Aab e Hayat Novel by Umera Ahmed Read Online – Episode 28

0

آب حیات از عمیرہ احمد – قسط نمبر 28

–**–**–

پہلی بار سالار کی نظر امامہ کے ہاتھ میں پہنی انگوٹھی پر پڑی تھی۔ جو اس نے اسے شادی کے تحفے کے طور پر دی تھی۔ وہ بے حد حیرانی کے عالم میں اسے دیکھتے ہوئے کچھ بولنا بھی بھول گیا۔ اس کا خیال تھا کہ یہ انگوٹھی بھی اس گھر میں موجود لاکر میں پڑے دوسرے زیورات کے ساتھ جل گئی ہو گی۔ اس جگمگاتی بیش قیمت انگوٹھی کو اب اس کی مخروطی انگلی میں سجا دیکھ کر اسے ایک عجیب سی خوشی ہوئی تھی۔ ناقابل بیان خوشی۔ اس نے امامہ کا ہاتھ تھام لیا۔
یہ کہاں سے آئی؟ گفتگو کا موضوع عجیب انداز میں بدلا تھا۔ امامہ ہنسی اور اس نے ہتھیلی پر ہی اپنا ہاتھ پھیلا دیا تھا۔ اسے سالار کی خوشی اور کیفیت کا اندازہ تو نہیں ہوا لیکن خود وہ اس انگوٹھی کو دیکھ کر کھل سی گئی۔ اس کے ساتھ اس کی جذباتی وابستگی تھی۔ وہ دیر سے ملا تھا لیکن منہ دکھائی کا تحفہ تھا۔ اور اس کے ہاتھ میں جب وہ پہنی ہوتی تھی تو اس کی خوبصورتی دیکھنے والوں کو مبہوت کر دیتی تھی اتنا تو امامہ جانتی تھی لیکن اس کی قیمت کا اندازہ اسے آج بھی نہیں تھا۔ سالار نے اس کے ایئر رنگز اور چین کو نوٹس نہیں کیا اور وہ انگوٹھی پہ اٹک گیا تھا بس۔
تم نے میرے ایئر رنگز اور چین نہیں دیکھی؟ وہ اسے اب دونوں چیزیں ہاتھ سے چھوتے ہوئے دکھا رہی تھی کسی بچے کی طرح خوشی اور جوش سے۔سالار نے مسکراتے ہوئے ان چیزوں کو دیکھا اور پھر امامہ کے یک دم سب بھول بھال کر جگمگا اٹھنے والے چہرے پر نظر ڈالی۔ تینوں چیزوں کو دیکھتے ہوئے اسے یاد آیا تھا۔ وہ چین ڈاکٹر سبط علی کی دی ہوئی تھی اور ایئر رنگز امامہ کو شادی کے تحائف میں اس کے ساس سسر نے دیے تھے اور وہ انگوٹھی اس نے سکندر عثمان کی طرف سے ملنے والی جائداد میں سے ایک پلاٹ کو بیچ کر خریدی گئی۔ ان تینوں میں سے کوئی چیز سود اور حرام کے پیسے سے نہیں خریدی گئی تھی اور وہ زیور واپس آگیا تھا۔
تم کیا سوچ رہے ہو؟ امامہ نے اسے مخاطب کیا۔
کچھ نہیں ایسے ہی اک خیال آیا تھا۔ سالار گہرا سانس لیکر بات ٹال گیا تھا۔
اس انگوٹھی کی قیمت کیا ہے؟ پتا نہیں امامہ کو ایک دم سے اس کی قیمت کا خیال کیسے آگیا۔
یہ انمول ہے۔ کیونکہ تمہارے ہاتھ میں ہے۔ سالار نے اس کا ہاتھ چوما اور وہی جواب دیا جو اس انگوٹھی کے پہناتے وقت دیا تھا۔ وہ ہمیشہ کی طرح سرشار ہوئی تھی۔ یہ بہت دفعہ پیش کیا جانے والا خراج تحسین تھا جو ہر بار نیا لگتا تھا کیونکہ ہمیشہ اچھا لگتا تھا۔
پیکنگ مکمل ہو گئی؟ سالار نے موضوع بدل دیا۔
ہاں۔ مکمل ہو گئی۔ امامہ اٹھ کھڑی ہوئی۔ وہ تین دن بعد پاکستان جا رہے تھے۔
تم کتنے دن ٹھہرو گے وہاں؟ امامہ نے پوچھا۔
ایک ہفتہ۔ سالار نے لیٹے لیٹے جواب دیا۔
کیوں؟ تم ہمارے ساتھ وہاں زیادہ دن کیوں نہیں ٹھہرو گے۔ امامہ کو اعتراض ہوا۔
ایک ہفتہ بھی زیادہ ہے میرے لیے۔ کام کا ڈھیر ہے یہاں اور مجھے تمہارے واپس آنے سے پہلے گھر کا بندوبست بھی کرنا ہے۔
میں بھی تمہارے ساتھ ہی ایک ہفتہ بعد واپس آجاؤں گی۔ ِامامہ نے کہا۔
نہیں، تم اب ایک ماہ بعد ہی آنا۔ تمہیں آرام کی ضرورت ہے، وہاں گھر کا ماحول تبدیل ہو گا تو بہت اچھا محسوس کرو گی۔ یہاں بچوں کے ساتھ بہت پریشانی ہوتی ہے تمہیں۔ سالار نے اسے کہا۔
مجھے بچوں سے زیادہ تمہاری پریشانی ہوتی ہے۔ وہ ایک بار پھر وارڈروب کے سامنے کھڑی تھی۔ سالار نے اسے دیکھا۔ وہ وارڈروب سے ٹیک لگائے اسے دیکھ رہی تھی۔ اور اس کے انداز میں کچھ تھا جس نے سالار کو چونکا دیا۔
میری کیا پریشانی؟ اس نے پوچھا تھا۔
پتا نہیں۔ بس مجھے ڈر لگتا ہے۔ اس نے آدھی بات کر کے وارڈروب دوبارہ کھولی۔
کس چیز سے ڈر لگتا ہے؟ سالار نے پوچھا۔ امامہ نے ویسے ہی کھڑے کھڑے گردن موڑ کر اسے دیکھا۔ کس چیز سے ڈر لگتا ہو گا مجھے؟ وہ جیسے کسی سائکاٹرسٹ سے اپنے مسئلے کا حل پوچھ رہی تھی۔
میری موت سے؟ اور وہ سائکاٹرسٹ بے حد بے رحم تھا۔
امامہ ہل نہ سکی۔ اس نے جیسے نشتر اس کے جسم میں موجود ناسور پر سیدھا ہی مار دیا تھا۔
ایسے کیوں دیکھ رہی ہو؟ سالار اس کی نظروں سے الجھا تھا۔
تم بہت بے رحم ہو اور ہمیشہ سے ہو۔
تم نے سوال کیا تھا مجھ سے، میں نے اندازہ لگایا۔ صحیح اندازہ لگایا کیا؟ وہ جیسے داد چاہتا تھا۔
اب تمہیں پتا چلا، میں تم سے کیوں کہتی ہوں کہ تمہارے اندر آج بھی موت کشش رکھتی ہے۔ وہ جو کہنا چاہ رہی تھی وہ کہہ نہ سکی اور جو کہہ دیا اس کے غلط ہونے کا اندازہ ہو گیا اسے۔
موت سے کون فیسی نیٹ ہوتا ہے امامہ، کوئی پاگل ہو گا جو ایسے سوچے گا۔ اور ایک وقت میں، میں پاگل تھا اب نہیں ہوں۔ وہ عجیب انداز میں مسکراتے ہوئے بولا۔
اب بھی ہو۔ امامہ کہے بنا نہ رہ سکی۔ وہ ہنسا تھا یوں جیسے اس کے جملے سے محظوظ ہوا ہو۔
تم ہمیشہ ٹھیک کہتی ہو۔
اس کی ہنسی نے امامہ کو کم تپایا اور اس کے جملے نے زیادہ۔ وہ وارڈروب کو پوری قوت سے بند کرتی ہوئی واش روم میں گھس گئی۔ اسے پتا تھا وہ اب اسے زچ کرے گا اور کرتا ہی جائے گا۔ یہ اس کا ذہنی تھکن اتارنے کا ایک طریقہ تھا۔ اسے زچ کرنا۔
—————
کانگو بحران اور اس سے پہلے ہونے والے واقعات سی آئی اے کے لیے سالار سکندر کو اس لسٹ میں ڈالنے کا باعث بنا تھا جن پر باقاعدہ نظر رکھی جاتی تھی۔ وہ افریقہ میں اب ان کا سب سے اہم کارندہ تھا۔ ان کے لیے کام کر رہا تھا لیکن ان کا ساتھی نہیں تھا۔ اس نے کانگو اور افریقہ میں ایک بے حد نازک صورت حال میں ان سب کو ایک شرمناک صورت حال سے نکالا تھا۔ اس کی تقریر میں اپنے ہی ادارے اور سامراجی قوتوں پر کی جانے والی تنقید کسی کو بری نہیں لگی۔اگر صورت حال کنٹرول میں آ جاتی تو وہ اس سے زیادہ گالیاں کھانے پر تیار تھے لیکن اگر کوئی چیز سالار سکندر کی تقریر میں انہیں قابل اعتراض لگی وہ اپنے مذہب اور پیغمبر کا حوالہ تھا۔ وہ افریقہ میں بے شک ان کے لیے اہم تھا لیکن کوئی اہم ترین شخص بھی اسلامی سوچ کے پرچار کے لیے ورلڈ بنک کا عہدہ استعمال نہیں کر سکتا تھا۔
سی آئی اے کو سالار سکندر کو مانیٹر کرتے ہوئے یہ اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ کسی اسلامی مالیاتی نظام کو قائم کرنے کا سوچ رہا ہے جو سود سے پاک ہو۔ ان کے لیے یہ پریشان کن بات نہیں تھی۔ وہ اس کو ایک خیالی پلاؤ سے زیادہ اہمیت دینے پر تیار نہیں تھے۔اگر کوئی بات پریشان کن تھی تو وہ سالار کا یک دم سامنے آنے والا مذہبی تشخص تھا۔ جو ان کے نزدیک افریقہ جیسی حساس جگہ پر ان کے لیے پریشانیاں کھڑی کرنے کا باعث بن سکتا ہے۔ اسے ہر جگہ مانیٹر کیا جانے لگا اور پہلی غیر معمولی سرگرمی جو سی آئی اے نے ریکارڈ کی تھی، وہ ایباکا کی تدفین کے تین ہفتے بعد مسقط میں سالار سکندر کی سمندر میں ایک لانچ پر پانچ لوگوں سے ایک ملاقات تھی۔ جن میں سے ایک مسقط کی رائل فیملی سے تھا۔ سالار سمیت وہ پانچوں پرانے شناسا اور دوست تھے۔ ایک ہی یونیورسٹی سے فارغ التحصیل تھے۔ وہ اپنی اپنی فیلڈ کے نامور لوگ تھے۔ وہ سب دنیا کے انڈر فورٹی گلوبل لیڈرز کی فہرست میں شامل تھے جن کے بارے میں پیش گوئی تھی کہ وہ دس سال بعد دنیا کے ممتاز ترین لیڈرز میں سے ہوں گے۔ ان میں سے کوئی بات سی آئی اے کے لیے پریشان کن نہیں تھی سوائے اس آخری مماثلت کے۔ سالار سمیت وہ پانچ کے پانچ افراد مسلمان تھے۔ باعمل اور حافظ قرآن۔
——————–
وہ پاکستان میں امامہ کے قیام کا تیسرا ہفتہ تھا۔ وہ شروع کے دو ہفتے لاہور میں ڈاکٹر سبط علی اور سعیدہ اماں کے پاس گزار کر اب باقی دو ہفتے اسلام آباد رہنے آئی تھی۔
وہاں ان کی آمد کا دوسرا دن تھا جب سالار نے اسے امریکہ میں کسی پرانے دوست کے بارے میں بتایا تھا جو اب اپنی فیملی کے ساتھ پاکستان میں مقیم تھا اور سالار سے ملنا چاہتا تھا۔ اسے مبارکباد دینے کے لیے۔
کئی سالوں بعد سعد اپنی فیملی کے ساتھ سالار سے ملنے اس کے گھر آیا تھا۔ وہ مکمل طور پر باریش تھا، اس کی داڑھی سفید ہو چکی تھی جس کو اس نے رنگا نہیں تھا۔ وہ بے حد مہنگے برانڈڈ شلوار قمیص میں ملبوس تھا۔ لیکن شلوار ٹخنوں سے اوپر تھی۔اس کے ساتھ نقاب لیے ہوئے اس کی بیوی، ایک آٹھ سالہ بچہ اور دو بچیاں بھی تھی۔
وہ اور اس کی بیوی سالار اور امامہ سے بڑی گرم جوشی سے ملے۔ امامہ جانتی تھی سعد سالار کے شناساؤں میں سے تھا، قریبی دوست نہیں۔ لیکن اس کے باوجود سعد اپنی گپ شپ اور بلند و بانگ قہقہوں کے دوران سالار کے اس کے ساتھ امریکہ میں گزرے ہوئے وقت کے بارے میں ایسے ایسے قصے نکال کر سناتا رہا جیسے وہ اور سالار گہرے دوست رہے ہو۔
مجھے تو ہمیشہ سے اندازہ تھا کہ سالار بہت ترقی کرنے والا ہے بس ذرا قبلہ خراب تھا اس کا۔ چائے پینے کے دوران اس نے امامہ پر انکشاف کیا جیسے۔۔امامہ اور سالار نے بے اختیار ایک دوسرے کو دیکھا اور مسکرا کر رہ گئے۔
اور اب دیکھیے بھابھی کیسا بدلا ہے۔ میری کوششیں کیسے رنگ لائی ہیں۔ سعد کہہ رہا تھا اور سالار نے اپنا کپ رکھتے ہوئے اسی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔ لیکن تم بالکل نہیں بدلے۔ میری کوششیں کوئی رنگ نہیں لا سکی۔ اس کا مجھے بڑا افسوس ہے۔ سالار نے جتانے والے انداز میں کہا۔ سعد نے بے اختیار قہقہہ لگایا۔
ارے ہم پر کہاں کسی کا رنگ چڑھنا تھا۔ ہم پر تو اپنا ہی رنگ بڑا پکا تھا۔ بھابھی یہ آپ کا شوہر نائٹ کلب اور ڈسکو کا بڑا شوقین تھا۔ مجھے بھی کھینچ کھینچ کر ساتھ لے جانے کی کوشش کرتا تھا۔ نت نئی لڑکیوں سے دوستی، بڑی رنگین زندگی گزاری اس نے۔
سالار نے ٹھیک کہا تھا، وہ نہیں بدلا تھا۔ پیشتر لوگ خود کو بہترین مسلمان ثابت کرنے کے لیے دوسروں کے ہر عیب اور خامی کو دکھانے اور جتانے کی وبا میں مبتلا ہوتے ہیں اور ان کا اسلام انہیں صرف مقابلہ اور موازنہ سکھاتا ہے، پردہ پوشی نہیں۔ وہ اپنی بیوی کے سامنے یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہا تھا کہ وہ کتنے نیک شخص کی بیوی ہے۔ احساس کمتری کی یہ ایک بھیانک شکل ہوتی ہے۔ سعد اب اپنے انکشاف سے جیسے خود ہی محظوظ ہوا تھا اور پلیٹ میں ایک نیا کباب رکھتے ہوئے ہنس رہا تھا۔امامہ کا چہرہ پھیکا پڑا تھا۔
بھابھی! بالکل ٹھیک کہہ رہا ہے سعد۔ میری کافی رنگ برنگی لڑکیوں سے دوستی تھی لیکن سعد کو صرف ایک ہی رنگ کی لڑکی پسند تھی۔ اور میں ذرا شوقین مزاج تھا، ڈسکو اور کلبز آتا جاتا رہتا تھا۔ لیکن سعد ظاہر ہے میرے جیسا شوقین مزاج نہیں تھا اس لیے وہ اپنی گرل فرینڈ کے ساتھ گھر پر ہی رہنا پسند کرتا تھا۔
کباب تو سعد نے پلیٹ میں رکھ لیا تھا لیکن پلیٹ اس کے ہاتھ سے چھوٹتے چھوٹتے بچی تھی۔ سالار نے کئی سالوں بعد ایسی کم ظرفی اور بے لحاظی کا مظاہرہ کیا تھا جو ایک زمانے میں اس کا شناختی نشان تھا۔
کیا نام تھا اس کا؟ ہاں، آسٹیفنی! اب تو علیک سلیک ہی رہ گئی ہو گی یا وہ بھی نہیں۔ اس کی یاداشت سفاکانہ حد تک تیز تھی۔ اور اس وقت اس نے سعد کا قتل ہی کر دیا تھا۔ سعد کا اندر کا سانس اندر اور باہر کا سانس باہر رہ گیا۔ اس سب کی ابتدا سعد نے کی تھی اور انتہا اب سالار کر رہا تھا۔ سعد جواب کیا دیتا اس کا تو سانس لینا محال ہوگیا تھا۔
امامہ اس کی بیوی کے تاثرات دیکھ نہ پائی کیونکہ اس کے چہرے پر نقاب تھا۔ لیکن اس کی آنکھیں یہ بتانے کے لیے کافی تھی کہ وہ سالار کے انکشافات سے خوش نہیں ہوئی تھی۔ امامہ کو بھی سالار کا یہ جوابی وار کچھ بھایا نہیں۔
بھابھی آپ کچھ لیں۔ اس نے صورت حال کو سنبھالتے ہوئے بروقت سعد کی بیوی عالیہ کی توجہ اس گفتگو سے ہٹانے کی کوشش کی۔
نہیں۔ بچے اور یہ لے رہے ہیں، بس کافی ہیں۔ ہم کچھ دیر پہلے ہی کسی لنچ سے آئے ہیں تو مجھے طلب نہیں۔ امامہ کو عالیہ کا لہجہ بے حد کھردرا لگا۔
آپ تو ختم نبوت پر یقین نہیں رکھتی تھی نا؟ کیا سوال تھا جو سعد کی بیوی کی زبان سے امامہ کے لیے نکلا تھا۔ کمرے میں ایک دم خاموشی نہیں سکتہ چھایا تھا۔وہ تجسس نہیں تھا جوابی وار تھا۔ سعد سے نہیں آیا تھا اس کی بیوی سے آیا تھا۔
نہیں۔ الحمدللہ میں مسلمان ہوں۔ چائے کا کپ ہونٹوں سے ہٹا کر امامہ نے بے حد مشکل سے مسکرانے کی کوشش کی۔
اوہ! اچھا، مجھے انہوں نے یہ نہیں بتایا تھا۔ وہ اسی بے نیازی سے سعد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولی۔ تو بھابھی آپ پھر کوئی ادارہ جوائن کر لیں نا۔ آپ کو تو بہت زیادہ اصلاح اور علم کی ضرورت ہو گی۔ جب تک آپ پاکستان میں ہے، آپ میرے ساتھ مدرسے چلیں۔ وہاں درس قرآن بھی ہوتا ہے اور روحانی اور اخلاقی تربیت بھی۔
آپ کا بہت شکریہ۔ لیکن مجھے اسلام قبول کیے اور قادیانیت چھوڑے سولہ سترہ سال ہو چکے ہیں اور میں ایک حافظ قرآن کی بیوی ہوں۔ امامہ نے اس کی بات بڑی نرمی سے کاٹی۔
وہ تو میں بھی ہوں۔ عالیہ نے اسی انداز میں کہا۔ لیکن اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔
آپ کو نہیں پڑا ہو گا، مجھے پڑا ہے۔
بھابھی آپ کو اس حوالے سے جب بھی ہماری مدد کی ضرورت پڑے، ہم حاضر ہیں۔ اب میل جول تو ہوتا رہے گا۔ میں ان شاءاللہ اس سال وقت نکال کر تبلیغ کے لیے کچھ دن کانگو بھی آؤں گا۔ تو آپ لوگوں کی خدمت میں حاضر ہوں گا۔ ویسے بھی اچھا ہے ہمارے بچے آپس میں ملتے رہے۔ سعد نے اپنی طرف سے بروقت مداخلت کرتے ہوئے گفتگو سنبھالنے کی کوشش کی۔
جی بھابھی! ٹھیک کہہ رہے ہیں یہ۔ ہمارے بچوں کو آپس میں ملتے رہنا چاہیے اور ہمیں بھی۔ بہت سی چیزوں میں آپ کو اپنے بچوں کی تربیت کرتے ہوئے ہماری رہنمائی کی ضرورت ہو گی۔ عالیہ نے اپنے شوہر کی گفتگو مکمل کرنے کی کوشش کی۔
اگر کبھی ایسی ضرورت پڑی تو میں اور امامہ ضرور آپ سے رہنمائی لینے کی کوشش کریں گے لیکن فی الحال ہمیں لگتا ہے ہمیں اس کی ضرورت نہیں۔ اس بار سالار نے گفتگو میں مداخلت کر کے جیسے ایک فل سٹاپ لگانے کی کوشش کی۔
یار بچے کہاں ہیں تمہارے؟ تم ان سے تو ملواتے۔ میں چاہتا ہوں احسن اور جبریل بھی آپس میں متعارف ہو۔
جی، جی ضرور۔ بچے ابھی ملازم لا ہی رہا ہو گا۔ وہ لان میں کھیل رہے ہیں۔ اس سے پہلے وہاں کوئی اور بات ہوتی ملازم کے ساتھ عنایہ اور جبریل کمرے میں داخل ہوئے تھے۔ سعد نے دونوں بچوں کو بڑی گرم جوشی سے پیار کیا۔ پھر جبریل اور احسن کو ایک دوسرے سے متعارف کیا۔ وہ دونوں ایک جیسے تھے۔ریزروڈ، تمیزدار۔
وہ لوگ آدھ گھنٹہ اور بیٹھے تھے اور پھر انہیں اپنے گھر آنے کی دعوت دے کر چلے گئے۔ وہ ایک یادگار اور خوشگوار ملاقات نہیں تھی لیکن انہیں یہ اندازہ نہیں تھا کہ ان کی ہر ملاقات ایسا ہی تاثر لیے ہوئے رہنے والی تھی۔
————————
سالار ایک ہفتہ بعد واپس کانگو چلا گیا تھا اور امامہ اسلام آباد سے لاہور سالار کے ساتھ آئی تھی۔ وہاں سے واپس اسلام آباد آنے پر امامہ اور بچوں کو سکندر اور طیبہ کے ساتھ بہت سا وقت گزارنے کو ملا تھا۔ اور اس کے جانے میں ابھی ایک ہفتہ باقی تھا۔جب سکندر نے بڑے غور و خوض کے بعد اس کو ہاشم مبین کے بارے میں بتایا تھا۔
وہ مجھ سے کئی دفعہ ملنے آئے ہیں۔ تمہارا نمبر لینے کے لیے۔ لیکن میں اتنی ہمت اپنے اندر نہیں پاتا تھا کہ تمہارا اور ان کا رابطہ کرواتا۔ کیونکہ میں نہیں چاہتا تھا کہ تم پھر پریشان ہو۔
سکندر عثمان اس سے کہہ رہے تھے۔ لیکن مجھےلگا میں بہت زیادتی کروں گا تمہارے ساتھ بھی اور ان کے ساتھ بھی۔ اگر ان کی یہ خواہش پوری نہ کروں۔وہ بے یقینی سے ان کا چہرہ دیکھ رہی تھی۔ وہ مجھ سے کیوں ملنا چاہتا ہے؟
یہ سوال انسان ماں باپ سے نہیں پوچھتا۔ سکندر نے دھیمے لہجے میں اس سے کہا۔ اس کے حلق میں جیسے پھندا لگا تھا۔ وہ ٹھیک کہہ رہے تھے یہ سوال انسان ماں باپ سے نہیں پوچھتا۔ لیکن اسے تو یہ بھول ہی گیا تھا کہ اس کے ماں باپ بھی ہیں۔ زندگی کے سولہ سترہ سال ان کے بغیر گزارے، ان کے ہوتے ہوئے بھی۔ وہ آج بھی ان سے محبت کرتی تھی، آج بھی ان کے لیے جذباتی تھی۔ لیکن پچھلے چند سالوں نے سب بدل دیا تھا۔
اب ملنے کا فائدہ نہیں۔
سکندر کو یقین نہیں آ رہا تھا کہ وہ اس سے ملنے سے انکار کر رہی تھی۔ وہ تو صرف اپنے خاندان سے ملنے کے لیے منتیں کرتی رہی تھی۔ انکار تو ہمیشہ دوسری طرف سے ہوتا تھا۔
ماں باپ کے بارے میں ہم فائدے اور نقصان نہیں سوچتے۔ صرف حق اور فرض سوچتے ہیں۔
انہوں نے اس بار بھی ٹھیک کہا تھا۔
پاپا میں اب اس معلق پل پر نہیں جھول سکتی۔ میرے بچے ہیں اب، میں اپنی ذہنی الجھنیں ان تک منتقل نہیں کرنا چاہتی۔ میں بہت خوش اور پرسکون ہوں اپنی زندگی میں۔ بس ایسے ہی رہنا چاہتی ہوں۔کسی لعنت ملامت کا بوجھ نہیں اٹھا سکتی اب۔ کسی معافی تلافی کی ضرورت بھی نہیں رہی اب۔بس جو گزر گیا، وہ گزر گیا۔ میں واپس پلٹ کر نہیں دیکھنا چاہتی۔
اسے اندازہ ہی نہیں ہوا کہ اس کی آنکھیں کب برسنا شروع ہوئی۔
امامہ! وہ مسلمان ہو چکے ہیں۔ وہ جامد ہو گئی تھی۔سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا ردعمل دے۔ خوش ہو؟ وہ خوش تھی۔ رو پڑے؟ وہ پہلے ہی رو رہی تھی۔ اللہ کا شکر ادا کرے؟ وہ ہمیشہ کرتی رہتی تھی۔
وہ مسلمان نہ ہوتے، تب بھی میں تم سے کہتا کہ ان سے مل لو۔ بعض گناہوں کی سزا جب اللہ دینا چاہتا ہے تو پھر ہمیں نہیں دینی چاہیے۔ سکندر نے اسے سمجھایا تھا۔ وہ اس کی اندر کی کیفیت سے بے خبر تھا۔ سوال معافی کا تو تھا ہی نہیں۔ وہ ان کا سامنا اس لیے نہیں کرنا چاہتی تھی کیونکہ وہ اپنے وجود کو بکھرتا ہوا نہیں دیکھ سکتی تھی۔ اس نے بے حد مشکل سے اپنے آپ کو سمیٹا تھا۔
اس نے سکندر عثمان سے بحث نہیں کی۔ وہ اگلے دن ہاشم مبین سے ملنے پر بھی تیار ہو گئی۔ لیکن وہ اس رات سو نہ سکی تھی۔
وہ اگلے سہ پہر ان کے گھر آئے تھے۔ وہ کمرے میں آئی تو باپ پر پہلی نظر پڑتے ہی روئی نہ ہی رونے کا تہیہ کیے ہوئے تھی۔ وہ بے حد ضعیف لگ رہے تھے۔ یہ تنتنے والا وہ وجود نہیں تھا جس سے وہ ساری زندگی ڈرتی رہی تھی۔ ہاشم مبین نے اسے گلے لگایا۔وہ نم آنکھوں سے بڑے حوصلے سے ان سے مل کر الگ ہوئی تھی۔ پہلے کی طرح ان سے لپٹی نہیں رہی تھی۔اور پھر وہ آمنے سامنے صوفوں پر بیٹھ گئے۔ کمرے میں ان دونوں کے علاوہ کوئی نہیں تھا۔ وہ دونوں تھے اور طویل اور گہری خاموشی۔ پھر اس خاموشی کو ہاشم مبین کی ہچکیوں اور سسکیوں نے توڑا۔ وہ اب بچوں کی طرح بلک بلک کر رو رہا تھا۔ امامہ انہیں چپ چاپ دیکھتی رہی۔ وہ بھی بے آواز روتی رہی۔اس کی آنکھوں سے برسنے والے آنسو اس کی ٹھوڑی سے ٹپکتے ہوئے اس کی گود میں رکھے ہاتھوں پر گر رہے تھے۔
وقت واقعی بڑا ظالم ہوتا ہے۔ مجھ سے بہت بڑا گناہ ہو گیا۔ میں نے بہت بڑا ظلم کیا اپنے آپ پر۔ اپنے خاندان پر۔ پتا نہیں کیسے ہو گیا یہ سب کچھ۔
ہاشم مبین روتے ہوئے اعتراف کر رہے تھے اور امامہ کو یاد آ گیا تھا۔ انہوں نے ایک بار اس سے کہا تھا کہ جو کچھ وہ کرنے جا رہی تھی وہ اس پر بہت پچھتائے گی۔ ایک وقت آئے گا، اسے اپنی غلطی کا احساس ہو جائے گا۔ اور وہ واپس پلٹ کر ان سے معافی مانگنے آئے گی۔ اور تب وہ اسے معاف نہیں کریں گے۔
مجھے لگتا ہے امامہ! مجھے تمہاری بد دعا لگ گئی ہے۔ہاشم مبین نے روتے ہوئے کہا۔
مجھے بد دعا کا کبھی خیال بھی نہیں آیا ابو۔ آپ کے لیے کیا، کسی کے لیے بھی نہیں۔ اس نے بلآخر ہاشم مبین سے کہا۔ آپ نے دیر سے کیا، لیکن صحیح اور اچھا فیصلہ کیا۔ یہ ایک جملہ کہتے ہوئے امامہ کو بے حد تکلیف ہوئی تھی۔ اسے وسیم یاد آیا تھا۔ اسے اپنا وہ خاندان یاد آیا تھا جو سارا غیر مسلم تھا اور غیر مسلم ہی رہنے والا تھا۔ واپس تو یا وہ پلٹی تھی یا ہاشم مبین۔۔۔۔۔۔۔
تمہارا سامنا کرنے کی ہمت نہیں تھی مجھ میں۔ بہت وقت لگا دیا میں نے تمہارے سامنے آنے میں۔ لیکن بس معافی مانگنا چاہتا تھا اور تمہاری ایک امانت تھی میرے پاس۔ وہ مرنے سے پہلے تمہیں دینا چاہتا ہوں۔وہ اب اپنے ساتھ لائے ہوئے بیگ سے ایک لفافہ نکال کر اسے دے رہے تھے۔
یہ کیا ہے؟ اس نے لفافہ تھامے بغیر ان سے پوچھا۔
جائداد میں تمارا حصہ۔ اسی حصے کے لیے تمہارے بھائیوں کو خفا کر دیا ہے میں نے۔ وہ یہ بھی لینا چاہتے تھے مجھ سے۔ لیکن میں تمہاری چیز انہیں نہیں دے سکتا تھا۔ ساری عمر تمہیں کچھ نہیں دے سکا۔ کچھ تو دینا چاہتا تھا تمہیں مرنے سے پہلے۔
وہ ان کی بات پر رو پڑی۔ ابو اس کی ضرورت نہیں تھی مجھے، میں اسے لے کر کیا کروں گی۔ اگر میرے بھائیوں کو میرا حصہ دینے سے ان کی زندگی میں آپ کے لیے کوئی گنجائش نکلتی ہے تو انہیں دیں۔
ہاشم مبین نے بے حد مایوسی سے نفی میں سر ہلایا۔میں اب ان کے لیئلے غیر مسلم ہوں امامہ۔ وہ مجھے اپنی زندگی سے نکال کر پھینک چکے ہیں۔ جیسے کبھی میں نے تمہیں نکالا تھا۔ وہ شکست خوردہ انداز میں کہہ رہے تھے۔
پھر آپ میرا حصہ بیچ کر اپنے لیے کوئی گھر لے لیں۔کوئی جگہ۔ میرے پاس اب سب کچھ ہے۔ امامہ نے وہ لفافہ پکڑ کر ان کے بیگ میں واپس رکھ دیا تھا۔
تم نے مجھے معاف نہیں کیا؟ انہوں نے رنجیدگی سے کہا۔
میں آپ کو معاف کرنے والی کون ہوتی ہوں ابو۔ یہ فیصلہ تو آپ کے لیے اللہ نے کرنا ہے۔ میں صرف یہ دعا کر سکتی ہوں کہ اللہ آپ کو معاف کر دے۔ بڑی معافی تو وہاں سے آنی چاہیے۔
وہ سر جھکائے بیٹھے رہے پھر انہوں نے کہا۔
تم ہم سے ملتی رہو گی نا؟ عجیب آس اور حسرت تھی۔ امامہ نے سر ہلا دیا تھا۔ ماں باپ کا یہ حال اسے دل گرفتہ کیے ہوئے تھا۔ ہاشم مبین کے چہرے پر اس ملاقات کے دوران پہلی بار مسکراہٹ آئی تھی۔
میں جائداد کا یہ حصہ تمہارے بچوں کے نام کر دیتا ہوں امامہ۔
ابو میں آپ کی جائداد اور روپے پیسے میں سے کچھ بھی نہیں لوں گی۔ میں لوں گی بھی تو سالار واپس کر دے گا۔ اس نے ہاشم سے دو ٹوک انداز میں کہا تھا۔
ہاشم مبین کچھ دیر بیٹھے رہے۔ پھر اسے ساتھ لے کر اس کی ماں سے ملوانے لے گئے۔ سکندر اور ان کی بیوی بھی ساتھ گئے تھے۔ وہ ایک اور جذباتی ملاقات تھی۔
تم اب بہت بہادر ہو گئی ہو۔ اس رات سالار نے اس سے کہا۔ اس نے اپنے اس دن کی روداد سنائی تھی اسے فون پر۔
کیسے؟ وہ اس کے تبصرے پر حیران ہوئی۔ تم آج ایک بار بھی نہیں روئی مجھے اپنے پیرنٹس سے ملاقات کے بارے میں بتاتے ہوئے۔ وہ چپ رہی، پھر اس نے سالار سے کہا۔
آج ایک اور بوجھ میرے کندھوں اور دل سے ہٹ گیا ہے۔ بہت دیر سے سہی لیکن اللہ تعالی نے گمراہی سے نکال لیا ہے میرے ماں باپ کو۔ دعائیں قبول ہوتی ہیں سالار۔ دیر سے سہی، لیکن قبول ہو جاتی ہے۔ امامہ کے لہجے میں عجیب طمانیت تھی جو ہزاروں میل دور بیٹھے سالار نے محسوس کی۔
تمہاری ہو جاتی ہے۔ اس نے مدھم آواز میں امامہ سے کہا۔
کیا تمہاری نہیں ہوتی؟ اس نے جواباً پوچھا۔
میری بھی ہوتی ہیں۔ لیکن تمہاری زیادہ ہوتی ہے۔ وہ کہہ رہا تھا۔
الحمد اللہ! امامہ نے جواباً کہا۔ وہ ہنس پڑا۔
تم میرے پیرنٹس کو اولڈ ہوم سے نکال کر انہیں کوئی گھر لے دو۔ ان کے پاس میرے جائداد کا جو حصہ ہے اسے بیچ کر۔ بے شک چھوٹا گھر ہو لیکن میں انہیں اولڈ ہوم میں نہیں دیکھ سکتی۔
میں پاپا سے کہہ دوں گا وہ کر دیں گے یہ کام۔ ان کا خیال بھی رکھیں گے۔ تم اسلام آباد میں مستقل رہنا چاہتی ہو تو رہ سکتی ہو امامہ۔ تم اور بچے وہاں۔۔۔۔۔۔۔۔
امامہ نے اس کی بات کاٹ دی۔ میں تمہارے پاس رہنا چاہتی ہوں اور اسی تاریخ کو واپس آرہی ہوں۔
————————–
سی آئی اے نے سالار سکندر کی اس سرگرمی کو صرف مانیٹر اور ریکارڈ نہیں کیا تھا اس ملاقات میں شامل پانچ افراد کو بھی اپنی واچ لسٹ میں ڈال دیا تھا۔ اگلے آنے والی مہینوں میں سالار سکندر اور ان پانچ افراد کے بہت سارے تفریحی دورے ہوتے رہے تھے۔ لیکن اب سی آئی اے صرف سالار سکندر کی نہیں، ان پانچ افراد کی نقل و حرکت کو بھی مانیٹر کر رہی تھی۔ وہ پانچ افراد سالار سے صرف چند ماہ ملتے رہے پھر اس کے بعد ان کی ملاقاتوں کا سلسلہ ختم ہو گیا۔ وہ پانچ افراد اب آپس میں نہیں مل رہے تھے لیکن انفرادی طور پر اسی طرح ملاقاتیں کر رہے تھے۔
وہ ایک اسلامی مالیاتی سسٹم پر کام کر رہے تھے اور یہ بات سی آئی اے جانتی تھی لیکن اس نظام کی شکل کیا تھی۔ وہ اسے بوجھنے میں کامیاب نہیں ہو رہے تھے۔ اور اس کی وجہ صرف ایک تھی۔ ایک جگسا پزل کی طرح اس نظام سے منسلک ہونے والے سب افراد کے پاس اس کا ایک ایک ٹکڑا تھا۔ اور وہ اس ٹکڑے کو اچھی طرح جانتا اور سمجھتا تھا۔۔ لیکن وہ ٹکڑا اس تصویر میں کہاں لگنا تھا یہ صرف ایک شخص جانتا تھا۔ سالار سکندر۔
——————–
ممی! حمین کب بڑا ہو گا؟ اس دن جبریل نے اپنی آرٹ بک میں کچھ بناتے ہوئے امامہ سے پوچھا۔
بڑا تو ہو گیا ہے۔ امامہ نے اس کے سوال اور انداز پر غور کیے بغیر کہا۔
تو پھر روتا کیوں ہے؟ امامہ بے چارگی سے اپنے بڑے بیٹے کو دیکھ کر رہ گئی۔
آپ اس سے پوچھیں کہ اس کو کیا چاہیے؟ وہ امامہ کو جیسے مسئلے کا حل بتا رہا تھا۔
میں پوچھ نہیں سکتی اور یہ بتا نہیں سکتا۔امامہ اب بھی اسے اٹھائے لاؤنج میں ٹہلتے ہوئے اسے تھپک رہی تھی۔ وہ بغیر آنسوؤں کے گلا پھاڑ پھاڑ کر روتا تھا اور پھر رونے کے بیچوں بیچ بھی دلچسپ چیز نظر آنے پر ایک دم رونا بند کر کے اس کا جائزہ لینے میں مصروف ہو جاتا اور جب اس کام سے فارغ ہو جاتا تو ایک بار پھر اپنے رونے کے سلسلے کو وہی سے جاری رکھتا جہاں چھوڑا تھا۔
سات آٹھ ماہ کی عمر میں ہی اس نے بیک وقت چار دانت نکالنے شروع کیے۔
اس کو جلدی کس بات کی ہے؟ بیک وقت چار دانتوں کو نکلتے دیکھ کر سالار نے کہا۔ جبریل اور وہ، حمین سکندر کے بارے میں ایک جیسے تاثرات رکھتے تھے۔
یہ تم خود اس سے پوچھ لو۔ امامہ نے جواب دیا۔
حمین ان چار دانتوں کے ظہور پذیر ہونے سے پہلے بھی صرف بڑوں کے کھانے والی ہر اس چیز میں دلچسپی لیتا تھا جو چٹخارے والی ہوتی تھی۔اپنے پوپلے منہ کے ساتھ بھی چپس اس کی پسندیدہ خوراک تھی۔ جسے وہ صرف چبا نہیں سکتا تھا، نگل بھی سکتا تھا۔ وہ چپس کا پیکٹ تک پہچانتا تھا اور ایسا ممکن نہیں تھا کہ جبریل اور عنایہ اس کے قریب بیٹھ کر کوئی چیز اطمینان سے، اسے کھلائے بغیر خود کھا لیتے۔
وہ عجیب و غریب بچہ تھا اور یہ نام اس کے بارے میں سالار نے دیا تھا۔ جس کا خیال تھا کہ اس نے ایسی مخلوق کبھی نہیں دیکھی۔
سکندر عثمان نے اس سے کہا تھا۔ میں نے دیکھی ہے۔وہ تمہاری کاپی ہے۔
یہ زیادتی ہے۔ سالار نے اس کی بات پر احتجاج کیا تھا۔ وہ اور طیبہ ان کے پاس کانگو آئے تھے جب وہ دونوں حمین سکندر کے ہاتھوں بننے والی اس کی درگت دیکھ رہے تھے۔ وہ تب دس ماہ کا تھا اور سب سے پہلے اس نے جو لفظ بولنا شروع کیا تھا وہ “سالا” تھا۔ اور ہر بار سالار کو گھر میں داخل ہوتے دیکھ کر وہ بے حد خوشی سے ہاتھ پاؤں مارتا سالا سالا چلاتے ہوئے اس کی طرف جانے کی کوشش کرتا۔
بیٹا بابا! پہلی بار سالار کے لیے وہ لفظ سن کر ہنسی سے بے حال ہونے کے باوجود امامہ نے اس لفظ کو بدلنے کی کوشش کی تھی۔ وہ سالار پر ہاتھ رکھتے ہوئے اسے توڑ توڑ کر سکھا رہی تھی۔ با۔۔۔۔۔۔۔با۔
“سالا” حمین نے ماں کی محنت پر پانی پھیرتے ہوئے سالار کے لیے وہی لفظ استعمال کیا جو وہ سالار کے لیے اپنی ماں کو پکارتے سنتا تھا۔
تم اسے بابا مت سکھاؤ صرف ”ر“ لگوا دو میرے نام کے ساتھ۔ یہ بھی غنیمت ہے میرے لیے۔سالار نے اسے مشورہ دیا تھا۔ وہ بہرحال کچھ زیادہ محظوظ نہیں ہوا تھا اس طرز تخاطب سے، جو سکندر اور طیبہ کے لیے ایک تفریح بن گئی تھی۔ جبریل تحمل سے اپنے اکلوتے چھوٹے بھائی کو دیکھتا رہتا تھا جس نے اس کے گھر کے امن و سکون کو تہہ و بالا کر کے رکھا ہوا تھا۔ پہلے اس کا خیال تھا کہ حمین بڑا ہو جائے اور چلنا شروع ہو جائے تو ٹھیک ہو جائے گا۔ لیکن جب اس نے چلنا شروع کیا تو یہ دیکھ کر اسے اندازہ ہوا کہ وہ اس مسئلے کا غلط حل تھا۔
حمین سکندر کو پیر نہیں پر مل گئے تھے۔ اور وہ اب کہیں بھی جا سکتا تھا اور کہیں سے مراد کہیں بھی۔۔۔ اور اس کی فیورٹ جگہ باتھ روم تھی۔ وہ بھی وہاں اس وقت جانا پسند کرتا تھا جب جبریل اسے باتھ روم میں جاتا دکھائی دیتا اور جبریل نے اس کے ہاتھوں کئی بار خاصی شرمناک صورت حال کا سامنا کیا۔ جس باتھ روم کو بچے استعمال کرتے تھے اس میں لاک نہیں تھا اور دروازے کا ہینڈل گھما کر اسے کھولنا حمین کے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا۔ جبریل کے لیے حمین کی موجودگی میں باتھ روم جانا جان جوکھوں کا کام تھا۔ وہ باتھ روم کے دروازے کی اندرونی طرف باتھ روم میں پڑی ان سب چیزوں کو رکاوٹوں کے طور پر دروازے کے سامنے ڈھیر کرتا۔
سالار سکندر اگر اسے عجیب و غریب کہتا تھا تو حمین سکندر باپ کے دیے گئے اس ٹائٹل پر پورا اترنے کی کوشش کر رہا تھا اور پوری دل جمعی کے ساتھ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نائب صدر کے طور پر سالار نے افریقہ کے لیے کسی مشین کی طرح کام کیا تھا۔ وہ مشکل ترین اہداف کے حصول کے لیے نامساعد ترین حالات میں کام کر رہا تھا اور کامیابی سے کر رہا تھا۔
سالار سکندر کی ملازمت کا دورانیہ ختم ہونے کے قریب آرہا تھا۔ بنک نے یہ دورانیہ ختم ہونے سے دو سال پہلے ہی سالار سکندر کو ملازمت میں توسیع کی آفر کی تھی اور اس نے یہ آفر قبول نہیں کی تھی۔ پھر اس آفر کو بار بار بہتر پیکجز کے ساتھ اسے اصرار کیساتھ پیش کیا جاتا رہا۔ لیکن سالار کا انکار قائم رہا تھا۔ وہ افریقہ میں اپنے قیام کو اب ختم کرنا چاہتا تھا۔ اور ورلڈ بنک کے ساتھ امریکن حکومت کے لیے بھی یہ تشویش کی بات تھی۔ افریقہ کو سالار سکندر سے بہتر کوئی نہیں چلا سکتا تھا۔ اس نے پچھلے چند سالوں میں نہ صرف ورلڈ بنک کی ساکھ اور امیج کو ہی افریقہ میں بدل کر رکھ دیا تھا بلکہ اس نے امریکن حکومت کے لیے بھی وہاں خیر سگالی کے جذبات دوبارہ پیدا کرنے میں بہت کامیابی حاصل کی تھی۔ اس کا ورلڈ بنک کو اس وقت چھوڑ کر جانا ان کے لیے بڑا دھچکا ہوتا۔ لیکن وہ رکنے پر تیار نہیں تھا اور امریکن حکومت کو سوچنا پڑ رہا تھا کہ وہ اسے ایسی کیا چیز پیش کرے جو اسے روک سکے۔
ورلڈ بنک کی صدارت ہی یقیناً ایک ایسا تاج تھا جو اس کو پہنا کر اسے روکا جا سکتا تھا۔ سالار اس عہدے کے لیے موزوں ترین اور کم عمر ترین امیدوار تھا۔ مگر اس عہدے پر سالار کی تعیناتی امریکی حکومت کے لیے خود ایک مسئلہ بن گئ تھی۔ وہ ایک بنیاد پرست مسلمان کو وہ ورلڈ بنک کا صدر نہیں بنا سکتے تھے۔ اور وہ اس بنیاد پرست مسلمان کو کسی اور چیز کی آفر کر کے روک بھی نہیں پا رہے تھے۔لیکن ابھی امریکی حکومت اور ورلڈ بنک کے پاس اس پر سوچنے کے لیے وقت تھا کیونکہ سالار کی ملازمت کا دورانیہ ختم ہونے میں ابھی ایک سال باقی تھا۔
اس ایک سال میں سالار سکندر کی زندگی میں تین بڑے واقعات ہوئے اور ان تینوں نے ان کی زندگی پر گہرے نقوش چھوڑے۔ ان واقعات نے ایک بار پھر اس کی زندگی بدل دی۔
——————————-
چنی سے سالار سکندر کا تعارف غائبانہ رہا تھا۔ غلام فرید کے حوالے سے سکندر عثمان سے اسے کئی بار خبریں ملتی رہی تھی۔ سکندر عثمان نے غلام فرید کے ذریعے گاؤں کی مسجد کے امام کو پہنچائی جانے والی امداد کے بارے میں سالار کو مطلع کر دیا تھا کیونکہ یہ امداد سالار کے کہنے پر ہی اس نے شروع کی تھی۔ غلام فرید کو اس میں ہیر پھیر کے نتیجے میں ملازمت سے فارغ کرنے کا حکم سالار ہی کا تھا۔بد دیانتی اور بے ایمانی اس کے لیے قطعی ناقابل برداشت تھی۔
غلام فرید کے ہاتھوں ایک بچی کے سوا پورے خاندان کا قتل سکندر عثمان کو بری طرح ہلا گیا۔ وہ اب غلام فرید کے لیے سوائے اس کے کچھ نہیں کر سکتے تھے اور اس کی بچ جانے والی واحد اولاد کی دیکھ بھال اور کفالت کی ذمہ داری اٹھائیں۔ اور سالار کے کہنے پر وہ سکندر عثمان نے اٹھا لی تھی۔ وہ اس کے لیے ماہانہ رقم دیتے تھے جو اس کے رشتہ دار آ کر لے جاتے تھے اور کبھی کبھار وہ سکندر عثمان کو چنی بھی دکھا دیتے تھے۔ تاکہ انہیں تسلی رہے کہ وہ رقم واقع اس پر خرچ ہو رہی ہے۔ یہ شاید اسی طرح چلتا رہتا اگر سالار اس سال اپنی فیملی کے ساتھ دو ہفتوں کے لیے پاکستان نہ آیا ہوتا۔ ایک لمبے عرصے کے بعد سکندر کی بجائے وہ خود گاؤں کا سکول دیکھنے گیا تھا۔ اسکول انتظامیہ کے چند لوگوں کے ساتھ سالار اچانک اس کے گھر گیا۔ جس ڈیڑھ سال کی چنی کو سالار نے دیکھا وہ اسے سات آٹھ ماہ کی ایک بچی لگی تھی۔ بے حد کمزور، دبلی پتلی، اس کی سانولی رنگت یرقان جیسی پیلاہٹ لیے ہوئے تھی۔اس کا چہرہ سیاہ پیپ زدہ دانوں سے بھرا ہوا تھا۔ جس وقت سالار اس گھر کے صحن میں داخل ہوا وہ دانہ چگتی ہوئی مرغیوں کے پاس بیٹھی تھی اور اس دانے اور گندگی کو بلا تکلف اپنے منہ میں ڈال رہی تھی۔ وہ یہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ اس کی کفالت کے لیے معقول رقم بھیجنے کے باوجود وہ اس حال میں ہو سکتی ہے۔ چنی کے رشتہ دار نروس اور گھبرائے ہوئے تھے وہ لوگ ڈسپلے اور پریزنٹیشن کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اسے اب سجا سنوار نہیں سکتے تھے۔
یہ بس ایسے ہی رہتی ہے۔ جتنی بار بھی کپڑے بدلو یہ جا کر مرغیوں میں گھس جاتی ہے۔ حمیدہ! اری او حمیدہ! ذرا چنی کو دیکھ۔۔۔۔۔ کپڑے بدلوا، صاحب نے ملنا ہے۔
وہ پہلا موقع تھا جب سالار نے چنی کو بغور دیکھا۔
سالار نے چنی کو اٹھا لیا اور وہ بھی بڑے آرام سے کسی جھجک کے بغیر اس کے پاس آ گئی۔ اس نے زندگی میں پہلی بار اس حلیے کا شخص دیکھا تھا۔سالار نے اسے تھپکتے ہوئے پچکارا تھا۔ وہ پلکیں جھپکائے بغیر اسے دیکھتی رہی۔
ہاں بس تھوڑی بیمار ہی رہتی ہے۔ شروع سے ہی ایسی ہے۔ ڈاکٹر کی دوائی سے بھی فرق نہیں پڑا۔ اب پیر صاحب سے دم کرا کے لائے ہیں۔ انہوں نے تعویز بھی دیا ہے گلے میں ڈالنے کے لیے۔۔۔۔۔۔ حمیدہ وہ تو ابھی ڈالا نہیں تم نے۔
سالار میاں بیوی سے اب اس بچی کے بارے میں پوچھ رہا تھا۔ اور وہ گڑبڑائے ہوئے اس کے چہرے اور جسم پر رستے ہوئے دانوں کی وجوہات اور علاج بیان کر رہے تھے۔
سالار کو احساس ہو گیا کہ وہ غلط جگہ پر تھی۔ اس کا خیال نہیں رکھا جا رہا تھا۔ اس کی کفالت کے لیے دی جانے والی امداد اس پر خرچ نہیں ہو رہی تھی۔پتا نہیں وہ کون سی ذہنی رو تھی جس میں اس نے چنی کو فوری طور پر وہاں سے لے جانے اور کسی دارالامان میں داخل کروانے کا فیصلہ کر لیا۔ اس نے یہ فیصلہ چنی کے رشتہ داروں کو بھی سنا دیا تھا۔ ان کے احتجاج کے باوجود وہ چنی کو وہاں سے لے آیا تھا۔اس گاؤں سے اسلام آباد واپسی پر سالار اپنی گاڑی خود ڈرائیو کرتا رہا تھا اور چنی برابر والی سیٹ پر بیٹھی دروازے کی کھڑکی سے چپکی اطمینان سے پورا راستہ باہر دیکھتی رہی۔ وہ اگر بے چین ہوئی تھی تو صرف تب، جب سالار نے اسے گاڑی میں بٹھاتے ہوئے اسے سیفٹی بیلٹ باندھنے کی کوشش کی تھی۔ جو اس کے ہاتھ پاؤں مارنے پر سالار نے کھول دی تھی۔ اسے اس وقت حمین یاد آیا تھا۔ وہ بھی اس عمر میں اسی طرح سیٹ بیلٹ سے جان چھڑاتا تھا۔
بیلٹ کھولنے پر وہ ایک بار پھر پرسکون ہوگئی تھی۔اس نے ایک بار بھی سالار کو دیکھنے کی کوشش نہیں کی تھی۔ سالار اس کا انہماک دیکھ کر مسکراتا رہا تھا۔ اس نے راستے میں ایک جگہ رک کر اسے ایک جوس کا ڈبہ اور بسکٹ کا ایک پیکٹ لے کر دیا۔ وہ منٹوں میں دونوں چیزیں کھا گئی جیسے وہ کئی دنوں کی بھوکی تھی۔
اسلام آباد آتے ہوئے گاڑی میں سفر کے دوران سالار اس بچی کی رہائش کے لیے مناسب ترین جگہ کے بارے میں سوچتا رہا۔ اس وقت ایک لمحے کے لیے بھی اس نے نہیں سوچا کہ وہ اسے خود پالے گا۔ وہ اتنی بڑی ذمہ داری لینے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا اور اگر سوچتا بھی تو امامہ سے پوچھے بنا نہیں کر سکتا تھا۔
اسلام آباد پہنچنے پر گھر کے گیراج میں اس کے بچوں نے بھاگتے ہوئے اس کا استقبال کیا۔ گاڑی کے اندر سب سے پہلے چنی کو ساڑھے تین سالہ حمین سکندر نے دیکھا۔ ہمیشہ کی طرح اس کی آنکھیں گول ہو گئی تھی، یوں جیسے اس نے جنگل کا کوئی جانور دیکھ لیا تھا۔ سالار نے حمین کو ہٹا کر گاڑی کا دروازہ کھولا اور چنی کو باہر نکال لیا۔ چنی سے آنے والی بدبو کے بھبھکے سب سے پہلے حمین نے ہی محسوس کیے۔
اوہ مائی گاڈ! یہ کتنی بدبودار گندی اور بد صورت ہے۔وہ بے اختیار ناک پہ ہاتھ رکھے کہتا گیا۔
حمین! سالار نے اسے ڈانٹنے والے انداز میں پکار کے گھورا۔
لیکن ٹھیک ہے۔ شاید اسے اس طرح رہنا پسند ہو۔ میرا مطلب ہے کچھ لوگ مختلف ہوتے ہیں۔ مجھے اس کا ہیئر اسٹائل اچھا لگا ہے۔ یہ کول ہے۔
حمین نے ہمیشہ کی طرح باپ کی پھٹکار کے بعد سیکنڈز میں اپنا بیان تبدیل کر دیا تھا۔
بابا! میں بھی اس کی طرح ہیئر اسٹائل بنانا چاہتا ہوں۔ سالار نے اس کی زبان کی قینچی کو نظرانداز کیا تھا۔ وہ ایک چھوٹے سائز کا خاموش نہ ہونے والا جن تھا۔ جو اس گھر کے افراد کے گرد ہر وقت منڈلاتا رہتا تھا اور اس کے سوالات۔۔۔۔۔۔ ختم نہ ہونے والے سوالات نے امامہ اور سالار کی آئیڈیل والدین بننے کی ہر خواہش اور معلومات کو ختم کردیا تھا۔
I think she is goldi look
حمین کی تعریفوں کا سلسلہ جاری تھا۔
یہ گولڈی لک نہیں ہے، یہ گندی ہے، اس نے کئی ہفتوں سے اپنے بال نہیں دھوئے۔ جبریل نے اسے ٹوک کر بتایا۔ وہ تینوں اب سالار کے پیچھے اندر جا رہے تھے۔
آل رائٹ! مگر اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ یہ کول نہیں۔ جواب پھر تڑاخ سے آیا تھا۔ جبریل بے اختیار پچھتایا۔ اس نے اس کے تبصرے کا جواب دے کر سالار کے پیچھے لگنے والی بلا اپنے پیچھے لگا لی تھی۔
اگر میں کئی مہینوں تک اپنے بال نہ دھوؤں تو میرے بال بھی ایسے ہوں گے؟ میرا مطلب ہے گولڈن براؤن یا ایش گرے یا مسٹرڈ یلو۔ اس کا ذہن اب کہیں سے کہیں پہنچ چکا تھا۔
نہیں۔ جبریل نے بے حد سخت لہجے میں فل سٹاپ لگایا۔
اوکے! حمین نے اطمینان سے کہا۔ لیکن میں اپنے بال ڈائی تو کر سکتا ہوں۔
جبریل نے اس بار اسے مکمل طور پہ نظرانداز کیا۔
امامہ نے سالار کو اس بچی کو اٹھائے دیکھا۔ وہ طیبہ کے ساتھ بیٹھی چائے پی رہی تھی۔ اور وہ چائے پینا ہی بھول گئی۔
یہ کون ہے؟
بعد میں بتاؤں گا۔ تم اسے نہلا کر کپڑے بدل دو اس کے۔ پھر میں اس کو ڈاکٹر کو دکھانا چاہتا ہوں۔
امامہ کچھ الجھی تھی لیکن وہ اسے لےکر چلی گئی تھی۔ اسے نہلانے کی کوشش کے آغاز میں ہی اسے پتا چل گیا تھا کہ اس بچی کے بالوں کو کاٹے بغیر اس کو نہلایا نہیں جا سکتا۔ اس کے سر میں بڑے بڑے پھوڑے تھے اور اس سے رسنے والی پیپ نے اس کی بالوں کی لٹوں کو آپس میں اس طرح جوڑ دیا تھا کہ اب ان کا کھلنا ممکن نہیں تھا۔ اس نے شیونگ کٹ میں پڑی قینچی سے چنی کے سارے بال جڑ سے کاٹنے شروع کیے۔ وہ اس کا سر گنجا نہیں کر سکتی تھی کیونکہ وہ پھوڑوں سے بھرا ہوا تھا۔ امامہ کو اس بچی کو نہلاتے ہوئے بہت رحم اور ترس آیا تھا۔ چنی چپ چاپ نہاتی رہی اس نے رونا دھونا نہیں مچایا۔ نہ ہی بال کٹنے پر پھوڑوں پہ ہاتھ لگنے پر کسی تکلیف کا اظہار کیا تھا۔
وہ بلآخر جب چنی کو مکمل یو کٹ میں نہلا دھلا کر حمین کا ہی ایک جوڑا پہنائے باہر لائی تو اسے دیکھ کر سب سے پہلے چیخ مارنے والا حمین تھا۔
اوہ مائی گاڈ! ممی آپ نے اسے مزید بدصورت اور خوفناک بنا دیا ہے۔ اور آپ نے میری سب سے فیورٹ شرٹ بھی خراب کر لی۔ ممی یہ لڑکی تھی، آپ نے اسے لڑکا بنا دیا۔ اللہ اس کے لیے آپ کو معاف نہیں کرے گا۔ امامہ کو اس کی بات پر ہنسی آئی۔ سالار ٹھیک کہتا تھا وہ عجیب و غریب ہی تھا۔
——————–
اس سال صرف چنی سالار سکندر کے خاندان میں نہیں آئی تھی۔ اس سال کا دوسرا بڑا واقعہ سالار سکندر کے برین ٹیومر کی تشخیص تھا۔

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: