Aab e Hayat Novel by Umera Ahmed Read Online – Episode 32

0

آب حیات از عمیرہ احمد – قسط نمبر 32

–**–**–

آٹھ گھنٹے بعد بلآخر اسے آپریشن کامیاب ہونے کی اطلاع تو مل گئ تھی ڈاکٹرز نے اس کا ایک ٹیومر تو ختم کر دیا تھا لیکن دوسرا ختم نہ کر سکے اسے سرجری کے ذریعے ریمو کرنا انتہائ خطرناک تھا۔ وہ بے حد نازک جگہ پر تھا۔
آٹھ گھنٹے بعد امامہ اور سکندر عثمان نے اسے دیکھا تھا۔ وہ ابھی ہوش میں نہیں تھا۔۔ہوش میں آنے کے بعد ہی ڈاکٹرز آپریشن کی صحیح طرح کامیابی منا سکتے تھے۔جب وہ ہوش میں آنے کے بعد بات چیت شروع کرتا اپنی فیملی کو پہچانتا۔۔اپنے ذہن کے متاثر نہ ہونے کا ثبوت دیتا۔۔۔امامہ ایک دریا پار کر آئ تھی اب آگے ایک اور دریا کا سامنا تھا۔امامہ بہت دیر تک اسے نہ دیکھ سکی۔تاروں اور ٹیوبز میں جکڑا ہوا وہ اسے دیکھنے کی کوشش کرنے کے باوجود اس پر نظر نہ جما سکی وہ وہاں سے باہر آگئ۔۔۔
وہ لوگ اب اسپتال میں نہیں ٹھہر سکتے تھے ۔نہ چاہتے ہوئے بھی اسےاسپتال سے واپس اپنے کرائے کے اپارٹمنٹ میں آنا پڑا۔۔۔سکندر عثمان اسکے ساتھ تھے سالار کے دونوں بھائ اور فرقان اسپتال کے قریب اپنے کچھ دوستوں کے پاس رہ رہے تھے۔ سکندر عثمان کو انکے کمرے میں چھوڑ کر وہ اپنے کمرے میں آئ۔وہاں عجیب سناٹا تھا یا شاید وحشت تھی۔۔وہ بے حد تھکی ہوئی تھی۔سونا چاہتی تھی پر سو نہ سکی۔اسکے اسمارٹ فون پر جبریل سکائپ پر آن لائن نظر آ رہا تھا۔وہ بے اختیار اسے کال کرنے لگی۔
بابا کیسے ہیں۔۔۔اس نے سلام دعا کے بعد پہلا سوال کیا۔
وہ ٹھیک ہیں آپریشن ٹھیک ہو گیا ڈاکٹرز اب انکے ہوش میں آنے کا انتظار کر رہے ہیں۔۔وہ اسکو بتانے لگی۔
آپ پریشان نہ ہو وہ ٹھیک ہو جائیں گے۔۔وہ ہمیشہ کی طرح ماں کو تسلی دے رہا تھا۔
جبریل تم تلاوت کرو کسی ایسی سورۃ کی کہ مجھے نیند آجائے۔۔وہ اولاد کے سامنے اتنی بے بس اور کمزور ہو کر نہیں آنا چاہتی تھی لیکن ہوگئ تھی۔۔۔۔۔
جبریل نے لیپ ٹاپ کی اسکرین اور اسکا ستا ہوا چہرہ دیکھا۔۔
آپ کو سورہ رحمان سناؤں؟؟
ہاں۔
اوکے۔۔۔میں وضو کر کے آتا ہوں۔۔آپ بستر پہ لیٹ جائے۔۔وہ پچھلے دو دن میں پہلی بار مسکرائی تھی۔۔۔۔۔
ممی آپ سو گئ؟ اس نے جبریل کی آواز پر ہڑ بڑا کے آنکھیں کھولی۔۔۔
نہیں۔۔امامہ نے کہا۔
میں شروع کروں؟ جبریل نے کہا۔
ہاں۔۔۔۔سر پر ٹوپی رکھے ہاتھ سینے پر باندھے وہ اپنی خوبصورت آواز میں سورہ رحمان کی تلاوت کر رہا تھا۔۔۔اسے سالار سکندر یاد آنا شروع ہو گیا تھا وہ اس سے یہی سورہ سنتی تھی اور جبریل کو یہ بات بھی یاد تھی۔۔دس سال کا جبریل اس سورہ کی تلاوت کرتے ہوئے اپنی ماں کو مسحور اور دم بخود کر رہا تھا۔اس کا جیسے دل پگھل رہا تھا۔
اور تم اپنے رب کی کون کونسی نعمت کو جھٹلاؤ گے۔۔۔
وہ پڑھتا رہا اور اس کا دل بھر آیا۔۔بے شک اللہ کی نعمتیں بے شمار تھی وہ شکر ادا نہیں کرسکتی تھی۔اور سب سے بڑی نعمت وہ اولاد تھی جس کی آواز میں اللہ کا وہ اعلان اس کے کانوں تک پہنچ رہا تھا۔
ممی۔۔۔جبریل نے تلاوت ختم کرنے کے بعد بے حد مدھم آواز میں اسے پکارا۔اسے یوں لگا جیسے تلاوت سنتے ہوئے وہ سو گئ ہیں۔ وہ سوئ نہیں تھی۔لیکن سکون میں تھی جیسے جیسے کسی نے اسکے سر اور کندھوں کا بوجھ اتار کر اسے ہلکا کردیا ہو
جبریل تم عالم بننا۔تمہاری آواز میں بہت تاثیر ہے۔۔اس نے جبریل سے کہا۔
ممی مجھے نیورو سرجن بننا ہے۔ امامہ نے آنکھیں کھولی وہ بے حد سنجیدہ تھا۔
میری خواہش ہے کہ تم عالم بنو۔امامہ نے اس بار زور دے کر کہا۔۔وہ جانتی تھی وہ نیورو سرجن کیوں بننا چاہتا ہے. ۔۔
حمین زیادہ اچھا عالم بن سکتا ہے میں نہیں۔۔۔۔۔۔وہ الجھا جھجکا۔۔۔
تم زیادہ لائق اور قابل ہو بیٹا۔۔
سوچوں گا۔۔آپ سو جائیں۔۔۔اس نے ماں سے بحث نہیں کی۔۔بات بدل دی۔۔
——————————–
وہ دس سال کا تھا جب اس کے باپ کی موت ہوئ۔اور اس موت نے اس کی پوری فیملی کو ہلا کررکھ دیا۔۔باپ کی موت اچانک ہوئ تھی اور وہ اس سے سنبھل نہ سکا۔۔اگلے کئ سال۔۔۔وہ تعلیم میں دلچسپی لینے، زندگی میں کچھ کرنے اور بڑا نام بنانے کے خاتمے کا سال تھا اور یہی وہ سال تھا جب اس نے اپنے باپ کے ایک اچھے جاننے والے اور ان کے ہمسایہ میں رہنے والے خاندان میں بہت زیادہ آنا جانا شروع کیا۔ یہی وہ وقت تھا جب اس نے دنیا کے ہر مذہب میں دلچسپی لینا شروع کی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گرینڈ حیات ہوٹل کا بال روم اس وقت سپیلنگ بی کے 92ویں مقابلے کے دو فائنلسٹ سمیت دیگر شرکاء کے والدین بہن بھائیوں اور اس مقابلے کو دیکھنے کے لیئے موجود لوگوں سے کچھا کچ بھرا ہونے کے باوجود اس وقت پن ڈراپ سائلنس کا منظر پیش کر رہا تھا۔۔۔ دونوں فائنلسٹ کے درمیان راؤنڈ فورٹین کھیلا جارہا تھا۔تیرہ سالہ نینسی اپنا لفظ اسپیل کرنے کےلیئے اس وقت اپنی جگہ پر آچکی تھی۔امریکہ کی مختلف ریاستوں کے علاوہ دنیا کے بہت سارے ممالک میں اسپیلنگ بی کے مقامی مقابلے جیت کر آنے والے پندرہ سال سے کم عمر کے بچے اس آخری راؤنڈ کو جیتنے کے لیئے سر ھڑ کی بازی لگائے ہوئے تھے ۔
Sassafras
نینسی نے رکی ہوئی سانس کیساتھ پروناؤنسر کا لفظ سنا۔۔اور پرونائونسر سے لفظ دہرانے کو کہا۔۔۔اس نے دہرایا۔۔۔وہ چمپیئن شپ ورڈز میں سے ایک تھا۔۔لیکن فوری طور پر اسے یہ یاد نہ آسکا۔۔۔۔۔
نوسالہ دوسرا فائنلسٹ اپنی کرسی پر بیٹھا۔۔نینسی کا ریگولر ٹائم ختم ہوچکا تھا۔اس نے لفظ اسپیل کرنا شروع کیا ۔۔۔s.a.s.s پہلے چار لیٹرز بتانے کے بعد وہ ایک لمحہ کو رکی ۔۔۔زیر لب اس نے باقی لیٹرز دہرائے اور پھر دوبارہ بولنا شروع کیا۔۔
A.f.r
وہ ایک بار پھر رکی۔۔ دوسرے فائنلسٹ نے بیٹھے بیٹھے زیر لب آخری دو لیٹرز کو دہرایا U.sاور نینسی نے بھی بلکل اس وقت یہی دو لیٹرز بولے اور پھر بے یقینی سے اس گھنٹی کو بجتے سنا جو اسپیلنگ کے غلط ہونے پر بجتی تھی۔۔حیرت صرف اس کے چہرے پر نہیں تھی اس دوسرے فائنلسٹ کے چہرے پر بھی تھی۔ ۔پروناؤنسر اب درست اسپیلنگ دہرا رہا تھا۔
تقریباً فق ہوتی رنگت کیساتھ نینسی نے مقابلے کے شرکاء کے لیئے رکھی ہوئ کرسیوں کی طرف چلنا شروع کیا ۔۔ہال تالیوں سے گونج رہا تھا۔۔یہ رنراپ کو کھڑے ہوکر داد دی جارہی تھی نو سالہ فائنلسٹ بھی اسکے لیئے کھڑا ہوکر تالیاں بجا رہا تھا۔۔ہال میں موجود لوگ دوبارہ اپنی نشست سنبھال چکے تھے اور دوسرافائنلسٹ مائک کے سامنے آچکا تھا۔نینسی نے کسی موہوم امید کے تحت اسے دیکھنا شروع کیا۔۔اگر وہ اپنے لفظ کو مس اسپیل کرتا تھا وہ دوبارہ فائنل راؤنڈ میں آجاتی۔۔۔
اسٹیج پر اب وہ نو سالہ فائنلسٹ تھا ۔اپنی شرارتی مسکراہٹ اور گہری سیاہ چمکتی آنکھوں کیساتھ۔۔اس نے چیف پروناؤنسر کو دیکھتے ہوئے سرہلایا۔ ۔جوناتھن جواباً مسکرایا تھا۔۔۔وہ اس چیمپئن شپ کو دیکھنے والے کراؤڈ کا سویٹ ہارٹ تھا۔۔اسکے چہرے پر بلا کی معصومیت تھی ۔۔۔
Cappelletti
جوناتھن نے لفظ ادا کیا۔
اس فائنلسٹ کے چہرے پر ایسی مسکراہٹ آئ جیسے وہ اپنی ہنسی کو کنٹرول کررہا ہو۔۔اسکی آنکھیں پہلے کلاک وائس پھر اینٹی کلاک وائس گھومنا شروع ہوگئ تھی۔۔۔ہال میں کچھ کھلکھلاہٹیں ابھری۔۔اس نے اپنا ہر لفظ سننے کے بعد ایسا ہی ری ایکٹ کیا تھا بھینچی ہوئ مسکراہٹ اور گھومتی ہوئ آنکھیں۔۔۔کمال کی خود اعتمادی تھی۔کئ دیکھنے والوں نے اسے داد دی۔
Your finish time starts.
اسے ان آخری تیس سیکنڈز کے شروع ہونے کی اطلاع دی گئ جس میں اس نے اپنا لفظ اسپیل کرنا تھا۔۔اسکی آنکھیں گھومنا بند ہوئی۔
Cappelleti
اس نے ایک بار پھر اپنے لفظ کو دہرایا اور پھر اسپیل کرنا شروع کردیا۔
C,a,p,p,e,l,l
وہ رکا اور پھر ایک سانس لیتے ہوئے اس نے دوبارہ اسپیل کرنا شروع کیا۔
E.t.t.i
ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔
اسپیلنگ بی کا چیمپئن اب صرف ایک لفظ کے فاصلے پر تھا۔۔
تالیوں کی گونج تھمنے کے بعد جوناتھن نے اسے آگاہ کیا کہ اب اسے ایک اضافی لفظ اسپیل کرنا تھا۔ اس نے سر ہلایا۔۔۔۔۔اس لفظ کو اسپیل نہ کر سکنے کی صورت میں نینسی ایک بار پھر واپس مقابلے میں آجاتی۔
Weissnichtwo
اسکے لیئے لفظ پروناؤنس کیا گیا۔ایک لمحے کےلیئے اسکے چہرے سے مسکراہٹ غائب ہوئ۔۔اوہ مائی گاڈ۔۔اس کے منہ سے بے اختیار نکلا۔وہ شاکڈ تھا۔۔۔یہ پہلا موقع تھا جب اس کی آنکھیں اور وہ خود اس طرح جامد ہوا تھا۔
نینسی بے اختیار اپنی کرسی پر سیدھی ہوکر بیٹھ گئی۔تو بلآخر کوئ ایسا لفظ آگیا تھا جو اسے چیمپئن شپ میں واپس لا سکتا تھا۔
اس کے والدین کو پہلی بار اسکے تاثرات نے پریشان کیا۔۔۔۔حاضرین اسکی انگلیوں اور ہاتھوں کی کپکپاہٹ بڑی آسانی سے اسکرین پر دیکھ سکتے تھے ۔۔۔۔
ہال میں بیٹھا ہوا صرف ایک فرد ریلیکسڈ تھا۔۔۔یہ اسکی سات سالہ بہن تھی ۔جس نے بھائی کے تاثرات پر پہلی بار بڑے اطمینان کیساتھ کرسی کی پشت کیساتھ مسکراتے ہوئے ٹیک لگائی تھی۔۔۔گود میں رکھے ہوئے اپنے ہاتھوں کو بہت آہستہ آہستہ اس نے بے تابی کے انداز میں بجانا شروع کیا ۔اس کے ماں باپ نے بیک وقت اس کے تالی بجاتے ہاتھوں اور اسکے مسکراتے چہرے کو الجھے انداز میں دیکھا اور پھر اپنے لرزتے کانپتے کنفیوز بیٹے کو دیکھا۔۔
ہال اب آہستہ آہستہ تالیاں بجا رہا تھا۔۔وہ اب اپنا کارڈ نیچے کر چکا تھا جیسے ذہنی تیاری کرچکا ہو۔۔۔ W.e.i.s.s.n.i.c.h.t.w.o
حمین سکندر نے ایک ہی سانس میں رکے بغیر لفظ کے ہجے کییے۔۔
An unknown place
ایک نا معلوم مقام۔۔۔۔اس نے لفظ کے ہجے کرتے ہی اسی رفتار سے اس کا مطلب بتایا۔۔پھر اسکی نظریں پروناؤنسر پر ٹکی۔
پروناؤنسر کے منہ سے نکلی درست کی آواز ہال میں گونج اٹھنے والی تالیوں میں گم ہو گئ۔۔وہ اسپیلنگ بی کے نئے فاتح کو خراج تحسین پیش کر رہے تھے جو اسٹیج پر فلیش لائٹس اور ٹی وی کیمروں کی چکا چوند کردینے والی روشنیوں میں ساکت کھڑا تھا۔۔ یوں جیسے وہ ابھی تک اس شاک سے نکل نہ پایا ہو کہ وہ جیت چکا ہے۔۔یہ حمین سکندر تھا اور یہ حمین سکندر ہی ہو سکتا تھا۔۔۔۔
پہلا جملہ جو اس کے سامنے لگے مائک نے حاضرین تک پہنچایا تھا اس نے تالیوں کی گونج میں ایک بلند شگاف قہقہے کی آواز کو بھی شامل کیا تھا۔
اوہ مائ گاڈ۔۔۔۔۔وہ اس سے زیادہ کچھ نہ بول سکا۔۔حاضرین کی ہنسی نے اسے کچھ اور نروس کیا۔۔پھر اس نے حاضرین کی تالیوں کا جواب دیا۔ اس نے پلٹ کر اس طرف دیکھا جہاں اسکے ماں باپ اور رئیسہ بیٹھے تھے۔وہ اب سب کے ساتھ کھڑے اسکے لیئے تالیاں بجا رہے تھے۔۔۔حمین سکندر تقریباً بھاگتا ہوا ان کی طرف گیا اور اسکے ساتھ ہی وہ سپاٹ لائٹ بھی گئ جو اس سے پہلے اسٹیج پر فوکس تھی۔۔وہ تالیاں بجاتی اور آنسو بہاتی امامہ سے آکر لپٹا تھا۔۔۔پھر وہ سالار سے لپٹ گیا ۔۔۔۔کیا آپ کو مجھ پر فخر ہوا؟ اس نے ہمیشہ کی طرح باپ سے پوچھا۔
بہت فخر۔۔۔۔۔۔اس نے اسے تھپکتے ہوئے کہا۔
اس کی آنکھیں چمکی مسکراہٹ گہری ہوئی پھر وہ رئیسہ کی طرف گیا دونوں ہتھیلیاں پھیلاتے ہوئے اس نے بازو ہوا میں بلند کرتے ہوئے رئیسہ کے پھیلائے ہوئے ہاتھوں پر ہائ فائ کیا۔۔اپنے گلے میں لٹکا ہوا نمبر اتار کر اس نے رئیسہ کے گلے میں ڈالا۔۔پھر جھک کر اسے تھوڑا سا اٹھایا۔۔وہ کھلکھلائ۔۔حمین نے اسے نیچے اتارا اور پھر اسی طرح بھاگتا ہوا واپس اسٹیج کی طرف گیا۔۔
آخری لفظ کتنا مشکل تھا؟ ابتدائ کلمات کے بعد میزبان نے اس سے پوچھا
آخری لفظ تو بے حد آسان تھا۔ حمین نے بڑے اطمینان سے کہا۔۔ہال میں قہقہہ گونجا۔۔
تو پھر مشکل کیا تھا۔۔۔میزبان نے اسے چھیڑنے والے انداز میں پوچھا۔
اس سے پہلے پوچھے جانے والے سارے الفاظ۔۔حمین نے ترکی بہ ترکی کہا۔
کیوں؟
کیونکہ میں ہر لفظ بھول گیا تھا بس تکے لگاتا رہا ایک آخری لفظ تھا جو میں آنکھیں بند کر کے بھی ہجے کرسکتا تھا۔۔
آخری لفظ اتنا آسان کیوں لگا تھا آپکو۔۔۔میزبان نے پوچھا۔۔۔
رئیسہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حمین نے فخریہ انداز میں کہا۔ کیونکہ میں اور میری بہن نامعلوم مقام سے آئے ہیں۔۔ہال ایک بار پھر تالیوں اور قہقہوں سے گونج اٹھا۔۔۔۔ہال میں لگی اسکرین پر گلاسز لگائے شرماتی رئیسہ ابھری تھی۔امامہ اور سالار بھی ہنس پڑے۔۔۔۔۔
زندگی میں اب تک ان سب کی وجہ سے ان دونوں کی زندگی میں ایسے بہت سے فخر کے لمحات آئے تھے۔۔۔
ممی اگلے سال میں بھی حصہ لوں گی۔۔ان کے درمیان بیٹھی ہوئ رئیسہ نے اپنے گلے میں لٹکے حمین کے کارڈ کو ہلاتے ہوئے سرگوشی میں امامہ کو اطلاع دی۔۔۔امامہ نے اسے تھپکا جیسے اسے تسلی دے کر ہامی بھر رہی ہو۔۔۔
اسٹیج پر اب حمین کو ٹرافی دی جا رہی تھی۔۔حاضرین ایک بار پھر کھڑے ہو کر تالیاں بجاتے ہوئے داد دے رہے تھے ۔۔۔وہاں سے کئ کلومیٹر دور واشنگٹن کے ایک قدرے نواحی علاقے کے ایک گھر میں بیٹھے جبریل اور عنایہ ٹی وی پر اس پروگرام کی لائیو کوریج دیکھ رہے تھے۔عنایہ کچھ دیر پہلے اپنے ٹیسٹ کی تیاری ختم کر کے بیٹھی تھی جسکی وجہ سے وہ امامہ اور سالار کیساتھ نہ جاسکی اور جبریل اسکے ساتھ رہ گیا تھا۔۔اب جب اس تیسری ٹرافی کے انکے گھر آنےکا فیصلہ ہوگیا تھا تو وہ بے حد خوش تھے۔ان سب کے درمیان مقابلہ ہوتا تھا۔۔حسد اور رقابت تو ان چاروں میں تھی ہی نہیں۔۔ٹی وی دیکھتے ہوئے گھنٹی کی آواز سنائی دی۔۔ جبریل اس وقت اپنے لیئے ملک شیک بنانے میں مصروف تھا عنایہ دروازے پہ چلی گئ۔ کی ہول سے اس نے باہر جھانکا ۔۔۔وہاں گیارہ سالہ ایرک کھڑا تھا۔ ۔۔عنایہ چند لمحوں کے لیئے وہی کھڑی رہی۔ وہ اسکا کلاس فیلو اور ہمسایہ تھا ۔۔جبریل گھر پہ نہیں ہوتا تو وہ دروازہ کبھی نہ کھولتی۔۔۔۔۔وہ باہر کی ہول پر نظریں جمائے یوں کھڑا تھا جیسے اس سوراخ سے یہ دیکھ پا رہا ہو کہ اسے اندر سے دیکھا جارہا تھا اور دیکھنے والا کون تھا یہ بھی۔۔۔۔۔۔۔۔
باہر کون ہے؟ وہ جبریل تھا جو اچانک اس کے پیچھے آگیا تھا۔۔۔وہ ہڑبڑا کر پلٹی۔۔پھر اس نے کہا۔
ایرک۔۔۔۔۔۔
دونوں بہن بھائ ایک دوسرے کو دیکھتے رہے ۔۔وہ بے مقصد اور کسی بھی وقت دوستوں کو گھر نہیں بلا سکتے تھے۔۔۔لیکن ایرک کے لیئے ان سب کے دلوں میں ہمدردی تھی۔۔
اچھا آنے دو شاید اسے بھی ٹیسٹ کا کچھ پوچھنا ہو۔۔۔جبریل نے آگے بڑھ کر دروازہ کھول دیا۔۔دونوں ہاتھ جینز کی جیبوں میں ڈالے ایرک نے دروازہ کھلنے پر اپنے امریکن لب و لہجے میں ہمیشہ کی طرح بمشکل انہیں السلام علیکم کہا۔۔۔
مبارک ہو۔۔۔۔۔ایرک نے وہی کھڑے کھڑے جبریل کے پیچھے جھانکتی عنایہ کو دیکھتے ہوئے کہا۔
تھینک یو۔۔۔جبریل نے بھی اتنا ہی مختصر جواب دیا۔۔وہ بات کرتے ہوئے دروازے کے سامنے سے ہٹ گئے۔۔۔ایرک اسی طرح جینز کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے اندر آگیا۔۔
تم نے ٹیسٹ کی تیاری کر لی۔ ۔عنایہ اس سے پوچھے بنا نہ رہ سکی۔۔۔
نہیں۔۔۔۔وہ چلتے ہوئے لاؤنج میں آگیا تھا۔
کیوں؟
بس ایسے ہی۔۔۔اس نے جواب دیا۔
بیٹھ جاؤ۔۔۔عنایہ نے اسے اسی طرح کھڑے دیکھ کر کہا۔جبریل تب تک لاؤنج کے ایک طرف موجود کچن ایریا میں دوبارہ اپنے کام میں مصروف ہو گیا۔۔۔۔
ایرک تمہاری ممی کو پتا ہے کہ تم یہاں ہو؟؟ جبریل کو فریج میں سے دودھ نکالتے ہوئے اچانک خیال آیا۔۔۔
میرا خیال ہے۔۔۔۔ایرک نے کان سے مکھی اڑانے والے انداز میں کہا۔۔۔
انہیں نہیں پتا؟
وہ دودھ کی بوتل کاؤنٹر پر رکھتے ہوئے ٹھٹکا۔۔
اسے پچھلے ہفتے کا خیال آیا تھا جب ایرک کی ممی اسے ڈھونڈتے ہوئے وہاں آئی تھی۔اور انہوں نے شکایت کی تھی کہ وہ انہیں بتائے بغیر گھر سے نکلا تھا اور وہ اتفاقاً اسے ڈھونڈنے پر پتا چلا کہ وہ گھر پر تھا ہی نہیں۔۔۔تب ہی وہ ان لوگوں کے گھر آئی تھی۔ کیونکہ انہیں پتا تھا کہ وہ انہیں کہی اور نہیں تو وہاں مل جائے گا۔
ممی گھر پر نہیں ہے۔۔۔ایرک نے جبریل کے تنبیہی انداز کو بھانپا۔۔
کہاں گئ ہیں؟ جبریل اتنی پوچھ گچھ کبھی نہ کرتا اگر وہ ایرک نہ ہوتا۔۔
کسی دوست کے پاس گئ ہے۔سبل اور مارک بھی انکے ساتھ ہیں۔اس نے جبریل کو بتایا۔۔۔۔۔
تم ساتھ نہیں گئے۔۔۔عنایہ نے اس سے پوچھا۔۔۔
میں نے ٹیسٹ کی تیاری کرنی تھی۔۔اس نے ترکی بہ ترکی کہا۔۔۔عنایہ اسے دیکھ کر رہ گئ۔
چلو پھر ٹیسٹ کی تیاری کرتے ہیں۔۔۔عنایہ نے جواباً اسے کہا۔
یہ سب واپس کب آئیں گے۔۔ایرک نے بات بدلنے کی کوشش کی۔
واپس آرہے ہونگے۔۔۔عنایہ نے اسے بتایا اور اسے دیکھنے لگی۔
میں کوئ گیم کھیل سکتا ہوں ؟؟اس نے کہا۔۔۔عنایہ ہچکچائ۔۔۔
نہیں۔۔۔۔عنایہ کی جگہ جبریل نے جواب دیتے ہوئے اسکے ہاتھ سے ریمورٹ لےلیا۔
اس وقت ہمارے گھر میں کوئ گیمز نہیں کھیلتا کافی دیر ہوچکی ہے۔۔۔۔۔
جبریل نے اسے اپنے گھر کے قوانین نرمی سے بتائے۔۔
لیکن میں تو ایک آؤٹ سائڈر اور مہمان ہوں۔۔۔۔ایرک نے جبریل سے کہا۔۔۔
نہیں تم باہر کے نہیں ہو۔۔جبریل نے جواباً اس سے کہا۔۔ایرک بول نہیں سکا۔۔وہ جیسے اس سے یہی سننا چاہتا تھا۔۔۔۔۔۔
میں ڈنر ٹیبل سیٹ کردوں سب آنے والے ہونگے ۔۔عنایہ اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔ایرک وقفے وقفے سے اسے اور جبریل کو دیکھتا رہا دونوں اپنے کاموں میں مصروف تھے اسے اپنی موجودگی بے مقصد نظر آئ لیکن وہ پھر بھی وہاں سے جانے پر تیار نہیں تھا۔۔اس گھر میں زندگی تھی سکون تھا۔۔جو اب اسکے گھر میں نہیں تھا۔
کچھ دیر بعد وہ اٹھ کر عنایہ کے پاس آیا اور کچھ کہے بنا خود ہی ٹیبل سیٹ کرنے میں اسکی مدد کرنے لگا۔۔۔عنایہ نے سات سیٹس لگائ جو ایرک نے بھی نوٹس کیا اس نے جیسے بن کہے یہ جان لیا تھا کہ وہ وہاں سے کھانا کھا کر جائے گا۔۔
حمین اور رئیسہ کیساتھ سالار اور امامہ کی آمد پر انکا پرجوش استقبال کیا گیا۔اور اس میں ایرک بھی شامل تھا۔۔
کھانے کی میز پر انکے ساتھ کھانا کھاتے اور خوش گپیوں کرتے ہوئے ڈوربیل بجنے پر بھی ایرک کو یہ خیال نہیں آیا کہ وہ اسکی ممی کیرلین ہوگی۔۔وہ بے حد ناخوش تھی اور ہمیشہ کی طرح انکے گھر آنےپر اس نے معمول کے انداز میں خوشگوار رسمی جملوں کا تبادلہ نہیں کیا تھا اس نے اندر آتے ہی ایرک کا پوچھا اور وہاں ایرک کے ہونے کی تصدیق پر وہ اندر آگئ تھی۔۔اس نے لاؤنج میں کھڑے کھڑے ایرک کو ڈانٹنا شروع کیا ۔وہ سبل اور مارک کو اسکے پاس چھوڑ کر کسی دوست کے ساتھ ڈنر پر گئ تھی۔۔اور وہ سبل اور مارک کے سوتے ہی نکل آیا تھا۔۔اور جب کیرولین واپس آئ تو اس نے سبل اور مارک دونوں کو گھر میں روتے ہوئے پریشان اور ایرک کو وہاں سے غائب پایا تھا۔۔۔۔۔۔
ایرک نےماں کی ڈانٹ پھٹکار خاموشی سے سنی۔۔ شرمندگی اسے اس بات کی ہوئ کہ اسکا جھوٹ سب کے سامنے کھلا تھا۔۔۔۔۔ایرک کے جانے کے کچھ دیر بعد بھی وہاں خاموشی چھائی رہی۔۔یہ کسی کی سمجھ میں نہ آیا کہ وہ اس صورت حال پر کیا رد عمل ظاہر کرے۔ایرک سے ان سب کو ہمدردی تھی اور انکی سمجھ میں یہ نہیں آرہا تھا کہ کیسے اسے اپنے گھر سے دور رکھیں۔۔۔
اتنا اچھا بچہ تھا۔۔پہلے کبھی جھوٹ نہیں بولتے دیکھا اسے۔پتا نہیں اب کیا ہوگیا۔۔۔امامہ نے ٹیبل سے برتن اٹھاتے ہوئے جیسے تبصرہ کیا۔۔۔
جیمز کی موت نے ایسا کردیا ہے اسے۔۔سالار نے جواب دیا۔۔برتن سنک میں رکھتی ہوئ امامہ عجیب انداز میں ٹھنڈی پڑی تھی۔۔دو دن بعد سالار کا طبی معائنہ تھا۔یہ دیکھا جاتا تھا کہ اسکے دماغ میں موجود ٹیومر کس حالت میں ہے ۔۔بڑھنے لگا تھا۔۔۔گھٹنے لگا تھا۔۔اسکے دماغ میں کوئ اور ٹیومر تو نہیں بنا تھا۔۔کتنے ٹیسٹس تھے جنکے رپورٹس وہ دم سادھے دیکھتی رہتی تھی۔۔کوئ معمولی سی خراب رپورٹ بھی اسے بے حال کردیتی تھی۔۔اور یہ سب تین سال سے ہورہا تھا۔۔۔اب سالار کی زبان سے جیمز کی موت کا سن کر اور اسکی موت نے اسکے بیٹے کو کیسے متاثر کیا تھا وہ ایک بار پھر منجمد ہوگئ تھی۔۔۔۔کچن میں سنک کے سامنے کھڑے اس نے لاؤنج میں بیٹھے سالار کو دیکھا۔۔۔اسکے گرد بیٹھے خوش گپیوں میں مصروف اپنے بچوں کو دیکھا۔۔۔وہ خوش قسمت تھی کہ وہ اب بھی انکی زندگیوں میں تھا۔۔۔کوئ اسے دیکھ کر یہ اندازہ نہیں لگا سکتا تھا کہ اسے کوئ ایسی بیماری بھی تھی۔۔وہ صرف علاج کے دورانیہ میں بیمار لگتا تھا ۔سرجری کے لیئے سر کے بال صاف کرادینے کی وجہ سے اور اسکے بعد علاج کی وجہ سے بھی۔۔۔۔۔
تب اسکے چہرے پر یکدم جھریاں آگئ تھی بہت کم وقت میں اسکا وزن بہت کم ہوا تھا۔۔ایک کے بعد ایک چھوٹے بڑے انفیکشنز کا شکار ہوتا رہا تھا۔۔۔۔
وہ سرجری کے بعد پاکستان واپس آنا چاہتی تھی لیکن آ نہ سکی۔۔۔وہ اسے وہاں اکیلے اس جنگ لڑنے کے لیئے اکیلا نہیں چھوڑ سکتی تھی اسے۔۔۔وہ کام چھوڑ کر گھر بیٹھنے پر تیار ہی نہیں تھا۔۔وہ سرجری کے ایک ہفتہ بعد ہی دوبارہ ایس آئ ایف کے پروجیکٹس لییے بیٹھا تھا۔۔۔اور وہ صرف بیٹھی اسے دیکھتی رہتی۔۔۔
تیمارداری عیادت دیکھ بھال ان لفظوں کو سالار سکندر نے بے معنی کر کے رکھ دیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اپنی زمہ داری خود اٹھا رہا تھا۔۔وہ پھر بھی اسے تنہا چھوڑنے پر تیار نہیں تھی۔۔۔چھ سات ماہ کے بعد وہ بلآخر صحتمند ہونا شروع ہوا تھا اسکے نئے بال اگ آئے تھے۔۔۔اسکا وزن بڑھ گیا تھا اور وہ جھریاں بھی غائب ہوئ جو راتوں رات آئی تھی۔۔۔وہ اب پہلے جیسا سالار نظر آتا تھا۔۔۔لیکن وہ ٹیومر اسکے اندر موجود تھا ایک خاموش آتش فشاں کی طرح۔۔۔اثرات کے بغیر حرکت کے بغیر۔۔۔لیکن اپنا بھیانک وجود رکھتے ہوئے ۔جیسے نظر نہ آنے والی موت۔۔۔کبھی بھی آسکتی ہے اور کہی بھی آجاتی ہے۔۔۔
لاؤنج میں حمین کسی بات پر ہنستے ہوئے سالار کا چہرہ دیکھتے ہوئے اسکی سرجری کے بعد پہلی بار اسے دیکھنا یاد آیا تھا۔۔۔
آٹھ گھنٹے سرجری کے بعد پہلی بار اسے دیکھنا ۔۔پھر اگلی صبح اسپتال جاکر اسے دوبارہ دیکھنا ۔۔۔جب وہ ہوش میں آیا تھا ۔۔اسکے متورم پپوٹے ہلنے لگے تھے۔۔۔وہ آنکھیں کھولنے کی جدوجہد کر رہا تھا۔۔۔۔۔
سالار۔۔۔۔۔۔۔سالار۔۔۔۔۔۔۔وہ بے اختیار اسے پکارنے لگی تھی۔اس نے بلآخر آنکھیں کھول دی۔۔۔۔اس نے سالار کو چہرہ چھوا اور پھر اسے پکارا۔۔۔اس بار سالار نے اسے دیکھا لیکن ان آنکھوں میں اسکے لیئے کوئ پہچان نہیں تھی وہ صرف اسے دیکھ رہا تھا اسے پہچاننے کی کوشش نہیں کر رہا تھا۔۔امامہ کو دھچکا لگا تھا۔۔کیا وہ واقعی اسے پہچان نہیں پارہا تھا۔۔۔ڈاکٹرز نے اس خدشے کا اظہار آپریشن سے پہلے کیا تھا کہ اسکی یاداشت جاسکتی ہے۔۔وہ شدید صدمے کا شکار ہوئ تھی۔۔گنگ۔۔دم بخود ۔۔وہ سرد ہاتھ پیروں سے ان آنکھوں کو دیکھتی رہی جو اسے اجنبی کی طرح دیکھ رہی تھی۔۔۔پھر جیسے ان آنکھوں میں چمک آنا شروع ہوئ۔۔جیسے اسکا عکس ابھرنا شروع ہوا اسکی پلکیں اب ساکت نہیں تھی۔وہ جھپکنے لگی تھی مانوسیت کا احساس لییے۔۔۔بیڈ پر اسکے ہاتھ کے نیچے سالار کے ہاتھ میں حرکت ہوئ۔۔سالار کی زبان سے جو پہلا لفظ نکلا تھا وہ اسکا نام نہیں تھا۔۔۔وہ الحمدللہ تھا۔۔۔۔اور امامہ کو پہلی بار الحمدللہ کا مطلب سمجھ میں آیا تھا۔۔اس نے امامہ کا نام اگلے جملے میں لیا اور امامہ کو لگا اس نے زندگی میں پہلی بار اپنا نام سنا تھا۔زندگی میں پہلی بار اسے اپنا نام خوبصورت لگا تھا۔۔اس نے پہلی چیز پانی مانگی اور امامہ کو لگا دنیا میں سب سے قیمتی چیز پانی ہی تو ہے اور اس نے کلمہ پڑھا تھا۔۔کوئ مرتے ہوئے تو کلمہ پڑھتا ہے پھر زندہ ہوجانے پر اس نے کلمہ۔پڑھتے ہوئے کسی کو پہلی بار دیکھا تھا اور ان سب کے دوران سالار نے امامہ کا ہاتھ نہیں چھوڑا تھا۔۔جنت تھی جو ہاتھ میں تھی۔۔۔
تمہیں نہیں آنا یہاں؟؟ سالار نے ایکدم اسے مخاطب کیا ۔۔وہ ابھی بھی کچن کے سنک سے ٹیک لگائے وہی کھڑی تھی۔۔۔دور تھی۔۔۔اس لیئے خود پر قابو پاگئ تھی ۔۔آنسو بھی چھپا گئ تھی۔۔۔
ہاں میں آتی ہوں۔۔۔میں سب باتیں یہاں بھی تو سن رہی ہوں۔۔۔اس نے کہا۔۔۔
———-++++++———–
عائشہ عابدین اپنے باپ کے انتقال کی سات ماہ بعد پیدا ہوئ تھی۔تین بہنوں میں سب سے چھوٹی۔۔وہ ڈاکٹرز کے ایک نامور خاندان سے تعلق رکھتی تھی۔عائشہ کی ماں نورین نے اپنی بیٹی کو تھوڑے عرصے کے لیئے پاکستان میں اپنی ماں کے پاس بھیج دیا تھا۔۔وہ امریکہ میں میڈیسن جیسے پروفیشن سے منسلک تھے۔ دونوں بیٹیوں کیساتھ اس نوزائیدہ بچی کو شوہر کی اچانک موت کے بعد پیدا ہونے والے حالات میں سنبھال نہیں سکتی تھی۔۔عائشہ اگلے پانچ سال پاکستان میں رہی۔ عائشہ کی نانا نانی کو اس سے اتنی انسیت ہو گئ تھی اور وہ بھی ان کے ساتھ خوش اور مطمئن تھی۔کہ نورین اسے واپس نہ لے جاسکی۔۔۔پانچ سال بعد بلآخر وہ عائشہ کو امریکہ اپنے پاس لے آئ لیکن عائشہ کا دل وہاں نہ لگا۔۔وہ اپنی بہنوں کیساتھ مانوس نہیں تھی۔نورین بہت مصروف تھی اور کسی کے پاس عائشہ کے لیئے وقت نہیں تھا۔۔وہ دو سال وہاں کسی نہ کسی طرح گزارتی رہی لیکن سات سال کی عمر میں نورین کو ایک بار پھر اسکی ضد پر اسے پاکستان بھجنا پڑا لیکن اس بار نورین کو اسکے رہن سہن کے حوالےسے فکر ہونے لگی تھی۔وہ عائشہ کو مستقل امریکہ میں ہی رکھنا چاہتی تھی کیونکہ پاکستان میں ان صرف انکے والدین رہ گئے تھے جو پاکستان چھوڑ کر امریکہ آنے پر تیار نہیں تھے۔
پاکستان بھیجنے کے باوجود نورین کی کوشش تھی کہ عائشہ اور اس کی بہنوں نریمان اور رائمہ میں لگاؤ پیدا ہو جائے اور ان کی کوشش کامیاب ثابت ہوئ تھی۔۔عائشہ اور اسکی دونوں بہنیں اب ایک دوسرے کے قریب آنے لگی تھی۔۔
دس سال کی عمر میں عائشہ ایک بار پھر امریکہ آئی تھی۔۔اور اس بار اسے وہاں رہنے میں پہلے جیسے مسلئے پیش نہیں آئے تھے۔ لیکن اب ایک نیا مسئلہ درپیش تھا۔وہ سکول میں جا کر پریشان ہونے لگی تھی۔۔وہ پاکستان میں بھی کو ایجوکیشن میں پڑھتی رہی تھی مگر وہاں اور یہاں کے ماحول میں فرق تھا۔۔۔عائشہ کو سکول اچھا نہیں لگتا تھا نورین سمجھتی تھی کہ وہ کچھ عرصہ بعد خود ہی ٹھیک ہو جائیں گی لیکن جب ایک سال بعد اسکی حالت ٹھیک نہیں ہوئ اور گریڈز خراب آنے لگے تو نورین کو اسے ایک بار پھر پاکستان بھیجنا پڑا۔ وہ اب اسے او لیولز کے بعد وہاں بلوانا چاہتی تھی۔ کیونکہ ان کا خیال تھا تب تک وہ کچھ سمجھدار ہوجائے گی۔
تیرہ سال کی عمر میں عائشہ عابدین ایک بار پھر امریکہ رہنے آئی تھی۔لیکن اس بار وہاں وہ اپنے لیے ایک نیا مسئلہ دیکھ رہی تھی۔ امریکہ اسے اسلامک ملک نہیں لگ رہا تھا۔وہاں کی شخصی آزادی اسکے لیئے پریشان کن تھی۔ وہاں لباس کے بارے میں روا رکھنے والی آزادی اسے ہولانے لگی تھی لیکن ان میں سب سے بڑا چیلنج اسکے لیے یہ تھا کہ وہ وہاں حجاب میں بھی خود کو غیر محفوظ سمجھتی تھی۔ جو اس نے پاکستان میں لینا شروع کیا تھا اور جس سے نورین خوش نہیں تھی۔ اس بار نورین نے بلآخر گھٹنے ٹیک دیے۔ یہ مان لیا تھا کہ عائشہ کا امریکہ میں اب کوئ مستقبل نہیں تھا۔ انہوں نے اسے امریکہ سے ایک بار پھر واپس پاکستان بھیج دیا۔ یہ عائشہ عابدین کا انتخاب تھا کہ اسے اپنی زندگی ایک اسلامک ملک میں گزارنی تھی۔عائشہ کے نانا نانی نے اسے کانونٹ میں پڑھانے کے باوجود بے باک انداز میں اس کی پرورش نہیں کی تھی۔ عائشہ کو انہوں نے گھر میں ایک ایسے مولوی سے قرآن پڑھایا تھا جو کسی کم فہم رکھنے والا کوئی روایتی مولوی نہیں تھا۔۔۔وہ ایک اچھے ادارے کے طلبا کو قرآن اور حدیث کی تعلیم دیتا تھا۔۔خود عائشہ کے نانا نانی بھی دین اور دنیا کی بہت سمجھ رکھتے تھے ۔وہ اعلی تعلیم یافتہ تھے۔۔عائشہ ایک ایسے ماحول میں جہاں دین کی سمجھ بوجھ اور اسمیں گہری دلچسپی کے ساتھ پیدا ہوئ تھی جہاں پر حرام اور حلال کی تلواروں سے ڈرانے کی بجائے دلیل اور منطق سے اچھائ اور برائ سمجھائ جاتی تھی یہی وجہ تھی کہ عائشہ اپنے مذہب سے جذباتی لگاؤ رکھتی تھی۔۔۔
وہ نماز باقاعدگی سے پڑھتی تھی اور حجاب اوڑھتی تھی روزے بھی رکھتی تھی اپنے نانا نانی کیساتھ حج بھی کر چکی تھی لیکن اسکے ساتھ وہ فنون لطیفہ کی ہر صنف میں بھی دلچسپی رکھتی تھی۔۔پینٹنگز بنا لیتی تھی اسکول میں پورے لباس کیساتھ پیراکی کےمقابلوں میں بھی حصہ لیتی تھی۔۔ہر وہ کام کرتی تھی جس میں اسے دلچسپی ہوتی اور نانا نانی کی اجازت ہوتی۔۔۔
نورین اپنے ماں باپ کی اس حوالے سے بہت احسان مند تھی ۔نورین کی خواہش تھی کہ عائشہ ڈاکٹر بنتی۔ اگر نورین کی خواہش نہ ہوتی تو وہ ڈاکٹر بننے کی بجائے آرکیٹیکٹ بنتی۔۔لیکن نورین کی خواہش کو مقدم سمجھتے ہوئے اس نے زندگی کے بہت سارے مقاصد بدل دیے تھے۔
———————-
وہ اگلی صبح پھر انکے دروازے پر کھڑا تھا۔ امامہ نے لانڈری سے کپڑے نکال کر چند منٹ پہلے ڈرائپر میں ڈالے تھے اسے آج گیراج صاف کرنا تھا اور بیل بجنے پر اسکے بارے میں سوچتی ہوئ نکلی تھی۔۔تو اس نے ایرک کو سامنے کھڑا پایا۔۔۔لیکن وہ دروازے سے ہٹی نہیں۔۔ایرک نے ہمیشہ کی طرح اپنے مخصوص انداز میں سلام کیا تھا لیکن وہ پھر بھی وہی کھڑی رہی تھی۔۔
آپ اندر آنے کو نہیں کہیں گی؟ ایرک نے بلآخر کہا۔۔
تم سکول نہیں گئے؟ امامہ نے اسکا سوال گول کیا۔
نو۔۔۔دراصل میری طبیعت خراب ہے۔۔ایرک نے نظریں ملائے بغیر کہا۔۔۔
طبیعت کو کیا ہوا۔۔وہ نہ چاہتے ہوئے بھی نرم پڑی۔۔۔
مجھے لگتا ہے مجھے کینسر ہے۔۔۔ایرک نے اطمینان سے کہا۔۔
وہ کچھ لمحے ہکا بکا رہی۔
فار گاڈ ایک۔۔جو بھی منہ میں آئے بول دیتے ہو ۔ایسے ہوتا ہے کینسر ۔
وہ اسے ڈانٹتی چلی۔گئ۔ایرک کو مایوسی ہوئ ۔اسے امامہ سے ہمدردی کی توقع تھی ۔
آپکو کیسے پتہ مجھے کینسر نہیں۔۔۔اس نے امامہ سے کہا۔۔امامہ نے خاموشی سے اسکا راستہ چھوڑا اور ایپرن کی ڈوریاں کمر کے گرد کستے ہوئے دروازہ کھلا چھوڑ کر اندر چلی گئ۔ایرک نے اندر آتے ہوئے دروازہ بند کردیا۔
امامہ کچن میں اپنے کام میں مصروف ہوگئ کاؤنٹر پر پڑے سیل فون سے کسی سورت کی تلاوت ہورہی تھی جو وہ کام کرتے ہوئے سن رہی تھی۔۔۔ایرک نے بھی وہ تلاوت سنی اسکی سمجھ میں نہ آیا کہ وہ کھڑا رہے یا بیٹھ جائے بات کرے یا نہ کرے۔۔
اس نے جبریل کو کئ بار تلاوت کرتے سنا تھا جب وہ تلاوت کرتا تھا تو کوئ اور بات نہیں کرتا تھا۔۔۔اسکی یہ مشکل امامہ نے آسان کردی اس نے سیل فون پر وہ تلاوت بند کردی۔
جبریل کی آواز ہے؟؟ اس نے پوچھا۔
ہاں۔۔۔۔
بہت پیاری ہے۔۔۔۔
امامہ اس بار مسکرائ۔۔
میں بھی سیکھنا چاہتا ہوں یہ قرآن۔ ایرک نے کہا امامہ خاموش رہی۔۔۔
میں سیکھ سکتا ہوں کیا؟
اس نے امامہ کو خاموش پاکر سوال کیا۔۔
دلچسپی ہو تو سب کچھ سیکھا جاسکتا ہے۔ اس نے اپنے جواب کو مناسب کر کے پیش کیا۔۔۔
آپ سکھا سکتی ہیں؟؟ اسکا اگلا سوال اور بھی گھما دینے والا تھا۔
نہیں، میں نہیں سکھا سکتی۔ امامہ نے دو ٹوک انداز میں کہا۔۔۔
جبریل سکھا سکتا ہے؟ اس نے متبادل حل پیش کیا۔
وہ مصروف ہے بہت اجکل۔ اسے ہائ سکول ختم کرنا ہے اس سال۔ امامہ نے جیسے بہانہ پیش کر دیا۔
میں انتظار کرسکتا ہوں۔ایرک کے پاس بھی متبادل حل تھا۔
مسز سالار آپ مجھے پسند نہیں کرتی۔۔اس کے اگلے سوال پر وہ بری طرح چونکی۔۔
سب تمہیں بہت پسند کرتے ہیں پھر میں کیوں نہیں کروں گی۔۔۔اس نے بڑے تحمل سے اسے سمجھایا۔
آپ مجھے ایڈاپٹ کر سکتی ہیں؟اگلا سوال اتنا اچانک تھا کہ وہ اسکے لیے پراٹھا بنانا بھول گئ۔

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: