Aab e Hayat Novel by Umera Ahmed Read Online – Episode 31

0

آب حیات از عمیرہ احمد – قسط نمبر 31

–**–**–

ناشتے کی میز پر امامہ نے جبریل کی سوجھی ہوئی آنکھیں دیکھی تھی جو سلام کر کے سالار یا امامہ سے نظریں ملائے بغیر آ کر کرسی پر بیٹھ گیا تھا۔
تمہاری طبیعت ٹھیک ہے؟
امامہ نے اس کا ماتھا چھو کر جیسے ٹمپریچر معلوم کرنے کی کوشش کی۔
جی میں ٹھیک ہوں۔ جبریل کچھ گھبرایا۔
چائے کا کپ اٹھاتے ہوئے سالار نے بھی اسی لمحے جبریل کو دیکھا تھا لیکن کچھ کہا نہیں۔
تم جاگتے رہے ہو کیا ساری رات؟ امامہ کو اس کی آنکھیں ابھی بھی تشویش میں مبتلا کر رہی تھی۔۔۔۔
نہیں ممی یہ بہت رویا ہے۔اس سے پہلے کہ جبریل کوئ اور بہانہ بنانے کی کوشش کرتا حمین نے سلائس کا کونہ دانتوں سے کاٹتے ہوئے جبریل کو جیسے بھرے بازار میں ننگا کر دیا۔۔کم از کم جبریل کو ایسا ہی محسوس ہوا تھا۔۔۔ٹیبل پر موجود سب لوگوں کی نظریں بیک وقت جبریل کے چہرے پر گئیں۔ وہ جیسے پانی پانی ہوا۔۔
ایک لفظ بھی کہے بغیر امامہ نے سالار کو دیکھا۔ سالار نے نظریں چرائی۔
سلائس کے کونے کترتا ہوا حمین بے حد اطمینان سے رات کے اندھیرے میں بستر میں چھپ کر بہائے گئے ان آنسوؤں کی تفصیلات کسی کمنٹری کرنے والے انداز میں بغیر رکے بتاتا چلا جا رہا تھا۔۔۔
جبریل روز روتا ہے اور اسکی آوازوں کی وجہ سے میں سو نہیں پاتا اور جب میں اس سے پوچھتا ہوں کہ کیا وہ جاگ رہا ہے تو جواب نہیں دیتا۔۔ایسے ظاہر کرتا ہے جیسے سو رہا ہے۔۔مگر مجھے۔۔۔۔ ۔
ناشتے کی میز پر حمین کے انکشافات نے عجیب خاموشی پیدا کر دی تھی۔
اور ممی مجھے پتا ہے کہ یہ کیوں روتا ہے۔۔
حمین کے آخری جملے نے امامہ اور سالار کے پیروں کے نیچے سے نئے سرے سے زمین کھینچی تھی۔
لیکن میں یہ بتاؤں گا نہیں کی کیونکہ میں نے جبریل سے پرامس کیا ہے کہ میں کسی سے اس کو شیئر نہیں کرونگا۔ میں کسی کو پریشان نہیں کرنا چاہتا۔
حمین نے اعلان کرنے والے انداز میں ان کو چونکا دیا اور دہلا دیا۔ ۔سالار اور امامہ کی سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ کیا رد عمل ظاہر کرے۔
میں نہیں روتا۔۔
حمین کے خاموش ہونے کے بعد ماں باپ کو دیکھتے ہوئے جبریل نے حلق میں پھنسی ہوئ آواز کیساتھ جیسے اپنا پہلا دفاع کرنے کی کوشش کی اور حمین نے اس پہلی کوشش کو پہلے ہی وار میں زمین بوس کردیا۔۔۔۔
اوہ مائی گاڈ۔۔۔تم جھوٹ بول رہے ہو۔۔
تم حافظ قرآن ہو کر جھوٹ بولتے ہو۔۔
جبریل پر کچھ اور پانی پڑا۔۔۔اس کا چہرہ کچھ اور سرخ ہوا۔۔۔
ممی جھوٹ بولنا گناہ ہے نا۔۔۔اس نے ماں سے تصدیق کرنے کی کوشش کی۔
حمین خاموش ہو جاؤ اور ناشتہ کرو۔۔اس بار سالار نے مداخلت کی اور اسے کچھ سخت لہجے میں گھرکا۔۔۔اپنے حواس بحال کرنے کے بعد صورت حال کو سنبھالنے اور جبریل کو اس سے نکالنے کی یہ اس کی پہلی کوشش تھی۔
امامہ اب سرد ہاتھوں سے وہاں بیٹھی جبریل کو دیکھ رہی تھی۔ ناشتہ ختم کرنے تک سالار نے حمین کو دوبارہ اس کے احتجاج کے باوجود منہ کھولنے نہیں دیا۔
ان چاروں کو پورچ میں کھڑی گاڑی میں بٹھانے اور ڈرائیور کے ساتھ سکول بھیجنے کے بعد امامہ سالار کے پیچھے اندر آگئ تھی۔۔
جبریل کو میری بیماری کے بارے میں پتا ہے۔۔۔۔
سالار نے اندر آتے ہوئے مدھم آواز میں اسے بتایا۔ وہ اس کے پیچھے آتے آتے رک گئ۔۔پاؤں اٹھانا بھی کبھی دنیا کا مشکل ترین کام بن جاتا ہے۔
رات کو بات ہوئی تھی میری اس سے۔۔۔سالار اسے بتا رہا تھا۔۔۔۔
کب؟ اس نے بمشکل آواز نکالی۔
رات گئے۔۔۔تم سو رہی تھی۔ میں لاؤنج میں کسی کام سے گیا تھا وہ کمپیوٹر پر برین ٹیومر کے علاج کے بارے میں جاننے کے لیئے میڈیکل ویب سائٹ کھولے بیٹھا تھا۔۔۔وہ کئی ہفتوں سے ساری ساری رات یہی کرتا رہا ہے۔ میں نے پوچھا نہیں ۔اسے کس نے بتایا کب پتا چلا لیکن مجھے لگتا ہے اسے شروع سے ہی پتا ہے۔۔۔
محمد جبریل سکندر کنویں سے زیادہ گہرا تھا۔ وہ ماں باپ کیساتھ ایک بار پھر ایک بے آواز تماشائ کی طرح ان کی زندگی کی تکلیف اور اذیت کو جھیل رہا تھا۔۔۔۔
اس نے تم سے کیا کہا؟ امامہ کے حلق میں اٹکی چیز آنسوؤں کے گولے میں بدلی ۔۔۔۔۔
بابا۔۔میں آپ کو مرتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا. مدھم آواز میں سالار کے جواب نے ایک نشتر کی طرح اسے کاٹا تھا۔۔۔۔
اس نے تم سے وہ کہا جو میں نہ کہہ سکی۔ سالار نے اپنے کندھے پر اس کے ہاتھوں کی نرمی اور اس کے لفظوں کی گرمی کو بیک وقت محسوس کیا۔
میں کچھ ہفتوں تک آپریشن کروا رہا ہوں۔۔۔دو ہفتوں میں یہاں سے واپس پاکستان جائیں گے تم لوگوں کو وہاں چھوڑ کر پھر امریکہ جاؤں گا سرجری کے لیئے.
مجھے تمہیں ایک کام سونپنا ہے امامہ۔۔۔سالار نے امامہ سے کہا۔
کیا؟ وہ رندھی ہوئ آواز میں بولی۔
ابھی نہیں بتاؤں گا آپریشن کے لیئے جانے سے پہلے بتا دوں گا۔۔۔
سالار مجھے کوئی کام مت دینا۔۔۔۔۔۔کچھ بھی۔۔۔وہ رو پڑی۔
کوئ بڑا کام نہیں ہے ۔۔۔۔۔
میں کوئی آسان کام بھی نہیں کرنا چاہتی۔۔۔اس نے سر جھٹکتے بے بسی سے کہا۔ وہ ہنس پڑا۔
اپنی آٹو بایو گرافی لکھ رہا ہوں پچھلے کچھ سالوں سے۔۔سوچتا تھا بڑھاپے میں پبلش کراؤں گا۔۔وہ خاموش ہوا۔۔پھر بولنے لگا۔۔وہ نامکمل ہے ابھی ۔لیکن تمہارے پاس رکھوانا چاہتا ہوں۔۔۔یہ چاروں ابھی بہت چھوٹے ہیں۔ مجھے نہیں پتا آپریشن کا کیا نتیجہ نکلے گا مجھے یہ بھی نہیں پتا کہ آگے کیا ہونے والا ہے لیکن پیچھے جو کچھ ہو چکا ہے وہ لکھ چکا ہوں میں اور چاہتا ہوں تم اسے ان چاروں کے لیئے اپنے پاس محفوظ کر لو. ۔۔وہ اس سے کھل کر یہ نہیں کہہ پایا تھا کہ اسکے مرنے کے بعد وہ اسکے بچوں کے ہوش سنبھالنے پر ان سے انکے باپ کا تعارف ان ہی کے لفظوں میں کرائے۔۔ ۔۔
کتنے چیپٹرز ہیں اس کتاب کے۔۔۔اس نے نہ چاہتے ہوئے بھی پوچھا۔
سینتیس سال کی عمر میں پہلا چیپٹر لکھا تھا۔۔ پھر ہر سال ایک چیپٹر لکھتا رہا ہوں ۔ہر سال ایک لکھنا چاہتا تھا۔۔زندگی کے پہلے پانچ سال ۔۔پھر اگلے ۔۔پھر اس سے اگلے۔۔۔ابھی زندگی کے صرف چالیس سال ریکارڈ کر پایا ہوں۔۔۔وہ بات کرتے کرتے رکا۔۔ چیپٹر گنوائے بغیر وہ عمر گنوانے بیٹھ گیا تھا۔
چالیس کے بعد بھی تو زندگی ہے۔ اکتالیس۔۔بیالیس۔۔۔وہ بات کرتے کرتے اٹکی۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ جو ہے اسے میں ڈاکومنٹ نہیں کرنا چاہتا۔ تم کرنا چاہتی ہو تو کر لو۔۔
کہاں ہے کتاب؟ ۔۔وہ یہ سب نہیں پوچھنا چاہتی تھی پھر بھی ہوچھ رہی تھی۔
اسی کمپیوٹر میں ہے۔۔وہ کمپیوٹر آن کرنے لگا۔اور ڈیسک ٹاپ پر پڑے ایک فولڈر کو کھول کر اس نے امامہ کو دکھایا۔۔فولڈر کے اوپر ایک نام چمک رہا تھا تاش۔۔۔
تاش؟؟ امامہ نے رندھی آواز میں پوچھا۔۔
نام ہے میری آٹو بائیو گرافی کا۔۔۔وہ اب اسے فائلز دکھا رہا تھا۔
انگلش میں لکھی جانے والی آٹو بائو گرافی کا نام اردو میں رکھو گے؟؟ وہ اس کا چہرہ دیکھ رہی تھی۔
میری زندگی کو اس لفظ سے زیادہ بہتر کوئی بیان نہیں کر سکتا ۔کیا فرق پڑتا ہے تم لوگوں کے لیئے لکھی ہے تم لوگ تو سمجھ سکتے ہو تاش کیا ہے۔۔۔۔۔۔
وہ صفحات کو سکرول ڈاؤن کر رہا تھا لفظ بھاگتے جارہے تھے پھر غائب ہو رہےتھے بالکل ویسے ہی جیسے اس کی زندگی کے سال غائب ہوئے تھے۔۔پھر وہ آخری صفحے پر جارکا تھا۔ آدھا صفحہ لکھا ہوا تھا آدھا خالی تھا۔۔سالار نے سر اٹھا کر امامہ کو دیکھا۔۔۔نم آنکھوں کے ساتھ وہ اسے دیکھ رہی تھی۔
تم پڑھنا چاہو گی؟ اس نے مدھم آواز میں امامہ سے پوچھا۔اس نے نفی میں سر ہلا دیا۔
+++++———-++++++
وہ کتاب اس دن امامہ نے اسکے آفس جانے اور بچوں کے سکول واپس آنے سے پہلے ختم کر لی تھی۔۔۔اس نے بڑی بے رحمی سے اپنی زندگی کو رقم کیا تھا۔وہ سفاکی کی حد تک صاف گوئی دکھا رہا تھا۔ اپنے سارے عیب، ساری غلطیاں، ساری گمراہیاں۔۔۔۔۔۔
اور پھر اس کی زندگی میں امامہ ہاشم نے کیا رول ادا کیا ۔۔اسکی اولاد نے کیا تبدیلی کی تھی اور اسکے باپ نے اسکے لیئے کیا کیا۔اور اس رزق نے کیا تباہی کی تھی، وہ بھی جو سود سے کمایا۔۔۔
آٹھویں چیپٹر کے آخری لائن میں امامہ نے ایک لائن لگاتے ہوئے اگلا صفحہ کھولا تھا۔
سالار سکندر کی زندگی کے نویں چیپٹر کا آغاز۔۔۔
******——–+++++*****
تم نے کتاب پڑھی؟ اس رات سالار نے واپس آکر سونے سے پہلے پوچھا۔
نہیں۔۔۔۔اس نے فوراً کہا۔
مجھے اس کتاب کو اس کمپیوٹر سے ہٹا دینا چاہیئے۔سالار کو اچانک خیال آیا۔۔
کیوں؟ وہ حیران ہوئ۔
میں نہیں چاہتا جبریل اسے پڑھے وہ اکثر یہی کمپیوٹر استعمال کرتا ہے۔ تمہارے لیپ ٹاپ میں محفوظ کرلیتا ہوں۔
جب بچوں کے لیے لکھ رہے ہو تو بچوں سے چھپانا کیوں چاہتے ہو؟
میں اس عمر میں انہیں یہ سب نہیں پڑھانا چاہتا۔
تو پھر مجھے بھی مت پڑھاؤ۔۔۔امامہ نے کہا۔۔۔
میں یہ کتاب کبھی نہیں پڑھوں گی اور میں کبھی اپنے بچوں کو بھی یہ کتاب نہیں پڑھاؤں گی۔امامہ نے جیسے اعلان کیا۔
ٹھیک ہے مت پڑھنا ۔پبلش کروا دینا۔۔۔۔
تم سمجھتے کیا ہو ۔۔دنیا کیا کرے گی تمہاری آٹو بائیوگرافی پڑھ کر؟ بے بسی کا شدید احساس تھا جو غصے میں بدلا تھا۔
وہ اس کے اس انداز پہ چونکا اور پھر مسکرا دیا۔
آج کئی مہینوں بعد تمہیں مجھ پہ غصہ آیا ہے۔۔
اس نے امامہ کو چھیڑا۔۔اس نے بھی کئی مہینوں بعد اسے چڑایا تھا اسی انداز میں جس سے وہ چڑتی تھی۔۔
وہ واش روم کا دروازہ کھول کر اندر گھس گئ تھی۔ وہ روز صبح طے کرتی تھی کہ اسے آج نہیں رونا۔۔مگر ہر روز شام تک آنسو سب کچھ تہس نہس کر چکے ہوتےتھے۔ وہ اب بھی وہاں اندر باتھ ٹب کے کونے پر بیٹھی بے آواز رو رہی تھی۔۔۔
++—–+++++—-++—–
کنشاسا سے پاکستان آنے سے پہلے اس نے چاروں بچوں کو اکٹھا بٹھا کر سمجھایا تھا۔
ہم اب جہاں جا رہے ہیں وہ ہمارا گھر نہیں ہے وہاں ہم گیسٹ ہیں اور ہمیں وہاں جتنی دیر رہنا ہے اچھے مہمانوں کی طرح رہنا ہے اور اچھے مہمان کیا کرتے ہیں؟
اچھے گیسٹ ڈھیر ساری چیزیں لاتے ہیں۔ مزے مزے کی باتیں کرتے ہیں اور جلدی چلے جاتے ہیں اور کوئ بھی کام نہیں کرتے ریسٹ کرتے ہیں۔۔حمین نے حسب عادت سبقت کرتے ہوئے جواب دےکر امامہ کو ایک ہی وار میں لاجواب کردیا۔
اسے ہنسی آگئ۔۔۔ماں کو ہنستے دیکھ کر حمین بے حد جذباتی ہوگیا۔
ہرا۔۔۔۔۔میں جیت گیا۔۔۔اس نےہوا میں مکا لہراتے ہوئے صحیح جواب بوجھ لینے کا اعلان کیا۔۔۔
کیا اس نے ٹھیک کہا ہے؟ عنایہ کو جیسے یقین نہیں آیا۔۔
نو۔۔۔۔امامہ نے کہا۔۔حمین کے چہرے پر بے یقینی جھلکی۔۔
اچھے مہمان کسی کو تنگ نہیں کرتے۔ کسی سے کوئ فرمائش نہیں کرتے۔ کسی چیز میں نقص نہیں نکالتے۔اور ہر کام میزبان سے اجازت لیکر کرتے ہیں۔وہ اپنے کاموں کا بوجھ میزبان پر نہیں ڈالتے۔۔۔امامہ نے انہیں سمجھانے والے انداز میں کہا۔۔۔
اوہ مائی گاڈ۔۔ممی میں اچھا گیسٹ نہیں ہونا چاہتا میں بس گیسٹ بننا چاہتا ہوں۔۔۔حمین نے ماں کی بات کاٹتے ہوئے سنجیدگی سے کہا۔۔
ہم دادا، دادی کے گھر جا رہے ہیں اور ہمیں وہاں ایسے رہنا ہے جس سے انہیں شکایت یا کوئ تکلیف نہ ہو۔۔امامہ نے حمین کو جواب دیا، وہ مطمئن نہ ہوا۔۔
اوکے۔۔۔۔۔عنایہ، رئیسہ اور جبریل نے بیک وقت ماں کو اطمینان دلایا تھا۔۔
اور ہم اپنے گھر کب جائیں گے؟ حمین نے سوال بدلہ اور امامہ کو چپ لگ گئ۔۔
ہم نیا گھر خریدیں گے۔۔۔عنایہ نے جیسے اس چپ کا دفاع کیا۔۔۔۔
کہاں؟ حمین کو مکمل جواب چاہیئے تھا۔
جہاں بابا ہونگے۔۔جبریل نے اس بار اسے مکمل جواب دینے کی کوشش کی۔
اور بابا کہاں ہونگے؟ حمین نے ایک اور منطقی سوال پوچھا جو امامہ کو چھبا تھا۔۔۔
ابھی ھم پاکستان جا رہے ہیں پھر جہاں بابا جائیں گے ہم وہاں چلے جائیں گے۔۔۔جبریل نےماں کی آنکھوں میں امڈنے والی نمی کو بھانپا۔۔۔
واؤ یہ تو بہت اچھا ہے۔ حمین بلآخر مطمئن ہوا۔۔۔۔۔
میں بابا کے ساتھ رہنا چاہتا ہوں۔۔۔اس نے جیسے اعلان کر کے ماں کو اپنی ترجیح بتائ۔۔۔
امامہ ان چاروں سے اور کچھ نہ کہہ سکی۔۔۔اور انہیں سونے کا کہہ کر خود انکے کمرے سے نکل آئ۔۔۔
ممی۔۔۔۔۔۔۔حمین اسکے پیچھے لاؤنج میں نکل آیا تھا۔امامہ نے اسےپلٹ کر دیکھا۔۔۔
یس۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں آپکو کچھ بتانا چاہتا ہوں لیکن میں کنفیوز ہوں۔اس نے ماں سے کہا۔
کیوں؟ وہ اس کا چہرہ دیکھنے لگی۔۔۔۔
کیونکہ میں اپنا وعدہ نہیں توڑنا چاہتا۔اس نے الجھن کی وجہ بتائ۔
لیکن میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ میں آپکا سیکرٹ جانتا ہوں۔۔۔امامہ کا دل اچھل کر جیسے خلق میں آگیا تھا۔
میں جانتا ہوں آپ اپ سیٹ ہو۔ وہ کہہ رہا تھا اور امامہ جیسے کچھ اور زمین میں گڑی۔۔۔وہ اب اسکے اور قریب آگیا تھا ۔۔۔پلیز آپ اپ سیٹ نہ ہو۔۔اس نے ماں کی کمر کے گرد اپنے بازو لپیٹتے ہوئے کہا۔۔جب آپ روتی ہیں تو مجھے اچھا نہیں لگتا۔۔۔۔۔
تم کیا جانتے ہو؟ وہ اتنا چھوٹا سا جملہ ادا نہیں کر پا رہی تھی۔۔وہ صرف اسے تھپکنےلگی۔۔۔
دادا ٹھیک ہو جائیں گے۔۔وہ اب اسے تسلی دینے لگا۔امامہ کو لگا جیسے اس نے سننے میں غلطی کر دی ہے۔وہ شاید بابا کہہ رہا تھا۔
میں نے دادا سے پوچھا۔۔امامہ مزید الجھی۔
کس سے کیا پوچھا؟
دادا سے پوچھا انہوں نے کہا وہ ٹھیک ہوجائیں گے۔۔
دادا کو کیا ہوا؟ وہ پوچھے بغیر نہ رہ سکی۔
دادا کو برین ٹیومر نہیں ہوا۔دادا کو الزائمر ہے۔۔۔لیکن وہ ٹھیک ہوجائیں گے۔۔۔
امامہ کوا دماغ بھک سے اڑا تھا۔
————++++++**——
سالار کو کچھ مت بتانا۔۔۔۔
پاکستان پہنچنے کے بعد سب سے پہلا کام جو کام تھا وہ امامہ نے یہی کیا تھا۔ اس نے سکندر عثمان سے اس انکشاف کے بارے میں پوچھا تھا جو سکندر عثمان نے حمین کے برین ٹیومر کے حوالے سے سوالوں کے جواب میں کیا تھا اور انہوں نے جواباً اسے بتایا تھا کہ ایک مہینے پہلے روٹین کے ایک میڈیکل چیک اپ میں ان کی اس بیماری کی تشخیص ہوئ تھی۔۔لیکن انہیں سب سے پہلے پریشانی یہ تھی کہ کہی امامہ نے سالار سے اس کا ذکر نہ کیا ہو۔۔۔اس لیے انہوں نے پہلی بات یہی بتا دی۔
میں اسے پریشان نہیں کرنا چاہتا اسکا آپریشن ہونے والا ہے ۔۔وہ اب بھی اپنے سے زیادہ سالار کے لیے فکرمند تھا۔۔
پاپا میں نہیں بتاؤں گی اسے۔۔میں بھی نہیں چاہتی کہ وہ پریشان ہو۔امامہ نے انہیں تسلی دی۔۔آپ جانتے ہیں آپ سے بہت اٹیچڈ ہے وہ اپنی بیماری بھول جائے گا۔۔۔۔۔۔۔
جانتا ہوں۔۔۔سکندر نے ایک رنجیدہ مسکراہٹ سے سر ہلایا۔۔۔۔اس عمر میں اپنی بیماری کی فکر نہیں مجھے میں نے زندگی گزار لی اپنی اور اللہ کا شکر ہے بہت اچھی گزاری ہے۔اس کو صحت مند رینا چاہیئے۔۔۔انہوں نے آخری جملہ عجیب حسرت سے کہا۔۔۔
اگر میرے بس میں ہوتا تو میں اس کی بیماری بھی خود لیتا اور اپنی زندگی کے جتنے سال باقی ہیں وہ بھی اسے دے دیتا۔۔۔
امامہ نے ان کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لیا۔۔
آپ بس اس کے لیئے دعا کریں پاپا۔ ماں باپ کی دعا میں بڑا اثر ہوتاہے۔۔۔
دعا کے علاوہ۔ل اور کوئ کام نہیں ہے مجھے۔۔۔میں سوچتا تھا اس نے مجھے نوعمری اور جوانی میں بہت ستایا تھا۔۔۔لیکن جو میرے بڑھاپے میں ستا رہا ہے یہ۔۔۔۔۔۔وہ بات مکمل نہ کرسکے ۔۔۔رو دیے۔۔۔۔
ایک کام کرینگے پاپا؟ امامہ نے انکا ہاتھ تھپکتے ہوئے کہا۔
کیا؟
اپنی انگلی میں پہنی ہوئ انگوٹھی اتارتے ہوئے امامہ نے انکے ہاتھ کھولتے ہوئے ان کی ہتھیلی پر وہ انگوٹھی رکھ دی۔۔۔
اسے بیچ دیں۔۔۔۔۔۔وہ اسکا چہرہ دیکھنے لگے۔۔۔
کیوں؟؟ انہوں نے بمشکل کہا۔۔۔
مجھے پیسوں کی ضرورت ہے۔۔
کتنے؟؟
جتنے مل سکیں۔۔۔
امامہ۔۔۔۔
انہوں نے کچھ کہنا چاہا امامہ نے روک دیا۔۔۔
انکار مت کریں۔۔۔یہ کام میں آپ کے علاوہ کسی اور سے نہیں کرواسکتی۔۔۔۔وہ نم آنکھوں کیساتھ چپ چاپ امامہ کو دیکھتے رہے۔۔۔
———————————-
اپنے آپریشن سے دو ہفتے پہلے نیویارک میں سالار سکندر اور SIF کے بورڈ آف گورنرز نے پہلے گلوبل اسلامک انویسمنٹ فنڈ کے قیام کا اعلان کردیا ۔۔
پانچ ارب روپے کے سرمایہ سے قائم کیا گیا
Samar investment fund
یہ وہ پہلی اینٹ تھی اس مالیاتی نظام کی جو سالار اور اسکے پانچ ساتھی اگلے بیس سالوں میں دنیا کی بڑی فنانشل مارکیٹوں میں سود پر مبنی نظام کے سامنے لیکر آنا چاہتے تھے۔اگر سالار کی بیماری کا انکشاف میڈیا پر اتنے زور و شور سے نہیں کیا جاتا تو ایس آئ ایف کے بورڈ آف گورنرز اس فنڈ کا آغاز ایک ارب ڈالر کے سرمایہ سے دنیا کے پچاس ممالک میں بیک وقت کرتے اور وہ ٹارگٹ مشکل ضرور تھا ناممکن نہیں تھا۔۔۔۔سالار کی بیماری نے جیسے پہلے ہی قدم پر انکی کمر توڑ دی تھی۔۔۔لیکن اسکے باوجود بورڈ آف گورنرز ٹوٹا نہیں تھا۔۔۔۔۔وہ اکٹھے رہے تھے ۔۔۔جڑے رہے تھے۔۔۔کیونکہ ان چھ میں سے کوئ شخص بھی یہ کام کاروبار کے طور پر نہیں کر رہا تھا ۔۔وہ ایک اندھی کھائ میں کودنے کے مجاہدانہ جذبے سے کر رہے تھے۔۔۔۔
سالار سکندر عامل کلیم موسی بن رافع ابوذر سلیم علی اکمل اور راکن مسعود پر مشتمل ایس ائ ایف کا بورڈ آف گورنرز دنیا کے بہترین بورڈ آف گورنر میں گردانا جاسکتا تھا۔۔۔۔وہ چھ کے چھ افراد اپنی فیلڈ کا پاور ہاؤس تھے۔۔۔
یہ ایک بڑے کام کی طرف ایک چھوٹا قدم تھا۔اتنا چھوٹا قدم کے بڑے مالیاتی اداروں نے اسکو سنجیدگی سے لیا بھی نہیں۔۔۔فنانشل میڈیا نے اس پر پروگرامز کیئے اور خبریں لگائ دلچسپی دکھائ لیکن کسی نے بھی اسے آئندہ آنے والے سالوں کےلیئے اپنے لیئے کوئ خطرہ نہیں سمجھا تھا۔
ایک قابل عمل مالیاتی نظام کے طور پر دنیا میں موجود نظام کو ٹکر دینے کےلیئے ایس آئ ایف کو فنانشل viability دکھانی تھی۔۔جو ابھی کسی کو نظر نہیں آئ تھی۔۔۔صرف ان چھ دماغوں کے علاوہ جو اسکے پیچھے تھے۔۔ ایس آئ ایف کے قیام کا اعلان اپنے کندھوں پر لدے ایک بھاری بوجھ کو ہٹادینے جیسا تھا۔۔۔۔کم از سالار کو ایسا ہی محسوس ہوا۔
امریکہ میں ایک ہفتے کے دوران اس نے درجنوں میٹنگز اور سیمینارز اٹینڈ کی تھی اور کچھ یہی حال بورڈ آف گورنرز کے دوسرے ممبرز کا بھی تھا۔۔ایک ہفتہ بعد اسے پاکستان جاکر اہنے بچوں سے ملنا تھا اور پھر واپس آکر امریکہ میں سرجری کروانی تھی ۔۔اسکا شیڈول اپائنمنٹس سے بھرا تھا۔
ایک ہفتہ کے اختتام تک وہ ایس آئ ایف کے ان سرمایہ کاروں میں سے کچھ کو واپس لانے میں کامیاب ہوگئے تھے جو سالار کی بیماری کی خبر سن کر پیچے ہٹ گئے تھے۔۔۔یہ ایک بڑی کامیابی تھی۔۔بارش کا وہ پہلا قطرہ جسکا ان سب کو انتظار تھا۔۔۔
سالار ائ ایف کے قیام کے لیئے تو سرمایہ کار لانے میں کامیاب ہوگیا تھا لیکن وہ ذاتی طور پر خود اس میں کوئ بڑی انویسمنٹ نہیں کرسکا تھا۔۔کچھ اثاثے جو اسکے پاس تھے انہیں بیچ کر بھی اسکا حصہ کروڑ سے بڑھ نہ سکا تھا۔۔۔۔
مگر اس فنڈ کی اناؤنسمنٹ کے ایک دن بعد سکندر نے اسے امریکہ فون کیا تھا.
میں پانچ کروڑ کی انویسمنٹ کرنا چاہتا ہوں ایس آئ ایف میں۔۔۔انہوں نے ابتدائ گپ شپ کے بعد کہا۔
آپ اتنی بڑی رقم کہاں سے لائیں گے؟ وہ چونکا۔
باپ کو غریب سمجھتے ہو تم۔۔۔۔وہ خفا ہوئے۔۔۔سالار ہنس پڑا.
اپنے سے زیادہ نہیں۔۔۔
تم سے مقابلہ نہیں ہے میرا۔۔سکندر نے بے نیازی سے کہا۔۔۔تمہیں میرے برابر آنے کے لیئے دس بیس سال لگیں گے۔۔
شاید نہ لگے۔۔۔۔
چلو دیکھیں گے۔۔۔ابھی تو مجھے بتاؤ یہاں پاکستان میں لوکل آفس اور کیا طریقہ کار ہے۔۔انہوں نے بات بدلی تھی۔۔۔
آپ نے اب کیا بیچا ہے؟ سالار نے اسے بات بدلنے نہیں دی۔۔۔
فیکٹری۔۔۔۔وہ سکتے میں رہ گیا۔۔۔۔
اس عمر میں میں نہیں سنبھال سکتا اب ۔۔کامران سے بات کی ۔۔وہ اور اسکا ایک دوست لینے پر تیار ہوگئے ۔۔مجھے ویسے بھی فیکٹری میں سب کا حصہ دینا تھا. وہ ایسے اطمینان سے بات کر رہے تھے جیسے کوئ معمولی بات ہو۔۔۔
آپ کام کرتے تھے پاپا۔۔۔آپ نے چلتا ہوا بزنس کیوں ختم کردیا۔۔کیا کریں گے اب آپ۔۔وہ بے حد ناخوش ہوا تھا۔۔
کرلوں گا کچھ نہ کچھ۔۔۔یہ تمہارا مسلہ نہیں۔۔۔اور نہیں بھی کروں گا تو بھی کیا ہے ۔تم باپ کی ذمہ داری نہیں اٹھا سکتے کیا ۔باپ ساری عمر اٹھاتا رہا ہے ۔وہ اسے ڈانٹ رہے تھے۔
آپ نے میرے لیئے کیا ہے یہ سب؟ سالار رنجیدہ تھا۔
ہاں۔۔۔۔۔اس بار سکندر نے بات گھمائے پھرائے بغیر کہا۔
پاپا مجھ سے پوچھنا چاہیئے تھا آپکو۔۔۔مشورہ کرنا چاہیئے تھا۔۔۔
تم زندگی میں کونسا کام میرے مشورے سے کرتے رہے ہو ۔ہمیشہ صرف اطلاع دیتے ہو۔۔وہ بات کو ہنسی میں اڑانے کی کوشش کر رہے تھے۔
وہ محظوظ نہیں ہوا۔۔اسکا دل عجیب طرح سے بوجھل ہوا تھا۔۔۔
کیا ہوا؟؟ سکندر نے اسکی خاموشی کو کریدا۔
آپ مجھ پر اتنے احسان کیوں کرتے ہیں۔کب تک کرتے رہینگے۔وہ کہے بنا نہ رہ سکا۔۔۔
جب تک میں زندہ ہوں۔۔سکندر اسکی زندگی کی بات نہیں کرسکے تھے۔
آپ مجھ سے زیادہ جیئے گے۔۔۔۔۔
وقت کا کس کو پتا ہوتا ہے ۔۔۔سکندر کو لہجہ پہلی بار سالار کو عجیب لگا۔۔۔
——**-*———————
جبریل تم ان سب کا خیال رکھ لو گے؟؟ امامہ نے شاید کوئ دسویں بار اس سے پوچھا تھا
جی ممی میں رکھ لوں گا۔ یو ڈونٹ وری۔۔۔اور اس نے دسویں بار ایک ہی جواب دیا۔
وہ سالار کی سرجری کے وقت اسکے ساتھ رہنا چاہتی تھی۔اور سالار کے بے حد منع کرنے کے باوجود وہ پاکستان میں بچوں کے پاس رہنے پر تیار نہیں ہوئ تھی۔
اس وقت تمہیں میری ضرورت ہے بچے اتنے چھوٹے نہیں ہیں کہ وہ میرے بغیر ہفتہ نہیں گزار سکتے۔۔۔اس نے سالار سے کہا۔
اور اب جب سیٹ کنفرم ہوگئ تھی تو اسے بچوں کی بھی فکر ہورہی تھی۔وہ پہلی بار انہیں اکیلا چھوڑ کر جارہی تھی وہ بھی اتنی لمبی مدت کے لیئے۔۔
دادی بھی پاس ہوگی تمہارے انکا بھی خیال رکھنا۔۔۔
جی رکھوں گا۔۔۔۔
اور ہوم ورک کا بھی۔۔ابھی تم سب کے سکولز نئے ہیں ۔تھوڑا ٹائم۔لگے گا ایڈجسٹ ہونے میں۔ چھوٹے بہن بھائ گھبرائے تو تم سمجھانا۔۔
جی۔۔۔۔۔۔۔
میں اور تمہارے پاپا روز بات کرینگے تم لوگوں سے۔
آپ واپس کب آئیں گی؟ جبریل نے اتنی دیر میں پہلی بار ماں سے پوچھا۔
ایک مہینہ تک۔۔۔شاید تھوڑا زیادہ وقت لگے گا۔سرجری ہوجائے تب پتا لگے گا ۔۔اس نے سوچتے ہوئے کہا۔۔
زیادہ سے زیادہ بھی رکھیں گے تو دوسرے دن تک رکھیں گے اگر کوئ کمپلیکیشن نہ ہوئ ورنہ دوسرے دن پاپا گھر آجائیں گے۔
امامہ نے حیران ہوکر اسے دیکھا۔۔۔تمہیں کیسے پتا؟
آئی ریڈ اباؤٹ اٹ۔۔۔۔اس نے ماں سے نظریں ملائے بغیر کہا۔
کیوں؟؟
انفارمیشن کے لیئے۔۔جبریل نے سادگی سے کہا۔وہ کچھ دیر اسے دیکھتی رہی پھر نظریں ہٹا لی۔۔۔وہ اپنے ہینڈ بیگ میں کچھ تلاش کرنے لگی۔۔۔ایک دم اسے محسوس ہوا جیسے جبریل اسکا چہرہ دیکھ رہا تھا۔امامہ نے ایک لحظہ سر اٹھا کر اسے دیکھا۔۔۔وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔
کیا ہوا؟؟ اس نے جبریل سے پوچھا۔۔۔اس نے جواباً امامہ کی کنپٹی کے قریب نظر آنے والے ایک سفید بال کو اپنی انگلیوں سے پکڑتے ہوئے کہا۔آپکے کافی بال سفید ہوگئے ہیں۔۔۔۔وہ ساکت اسے دیکھتی رہی۔۔۔
امامہ۔نے اسکے ہاتھ سے اپنا بال چھڑا کر اسکا ہاتھ چوما۔۔اب گرے ہیئر کے بارے میں پڑھنا شروع مت کرنا۔۔امامہ نے ۔آنکھوں کیساتھ مسکراتے ہوئے اسے چھیڑا۔۔۔۔
وہ جھینپا پھر مدھم آواز میں بولا۔
میں پہلے ہی پڑھ چکا ہوں ۔۔سٹریس ان ہیلدی ڈائٹ مین ریزن ہیں۔۔۔
وہ حمین نہیں جبریل تھا۔سوال سے پہلے جواب ڈھونڈنے والا۔۔
وہ اسکا چہرہ دیکھتی رہی۔۔ایک وقت وہ تھا جب اسکا کوئ نہیں رہا تھا اور ایک وقت یہ تھا جب اسکی اولاد اسکے سفید بالوں سے بھی پریشان ہورہی تھی۔۔۔۔
———————————-
ساڑھے تین کروڑ کا وہ چیک دیکھ کر وہ کچھ دیر ہل نہ سکا تھا۔وہ لفافہ امامہ نے کچھ دیر پہلے اسے دیا تھا۔اس وقت وہ فون پر کسی سے بات کر رہا تھا۔اور لفافہ کھولتے ہوئے اس نے امامہ سے پوچھا۔۔
اس میں کیا ہے؟ سوال کا جواب ملنے سے پہلے اسکے نام کاٹا گیا وہ چیک اس کے ہاتھ میں آگیا تھا۔۔سالار نے سر اٹھا کر امامہ کو دیکھا۔
میں یہ۔چاہتی ہوں کہ تم یہ رقم لے لو۔۔اپنے ہاس رکھو۔یا ایس آئ ایف میں انویسٹ کرو۔۔
تم نے وہ انگوٹھی بیچ دی؟ سالار نے بے ساختہ پوچھا۔۔۔۔وہ ایک لمحہ کچھ بول نہ سکی پھر مدھم آواز میں کہا۔۔
میری تھی۔۔۔بیچ سکتی تھی۔
بیچنے کے لیئے تمہیں نہیں دی تھی۔۔وہ خفا تھا یا شاید رنجیدہ۔۔تم چیزوں کی قدر نہیں کرتی۔۔وہ کہے بنا نہ رہ سکا۔
چائے کا گھونٹ لیتے ہوئے امامہ نے ست ہلایا۔
ٹھیک کہتے ہو۔میں چیزوں کی قدر نہیں کرتی انسانوں کی کرتی ہوں۔۔۔
انسانوں کی بھی نہیں کرتی۔۔سالار خفا تھا۔
صرف تمہاری نہیں کی شاید اسی لیئے سزا ملی۔۔نمی آنکھوں میں آئ تھی۔۔آواز کیساتھ ہاتھ بھی کپکپایا۔۔۔خاموشی آئ، رکی، ٹوٹی۔۔۔۔
تم بے وقوف ہو۔۔وہ اب خفا نہیں تھا۔اس نے چیک لفافے میں ڈال کر اسی طرح میز پر رکھ دیا۔۔
تھی۔۔۔۔امامہ نے کہا۔
اب بھی ہو۔۔۔سالار نے اصرار کیا۔۔۔
عقل مندی کا کرنا کیا ہے اب میں نے۔۔اس نے جواباً پوچھا۔
یہ رقم اب اپنے پاس رکھو۔۔بہت سی چیزوں میں ضرورت پڑے گی تمہیں۔۔۔سالار نے کہا۔
میرےپاس کافی رقم ہے اکاؤنٹ خالی تو نہیں۔بس میں چاہتی تھی کہ میں ایس آئ ایف میں کنٹری بیوٹ کروں۔۔۔وہ کہہ رہی تھی۔۔۔۔
زیور بیچ کر کنٹری بیوٹ نہیں کروانا چاہتا میں تم سے۔۔۔تم صرف دعا کرو اسکے لیئے۔
زیوت سے صرف پیسہ مل سکتا ہے۔اس نے بات ادھوری چھوڑ دی۔
میں ویسے بھی زیور نہیں پہنتی سالوں سے لاکر میں پڑا ہے سوچ رہی تھی وہ بھی۔۔۔۔۔۔
سالار نے اسکو بات مکمل نہیں کرنے دی۔بے حد سختی سے کہا۔
تم اس زیور کو کچھ نہیں کروگی وہ بچوں کے لیئے رکھا رہنے دو۔میں کچھ نہیں لوں گا اب تم سے۔وہ خاموش ہوگئ۔۔۔
سالار نے مگ رکھ دیا اور اسکی طرف مڑ کر جیسے بے بسی سے کہا۔۔
کیوں کر رہی ہو یہ سب کچھ؟
کچھ کہے بنا اسکے بازو پر ماتھا ٹکائے اس نے ہاتھ اسکے گرد لپیٹ لییے۔۔۔وہ پہلا موقع تھا جب سالار کا احساس ہوا کہ جوں جوں اسکے آپریشن کی تاریخ قریب آرہی تھی وہ اس سے زیادہ حواس باختہ ہورہی تھی۔۔
تم میرے ساتھ مت جاؤ امامہ یہی رہو بچوں کیساتھ۔۔سالار نے ایک بار پھر اس سے کہا۔
بچے ابھی چھوٹے ہیں ۔انکو اکیلا چھوڑ کر تم میرے ساتھ کیسے رہوگی۔وہ پریشان ہوجائیں گے۔۔
نہیں ہونگے۔۔میں نے انہیں سمجھا دیا ہے۔۔وہ ٹس سے مس نہ ہوئ۔
وہاں فرقان ہوگا میرے ساتھ پاپا ہونگے تمہیں یہی رہنا چاہیئے بچوں کےپاس۔۔۔سالار نے دوبارہ اصرار کیا۔
تمہیں میری ضرورت نہیں ہے؟ وہ خفا ہوئ۔
ہمیشہ۔۔۔۔سالار نے اسکا سر چوما۔۔
ہمیشہ؟؟
اس بیگ میں میں نے سب چیزیں رکھ دی ہے۔ سالار نے یکدم بات بدلی۔
ساتھ لے جانے کے لیئے؟ امامہ نے سمجھے بغیر اسی طرح اسکے ساتھ لگے لگے کہا۔
نہیں اپنی ساری چیزیں۔۔۔چابیاں پیپرز بنک کے پیپرز ہر وہ ڈاکومنٹ جو بچوں سے متعلق ہے ۔اکاؤنٹ میں جو پیسے ہیں چیک بک سائن کردیا ہے اور اپنی ایک وصیت بھی۔ ۔۔
سرجری میں خدانخواستہ کوئ کملیکیشن ہوجائے تو حفاظتی تدبیر ہے
سالار۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس نے جیسے مزید کچھ کہنے سے روک دیا
تمہارے نام ایک خط بھی ہے اس میں۔۔۔
میں نہیں پڑھوں گی۔۔اسکے گلے میں آنسوؤں کا پھندا لگا۔
چلو پھر تمہیں ویسے ہی سناؤں جو لکھا ہے۔۔۔وہ اب اس سے پوچھ رہا تھا۔
نہیں۔۔۔۔اس نے پھر ٹوک دیا۔
تم کتاب پڑھنا نہیں چاہتی خط نہیں پڑھنا چاہتی مجھے سننا نہیں چاہتی پھر تم کیا چاہتی ہو۔۔۔وہ اس سے پوچھ رہا تھا۔
میں نے کتاب پڑھ لی ہے۔اس نے بلآخر اعتراف کرلیا۔
وہ چونکا نہیں تھا۔۔۔میں جانتا ہوں۔۔۔
کوئ اپنی اولاد کے لیئے ایسا تعارف چھوڑ کے جاتا ہے؟ اس نے جیسے شکایت کی۔
سچ نہ لکھتا؟ وہ ہوچھ رہا تھا۔
جس بات کو اللہ نے معاف کردیا اسے بھول جانا چاہیئے۔۔
پتا نہیں معاف کیا بھی ہے یا نہیں۔۔۔یہ۔تو اللہ جانتا ہے۔
اللہ نےپردہ تو ڈال دیا ہے نا۔۔۔میں نہیں چاہتی میری اولاد یہ پڑھے۔۔کہ انکے باپ نے زندگی میں ایسی غلطیاں کی ہیں جو انکی نظروں میں تمہارا حترام ختم کردے۔۔وہ اس سے کہہ رہی تھی۔۔۔۔
جھوٹ بولتا اور لکھتا کہ میں پارسا پیدا ہوا تھا اور فرشتوں جیسی زندگی گزاری؟؟
نہیں۔۔۔بس انسانوں جیسی گزاری۔
وہ بے اختیار ہنسا۔۔۔شیطان لگ رہا ہوں کیا اس کتاب میں؟
میں اس کتاب کو ایڈٹ کروں گی۔۔وہ بولی۔۔
یعنی مجھے مومن بنا دوگی؟
وہ زندگی میں نہ بنا سکی تو کتاب میں کیا بناؤں گی۔۔۔۔وہ کہے بنا نہ رہ سکی۔
وہ پھر ہنسا۔۔۔یہ بات بھی ٹھیک ہے۔
کیا نام رکھو گی پھر میری آٹو بائوگرافی کا؟؟
آب حیات۔۔۔۔اس نے بے اختیار کہا۔اسکا رنگ اڑا اور پھر مسکرایا۔۔
وہ تو کوئ بھی پی کر نہیں آتا۔اس نے کہا۔
تلاش تو کرسکتا ہے نا۔۔امامہ نے کہا۔
لاحاصل۔ہے۔۔۔
وہ تو پھر زندگی بھی ہے۔وہ لاجواب ہوکر چپ ہوگیا۔۔۔۔
تم نے زندگی تاش کا کھیل سمجھ کر جی ہے اور اس کتاب کو بھی ایسا ہی لکھا ہے ۔زندگی باون پتوں کا کھیل نہیں۔۔۔ان دو سو پچاس صفحات میں اعترافات ہیں لیکن ایسی کوئ بات نہیں جسے پڑھ کر تمہاری اولاد تمہارے جیسا بننا چاہے۔میں چاہتی ہوں تم اسے آب حیات سمجھ کر لکھو تاکہ اسے پڑھ کر تمہاری اولاد ہی نہیں بلکہ کوئ بھی پڑھے تو تمہارے جیسا بننا چاہے۔۔۔وہ اس سے کہتی رہی۔۔۔
میرے پاس اب شاید مہلت نہیں اتنی۔سالار نے مدھم آواز میں کہا۔
تم مانگو۔۔۔جو چیز اللہ میرے مانگنے پر نہیں دیتا تمہارے مانگنے پر دیتا ہے۔سالار نے اسے عجیب لہجے میں کہا۔
مجھے یقین ہے تمہیں کچھ نہیں ہوگا۔۔اس نے سالار کا ہاتھ تھاما۔۔۔
مجھے بھی ایسا ہی لگتا ہے۔۔۔وہ عجب رنجیدگی سے مسکرایا۔۔۔ابھی تو بہت کچھ ہے جو ہمیں ساتھ کرنا ہے۔۔ساتھ حج کرنا ہے۔تمہارے لیئے اک گھر بنانا ہے ۔۔۔۔۔۔۔
امامہ نے سر جھکا لیا ۔۔۔وہ بھی اندھیرے میں صرف جگنو چاہتی تھی اندھیرا نہیں
——————————
آپریشن ٹیبل پر لیٹے اینیستھیزیا لینے کے بعد بے ہوشی میں جانے سے پہلے سالار ان سب کے بارے میں سوچتا رہا جن سے وہ پیار کرتا تھا۔امامہ جو آپریشن تھیٹر سے باہر بیٹھی تھی سکندر عثمان جو اس عمر میں بھی اسکے منع کرنے کے باوجود اسکو اپنی نظروں کے سامنے سرجری کےلیئے بھیج رہے تھے۔۔اسکی ماں جو اسکے بچوں کو سنبھالے پاکستان میں بیٹھی تھی۔
اور اسکی اولاد جبریل حمین عنایہ رئیسہ اسکی نظروں کے سامنے باری باری ایک ایک کا چہرہ آ رہا تھا۔چہرے آوازیں سوچ آہستہ آہستہ مدھم ہونا شروع ہوئ اور پھر غائب ہوتی چلی گئ۔۔
———————————
چار گھنٹے کا آپریشن آٹھ گھنٹے تک چلا گیا تھا۔سکندر فرقان اور سالار کے دونوں بڑے بھائ وہاں اسکو تسلیاں دے رہے تھے اور وہ گم صم صرف دعائیں کرتی رہی تھی۔آٹھ گھنٹے میں وہ اپنی فیملی کے اصرار کے باوجود کچھ کھا پی نہ سکی۔۔۔وہ پچھلی ساری رات بھی جاگتی رہی تھی.
اس آٹھ گھنٹوں میں پتا نہیں اس نے کتنی دعائیں کی وظیفیں کییے اللہ کے رحم کو کتنی بار پکارا اس نے گنتی نہیں کی تھی۔۔۔
آپریشن کا بڑھتا ہوا دورانیہ اسکی تکلیف اذیت اور خوف کو بڑھا رہا تھا۔۔۔۔

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: