Aab e Hayat Novel by Umera Ahmed Read Online – Episode 26

0

آب حیات از عمیرہ احمد – قسط نمبر 26

–**–**–

اور ایسا نہ کرنے پر وہ ورلڈ بنک کو چھوڑ دینا چاہتا تھا۔ ایباکا نے اپنی زندگی کو لاحق ہونے والے خطرات کی بات بھی کی تھی اور یہ بھی کہا تھا کہ وہ طاقتیں جو اسے مار ڈالنا چاہتی ہیں وہ سالار سکندر کو بھی مار ڈالیں گے۔
سالار سکندر کا نام پیٹرس ایباکا کے بعد ایک رات میں افریقہ میں زبان زد عام ہو گیا تھا۔ افریقہ میں ویسی شہرت پہلی بار کسی غیر ملکی کو نصیب ہوئی تھی۔اور وہ غیر ملکی اس وقت واشنگٹن میں اپنے کمرے میں ٹی وی پر یہ سب دیکھ رہا تھا۔پھر بار بار باہر جا کر پاکستان فون کر کے اپنی فیملی کے بارے میں سکندر سے پتا کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔۔۔کاش اسے وہ نام وری نہ ملتی۔۔اس نے سوچا۔
نیوز چینلز یہ بتا رہے تھےکہ کنٹری ہیڈ سمیت سارے گھروں کو لوٹا گیا تھا اور بہت سے گھروں میں اموات بھی ہوئی۔کچھ افسران کی بیویوں پر حملے ہوئے اور کسی کے بچے مارے گئے۔۔۔
ٹی وی پر وہ سب کچھ دیکھتے ہوئے وہ شدید پریشان تھا۔
——-**********———-
میرے بچے کہاں ہیں؟؟ اس نے اٹینڈنٹ کی شکل دیکھتے ہی ہوش و حواس سنبھالنے کے بعد سب سے پہلا سوال یہی کیا تھا۔
وہ کچھ دیر میں آپ کے پاس آجائیں گے آپکو ہاسپٹل سے کہیں منتقل کرنا ہے۔اٹینڈنٹ نے بے حد مودب انداز میں کہا۔امامہ نے بستر سے اٹھنے کی کوشش کی اور بے اختیار کراہ کر رہ گئی۔زخم والی جگہ اب سن نہیں رہی تھی۔اسے لگا جیسے کسی نے ایک خنجر اسکے پیٹ میں گھونپا ہے۔۔اٹینڈنٹ نے جلدی سے آگے بڑھ کر انہیں لٹانے میں مدد دی۔اور پھر ٹرے میں ایک انجیکشن اٹھا کر سرنج میں بھرنے لگی جو وہ لائی تھی۔۔۔
مجھے کوئی انجکشن نہیں لگوانا میں نے اپنے بچوں کو دیکھنا ہے۔امامہ نے بے حد ترشی سے اسے کہا۔۔۔
یہ آپ کی تکلیف کم کر دے گا۔آپکی حالت ابھی ٹھیک نہیں ہے۔اٹینڈنٹ نے کہتے ہوئے گلوکوز کی بوتل میں سرنج کی سوئی گھونپ دی۔
امامہ نے اپنے ہاتھ کی پشت پر ٹیپ کیساتھ چپکائی ہوئی سرنج نکال لی۔۔۔
مجھے فی الحال کسی میڈیسن کی ضرورت نہیں مجھے اپنے بچوں سے ملنا ہے اور اپنے شوہر سے بات کرنی ہے۔۔
وہ اس بار زخم کی تکلیف کو نظر انداز کرتے ہوئے اٹھ بیٹھی اور اس نے اٹینڈنٹ کا ہاتھ جھٹک دیا تھا۔۔وہ کچھ دیر چپ کھڑی رہی پھر خاموشی سے کمرے سے نکل گئی۔
اسکی واپسی آدھ گھنٹہ بعد پیڈی، جبریل اور عنایہ کیساتھ ہوئی۔کمرے کا دروازہ کھلتے ہی ماں پر پہلی نظر پڑتے ہی جبریل اور عنایہ شور مچاتے ہوئے اس کی طرف آئے۔ اور اسکے بستر پر چڑھ کر اس سے لپٹ گئے تھے۔ دو دن کے بعد ماں کو دیکھ رہے تھے۔پیڈی بھی بے اختیار لپک کر انکےپاس آئ۔ دو دن سے امامہ کو نہ دیکھنے پر اور ڈاکٹرز کی بار بار کی لیت لعل پر امامہ کے حوالے سے اسکے ذہن میں عجیب وہم آرہے تھے۔ اور اب امامہ کو بخیریت دیکھ کر وہ بھی جذباتی ہوئے بنا نہ رہ سکی۔۔۔
تم نے سالار کو اطلاع دی؟؟ امامہ نے پیڈی کو دیکھتے ہی اس سے پوچھا۔
میں کل سے ان سے رابطہ کرنے کی کوشش کر رہی ہوں لیکن ان کا نمبر نہیں مل رہا میں نے انکے آفس کے سٹاف سے بھی رابطہ کیا لیکن وہ کہہ رہے ہیں کہ سالار صاحب کے ساتھ انکا بھی رابطہ نہیں ہو پا رہا
امامہ کے دماغ کو ایک جھٹکا لگا تھا۔۔
کل؟؟ وہ بڑبڑائی۔۔آج کیا تاریخ ہے؟؟
پیڈی نے جو تاریخ بتائی وہ اس دن کی نہیں تھی جس دن اسے ہاسپٹل لایا گیا تھا۔اس نے اپنا بیگ لیکر اس میں سے فون نکال کر اس پر کال کرنے کی کوشش کی۔۔اٹینڈنٹ نے انہیں بتایا کہ ہاسپٹل کے اس حصے میں سگنلز نہیں آتے۔وہ اسکا منہ دیکھ کر رہ گئ تھی۔اپنے سیل فون پر اس نے سب چیٹ ایپس اور ٹیکسٹ میسجز چیک کر لیئے تھے کل سے آج تک اس میں کچھ بھی نہیں تھا۔۔ اس سے پہلے کہ وہ پیڈی سے کچھ پوچھتی اس نے اسے کانگو میں ہونے والے فسادات کے بارے میں بتایا تھا۔اور ساتھ یہ بھی کہ انکے گھر پر بھی حملہ کیا گیا تھا۔۔۔۔امامہ سکتے میں آگئ۔۔
یہ وہ پہلے لمحہ تھا جب امامہ کو سالار کے حوالے سے بے قراری ہوئی۔ پیٹرس ایباکا مارا گیا تھا تو سالار کہاں تھا؟ وہ بھی تو واشنگٹن میں تھا۔پیڈی نے اسے نیوز چینل پر چلنے والی ساری خبریں بتا دی تھی۔ایباکا کیسے مارا گیا اور کیسے اس کی موت سامنے آئ اور اس سے آخری بار ملنے کے لیے جانے والا سالار سکندر تھا اور وہ اسی وقت سے غائب ہے۔
امامہ کے ہاتھ کانپنے لگے تھے۔اسکا خیال تھا کہ اسے دنیا میں سب سے زیادہ محبت جبریل سے تھی لیکن اب جب سالار اس کی زندگی سے کچھ دیر کے لیے عجیب طرح سے غائب ہوا تھا تو اس کے اوسان خطا ہونے لگے تھے۔
وہ جبریل اور عنایہ کو اسی طرح بستر پر چھوڑ کر درد سے بے حال ہوتے ہوئے بھی لڑکھڑاتے قدموں سے فون لیے کمرے سے باہر نکل آئ۔اسے ہاسپٹل میں اس جگہ جانا تھا جہاں سے وہ اس سے بات کرسکتی۔اسے اسکے گھر تباہ ہونے کا بھی خیال نہیں آیا تھا گھر، بچے سب کچھ یکدم اس ایک شخص کے سامنے بے معنی ہو گیا تھا جو اسکا سائبان تھا۔جو زندگی کی دھوپ میں اسکے لیے تب چھاؤں بنا تھا جب اسکا وجود حدت سے جھلس رہا تھا۔
اٹینڈنٹ اور پیڈی نے اسے روکنے کی کوشش کی لیکن وہ نہ رکی۔وہ ننگے پاؤں پھوڑے کی طرح دکھتے جسم کیساتھ کوریڈور میں نکل آئی تھی۔۔
سالار وہاں ہوتا تو اسے اس حالت میں بستر سے بھی اٹھنے نہیں دیتا لیکن مسئلہ ہی یہی تھا کہ سالار وہاں نہیں تھا۔۔اسکا جسم ٹھنڈا پڑ رہا تھا۔یہ موسم نہیں تھا جو اسے لرزا رہا تھا خوف تھا جو رگوں میں خون جما رہا تھا۔اسکا پورا جسم پتے کی طرح کانپ رہا تھا۔
آپکے شوہر بالکل ٹھیک ہیں میں تھوڑی دیر میں آپکی ان سے بات کروا دیتی ہوں۔۔
امامہ چلتے چلتے ساکت ہوئی اور اٹینڈنٹ کی آواز پر پلٹی۔۔۔۔اور پھر وہاں کھڑے کھڑے موم کی طرح پگھلنے لگی۔۔۔۔۔۔۔
———-++++++———-
سی آئی اے اور ورلڈ بنک کے ساتھ امریکن گورنمنٹ کو ایک ہی وقت میں سالار کی ضرورت پڑی تھی۔کانگو میں اگر اس وقت کوئی انکی عزت بحال کرنے کی پوزیشن میں تھا تو وہ سالار سکندر ہی تھا۔ پاور گیم ون مین شو بن گیا تھا۔افریقہ میں جو آگ ایباکا کی موت نے لگائی تھی ویہ سالار سکندر کی زندگی ہی بجھا سکتی تھی ۔فیصلہ تاخیر سے ہوا تھا لیکن ہوگیا۔۔۔
اس آپریشن کے تباہ کن نتائج نہ صرف سی آئی اے میں بہت سے لوگوں کی کرسیاں لے جانے والے تھے بلکہ ورلڈ بنک میں بھی بہت سے سر کٹنے والے تھے۔تاج کہیں اور رکھا جانے والا تھا۔
سالار اس سب سے بے خبر ہوٹل کے کمرے میں اب بھی نیوز چینلز دیکھ رہا تھا۔ وہ کچھ دیر پہلے اپنے باپ سے بات کر کے آیا تھا سالار کے سر میں درد شروع ہوا تھا۔
What is next to existasy
آہ کیا سوال تھا۔۔۔کیا یاد دلایا تھا ۔۔کیا یاد آیا تھا۔
Pain……
And what is next to pain
اتنے سالوں بعد ایک بار پھر وہ سوال و جواب اس کے ذہن میں چلنے لگے تھے۔آخر کتنے مواقع آئے تھے زندگی میں اسے سمجھانے کہ اس کے بعد کچھ نہیں ہے۔۔۔عدم وجود۔۔خالی پن۔۔۔۔۔۔
And what is next to nothingness
اسکا اپنا سوال ایک بار پھر اسکا منہ چھڑانے آیا تھا۔۔
Hell,,,,
جہنم کوئی اور جگہ تھی کیا؟ اس نے بے اختیار کراہتے ہوئے سوچا۔
دو دن بعد اسکا سیل فون جیسے موت کی نیند سے جاگا تھا ۔۔وہ میوزک اور وہ روشنی۔۔اسے لگا وہ خواب دیکھ رہا ہے۔۔وہ میوزک اس نے امامہ کی کالر آئی ڈی کیساتھ محفوظ کیا ہوا تھا۔۔۔
سیل فون پر اسکا مسکراتا چہرہ اسکا نام۔سالار کو لگا وہ واقعی جنت میں کہیں تھا۔اس نے کانپتے ہاتھوں سے کال ریسیو کی۔لیکن ہیلو نہیں کہہ سکا۔وہ امامہ نے کہا تھا۔بے قرار، بے آواز۔ وہ بول ہی نہ سکا۔سانس لینا تو بہت بڑی بات تھی اپنے قدموں پر کھڑا تھا تو کمال تھا۔۔۔۔۔۔
دوسری طرف سے وہ بے قراری سے اسکا نام لے رہی تھی ۔۔بار بار۔۔۔سالار کا پورا وجود کانپنے لگا تھا۔وہ آواز اسے ہرا کر رہی تھی۔۔کسی بنجر سوکھے پیڑ پر بارش کے بعد بہار میں پھوٹنے والی سبز کونپلوں کی طرح ۔۔وہ پھوٹ پھوٹ کر رونا چاہتا تھا لیکن اسکے سامنے رو نہیں سکتا تھا۔۔وہ مرد تھا۔۔بولنا مشکل تھا پر بولنا ضروری تھا۔
امامہ۔۔۔۔اس نے اپنے حلق میں پھنسے ہوئے نام کو آزاد کیا تھا۔۔۔
دوسری طرف وہ پھوٹ پھوٹ کر روئ تھی۔وہ عورت تھی یہ کام آسانی سے کر سکتی تھی۔وہ بے آواز روتا رہا۔۔وہ دوزخ سے گزر کر آئے تھے۔۔
بے آواز روتے ہوئے سالار نے اسی طرح کھڑے کھڑے اس کمرے کے درمیان میں امامہ کی ہچکیاں اور سسکیاں سنتے اپنے جوتے اتارے۔۔پھر وہ گھٹنوں کے بل سجدے میں جاگرا تھا۔۔۔
کئی سال پہلے وہ ریڈ لائٹ ایریا میں امامہ کے نہ ہونے پر اسی طرح ایک طوائف کے کوٹھے پر سجدے میں جا گرا تھا۔۔۔آج وہ امامہ کے ہونے پر سجدے میں گرا تھا۔۔
بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔۔وہ کن کہتا ہے اور چیزیں ہو جاتی ہیں۔۔گمان سے آگے، بیان سے باہر۔بیشک اللہ ہی سب سے بڑا اور طاقتور ہے۔۔
————++++++———
ہی از کیوٹ۔۔۔جبریل نے حمین پر ایک نظر ڈالنے کے بعد تین لفظوں میں بڑے محتاط اور مفصل انداز میں اپنے خاندان میں اس نئے اضافے پر تبصرہ کیا تھا۔۔اس کے برعکس عنایہ بڑے اشتیاق سے والہانہ انداز میں اس چھوٹے بھائی کو دیکھ رہی تھی جس کی آمد کے بارے میں وہ مہینوں سے سن رہی تھی۔امامہ کی باتیں سن سن کر اسے چھوٹے بھائی سے زیادہ اس پری کو دیکھنے کی دلچسپی ہوگئ تھی جو انکے گھر روز یہ دیکھنے آتی تھی۔کہ انہیں بھائ کی ضرورت تھی یا نہیں۔وہ امامہ سے زیادہ پری کے بارے میں اشتیاق سے پوچھتی تھی۔۔جبریل نے نہ کبھی بھائی کے بارے میں سوال کیا نہ ہی پری کے بارے میں۔۔کیونکہ اسے پتا تھا ممی جھوٹ بول رہی تھی۔کیونکہ نہ پریاں ہوتی ہیں نہ بھائی کو پری نے لانا تھا۔بھائ کو اسپتال سے آنا تھا اور اسپتال خود جانا پڑے گا۔اور وہ بھی کار سے سڑک کے ذریعے اس اسپتال میں جہاں وہ ممی کیساتھ جاتے تھے۔۔۔لیکن اس نے یہ معلومات صرف عنایہ کیساتھ تنہائی میں شیئر کی تھی امامہ کے سامنے نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا ممی جھوٹ بولتی ہیں۔۔۔عنایہ نے اس سے پوچھا۔۔۔۔۔
نہیں ۔۔۔وہ جھوٹ نہیں بولتی لیکن تم چھوٹی ہو اس لیے وہ تم سے کہتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے بڑے مدبرانہ انداز میں بہن کو سمجھایا تھا۔
وہ اس وقت امریکن ایمبیسی کے اندر موجود ایک چھوٹے سے میڈیکل یونٹ میں تھے۔ وہ طوفان جو انکی زندگی اڑانے آیا تھا۔کچھ بھی تہس نہس کیے بغیر قریب سے گزرتا چلا گیا۔امامہ اپنے بچوں کیساتھ سالار سے بات چیت کے بعد اب پرسکون تھی۔اس نے وقفے وقفے سے پاکستان میں سب سے بات کی تھی اور سب سے حمین کی پیدائش پر مبارکباد وصول کی تھی۔۔۔۔
سالار نے اسے ہر بات سے بے خبر رکھا تھا ۔فون پر ان کی لمبی بات نہیں ہوسکی تھی۔سالار نے اسے آرام کرنے کا کہا تھا۔اس نے امامہ سے کہا تھا کوئ سگنلز اور سیٹلائٹ کا مسئلہ تھا جسکی وجہ سے اسکا رابطہ اس سے نہیں ہو پارہا تھا۔۔اور اسی وجہ سے وہ اس قدر پریشان تھا۔
امامہ نے اس سے ایباکا کے حوالے سے بات کی تو اس نے اسے تسلی دی کہ سب ٹھیک ہے وہ پریشان نہ ہو اسکی زندگی کو خطرہ نہیں۔۔وہ اس سلسلے میں پولیس سے رابطے میں ہے۔
امامہ مطمئن ہوگئ تھی۔
پیڈی اب بھی اس کے ساتھ تھی اور وہ کمرے میں چلتے ہوئے ٹی وی پر کانگو کے حالات کے حوالے سے چلنے والی خبریں دیکھ رہی تھی۔جہاں ایباکا کا ذکر آرہا تھا وہاں سالار سکندر کا بھی ذکر ہو رہا تھا اس انٹرویو کی جھلکیاں بھی بار بار چل رہی تھی جس میں ایباکا نے بار بار سالار کے بارے میں اچھے الفاظ میں بتایا تھا اور اسکی اور اپنی زندگی کے حوالے سے لاحق خطرات کا بھی ذکر کیا تھا۔۔۔
سالار سے بات کرنے کے بعد امامہ کی جو پریشانی ختم ہوئ تھی۔ وہ ایک بار پھر سر اٹھانے لگی۔ وہ مصیبت میں تھا لیکن اسے کیوں بے خبر رکھ رہا تھا۔امامہ کو اسکا احساس ہونے لگا تھا ۔وہ وہاں بیٹھ کر اس سے فون پر سوالات کرنا نہیں چاہتی تھی وہ اسکے سامنے بیٹھ کر اس سے پوچھنا چاہتی تھی۔کہ اس کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔
ممی۔۔۔۔جبریل نے اسے مخاطب کیا۔۔۔
پاپا کو کون مارنا چاہتا ہے۔
وہ اسکے سوال پر منجمد ہوگئی تھی۔امامہ کو ٹی وی دیکھتے ہوئے اندازہ نہیں ہوا تھا کہ وہ بھی اس کے ساتھ بیٹھا ہوا وہ سب دیکھ اور سن رہا ہے۔۔ وہ بلا کا ذہین تھا اپنے باپ کی طرح۔۔۔ امامہ اور سالار اس کے سامنے گفتگو میں بہت محتاط رہتے تھے۔
امامہ نے ٹی وی آف کر دیا وہ اب اسے ٹالنا چاہتی تھی ۔
کوئ آپکے پاپا کو نہیں مارنا چاہتا۔۔اس نے جبریل کو اپنے ساتھ لگاتے ہوئے کہا۔اللہ آپکے پاپا کی حفاظت کر رہا ہے اور م سب کی بھی۔۔وہ اسے تھپتھپاتےہوئے بولی۔۔۔
اللہ نے پیٹرس ایباکا کی حفاظت کیوں نہیں کی؟؟
امامہ لاجواب ہوگئ۔۔۔جبریل کے سوال اسے ہمیشہ لاجواب کر دیتے۔۔۔وہ بحث نہیں کرتا تھا صرف پوچھتا تھا۔جواب سنتا تھا سوچتا تھا اور خاموش ہوجاتا تھا۔مگر امامہ سمجھ نہ پاتی کہ اسکے جواب نے اسے قائل کیا تھا یا نہیں۔۔۔وہ بچہ گہرا تھا۔ اس کا احساس اسے تھا۔لیکن اسے یہ اندازہ نہیں تھا کہ وہ اپنے ماں باپ کے حوالے سے بہت ساری باتیں سوچتا تھا۔ جو وہ ان سے پوچھتا کبھی نہیں تھا۔۔
دیکھو تمہارا چھوٹا بھائی کیسا لگتا ہے تمہیں۔۔۔امامہ نے موضوع بدلنے کی کوشش کی۔
ہی از کیوٹ۔۔۔۔اس نے جواب دیا.
تمہارے جیسا لگتا ہے نا۔۔امامہ نے اسے خوش کرنے کی کوشش کی۔۔
مجھے تو نہیں لگتا۔۔جبریل کو شاید ماں کی یہ مماثلت اچھی نہیں لگی۔
اچھا تم سے کیسے ڈفرنٹ ہے۔۔امامہ نے دلچسپی سے پوچھا۔
اس کی مونچھیں ہیں۔۔میری تو نہیں ہیں۔
امامہ بے ساختہ ہنسی۔وہ حمین کے چہرے اور بالائ لب پر آنے والی روئیں کو دیکھ کر کہہ رہا تھا۔
یہ میری طرح لگتا ہے۔۔۔عنایہ نے بڑی مدھم آواز میں اٹکتے ہوئے امامہ کو مطلع کیا تھا۔
وہ عنایہ کی مدھم آواز پر ہنس پڑی تھی۔وہ احتیاط کر رہی تھی کہ سویا ہوا بھائی بیدار نہ ہوجائے۔انہیں اندازہ نہیں تھا وہ سویا ہوا بھائی نہیں، سویا ہوا جن تھا جو بیدار ہونے کے لیے اپنے باپ کی آمد کا انتظار کر رہا تھا۔۔۔
سی آئ اے نے جس بچے کو تین ہفتے پہلے دواؤں کے اثر سے قبل از وقت دنیا میں لانے کی کوشش کی تھی۔ اگر انہیں محمد حمین سکندر کا تعارف ہوجاتا تو وہ اس پیدائش کو کم از کم تین سو سال تک روکتے۔۔۔
مستقبل سے بے خبر امامہ بڑی محبت سے اسے سوئے ہوئے دیکھ رہی تھی۔جو دو دن بعد ہی خراٹیں لے رہا تھا۔
کیا یہ خراٹے لیتا ہے؟ جبریل نے اسکے خراٹے نوٹس کرتے ہوئے بے یقینی سے ماں کو دیکھا۔
امامہ اسکے مشاہدے پر حیران ہوئ تھی۔۔۔جبریل کے احساس دلانے پر اس نے پہلی بار غور کیا تھا۔
نہیں۔۔۔وہ بس گہرے سانس لے رہا ہے۔۔۔
ممی کیا یہ آپ کا لاسٹ بے بی ہے۔۔سوال ڈائریکٹ آیا تھا اور سنجیدگی سے کیا گیا تھا۔امامہ کو سمجھ نہ آیا کہ وہ ہنسے یا شرمندہ ہو۔۔۔پیڈی ہنس پڑی تھی۔۔۔
ہاں سویٹ ہارٹ یہ لاسٹ بے بی ہے۔۔۔اس نے جیسے جبریل کو تسلی دی۔
ہم دو بھائی اور ایک بہن ہے۔۔جبریل نے انگلیوں کو چھو کر گنا۔۔۔۔
ہاں ڈیئر۔۔۔امامہ نے اسکا منہ چوم کر اسے یقین دلایا۔۔۔اسے پتا نہیں تھا اسکے گھر ایک اور بچی نے پرورش پانی تھی۔۔ کنیز غلام فرید عرف چنی۔۔۔۔۔۔
———–********———–
سکندر عثمان کے گھر آنے والا وہ مہمان ناقابل یقین تھا۔وہ ان کے گھر کئ بار گئے تھے مصالحت کے طور پر. تعزیت کے لیئے۔لیکن ہاشم مبین کبھی اس کے گھر نہیں آیا تھا۔۔وہ اب اسکے پڑوس میں نہیں رہے تھے وہ گھر بک چکا تھا۔سکندر پہلی نظر میں اسے پہچان نہ پایا۔۔اسکی سمجھ میں نہ آیا کہ وہ اسکے ساتھ کیا رویہ رکھیں۔۔
مجھے امامہ سے بات کرنی اور ملنا ہے۔چند ہی جملوں کے بعد ہاشم مبین نے ان سے کہا تھا۔
وہ یہاں نہیں ہے۔۔سکندر نے بڑے محتاط انداز میں بتایا۔
میں جانتا ہوں وہ کانگو میں ہے میں وہاں کا نمبر لینا چاہتا ہوں وہاں کے حالات خراب ہیں وہ ٹھیک تو ہے نا؟؟
انہوں نے رک رک کر ایک ہی سانس میں ساری باتیں کہیں۔
ہاں وہ سالار اور بچے ٹھیک ہیں۔۔۔وہ فون نمبر کا مطالبہ گول کر گئے تھے۔
میں اس سے بات کرنا چاہتا ہوں ایک بار اس سے ملنا چاہتا ہوں۔وہ اپنا مطالبہ نہیں بھولا تھا۔
میں امامہ سے پوچھے بنا آپکو اسکا نمبر یا ایڈریس نہیں دے سکتا۔۔سکندر نے بلا تمہید کہا۔۔
میں اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا اب۔۔۔۔اس نے تھکے ہوئے لہجے میں کہا۔۔۔۔
آپ اسے بہت زیادہ نقصان پہنچا ہی چکے ہیں وہ اب اپنی زندگی میں سیٹ ہے اپنے بچوں کیساتھ بہت خوش مطمئن زندگی گزار رہی ہے آپ کیوں ایک بار پھر اسے ڈسٹرب کرنا چاہتے ہیں آپ کی بیٹی نے پہلے ہی آپکی وجہ سے بہت تکلیف اٹھائ ہے آپ اب اسے چھوڑ دے بخش دے اسے۔۔۔
ہاشم مبین کے چہرے کی جھریاں ایک دم بڑھی تھی پھر انہوں نے مدھم آواز میں کہا۔
میں جانتا ہوں مجھے احساس ہے۔
سکندر عثمان بول نہ سکے اسے یہ جملہ سننے کی توقع نہیں تھی۔بس ایک آخری بار اس سے ملنا چاہتا ہوں اس کی ایک امانت ہے وہ دینی ہے مجھے۔اور اس سے معافی مانگنی ہے۔
آپ مجھے اپنا فون نمبر اور ایڈریس دے میں اس سے بات کروں گا پھر آپ سے رابطہ کروں گا آپ کہاں رہتے ہیں اب۔۔۔۔سکندر نے اس سے پوچھا۔
ایک اولڈ ہوم میں۔۔۔۔۔سکندر چپ کے چپ رہ گئے۔ہاشم مبین اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔
امامہ کو بتا دیں کہ میں نے اسلام قبول کرلیا ہے ۔۔پھر وہ مجھ سے بات ضرور کرے گی۔۔
اپنی نشست سے کھڑے ہوئے سکندر عثمان اگلے جملے پر دم بخود رہ گئے تھے۔۔۔
********———********
جیکی بے اختیار ہنسی۔۔جواب غیر متوقع نہیں تھا۔کوئی مرد اسکی کشش کے سامنے نہیں ٹھہر سکتا تھا۔۔
اوہ واؤ گریٹ۔۔۔جیکی نے شیمپئن کا ایک اور گھونٹ لیتے ہوئے قاتلانہ مسکراہٹ کیساتھ اس سے کہا۔
میں ایک رات کے تعلق پر یقین رکھتا ہوں لیکن صرف حوروں کے ساتھ۔۔۔
اس شخص کا اگلا جملہ اس کی سمجھ میں نہیں آیا۔۔۔
حور۔۔۔وہ کون ہے۔۔۔اسکی سمجھ میں نہ آیا۔۔۔سالار سکندر نے اپنے والٹ سے ایک وزٹنگ کارڈ نکال کر اسکی پشت پر پین سے کچھ لکھا اور انگلیوں کے نیچھے دبائے ہوئے اسے جیکی کی طرف بڑھا دیا۔جیکی نے عربی میں لکھا ایک جملہ دیکھا۔
یہ کیا ہے۔۔میں اسے پڑھ اور سمجھ نہیں سکتی۔اس نے کندھے اچکا کر سالار کو دیکھا جو اب اپنے گلاس کے نیچے کچھ نوٹ دباتے ہوئے اس سے کہہ رہا تھا۔ میں نے تمہارے ڈرنکس کی ادائیگی کردی ہے۔۔جیکی نے انگلی اور انگوٹھے میں دبے اس کارڈ کو سالار کو دکھایا اور دوبارہ کہا۔۔میں یہ پڑھ اور سمجھ نہیں سکتی۔۔۔۔۔
جنہوں نے آپکو بھیجا ہے وہ پڑھ بھی لیں گے سمجھ بھی لیں گے اور سمجھا بھی دینگے۔
جیکی کو اس کے جملے پر کرنٹ لگا۔اسکی مسکراہٹ سب سے پہلے غائب ہوئی۔۔
Excuse me….
اس نے لاعلمی ظاہر کرنے کی کوشش کی۔۔۔
Exceesed
وہ مسکراتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔
سی آئ اے ہیڈ کوارٹرز میں بیٹھے ہوٹل کے اس کمرے کو کنڈکٹ کر کے اور خفیہ کیمرے اور مائیکرو فون کی مدد سے گفتگو سنتے ان پانچ لوگوں کو پسینہ آیا۔
انہوں نے بے اختیار ایک دوسرے کو دیکھا اور اس شخص کو گالی دی تھی۔۔وہ اس شخص کو پیش کیا جانے والا خراج تحسین تھا۔وہ اس پھندے سے بچ کر نکلنے والا پہلا مرد تھا۔
اس کارڈ پر کیا لکھا ہے۔۔۔سی آئی اے کی سٹنگ ٹیم کے لیڈر نے آدھ گھنٹہ بعد جیکی کے اس کمرے میں آنے سے پہلے وہاں بلوائے عربی مترجم سے پوچھا۔۔۔
اعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم۔۔مترجم نے وہ تحریر پڑھی۔۔
مطلب؟؟
میں شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔۔مترجم نے روانی سے انگریزی میں ترجمہ کیا۔
ان سب لوگوں نے جیکی اور جیکی نے انہیں دیکھا۔۔۔پھر قاتلانہ انداز میں مسکراتے ہوئے کہا۔۔
مجھے یقین ہے کہ یہ میرے بارے میں نہیں۔۔۔۔
———+++++++——-
آپریشن کے دوران نیورو سرجن چند لمحوں کے لیے رکا ۔ایک نرس نے بنا کہے اسکے ماتھے پر ابھرنے والے پسینے کے قطروں کو صاف کیا۔۔وہ ایک بار پھر اپنے سامنے ٹیبل پر کھلے پڑے اس دماغ پر جھکا جو دنیا کے ذہین ترین دماغوں میں سے ایک تھا۔۔اور جو ایک گولی کا نشانہ بننے کے بعد اس کے سامنے تھا۔۔وہ امریکہ کی تاریخ کا کم عمر اور سب سے قابل سرجن تھا۔لیکن آج اسے پہلی بار لگ ریا تھا کہ اسکا ہنڈرڈ پرسنٹ کامیابی کا ریکارڈ ختم ہونے والا ہے۔ وہ ٹیبل سے ہٹا ۔اسے کسی چیز کی ضرورت پڑی تھی اس آپریشن میں کامیابی کے لیئے۔۔۔
•••••••••
کھڑکی سے سالار نے واشنگٹن میں ڈوبتے ہوئے سورج پر اک آخری نظر ڈالی۔ڈوبتے ہوئے سورج کی نارنجی شعاعیں جہاز کے دودھیا پروں کو بھی ایک روپہلا رنگ دے رہی تھی۔۔جہاز اب ہزاروں فٹ کی بلندی پر تھا۔نہ آسمان پر نہ زمین پر۔۔۔اور یہی کیفیت سالار کی بھی تھی ۔۔37سال کی عمر میں وہ ورلڈ بنک کا کم عمر ترین وائس پریزڈنٹ تھا۔اور اسکی تعیناتی چار دن پہلے ہوئی تھی۔
ورلڈ بنک کے بورڈ آف گورنرز کے ایک ہنگامی اجلاس نے متفقہ طور پر اسے افریقہ کے لیے نیا نائب صدر ۔۔نیا چہرہ چنا تھا۔۔۔
امریکا کا ہر چھوٹا بڑا چینل اس وقت ایک یہی خبر بریکنگ نیوز کی طرح چلا رہا تھا کہ سالار سکندر کی زندگی خطرے میں تھی اور وہ غائب کیوں تھا۔وہ اس صورت حال کے بارے میں کوئ بیان کیوں نہیں دے رہا۔ ایباکا کے بارے میں خاموش کیوں تھا ادھر سالار ورلڈ بنک کے صدر سے ملاقات کی تیاری کر رہا تھا۔جو ورلڈ بنک کے صدر کی درخواست پر ہو رہی تھی۔۔۔صدر کی منت بھری درخواستوں ہر وہاں صدر کے ذاتی استعمال میں آنے والی کاروں میں سے ایک شوفر سمیت لیموزین میں بادشاہوں کی طرح پروٹوکول کیساتھ وہاں بلایا جا رہا تھا ۔۔۔۔
ہیڈ کوارٹرز کے باہر پریس موجود تھا، اپنے مشین گن جیسے کیمروں اور مائیکس کیساتھ۔۔بجلی کی طرح فلیش لائٹس کے جھماکوں کیساتھ۔۔۔انہیں اطلاح کس نے دی تھی یہ سالار کے لیئے حیرت کی بات نہیں تھی۔ وہ سرکس کا وہ جانور تھا جسے بنک اور سی آئ اے اب نچا کر تماشہ لوٹنا چاہتے تھے۔اور وہ اپنی اگلی حکمت عملی ترتیب دے رہا تھا۔۔۔۔ ۔اسے اگر ناچنا ہی تھا تو اپنی شرطوں پر۔۔۔
وہ لیموزین سے اتر کر اپنے کھلے کوٹ کے بٹن بند کرتا فلیش لائٹس کے جھماکوں سے کچھ فاصلے پر ڈرائیو وے کے دونوں اطراف میں لگی ہوئ وارننگ ٹیپ کے پار کیمرہ مینوں اور جرنلسٹس کی بھیڑ کی طرف ایک نظر ڈالے بغیر عملے کے افراد کی رہنمائ میں لمبے لمبے قدموں کیساتھ اندر چلا گیا۔
کچھ نئے لوگوں کے علاوہ بورڈ روم میں وہ سب لوگ موجود تھے جس سے وہ کچھ دن پہلے بھی ملا تھا۔۔ لیکن اب سب کچھ بدل چکا تھا۔ سالار کا استقبال وہاں ایک ہیروں کے طور پر تالیاں بجاتے اور خیر مقدمی نعروں سے ہوا۔۔۔یوں جیسے وہ کوئی جنگ جیت کر کسی بادشاہ کے دربار میں اپنی خدمات کا کوئی اعزاز لینے آیا ہو۔ان سب کے چہروں پر مسکراہٹیں اور نرمی تھی۔آنکھوں میں ستائش اور ہونٹوں پر داد و تحسین۔۔۔سالار سکندر صرف یہ سمجھنے سے قاصر تھا کہ وہ کر کے کیا آیا تھا جس کے لیئے ایسا استقبال کیا گیا۔۔۔میز پر صدر کی سیٹ کے دائیں جانب پہلی نشست پر اسے بٹھایا گیا ۔۔ ۔
اس کی آمد کے پانچ منٹ بعد ورلڈ بنک کا صدر بورڈ روم میں آگیا۔۔سالار سکندر بھی باقی سب کی طرح احتراماً کھڑا ہوگیا۔۔
ورلڈ بنک کو آپ پر فخر ہے۔۔۔اس کے ساتھ ہی استقبالی کلمات کی ادائیگی کے بعد صدر کے منہ سے نکلنے والے پہلے جملے کو سن کر سالار کا دل قہقہہ مار کر ہنسنے کو چاہا۔۔صدر کے جملے پر بورڈ روم نے تالیاں بجائیں ۔
صدر نے کانگو کی صورت حال سے گفتگو کا آغاز کیا تھا اور وہاں ورلڈ بنک کے ملازمین پر ہونے والے حملوں میں زخمی اور مارے جانے والوں کے لیئے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئ۔اس کے بعد ایباکا کو شاندار خراج عقیدت پیش کیا تھا چند جملوں میں اور پھر وہ سالار سکندر کی رپورٹ پر آگیا تھا۔جو بنک کے بورڈ آف گورنرز نے پڑھ لی تھی نہ صرف پڑھ لی تھی بلکہ اس رپورٹ کی تمام سفارشات کو مانتے ہوئے ایک انکوائری کمیشن تشکیل دیا تھا ۔
سالار سکندر نہ حیران ہوا تھا نہ متاثر۔۔۔اسے اندازہ تھا ورلڈ بنک اس سے کم میں کانگو میں داخل نہیں ہو سکتا۔۔انہیں اب وہ پراجیکٹ ختم کرنا ہی تھا۔۔۔وہ خاموشی سے صدر کی گفتگو سنتا رہا۔اور گفتگو کے اختتام پر سالار سکندر کو دی جانے والی نئی ذمہ داریوں کا اعلان کیا۔۔بورڈ روم میں بجتی تالیوں کیساتھ وہ بے تاثر چہرے کے ساتھ اپنی بے وقعت خدمات کے صلے میں ملنے والے ایم ترین عہدہ کی قدر و قیمت کا اندازہ لگا رہا تھا۔سالار کو وہاں بیٹھے ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ دنیا کے طاقتور ترین مالیاتی ادارے کے ہیڈکوارٹرز میں نہیں کسی گھٹیا تھیٹر میں چلنے والے مزاخیہ ڈرامے کے سامنے بیٹھا ہے۔۔ جس میں ہر ایکٹر اوور ایکٹنگ کر رہا تھا۔
میں صدر اور بورڈ میں موجود تمام لوگوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے مجھے یہاں آنے کا موقع دیا اور مجھے خوشی ہے کہ اس رپورٹ کو بنیاد بناتے ہوئے اس کی تمام سفارشات کو مان لیا گیا ہے۔مجھے امید ہے اس قدم کے اٹھانے سے ورلڈ بنک کو ایک بار پھر کانگو میں اپنی ساکھ بحال کرنے میں مدد ملے گی۔۔۔سالار نے بہت مختصر بات کی تھی۔ٹو دی پوائنٹ۔۔۔پروفیشنل۔۔۔جذباتیت کے بغیر۔۔۔۔۔اور اسی دو ٹوک انداز میں جس کے لیئے وہ مشہور تھا۔۔
میں شکر گزار ہوں کہ ورلڈ بنک اور بورڈ آف گورنرز نے مجھے نائب صدر کے لیے منتخب کیا ہے لیکن میں اپنی ذاتی مصروفیات کی وجہ سے یہ عہدہ سنبھال نہیں پاؤں گا۔۔مجھے یقین ہے بنک کی ٹیم میں اس عہدے کے لیے مجھ سے زیادہ موزوں لوگ موجود ہیں ۔
صدر نے بے چینی سے اپنی نشست پر پہلو بدلا۔۔۔اسے اپنی ساکھ بچانا تھی اور یہ کام اس وقت صرف سالار کرسکتا تھا۔میٹنگ اس کے بعد ختم ہوئی اور اس کے بعد سالار ورلڈ بنک کے صدر سے اکیلے میں ملا تھا۔۔وہاں کا ماحول کچھ اور تھا اور باتیں بھی۔
مجھے اپنے کمرے سے چوری ہونے والی تمام چیزیں چاہیے۔۔۔لیپ ٹاپ۔۔ٹریول ڈاکومنٹس۔۔۔میرے باقی ڈاکومنٹس۔۔۔۔سالار نے اس کمرے میں میٹنگ کے شروع میں ہی ایجنڈا سیٹ کیا تھا۔۔وہ اپنی باتیں منوانے آیا تھا آج۔۔۔
آپ کے کمرے سے چوری ہونے والی چیزوں سے ورلڈ بنک کا کیا تعلق۔۔۔۔
صدر نے انجان بننے کی کوشش کی۔ سالار نے اسکی بات کاٹ دی۔۔۔
اگر میری چیزیں نہیں مل سکتی تو پھر مجھے کسی بھی ایشو پر بات کرنے یہاں نہیں بیٹھنا۔۔۔۔۔
صدر نے لہجہ نرم کرتے ہوئے جیسے اسے چمکارا۔۔میں ہدایت جاری کرتا ہوں کہ فوری طور پر آپکے نقصان کی تلافی کی جائے اور آپکے ڈاکومنٹس کا متبادل ۔۔۔۔۔
سالار نے اسی اکھڑ پن سے اسکی بات کاٹی۔۔۔مجھے اپنی چیزیں چاہیئے۔۔ نہ تلافی چاہیئے نہ متبادل۔۔۔مجھے اپنے اوریجنل ڈاکومنٹس چاہیئے۔۔۔
خاموشی کے ایک لمبے وقفے کے بعد صدر نے ہتھیار ڈالتے ہوئے کہا۔۔۔ٹھیک ہے مل جائیں گے۔۔۔لیکن ورلڈ بنک اور امریکہ کو کانگو میں آپ کی ضرورت ہے۔ ایک شرط اس نے منوائ ایک شرط انہوں نے رکھ دی۔
میں کسی کی کٹھ پتلی بن کر کانگو میں وہاں کے انسانوں کا استعمال نہیں کرسکتا نہ ہی کروں گا۔اس نے دو ٹوک کہا۔
آپ کانگو میں جا کر وہ کریں جو آپ کرنا چاہتے ہیں۔۔صدر نے کہا۔۔۔
میں بندھے ہاتھوں سے کہیں کچھ نہیں کرسکتا۔
نائب صدر کے طور پر آپ کو لامحدود اختیارات دیئے جائینگے۔۔آپ پراجیکٹ کو روکنا چاہیں آپکو ہیڈکوارٹر کی منظوری کی ضرورت نہیں آپ خود فیصلہ کر سکتے ہیں۔۔۔۔
چند لمحوں تک سالار بول نہ سکا۔۔یہ جھانسہ تھا تو پکا تھا۔۔۔۔جتنے اختیارات آپ مجھے دیکر کانگو بھیجنا چاہتے ہیں اتنے آپ کسی کو بھی دیں وہ صورت حال سنبھال لے گا۔۔سالار نے کہا۔
ایشو اختیارات کا نہیں ہے نیت کا ہے۔۔جو کچھ تم افریقہ میں کرنا چاہتے ہو وہ کوئی دوسرا نہیں کرنا چاہے گا۔
کچھ وقت لو، سوچو، پھر فیصلہ کرو۔۔۔۔۔اسے قید کر کے آزاد کیا گیا تھا۔۔۔
اس نے واپسی پر میڈیا سے بات نہیں کی۔۔۔الجھن تھی کہ اور بڑھی تھی۔ہوٹل واپس آتے ہی اس نے کمرے میں ٹی وی پر نہ صرف ورلڈ بنک ہیڈ کوارٹر جاتے اپنی فوٹیج دیکھ لی بلکہ نیوز چینل پر اپنی تعیناتی کی بریکنگ نیوز بھی پڑھ لی۔
وہ اسکے لیے انکار کو مشکل بنا رہے تھے جال کی ڈوریاں کستے جارہے تھے۔۔۔اسکا سیل فون منٹوں میں مبارکباد کے پیغامات اور کالز سے بجنے لگا تھا۔۔۔۔۔۔۔
ورلڈ بنک جوائن کرنے کے فیصلے سے امامہ خوش نہیں تھی اسکا اعتراض وہی تھا اور وہی تھا۔۔۔تم بیشک ورلڈ بنک کے پراجیکٹس سے منسلک ہورہے ہو لیکن وہ کرتا تو سود کا کاروبار ہی ہے نا۔چھوٹے بنک افراد کا استعمال کرتا ہے اور ورلڈ بنک قوموں کا۔۔۔مجھے بتاؤ فرق کیا ہوا۔۔۔آسان قرضہ۔۔۔سستا قرضہ۔۔۔لونگ ٹرم قرضہ۔۔۔شارٹ ٹرم قرضہ۔۔۔آسان شرائط قرضہ۔۔۔کوئ ایسا قرضہ ہے ورلڈ بنک کیساتھ جس پر وہ سود نہ لیتا ہو۔۔۔۔۔۔۔اس نے سالار کے ساتھ بحث کی تھی۔۔۔
اگر ہم اسی طرح ایک ایک چیز میں میخ نکالتے رہیں گے تو پھر اس معاشرے اور اس سسٹم میں تو کہیں بھی کام نہیں کر سکیں گے کیونکہ یہ تو پورا معاشرہ سود پر کھڑا ہے اور وہ ہمارے لیے اپنے سسٹم کو نہیں بدلیں گے۔۔ اس نے امامہ کو سمجھانے کی کوشش کی۔۔۔پھر تو ہمیں حلال کھانے کی کوشش بھی ترک کرنی چاہیئے ۔۔پھر تم سپر سٹور میں ڈبوں پر ان کے اجزاء کیوں چیک کرتے رہتے ہو ۔۔بس یہ سمجھ کر کھا لینا یہ سب کچھ کہ یہ ہمارا نہیں انکا معاشرہ ہے اور اپنے سپر سٹور میں وہ چیزیں رکھیں گے جو انہیں پسند ہو۔۔۔۔
امامہ نے اسے لاجواب کردیا تھا۔۔وہ بحث جاری رکھنے کی بجائے وہاں سے اٹھ گیا تھا۔۔۔لیکن امامہ کی ناراضگی کے باوجود اس نے ورلڈ بنک جوائن کرلیا ۔اور امامہ کو اس نے اپنا ایگریمنٹ اور جاب پروفائل کے کاغذات زبردستی پڑھ پڑھ کر سنائے ۔۔اس نے سب کچھ سننے کے بعد اس پیپرز کو واپس لفافے میں ڈال کر اسے دیتے ہوئے کہا۔۔
تم سود کے پیسے سے انسانیت کی خدمت اور بہتری کے خواب دیکھ رہے ہو اور تمہیں لگتا ہے اس میں فلاح ہے۔۔۔۔۔نہیں ہے۔۔۔۔۔سود کا ثمر انسانوں کی زندگی بدل سکتا ہے مگر تباہی میں۔۔۔۔بہتری میں نہیں۔۔۔۔اس کی یہ برملا تنقید سالار کو خفا بھی کرتی تھی اور کمزور بھی۔۔اس دن امامہ کو فون کرتے ہوئے اسے احساس تھا کہ وہ اس سے کیا سننے جارہا ہے لیکن خلاف توقع اس نے اس نئے عہدے کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی۔۔وہ اس سے جبریل، عنایہ اور حمین کی باتیں کرتی رہی۔۔۔یہاں تک کہ سالار کا احساس جرم حد سے گزر گیا۔وہ جیسے چاہتا تھا کہ وہ اسے ملامت کرے۔۔کوئ تو مبارکباد دینے کی بجائے اسکے ضمیر کو کچوکے لگائے۔۔۔۔۔
تمہیں پتا ہے ورلڈ بنک نے مجھے وائس پریزیڈنٹ۔۔۔۔۔۔۔
امامہ نے اسکو بات مکمل نہیں کرنے دی۔۔ہاں۔۔۔یک حرفی جواب آیا۔۔
تو؟؟ سالار کو تسلی نہیں ہوئ۔۔
تو کیا؟؟ امامہ نے مدھم آواز میں پوچھا۔۔
تو تم کچھ نہیں کہو گی؟ اس نے جان بوجھ کر یہ نہیں کہا تھا کہ تمہارا کیا خیال ہے۔۔۔
یس۔۔۔ایک اور یک حرفی جواب آیا۔۔۔۔
کیوں؟؟ وہ بے قرار ہوا۔۔
تم ہر فیصلہ اپنی مرضی سے کرتے ہو ۔۔۔پھر رائے دینے کا فائدہ۔۔۔
سالار ایک لمحہ کے لیے خاموش ہوا پھر اس نے مدہم آواز میں کہا۔۔
میں نے ابھی آفر قبول نہیں کی۔۔۔۔۔
کر لو گے۔۔میں جانتی ہوں۔۔۔جواب نے اسے ہنسایا۔
اس میں ہنسنے والی تو کوئی بات نہیں تھی ۔۔امامہ نے کہا۔۔۔
میں جب بھی تمہاری بات نہیں مانتا، نقصان اٹھاتا ہوں۔۔۔اس بار وہ ہنس پڑی۔۔ بڑی خوشی ہوئ یہ بات سن کر۔۔لیکن میں یہ تو نا سمجھوں نا کہ تم آئندہ ہمیشہ میری بات مانا کروگے۔۔اس نے سالار پر چوٹ کی تھی۔
بالکل۔۔۔۔جواب تڑاخ سے آیا تھا۔۔۔
اس بار دونوں ہنس پڑے تھے۔۔۔پھر سالار نے ایک گہرا سانس لیتے ہوئے کہا۔
یہی وہ بات تھی جو کانگو سے آتے ہوئے تم سے کہنا چاہتا تھا۔
امامہ کو یاد آگیا تھا اسے ایک اعتراف کرنا تھا واپس آکر۔۔۔۔۔۔۔
اوہ۔۔۔۔میں نے سوچا پتا نہیں کیا کہنا چاہتے ہو۔وہ دھیرے سے ہنسی اور کہا۔ایسا کیا ہوا جو تم یہ بات کر رہے ہو مجھ سے یا تب کہنا چاہ رہے تھے۔۔۔۔
سالار کی سمجھ میں اسکا جواب نہیں آیا۔۔۔
تم مجھ سے شیئر نہیں کرنا چاہتے۔۔امامہ نے اسکی خاموشی کو ایک پہیلی کی طرح بوجھا۔
ابھی نہیں۔۔۔اس نے جواب دیا۔۔
یہاں کب آؤ گے؟ امامہ نے بات بدل دی تھی۔
ابھی فلائٹس بند ہیں کنشاسا کے لیے ۔۔لیکن تم تو پریشان نہیں ہو نا؟؟ سالار نے پوچھا۔۔۔
اب نہیں ہوں اور تم بھی پریشان مت ہونا۔۔مجھے اور حمین کو علاج کی تمام سہولیات مل رہی ہیں۔امامہ نے اس کے لہجے میں نمودار ہوتی تشویش کو محسوس کرتے ہوئے کہا۔۔۔سالار نے مطمئن ہوکر کچھ دیر جبریل اور عنایہ سے بات چیت کی اور اسکے بعد کال ختم کر کے وہ اس لیپ ٹاپ اور کاغذات کی طرف متوجہ ہوا جو ابھی کچھ دیر پہلے ایک سر بہ مہر تھیلے میں ایک شخص اسکے کمرے میں دے گیا تھا سب کچھ بالکل محفوظ حالت میں تھا۔کوئ چیز ڈیلیٹ یا غائب نہیں ہوئ تھی۔اسکے باوجود سالار کو انباکس میں جاتے ہی اندازہ ہوگیا تھا کہ کوئ اس سے پہلے بھی وہاں تھا کیونکہ انباکس میں موجود سات گھنٹے پہلے تک آنے والی ہر ای میل کھولے اور پڑھے جانے کی نشاندہی کر رہی تھی۔۔انباکس میں موجود ای میلز پر ایک طائرانہ نظر ڈالتے ہوئے ایک ای میل پر ایک لمحہ کے لیے اسکا دل رکا۔۔وہ پیٹرس ایباکا کا آخری پیغام تھا۔۔
تمہیں پتا ہے میں اس وقت کہاں کھڑا ہوں۔۔۔ٹائم وارنر سینٹر۔۔۔اور کس لیے؟؟ ۔۔۔میں ابھی کچھ دیر پہلے اینڈرسن کووپر کیساتھ تھا سی این این سٹوڈیوز میں۔اس کے شو میں شرکت سے پہلے ابتدائ بات چیت کے سیشن کے لیئے۔۔۔ مجھے پتا ہے اس وقت تم کہو گے۔۔۔اوہ مائ گاڈ۔ man you did it
جس چیز نے اس وقت سالار کی آنکھوں کو دھندلایا تھا وہ مسکراہٹیں تھی ایباکا کے جملے کے اختتام پر۔۔اینڈرسن کووپر سے ملنے کے بعد میں نے سب سے پہلا میسج تمہیں کیا ہے۔ کیونکہ میں یہاں تک کبھی نہیں پہنچتا اگر مجھے تمہاری صورت میں ورلڈ بنک کی بے ضمیر دنیا میں ضمیر کی جھلک نہ دکھائ دیتی۔میں ان دیووں کے سامنے واقعی بونا تھا جو میرے ملک کو لوٹنا چاہتے تھے لیکن پھر میں تم سے ملا اور مجھے لگا کہ مجھے ابھی ہتھیار نہیں ڈالنے چاہیئے۔۔واشنگٹن پہنچ جاؤ تو مجھے انفارم کرنا ہم دونوں کو ملنا ہے۔کافی دن ہوگئے سٹار بکس کی کافی پیئے۔ اور اس دفعہ بل میں پے کرونگا۔ای میل کا اختتام ایک اور مسکراہٹ سے ہوا تھا۔ایک آنکھ مارتی شرارتی مسکراہٹ سے۔۔۔
کانگو کی تاریخ کو ایباکا نے اپنے خون سے بدلا تھا۔۔۔سالار نے ای میل بند کردیا۔۔۔
اس رات وہ مصلے پر بیٹھا گڑگڑاتا رہا۔۔۔اللہ سے آزمائش میں آسانی کی بھیک،،، سیدھے رستے کی بھیک جس سے وہ بھٹک گیا تھا اور ان لوگوں میں شامل نہ کرنے کی بھیک جن پر اللہ کا عذاب آتا ہے۔۔
فجر کے وقت اسے ڈاکٹر سبط علی کی خیال آیا تھا۔اور خیال نہیں آیا تھا وہ جیسے دیوانہ وار انکی طرف لپکا تھا۔۔۔وہ ایمرجنسی میں ٹکٹ حاصل کر کے اگلی رات پاکستان دوڑا چلا آیا تھا۔ ڈاکٹر سبط علی اس سے ہمیشہ کی طرح گرمجوشی سے ملے اور کچھ حیرانی سے۔۔ وہ کئ سالوں بعد اچانک اس طرح ان کے پاس بھاگتا ہوا آیا تھا۔۔۔انہوں نے سالار سے باری باری سب کی خیریت دریافت کی۔۔۔
امامہ ٹھیک ہے؟
جی۔۔۔۔
جبریل کیسا ہے؟
وہ بھی ٹھیک ہے۔
عنایہ؟؟
وہ بھی۔۔
اور حمین؟؟
وہ بھی۔۔۔وہ ایک ایک کے بارے میں بتاتا گیا اور ڈاکٹر سبط علی الحمد للہ کہتے رہے۔پھر انہوں نے پوچھا۔۔۔
اور تم؟؟؟
نہیں۔۔۔میں ٹھیک نہیں ہوں۔۔اس بار سالار بچوں کی طرح بلک بلک کر رونے لگا۔ وہ دم بخود اسے دیکھتے رہے۔۔وہ پہلی بار ایسے ٹوٹ کر رویا تھا۔۔۔۔
مجھ سے ایک گناہ ہو گیا ہے ڈاکٹر صاحب۔اس نے روتے ہوئے اپنا چہرہ رگڑتے ہوئے کہا۔۔۔
مجھے مت بتانا۔۔سالار نے حیران ہوکر انکا چہرہ دیکھا۔۔
آپ کو بتانے کے لیے ہی یہاں آیا ہوں۔۔۔
میں تمہارا گناہ جان کر کیا کروں گا۔۔اب روک نہیں سکتا تمہیں۔۔۔پچھتاوا دیکھ چکا ہوں۔بہتر ہے اپنے اور اللہ کے درمیان رکھو اسے۔۔۔جو پردہ ہے اسے پڑا رہنے دو ۔اللہ غفور الرحیم ہے۔۔انہوں نے ہمیشہ کی طرح تحمل سے انہیں سمجھایا تھا۔۔
میں بتاؤں گا نہیں تو میںری گمراہی ختم نہیں ہونگی۔آپکو اندازہ نہیں میں کتنی تاریکی میں کھڑا ہوں۔۔مجھے اس تاریکی سے خوف آنے لگا ہے۔۔۔میں نے سود والا رزق چن کر اللہ کی حد توڑ دی ہے۔اور مجھے ایک کے بعد ایک پریشانی آرہی ہے۔میری سمجھ میں نہیں آرہا میں کیا کروں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
توبہ کرلو اور وہ رزق چھوڑ دو۔۔۔انہوں نے بلا توقف بڑی سہولت سے کہا۔
توبہ آسان ہے مگر دلدل سے نکلنا آسان نہیں میرے لیئے۔۔۔
انہوں نے سالار کی بات کے جواب میں کہا۔۔آسان تو دنیا میں کچھ بھی نہیں ہوتا لیکن ممکن بنا لیا جاتا ہے۔۔۔۔
میں سینتیس سال کا ہوں اپنی عمر کے دس سال میں نے دنیا کے بہترین مالیاتی اداروں میں کام کیا سارا رزق سود سے کمایا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: