Aab e Hayat Novel by Umera Ahmed Read Online – Episode 29

0

آب حیات از عمیرہ احمد – قسط نمبر 29

–**–**–

اب اس کا کیا کرو گے؟ امامہ نے اپنے بیڈ پر سالار اور اپنے درمیان پرسکون گہری نیند میں چنی کو دیکھتے ہوئے سالار سے پوچھا اور وہ بھی اس وقت چنی کو ہی دیکھ رہا تھا.
زندگی میں پہلی بار کسی نے محبت اور شفقت سے اس کا پیٹ بھرنے تک اسے کھلایا تھا۔ اور وہ بے حد رغبت سے امامہ اور حمین کے ہاتھوں سے لقمے لے لے کر کھاتی رہی۔ خاص طور پر حمین کے ہاتھوں سے۔ جو بہت ضد کر کے اس کار خیر میں شامل ہوا تھا۔
اوہ مائی گاڈ! حمین نے اپنے ہاتھ میں پکڑا پہلا ہی لقمہ کھانے پر جیسے خوشی سے مخصوص انداز میں چیخ مارتے ہوئے نعرہ لگایا تھا۔ ممی یہ مجھےپسند کرتی ہے۔
چھ فٹ دور بیٹھے جبریل نے ایک کتاب کی ورق گردانی کرتے ہوئے ایک لمحے کے لیے نظر اٹھا کر اسے دیکھا اور پھر بے حد تحمل سے اگلا صفحہ پلٹتے ہوئے جوابی سرگوشی کی۔
صرف یہی تمہیں پسند کرتی ہے۔
سالار نے کچھ دیر پہلے ہی امامہ کو اس کے اور اس کے باپ اور خاندان کے حوالے سے پیش آنے والے تمام واقعات کو اپنے احساس جرم کے ساتھ آگاہ کیا تھا اور چنی کے لئے امامہ کی ہمدردی اور ترس میں بے پناہ اضافہ کر دیا تھا۔ لیکن اس کے باوجود اہم ترین سوال وہ تھا جو اس وقت امامہ نے پوچھا تھا۔
میں اسے کسی یتیم خانے یا ویلفیئر ہوم میں داخل کروانے لایا ہوں۔ جو کچھ اس کے ساتھ ہوا مجھ پہ اتنی ذمہ داری تو آتی ہے کہ میں اس کی زندگی خراب نہ ہونے دوں۔ سالار نے سنجیدگی سے امامہ سے کہا۔
تم احساس جرم کا شکار ہو رہے ہو؟ اس کے اعتراف کے باوجود امامہ کہے بغیر نہ رہ سکی۔
ہاں۔ جو کچھ اس کے باپ نے اپنے خاندان کے ساتھ کیا اس میں میں بھی قصوروار ہوں، تھوڑی سی زیادہ کنسرن دکھاتا میں تو یہ سب نہ ہوتا جو ہو گیا۔ سالار اسے دیکھتے ہوئے کہہ رہا تھا۔ امامہ نے اس کا ہاتھ تھپکا۔
تم اسے اپنے پاس رکھ کر کسی یتیم خانے میں داخل نہیں کروا سکتے ہو۔ خاص طور پر اس صورت حال میں، جب اس کے رشتہ دار موجود ہیں اور کورٹ نے انہیں اس کی گارڈین شپ بھی دے رکھی ہے۔ وہ تمہارے خلاف قانونی کاروائی کر سکتے ہیں۔ امامہ نے جیسے اسے خبردار کیا تھا۔
مجھے پرواہ نہیں۔ اس کا بھی کچھ نہ کچھ انتظام کر لوں گا۔ فی الحال میں نے اپنی لیگل ٹیم سے کہا ہے کہ وہ اس کے بارے میں مجھے ایڈوائس کریں۔ کورٹ کو اپروچ کیا جا سکتا ہے۔ اس بچی کے لیے گارڈین شپ بدلی جا سکتی ہے۔ وہ امامہ سے کہہ رہا تھا اور اس ساری گفتگو کے دوران سالار نے ایک لمحے کے لیے بھی اس بچی کو گود میں لینے کے آپشن پر سوچا ہی نہیں تھا۔ وہ صرف اس بچی کی بہتر نگہداشت چاہتا تھا۔
یہ خیال پہلی بار اس گھر میں حمین کو آیا تھا جو دوسرے دن امامہ سے چنی کا نام پوچھنے کی جدوجہد کر رہا تھا۔
مجھے یاد ہی نہیں رہا تمہارے بابا سے اس کا نام پوچھنا۔
امامہ کو اس کے استفسار پر یاد آیا۔
میں اس کا نام رکھ دوں؟ حمین نے ماں کی بات کے جواب میں اسے تجویز پیش کی۔
نہیں تم یہ نہیں کر سکتے۔ جبریل نے جیسےاسے لگام ڈالنے کی کوشش کی۔
کیوں؟ حمین نے اپنا پورا منہ اور آنکھیں بیک وقت پوری طرح کھول کر انہیں گول کرتے ہوئے تعجب کی انتہا پر پہنچتے ہوئے کہا۔
کیونکہ اس کا پہلے ہی ایک نام ہے۔ جبریل نے اسی ٹھنڈے انداز میں اس کے سوال کا ایسے جواب دیا جیسے وہ اس کی عقل پر افسوس کر رہا ہو۔
تمہیں اس کا نام پتا ہے؟ تڑاق سے اگلا سوال جبریل کی طرف اچھالا گیا۔
نہیں۔ جبریل گڑبڑایا۔
حمین نے اسی انداز میں اپنے سینے پر ہاتھ رکھتے ہوئے اسی ڈرامائی انداز میں کہا۔ ممی اس کا نام نہیں جانتی۔ وہ اب امامہ کی طرف متوجہ تھا۔ وہ جیسے عدالت میں اس کا کیس لڑنے کے لیے سر دھڑ کی بازی لگا رہا تھا۔
اور تم؟ کیا تم نہیں چاہتے کہ اس کا کوئی نام ہو؟
اس کے انداز میں اس قدر ملامت تھی کہ ایک لمحہ کو جبریل کو بھی مدافعانہ انداز اختیار کرنا پڑا۔
میں نے یہ تو نہیں کہا۔
میں نے خود سنا ہے۔ حمین نے اپنی موٹی موٹی سیاہ آنکھیں مکمل گول کرتے ہوئے اہم گواہ کا رول ادا کیا۔
جبریل نے فوری طور پر اپنا چہرہ کتاب کے پیچھے چھپانے میں ہی عافیت سمجھی۔ وہ اس چھوٹے بھائی کو تو تب بھی چپ نہیں کروا سکا تھا جب اسے بولنا نہیں آتا تھا۔
حمین! اس کے پیرنٹس نے اس کا کوئی نہ کوئی نام ضرور رکھا ہو گا۔ وہ اتنی بڑی ہے۔
امامہ نے اس بار مداخلت کرنا ضروری سمجھا۔ حمین کو اس کی بات پر جیسے کرنٹ لگ گیا۔
پیرنٹس۔۔۔۔۔۔ اس کے حلق سے عجیب سی آواز نکلی۔جبریل کو کتاب ہٹا کر اسے دیکھنا پڑ گیا۔
اوہ مائی گاڈ! حمین کی آواز صدمہ زدہ تھی۔ پھر یہ ان کے پاس کیوں نہیں؟
اس نے اسی صدمے میں امامہ سے جیسے احتجاجاً کہا تھا۔ اور یہ وہ سوال تھا جس کا جواب امامہ نہ دے سکی، اس کی سمجھ میں نہیں آیا تھا۔
کیا اس کا کوئی بہن یا بھائی بھی نہیں؟
نہیں، اس کا کوئی بھی نہیں۔ امامہ نےجواب دیا۔حمین کا چہرہ کھل اٹھا۔۔
تب تو میں اس کا نام رکھ سکتا ہوں۔ گفتگو جہاں سے شروع ہوئی تھی، گھوم پھر کر پھر وہی آگئی تھی۔ حمین کوئی بات بھولتا نہیں تھا اور یہ اس کے ماں باپ کی بدقسمتی تھی۔
اوکے! تم اس کا نام رکھ لو۔ امامہ نے جیسے ہاتھ جوڑنے والے انداز میں اس کے سامنے ہتھیار ڈالے۔
ممی! کیا یہ ہمارے ساتھ رہے گی؟ حمین نے ایک اور سوال سے اسے مشکل میں ڈالنا ضروری سمجھا۔
نہیں۔ امامہ نے اسی طرح کام میں مصروف اس کی طرف متوجہ ہوئے بغیر کہا۔
کیوں؟ حمین نے جیسے چیخ نما انداز میں سوال کیا۔امامہ صرف گہری سانس لے کر رہ گئی۔
جب تمہارے بابا آئیں گے تو ان ہی سے پوچھنا۔ اس نے بلا کو اپنے سر سے ٹالنے کی کوشش کی۔
ممی! کیا ہم اسے اڈاپٹ کر سکتے ہیں؟ امامہ کا دماغ گھوم گیا تھا اس سوال پر۔
نہیں، یہ نہیں ہو سکتا۔
تم اسے اڈاپٹ کیوں کرنا چاہتے ہو؟ جبریل نے جیسے ہول کر کہا۔
کیونکہ مجھے ایک بے بی چاہیئے۔
اس نے بے حد نروٹھے انداز میں اعلان کیا۔ جبریل جیسے غش کھا گیا تھا۔ امامہ دم بخود اپنے ساڑھے تین سالہ بیٹے کی شکل دیکھ کر رہ گئی۔ جبکہ لاؤنج میں آتے ہوئے سکندر عثمان اپنی ہنسی پر قابو نہیں رکھ سکے تھے۔ حمین نے سکندر عثمان کو اندر آتے اور ہنستے دیکھ لیا۔ وہ اپنی جگہ سے اٹھ کر جا کر ان کی ٹانگوں سے لپٹ گیا اور اس نے ایک بار پھر وہ مطالبہ پیش کیا۔
ایک دن آئے گا جب بے بی آپ کے پاس ہو گا۔ انہوں نے اسے تھپکتے ہوئے تسلی دی۔
ایک دن؟ حمین کی آنکھیں عادتاً گول ہوئی۔ آج کیوں نہیں؟
سکندر نے زمین پر بیٹھی کھلونوں سے کھیلتی چنی کو دیکھا۔ جتنا ترحم اور احساس جرم سالار کے دل میں چنی کے لیے تھا اتنا ہی سکندر کے دل میں بھی اس کے لیے تھا۔ وہ جیسے ان دونوں کا مشترکہ احساس جرم تھا۔
بیٹا اسے واپس جانا ہے۔ وہ آپ کی بے بی نہیں ہو سکتی ۔سکندر نے اب حمین کو سمجھانے کی کوشش کا آغاز کیا۔
اسے کہاں جانا ہے؟ حمین کو سکندر کی بات پر ایک اور جھٹکا لگا۔
اپنی فیملی کے پاس۔ سکندر نے مختصراً کہا۔
لیکن ممی نے تو کہا تھا کہ اس کی کوئی فیملی نہیں ہے۔
سکندر نے امامہ اور امامہ نے انہیں دیکھا۔ آپ کے بابا اس کو کسی نرسری میں داخل کروانا چاہتے ہیں۔امامہ نے اس کے لیے ایک جواب ڈھونڈا۔
یہ ہمارے ساتھ کیوں نہیں رہ سکتی؟ ہمارا گھر اتنا بڑا ہے۔ اس نے ہاتھ پھیلا کر اتنا پر زور دیا۔
یہ ہمارا گھر نہیں ہے۔ یہ آپ کے دادا ابو کا گھر ہے۔اندر آتے ہوئے سالار نے اس کے سوال کا جواب پیش کیا۔
حمین سوچ میں پڑا۔
یہ ہمارے ساتھ کنشاسا میں رہ سکتی ہے۔ اسے کنشاسا والے گھر کا خیال آیا۔
لیکن وہ بھی ہمارا گھر نہیں، ہم اسے جلد چھوڑ دیں گے۔
سالار نے بے حد سنجیدگی سے اس کے ساتھ یوں بات کرنی شروع کی جیسے وہ کسی بڑے آدمی سے بات کر رہا ہو۔
حمین اب بھی سوچ میں پڑا تھا، جیسے وہ چنی کے لیے ایک گھر کی تلاش میں تھا۔ جہاں اسے رکھا جا سکتا اور امامہ کو گھر کے ذکر پر جیسے اپنا گھر یاد آیا۔
ہمارے پاس اپنا گھر کیوں نہیں ہے؟
ہمارا اپنا گھر ہو گا۔ امامہ نے جیسے حمین کو بہلایا۔
کب؟
بہت جلد۔
امامہ چائے بنا کر سکندر اور سالار کو پیش کر رہی تھی۔
اسی لیے منع کرتا تھا میں کہ فضول خرچیاں مت کرو۔ وقت پر اپنا گھر بنا لو۔ جیسے تمہارے سارے بھائیوں نے بنا لیے۔ سکندر عثمان کو اس موضوع گفتگو سے وہ پلاٹ اور وہ انگوٹھی یاد آئی۔ وہ پلاٹ اس وقت ہوتا تو چار پانچ کروڑ کا ہوتا۔ اس رنگ کی اس وقت کی مارکیٹ پرائس سے ڈبل۔سکندر نے روانی سے کہا۔ اپنے لیے چائے ڈالتی امامہ ایک لمحے کے لیے ٹھٹکی۔
کس رنگ کی؟ اس نے جیسے حیران ہو کر سکندر سے پوچھا۔
جو رنگ تم نے پہنی ہوئی ہے۔ سکندر نے چائے کا گھونٹ لیتے ہوئے کہا۔ سالار کو غلطی کا احساس ہوا لیکن اب تیر کمان سے نکل چکا تھا۔ امامہ نے بے یقینی سے ہاتھ میں پہنی انگوٹھی کو دیکھا۔ پھر سالار کو اور پھر سکندر عثمان کو۔
یہ پلاٹ بیچ کر آئی ہے؟
ہاں۔ ایک کروڑ سینتیس لاکھ کی۔ ذرا سوچو دس گیارہ سال پہلے وہ پلاٹ نہ بکتا تو آج وہ اسلام آباد میں جس جگہ پر ہے اس سے چار گنا زیادہ قیمت ہو چکی ہوتی۔
سکندر نےنہ امامہ کے تاثرات پر غور کیا، نہ سالار کے۔ وہ روانی میں چائے پیتے ہوئے بات کرتے گئے۔
امامہ ساکت اور دم بخود سالار کو دیکھ رہی تھی جو اس سے نظریں چرائے چائے پینے میں مصروف تھا اس وقت وہ یہی کر سکتا تھا۔
کمرےمیں یکدم اپنی بات کے اختتام پر چھانے والی خاموشی سے سکندر عثمان کو لگا کچھ ٹھیک نہیں۔
چائےکا آخری گھونٹ لیتے ہوئے وہ رکے۔ انہوں نے ساکت بیٹھی امامہ کو دیکھا جو سالار کو گھور رہی تھی۔ پھر سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں انہیں اس خاموشی کی وجہ سمجھ آ گئی تھی۔
اسے اب بھی نہیں پتا؟ انہوں نے بے یقینی سے اپنے بیٹے سے پوچھا۔
اب پتا چل گیا ہے۔ سکندر کی سمجھ میں نہیں آیا وہ فوری طور پر اس انکشاف پر کیا رد عمل کرے۔ جو ایک راز کو غیر ارادی طور پر افشا کرنے پر ان کی شرمندگی چھپا لیتا۔
امامہ نے اپنے ہاتھ کی پشت کو پھیلا کر اس انگوٹھی کو دیکھا۔ پھر سکندر کو اور پھر سالار کو۔ وہ اگر کہتا تھا کہ وہ انمول تھی تو غلط نہیں کہتا تھا۔ اس کی زندگی میں بہت سارے لمحے آئے جب اس کا دل بس سالار کے گلے لگ جانے کو چاہا تھا۔ کسی لفظ اور کسی اظہار کے بغیر۔
*******——******—–**
تم نے رنگ اتار دی؟ اس رات امامہ کے ہاتھ میں اس رنگ کو نہ پا کر وہ پوچھے بنا نہ رہ سکا۔
میں بے وقوف نہیں ہوں جو اتنی قیمتی رنگ ہر وقت پہنے رہوں۔ امامہ نے جواباً کہا۔ تمہیں مجھے بتانا چاہیے تھی اس کی قیمت۔ اس نے سالار سے کہا۔
صرف اس خدشے کے تحت نہیں بتایا تھا تمہیں اور دیکھ لو میرا اندازہ ٹھیک تھا۔ تم اسے بھی اب لاکر میں رکھ دو گی۔
سالار کچھ ناخوش سا دوبارہ ٹی وی کی طرف متوجہ ہوا۔ ایک لمحہ کے لیے امامہ خاموش رہی پھر اس نے کہا
تو اور کہاں رکھوں؟ ساتھ لیے پھرنا بے وقوفی ہے۔ گم ہو جائے تو؟ مجھے تو ہارٹ اٹیک ہی ہو جائے گا جو ایک کروڑ سے بھی مہنگی انگوٹھی میں گم کر دوں۔
تقریباً سوا دو کروڑ۔
سالار ٹی وی پر نظریں جمائے بڑبڑایا۔ امامہ کی سمجھ میں نہیں آیا۔
کیا؟
اس کی موجودہ قیمت۔ وہ اسی انداز میں بولا۔
اس لیے تو نہیں پہن رہی۔۔ بے وقوفی تھی ویسے یہ۔اس نے ایک ہی سانس میں کچھ توقف کے بعد کہا۔
کیا؟ سالار اس بار اس کی طرف متوجہ ہوا۔
ایک پلاٹ بیچ کر انگوٹھی خریدنا اور وہ بھی اتنی مہنگی۔ میں تمہاری جگہ ہوتی تو کبھی نہ خریدتی۔
اسی لیے تم میری جگہ نہیں ہو امامہ! سالار نے جتانے والے انداز میں کہا۔ وہ نادم ہوئی لیکن اس نے ظاہر نہیں کیا۔
وہ پلاٹ ہوتا تو آج اسے بیچ کر گھر بنا چکے ہوتے ہم۔اس نے چند لمحوں کی خاموشی کے بعد کہا۔
تمہارے خوابوں کا ایکڑوں پر پھیلا ہوا گھر چند کروڑ میں بن جاتا؟
وہ اب اسے چڑانے والے انداز میں کچھ یاد دلا رہا تھا۔اور امامہ کو ایک جھماکے کےساتھ وہ سکریپ بک یاد آئی جس میں اس نے اپنے ممکنہ گھر کی ڈھیروں ڈرائنگز بنا رکھی تھی۔
اچھا کیا مجھے یاد دلا دیا۔ میں تو کل ہی وہ سکریپ بک نکالتی ہوں، مدت ہو گئی اسے دیکھے ہوئے اور اس میں کچھ ایڈ کیے۔۔
امامہ کا ذہن برق رفتاری سے انگوٹھی سے ہٹ کر گھر پر چلا گیا تھا اور پھر سالار کو امریکہ میں خریدے اور بیچ دینے والے گھر کا خیال آیا۔
تمہیں ایک چیز دکھاؤں؟ سالار نے ٹیبل پر پڑے اپنے لیپ ٹاپ کو اٹھا لیا۔
کیا؟ وہ چونکی۔
سالار اب لیپ ٹاپ کھول کر اس میں سے تصویروں والے حصے میں جا کر اس گھر کی تصویریں ڈھونڈ رہا تھا اور وہ چند منٹوں میں سکرین پر نمودار ہو گئی تھی۔
یہ کیا ہے؟ امامہ نے ایک کے بعد ایک اسکرین پر نمودار ہونے والی ان تصویروں کو دیکھتے ہوئے سالار سے پوچھا۔۔۔
ایک گھر۔۔۔۔۔۔۔ ایک جھیل۔۔۔۔۔۔ اس کے گرد پھیلا لان۔۔۔۔۔۔
وہ اس کی بات پر ہنسی۔
وہ تو مجھے نظر آرہا ہے، لیکن کس کا گھر ہے یہ۔
اس نے سالار سے پوچھا۔ اور مجھے کیوں دکھا رہے ہو؟
جب حمین پیدا ہوا تھا اور میں تمہارے پاس امریکہ سے آیا تھا تو اس رات تم نے مجھے بتایا تھا کہ تم نے خواب میں ایک گھر دیکھا تھا۔ کیا وہ گھر ایسا تھا۔ تمہیں خواب یاد ہے نا؟ سالار نے اس سے پوچھا۔
ہاں یاد ہے۔ لیکن وہ گھر ایسا نہیں تھا۔ وہ جھیل بھی ایسی نہیں تھی۔ اور یہ کہہ کر اس نے سالار کے احساس جرم سے جیسے ہوا نکال دی۔
کیوں؟ تم کیوں پوچھ رہے ہو یہ سب؟ اور یہ گھر کس کا ہے؟ امامہ کو اب الجھن ہوئی۔
تمہارے لیے خریدا تھا۔ سالار پھر تصویروں کو سکرول کرنے لگا۔
امامہ کو اس کی بات پر جیسے جھٹکا لگا۔ کیا مطلب میرے لیے۔
ہاں تمہارے لیے mortagage کیا تھا امریکہ میں ۔تمہیں سرپرائز دینا چاہتا تھا۔ تمہاری برتھ ڈے پر گفٹ کر کے لیکن۔۔۔۔۔۔
لیکن؟ امامہ نے اس کے خاموش ہونے پر پوچھا۔
لیکن پھر میں نے اسے بیچ دیا۔ سود سے میں دنیا میں تو گھر لے سکتا تھا، جنت میں گھر نہیں لے سکتا۔
تم لے بھی لیتے تو میں اس گھر میں کبھی نہیں جاتی۔ صرف ایک گھر ہی کی تو فرمائش کی ہے تم سے پوری زندگی میں، وہ بھی حرام کے پیسے سے بنا کر دیتے مجھے؟ امامہ نے سنجیدگی سے کہا۔
میں تمہارے خوابوں کا گھر بنا کر دینا چاہتا تھا ایکڑوں پر پھیلا۔۔۔۔۔ جھیل کنارے۔۔۔۔۔۔۔ سمر ہاؤس۔۔۔۔۔۔۔اور جلدی بنانا چاہتا تھا۔ بڑھاپے تک پہنچنے سے پہلے۔
امامہ نے سر جھٹکا۔ تم واقعی بے وقوف ہو۔ میرے خوابوں کے گھر کی اینٹیں حرام کے پیسوں سے رکھی جائے یہ خواہش نہیں کی تھی میں نے اور ایکڑوں کا گھر تم سے کہا تھا لیکن دعا اللہ سے کرتی تھی کہ وہ اسے مکمل کرے اور اتنے وسائل دے۔ تم سے ایک بار بھی میں نے نہیں کہا کہ اتنا کماؤ یا اسی سال گھر کھڑا کر کے دو۔ کبھی بھی یاد دہانی نہیں کرائی تمہیں۔ پھر کیوں جلدی تھی تمہیں اس گھر کے لیے۔
اسے افسوس ہو رہا تھا۔
تم نے کبھی مجھ سے نہیں کہا، مجھے ریمانڈ نہیں دیئے، لیکن مجھے پتا تو تھا نا کہ تمہاری خواہش ہے یہ۔ میں چاہتا تھا میں تمہاری خواہش پوری کردوں۔ تم نے صرف ایک چیز مانگی تھی مجھ سے اس لیے۔وہ اس سے کہتا جا رہا تھا۔ امامہ ہنس پڑی۔
تم خواب دیکھ رہے ہو سود سے پاک ایک اسلامی مالیاتی نظام کا، جسے دنیا میں رائج کر سکو اور میں خواب دیکھتی ہوں ایکڑوں پر پھیلے ایک گھر کا۔ حلال کے پیسے سے بنے ہوئے گھر کا۔ خواب تمہارا بھی اللہ ہی پورا کر سکتا ہے اور میرا بھی۔ اس لیے اسے اللہ پر ہی چھوڑ دیتے ہیں۔ ویسے بھی میں نے سوچا ہے وہ انگوٹھی بیچ کر اس سے کوئی پلاٹ تو لے کر رکھ ہی سکتی ہوں میں۔
سالار نے بے حد خفگی سے اس کی بات کاٹی۔ تم اسے بیچ دو گی؟
وہ ہنس پڑی۔ نہیں، تم سمجھتے ہو میں اسے بیچ سکتی ہوں؟
ہاں۔ سالار نے اسی نروٹھے انداز میں کہا۔ وہ ایک بار پھر ہنس پڑی۔ تمہیں پتا ہے دنیا میں صرف ایک مرد ہے جو میرے لیے ایسی انگوٹھی خرید سکتا ہے۔
اب تم رو کر مجھے جذباتی کرو گی۔ سالار نے اس کی آنکھوں میں ابھرتی نمی کو دیکھ کر حفاظتی بند باندھنے کی کوشش کی۔
یہ انگوٹھی انمول ہے۔ تم انمول ہو۔ اس نے ٹھیک بھانپا تھا۔ امامہ کی آنکھیں برسنے لگی تھی۔
پھر ایک بات مانو۔ سالار نے اس کا ہاتھ تھاما۔
کیا؟
اسے ہاتھ میں پہن لو۔
گم ہو جائے گی۔ وہ روتے ہوئے بولی۔
میں اور لے دوں گا۔ اس نے امامہ کے آنسو پونچھے۔
تمہارے پاس بیچنے کے لیے اب کچھ ہے ہی نہیں۔امامہ نے آنسوؤں کی بارش میں بھی ہوش مندی دکھائی۔ وہ ہنسا۔
تم مجھے ایسٹیمیٹ کر رہی ہو۔
اس سے پہلے وہ کچھ اور کہتا باہر میٹرس پر سویا ہوا حمین جاگ گیا۔
وہ دونوں بیک وقت اس کی طرف متوجہ ہوئے۔ وہ نیند مین کچھ بڑبڑایا تھا۔
اب کیا کہہ رہا ہے؟ سالار حیران ہوا۔
امامہ نے اسے دوبارہ لٹا کر تھپکنا شروع کر دیا اور اس کے برابر انگوٹھا منہ میں ڈالے لیٹی ہوئی چنی کو دیکھا۔
سالار اس کے بارے میں جو بھی طے کرنا ہے جلدی کرو۔ حمین جس طرح اس سے اٹیچ ہو رہا ہے میں نہیں چاہتی کچھ اور وقت یہاں رہنے کے بعد یہ یہاں سے جائے تو وہ اپ سیٹ ہو۔
امامہ نے چنی پر چادر ٹھیک کرتے ہوئے سالار سے کہا۔
صبح طے کر لوں گا کہ اسے کہاں چھوڑ کر آنا ہے۔ جو دو چار ادارے مجھے مناسب لگ رہے ہیں ان کے بارے میں انفارمیشن لایا ہوں۔
اگلے دن وہ اس بچی کو لے کر ان چاروں اداروں میں گئے تھے جہاں وہ اسے رکھنا چاہتے تھے۔ دو اداروں نے مناسب قانونی کاروائی کے بغیر اس بچی کو فوری طور پر اپنی تحویل میں لینے سے انکار کر دیا۔ جن دو اداروں نے اس بچی کو وقتی طور پر لینے پر آمادگی ظاہر کی وہاں بچوں کی پرورش اور دیکھ بھال کے انتظامات دیکھ کر وہ دونوں خوش نہیں ہوئے۔
شام کو وہ پھر چنی کے ساتھ واپس گھر پہنچ چکے تھے اور حمین کی باچھیں چنی کو ایک بار پھر دیکھ کر کھل گئی تھی۔ وہ صبح بھی بڑی مشکل سے چنی کو رخصت کرنے پر تیار ہوا تھا۔ اور اب چنی کی واپس آمد اس کے لیے اک بگ نیوز تھی۔
اگلے چند دن سالار نے چنی کی گارڈین شپ کے حوالے سے قانونی کاروائی کرنے اور چنی کی پیدائش اور اس سے متعلقہ باقی کاغذات پورے کرنے کی کوشش کی اور جب دو تین دنوں میں وہ ان کاموں میں پھنسا رہا تو حمین نے چنی کے بارے میں یہ بھی دریافت کیا کہ وہ گونگی تھی۔ کیونکہ وہ ان تین چار دنوں میں بالکل خاموش رہی۔
اور یہ چنی کے بارے میں ایک خوفناک انکشاف تھا جس نے امامہ اور سالار دونوں کو ہولا دیا تھا۔
ممی یہ گونگی ہے۔ حمین نے کہا۔ مجھے پوتا یقین ہے۔
نہیں، سن تو رہی ہے۔ امامہ نے چنی سے بات کرنے کی کوشش کے بعد نتیجہ نکالتے ہوئے کہا۔وہ ہر آواز پر متوجہ ہوتی تھی۔
ممی یہ امپورٹنٹ نہیں ہے۔ اہم بات بولنا ہے۔ اور یہ بول نہیں سکتی۔ حمین نے اس کی معذوری پر اظہار افسوس کرتے ہوئے اپنی آنکھوں میں حتی المقدور رنجیدگی اور افسوس شامل کیا۔
سب سے اہم بات سننا ہے۔ امامہ نے بڑے غلط موقع پر اپنے بیٹے کو نصیحت کی کوشش کی تھی۔
میں ایسا نہیں سمجھتا، یہاں بہت ساری چیزیں ایسی ہیں، جو سن سکتی ہیں لیکن چند ہی ایسی ہے جو بول سکتی ہے ۔
محمد حمین سکندر کی دانائی نے امامہ کو ہمیشہ کی طرح چاروں شانے چت گرایا تھا۔
———-********———–
چنی کے نصیب میں کسی ادارے میں پرورش پانا نہیں لکھا تھا۔ اس کے نصیب میں سالار سکندر کے گھر میں ہی پلنا بڑھنا لکھا تھا۔ جب تک سالار قانونی معاملات کو نپٹا کر چنی کے لیے ایک ادارے کا انتخاب کرتا۔ چنی کو شدید نمونیہ ہو گیا تھا۔ دو دن بعد ان لوگوں کو واپس کانگو جانا تھا۔ ان کی تین ہفتے کی چھٹی ختم ہو رہی تھی۔ ایک عجیب خدشہ ان دونوں کو لاحق ہوا تھا اگر اس بچی کی نگہداشت نہیں ہوتی اور اگر وہ اس کے اس طرح چھوڑ جانے پر خدانخواستہ مر جاتی تو وہ خود کو کبھی معاف نہیں کرتے۔ سالار اور امامہ نے فیصلہ کیا کہ امامہ بچوں کے ساتھ تب تک وہی رہے گی جب تک چنی کی حالت سنبھل نہیں جاتی۔سالار واپس چلا گیا تھا۔
امامہ دو ہفتے اور پاکستان میں رہی۔ چنی کی حالت سنبھل گئی تھی۔ مگر اب وہ بچوں کے ساتھ اور خاص طور پر حمین کے ساتھ اس طرح اٹیچ ہو گئی تھی کہ وہ ان سے الگ ہونے پر تیار ہی نہیں تھی۔سالار ان لوگوں کو پاکستان سے واپس لے جانے کے لیے آیا تھا اور حمین کو بتائے بنا وہ دوبارہ چنی کو ایک ادارے میں چھوڑنے گیا۔ وہ دونوں بار اس سے لپٹ کر چیخیں مار کر رونے لگی۔ وہ اس کے علاوہ کسی اور کی گود میں بھی جانے کو تیار نہیں تھی۔ وہ زبردستی اسے تھما کر باہر نکلتا اور اس کی چیخوں کی آواز سن کر کسی عجیب کیفیت میں واپس چلا آتا وہ اس کیگود میں آتے ہی چپ ہو جاتی۔
وہ جبریل کو قرآن پاک خود حفظ کروا رہا تھا اور پاکستان سے چلے جانے کے بعد دو ہفتوں تک وہ روز اسکائپ پر جبریل کو پڑھاتا۔ پھر بچوں اور امامہ سے بات کرتا تو چنی بھی اس ماحول کا حصہ ہوتی۔ وہ سالار کو اسکرین پر نمودار ہوتے دیکھ کر اسی طرح خوشی سے چیخیں مارتی۔ اوں آں کرتی۔۔۔ اور اس نے اپنی زندگی کا پہلا لفظ بھی سالار کے پاکستان آنے پر اسے دیکھ کر باقی بچوں کے ساتھ اس کی طرف بھاگتے ہوئے ادا کیا تھا۔ با۔۔۔۔۔با۔۔۔۔۔۔ وہ سالار کی طرف بھاگتے ہوئے بولتی جا رہی تھی اور اس بات کو سب سے پہلے حمین نے نوٹس کیا۔
اوہ مائی گاڈ! یہ بول سکتی ہے۔سالار کی طرف بھاگتے ہوئے حمین کو جیسے بریک لگ گئی۔ وہ اپنی موٹی آنکھیں گول کر کے چنی کو دیکھ رہا تھا۔ جو اب سالار کے پیروں سے لپٹی تھی۔ سالار عنایہ کو اٹھائے ہوئے تھا۔ اور وہ اس کی ٹانگوں سے لپٹی با۔۔۔۔۔با۔۔۔۔۔۔ بولتی جا رہی تھی۔ منہ اوپر کیے ہوئے، چمکتی آنکھوں کیساتھ، پدرانہ شفقت اگر کوئی چیز تھی تو اس وقت سالار نے چنی کے لیے وہی محسوس کی۔اور کس رشتے سے، یہ اسے سمجھ نہیں آیا۔
سالار نے عنایہ کو اتارا اور اپنی ٹانگوں سے لپٹی چنی کو اٹھا لیا۔ وہ کھلکھلائی۔ اس نے عنایہ کی طرح باری باری سالار کے گال چومے۔ پھر وہ سالار کی گردن کے گرد ہاتھ لپیٹ کر اس کے ساتھ یوں چپک گئی کہ اب نیچے نہیں اترے گی۔ وہ کیسے ان کے گھر اور زندگیوں کا حصہ بن گئی انہیں احساس تک نہیں ہوا۔سوائے حمین کے، جو دن میں تقریباً تین سو بار یہ اعلان کرتا تھا کہ وہ اس کی بہن ہے۔
سالار واپس جانے سے پہلے امامہ کے ساتھ بیٹھ کر چنی کے لیے ہر امکان کو زیر غور لاتا رہا تھا۔ اور ہر امکان کو رد کرتا رہا یہاں تک کہ امامہ نے کہہ ہی دیا۔
تم اسے اڈاپٹ کرنا چاہتے ہو؟
ہاں۔ لیکن یہ کام تمہاری مرضی کے بنا نہیں ہو سکتا۔پالنا تو تمہیں ہے۔ تم پال سکتی ہو؟ سالار نے اس سے پوچھا۔
پہلے کون پال رہا ہے؟ امامہ نے عجب جواب دے کر جیسے سالار کو اس مشکل سے نکال لیا تھا۔
اگر اس کے نصیب میں ہمارے ہی گھر میں پرورش پانا لکھا ہے تو ہم کیسے روک سکتے ہیں۔
چنی کو اڈاپٹ کرتے وقت سالار نے اس کو اپنی ولدیت بھی دی تھی۔
رئیسہ سالار اپنے نصیب میں اور اپنے سے منسلک ہر شخص کے نصیب میں خوش نصیبی کے علاوہ اور کچھ نہ تھا۔ خوش نصیبی کا وہ پرندہ جو جس کے سر پر بیٹھتا اسے بادشاہ بنا دیتا۔ اور اسے ایک بادشاہ ہی کی ملکہ بننا تھا۔
——–******—***———
کانگو کا آخری سال سالار کے لیے کئی حوالوں سے بے حد ہنگامہ خیز رہا۔ وہ ورلڈ بنک کے ساتھ اپنے آخری سال میں اپنے سارے معاملات کو وائنڈ اپ کر رہا تھا۔ امریکی حکومت نے اسے صدر کے عہدے کی پیشکش کی تھی۔ ورلڈ بنک کا پہلا کم عمر ترین مسلمان صدر۔ بیالیس سال کی عمر میں اس عہدے پر کام کرنے کے لیے کوئی کچھ بھی کرنے کو تیار ہو سکتا تھا۔
وہ تاریخ کا حصہ بن سکتا تھا۔ بےحد آسانی سے۔ اس نے امریکہ میں ہونے والی میٹنگ اور اس آفر کے بارے میں سب سے پہلے کانگو واپس آنے پر امامہ کو بتایا تھا۔
تو؟ اس نے سالار سے پوچھا۔
تو کیا؟ سالار نے اسی انداز میں کہا۔
تم نے کیا کہا؟ امامہ نے اس سے پوچھا۔
میں نے سوچنے کے لیے ٹائم لیا ہے۔ امامہ اس کے جواب سے بے حد ناخوش ہوئی۔
سوچنے کے لیے ٹائم؟ تم انکار کر کے نہیں آئے؟ اس نے جیسے سالار کو یاد دلایا۔
انکار کیا تھا، قبول نہیں ہوا۔ مجھے سوچنے کے لیے کہا گیا ہے۔
تم کیا سوچ رہے ہو سالار؟ تم یہ آفر قبول کرنا چاہتے ہو؟ اس نے سالار سے ڈائریکٹ سوال کیا۔
کرنی چاہیے کیا؟ سالار نے جواباً پوچھا۔
نہیں۔ اتنا حتمی اور دو ٹوک جواب آیا تھا کہ سالار بول ہی نہ سکا۔
تمہیں یاد نہیں تم کس مقصد کے لیے کام کر رہے ہو اور کیا کرنا چاہتے ہو؟ امامہ نے جیسے اسے یاد دلایا۔
بالکل یاد ہے۔
پھر الجھن کس بات کی ہے؟ امامہ نے پوچھا۔
الجھن نہیں ہے، صرف یہ سوچ رہا ہوں کہ ابھی تھوڑا وقت چاہیے مجھے اپنے پروجیکٹ کو عملی شکل میں دنیا کے سامنے لانے کے لیے۔ورلڈ بنک کے صدر کے طور پر کام کر لوں گا تو اس پروجیکٹ میں بہت مدد ملے گی۔ ڈھیروں کمپنیز اور انویسٹرز ہمارے پاس آئیں گے۔ بہت سی جگہوں پر مجھے تعارف کروانا ہی نہیں پڑے گا۔
امامہ نے اسے ٹوکا۔ بس! صرف یہ وجہ ہے؟ وہ ان چند انسانوں میں سے تھی جس کے سامنے وہ جھوٹ نہیں بول سکتا تھا۔ وہ اس کا جھوٹ پکڑ لیتی تھی پتا نہیں یہ خصوصیت ساری بیویوں کی ہوتی ہیں یا صرف امامہ ہاشم کی تھی۔
ورلڈ بنک کے صدر کے طور پر ایک مسلمان کی تعیناتی ایک اعزاز بھی تو ہے۔ سالار نے اس بار بے حد مدھم آواز میں وہ ترغیب بھی سامنے رکھی۔
ورلڈبنک کیا ہے سالار؟ کچھ بھی نہیں۔ سود کا کام کرنے والی قوموں کا اجتماع اور کیا ہے؟ کیا اعزاز والی بات ہے اس میں کہ سود کا کام کرنے والی ان قوموں کی سربراہی ایک مسلمان کے پاس ہو۔ یہ اعزاز نہیں بلکہ شرم سے ڈوب مرنے والی بات ہے ایک مسلمان کے لیے۔
امامہ نے جیسے اسے آئینہ نہیں جوتا دکھایا تھا۔ جس پروجیکٹ پر تم کام کر رہے ہو اس میں کامیابی تمہیں اللہ نے دینی ہے۔ تمہارے علم، تجربے اور قابلیت اور ورلڈ بنک کے ساتھ منسلک شناخت نے نہیں۔ تم اب چالیس سال کے ہو چکے ہو، بچے بڑے ہو رہے ہیں۔ پانچ سال ورلڈ بنک کا صدر رہنے کے بعد تم سینتالیس سال کے ہو چکے ہو گے۔ پھر اس کے بعد تم ایک اسلامی مالیاتی نظام پر کام کرنا شروع کرو گے؟ جب تم اپنی ساری جوانی ورلڈ بنک کو دے چکے ہو گے۔ تم یقیناً مذاق کر رہے ہو پھر۔۔۔۔۔۔ اپنے ساتھ، اور ان لوگوں کے ساتھ، جنہیں تم ایک ممکنہ انقلاب کا حصہ بنائے بیٹھے ہو۔ وہ کہتے ہوئے اٹھ گئی۔
تمہیں پتا ہے امامہ! میری زندگی کا سب سے بہترین اثاثہ کیا ہے؟ تمہاری یہ ظالمانہ صاف گوئی۔ جو مجھے میری اوقات میں لے آتی ہے۔ تم مجھ سے امپریس کیوں نہیں ہو جاتی؟
امامہ اس بار رک کر اسے دیکھنے لگی۔
میں الجھا تھا لیکن گمراہ نہیں ہوا۔ تم ٹھیک کہہ رہی ہو۔ وقت گزرتا جارہا ہے۔ وہ اب اپنا اعترافی بیان دے رہا تھا۔ امامہ کو چہرہ کھل اٹھا تھا۔
مجھے تم سے متاثر ہونے تمہارے، گن گانے کے لیے بنایا ہی نہیں گیا سالار۔ اس کے لیے دنیا ہے۔مجھے تمہیں چیلنج کر کے تمہیں آگے بڑھانے کے لیے تمہارا ساتھی بنایا گیا ہے۔ یہ کام کوئی اور نہیں کر سکتا۔ وہ اب مسکراتے ہوئے کہہ رہی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ آفر میڈیا کے ذریعے منظر عام پر آگئی تھی اور ورلڈ بنک کے اگلے ممکنہ صدر کے طور پر سالار سکندر کا نام بہت سی جگہوں پر اچھالا جانے لگا۔ یہ اس کے خاندان اور حلقہ احباب کے لیے بے حد فخر کا باعث بننے والی خبر تھی اور سالار کے انکار کرنے کے باوجود کوئی بھی یہ ماننے کو تیار نہ تھا کہ وہ اس آفر کو قبول کرنے سے انکار کر سکتا ہے۔
سکندر عثمان خاص طور پر اس کے اس فیصلے سے خوش نہیں ہوئے تھے۔
تم عقل سے پیدل ہو اور ہمیشہ رہو گے۔ انہوں نے بے حد خفگی کا اظہار کرتے ہوئے سالار سے کہا۔
سالار چند دن کے لیے پاکستان آیا ہوا تھا اور سکندر نے ضروری سمجھا تھا کہ وہ ایک بار اسے سمجھانے کی کوشش کرتے اور اس کوشش کے دوران سالار کی بتائی ہوئی وجہ پر وہ سیخ پا ہو گئے۔
تم ورلڈ بنک کا صدر نہیں بننا چاہتے۔ تم سود سے پاک ایک اسلامی مالیاتی نظام بنانے کا خیالی پلاؤ پکاتے اور کھاتے رہنا چاہتے ہو۔ وہ اتنا تلخ ہونا نہیں چاہتے تھے جتنا ہو گئے تھے۔ تمہاری طرح ڈھیروں لوگ یہ خیالی پلاؤ بنا رہے ہیں، ساری دنیا میں اور بناتے ہی جا رہے ہیں۔ نہ پہلے کوئی کچھ کر سکا تھا نہ ہی آئندہ کچھ ہونے والا ہے۔ اور مجھے یقین ہے تمہارے اس ذہنی فتور کے پیچھے امامہ کا ہاتھ ہو گا۔ اس سے مشورہ تو کیا ہو گا نا تم نے۔
تم جانتے ہو سالار یہ جو موجودہ نظام ہے اسے ہٹانا کیوں مشکل ہے؟ کیونکہ یہ افراد کا بنایا ہوا نظام نہیں ہے۔ ریاستوں کا بنایا ہوا نظام ہے۔ فلاحی ریاستوں کا نظام۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ بے شک اسلامی نہ ہو لیکن اپنے اندر اس نظام کو چلا کر کم از کم اپنے معاشرے میں لوگوں کو ایک فلاحی سسٹم دیے ہوئے ہیں۔ تم افراد کو چیلنج کر سکتے ہو ریاستوں کو نہیں۔
آپ ٹھیک کہتے ہیں، جب تک کسی قوم کے افراد صرف اپنے لیے جیئے اور مریں گے تب تک کچھ نہیں بدلے گا۔ جب لوگ قوم کے لیے سوچنا شروع کر دیں گے، سب کچھ بدل جائے گا۔ اس نے سکندر عثمان سے کہا۔
جن معاشروں اور اقوام کی مثالیں آپ دے رہے ہیں ان کے ڈھیروں افراد نے اپنی زندگیاں لیبارٹریز، لائبریریز پر صرف اس خواب اور عزم کے ساتھ گزاری تھی کہ جو کام وہ فرد کے طور پر کر رہے ہیں وہ ان کی قوم کے لیے بہتر ثابت ہو۔ ان میں سے کوئی بھی پرسنل گلوری کے لیے زندگی قربان نہیں کر رہا تھا۔ وہ بانی اور موجد کے طور پر کوئی پہچان بنا کر تاریخ کا حصہ بننا چاہتے تھے اور یہی خواہش میری بھی ہے۔ایک کوشش مجھے بھی اپنی قوم کے لیے کرنے دے۔
سکندر عثمان بہت دیر تک کچھ بول ہی نہ سکے تھے۔ اس نے ان ہی کی باتوں کا حوالہ دے کر ان سے بحث کی تھی اور ہمیشہ کی طرح وہ بحث جیت گیا۔
ورلڈ بنک کے کتنے صدر گزر چکے ہیں مجھ سے پہلے؟ کسی کو نام بھی یاد نہیں ہوں گےکہ انہوں نے ورلڈ بنک کے صدر کے طور پر کیا کارنامے سرانجام دیے تھے۔ ایک کوشش کرنا چاہتا ہوں شاید اس میں کامیاب ہو جاؤں اور اگر ناکام بھی رہا تو بھی کوئی احساس جرم تو نہیں ہو گا کہ میں سود کھانے اور کھلانے والوں کے ساتھ زندگی گزار کر مرا۔
ٹھیک ہے۔ تم جو کچھ کرنا چاہتے، ہو کرو۔ انہوں نے بے حد مایوسی سے کہا۔ تم نے پہلے کبھی میری بات نہیں مانی تو اب کیسے مانو گے۔ سالار مسکرایا۔ وہ باپ کی مایوسی کو سمجھ سکتا تھا۔ وہ ان کا خواب توڑ رہا تھا۔
مجھے یقین ہے پاپا، میں جو بھی کرنے جا رہا ہوں وہ صحیح ہو گا۔ اس لیے آپ پریشان نہ ہو۔ اس نے سکندر کو تسلی دی۔
اور یہ یقین تمہیں کیوں ہے؟ سکندر طنز کیے بغیر نہ رہ سکے۔
کیونکہ آپ نے زندگی میں جب جب مجھے جس بھی فیصلے سے روکا ہے وہ میرے لیے بہت اچھا ثابت ہوا ہے۔ آپ کی ممانعت گڈ لک چارم ہے میرے لیے۔
سکندر ٹھیک کہتے تھے وہ واقعی ڈھیٹ تھا۔ مگر اس نے سینس آف ہیومر باپ سے ہی لیا تھا۔ جن کا پارہ لمحہ میں چڑھا اور اترا اور وہ ہنس پڑے۔
کمینے!
شکریہ! سالار نے جوابی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔
——————————–
اور یہ فلو کب سے چل رہا ہے تمہارا؟ فرقان نے سالار سے پوچھا۔ وہ آٹھ مہینے کے بعد مل رہے تھے۔
یہ تو اب ایک ڈیڑھ ماہ سے کچھ مستقل ہی ہو گیا ہے۔ آتا جاتا رہتا ہے۔ سر درد کے ساتھ۔ شاید کسی چیز کی الرجی ہے۔ سالار نے لاپروایئ سے کہا۔
تم کوئی میڈیسن لے رہے ہو؟ فرقان نے پوچھا۔
ہاں وہی اینٹی بائیوٹک لیکن اثر کبھی ہوجاتا ہے کبھی نہیں۔ سالار نے بتایا۔
تم بلڈ ٹیسٹ کروالو کہیں کوئی اور مسئلہ نہ ہو۔فرقان اس وقت مر کے بھی یہ نہیں سوچ سکتا تھا کہ مسئلہ اتنا بڑا ہو سکتا ہے۔ سالار کے کروائے جانے والے ٹیسٹس نے فرقان کے پیروں کے نیچے سے زمین نکال دی تھی۔ اسے یہ یقین ہی نہیں آیا تھا کہ یہ رپورٹس سالار کی ہو سکتی ہے۔
کیوں؟ مزید ٹیسٹس کیوں؟ کوئی ایسا سیریس مسئلہ تو نہیں مجھے۔ دوسرے دن مزید ٹیسٹ کا کہنے پر سالار نے ایک بار پھر لاپروائی سے اس کی بات ہوا میں اڑانے کی کوشش کی۔ اسے لاہور میں کاموں کا ڈھیر نپٹانا تھا اور اس ڈھیر میں کسی ہاسپٹل میں جا کر مزید ٹیسٹ کروانا اس کے لیے بے حد مشکل کام تھا۔ فرقان خود میں ہمت پیدا نہیں کر سکا کہ وہ اسے بتاتا کہ اس کے ابتدائی ٹیسٹ کس چیز کی جانب اشارہ کر رہے تھے۔
یہ ضروری ہے سالار۔ کام ہوتے رہیں گے لیکن صحت پر کمپرومائز نہیں کیا جا سکتا۔ فرقان نے جواب میں کہا۔
صحت بالکل ٹھیک ہے یار! صحت کو کیا ہوا ہے؟ ایک معمولی فلو ہونے پر تم نے مجھے ڈاکٹروں کی طرح ہاسپٹلز کے چکروں پر لگا دیا۔ سالار نے اسی انداز میں کہا۔
اور ویسے بھی اگلے مہینے مجھے امریکہ جانا ہے وہاں میڈیکل چیک اپ کروانا ہے۔ تم فکر نہ کرو سب ٹھیک ہے۔ وہ اب اسے ٹالنے کی کوشش کر رہا تھا۔
سب ٹھیک نہیں ہے سالار۔ فرقان کو بلآخر اسے ٹوکنا پڑا۔
کیا مطلب۔؟ سالار اس کی بات پر ٹھٹکا۔
میں تمہارے پاس پہنچ رہا ہوں آدھے گھنٹے میں۔فرقان نے فون پر مزید کچھ کہے فون رکھ دیا تھا۔
سالار اس کے انداز پر الجھا تھا۔ لیکن وہ اسے صرف ایک ڈاکٹر کا فروفیشنلزم سمجھا۔
تم فوری طور پر کہیں نہیں جا رہے۔ مجھے اسی ہفتے میں تمہارے سارے ٹیسٹس کروانے ہیں۔ اور اس کے بعد ہی تم کہیں جا سکتے ہو۔
فرقان واقعی نہ صرف آدھے گھنٹے میں پہنچ گیا تھا بلکہ اس نے سالار کو اپنی سیٹ کینسل کروانے کے لیے بھی کہہ دیا تھا۔
کیا مسئلہ ہے فرقان؟ تم مجھے صاف صاف کیوں نہیں بتا دیتے۔ کیا چھپا رہے ہو؟ کیوں ضرورت ہے مجھے اتنے لمبے چوڑے ٹیسٹس کی؟ سالار اب پہلی بار واقعی کھٹکا تھا۔ فرقان کو احساس ہو گیا کہ اسے بتائے بغیر وہ اسے ٹیسٹس پر آمادہ نہیں کر سکتا تھا۔
میں صرف یہ کنفرم کرنا چاہتا ہوں کہ یہ کوئی ٹیومر نہیں ہے۔ وہ دنیا کا مشکل ترین جملہ تھا جسے ادا کرنے کے لیے فرقان نے وہ سارے لفظ اکھٹے کیے یوں جیسے سالار سے زیادہ وہ اپنے آپ کو تسلی دینا چاہتا تھا۔
ٹیومر؟ سالار نے بے یقینی سے کہا۔
برین ٹیومر! فرقان نے اگلے دو لفظ جس دقت سے کہے سالار اس دقت سے بھی انہیں بول نہیں سکا۔ اس کے کان سائیں سائیں کرنے لگے تھے۔ وہ بے یقینی سے فرقان کو دیکھتا رہا پھر اس نے کہا۔
یہ ٹیسٹس جو تم نے کروائے ہیں یہ انڈیکیٹ کر رہے ہیں کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ خود بھی جملہ پورا نہیں کر پایا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔+——-+
اس نے فون پر سالار کو کال ملائی۔ چند مرتبہ بیل جانے کے بعد فون اٹھا لیا گیا لیکن اٹھانے والا فرقان تھا۔ امامہ حیران ہوگئی سالار لاہور میں تھا اور اس نے کچھ مصروفیات کی بنا پر اپنی سیٹ آگے کروا لی ہے۔ اس نے امامہ کو بتایا تھا اور یہ بھی بتایا کہ فرقان اس کے بار بار فلو کی وجہ سے اسے بلڈ ٹیسٹ کروانے کا کہہ رہا تھا اور امامہ نے اسے کہا تھا کہ اسے فرقان کی بات مان لینی چاہئے۔
لیکن اس کے بعد امامہ اور سالار کی ان ٹیسٹ رپورٹس کے حوالے سے کوئی بات نہیں ہوئی تھی۔
اور اب فرقان ایک بار پھر سالار کے فون پر تھا تو یہ لاہور میں اس کی سالار سے تیسری ملاقات تھی ان چند دنوں میں۔۔ وہ سوچے بنا نہ رہ سکی۔وہ اب اس سے اس کا اور بچوں کا حال پوچھ رہا تھا لیکن اس کا انداز بہت عجیب تھا۔ وہ خوش مزاجی جو اس کے طرز تخاطب کا حصہ ہوتی تھی وہ آج امامہ کو مکمل طور پر غائب محسوس ہوئی۔
سالار ابھی تھوڑی دیر میں فون کرتا ہے تمہیں۔ اس نے ابتدائی علیک سلیک کے بعد کہا۔
فون آپ کو کیسے دے دیا اس نے؟ یہ بات امامہ کو بے حد حیران کن لگی۔
ہاں، وہ ہاسپٹل میں آئے ہوئے تھے اور سالار کو مجھ سے کام تھا ۔وہ ذرا واش روم تک گیا ہے تو فون یہیں چھوڑ گیا۔
امامہ کے لیے یہ ناقابل یقین تھا۔وہ واش روم جاتے ہوئے اپنا فون کہیں چھوڑ کر جانے والوں میں نہیں تھا۔ لیکن اس نے مزید سوال جواب کی بجائے سالار کی کال کا انتظار مناسب سمجھا۔
سالار ایم آر آئی کروا رہا تھا۔ اور اس کے ہونے والے ٹیسٹ ان سارے خدشات کی تصدیق کر رہے تھے جو فرقان کو ہوئے تھے۔ اسے برین ٹیومر تھا۔ برین ٹیومر مہلک تھا اس کی بھی تصدیق ہو گئی اور وہ پہلا موقع تھا جب سالار نے پہلی بار بیٹھ کر اپنی زندگی کے بیالیس سالوں کے بارے میں سوچا۔ مہلت کا وہ اصول جو قرآن مجید میں تھا اسے اب سمجھ آیا۔لیکن یہ یقین کرنا مشکل تھا کہ وہ قانون اب اس کی اپنی زندگی پر لاگو ہونے جارہا تھا۔
میڈیکل سائنس بہت ترقی کر گئی ہے۔ ہر چیز کا علاج ممکن ہے۔ اس ٹیومر کے مہلک ہونے کی تصدیق پر فرقان اس سے کم اپ سیٹ نہیں ہوا تھا لیکن اس کے باوجود اس نے گم صم بیٹھے سالار کو تسلی دینا شروع کی۔
تم اب صرف اتنا سوچو کہ سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔ اس نے سر اٹھا کر فرقان کو دیکھا اور کہا۔ تم ڈاکٹر ہو کر مجھ سے یہ بات کہہ رہے ہو۔ فرقان بول نہ پایا۔ وہ دونوں دیر تک چپ رہے۔
تم فوری طور پر امریکہ چلے جاؤ،، بلکہ میں تمہارے ساتھ چلتا ہوں۔ وہاں بہترین ڈاکٹرز اور اسپتال ہیں۔ہو سکتا ہے وہاں اس کا علاج ہو جائے یا کوئی اور حل ہو۔ وہ اب ڈاکٹر بن کر نہیں اس کا ایک عزیز دوست بن کر بات کر رہا تھا۔
امامہ سے کیا کہوں؟ اس نے عجیب سوال کیا۔
ابھی کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔ ایک بار امریکہ سے ٹیسٹ ہونے دو۔ دیکھو، وہاں کے ڈاکٹرز کیا کہتے ہیں۔ فرقان نے کہا۔
یہاں کے ڈاکٹرز کیا کہتے ہیں؟ فرقان اس کے اس سوال کو نظرانداز کر گیا تھا۔
پاکستان میں برین ٹیومر کا علاج اور نیورو سرجری اتنی ایڈوانسڈ نہیں جتنی امریکا میں، اس لیے یہاں کے ڈاکٹرز کی رائے میرے لیے اتنی اہمیت نہیں رکھتی۔
اسے فرقان کی بے بسی پر خود سے زیادہ ترس آرہا تھا وہ اسے کچھ بتانا بھی نہیں چاہتا تھا اور کچھ چھپانا بھی نہیں۔

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: