Aab e Hayat Novel by Umera Ahmed Read Online – Episode 3

0

آب حیات از عمیرہ احمد – قسط نمبر 3

–**–**–

گرینڈ حیات ہوٹل کا ہال روم اس وقتScripps National Spellings Bee کے 92 ویں مقابلے کے فائنل میں پہنچنے والے فریقین سمیت دیگر شرکا ان کے والدین،بہن بھائیوں اور اس مقابلے کو دیکھنے کے لیے موجود لوگوں سے کھچا کھچ بھرا ہونے کے باوجود ایسا خاموش تھا کہ سوئی گرنے کی آواز بھی سنی جاسکے۔
وہ دو افراد جو فائنل میں پہنچے تھے،ان کے درمیان چودھواں راٶنڈ کھیلا جا رہا تھا۔ تیرہ سالہ نینسی اپنے لفظ کے ہجے کرنے کے لیے اپنی جگہ پر آچکی تھی۔پچھلے بانوے سالوں سے اس ہال روم میں دنیا کے بیسٹ اسپیلر کی تاج پوشی ہو رہی تھی۔
امریکہ کی مختلف ریاستوں کے علاوہ دنیا کے بہت سارے ممالک میں اسپلنگ بی کے مقامی مقابلے جیت کر آنے والے پندرہ سال سے کم عمر کے بچے اس آخری راٶنڈ کو جیتنے کے لیے سر دھڑ کی باذی لگاۓ ہوۓ تھے۔ایسی ہی ایک باذی کے شرکا آج بھی سٹیج پر موجود تھے۔
“Sassafras” نینسی نے رکی ہوئی سانس کے ساتھ پروناٶنسر کا لفظ سنا
۔اس نے پروناٶنسر کو لفظ دہرانے کے لیے کہا،پھراس نے اس لفظ کو خود دہرایا۔وہ چیمپئن شپ ورڈز میں سے ایک تھا لیکن فوری طور پر اسے وہ یاد نہیں آسکا۔ بہرحال اسکی ساٶنڈ سےوہ اسے بہت مشکل نہیں لگا تھا اور اگر سننے میں اتنا مشکل نہیں تھا تو اسکا مطلب تھا،وہ ترکی لفظ ہو سکتا تھا۔
نو سالہ دوسرا فائنلسٹ اپنی کرسی پر بیٹھے،گلے میں لٹکے اپنے نمبر کارڈکے پیچھے انگلی سے اس لفظ کی ہجے کرنے میں لگا ہوا تھا۔وہ اسکا لفظ نہیں تھا لیکن وہاں بیٹھا ہر بچہ ہی لاشعوری طور پر اس وقت یہی کرنے میں مصروف تھا،جو مقابلے سے آوٹ ہوچکا تھا۔
فینسی کا ریگولر ٹائم ختم ہو چکا تھا۔
“S_a_s_s” اس نے رک رک کر لفظ کے ہجے کرنا شروع کی۔ وہ پہلے چار حروف بنانے کے بعد ایک لمحے کے لیے رکی۔زیرلب اس نے باقی پانچ حروف دوہراۓ پھر دوباہ بولنا شروع کیا۔
“a_f_r” وہ ایک بار پھر رکی۔دوسرےفائنلسٹ نے بیٹھے بیٹھے زیرلب آخری دو لفظ کو دہرایا۔
“u_s ” مائیک کے سامنے کھڑی نینسی نےبھی بلکل اسی وقت یہی دو لفظ بولے اور پھر بے یقینی سے اس گھنٹی کوبجتے سنا ، جو سپیلنگ کے غلط ہونے پر بجتی تھی۔شاک صرف اس کے چہرے پر نہیں تھا۔اس دوسرے فائنلسٹ کے چہرے پ بھی تھا۔پروناٶنسر اب اس لفظ کے درست اسپلنگ ۔sassafras دوہرا رہا تھا۔
فینسی نے بے اختیار اپنی آنکھیں بند کی ۔
”آخری لیٹر سے پہلے A ہی ہونا چاہیے تھا۔۔۔۔میں نے u کیا سوچ کر کہہ دیا؟“اس نے خود کو کوسا۔ تقریباً فق رنگت کے ساتھ فینسی گراہم نے مقابلے کے شرکا کے لیے رکھی ہوئی کرسیوں کی طرف چلنا شروع کر دیا۔ہال تالیوں سے گونج رہا تھا۔یہ ممکنہ رنرز اپ کو کھڑے ہو کر دی جانے والی دادوتحسین تھی۔نو سالہ دوسرا فائنل میں پہنچنے والا بھی اس کے لیے کھڑا تالیاں بجا رہا تھا۔نینسی کے قریب پہنچنے پر اسنے آگے بڑھ کر اس سے ہاتھ ملایا۔نینسی نے ایک مدھم مسکراہٹ کے ساتھ اسکا جواب دیا اور اپنی سیٹ سنبھال لی۔ہال میں موجود لوگ دوبارہ اپنی نشستیں سنبھال چکے تھےاور دوسرا فائنلسٹ مائیک کے سامنے اپنی جگہ پر آچکا تھا۔نینسی اسے دیکھ دہی تھی۔ اسے ایک موہوم سی امید تھی کہ۔اگروہ بھی اپنے لفظ کےغلط ہجے کرتا تو وہ ایک بار پھر اپنے فائنل راٶنڈ میں واپس آجاتی۔
“That was a catch 22”
اس سے اس نے ہاتھ ملاتے ہوۓ کہا تھا۔وہ اندازہ نہیں لگاسکی،وہ اسکے لیے کہہ رہا تھا یاوہ اس لفظ کو واقعی اپنےلیے بھیcatch 22 ہی سمجھ رہا تھا۔۔وہ چاہتی تھی ایسا ہوتا۔۔۔۔ہر کوئی چاہتا۔
سینٹراسٹیج پر اب وہ نوسالہ فائنلسٹ تھا۔اپنی اسی شرارتی مسکراہٹ اور گہری سیاہ چمکتی آنکھوں کے ساتھ۔اس نے اسٹیج سے نیچے بیٹھے چیف پروناٶنسر کو دیکھتے ہوۓ سرہلایا۔جوناتھن جواباً مسکرایا تھا اور صرف جوناتھن ہی نہیں،وہاں سب کے لبوں پر ایسی ہی مسکراہٹ تھی۔وہ نو سالہ فائنلسٹ اس چیمپئن شپ کو دیکھنے والے حاضرین کاسویٹ ہارٹ تھا۔
اس کے چہرے پر بلا کی معصوميت تھی۔چمکتی ہوئی تقریباً گول آنکھیں جو کسی کارٹون کریکٹر کی طرح پر جوش اور جاندار تھیں اور کے تقریباً گلابی ہونٹ جن پروہ وقتاً فوقتاً زبان پھیر رہا تھا،اور جن پر آنے والا زرا سا خم بہت سےلوگوں کو بلاوجہ مسکرانے پر مجبور کر رہا تھا۔۔۔وہ ”معصوم فتنہ“ تھا۔یہ صرف اسکے والدین جانتے تھے،جو دوسرے بچوں کے والدین کےساتھ اسٹیج کی بائیں طرف پہلی رو میں اپنی بیٹی کے ساتھ بیٹھے ہوۓ تھے۔وہاں بیٹھے دوسرے فائنلسٹس کے والدین کے برعکس وہ بے حد پُر سکون تھے۔
ان کے چہرے پر اب بھی کوئی ٹینشن نھیں تھی۔جب ان کا بیٹا چیمپئن شپ ورڈ کے لیے آکر کھڑا تھا۔ٹینشن اگر کسی کے چہرے پر تھی تو وہ ان کی سات سالہ بیٹی کے چہرے پر تھی۔جو دو دن پر مشتمل اس پورے مقابلے کے دوران ہلکان رھی تھی۔اور اب وہ آنکھوں پر گلاسز ٹکاے پورے انہماک کے ساتھ اپنے نو سالہ بھائی کو دیکھ رھی تھی جو پروناؤنسر کے لفظ کے لیے تیارتھا۔
cappelletti۔
جوناتھن نے لفظ ادا کیا۔اس فائنلسٹ کے چہرے پر اچانک ایسی مسکراہٹ آئی تھی۔جیسے وہ بمشکل کنٹرول کر رھا ھو۔اس کی آنکھیں پہلے کلاک وائز پھر اینٹی کلاک وائز گھومنا شروع ھوئی ۔ھال میں کچھ کھلکھلاہٹیں ابھر آئی تھی۔اس نے چمپین شپ میں اپنا ھر لفظ سننے کے بعد اسی طرح ری ایکٹ کیا تھا۔بھینچی ھوئی مسکراہٹ اور گھومتی ھوئی آنکھیں ۔کمال کی خود اعتمادی تھی۔کئ دیکھنے والوں نے اسے داد دی۔اس کے حصے میں آنے والے الفاظ دوسروں کی نسبت زیادہ مشکل تھے۔یہ اس کے لیے مشکل وقت ھوتا تھا۔لیکن بے حد روانی سے بغیر اٹکے بغير گھبراے اسی پر اعتماد مسکراہٹ کے ساتھ وہ ہر پہاڑ سر کرتا رھا اور آخری چوٹی کے سامنے کھڑا تھا۔
definition please..
اس نے اپنا ریگولر ٹائم استعمال کرنا شروع کیا۔language of origin .اس نے پروناؤنسر کے جواب کے بعد اگلا سوال کیا۔اٹالین اس نے پروناؤنسر کے سوال کو دہراتے ہوۓکچھ سوچنے والے انداز میں ھونٹوں کو دائيں بائيں حرکت دی۔اس کی بہن بے چینی اور تناؤ کی کیفیت میں اسے دیکھ رھی تھی۔
اس کے والدین اب بھی پر سکون تھے۔اس کے تاثرات بتا رھے تھے کے لفظ اس کے لیے آسان تھا۔وہ ایسے ھی تاثرات کے ساتھ پچھلے تمام الفاظ ہجے کرتا رھا تھا۔
پلیز اس لفظ کو کسی جملے میں استعمال کریں۔وہ اب پروناؤنسر سے کہہ رھا تھا۔پروناؤنسر کا بتایا ھوا جملہ سننے کے بعد گلے میں لٹکے ھوئے نمبر کارڈ کی پشت پر انگلی سے اس لفظ کو لکھنے لگا۔
اب آپ کا ٹائم ختم ھونے والا ھے۔اسے آخری تیس سیکنڈ کے شروع ھونے پر اطلاع دی گئ جس میں اس نے اپنے لفظ کو ہجے کرنا تھا۔اس کی آنکھیں گھومنا بند ھو گئ تھی۔
cappelletti…
اس نے ایک بار پھر لفظ کو دہرایا۔
c۔a۔p-p-e-l-l…
وہ ہجے کرتے ھوئے ايک لفظ کے لیے رکا۔پھر سانس لیتے ھوئے اس نے دوباره ہجے کرنا شروع کیا۔
e-t-t-i…..
ہال تاليوں سے گونج اٹھا تھا۔اور بہت دير تک گونجتا رھا۔
اسپيلنگ بی کا نیا چمپین صرف ايک لفظ کے فاصلے پر رہ گیا تھا۔
تاليوں کی گونج تھمنے کے بعد جوناتھن نے اسے آگاه کیا تھا کہ اسے اب ايک اضافی لفظ کے حرف بتانے ھيں۔اس نے سر ھلایا۔اس لفظ کی ہجے نا کرنے کی صورت ميں نينسی ايک بار پھر سے مقابلے ميں واپس آجاتی۔
weissnichtwo…
اس کے لیے لفظ پروناؤنس کیا گیا ۔ايک لمحے کے لیے اس کے چہرے کی مسکراہٹ غائب ھوگئ تھی۔پھر اس کا منہ کھلا اور انکھيں پھيل گئ تھيں۔
او مائی گارڈ اس کے منہ سےبے اختیار نکلا تھا۔وہ سکتہ ميں تھا اور اس چمپین شپ میں یہ پہلا موقع تھا کی اس کی آنکھیں اور وہ خود اس طرح جامد ھوا تھا۔
نينسی بے اخیتار اپنی کرسی پر سيدھی ھو کر بیٹھ گئ۔تو کوئی ایسا لفظ آگیا تھا جو اسے دوباره چمپین شپ میں واپس لا سکتا تھا۔
اس کے والدین کو پہلی بار اس کے تاثرات نے بے چين کیا تھا۔ان کا بیٹا اب اپنے نمبر کارڈ سے اپنا چہرہ حاضرين سے چھپا رھا تھا۔حاضرین اس کی انگلیوں اور ھاتھوں کی کپکپاہٹ بڑی آسانی سے اسکرين پر ديکھ سکتے تھے۔اور ان میں سے بہت سوں نے اس بچے کے لیے واقعی بہت ھمدردی محسوس کی تھی۔وھاں بہت کم تھے جو اس جيتتے ھوئے ديکھنا نھیں چاھتے تھے۔
ہال میں بيٹھا ھوا صرف ايک شخص مطمئن اور پر سکون تھا۔پر سکون یا پرجوش ؟کہنا مشکل تھا اور وہ اس بچے کی سات سالہ بہن تھی۔جو اپنے ماں باپ کے درمیان بيٹی ھوئی تھی۔جس نے اپنے بھائی کے تاثرات پر پہلی بار بڑے اطمينان کے ساتھ کرسی کی پشت کے ساتھ مسکراتے ھوئے ٹيک لگائی ۔گود میں رکھے ھوئے اپنے دونوں ہاتھوں کو بہت آہستہ آہستہ اس نے تالی کے انداز میں بجانا بھی شروع کر دیا تھا۔اس کے ماں باپ نے بيک وقت تالی بجاتے ھوئے اس کے ہاتھوں کو اور اس کے مسکراتے چہرے کو الجھتے ھوئے انداز میں ديکھا۔پھر اسٹيج پر اپنے لرزتے کانپتے کنفيوز بيٹے کو جو نمبر کارڈ کے پيچھے اپنا چہرہ چھپائے انگلی سے کچھ
لکھنے اور بڑبڑانے میں مصروف تھا۔..
*******************
A
اس کتاب کا پہلا باب اگلے نو ابواب سے مختلف تھا۔اسے پڑھنے والا کوئی بھی شخص یہ فرق محسوس کيے بغیر نھیں رہ سکتا تھا۔کہ پہلا باب اور اگلے نو ابواب ايک شخص کے لکھے ھوئے نھیں لگ رھے تھے۔وہ ايک شخص نے لکھے بھی نھیں تھے۔
وہ جانتی تھی کہ وہ اس کی زندگی کی پہلی بد دیانتی تھی ليکن یہ نھیں جانتی تھی کہ آخری بھی يہی ھوگی۔اس کتاب کا پہلا باب اس کے علاوه اب کوئی اور نہیں پڑھ سکتا تھا۔اس نے پہلا باب بدل دیا تھا۔
نم آنکھوں کے ساتھ اس نے پرنٹ کمانڈ دی۔پرنٹر برق رفتاری سے پچاس صفحے نکالنے لگا۔جو اس کتاب کا ترمیم شدہ پہلا باب تھا۔
اس نے ٹيبل پر پڑی ڈسک اٹھائی اور بے حد تھکے ھوئے انداز میں اس پر نظر ڈالی ۔پھر اس نے اسے دو حصوں میں توڑ ڈالا ۔پھر چند اور ٹکڑے”اپنی ہتھیلی پر پڑے ان ٹکروں کو ديکھنے کے بعد اس نے انھیں ڈسٹ بن میں ڈال دیا۔
ڈسک کا کور اٹھا اس نے زير لب اس پر لکھے چند لفظوں کو پڑھا۔پھر چند لمحے پہلے ليپ ٹاپ سے نکالی ھوئی ڈسک اس نے کور میں ڈال دی۔
پرنٹر تب تک اپناکام مکمل کر چکا تھا۔اس نے ٹرے میں سے ان صفحات کو نکال لیا۔بڑی احتیاط کے ساتھ انھيں ايک فائل میں رکھ کر اس نے انھیں دوسری فائلز کوررز کے ساتھ رکھ دیا۔جن میں اس کتاب کے باقی نو ابواب تھے۔
ايک گہرا سانس ليتے ھوئے کھڑی ھوئی ۔کھڑے ھو کر اس نے آخری نظر اس ليپ ٹاپ کی مدھم پڑتی اسکرين پر ڈالی ۔اسکرين تاريک ھونے سے پہلے اس پر ايک تحریر ابھری تھی! ۔will be waitng
اس کی آنکھوں میں ٹہری نمی ايک دم چھلک پڑی تھی۔اسکرين اب تاريک ھوگئ۔اس نے پلٹ کر ايک نظر کمرے کو ديکھا۔پھر بيڈ کی طرف چلی آئی۔ايک عجيب سی تھکن اس کے وجود پر چھانے لگی تھی۔

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: