Aab e Hayat Novel by Umera Ahmed Read Online – Episode 27

0

آب حیات از عمیرہ احمد – قسط نمبر 27

–**–**–

حمین بہت خوش قسمت ثابت ہوا ہے تمہارے لیے۔سکندر عثمان نے فون پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا۔ وہ گہری سانس لے کر رہ گیا۔
وہ ٹھیک ہے نا؟
ہاں، وہ بالکل ٹھیک ہے۔ سٹیبل ہے۔ سالار نے انہیں بتایا۔ تب سکندر کو سکول کا کوئی چوکیدار یاد آیا تھا۔ جو ان سے کچھ رقم ادھار لینے آیا تھا۔ کہہ رہا تھا کہ سود پر کوئی رقم لی تھی اس کے ماں باپ نے، اس کی بہنوں کی شادی کے لیے۔ اور وہ ابھی تک سود اتار رہا ہے۔ اب شاید کوئی اور مسئلہ آن پڑا ہے انہیں۔
سکندر عثمان سالار کو بتا رہے تھے اور سالار کو لگا کسی نے اس کے گلے کی رسی میں ایک گرہ اور ڈال دی تھی۔ بعض دفعہ جب اللہ کوئی چیز منہ پر مار کر تنبیہہ کرنا چاہتا ہے تو پھر ہر جگہ سے وہی بات بار بار گشت کرتی ہوئی آتی ہے۔
اس کے پی ایچ ڈی کے لیے امریکہ جانے کے بعد سکندر عثمان ہی گاؤں کے اسکول کو دیکھتے رہے تھے۔ ہفتے میں ایک بار وہاں جاتے اور اسکول کی انتظامیہ اور ملازمین کے معاملات دیکھتے۔
آپ اس کی مدد کریں، اس کا قرضہ اتار دیں۔ سالار نے ان سے کہا۔
ہاں۔ تاکہ وہاں لائن لگ جائے قرض مانگنے والوں کی۔ہمیں کیا پتا وہ سچ بول رہا یا جھوٹ۔ یہاں گاؤں، دیہات میں ستر فیصد لوگ سود پر ایک دوسرے سے قرض لیتے بھی ہیں اور دیتے بھی۔یہ ان کی زندگی اور کاروبار کا سائیکل ہے۔ تم یا میں اسے روک سکتے ہیں نہ بدل سکتے ہیں۔ سالار یہ بات سن کر دنگ رہ گیا تھا کہ وہ وبا کہاں کہاں تک ناسور کی طرح پھیلی ہوئی ہے۔
اسی رات اپنے ہوٹل میں ورلڈ بنک کے کچھ ساتھیوں سے اس کی ملاقات تھی۔ انہیں کانگو کے لیے اپنا لائحہ عمل ڈسکس کرنا تھا۔ گپ شپ کے بعد وہ اس ہوٹل کے نائٹ کلب میں ان سب کے اصرار پر ایک اسپینی گلوکارہ کو سننے کے لیے گیا تھا اور وہاں جیکی اس سے آ ٹکرائی تھی۔ ایسی جگہ پر اتنی پرکشش عورت کا اس پر یوں فدا ہونا اور اس کے ساتھیوں کا اس کے اطراف سے ایک دم، ایک ایک کر کے غائب ہونا، سالار نظرانداز نہیں کر سکا۔ اسے ہنسی آئی تھی۔
مغرب کو ہر فرسٹریشن کا علاج الکحل اور عورت کی شکل میں کیوں سوجھتا ہے؟ ان کی ہر ترغیب کی ابتدا اور انتہا عورت ہی کیوں ہوتی ہے؟ اور سی آئی اے کو آخر جلدی کس بات کی تھی؟ اس کو ٹریپ کرنا تھا تو اتنا گھسا پٹا منصوبہ تو نہیں بناتے۔مستقبل میں اس کو استعمال کرنے کے لیے کوئی کمزوری چاہیے تھی تو کچھ انتظار تو کرتے۔
وہ وہاں سے اٹھ آیا تھا اور اب وہ اس جہاز پر تھا۔اس سفر میں اس نے یہ طے کیا تھا کہ وہ اپنی نوکری سے کمائے جانے والے پیسوں سے اپنے خاندان کی کفالت نہیں کرے گا۔ اس کے لیے کسی بھی ذریعے سے ان کی کفالت کوئی مسئلہ نہیں تھا۔وہ بہت سی امریکن یونیورسٹیز میں لیکچرز کے لیے مدعو ہوتا رہا تھا۔ اور اس کے لیے اسے معاوضہ بھی دیا جاتا رہا تھا۔
اسے اب ورلڈ بنک کی نائب صدارت صرف دو چیزوں کے لیے درکار تھی۔ وہ قرض سر سے اتار دیتا جو ایباکا نے اس کے لیے چھوڑا تھا اور وہ کچھ مہلت حاصل کر لیتا، سود سے پاک پہلے بین الاقوامی مالیاتی ادارے کی تشکیل کے لیے۔ مقصد بڑا تھا۔وسائل بھی اتنے ہی درکار تھے۔ دل کہتا تھا یہ بے وقوفی ہے اور ضمیر کہتا تھا کہ راستہ ہے تو یہی ہے۔
———————————-
اس کا ہاتھ پکڑے اب وہ اسے کسی راستے پر لے جانے لگا تھا۔ وہ ایک جھیل تھی، ہلکی نیلی رنگت کے شفاف پانی کی ایک جھیل۔ جس کے پانی میں رنگ برنگی مچھلیاں تیرتی ہوئی وہ دیکھ سکتی تھی۔
اور اس کی تہہ میں بے شمار رنگوں کے موتی اور سیپیاں۔۔۔۔۔۔۔ جھیل کے چاروں اطراف پر پھول تھے۔اس کے قدموں کو روکنے والی شے جھیل کے کنارے پر موجود لکڑی کی وہ خوبصورت کشتی تھی۔
یہ میری ہے۔ وہ اس سے ہاتھ چھڑا کر بچوں کی طرح بھاگتی ہوئی کشتی کی طرف گئی۔ وہ اس کے پیچھے لپکا۔ وہ دونوں کشتی میں بیٹھ گئے۔ ہوا کا ایک تیز جھونکا کشتی کو پانی میں لے گیا۔ دونوں بے اختیار ہنسے تھے۔ پانی پر تیرتا ایک ہنس اس کی طرف آ گیا تھا۔پھر دوسرا۔۔۔۔۔۔۔ پھر تیسرا۔۔۔۔۔۔۔ وہ کشتی کے گرد اب دائرہ بنا کر تیر رہے تھے۔ وہ پاس سے گزرتے ہر ہنس کو چھوتی کھلکھلا رہی تھی۔
امامہ ہڑبڑا کر اٹھی تھی نیند سے۔ اس نے اپنی کلائی پر کسی کا لمس محسوس کیا تھا۔ سالار اس کے قریب کرسی پر بیٹھا ہوا تھا۔ وہ خواب آور دواؤں کے زیر اثر ہوتے ہوئے بھی ایک دم اپنا ہاتھ اس کے ہاتھوں سے کھینچتی ہوئی کہنیوں کے بل اٹھ کر بیٹھنے لگی تھی سالار نے اسے روکا۔
اٹھو مت!
تم واقعی آگئے ہو؟ اسے اب بھی جیسے یقین نہیں آیا تھا۔
وہ دھیرے سے ہنسا۔ تمہیں بتایا تو تھا کہ آجاؤں گا۔
یہ تو نہیں بتایا تھا کہ کب آؤ گے؟ اور تم نے مجھے جگایا کیوں نہیں؟
بس، میں نے سوچا تمہاری نیند خراب ہو گی۔ وہ مدھم آواز میں بات کر رہا تھا۔ دوسرے بستر پر جبریل اور عنایہ گہری نیند سو رہے تھے۔
تمہیں کیا ہوا ہے؟ امامہ نے سالار کے چہرے کو پہلی بار غور سے دیکھا۔اس کی آنکھوں کے گرد گہرے سیاہ حلقے اور آنکھیں سرخ اور یوں سوجھی ہوئی تھی جیسے کئی راتوں سے نہیں سویا ہو۔
کچھ نہیں۔ بس اتنے دن گھر سے دور رہا، شاید اس لیے پھر۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سالار نے اس سے آنکھیں ملائے بغیر کہا۔امامہ نے اس کی بات کاٹ دی۔ اسے یک دم اپنا خواب یاد آ گیا۔
سالار تمہیں پتا ہے، ابھی میں کیا خواب دیکھ رہی تھی؟ سالار نے چونک کر اسے دیکھا۔
کیا؟
میں نے خواب میں ایک گھر دیکھا، جھیل کنارے۔ جہاں تم مجھے لے کر جا رہے تھے، ایک کشتی میں بٹھا کر۔
وہ دم بخود رہ گیا تھا۔ جو گھر اس نے امریکہ میں اس کے لیے mortgage کیا تھا، وہ سمندر کے ایک جھیل نما ٹکڑے کے کنارے تھا۔ اس نے ابھی امامہ کو بتایا نہیں تھا۔ وہ اسے سرپرائز دینا چاہتا تھا اس کی اگلی سالگرہ پر۔
جس جھیل کے کنارے وہ گھر تھا، وہ بے پناہ خوبصورت تھی۔ سفید کنول کے پھولوں سے بھری ہوئی، نیلے پانی کی جھیل۔جس میں ہر طرف راج ہنس تیر رہے تھے۔ اور پانی میں رنگ برنگی مچھلیاں۔
وہ بول نہیں پا رہا تھا۔ جس جھیل کنارے اس نے وہ گھر خریدا تھا وہ بھی کچھ ایسی ہی تھی۔ ایک لمحہ کے لیے اس نے سوچا شاید امامہ کو اس گھر کا پتا لگ گیا ہے، شاید اس نے لیپ ٹاپ میں اس گھر کی تصویر دیکھ لی تھی اور اب جان بوجھ کر اسے چھیڑنے کی کوشش کر رہی ہے۔
لیکن ایسا تھا تو اس نے لیپ ٹاپ کب دیکھا تھا؟ پچھلے کئی دنوں میں تو یہ نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ اس کا لیپ ٹاپ اس کے پاس تھا۔
اور گھر کیسا تھا؟ وہ کریدے بغیر نہ رہ سکا۔
شیشے کا۔
سالار کے رونگٹے کھڑے ہونے لگے۔ وہ گھر بھی شیشے کا تھا۔
اس طرح کیوں دیکھ رہے ہو؟ امامہ کو اس کی نظریں عجیب سی لگی۔
اس نے امامہ سے نظریں ہٹا لی۔ وہ اسے یہ نہیں بتا سکا کہ کنشاسا آنے سے پہلے ڈاکٹر سبط علی سے مل کر واشنگٹن آنے کے بعد، اس گھر کی mortgage کینسل کروا چکا تھا۔ امامہ کے خوابوں کا گھر اس کے ہاتھ سے جا چکا تھا۔ ایک لمحے کے لیے اسے عجیب پچھتاوا ہوا۔ اسے یہ بھی خیال آیا تھا کہ وہ اس گھر کو واپس حاصل کر لے، فوری طور پر امریکہ بات کر کے۔ وہ اس وقت جس پوزیشن میں تھا وہ یہ کرسکتا تھا۔ مگر دوسرے ہی لمحے اس نے ذہن کو جھٹکا تھا۔یہ صرف سی آئی اے نہیں تھی جو اس کے لیے جال بچھا رہی تھی۔ شیطان بھی وہی تھا۔ اس کے بندوں کو اپنے بندوں میں بدلنے کے لیے کمر بستہ۔ جال سی آئی اے نے عورت کا پھینکا تھا تو شیطان نے گھر کا۔زن، زر، زمین۔ انسان انہیں تین چیزوں کی وجہ سے سردار بنتا ہے اور انہیں کی وجہ سے سر دار تک جاتے ہیں۔ سالار سی آئی اے کو ”اعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم“ کہہ کر جوتا مار آیا تھا تو کیسے ممکن تھا شیطان خود اٹھ کر سامنے نہ کھڑا ہوتا۔ اور شیطان کے منہ پر تھوک کر آنے والا جس کی پناہ اور حفاظت کا دعوی کر کے وہ آیا تھا یہ کیسے ممکن تھا کہ وہ رب اپنے بندے کی حفاظت کے لیے وہاں نہ ہوتا۔وہ حافظ قرآن تھا۔ گناہ پر اس کے لیے سزا زیادہ تھی تو نیکی پر اس کے لیے انعام بھی بے پناہ۔۔۔۔۔
حمین کیسا ہے؟ وہ ایک دم بات کو وہی چھوڑ کر حمین کے انکوبیٹر کی طرف آیا تھا۔ شیطان نے افسوس سے ہاتھ ملے۔ وہ بات چھوڑ کر کیسے اٹھ کھڑا ہوا۔ وہ جس برق رفتاری سے آیا تھا اور پل بھر میں غائب ہوا، بس وسوسہ اور وہم ڈالنا تھا، وہ ڈال گیا۔
بالکل ٹھیک ہے، دیکھو! سو رہا ہے۔ امامہ نے وہی تکیے سے ٹیک لگائے کہا۔
سالار نے انکوبیٹر کو کھول کر پہلی بار حمین سالار کو گود میں لیا۔ اسے جھکے جھکے سینے سے لگایا اور چوما۔ وہ کمزور بچہ، باپ کے لمس پر کسمسایا پھر اس نے آنکھیں کھولی۔ سیاہ موٹی گول آنکھیں۔ اس نے باپ کو دیکھا۔ پلکیں جھپکائے بغیر وہ اسے دیکھتا رہا۔سالار بھی مسکراتے ہوئے اسے دیکھ رہا تھا۔ پھر اس کے ماتھے پر چند بل آئے تھے، ناک اوپر چڑھی اور پھر حمین نے پوری قوت سے گلا پھاڑ کر رونا شروع کر دیا۔ اس کی آواز اتنی باریک اور تیز تھی کہ چند لمحوں کے لیے سالار ہکا بکا رہ گیا۔ اس کے ننھے وجود کے اندر اتنی جان کہاں سے آئی تھی۔ جبریل اور عنایہ اس کی آواز پر ہڑبڑا کر اٹھے تھے۔ پیڈی ایک دم اندر آ گئی۔ سالار حمین کو واپس انکوبیٹر میں رکھنے کی جدوجہد میں مصروف تھا لیکن وہ ایک ہفتے کا بچہ ایک بار انکوبیٹر سے نکلنے کے بعد دوبارہ واپس اندر نہ جانے کے لیے جتنی جدوجہد کر سکتا تھا، وہ کر رہا تھا۔ اس کا بس چلتا تو اپنے ہاتھوں کی پشت، سینے، ناک اور جسم کے ہر حصہ پر لگی نالیوں اور تاروں کو کھینچ کر اتار دیتا۔ وہ ان میں سے کسی چیز کو تو نہیں اتار سکا لیکن وہ ہلکا سا ڈائپر اس کے جسم کے مسلسل جھٹکوں سے کھل گیا تھا جو صرف رسماً ہی اسے باندھا گیا تھا۔ وہ یک دم ٹارزن کے بچے جیسے حلیے میں آ گیا تھا۔ بستر سے چھلانگ لگا کر باپ کی طرف بھاگتے جبریل نے اپنے چھوٹے بھائی کے اس دلیرانہ اقدام پر بے اختیار چیخ مار کر آنکھوں پہ ہاتھ رکھا۔
Baba! baby is naked
بابا! بے بی ننگا ہے
وہ آنکھیں بند نہ کرتا تو بے شرمی کے اگلے مظاہرے پر یقیناً پتھر کا ہو جاتا۔ کیونکہ بے بی اب اس پانی سے فراغت حاصل کر رہا تھا جو ٹیوبز کے ذریعے اس کے اندر منتقل کیا جا رہا تھا۔ پیڈی کو حمین تھماتے ہوئے سالار بے یقینی سے پیشاب سے بھیگی اپنی شرٹ کو دیکھ رہا تھا۔ یہ کارنامہ اس کے پہلے دو بچے نہ کر سکے تھے۔
تم نے پتا نہیں اسے کیسے پکڑا ہے۔ کتنے سخت ہاتھ لگائے ہیں کہ وہ اس طرح رو رہا ہے۔ پیڈی! لیڈی ڈاکٹر کو بلاؤ؟ بلکہ اسے مجھے دو۔ امامہ اس کی حالت کو مکمل طور پر نظر انداز کرتے ہوئے اپنے روتے ہوئے بیٹے کی طرف متوجہ، اپنے بستر سے بے قراری کے عالم میں اتر رہی تھی۔
بابا میں اپنی آنکھیں کھولو؟ جبریل اندھوں کی طرح ہاتھ پھیلائے باپ کو ڈھونڈتے، لڑکھڑاتے قدموں سے آنکھیں بند کیے سالار کی طرف آیا تھا۔ وہ اس چھوٹے بھائی کی بے پردگی دیکھنے کو تیار نہیں تھا جو اس وقت لٹل سٹوارٹ کی طرح انکوبیٹر سے باہر کودنے کو تیار تھا۔
عنایہ ایک بار ہڑبڑا کر جاگنے کے بعد سالار کی طرف متوجہ ہوئے بغیر دوبارہ سو چکی تھی۔ سالار نے جبریل کے پھیلے ہاتھوں کی طرف ہاتھ بڑھایا۔
Yes! you can
اس نے جبریل کو خود سے لپٹائے ہوئے بھرائی آواز میں کہا۔ جبریل نے آنکھیں کھول کر سب سے پہلے چور نظروں سے انکوبیٹر کو دیکھا جہاں اب حمین پیڈی اور امامہ کے وجود کے پیچھے چھپ گیا تھا۔
بابا آپ کیوں رو رہے ہیں؟ باپ کی طرف متوجہ ہوتے ہی اس نے پہلی نظر میں اس کی آنکھوں میں آنسو دیکھے تھے۔ اور اس کے جملے نے امامہ کو بھی پلٹنے پر مجبور کر دیا تھا۔
سالار کی پشت اب اس کی طرف تھی اور وہ جبریل کو لپٹائے چومے جا رہا تھا
——————————–
گھر مکمل طور پر جل گیا تھا۔ نقصان کا اندازہ لگانا مشکل تھا۔ مگر یہ ورلڈ بنک کی طرف سے فراہم کردہ رہائش گاہ تھی۔ سالار کنشاسا پہنچنے کے اگلے ہی دن اس گھر کو دیکھنے آیا تھا۔ لوٹ مار کے بعد اب وہاں جو بچا تھا وہ ملبہ اور راکھ تھی۔ وہ پھر بھی خوش نصیبوں میں تھا۔ کیونکہ اس ملبے میں اس کے کسی پیارے کی ہڈیاں نہیں تھی۔ گھر کو لگنے والی آگ میں وہ چھوٹی موٹی ساری جیولری، سیونگ، سرٹیفکیٹس اور اس کے بچوں کی انشورنس کے پیپرز راکھ ہوئے تھے یا لوٹ لیے گئے تھے۔ لیکن اس چھوٹی موٹی جیولری کی قیمت بھی چالیس لاکھ سے کم نہیں تھی۔ اس گھر میں اور بھی بہت کچھ چلا گیا تھا جس کا امامہ کو صدمہ تھا لیکن سالار کو نہیں۔ اس کے لیے یہ کافی تھا کہ اس کا خاندان سلامت تھا۔
وہ ایمبیسی سے ایک فائیو سٹار ہوٹل میں منتقل ہو گئے تھے۔
میں چاہتا ہوں، جب ڈاکٹر حمین کو سفر کے قابل قرار دیں تو تم بچوں کو لے کر پاکستان چلی جاؤ۔
سالار نے ایک رات امامہ سے کہا تھا۔
کیوں؟ وہ ناخوش ہوئی تھی۔
کیونکہ جو کانگو میں ہو چکا ہے۔ میں اب تم لوگوں کے لیے کوئی رسک نہیں لے سکتا۔
کانگو اتنا غیر محفوظ ہے تو تم یہاں کیوں رہنا چاہتے ہو؟ تم بھی واپس چلو۔ امامہ نے جواباً کہا تھا۔ سالار گہرا سانس لے کر رہ گیا۔ میں فی الحال نہیں جا سکتا۔
فی الحال؟ امامہ نے جواباً پوچھا۔
اگلے پانچ سال۔
ہرگز نہیں۔
امامہ نے کافی کا کپ رکھ دیا۔
تمہاری ضد مجھے کمزور کر دے گی۔ تم اور بچے یہاں رہیں گے تو میں بہت پریشان رہوں گا۔ اپنے کام پر دھیان نہیں دے پاؤں گا۔ تم لوگ محفوظ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ امامہ نے اس کی بات کاٹ دی۔
تمہیں لگتا ہے تم یہاں کانگو میں بیٹھے ہو گے تو میں اور بچے پاکستان میں عیش کریں گے؟ تم اپنے سکون کے لیے مجھے بے سکون کرنا چاہتے ہو۔ میں نہیں جاؤں گی سالار۔ مجھے وہی رہنا ہے جہاں تم رہو گے۔اگر یہاں خطرہ آئے تو پھر سب کے لیے آئے اور اگر تحفظ ہو تو بھی سب کے لیے۔
وہ اس کی شکل دیکھ کر رہ گیا۔ وہ جانتا تھا وہ اس ضد سے نہیں ہٹے گی۔
تم کچھ کرنا چاہ رہے ہو، جسے مجھ سے چھپا رہے ہو، لیکن تم چھپا نہیں سکو گے میں جان جاؤں گی تم نہ بھی بتاؤ۔ وہ اب شکی بیویوں کی طرح اسے کرید رہی تھی۔
کچھ نہیں۔ مجھے کیا کرنا ہے۔ جنگلوں میں مارا مارا پھر رہا ہوں، ایباکا کے ساتھیوں سے ملنے اور مذاکرات کرنے کے لیے۔ سالار نے بات ٹالنے کی کوشش کرتے ہوئے ہنس کر کہا۔
ایک مہینے تک پھر بھی پاکستان چلیں گے۔
تم چلو گے؟ امامہ نے بیچ میں ہی اس کی بات کاٹ دی۔
ہاں، چلوں گا یار! اب اتنی بھی بے اعتباری ٹھیک نہیں۔
اس نے جیسے برا مانتے ہوئے کافی کا گھونٹ لے کر کپ رکھ دیا۔
*——————————-*
کانگو کے عوام کے لیے سالار کا چہرہ استحصالی سامراج کا چہرہ نہیں تھا بلکہ وہ ان کے لیے ایباکا کا قریبی اور قابل اعتماد ساتھی کا چہرہ تھا۔ ایباکا کے خاندان نے اس کی موت کے بعد کسی بھی غیر ملکی ادارے یا حکومت کے نمائندوں سے ملنے سے انکار کر دیا تھا لیکن سالار کی ملاقات کی درخواست کو اس نے رد نہیں کیا وہ اس سے بڑی خوشدلی سے ملے۔سالار نے ایباکا کی آخری ای میل اسے دی تھی جو اس نے سالار کو کی تھی۔ اس ای میل کا پرنٹ آؤٹ اگلے دن بڑے بڑے مقامی اخبارات میں شائع ہوا۔
افریقہ اب پیٹرس ایباکا کی جسد خاکی کے استقبال اور تدفین کی تیاریاں کر رہا تھا۔ امریکہ حکومت ابتدائی طور پر میت کو واپس نہیں بھیجنا چاہتی تھی کیونکہ انہیں خدشہ تھا پیٹرس ایباکا کی تدفین کے لیے اکٹھا ہونے والا لاکھوں کا مجمع ایک بار پھر سے کانگو میں قتل و غارت گری کا بازار گرم کر سکتا ہے۔ مگر یہ سالار سکندر کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں ایباکا کی فیملی کا دباؤ اور اصرار تھا کہ وہ ایباکا کی میت کی واپسی ممکن بنائے اور وہ اس بات کی گارنٹی دینے پر تیار تھے کہ ایباکا کی تدفین پرامن ہو گی۔ سالار نے ورلڈ بنک کی انتظامیہ کے ذریعے امریکی حکومت کو یہ بات باور کروائی کہ ایباکا کی لاش کی باعزت واپسی کانگو کے عوام کے دلوں میں اس غصے کو ختم کرنے میں معاون ہو گی۔ امریکی حکومت دو ہفتے بعد اس کی میت بھیجنے پر تیار ہو گئی تھی۔
ورلڈ بنک کی انتظامیہ نے سالار کو ایباکا کی آخری رسومات میں شریک ہونے سے روکا تھا جس کے لیے اسے ایباکا کی فیملی نے مدعو کیا تھا اور سالار نے اس دعوت نامے کو قبول کر لیا تھا۔
امامہ بھی اس فیصلے سے ناخوش اور خوفزدہ تھی اور اسے سمجھانے کی ہر ممکن کوشش کی۔ سالار اس کی منت سماجت کے دوران ائیر پورٹ جانے سے پہلے دو نفل پڑھنے کے لیے کھڑا ہو گیا تھا۔ وہ بے بسی سے بچوں کو لیے بیٹھ گئی۔
اگر مجھے کچھ ہو گیا تو تم بچوں کو لے کر فوری پاکستان چلی جانا۔ اس انتظار میں مت بیٹھی رہنا کہ میری ڈیڈ باڈی مل جائے۔
اس نے نفل پڑھنے کے بعد اس سے پہلا جملہ یہی کہا۔
امامہ کے دل پر چوٹ پڑی۔ تم بڑے بے رحم ہو۔ اس نے آنکھیں رگڑتے ہوئے کہا۔
تم سے کم۔ سالار نے ہنستے ہوئے اسے اپنے ساتھ لگایا۔
جبریل باپ کے ساتھ ہی دروازے تک آیا۔ دروازے سے نکلتے ہوئے اس نے امامہ کو خدا حافظ کہا تو اس نے اس کا بازو پکڑ لیا۔
تم واپس آجاؤ گے نا؟ وہ برستی آنکھوں سے منت بھرے انداز میں کہہ رہی تھی۔
اس نے امامہ سے نظریں ملائے بغیر اس کا ہاتھ نرمی سے ہٹا کر چوما۔ ان شاءاللہ! پھر جھک کر اپنی ٹانگ سے چپکے جبریل کو اٹھاتےہوئے اس کا منہ چوما اور کہا اپنی ممی اور بہن کا خیال رکھنا۔
I always do baba
بابا میں ہمیشہ ہی رکھتا ہوں۔ جبریل نے اسے یقین دلایا۔
سالار نے ایک بار پھر اس کا منہ چوما۔ آئی ایم پراؤڈ آف یو! سالار نے اسے گود سے اتار دیا اور سب کو خدا حافظ کہا۔ دروازے میں برستی آنکھوں کے ساتھ کھڑی امامہ کو دیکھے بغیر۔
———-***********——-
لاکھوں لوگوں کے ہجوم میں سالار نے ایئر پورٹ پر ایباکا کی میت وصول کی۔ کوئی ہتھیاروں سے مسلح اس قبائلی ہجوم میں جانے کا رسک نہیں لینا چاہتا تھا جن کو جان لینے اور دینے کے علاوہ کچھ نہیں آتا تھا۔۔
وہ وہاں نہتا تھا۔ اور تن تنہا اسی دلیری سے اپنے ساتھ ایک بھی گارڈ لیے بغیر اندر چلا گیا تھا۔
دنیا میں کروڑوں ٹی وی اسکرینز پر لائیو نشر ہونے والا وہ ایونٹ لاکھوں کے اس ہجوم میں صرف ایک شخص کو فوکس کیے ہوئے تھا۔ اور بار بار۔وہ اس مجمع کے سامنے بیٹھا تھا جس میں سے کوئی بھی اس پر گولی چلاتا تو یہ بھی پہچانا نہیں جا سکتا تھا کہ وہ کہاں تھا اور کون تھا۔
اگر وہ مجمع اس پر چڑھ دوڑتا تو اللہ کے سوا کوئی نہیں تھا۔ جو اس مجمع کے ہاتھوں اس کی بوٹیوں کے بھی ٹکڑے ہونے سے روک سکتا۔ اور یہ احساس سالار کو اسٹیج پر بیٹھے ان لاکھوں لوگوں کے سامنے ہو رہا تھا۔ اس کے دل پر لاکھوں لوگوں کی ہیبت طاری ہو رہی تھی اور اس کی زبان پر قرآنی آیات کا ورد تھا۔
امریکہ میں سی آئی اے اور ورلڈ بنک کے ہیڈ کوارٹرز میں اسکرین پر نظر آنے والا وہ شخص ان سب کو اپنی ہیبت میں لے رہا تھا۔ جن کا ڈنکا پوری دنیا میں بجتا تھا۔ دلیری ہو تو ایسی۔ جرات ہو تو ایسی۔وہ گنگ تھے۔ دم بخود اور مرعوب۔
وہ شخص اب پیٹرس ایباکا کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے نشست سے اپنا نام پکارے جانے پر اٹھ رہا تھا۔ لاکھوں لوگوں کا مجمع اس کے لیے تالیاں بجا کر داد و تحسین دے رہے تھے۔ وہ اس وقت پوری دنیا کے کیمروں کا مرکز بنا ہوا تھا۔ اسٹیج کے بالکل اوپر کافی بلندی پر ایک بلیک ہاک ہیلی کاپٹر میں سی آئی اے کے کچھ کمانڈوز اس مجمع کو ٹی وی اسکوپس سے مانیٹر کر رہے تھے۔ چند اور بلیک ہاکس آس پاس کی عمارتوں کو۔ وہ سالار سکندر کی حفاظت اور زندگی کے لیے اس وقت اس سے زیادہ کچھ نہیں کر سکتے تھے۔ سالار سکندر روسٹرم کے پیچھے پہنچ چکا تھا۔ مجمع کو سانپ سونگھ گیا تھا۔ اب وہ بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھنے کے بعد قرآنی آیات کی تلاوت کر رہا تھا۔۔
**********************
وہ ٹی وی آن نہیں کرنا چاہتی تھی لیکن اسے بے چینی کے باعث بند کر کے بھی نہیں بیٹھ سکتی تھی۔ وہ سرد اور بے حس و حرکت وجود کے ساتھ بت بنی اس شخص کو ٹی وی پر دیکھ رہی تھی۔ اگر اس کے وجود میں کہیں حرکت تھی تو وہ اس کے دل کی دھڑکن تھی۔ سالار سکندر نے زندگی میں بہت ساری تقریریں کی تھی لیکن ان میں سے کوئی تقریر لاکھوں کے ایسے مجمع کے سامنے نہیں تھی۔ جس سے وہ انسانی ہمدردی کے علاوہ کوئی تعلق نہیں رکھتا تھا۔ وہ مقامی زبان میں ان سے بات کر رہا تھا اور وہ ترجمہ ہو کر اس کے ساتھ اسکرین پر آرہا تھا۔ نہ امامہ کو اندازہ تھا اور نہ سالار سکندر کو کہ وہ آج افریقہ کے اس سیاہ فام مجمعے کے سامنے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا آخری خطبہ دہرائے گا۔ اس نے ہمیشہ کی طرح بسم اللہ سے تقریر کا آغاز کیا پھر قرآنی آیات سنائی کہ عزت اور ذلت صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے اور اس کے بعد اس نے سر اٹھا کر مجمع کو دیکھا۔ ایک لمحے کے لیے وہ بھول گیا کہ اسے کیا کہنا تھا۔ اس نے دوبارہ روسٹرم پر رکھے اس کاغذ پر نظر دوڑائی جس پر اس نے تقریر کے نکات لکھے تھے۔وہ ہمیشہ صرف نکات لکھ کر ہی تقریر کیا کرتا تھا۔اسے اپنی یاداشت اور علم پر ایسا ہی اندھا یقین تھا۔اور اب وہ بالکل خالی ذہن کے ساتھ ہونقوں کی طرح اس مجمع کو دیکھ رہا تھا جو اس کے اگلے الفاظ کے منتظر تھے۔ اس کے پچھلے الفاظ ان کے سر سے گزرے تھے۔ افریقہ کے وہ قبائل جو اس وقت وہاں اکھٹے تھے وہ آج بھی اللہ کی عبادت نہیں کرتے تھے نہ ہی اللہ کے وجود کو مانتے اور پہچانتے تھے۔ یہی وہ لمحہ تھا جب اسے آخری خطبہ یاد آیا تھا۔۔میں ایک ایسی تنظیم کا حصہ ہوں جنہوں نے ماضی میں اس خطے اور آپ لوگوں کیساتھ بہت زیادتیاں کی ہیں آپ لوگوں کو کمتر سمجھا گیا۔ آپ لوگوں کے حقوق چھینے گئے اور آپ لوگوں کے وسائل پر ناجائز قبضہ کیا گیا۔۔میں ان سب کے لیے آپ سے معذرت خواہ ہوں کیونکہ میں ایک ایسے مذہب کا ماننے والا ہوں جو یہ سب گناہ قرار دیتا ہے میں ایک ایسے مذہب کا ماننے والا ہوں جس کے پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم امانتوں میں خیانت سے منع کرتے تھے وہ اپنے بھائی کے لیئے بھی وہی پسند کرنے کی تلقین کرتے تھے جو اپنے لیئے۔۔۔۔۔جنہوں نے بتایا کہ کسی گورے کو کالے پر اور کسی کالے کو گورے پر کوئ برتری نہیں۔ وہ انسانی مساوات کی بات کرتے تھے۔ذات پات، رنگ و نسل کو نہیں مانتے تھے۔سالار سکندر حافظ تھا، مبلغ نہیں تھا۔ مقرر تھا، مفسر نہیں تھا۔۔زندگی میں کبھی اس نے اپنے پروفیشن میں مذہب کو لانے کی کوشش نہیں کی تھی وہ آج بھی اسی نیت سے وہاں آیا تھا پر اس وقت جو زبان سے نکل رہا تھا وہ دل کی آواز تھی جو دلوں تک جا رہی تھی۔۔
افریقہ میں غیر انسانی حالات میں رہنے والا وہ سیاہ فام مجمع اس کی باتیں سن رہا تھا اور اب پہلی بار ساکت و صامت خاموشی کے ساتھ سن رہا تھا۔۔۔اور اس خاموشی کو ایک بے اختیار داد و تحسین نے توڑا تھا یہ داد سالار سکندر کے جملے پر نہیں ملی تھی یہ داد خاتم النبیین کے آخری خطبے کے ایک بنیادی فلسفے کو ملی تھی۔آج چودہ سو سال بعد بھی وہ پیغام دلوں کو تسخیر کر رہا تھا ان پر مرہم بھی رکھ رہا تھا۔اس لیئے کہ وہ پیغام انسانیت کے لیئے تھا ۔ہیڈ کوارٹرز میں بیٹھے لوگ اب بھی گنگ تھے۔لاکھوں کا وہ مجمع اس آدمی کو اپنے رعب میں نہیں لے پا رہا تھا لیکن اسکی زبان سے ادا ہونے والے الفاظ اس لاکھوں کے مجمعے کو جیسے اس کی مٹھی میں لے آئے تھے۔۔سالار نے وہ اسم اعظم پڑھتے ہوئے افریقہ کی نبض پر ہاتھ رکھ دیا تھا جو چودہ سو سال پہلے بھیجا گیا تھا۔
امامہ بھی دم بخود تھی۔ وہ شخص کس جگہ کھڑا کیا دہرا رہا تھا ۔۔۔
یہ لوگ بابا کے لیے تالیاں کیوں بجا رہے ہیں؟؟ وہ جبریل کے سوال پر جیسے چونک پڑی۔امامہ اسکا چہرہ دیکھ کر رہ گئ۔تالیوں کی گونج اب تھم رہی تھی۔وہ بہت دیر تک بجتی رہی تھی۔اتنی دیر تک کہ سالار کو یاد آگیا تھا کہ اسے آج وہاں کیا کہنا تھا۔لیکن اب اپنے بھولے ہوئے الفاظ یاد آنے پر اتنی خوشی نہیں ہوئی ۔۔۔تاثیر اس میں تھی جو بھول کر یاد آیا تھا۔۔۔۔
میں افریقہ میں اپنے مذہب کے انہیں اصولوں اور اسی سوچ کیساتھ کام کرنے آیا ہوں اور میں آپ لوگوں سے وعدہ کرتا ہوں کہ اگر مجھے یہ احساس ہوا کہ میں ان اصولوں پر آپ لوگوں کی فلاح کے لیے کام نہیں کرسکتا تو میں یہاں سے چلا جاؤں گا۔لیکن میں ان طاقتوں کے ہاتھ مضبوط نہیں کرونگا جنکے خلاف پیٹرس ایباکا نے جنگ کی اور جن سے لڑتے ہوئے اس نے جان دی۔لیکن ایباکا نے اپنی جان اس لیے قربان نہیں کی کہ وہ اپنے لوگوں کو بدترین حالت میں جیتا دیکھے وہ اپنے لوگوں کے لیئے خواب دیکھتا تھا۔۔۔ایک اچھی زندگی کا خواب۔۔۔۔۔سالار سکندر اب انہیں ایباکا کی آخری ای میل سنا رہا تھا۔
لاکھوں کا وہ مجمع جو ناقابل تسخیر پہاڑ لگ رہا تھا اب تسخیر ہو چکا تھا۔وہ سالار کے الفاظ پر رو رہا تھا۔۔تالیاں بجا رہا تھا۔اسکے الفاظ پر نعرے لگا رہا تھا۔
سالار اپنی تقریر ختم کر کے روسٹرم سے ہٹ چکا تھا۔واپس اپنی نشست کی طرف جاتے ہوئے لاکھوں کا وہ مجمع سالار سکندر کا نام پکار رہا تھا۔آنسو صرف اس مجمع کی آنکھوں سے نہیں بلکہ امامہ کی آنکھوں سے بھی روانہ ہو چکے تھے۔وہ مجمع سالار کو اپنا نجات دہندہ کے طور پر دیکھتے ہوئے رو رہا تھا اور امامہ اس نجات دہندہ کی جان ایک بار پھر بچ جانے پر ۔ ۔۔۔۔
آپ کیوں رو رہی ہیں ممی۔۔جبریل نے کچھ پریشان ہو کر ماں کو دیکھا ۔۔امامہ نے کچھ بھی کہے بغیر اسے خود سے لپٹا لیا تھا۔
———————————-
تمہیں پتا ہے تمہارے اندر خودکشی کرنے کی خواہش آج بھی اسی طرح موجود ہے جس طرح سترہ سال پہلے تھی۔ سالار سکندر نے لیپ ٹاپ پر آخری ای میل کا جواب دیتے ہوئے ایک گہرا سانس لیتے ہوئے امامہ کی آخری پھٹکار سنی ۔۔۔وہ اب اپنا کام نمٹا چکا تو امامہ کی طرف متوجہ ہوا۔وہ پریشان تھی اسے اندازہ تھا۔جو کچھ آج ہوا تھا اس کے بعد اس کے ذہنی تناؤ کا اندازہ لگا سکتا تھا۔
تم ٹھیک کہتی ہو۔۔۔سالار نے لیپ ٹاپ بند کر کے بیڈ کی طرف جاتے ہوئے کہا۔
تمہیں پتا ہے مجھے تمہاری کیوں ضرورت ہے اور میں کیوں فکرمند رہتی ہوں تمہارے لیے۔۔؟؟
وہ اسکے اعتراف پر برہم ہوئ تھی۔کیونکہ بچے پریشان ہوجاتے ہیں۔تم کوئی سپرمین نہیں ہو جو وہ تمہارے کمالات دیکھ کر تالیاں بجائیں گے۔تمہیں کچھ ہوگا تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ بات کرتے کرتے روہانسی ہوگئ۔ بات مکمل نہ کرسکی۔وہ گہری خاموشی کیساتھ اسکی بات سنتا رہا۔پھر اس نے سر اٹھا کر امامہ کو دیکھا جو اسکے بالمقابل کھڑی تھی اور وہ بستر پر بیٹھا ہوا تھا۔۔
تم ٹھیک کہتی ہو۔جواب پہلے سے مدھم آواز میں آیا تھا۔۔۔وہ اور برہم ہوئ۔
میں مذاق نہیں کر رہی۔۔اسے لگا جیسے ہمیشہ کی طرح وہ اسے زچ کر رہا ہے۔
اب اگر ایک بار پھر تم نے یہ جملہ دہرایا تو میں اس کمرے سے چلی جاؤں گی تمہیں میری ہر بات احمقانہ لگ رہی ہے۔
یو آر رائٹ۔۔ وہ اس بار زچ ہوکر جھلاتے ہوئے ہنس پڑی تھی۔پھر اسکے پاس بستر پر بیٹھ گئ۔۔۔
آخری خطبہ سنا رہے تھے آج تو سارا سناتے ادھوری بات کیوں کی۔۔وہ اب اس پر طنز کر رہی تھی۔
ہمت نہیں پڑی۔۔۔اسی لیے تو کہتا ہوں تم جو بھی کہتی رہی ہو ٹھیک کہتی رہی ہو کل بھی اور آج بھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
امامہ اس کا منہ دیکھ کر رہ گئ۔
پیٹرس ایباکا اپنی زندگی کے آخری لمحے تک امن کے لیئے لڑا۔وہ نیویارک کی ایک سڑک پر اپنی جان بچانے کے لیے لڑتا رہا انہی طاقتوں کے ہرکاروں کیساتھ جنکے ساتھ تم کھڑے ہو اور جنکے ساتھ ملکر تم افریقہ کی تقدیر بدلنا چاہتے کو۔۔۔اس نے سالار کو وہ آئینہ دکھایا جو صرف اسے امامہ ہاشم ہی دکھا سکتی تھی تم سمجھتے ہو وہ تمہیں یہ سب کرنے دینگے؟؟؟
تم سمجھتی ہو میں یہ سب کرنا چاہتا ہوں؟؟ اس نے جواباً اسی انداز میں پوچھا۔۔۔وہ بول نہیں سکی۔۔۔پھر امامہ نے پوچھا۔۔۔۔
پھر تم کیا کرنا چاہتے ہو۔
میں پہلا اسلامی مالیاتی نظام بنانا چاہتا ہوں جو سود سے پاک ہو لیکن پوری دنیا کے لیے ہو باضابطہ قابل عمل اور جو اس کی جگہ لینے کی صلاحیت رکھتا ہو۔جواب اتنا غیر متوقع تھا کہ وہ حیرانی سے سالار سکندر کا چہرہ دیکھ کر رہ گئ۔
تمہیں لگتا ہے میں نہیں کر پاؤں گا؟؟؟ بہت دیر تک ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے اس خاموشی کو سالار نے توڑا تھا۔
یہ کام دنیا میں اگر کوئ کر سکتا ہے تو وہ صرف تم کر سکتے ہو سالار۔
اس بار گنگ ہونے کی باری سالار کی تھی۔یہ جواب نہیں وہ اعتماد تھا جس کی اسے ضرورت تھی۔اسکا خون بڑھا۔۔اور سیروں کے حساب سے بڑھا تھا۔
تھینک یو۔۔۔امامہ کی طرف دیکھے بغیر سر جھکائے سالار نے اپنا تشکر اس تک پہنچا دیا۔شکریہ کی ضرورت سمجھ میں نہیں آئ تھی لیکن وہ اس کا چہرہ دیکھتی رہی یوں جیسے وہ منتظر تھی کہ وہ کچھ کہے۔۔۔۔۔
تمہیں بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔۔۔بلآخر سالار نے کہا ۔وہ ہنس پڑی یوں جیسے اس نے کوئ عجیب بات کردی ہو۔۔۔
تم مشکلات کی بات مجھ سے کر رہے ہو سالار؟ زندگی میں بڑے برے دن گزارے ہیں میں نے۔ اس نے ایک گہرا سانس لیا۔۔۔۔۔
لیکن وہ برے دن میری وجہ سے نہیں آئے تھے اب شاید میری وجہ سے بھی آئے۔سب سے مشکل چیز یہی ہے میرے لیئے میں جو کرنے جارہا ہوں اسکے اثرات تم تک اور بچوں تک آئیں گے۔ واحد کمزور کرنے والی شے یہی ہے مجھے۔۔
تم یہ مت سوچو۔ جو کرنا چاہتے ہو وہ کرو باقی دیکھا جائے گا۔ زندگی اس سے بدتر تو بہرحال نہیں ہو گی جیسی میں گزار آئی ہوں۔
امامہ کو اس وقت یہ بات کرتے ہوئے اندازہ نہیں تھا کہ جن مشکلات سے سالار خوفزدہ تھا وہ یہ مشکلات نہیں تھی جو وہ سوچ رہی تھی۔وہ صرف مالی مسائل کے حوالے سے اسے متنبہ کر رہا تھا۔
میں سونے کا چمچہ منہ میں لیکر پیدا ہوئی تھی، بچپن سے دنیا کی ہر نعمت ملی۔ پھر ایک اور وقت آیا جب اپنی بنیادی ضروریات بھی پوری نہیں کر سکتی تھی۔ دوسروں کے سر پر محتاجی کی زندگی گزانی پڑی۔ نوکری کرنا پڑی، وہ وقت بھی گزر گیا۔ پھر تمہارے ساتھ گزرے پچھلے سات سال میں دنیا کی ہر نعمت و آسائش ملی۔ پہلے سے بڑھ کر اور بہتر۔۔۔۔ لیکن میں یہ کبھی نہیں بھولی کہ یہ وقت بھی گزر جائے گا۔ چیزوں کی اہمیت نہیں ہوتی، انسان کا کوئی نعم البدل نہیں۔ تو جب تک بچے اور تم میرے پاس ہو مجھے کوئی پرواہ نہیں۔
اس نے سالار کو دیکھا۔ وہ خاموشی سے اس کی بات سن رہا تھا۔ وہ اسے ہولانا نہیں چاہتا تھا یہ کہہ کر کے بچے اور وہ بھی کبھی اس سے چھن سکتے تھے۔جیسے پہلے چھین لیے گئے تھے اور ہر آزمائش مال پر شروع ہو کر مال پر ختم نہیں ہوتی۔

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: