں۔۔ وہ مزید کچھ کہے بغیر اٹھ گیا۔۔۔رافیل بھونچکا رہ گیا تھا۔وہ اسے اپنی بیوی بچوں کی زندگی کے لیئے گڑگڑاتا دیکھنا چاہتا تھا۔۔لیکن سالار سکندر ان حالات میں بھی اٹھ کر چلا گیا تھا۔۔۔۔رافیل کو لگا اس کا ذہنی توازن خراب ہوچکا تھا۔۔۔
ہیڈ کوارٹرز کی عمارت سے اس طرح نکلتے ہوئے سالار کو خود بھی ایسے لگا تھا جیسے اس کا ذہنی توازن خراب ہو چکا تھا۔۔اور وہ اتنا بے حس اور بے رحم تو نہیں ہوسکتا تھا کہ امامہ اور بچوں کے لیئے وہاں کچھ بھی کیئے بغیر آجائے۔وہ وہاں کمپرومائز کرنے گیا تھا اپنی بیوی اور بچوں کی زندگی بچانے لے لیئے ان کی شرائط ماننے کی نیت سے گیا تھا لیکن رافیل کے رویے نے جیسے اسکا ذہن الٹ کر رکھ دیا تھا۔۔
میں ان میں سے کسی سے بھی اپنی فیملی کی زندگی کی بھیک نہیں مانگوں گا۔۔ان میں سے کسی کے سامنے نہیں گڑگڑاؤں گا۔۔عزت اور ذلت دونوں اللہ کے ہاتھ میں ہے۔اللہ نے ہمیشہ مجھے عزت دی ہے اور ذلت جب بھی میرا مقدر بنی ہے میرے اپنے فیصلوں کی وجہ سے بنی ہے۔۔۔
میں آج بھی اللہ سے ہی عزت مانگوں گا۔ پھر اگر اللہ مجھے ذلت دے گا تو میں اللہ کی دی ہوئی ذلت بھی قبول کر لوں گا۔لیکن میں دنیا کے کسی اور شخص سے ذلت نہیں لوں گا۔۔نہ جھکوں گا۔۔۔نہ کمپرومائز کروں گا۔
وہ ریت کا ٹیلا بن کر اندر گیا تھا اور آتش فشاں بن کر باہر آیا تھا۔۔وہ وہی لمحہ تھا جب اس نےامامہ اور اپنے بچوں کی زندگیاں بھی داؤ پر لگا دی تھی۔۔۔۔۔۔

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: