Aab e Hayat Novel by Umera Ahmed Read Online – Episode 30

0

آب حیات از عمیرہ احمد – قسط نمبر 30

–**–**–

حمین جاؤ بھائی کو بلا کے لاؤ وہ سونے سے پہلے تم لوگوں کو دعا پڑھا دے۔ پتا نہیں اتنی دیر کیوں لگا دی اس نے،، بچوں کو پڑھانے سے فارغ ہونے کے بعد انہیں سونے کے لیئے لیٹنے کا کہتے ہوئے امامہ کو جبریل یاد آیا۔اسے کمرے سے گئے کافی دیر ہوگئ تھی۔۔
آج میں پڑھاتا ہوں۔۔حمین نے اعلان کرتے ہی دونوں ہاتھ کسی نمازی کی طرح سینے پر باندھتے ہوئے جذب کے عالم میں دعا پڑھنے کےلیئے اپنا منہ کھولا اور امامہ نے اسے ٹوکا۔۔۔
حمین۔۔۔بھائی پڑھائے گا۔
حمین نے بند آنکھیں کھولی اور ہاتھ بھی۔۔۔اس سے پہلے کے وہ کمرے سے نکل جاتا امامہ نے نائٹ سوٹ کے اس پاجامے پر لگی گرہ کو دیکھا جو وہ ابھی ابھی باتھ روم سے پہن کر نکلا تھا۔پاجامے کے اوپری حصے کو ازار بند کی بجائے ایک بڑی سی گرہ لگا کر کسا گیا تھا۔
ادھر آؤ۔۔امامہ نے اسے بلایا۔۔۔یہ کیا ہے۔۔۔اس نے جھک کر نیچھے بیٹھتے ہوئے اس گرہ کو کھولنے کی کوشش کی تاکہ پاجامہ کو ٹھیک کرسکے۔
حمین نے ایک چیخ ماری اور جھٹکا کھا کر اس گرہ پر دونوں ہاتھ رکھے پیچھے ہٹا۔۔۔۔ممی نہیں۔۔۔
اسکی سٹرنگ کہاں ہے۔۔۔امامہ کو اندازہ ہوگیا تھا کہ اس گرہ کو باندھنے کی وجہ کیا تھی۔
میں نے سکول میں کسی کو دے دی۔۔۔
امامہ نے حیرانی سے پوچھا۔۔۔۔کیوں۔۔۔
چیریٹی میں۔۔حمین نے جملہ مکمل کر دیا
امامہ نے ہکا بکا ہوکر اپنے اس بیٹے کا اعتماد اور اطمینان دیکھا۔۔چیریٹی میں؟؟ وہ واقعی حیران تھی۔۔صرف ایک ڈوری کو؟
نہیں۔۔۔مختصر جواب آیا۔
پھر؟
ڈوری سے بیگ کو باندھا تھا۔
کس بیگ کو۔۔امامہ کا ماتھا ٹھنکا۔
اس بیگ کو جس میں کھلونے تھے۔ جواب اب پورا آیا تھا۔
کس کے کھلونے۔۔امامہ کے ماتھے پر بل پڑے ۔۔
ویل۔۔۔۔حمین نے اب ماں، رئیسہ اور عنایہ کو باری باری ۔۔۔محتاط انداز میں دیکھا اور اپنے جواب کو گول مول کرنے کی بہترین کوشش کی۔۔۔وہ کئ لوگوں کے تھے۔
امامہ کو ایک لمحے میں سمجھ آیا۔۔۔۔
کون تھے۔کس کو دیے۔کیوں دیے۔کس سے اجازت لی۔۔۔اس نے یکے بعد دیگرے تابڑ توڑ سوالوں کی بوچھاڑ کردی۔۔
یہ پہلا موقع نہیں تھا جب حمین سکندر نے مہاتما بدھ بننے کی کوشش کرتے ہوئے اپنے بہن بھائیوں کے کھلونے دان کییے تھے اور اسکے بہن بھائیوں میں اگر بلا کا تحمل نہ ہوتا تو اس کے اس کارنامےپر ہر بار بلا کا رن پڑتا۔۔۔
عنایہ کی آنکھیں اب آنسوؤں سے لبالب بھر گئ تھی۔اس چھوٹے بھائ نے یہ طے کیا ہوا تھا کہ وہ انکی ہر چیز کو کسی بھی وقت مشنری جذبہ کے تحت کسی کو بھی دے سکتا ہے۔۔
ممی۔۔۔عنایہ بری طرح بلبلائ۔۔۔
چیریٹی گناہ نہیں ہے۔۔۔حمین نے اپنی آنکھیں عادتاً گول کرتے ہوئے ان دو الفاظ کا ایک بار پھر استعمال کیا جو پچھلے کئ دنوں سے بار بار اسکی گفتگو میں آرہے تھے۔۔
تم نے میرے کھلونے چرائے۔عنایہ کا بس چلتا تو وہ اسے پیٹ ڈالتی۔کم از کم رات کے اس پہر جب اسے اندازہ بھی نہیں تھا کہ وہ اسکا کون کون سا کھلونا چیریٹی میں دے آیا ہے۔۔
صبح بات کرینگے اس بارے میں۔۔ابھی نہیں۔۔۔امامہ نےمداخلت کی۔اور اس سے پہلے کہ وہ کچھ اور کہتی صوفےپہ پڑا اس کا سیل فون بجنے لگا اسکا خیال تھا وہ سالار کی کال تھی۔۔
امامہ نے سیل فون پر سکندر عثمان کا نام چمکتے دیکھا اور کال ریسیو کرتے ہوئے اس نے تینوں بچوں کی طرف دیکھتے ہوئے اپنے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر انہیں خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔
سالار کہاں ہے۔۔۔سکندر نے اسکے سلام کا جواب دیتے ہی عجیب اضطراب کے عالم میں پوچھا تھا۔
ایک ڈنر میں گئےہیں بس ابھی آنے والے ہونگے۔
میں اسے کال کر رہا تھا وہ ریسیو نہیں کر رہا ۔امامہ کو ان کے لہجے میں پریشانی اور گھبراہٹ محسوس ہوئ۔۔
ہوسکتا ہے ڈنر میں آپکی کال نہ لے پارہے ہو وہ اکثر ایسی فنکشنز میں اپنا سیل سائلنٹ پر لگادیتے ہیں۔۔۔۔۔خیریت ہے نا پاپا؟؟ وہ پوچھے بنا نہ رہ سکی۔
تم لوگوں نے مجھے کیوں نہیں بتایا۔اتنی بڑی بات مجھ سے کیوں چھپائ۔؟سکندر عثمان حواس باختگی میں کہتے چلے گئے انہیں کچھ دیر پہلے انکے ایک قریبی عزیز نے اس حوالے سے فون کیا تھا۔اس عزیز نے سالار کی بیماری کے حوالےسے یہ خبر کسی چینل پر دیکھ لی تھی اور فوری طور پر افسوس کا اظہار کرنے کے لیئے سکندر عثمان کو فون کیا۔۔۔اور سکندر شاکڈ رہ گئے تھے۔اس نے حواس باختگی کے عالم میں سالار کو کالز کرنا شروع کر دی تھی جو اس نے ریسیو نہیں کی۔۔۔
اس ڈنر میں بیٹھنے سے پہلے سکندر عثمان کی کال آنے سے پہلے سالار کو پتا چل گیا تھا کہ میڈیا میں اس کی بیماری کی خبر بریک ہو چکی ہے۔ اسکے اسٹاف نے اسے اطلاع دی تھی اور وہ سکتے میں آگیا تھا۔سکندر عثمان کا نام اپنے فون پر چمکتا دیکھ کر سالار کی بھوک ختم ہوگئ تھی۔۔
اسے یقین تھا کہ وہ کال کس مقصد کےلیے کی جارہی ہے۔لیکن وہ وہاں بیٹھ کر سکندر سے بات کرنے کی ہمت ہی نہ کر سکا۔وہ بوجھ جس نے کئ مہینوں سے اسے دہرا کر رکھا تھا ایک دم جیسے اور بہت سے لوگوں کی کمریں جھکا دینے والا تھا۔اور اگر سکندر کو یہ خبر مل چکی تھی تو امامہ؟؟؟
وہ آگے نہیں سوچ سکا۔
کیا نہیں بتایا پاپا؟ کیا چھپایا ہے آپ سے؟؟ امامہ کی سمجھ میں سکندر کی بات نہ آئ۔
برین ٹیومر کے بارے میں۔۔سکندر نے جیسے کراہتے ہوئے کہا۔۔۔امامہ اب بھی کچھ نہیں سمجھی۔۔
برین ٹیومر؟ کس کے برین ٹیومر کے بارے میں؟ وہ الجھی۔۔اور وہ پہلا موقع تھا جب سکندر کو احساس ہوا کہ وہ بھی انکی طرح بے خبر تھی۔۔
پاپا آپ کس کے برین ٹیومر کی بات کر رہے ہیں؟ امامہ نے ایک بار پھر پوچھا۔۔۔جواب سکندر عثمان کے حلق میں اٹک گیا۔
پاپا۔۔۔۔امامہ انکے مسلسل خاموش رہنے پر ایک مرتبہ پھر اپنا سوال دہرانا چاہتی تھی لیکن دہرا نہ سکی۔۔بجلی کے کوندے کی طرح اس کے دماغ میں اپنے ہی سوال کو جواب آیا۔سکندر کس کی بیما ری پر یوں بے چین ہوسکتے ہیں۔ سالار. ۔۔کیا وہ سالار کی بات کر رہے ہیں۔۔سالار کے برین ٹیومر کی۔۔اسے کئی ہفتہ پہلے کی فرقان اور اپنی بات چیت یاد آئ۔ ہاسپٹل کا وزٹ۔۔۔سالار کا بدلہ ہوا رویہ۔۔۔۔۔۔
وہ بے یقینی کے عالم میں فون ہاتھ میں لیے بیٹھی رہی۔۔فون پر اب دونوں طرف خاموشی تھی۔
آپ سے کس نے کہا۔۔امامہ نے کانپتی ہوئی آواز میں ان سے پوچھا۔
اس نے تمہیں نہیں بتایا؟؟ سکندر نے عجیب بے بسی سے امامہ سےپوچھا۔
امامہ کو اس سوال کا جواب دینے یا سوچنے کا موقع نہیں ملا۔۔۔باہر ہارن کی آواز سنی اس نے۔
میں کچھ دیر میں آپ سے بات کرتی ہوں پاپا۔اس نے سرد پڑتے ہاتھوں میں تھامے فون کو سنبھالنے کی کوشش کرتے ہوئے سکندر سے کہا۔
مجھے تمہیں نہیں بتانا چاہیئے تھا۔۔وہ اپنے پچھتاوے کا اظہار کیے بغیر رہ نہ سکے۔۔امامہ نے فون بند کردیا۔سب کچھ یکدم ہی بے معنی ہوگیا تھا کسی بت کی طرح فون کو گود میں رکھے ساکت بیٹھی تھی وہ۔۔
ممی آپ ٹھیک ہیں؟
امامہ نے چونک کر حمین کو دیکھا۔جواب دینے یا کوئی اور سوال کرنے کی بجائے وہ اٹھ کر باہر نکل گئ۔حمین کچھ اور الجھا تھا۔۔۔۔
تم ابھی تک جاگ رہے ہو؟ سالار نے لاؤنج میں داخل ہوتے ہی وہاں پڑے کمپیوٹر کے سامنے بیٹھے جبریل کو دیکھ لیا تھا۔ باپ کی آواز جبریل کو کرنٹ کی طرح لگی تھی۔برق رفتاری سےاس نے کمپیوٹر کی سکرین پر وہ سائٹ بند کی جو وہ کھولے بیٹھا تھا۔اور وہ اب باپ کا استقبال کرنے کے لیے تیار تھا۔امامہ ہارن کی آواز سن کر بھی نہیں آئ تھی۔جبریل ہارن کی آواز سن ہی نہ سکا۔اس کا ذہن جس گرداب میں پھنسا تھا وہاں وہ سن بھی نہیں سکتا تھا۔۔۔۔۔
میں ایک اسائمنٹ کی تیاری کر رہا تھا۔۔جبریل نے اپنے سامنے کھڑے سالار کو دیکھے بنا نظریں ملائے بنا کہا۔وہ باپ کا چہرہ کیوں نہیں دیکھ پا رہا تھا۔
سالار نے جبریل کا چہرہ دیکھا۔اس کے عقب میں ڈیسک ٹاپ پر ورلڈ بنک کا ہوم پیج دیکھا ۔
بہت دیر ہوگئ ہے ۔ساڑھے دس ہو رہے ہیں اور تمہیں دس بجے سے پہلے پہلے سب کام مکمل کرلینا چاہیئے۔ یاد ہے؟
سالار نے اسے یاددہانی کرائی۔۔۔
جبریل نے اس بار بھی باپ کو دیکھے بغیر سر ہلایا اور اٹھ کر کھڑا ہوگیا۔
تمہاری ممی کہاں ہے؟ سالار نے اس سے پوچھا۔ہارن کی آواز کے باوجود بھی نہیں آئ تھی وہ۔اور جبریل رات کے اس پہر لاؤنج میں ڈیسک ٹاپ پر اکیلا موجود تھا۔ اسکے گھر میں یہ خلاف معمول تھا۔
وہ خدشہ جو اسے ڈنر میں لاحق ہوا تھا وہ جسے یقین میں بدلتا جارہا تھا۔۔۔
جبریل کو جواب دینا نہیں پڑا۔۔بچوں کے کمرے کا دروازہ کھول کر وہ باہر آگئ تھی۔ سالار نے اسے دیکھا اور اسکے چہرے پر پڑنے والی ایک نظر ہی اسے یہ بتانے کے لیے کافی تھی کہ اسکے بدترین خدشات ٹھیک ثابت ہوئے تھے۔ اس لاونج میں موجود تینوں افراد عجیب ڈرامائی انداز میں وہاں ایک دوسرے کے آمنے سامنے کھڑے تھے۔۔۔وہ خاموشی جبریل نے پہلی بار اپنے گھر میں اپنے ماں باپ کے درمیان ایک دیوار کی طرح حائل ہوتی دیکھی تھی۔ اور اس خاموشی نے اسکے خوف کو اور بڑھایا تھا۔وہ بلا کو ذہین تھا لیکن دنیا کی کوئی ذہانت انسانی رشتوں کے الجھے دھاگوں کو سلجھا نہیں سکتی۔ نہ خاموشی کی دیواریں چھید سکتی ہے۔
گڈ نائٹ۔۔۔۔اسے جیسے راہ فرار سوجھی تھی۔وہ دو لفظ بول کر ماں باپ کو دیکھے بنا وہاں سے غیر متوازن چال کے ساتھ گیا۔۔لاؤنج میں کھڑے رہ جانے والے ان دونوں افراد نے اسے نہیں دیکھا تھا۔وہ ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے۔ ۔۔ایک نظر۔۔۔پھر دوسری اور پھر تیسری۔۔۔۔پھر سالار پلٹ کر اپنے بیڈروم کی طرف گیا۔وہ اس سے زیادہ ان نظروں کا سامنا نہیں کرسکتا تھا۔۔
وہ اس کے پیچھے میکانی انداز میں اندر آئ تھی یوں جیسے کسی ٹرانس میں ہو۔۔۔وہ سحرزدہ نہیں تھی دہشت ذدہ تھی۔
سالار اب بھی اس کی طرف متوجہ نہیں تھا۔ڈنر جیکٹ کو صوفے پر پھینکتے ہوئے اس نے فون ٹراؤزر کی جیب سے نکالا جو بج رہا تھا۔۔۔وہ سکندر عثمان تھے۔اس کی آواز سنتے ہی سکندر اپنا حوصلہ کھو بیٹھے۔۔۔سالار نے زندگی میں پہلی بار باپ کو روتے ہوئے دیکھا تھا۔۔۔
تم نے طے کر رکھا ہے کہ تم ساری عمر مجھے چین نہیں لینے دو گے۔۔سکندر نے آنسوؤں کے درمیان کہا۔ وہ اولاد کی تکلیف پر پریشان ہونے والے باپ تھے رو پڑنے والے باپ نہیں تھے۔۔آج ان کا یہ زعم بھی اسی اولاد نے ختم کیا تھا۔جو اتنے سالوں سے اسکے لیئے فخر کا باعث رہا تھا۔
اس بار تو میں نے کچھ بھی نہیں کیا پاپا۔ اس جملے نے سکندر کو اور بھی زخمی کردیا۔
میں اور تمہاری ممی کنشاسا آرہے ہیں اسی ہفتے۔انہوں نے اپنے آپ پہ قابو پانے کی کوشش کی۔
پاپا کیا فائدہ ہے میں وقت نہیں دے پاؤں گا سب کچھ وائنڈ اپ کر رہا ہوں میں یہاں پھر آجاؤں گا پاکستان آپ کے پاس۔۔۔اس نے اپنے باپ کو سمجھانے کی کوشش کی وہ ان حالات میں ان دونوں کو اپنے سامنے نہیں دیکھنا چاہتا تھا۔
آپ پریشان نہ ہو میں بالکل ٹھیک ہوں ٹریٹمنٹ ہورہا ہے۔آپ صرف دعا کرین۔۔ممی سے بات کروائیں میری۔۔طیبہ بھی اسی کیفیت میں تھی جس میں سکندر عثمان تھے۔اس کی بیماری کا انکشاف ایک آتش فشاں کی طرح تھا جس نے اس سے جڑے ہر شخص کی زندگی کو بدل کر رکھ دیا تھا۔
کمرے میں ٹہلتے ہوئے فون کان سے لگائے وہ اپنے ماں باپ کو تسلیاں دیتے ہوئے اس وجود سے بے خبر نہیں تھا جو کمرے میں اس ساری گفتگو کے درمیان کسی بت کی طرح ساکت کھڑا تھا۔
سالار نے بلآخر فون بند کر دیا ۔اس نے فون رکھ کر امامہ کو دیکھا۔اسکا چہرہ سفید تھا۔۔۔بالکل بے رنگ یوں جیسے اس نے کسی بھوت کو دیکھ لیا ہو۔۔
بیٹھ کر بات کرتے ہیں ۔۔خاموشی کو سالار نے توڑا تھا ۔اس نے ہاتھ بڑھا کر امامہکا ہاتھ پکڑا اور اسے صوفے کی طرف لے آیا۔وہ کھینچی چلی آئ تھی کسی روبوٹ کی مانند۔۔۔۔
تمہیں کس نے بتایا؟؟ گفتگو کا آغاز بھی اب اسی کو کرنا تھا۔
تم نے کیوں نہیں بتایا؟ سوال کا جواب غیر متوقع تھا۔
ہمت نہیں پڑی۔ جواب نے امامہ کی بھی ہمت توڑ دی۔وہ کم حوصلہ تو کبھی نہیں تھا تو کیا وہ خبر اس بیماری کی نوعیت اس حد تک خراب تھی کہ وہ کم ہمت ہو رہا تھا۔
وہ اسے دیکھے بنا جوتوں کے تسمے کھولتے ہوئے اسے اپنی بیماری کے بارے میں بتا ریا تھا.
ٹیومر کی تشخیص ۔۔نوعیت۔ممکنہ علاج۔۔متوقع مضمرات۔ وہ دم سادھے سب کچھ سنتی گئ۔
تم ٹھیک ہوجاؤ گے نا؟؟ اس نے ساری گفتگو کے بعد اس کا کندھا دونوں ہاتھوں سےپکڑ کر منت والے انداز میں پوچھا تھا۔وہ جواب ہی نہ دے سکا۔۔
امامہ تم جا کر سو جاؤ۔۔اس نے اپنے کندھے سے اسکے دونوں ہاتھ ہٹاتے ہوئے کہا ۔۔وہ اپنے جوتے اٹھا کر صوفے سے اٹھ جانا چاہتا تھا لیکن اٹھ نہ سکا۔وہ اب پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی۔بچوں کی طرح اس کے کندھے سے لگی۔وہ اسے سونے کا کہہ رہا تھا نیند تو ہمیشہ کے لیے اب اسکی زندگی سے چلی گئ تھی۔وہ جو ایک گھر اتنی مشکل سے بنایا تھا وہ ٹوٹنے جارہا تھا۔۔سائبان ہٹنے والا تھا۔اور وہ اسے کہہ رہا تھا کہ وہ سو جائے ۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اس سے لپٹی ہچکیوں کیساتھ روتی رہی ۔۔وہ مجرموں کی طرح چپ سر جھکائے بیٹھا رہا۔۔
میں رپورٹس دیکھنا چاہتی ہوں ۔وہ روتے روتے یکدم بولی۔سالار نے ایک لفظ کہے بغیر اٹھ کر کیبنٹ سے فائلز کا ایک پلندہ لاکر اسکے سامنے سینٹر ٹیبل پر رکھ دیا۔۔وہ کپکپاتے ہاتھوں سے رپورٹس دیکھنے لگی دھندلائ آنکھوں کیساتھ وہ ان کاغذات کو دیکھتے ہوئے جیسے یہ یقین کرنا چاہتی تھی کہ کچھ اور تو نہیں جو وہ چھپا رہا ہے۔کوئ اور بری خبر ۔۔پیروں سے باقی ماندہ زمین بھی نکال دینے والا انکشاف۔۔۔ہر کاغذ اسکی آنکھوں کی دھند کو گہرا کر رہا تھا۔فائل کو بند کرتے ہوئے اس نے سالار کو دیکھا ۔۔۔
میڈیکل سائنس غلط بھی تو کہہ سکتی ہے۔
سالار رندھی ہوئ آواز میں کہے گئے اس جملے پر ہنس پڑا۔۔وہ غلط آدمی کو غلط جملے سے امید دلانے کی کوشش کررہی تھی۔
ہاںسائنس غلط بھی کہہ سکتی ہے۔۔ڈاکٹر کی تشخیص اور علاج بھی. اس نے امامہ کی بات کو رد نہیں کیا تھا۔وہ اسکی اذیت کو اور بڑھانا نہیں چاہتا تھا۔۔۔
تم ٹھیک ہوجاؤگے نا؟ اسکا بازو ایک بار پھر تھاما گیا تھا۔سوال دہرایا گیا تھا۔۔
اگر میرے ہاتھ میں ہوتا تو ضرور۔۔۔۔لیکن یہ اللہ کے ہاتھ میں ہے اس لیئے ان شاء اللہ۔۔
وہ پھر ہچکیوں سے رو پڑی۔اس بار سالار نے اسے لپٹا لیا۔وہ مرد تھا رونا نہیں چاہتا تھا لیکن جذباتی ہورہا تھا۔۔۔۔
امامہ تمہیں بہادر بن کر ان سب کا مقابلہ کرنا ہے۔۔وہ روتی رہی سالار اسے ساتھ لگائے تھپکتا رہا۔۔
تم ٹھیک ہوجاؤ گے۔۔اس نے جیسے خود پر قابو رکھتے ہوئے کہا۔
تم پھر سوال کر رہی ہو۔۔۔۔سالار کو لگا اسکی ذہنی کیفیت ٹھیک نہیں۔
نہیں۔۔۔بتا رہی ہوں۔۔تمہیں بہادر بن کر ان سب کا مقابلہ کرنا ہے ۔۔وہ اسکا جملہ اسی سے دہرا رہی تھی۔۔۔بیماری ہے۔۔موت تو نہیں۔۔۔کیسی تسلی تھی جو اس نے دی۔۔۔امامہ سرخ سوجھی ہوئ آنکھوں سے اسے امید دلا رہی تھی۔۔۔۔
تم کہتی ہو تو مان لیتا ہوں۔۔۔وہ مسکرایا۔۔۔امامہ کی آنکھوں میں آنسوؤں کا ایک اور سیلاب آیا۔۔۔
میں نے زندگی میں تمہیں بہت سارے آنسو دییے ہیں تمہارے رونے کی بہت ساری وجوہات کا باعث بنا ہوں میں ۔۔اسکے آنسوؤں نے عجیب کانٹا چھبویا تھا سالار کو۔۔۔۔
بہتے آنسوؤں کیساتھ سر ہلاتے ہوئے وہ ہنسی۔۔۔
ہاں پر میری زندگی میں خوشی اور ہنسی کے سارے لمحات کی وجہ بھی تم ہو۔
وہ اسکا چہرہ دیکھ کر رہ گیا۔۔پھر یکدم کھڑا ہوا۔
سو جاؤ بہت رات ہوگئ ہے۔وہ کپڑے تبدیل کرنے واش روم چلاگیا۔
جب وہ واپس آیا وہ اسی طرح وہاں بیٹھی تھی۔ان ہی فائلوں کے پلندے کو ایک بار پھر گود میں لییے۔۔یوں جیسے اس میں جھوٹ ڈھونڈ رہی ہو۔۔کوئ غلطی کوئ غلط فہمی۔۔امید تو وہاں نہیں تھی۔۔
سالار نے کچھ کہے بنا خاموشی سے اسکی گود سے وہ ساری فائلیں اٹھا لی۔
امامہ ایل وعدہ کرو۔۔
کیا؟ اس نے دوپٹے سے اپنا چہرہ رگڑتے ہوئے کہا۔
بچوں کو کچھ پتا نہیں چلنا چاہیئے۔۔وہ بہت چھوٹے ہیں۔۔۔
امامہ نے سر ہلادیا۔۔۔
———–+++++———-
برین ٹیومر کیا ہوتا ہے؟ حمین نے دعا کا آخری لفظ پڑھتےہی جبریل سے پوچھا ۔جبریل کا رنگ اڑ گیا۔۔
تم کیوں پوچھ رہے ہو۔۔۔جبریل نے دل میں دعا کی کہ اسے کچھ پتا نہ ہو۔۔۔
ہماری فیملی میں کسی کو برین ٹیومر ہے۔۔حمین نے بلآخر اعلان کیا۔۔ میرا خیال ہے کہ دادا کو ہے۔انہوں نے ممی کو بتایا ہے اوروہ اپ سیٹ ہوگئ۔
جبریل اسکا چہرہ دیکھ کر رہ گیا۔تو اسکی ماں تک بھی یہ خبر پہنچ چکی تھی۔اور اسکے دادا تک بھی ۔۔وہ بچہ سوچ رہا تھا۔
کیا دادا مرنے والے ہیں۔؟حمین نے لیٹے لیٹے رازدارانہ انداز میں جبریل سےپوچھا۔
نہیں۔۔۔۔اس نے بے اختیار کہا۔
تھینک گاڈ۔۔۔مجھے ان سے بہت پیار ہے۔۔۔حمین نے جیسے سکون کا سانس لیا۔
حمین تم یہ بات کسی کو مت بتانا۔۔جبریل نے ایک دم اسے ٹوکا۔
دادا کے برین ٹیومر والی؟ وہ۔متجسس ہوا۔۔
ہاں۔۔
کیوں؟
اوہ۔ہاں حمین کو سمجھ آگیا تھا۔دادا نے ممی کو بتایا تو وہ۔اپ سیٹ ہوگئ اب تم کسی اور کو بتاؤ گے تو وہ بھی اپ سیٹ ہوجائے گا۔
جبریل جتنے حفاظتی بند باندھ سکتا تھا اس وقت باندھنے کی کوشش کر رہا تھا۔۔۔وہ ننھا بچہ اپنے ماں باپ کے اس راز کو راز رکھنے کےلیئے ہلکان ہورہا تھا۔
اوہ مائ گاڈ۔۔یہ تو میں نے سوچا ہی نہیں تھا۔لوگوں کو اپ سیٹ کرنا گناہ ہے نا؟
ہاں یہ بہت بڑا گناہ ہے۔جبریل نے اسکو ڈرایا۔
آہاں۔۔۔اوکے۔۔۔
حمین کی آواز میں خوف تھا وہ سیدھا ہوکر لیٹ گیا۔
جبریل کچھ دیر اس طرح لیٹا رہا اور حمین کے سونے کا انتظار کرتا رہا۔جب اسے یقین ہوا کہ وہ سو چکا ہے تو تو وہ بڑی احتیاط سے بستر سےاٹھا اور دبے قدموں چلتا ہوا دروازہ کھول کر لاؤنج میں آگیا۔جبریل نے کمپیوٹر آن کیا اور دوبارہ ان ہی میڈیکل ویب سائٹ کو دیکھنے لگا جنہیں سالار کے آنے سے پہلے دیکھ دہا تھا ۔۔
سالار اپنی بیماری کے بارے میں جتنا کچھ جانتا تھا جبریل اس ایک رات میں اس سے دس گنا زیادہ جان چکا تھا۔
++++++++——++++++
بیماری کے انکشاف کے اثرات اسے اگلے ہی دن پتا چلنا شروع ہوئے۔ بورڈ آف گورنرز کے پانچوں ارکان کے بعد باری باری بہت سے ایسے لوگوں نے اسے میسیجز اور کالز شروع کیے جو ان کے اس مالیاتی نظام سے وابستہ ہونے کے لیئے فنانشل امداد دے رہے تھے۔وہ اس ادارے میں اپنے انویسمنٹ کے حوالے سے عدم تحفظ کا شکار ہو گئے تھے۔
یہ سالار سکندر اور اسکے ساتھیوں کےلیئے ایک بڑا دھچکا تھا۔اس اسٹیج پر اس طرح کی عدم اعتمادی ان کے ادارے کی ساکھ کے لیئے بہت نقصان دہ تھی۔۔۔کچھ بڑے سرمایہ کار پیچھے ہٹ گئے تھے۔اور واپس تب آنے کےلیئ ے تیار تھے جب انہیں انکا ادارہ کام کرتا کامیاب ہوتا نظر آتا۔۔۔
+++++———–++++++
سالار کچھ دیر کےلیے یہ سب چھوڑ دو۔۔۔امامہ نے اس رات بلآخر اس سے کہا تھا۔
وہ بہت دیر تک فون پر کسی سے بات کرتا رہا تھا۔امامہ بہت دیر تک کھانے کی ٹیبل پر اسکا انتظار کرنے کے بعد وقفے وقفے سے اسے دیکھنے بیڈروم آتی رہی۔لیکن اسے مسلسل مصروف دیکھ کر اس نے بچوں کو کھانا کھلا دیا اور جب وہ بیڈروم آئ تو سالار فون ختم کر رہا تھا۔۔کھانے کا پوچھنے پر اس نے انکار کردی۔وہ صوفے پر بیٹھا ہاتھوں کی انگلیوں سے اپنی آنکھیں مسل رہا تھا۔
اور بے حد تھکا ہوا لگ رہا تھا۔وہ اس کے پاس آکر بیٹھ گئی وہ جس کرائسس میں تھا وہ اس سے بے خبر نہیں تھی لیکن وہ کچھ نہیں کر سکتی تھی۔
کیا چھوڑ دوں؟ وہ آنکھیں مسلتے ہوئے چونکا۔
کام۔۔۔
اچھا۔۔۔۔۔وہ ہنس پڑا۔
سب کچھ چھوڑ کر صرف اپنے علاج پر توجہ دو۔اپنی صحت اپنی زندگی پر ۔ہمارے لیئے صرف وہ اہم ہے۔وہ اب جیسے اسے سمجھانے کی کوشش کر رہی تھی۔
امامہ۔۔میرے پاس چوائس نہیں ہے اور میرے پاس وقت بھی نہیں ہے کہ ایک وقت میں صرف ایک کام کروں۔وہ اس کی بات سن کر چند لمحے بول نہ پائ۔
میں ہر طرح سے مشکل میں ہوں آج کل۔۔۔برے وقت میں نے پہلے بھی دیکھے ہیں لیکن ایسا برا وقت نہیں کہ جس چیز کو بھی ہاتھ لگاؤں ریت ہوجائے
وہ سر جھکائے کہہ رہا تھا۔امامہ کی آنکھیں نم ہونے لگی۔وہ کئ ہفتوں سے لگاتار رو رہی تھی اسکے باوجود آنکھیوں کا پانی ختم نہیں ہورہا تھا وہ کنواں بن گئ تھی۔
گناہگار تو ہوں میں،، ہمیشہ سے ہوں۔۔۔۔گمان اور غرور تو کبھی نہیں کیا میں نے۔کیا بھی تو توبہ کرلی۔۔لیکن پتا نہیں کیا گناہ کر بیٹھا ہوں کہ یوں پکڑ میں آیا ہوں۔۔۔
آزمائش ہے سالار۔۔گناہ کی سزا کیوں سمجھ رہے ہو۔۔امامہ نے اس کی کلائ پر ہاتھ رکھا۔۔
کاش آزمائش ہی ہو اور ختم ہو جائے نہ ختم ہونے والی سزا نہ ہو۔۔وہ بڑبڑایا۔
تمہارے پاس کتنی سیونگز ہے؟ اس نے بات کرتے کرتے موضوع بدل دیا۔
میرے پاس۔۔۔وہ الجھی۔۔پتا نہیں۔۔پاکستان میں بنک میں کافی رقم ہو گی۔مجھے اماؤنٹ کا پتا نہیں۔۔۔تمہیں ضرورت ہے کیا۔اس نے ایک دم سالار سے پوچھا۔۔۔
نہیں۔۔مجھے ضرورت نہیں لیکن شاید تمہیں اسے اب استعمال کرنا پڑے بچوں کے لیئے ۔۔یہاں سے پاکستان جائیں گے تو وہاں کتنا عرصہ پاپا کے پاس تمہیں بچوں کیساتھ ٹھہرنا پڑے مجھے ابھی اندازہ نہیں۔۔وہاں پاپا کے پاس بچوں کی تعلیم کم از کم متاثر نہیں ہوگی۔امریکہ میں فی الحال تم سب کو رکھنا افورڈ نہیں کرسکتا میں خاص طور پر اب جب میری جاب ختم ہو رہی ہے اور میں اپنے ادارے لے لانچ کرنے کی پروسس میں بھی بے حد مسائل کا شکار ہوں اور اس پر یہ ٹیومر۔۔۔۔ورلڈ بنک کی جاب کے ساتھ میڈیکل انشورنس بھی ختم ہوجائے گی۔جو امریکہ میں میری ہیلتھ انشورنس ہے وہ کینسر ٹریٹمنٹ کور نہیں کرتی۔اس لیے میری سمجھ میں نہیں آریا کہ میں کیا کروں اور کیا نہیں ۔۔۔۔۔۔
سالار تم صرف ایک چیز پر دھیان دو. اپنے آپریشن اور علاج پر۔باقی ساری چیزیں ہوجائے گی بچوں کی تعلیم تمہارا ادارہ سب کچھ۔۔۔اور پیسوں کے بارے میں پریشان مت ہو۔۔بہت کچھ ہے میرے پاس جو بیچا جا سکتا ہے۔۔
سالار نے اسے ٹوک دیا۔۔نہیں کوئ بھی چیز اب نہیں بیچوں گا اسے تمہارے پاس ہی رہنا چاہیئے اب۔۔۔میں گھر نہیں دے سکا تمہیں تو کچھ تو ہونا چاہیئے تمہارے پاس کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
امامہ نے اس کے ہونٹوں پہ ہاتھ رکھ دیا ۔۔اب اس سے آگے کچھ مت کہنا۔ مجھ سے یہ مت کہنا کہ میں مسقبل کا سوچوِ۔۔یہ سب میرے پاس ہو اور تم نہ ہو تو میں مستقبل کا کیا کروں گی۔پانی اسکے گالوں پر کسی آبشار کی طرح گر رہا تھا۔مستقبل کچھ نہیں ہے سالار ۔جو ہے بس حال ہے۔پڑھ لکھ جائیں گے بچے بھی۔۔میں نے کل کے بارے میں سوچنا چھوڑ دیا ہے۔وہ روتی رہی۔
تمہیں پتا ہے امامہ مجھے کس چیز کا رنج سب سے زیادہ ہے۔۔تم ٹھیک کہتی تھی کہ میں نے اپنی زندگی کا بہترین وقت سود پر کھڑے اداروں کے لیے کام کرتے گزارا۔۔۔۔صرف کچھ سال پہلے میں نے کام کرنا شروع کیا ہوتا اپنے ادارے کے لیئے تو آج یہ ادارہ اپنے پیروں پہ کھڑا ہوچکا ہوتا۔
مجھے یہ بیماری تب ہوئ ہوتی تو مجھے رنج نہ ہوتا کہ میں اپنے کیے کا ازالہ نہ کرسکا۔۔ یہ بہت بڑا پچھتاوا ہے میرا جو کسی طوق کی طرح گردن میں لٹکا ہوا ہے۔۔۔وہ بے حد رنجیدہ تھا۔
تم کیوں سوچ رہے ہو ایسے۔۔تم کوشش تو کررہے ہو محنت تو کر رہے ہو۔۔۔اپنی غلطی کا ازالہ کرنے کی کوشش کر رہے ہو۔۔۔وہ اس کی باتوں پر تڑپ اٹھی۔
ہاں لیکن اب بہت دیر ہوگئ ہے۔
تم امید چھوڑ بیٹھے ہو؟؟
نہیں امید تو نہیں چھوڑی لیکن۔۔۔۔
وہ بات کرتے کرتے ہونٹ کاٹنے لگا ۔مجھے کبھی یہ لگا ہی نہیں تھا کہ وقت تھوڑا رہ گیا ہے۔جب تک سب ٹھیک رہتا ہے ہمیں لگتا ہے ہمارے پاس وقت بہت ہے۔ہم وہ سارے کام پہلے کرنا چاہتے ہیں جو ہمارے نفس کو پسند ہیں وہ سارے کام زندگی کے آخری حصے کے لیئے رکھ چھوڑتےہیں جو اللہ کو پسند ہے۔میں بھی مختلف نہیں تھا۔میں نے بھی ایسا ہی کیا۔سالار اپنے ہاتھ مسل رہا تھا بے حد رنج کے عالم میں۔۔مجھ سے بہتر کوئ نہیں سمجھ سکتا کہ روز قیامت کیسی ہوگی۔وہ ایک بار پھر دنیا میں لوٹانے کی پکار کیسی ہوگی۔۔۔وہ ایک موقع اور مانگنے کی التجا کیا ہوگی۔۔اسکی آواز بھرا گئ تھی۔۔۔۔۔اب میں صرف اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ میری زندگی نہیں صرف مجھے اس کام کی تکمیل کرلینے دے جو میں کرنا چاہتا ہوں اور اگر یہ کام میں نہ کرسکا تو پھر میری دعا ہے کہ یہ کام میری اولاد پایہ تکمیل تک پہنچائے اگر میں نہ رہا تو پھر تم جبریل کو اکانومسٹ۔۔
امامہ نے اس کی بات کاٹ دی۔۔کیوں سوچتے ہو تم ایسے۔
سوچنا چاہیے امامہ۔۔
تم ہی یہ کام کرو گے سالار۔ ۔کوئ اور نہیں کرسکے گا۔تمہاری اولاد میں سے بھی کوئی نہیں۔۔۔ہر کوئ سالار سکندر نہیں ہوتا.
وہ زندگی میں پہلی بار اعتراف کر رہی تھی ۔۔اسکے غیر معمولی ہونے کا۔اس کے خاص ہونے کا.
سالار نے اس رات اس سے بحث نہیں کی تھی۔۔اسکی اپنی ہمت جتنی ٹوٹی تھی۔ وہ امامہ کی ہمت اس طرح توڑنا نہیں چاہتا تھا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ممی میں آپکو سیب کاٹ کر لا کردوں۔۔۔؟امامہ جبریل کی بات پر حیران ہوئ ۔یہ آفر حمین کی طرف سے تو نارمل بات تھی لیکن جبریل اس طرح کے کام نہیں کرتا تھا۔۔
نہیں۔تم کھانا چاہ رہے ہو تو میں تمہیں کاٹ دوں؟؟ امامہ نے جواباً اسے آفر کیا۔۔۔
نہیں۔۔جبریل نے جواب دیا۔۔اسکے بچے اسکی تکلیف اور پریشانی محسوس کرنا شروع ہوگئے تھے اور یہ کوئ اچھی علامت نہیں تھی۔۔اس نے جبریل کو غور سے دیکھا۔ ۔۔۔
آپ ایسے کیوں دیکھ رہی ہیں۔۔۔جبریل نے ماں کی نظریں خود پر مبذول پاکر پوچھا۔ وہ مسکرا دی۔
تم بڑے ہو گئے ہو۔۔۔۔۔۔جبریل نے ماں کو جھینپ کر دیکھا۔پھر ایک شرمیلی مسکراہٹ کیساتھ ماں سے کہا۔۔۔
تھوڑا سا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہاں۔۔تھوڑے سے۔۔۔۔جلد ہی پورے بھی بڑے ہوجاؤ گے۔۔۔وہ اس سے بولی۔۔۔
لیکن میں بڑا نہیں ہونا چاہتا۔۔۔بیگ میں کپڑے رکھتے ہوئے امامہ نے اسے کہتے سنا۔۔۔
کیوں؟؟ اسے اچھنبا ہوا۔۔۔
ایسے ہی۔۔۔اس نے بڑے عام سے انداز میں ماں سے کہا۔۔۔۔۔
جبریل میں بالکل ٹھیک ہوں۔۔۔اسے یہ جملہ بولتے ہی اسکے ہلکےپن کا احساس ہوا۔۔۔
مجھے پتا ہے۔۔۔۔
امامہ اس سے نظریں چرا گئ تھی۔جبریل نے جیسے ماں کا پردہ رکھا۔امامہ کی چھٹی حس نے ایک عجیب سا سگنل دیا تھا۔اسے یوں محسوس ہوا جیسے وہ سب کچھ جانتا تھا۔۔۔۔
جبریل۔۔۔۔۔۔
جی ممی۔۔۔وہ اس کے مخاطب کرنےپر اسکی طرف متوجہ ہوا۔۔۔وہ بات کرتے کرتے رہ گئ۔۔۔وہ بات بدل گئ۔۔۔۔
تمہارا قرآن پاک ختم ہونے والا ہے پھر ماشاءاللہ تم حافظ قرآن بن جاؤ گے۔۔تم نے قرآن پاک سے ابھی تک کیا سیکھا؟ وہ ماں کے سوال پر کام کرتے کرتے ٹھٹک گیا۔
بہت ساری چیزیں ہیں۔اس نے ذرا سوچ کر ماں سے کہا۔
لیکن اگر کوئی ایک چیز ہو جو تمہیں سب سے امپورٹنٹ لگتی ہو اور اچھی بھی۔۔
آپکو پتا ہے مجھے کیا چیز سب سے امپورٹنٹ لگتی ہے قرآن پاک میں۔ وہ اب دلچسپی سے بات کرنے لگا۔۔۔
کیا؟؟
امید۔۔۔
امامہ اسکا منہ دیکھنے لگی ۔۔کیسے؟؟ جواب وہ ملا تھا جس نے کسی مرہم کی طرح اسکے زخموں کو ڈھانپا تھا۔۔۔
دیکھیں سارا قرآن ایک دعا ہے۔۔تو دعا امید ہوتی ہے نا۔۔۔ہر چیز کے لیے دعا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے نا کہ اللہ ہر مشکل میں ہمیں امید بھی دے رہا ہے۔یہ مجھے سب سے اچھی چیز لگتی ہے قرآن میں کہ ہم کبھی ناامید نہ ہو۔کوئی گناہ ہوجائے تب بھی اور کوئ مشکل آجائے تب بھی۔کیونکہ اللہ سب کچھ کرسکتا ہے۔۔اس کا دس سالہ بیٹا بے حد آسان الفاظ میں اسے وہ چیز تھما رہا تھا جو اس کے ہاتھ سے چھوٹ چکی تھی۔
جبریل بات کرتے کرتے رک گیا، اس نے ماں کی آنکھوں میں آنسوؤں کی چمک دیکھی۔
کیا میں نے کچھ غلط کہہ دیا؟ اس نے ایک دم محتاط ہو کر ماں سے پوچھا۔
امامہ نے نم آنکھوں کے ساتھ نفی میں سر ہلایا۔ نہیں تم نے بالکل ٹھیک کہا اور تم نے ٹھیک چیز چنی۔
******————–*******#aab_e_hayat
#قسط_30
تحریر عمیرہ احمد
حمین جاؤ بھائی کو بلا کے لاؤ وہ سونے سے پہلے تم لوگوں کو دعا پڑھا دے۔ پتا نہیں اتنی دیر کیوں لگا دی اس نے،، بچوں کو پڑھانے سے فارغ ہونے کے بعد انہیں سونے کے لیئے لیٹنے کا کہتے ہوئے امامہ کو جبریل یاد آیا۔اسے کمرے سے گئے کافی دیر ہوگئ تھی۔۔
آج میں پڑھاتا ہوں۔۔حمین نے اعلان کرتے ہی دونوں ہاتھ کسی نمازی کی طرح سینے پر باندھتے ہوئے جذب کے عالم میں دعا پڑھنے کےلیئے اپنا منہ کھولا اور امامہ نے اسے ٹوکا۔۔۔
حمین۔۔۔بھائی پڑھائے گا۔
حمین نے بند آنکھیں کھولی اور ہاتھ بھی۔۔۔اس سے پہلے کے وہ کمرے سے نکل جاتا امامہ نے نائٹ سوٹ کے اس پاجامے پر لگی گرہ کو دیکھا جو وہ ابھی ابھی باتھ روم سے پہن کر نکلا تھا۔پاجامے کے اوپری حصے کو ازار بند کی بجائے ایک بڑی سی گرہ لگا کر کسا گیا تھا۔
ادھر آؤ۔۔امامہ نے اسے بلایا۔۔۔یہ کیا ہے۔۔۔اس نے جھک کر نیچھے بیٹھتے ہوئے اس گرہ کو کھولنے کی کوشش کی تاکہ پاجامہ کو ٹھیک کرسکے۔
حمین نے ایک چیخ ماری اور جھٹکا کھا کر اس گرہ پر دونوں ہاتھ رکھے پیچھے ہٹا۔۔۔۔ممی نہیں۔۔۔
اسکی سٹرنگ کہاں ہے۔۔۔امامہ کو اندازہ ہوگیا تھا کہ اس گرہ کو باندھنے کی وجہ کیا تھی۔
میں نے سکول میں کسی کو دے دی۔۔۔
امامہ نے حیرانی سے پوچھا۔۔۔۔کیوں۔۔۔
چیریٹی میں۔۔حمین نے جملہ مکمل کر دیا
امامہ نے ہکا بکا ہوکر اپنے اس بیٹے کا اعتماد اور اطمینان دیکھا۔۔چیریٹی میں؟؟ وہ واقعی حیران تھی۔۔صرف ایک ڈوری کو؟
نہیں۔۔۔مختصر جواب آیا۔
پھر؟
ڈوری سے بیگ کو باندھا تھا۔
کس بیگ کو۔۔امامہ کا ماتھا ٹھنکا۔
اس بیگ کو جس میں کھلونے تھے۔ جواب اب پورا آیا تھا۔
کس کے کھلونے۔۔امامہ کے ماتھے پر بل پڑے ۔۔
ویل۔۔۔۔حمین نے اب ماں، رئیسہ اور عنایہ کو باری باری ۔۔۔محتاط انداز میں دیکھا اور اپنے جواب کو گول مول کرنے کی بہترین کوشش کی۔۔۔وہ کئ لوگوں کے تھے۔
امامہ کو ایک لمحے میں سمجھ آیا۔۔۔۔
کون تھے۔کس کو دیے۔کیوں دیے۔کس سے اجازت لی۔۔۔اس نے یکے بعد دیگرے تابڑ توڑ سوالوں کی بوچھاڑ کردی۔۔
یہ پہلا موقع نہیں تھا جب حمین سکندر نے مہاتما بدھ بننے کی کوشش کرتے ہوئے اپنے بہن بھائیوں کے کھلونے دان کییے تھے اور اسکے بہن بھائیوں میں اگر بلا کا تحمل نہ ہوتا تو اس کے اس کارنامےپر ہر بار بلا کا رن پڑتا۔۔۔
عنایہ کی آنکھیں اب آنسوؤں سے لبالب بھر گئ تھی۔اس چھوٹے بھائ نے یہ طے کیا ہوا تھا کہ وہ انکی ہر چیز کو کسی بھی وقت مشنری جذبہ کے تحت کسی کو بھی دے سکتا ہے۔۔
ممی۔۔۔عنایہ بری طرح بلبلائ۔۔۔
چیریٹی گناہ نہیں ہے۔۔۔حمین نے اپنی آنکھیں عادتاً گول کرتے ہوئے ان دو الفاظ کا ایک بار پھر استعمال کیا جو پچھلے کئ دنوں سے بار بار اسکی گفتگو میں آرہے تھے۔۔
تم نے میرے کھلونے چرائے۔عنایہ کا بس چلتا تو وہ اسے پیٹ ڈالتی۔کم از کم رات کے اس پہر جب اسے اندازہ بھی نہیں تھا کہ وہ اسکا کون کون سا کھلونا چیریٹی میں دے آیا ہے۔۔
صبح بات کرینگے اس بارے میں۔۔ابھی نہیں۔۔۔امامہ نےمداخلت کی۔اور اس سے پہلے کہ وہ کچھ اور کہتی صوفےپہ پڑا اس کا سیل فون بجنے لگا اسکا خیال تھا وہ سالار کی کال تھی۔۔
امامہ نے سیل فون پر سکندر عثمان کا نام چمکتے دیکھا اور کال ریسیو کرتے ہوئے اس نے تینوں بچوں کی طرف دیکھتے ہوئے اپنے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر انہیں خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔
سالار کہاں ہے۔۔۔سکندر نے اسکے سلام کا جواب دیتے ہی عجیب اضطراب کے عالم میں پوچھا تھا۔
ایک ڈنر میں گئےہیں بس ابھی آنے والے ہونگے۔
میں اسے کال کر رہا تھا وہ ریسیو نہیں کر رہا ۔امامہ کو ان کے لہجے میں پریشانی اور گھبراہٹ محسوس ہوئ۔۔
ہوسکتا ہے ڈنر میں آپکی کال نہ لے پارہے ہو وہ اکثر ایسی فنکشنز میں اپنا سیل سائلنٹ پر لگادیتے ہیں۔۔۔۔۔خیریت ہے نا پاپا؟؟ وہ پوچھے بنا نہ رہ سکی۔
تم لوگوں نے مجھے کیوں نہیں بتایا۔اتنی بڑی بات مجھ سے کیوں چھپائ۔؟سکندر عثمان حواس باختگی میں کہتے چلے گئے انہیں کچھ دیر پہلے انکے ایک قریبی عزیز نے اس حوالے سے فون کیا تھا۔اس عزیز نے سالار کی بیماری کے حوالےسے یہ خبر کسی چینل پر دیکھ لی تھی اور فوری طور پر افسوس کا اظہار کرنے کے لیئے سکندر عثمان کو فون کیا۔۔۔اور سکندر شاکڈ رہ گئے تھے۔اس نے حواس باختگی کے عالم میں سالار کو کالز کرنا شروع کر دی تھی جو اس نے ریسیو نہیں کی۔۔۔
اس ڈنر میں بیٹھنے سے پہلے سکندر عثمان کی کال آنے سے پہلے سالار کو پتا چل گیا تھا کہ میڈیا میں اس کی بیماری کی خبر بریک ہو چکی ہے۔ اسکے اسٹاف نے اسے اطلاع دی تھی اور وہ سکتے میں آگیا تھا۔سکندر عثمان کا نام اپنے فون پر چمکتا دیکھ کر سالار کی بھوک ختم ہوگئ تھی۔۔
اسے یقین تھا کہ وہ کال کس مقصد کےلیے کی جارہی ہے۔لیکن وہ وہاں بیٹھ کر سکندر سے بات کرنے کی ہمت ہی نہ کر سکا۔وہ بوجھ جس نے کئ مہینوں سے اسے دہرا کر رکھا تھا ایک دم جیسے اور بہت سے لوگوں کی کمریں جھکا دینے والا تھا۔اور اگر سکندر کو یہ خبر مل چکی تھی تو امامہ؟؟؟
وہ آگے نہیں سوچ سکا۔
کیا نہیں بتایا پاپا؟ کیا چھپایا ہے آپ سے؟؟ امامہ کی سمجھ میں سکندر کی بات نہ آئ۔
برین ٹیومر کے بارے میں۔۔سکندر نے جیسے کراہتے ہوئے کہا۔۔۔امامہ اب بھی کچھ نہیں سمجھی۔۔
برین ٹیومر؟ کس کے برین ٹیومر کے بارے میں؟ وہ الجھی۔۔اور وہ پہلا موقع تھا جب سکندر کو احساس ہوا کہ وہ بھی انکی طرح بے خبر تھی۔۔
پاپا آپ کس کے برین ٹیومر کی بات کر رہے ہیں؟ امامہ نے ایک بار پھر پوچھا۔۔۔جواب سکندر عثمان کے حلق میں اٹک گیا۔
پاپا۔۔۔۔امامہ انکے مسلسل خاموش رہنے پر ایک مرتبہ پھر اپنا سوال دہرانا چاہتی تھی لیکن دہرا نہ سکی۔۔بجلی کے کوندے کی طرح اس کے دماغ میں اپنے ہی سوال کو جواب آیا۔سکندر کس کی بیما ری پر یوں بے چین ہوسکتے ہیں۔ سالار. ۔۔کیا وہ سالار کی بات کر رہے ہیں۔۔سالار کے برین ٹیومر کی۔۔اسے کئی ہفتہ پہلے کی فرقان اور اپنی بات چیت یاد آئ۔ ہاسپٹل کا وزٹ۔۔۔سالار کا بدلہ ہوا رویہ۔۔۔۔۔۔
وہ بے یقینی کے عالم میں فون ہاتھ میں لیے بیٹھی رہی۔۔فون پر اب دونوں طرف خاموشی تھی۔
آپ سے کس نے کہا۔۔امامہ نے کانپتی ہوئی آواز میں ان سے پوچھا۔
اس نے تمہیں نہیں بتایا؟؟ سکندر نے عجیب بے بسی سے امامہ سےپوچھا۔
امامہ کو اس سوال کا جواب دینے یا سوچنے کا موقع نہیں ملا۔۔۔باہر ہارن کی آواز سنی اس نے۔
میں کچھ دیر میں آپ سے بات کرتی ہوں پاپا۔اس نے سرد پڑتے ہاتھوں میں تھامے فون کو سنبھالنے کی کوشش کرتے ہوئے سکندر سے کہا۔
مجھے تمہیں نہیں بتانا چاہیئے تھا۔۔وہ اپنے پچھتاوے کا اظہار کیے بغیر رہ نہ سکے۔۔امامہ نے فون بند کردیا۔سب کچھ یکدم ہی بے معنی ہوگیا تھا کسی بت کی طرح فون کو گود میں رکھے ساکت بیٹھی تھی وہ۔۔
ممی آپ ٹھیک ہیں؟
امامہ نے چونک کر حمین کو دیکھا۔جواب دینے یا کوئی اور سوال کرنے کی بجائے وہ اٹھ کر باہر نکل گئ۔حمین کچھ اور الجھا تھا۔۔۔۔
تم ابھی تک جاگ رہے ہو؟ سالار نے لاؤنج میں داخل ہوتے ہی وہاں پڑے کمپیوٹر کے سامنے بیٹھے جبریل کو دیکھ لیا تھا۔ باپ کی آواز جبریل کو کرنٹ کی طرح لگی تھی۔برق رفتاری سےاس نے کمپیوٹر کی سکرین پر وہ سائٹ بند کی جو وہ کھولے بیٹھا تھا۔اور وہ اب باپ کا استقبال کرنے کے لیے تیار تھا۔امامہ ہارن کی آواز سن کر بھی نہیں آئ تھی۔جبریل ہارن کی آواز سن ہی نہ سکا۔اس کا ذہن جس گرداب میں پھنسا تھا وہاں وہ سن بھی نہیں سکتا تھا۔۔۔۔۔
میں ایک اسائمنٹ کی تیاری کر رہا تھا۔۔جبریل نے اپنے سامنے کھڑے سالار کو دیکھے بنا نظریں ملائے بنا کہا۔وہ باپ کا چہرہ کیوں نہیں دیکھ پا رہا تھا۔
سالار نے جبریل کا چہرہ دیکھا۔اس کے عقب میں ڈیسک ٹاپ پر ورلڈ بنک کا ہوم پیج دیکھا ۔
بہت دیر ہوگئ ہے ۔ساڑھے دس ہو رہے ہیں اور تمہیں دس بجے سے پہلے پہلے سب کام مکمل کرلینا چاہیئے۔ یاد ہے؟
سالار نے اسے یاددہانی کرائی۔۔۔
جبریل نے اس بار بھی باپ کو دیکھے بغیر سر ہلایا اور اٹھ کر کھڑا ہوگیا۔
تمہاری ممی کہاں ہے؟ سالار نے اس سے پوچھا۔ہارن کی آواز کے باوجود بھی نہیں آئ تھی وہ۔اور جبریل رات کے اس پہر لاؤنج میں ڈیسک ٹاپ پر اکیلا موجود تھا۔ اسکے گھر میں یہ خلاف معمول تھا۔
وہ خدشہ جو اسے ڈنر میں لاحق ہوا تھا وہ جسے یقین میں بدلتا جارہا تھا۔۔۔
جبریل کو جواب دینا نہیں پڑا۔۔بچوں کے کمرے کا دروازہ کھول کر وہ باہر آگئ تھی۔ سالار نے اسے دیکھا اور اسکے چہرے پر پڑنے والی ایک نظر ہی اسے یہ بتانے کے لیے کافی تھی کہ اسکے بدترین خدشات ٹھیک ثابت ہوئے تھے۔ اس لاونج میں موجود تینوں افراد عجیب ڈرامائی انداز میں وہاں ایک دوسرے کے آمنے سامنے کھڑے تھے۔۔۔وہ خاموشی جبریل نے پہلی بار اپنے گھر میں اپنے ماں باپ کے درمیان ایک دیوار کی طرح حائل ہوتی دیکھی تھی۔ اور اس خاموشی نے اسکے خوف کو اور بڑھایا تھا۔وہ بلا کو ذہین تھا لیکن دنیا کی کوئی ذہانت انسانی رشتوں کے الجھے دھاگوں کو سلجھا نہیں سکتی۔ نہ خاموشی کی دیواریں چھید سکتی ہے۔
گڈ نائٹ۔۔۔۔اسے جیسے راہ فرار سوجھی تھی۔وہ دو لفظ بول کر ماں باپ کو دیکھے بنا وہاں سے غیر متوازن چال کے ساتھ گیا۔۔لاؤنج میں کھڑے رہ جانے والے ان دونوں افراد نے اسے نہیں دیکھا تھا۔وہ ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے۔ ۔۔ایک نظر۔۔۔پھر دوسری اور پھر تیسری۔۔۔۔پھر سالار پلٹ کر اپنے بیڈروم کی طرف گیا۔وہ اس سے زیادہ ان نظروں کا سامنا نہیں کرسکتا تھا۔۔
وہ اس کے پیچھے میکانی انداز میں اندر آئ تھی یوں جیسے کسی ٹرانس میں ہو۔۔۔وہ سحرزدہ نہیں تھی دہشت ذدہ تھی۔
سالار اب بھی اس کی طرف متوجہ نہیں تھا۔ڈنر جیکٹ کو صوفے پر پھینکتے ہوئے اس نے فون ٹراؤزر کی جیب سے نکالا جو بج رہا تھا۔۔۔وہ سکندر عثمان تھے۔اس کی آواز سنتے ہی سکندر اپنا حوصلہ کھو بیٹھے۔۔۔سالار نے زندگی میں پہلی بار باپ کو روتے ہوئے دیکھا تھا۔۔۔
تم نے طے کر رکھا ہے کہ تم ساری عمر مجھے چین نہیں لینے دو گے۔۔سکندر نے آنسوؤں کے درمیان کہا۔ وہ اولاد کی تکلیف پر پریشان ہونے والے باپ تھے رو پڑنے والے باپ نہیں تھے۔۔آج ان کا یہ زعم بھی اسی اولاد نے ختم کیا تھا۔جو اتنے سالوں سے اسکے لیئے فخر کا باعث رہا تھا۔
اس بار تو میں نے کچھ بھی نہیں کیا پاپا۔ اس جملے نے سکندر کو اور بھی زخمی کردیا۔
میں اور تمہاری ممی کنشاسا آرہے ہیں اسی ہفتے۔انہوں نے اپنے آپ پہ قابو پانے کی کوشش کی۔
پاپا کیا فائدہ ہے میں وقت نہیں دے پاؤں گا سب کچھ وائنڈ اپ کر رہا ہوں میں یہاں پھر آجاؤں گا پاکستان آپ کے پاس۔۔۔اس نے اپنے باپ کو سمجھانے کی کوشش کی وہ ان حالات میں ان دونوں کو اپنے سامنے نہیں دیکھنا چاہتا تھا۔
آپ پریشان نہ ہو میں بالکل ٹھیک ہوں ٹریٹمنٹ ہورہا ہے۔آپ صرف دعا کرین۔۔ممی سے بات کروائیں میری۔۔طیبہ بھی اسی کیفیت میں تھی جس میں سکندر عثمان تھے۔اس کی بیماری کا انکشاف ایک آتش فشاں کی طرح تھا جس نے اس سے جڑے ہر شخص کی زندگی کو بدل کر رکھ دیا تھا۔
کمرے میں ٹہلتے ہوئے فون کان سے لگائے وہ اپنے ماں باپ کو تسلیاں دیتے ہوئے اس وجود سے بے خبر نہیں تھا جو کمرے میں اس ساری گفتگو کے درمیان کسی بت کی طرح ساکت کھڑا تھا۔
سالار نے بلآخر فون بند کر دیا ۔اس نے فون رکھ کر امامہ کو دیکھا۔اسکا چہرہ سفید تھا۔۔۔بالکل بے رنگ یوں جیسے اس نے کسی بھوت کو دیکھ لیا ہو۔۔
بیٹھ کر بات کرتے ہیں ۔۔خاموشی کو سالار نے توڑا تھا ۔اس نے ہاتھ بڑھا کر امامہکا ہاتھ پکڑا اور اسے صوفے کی طرف لے آیا۔وہ کھینچی چلی آئ تھی کسی روبوٹ کی مانند۔۔۔۔
تمہیں کس نے بتایا؟؟ گفتگو کا آغاز بھی اب اسی کو کرنا تھا۔
تم نے کیوں نہیں بتایا؟ سوال کا جواب غیر متوقع تھا۔
ہمت نہیں پڑی۔ جواب نے امامہ کی بھی ہمت توڑ دی۔وہ کم حوصلہ تو کبھی نہیں تھا تو کیا وہ خبر اس بیماری کی نوعیت اس حد تک خراب تھی کہ وہ کم ہمت ہو رہا تھا۔
وہ اسے دیکھے بنا جوتوں کے تسمے کھولتے ہوئے اسے اپنی بیماری کے بارے میں بتا ریا تھا.
ٹیومر کی تشخیص ۔۔نوعیت۔ممکنہ علاج۔۔متوقع مضمرات۔ وہ دم سادھے سب کچھ سنتی گئ۔
تم ٹھیک ہوجاؤ گے نا؟؟ اس نے ساری گفتگو کے بعد اس کا کندھا دونوں ہاتھوں سےپکڑ کر منت والے انداز میں پوچھا تھا۔وہ جواب ہی نہ دے سکا۔۔
امامہ تم جا کر سو جاؤ۔۔اس نے اپنے کندھے سے اسکے دونوں ہاتھ ہٹاتے ہوئے کہا ۔۔وہ اپنے جوتے اٹھا کر صوفے سے اٹھ جانا چاہتا تھا لیکن اٹھ نہ سکا۔وہ اب پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی۔بچوں کی طرح اس کے کندھے سے لگی۔وہ اسے سونے کا کہہ رہا تھا نیند تو ہمیشہ کے لیے اب اسکی زندگی سے چلی گئ تھی۔وہ جو ایک گھر اتنی مشکل سے بنایا تھا وہ ٹوٹنے جارہا تھا۔۔سائبان ہٹنے والا تھا۔اور وہ اسے کہہ رہا تھا کہ وہ سو جائے ۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اس سے لپٹی ہچکیوں کیساتھ روتی رہی ۔۔وہ مجرموں کی طرح چپ سر جھکائے بیٹھا رہا۔۔
میں رپورٹس دیکھنا چاہتی ہوں ۔وہ روتے روتے یکدم بولی۔سالار نے ایک لفظ کہے بغیر اٹھ کر کیبنٹ سے فائلز کا ایک پلندہ لاکر اسکے سامنے سینٹر ٹیبل پر رکھ دیا۔۔وہ کپکپاتے ہاتھوں سے رپورٹس دیکھنے لگی دھندلائ آنکھوں کیساتھ وہ ان کاغذات کو دیکھتے ہوئے جیسے یہ یقین کرنا چاہتی تھی کہ کچھ اور تو نہیں جو وہ چھپا رہا ہے۔کوئ اور بری خبر ۔۔پیروں سے باقی ماندہ زمین بھی نکال دینے والا انکشاف۔۔۔ہر کاغذ اسکی آنکھوں کی دھند کو گہرا کر رہا تھا۔فائل کو بند کرتے ہوئے اس نے سالار کو دیکھا ۔۔۔
میڈیکل سائنس غلط بھی تو کہہ سکتی ہے۔
سالار رندھی ہوئ آواز میں کہے گئے اس جملے پر ہنس پڑا۔۔وہ غلط آدمی کو غلط جملے سے امید دلانے کی کوشش کررہی تھی۔
ہاںسائنس غلط بھی کہہ سکتی ہے۔۔ڈاکٹر کی تشخیص اور علاج بھی. اس نے امامہ کی بات کو رد نہیں کیا تھا۔وہ اسکی اذیت کو اور بڑھانا نہیں چاہتا تھا۔۔۔
تم ٹھیک ہوجاؤگے نا؟ اسکا بازو ایک بار پھر تھاما گیا تھا۔سوال دہرایا گیا تھا۔۔
اگر میرے ہاتھ میں ہوتا تو ضرور۔۔۔۔لیکن یہ اللہ کے ہاتھ میں ہے اس لیئے ان شاء اللہ۔۔
وہ پھر ہچکیوں سے رو پڑی۔اس بار سالار نے اسے لپٹا لیا۔وہ مرد تھا رونا نہیں چاہتا تھا لیکن جذباتی ہورہا تھا۔۔۔۔
امامہ تمہیں بہادر بن کر ان سب کا مقابلہ کرنا ہے۔۔وہ روتی رہی سالار اسے ساتھ لگائے تھپکتا رہا۔۔
تم ٹھیک ہوجاؤ گے۔۔اس نے جیسے خود پر قابو رکھتے ہوئے کہا۔
تم پھر سوال کر رہی ہو۔۔۔۔سالار کو لگا اسکی ذہنی کیفیت ٹھیک نہیں۔
نہیں۔۔۔بتا رہی ہوں۔۔تمہیں بہادر بن کر ان سب کا مقابلہ کرنا ہے ۔۔وہ اسکا جملہ اسی سے دہرا رہی تھی۔۔۔بیماری ہے۔۔موت تو نہیں۔۔۔کیسی تسلی تھی جو اس نے دی۔۔۔امامہ سرخ سوجھی ہوئ آنکھوں سے اسے امید دلا رہی تھی۔۔۔۔
تم کہتی ہو تو مان لیتا ہوں۔۔۔وہ مسکرایا۔۔۔امامہ کی آنکھوں میں آنسوؤں کا ایک اور سیلاب آیا۔۔۔
میں نے زندگی میں تمہیں بہت سارے آنسو دییے ہیں تمہارے رونے کی بہت ساری وجوہات کا باعث بنا ہوں میں ۔۔اسکے آنسوؤں نے عجیب کانٹا چھبویا تھا سالار کو۔۔۔۔
بہتے آنسوؤں کیساتھ سر ہلاتے ہوئے وہ ہنسی۔۔۔
ہاں پر میری زندگی میں خوشی اور ہنسی کے سارے لمحات کی وجہ بھی تم ہو۔
وہ اسکا چہرہ دیکھ کر رہ گیا۔۔پھر یکدم کھڑا ہوا۔
سو جاؤ بہت رات ہوگئ ہے۔وہ کپڑے تبدیل کرنے واش روم چلاگیا۔
جب وہ واپس آیا وہ اسی طرح وہاں بیٹھی تھی۔ان ہی فائلوں کے پلندے کو ایک بار پھر گود میں لییے۔۔یوں جیسے اس میں جھوٹ ڈھونڈ رہی ہو۔۔کوئ غلطی کوئ غلط فہمی۔۔امید تو وہاں نہیں تھی۔۔
سالار نے کچھ کہے بنا خاموشی سے اسکی گود سے وہ ساری فائلیں اٹھا لی۔
امامہ ایل وعدہ کرو۔۔
کیا؟ اس نے دوپٹے سے اپنا چہرہ رگڑتے ہوئے کہا۔
بچوں کو کچھ پتا نہیں چلنا چاہیئے۔۔وہ بہت چھوٹے ہیں۔۔۔
امامہ نے سر ہلادیا۔۔۔
———–+++++———-
برین ٹیومر کیا ہوتا ہے؟ حمین نے دعا کا آخری لفظ پڑھتےہی جبریل سے پوچھا ۔جبریل کا رنگ اڑ گیا۔۔
تم کیوں پوچھ رہے ہو۔۔۔جبریل نے دل میں دعا کی کہ اسے کچھ پتا نہ ہو۔۔۔
ہماری فیملی میں کسی کو برین ٹیومر ہے۔۔حمین نے بلآخر اعلان کیا۔۔ میرا خیال ہے کہ دادا کو ہے۔انہوں نے ممی کو بتایا ہے اوروہ اپ سیٹ ہوگئ۔
جبریل اسکا چہرہ دیکھ کر رہ گیا۔تو اسکی ماں تک بھی یہ خبر پہنچ چکی تھی۔اور اسکے دادا تک بھی ۔۔وہ بچہ سوچ رہا تھا۔
کیا دادا مرنے والے ہیں۔؟حمین نے لیٹے لیٹے رازدارانہ انداز میں جبریل سےپوچھا۔
نہیں۔۔۔۔اس نے بے اختیار کہا۔
تھینک گاڈ۔۔۔مجھے ان سے بہت پیار ہے۔۔۔حمین نے جیسے سکون کا سانس لیا۔
حمین تم یہ بات کسی کو مت بتانا۔۔جبریل نے ایک دم اسے ٹوکا۔
دادا کے برین ٹیومر والی؟ وہ۔متجسس ہوا۔۔
ہاں۔۔
کیوں؟
اوہ۔ہاں حمین کو سمجھ آگیا تھا۔دادا نے ممی کو بتایا تو وہ۔اپ سیٹ

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: