Aab e Hayat Novel by Umera Ahmed Read Online – Episode 33

0

آب حیات از عمیرہ احمد – قسط نمبر 33

–**–**–

ایرک تمہاری ممی ہیں، دو بہن بھائی ہیں، تمہاری فیملی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پلیز! ایرک نے اس کی بات کاٹ کر پلیز کہہ کر جیسے اس کی منت کی۔
تمہاری ممی تم سے بہت پیار کرتی ہے ایرک!۔ وہ کبھی تمہیں کسی اور کو نہیں دیں گیاور تمہیں ان کے ہوتے ہوئے کسی اور کے پاس جانے کی ضرورت بھی نہیں۔امامہ نے انہیں سمجھانے کی کوشش کی تھی۔
ممی کے پاس ایک بوائے فرینڈ ہے، وہ جلد ہی ان سے شادی کر لیں گی۔ کیا آپ تب مجھے ایڈاپٹ کر سکتی ہیں؟ اس نے اس مسئلے کا بھی حل نکالا تھا۔
تم کیوں چاہتے ہو ہمارے پاس آنا؟ وہ پوچھے بنا نہ رہ سکی۔
کیونکہ یہ مجھے گھر لگتا ہے۔ بہت مختصر جملے میں اس بچے کا ہر نفسیاتی مسئلہ چھپا تھا۔ وہ کس تلاش میں کہاں کہاں پھر رہا تھا۔ امامہ کا دل اور پگھلا۔
تم اپنی ممی کو چھوڑ کر ہمارے پاس آنا چاہتے ہو، یہ تو اچھی بات نہیں ہے۔ امامہ نے اسے جذباتی بلیک میل کرنے کی کوشش کی۔
ممی مجھے چھوڑ دیں گی۔ میں نے آپ کو بتایا نا، ان کا ایک بوائے فرینڈ ہے۔ ایرک کے پاس اس جذباتی حربے کا جواب تھا۔
وہ شادی کر لیں، اپنے بوائے فرینڈ کے پاس رہیں۔ کچھ بھی ہو، لیکن تم ان کے بیٹے رہو گے۔ تم سے ان کی محبت کم نہیں ہو گی۔ وہ تمہیں اپنی زندگی سے نہیں نکال سکتیں۔ اس نے کیرولین کی وکالت کر کے ایرک کی مایوسی کو اور بڑھایا۔
میں عنایہ سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔ اس کے اگلے جملے نے امامہ کا دماغ گھما دیا۔ وہ اگلے کئی لمحے بول نہ سکی تھی۔
یہ بھی نہیں ہو سکتا۔ اس نے بلآخر ایرک سے کہا۔
کیوں؟ وہ بے تاب ہوا۔
تم ابھی اس طرح کی بات کرنے کے لیے بہت چھوٹے ہو۔ اسے اس سے زیادہ مناسب جواب نہیں سوجھا۔
جب میں بڑا ہو جاؤں، تب شادی کر سکتا ہوں اس سے؟
نہیں۔ اس بار اس نے صاف گوئی سے کہا۔
کیوں؟ وہ اتنی آسانی سے ہار ماننے والا نہیں تھا۔
اس سے شادی کیوں کرنا چاہتے ہو تم؟ وہ پوچھے بنا نہ رہ سکی۔
کیونکہ میں اسے پسند کرتا ہوں۔
لیکن ہو سکتا ہے، وہ تمہیں پسند نہ کرتی ہو، اتنا کہ تم سے شادی پر تیار ہو جائے۔ ایرک کے چہرے کا رنگ اڑ گیا۔
کیا اس نے آپ سے ایسا کہا؟ اس نے ایک بچگانہ سوال کیا۔
نہیں! وہ بہت چھوٹی ہے، تمہیں پسند یا ناپسند کرنے کے بارے میں ابھی سوچ بھی نہیں سکتی۔ لیکن یہ میں تم سے کہہ رہی ہوں ایرک! اس طرح کی باتیں کرنا اور سوچنا چھوڑ دو۔ ورنہ ہمارے لیے شاید تم سے ملنا جلنا ممکن نہیں رہے گا۔ ایرک اس کی خفگی سے کچھ پریشان ہوا۔
تم کیا کر سکتے ہو، عنایہ کے لیے؟ اس نے بے حد سنجیدگی سے ایرک سے پوچھا۔۔
سب کچھ۔
اسے وہی جواب ملا، جس کی توقع تھی۔
اوکے پھر سکول جاؤ، باقاعدگی سے۔ دل لگا کر پڑھو۔اپنا کوئی کیریئر بناؤ۔ عنایہ کسی ایسے لڑکے کو تو کبھی پسند نہیں کر سکتی جو سکول نہ جاتا ہو، اپنی ماں کی بات نہیں مانتا ہو، اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کی پرواہ نہ کرتا ہو۔ اور پھر جھوٹ بولتا ہو۔
ایرک کا چہرہ سرخ ہو گیا۔ امامہ نے جیسے دو سیکنڈز میں اس کی زندگی کی پہلی محبت کا تیاپانچہ کر لیا تھا۔
وہاں یک دم خاموشی چھائی تھی۔ پھر اس نے امامہ سے کہا۔
میں اپنے آپ کو ٹھیک کر لوں گا۔
یہ بہت اچھا ہو گا ایرک! لیکن اس کے ساتھ ایک وعدہ بھی کرنا ہے تم نے مجھ سے۔
کیا؟ وہ الجھا۔
جب تک تم ہائی سکول پاس کر کے یونیورسٹی میں نہیں چلے جاتے، تم عنایہ سے اس طرح کی کوئی بات نہیں کرو گے۔
میں وعدہ کرتا ہوں، میں ایسا ہی کروں گا۔
اور جب تک تم یونیورسٹی نہیں پہنچ جاتے، ہم دوبارہ اس ایشو پر بات نہیں کریں گے۔ محبت، شادی، عنایہ۔ امامہ نے جیسے ان تین چیزوں کے گرد ریڈ زون لگاتے ہوئے اس سے کہا۔
امامہ کا خیال تھا کہ اس نے حفاظتی بند باندھ دیا تھا۔ تھوڑے عرصے تک وہ بھول جائے گا۔ اسے اندازہ نہیں تھا کہ ایرک ایک عام امریکن بچہ نہیں تھا۔
**************
احسن سعد کا باپ اس بات پر ہمیشہ فخر کرتا تھا کہ اس کا بیٹا آج کے زمانے میں پاکستان کے بہترین انگلش میڈیم اور کو ایجوکیشن میں پڑھنے کے باوجود ایک سچا اور پکا مسلمان تھا۔ داڑھی رکھتا تھا، پانچ وقت کی نماز مسجد میں پڑھتا تھا، حج اور عمرے کی سعادت حاصل کر چکا تھا۔ لڑکیوں سے کوسوں دور بھاگتا تھا۔ باعمل ہونے کے ساتھ پوزیشن ہولڈر بھی تھا۔ سعد اور اس کی بیوی اس پر جتنا فخر کرتے کم تھا۔ اور یہ فخر وہ برملا لوگوں تک پہنچاتے تھے۔ ان کا گھر ان کے سوشل سرکل میں ایک آئیڈیل گھر سمجھا جاتا تھا۔ لیکن یہ صرف اس کی ماں کا خاندان تھا جو اس آئیڈیل گھر کی کھوکھلی بنیادوں سے واقف تھا اور احسن سعد کے باپ کو پسند نہیں کرتا تھا۔
سعد نے ایک امیر اور اچھے خاندان میں شادی کی تھی۔ لیکن اس کے بعد اپنی بیوی کو اس نے ایک اچھی اور مسلمان عورت بنانے کے لیے جو کچھ کیا تھا وہ اس کے خاندان سے پوشیدہ نہیں تھا۔ اگر شادی کے پہلے سال ہی احسن پیدا نہ ہوا ہوتا تو اس کی بیوی کے ماں باپ کب کی اس کی علیحدگی کروا چکے ہوتے۔ سعد اپنی بیوی کو ایک باحجاب، فرمانبردار، دین سے قریب اور دنیا سے دور رہنے والی بیوی بنانا چاہتا تھا۔ جس کے لیے وہ مذہب کا نام استعمال کرتا تھا۔ سعد میں اس کے علاوہ کوئی خرابی نہیں تھی کہ وہ اپنی بیوی کو اس سانچے میں ڈھالنے کے لیے ہر حربہ استعمال کرتا تھا۔ گالم گلوچ سے لے کر مار کٹائی تک اور ماں باپ کے گھر جانے پر پابندی لگانے سے گھر میں قید کرنے تک۔ اس کی بیوی کے میکے والوں کے پاس ہزار دلیلوں کے باوجود سعد کے قرآن و حدیث اور مذہبی حوالوں کا جواب نہیں تھا۔ اگر ان کے پاس دین کا علم ہوتا تو وہ سعد کے قرآن و حدیث کے حوالوں کا سیاق و سباق بھی انہیں بتا دیتے۔
وقت بدلنے کے ساتھ سعد نہیں بدلا تھا۔ بلکہ اس کی بیوی بدلتی چلی گئی۔ اس نے ذہنی طور پہ یہ مان لیا تھا کہ وہ واقعی اسلام سے دور تھی اور دین کی تعلیمات وہی تھی جو سعد اس کے کانوں میں ڈالتا تھا۔ اور اسے ویسا کرنا تھا، جیسے اس کا شوہر کہتا۔ایک اسٹیج آ گیا کہ دونوں میاں بیوی سوچ کے حساب سے ایک جیسے ہو گئے۔ اس کی بیوی بھی اب سعد کی طرح لوگوں پر فتوے نافذ کرنے لگی تھی۔اس کا خیال تھا کہ جو خلاف اسلام کام وہ روک سکتے ہیں، روک دیں اور جسے برا کہہ سکتے ہیں، اسے برا نہ کہیں بلکہ سب کے سامنے اس طرح مطعون کریں کہ اگلا شرم سے پانی پانی ہو جائے۔ اسلام میں حکم کے علاوہ حکمت نام کی بھی ایک چیز ہے جس سے وہ نا واقف تھے۔
احسن سعد نے ایک ایسے گھر میں پرورش پائی تھی جہاں پر اس کے ماں باپ نے اسے لوگوں کو اسی کسوٹی پر پرکھنا سکھایا، جس پر وہ پرکھا کرتے تھے۔اس نے ماں باپ کے درمیان بچپن میں ہی ہر قسم کے جھگڑے دیکھے تھے اور اس نے سیکھا تھا کہ شوہر اور بیوی کا تعلق ایسا ہی ہونا چاہیئے۔ حاکم اور محکوم، برتر اور کمتر کا۔ عزت اور احترام پیار و محبت کا نہیں۔
احسن سعد کو کچھ چیزوں سے شدید نفرت تھی۔ جن میں ماڈرن عورت اور امریکہ سر فہرست تھے۔احسن کی فیملی کی سب سے خوفناک بات یہ تھی کہ اس گھر میں رہنے والا ہر فرد خود کو پرفیکٹ سمجھتا تھا۔ انہیں احساس تک نہیں تھا کہ ان میں بہت سارے نقائص بھی ہیں۔
احسن بھی اپنے آپ کو کامل سمجھتا تھا۔ سب برائیوں سے مبرّا اور سب اچھائیوں کا منبع۔ احسن نے اپنے باپ سعد سے بہت سی چیزیں وراثت میں پائی۔شکل و صورت، ذہانت، مزاج اور عادات۔ لیکن جو سب سے بری چیز احسن نے اپنے باپ سے لی تھی، وہ منافقت تھی۔ اسے ماڈرن عورت اور امریکہ سے نفرت بھی تھی اور وہ ایک ماڈرن عورت سے شادی بھی کرنا چاہتا تھا۔ جس کے پاس امریکن شہریت بھی ہو۔ اور وہ امریکہ میں اعلی تعلیم بھی حاصل کرنا چاہتا تھا۔ اس کا باپ ٹھیک کہتا تھا، وہ جو مانگتا اسے مل جاتا۔ اسے یہ دونوں چیزیں بھی ملنے والی تھی۔ اس کی خوش قسمتی ایک اور خاندان کی بدقسمتی میں بدلنے والی تھی۔
****************
تمہیں پتا ہے JB! لڑکیاں تمہیں ہاٹ سمجھتی ہیں۔
ڈنر ٹیبل پر ایک دم خاموشی چھا گئی۔ وہ ایسا ہی غیر متوقع جملہ تھا جو حمین نے پاستا کھاتے ہوئے بڑے بھائی کے گوش گزار کر دیا تھا۔
امامہ، سالار، عنایہ اور رئیسہ نے بیک وقت حمین کو دیکھا پھر جبریل کو، جو سرخ ہوا تھا۔ وہ شرمندگی نہیں غصہ تھا، جو اکثر اسے حمین کے بے لاگ تبصروں پہ آجاتا تھا۔
مجھے بھی کول کہتی ہیں، لیکن تمہیں تو ہاٹ سمجھتی ہیں۔ کس قدر افسوس کی بات ہے نا!۔
اس نے ماں باپ کی نظروں کی پرواہ کی، نا ہی جبریل کے سرخ ہوتے چہرے کی۔
Will you please shut up…..
جبریل نے اس دفعہ کچھ سخت لہجے میں اسے روکا۔
حمین۔۔۔۔۔۔۔۔۔! امامہ نے بھی اسے تنبیہہ کی۔
میں غلط نہیں کہہ رہا ممی۔ میری جاننے والی ہر لڑکی کا جبریل پر کرش ہے۔ حمین نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا۔
جبریل نے اس بار ہاتھ میں پکڑا ہوا کانٹا پلیٹ میں رکھ دیا۔ یہ جیسے اس کے صبر کے پیمانہ کے لبریز ہونے کی نشانی تھی۔
یہاں تک کہ میری گرل فرینڈز بھی۔
فرینڈز!۔ سالار نے اسے ٹوکا۔
جو بھی ہو۔ اس نے بات اسی انداز میں جاری رکھی۔مین یو آر سو لکی۔
امامہ اپنی بے انتہا کوشش کے باوجود اپنی ہنسی پہ قابو نہ پا سکی۔ اسے حمین کی گفتگو سے زیادہ جبریل کے رد عمل پہ ہنسی آ رہی تھی۔ جس کی کانوں کی لوؤیں تک سرخ ہو گئی تھی۔ وہ ماں کے ہنسنے پر کچھ اور جزبز ہوا۔
تو تمہارا کیا خیال ہے، کون سی چیز اسے لڑکیوں میں پاپولر کرتی ہے؟ سالار نے صورت حال کو سنبھالنے کی کوشش کی۔
اس کی بہت سی ریزن ہیں۔ لڑکیاں ان لڑکوں کو پسند نہیں کرتی جو بہت بولتے ہو، اور جے بی بالکل بات نہیں کرتا۔
اور۔۔۔۔۔۔۔۔!
سالار نے اسے آگے بولنے کی ترغیب دی۔
اور لڑکیوں کو وہ لڑکے اچھے لگتے ہیں جو ان کی کبھی نہ ختم ہونے والی باتیں سن سکتے ہو۔ اور جے بی سب کی باتیں سنتا ہے۔ خواہ وہ کتنی ہی احمق ہو۔
اس بار سالار کو بھی ہنسی آئی۔ جو اس نے گلا صاف کر کے چھپائی۔
بلآخر جبریل نے اسے ٹوکا۔ تمہیں پتا ہے حمین! لڑکیاں ان لڑکوں کو پسند کرتی ہے، جو ایڈیٹ نہیں ہوتے۔ اس کا اشارہ حمین کی سمجھ میں آ گیا تھا۔
ہاں! یہ اسی صورت ممکن ہے، اگر لڑکیاں خود احمق نہ ہو۔
بابا!
اس بار عنایہ نے سالار کو پکارا۔ اور اس نے حمین کے تبصرے پر احتجاج کیا تھا۔
تم ان دونوں لڑکیوں کے بارے میں کیا کہو گے؟ سالار نے پوچھا۔
تین کہیں بابا! آپ ممی کو لڑکیوں کی صف سے کیوں نکال رہے ہیں؟ حمین نے سوال کا جواب گول کیا۔ وہ اسمارٹ نہیں، سپر اسمارٹ تھا۔ ہوشیار اور موقع شناس۔
حمین بس کر دو۔ امامہ نے اس بار اپنی ہنسی پہ قابو پاتے ہوئے کہا۔
اسے سمجھ نہیں آرہا تھا وہ اسے ڈانٹے یا اس کی باتوں پہ ہنسے۔ وہ جو بھی کہہ رہا تھا، غلط نہیں تھا۔ جبریل تیرہ سال کی عمر میں بھی اپنے قد کاٹھ کی وجہ سے بڑا لگتا تھا۔ اس کی آنکھیں سالار کی آنکھیں تھیں۔ بڑی، سیاہ اور بے حد گہری۔ وہ اسی کی طرح بے حد متحمل مزاج تھا۔ اور وہ اگر لڑکیوں میں مقبول تھا تو اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ سب کے لیے ایک پہیلی تھا۔ جبریل اپنی کشش سے بے خبر تھا اور اسے اس کشش کو استعمال کرنے میں دلچسپی بھی نہیں تھی۔
لیکن دنیا میں اگر کوئی خاموشی اور متحمل مزاجی کے اس پہاڑ میں شگاف ڈال کر اسے برہم کر سکتا تھا تو وہ حمین تھا۔ جبریل کو تنگ کرنا اس کی زندگی کا دلچسپ اور پسندیدہ ترین کام تھا۔ اس نے جبریل کو ایک سال سے بھائی کہنا چھوڑ دیا تھا۔ کیونکہ اسے لگتا تھا جے بی کول ہے۔ وہ ہر چیز میں کولنیس نکالتا تھا۔
بابا! جب میں اسپیلنگ بی جیت کر آؤں گی تو میں بھی اپنے سارے کلاس فیلوز کو بلاؤں گی۔ رئیسہ نے گفتگو میں حصہ لیتے ہوئے سالار کو اپنی طرف متوجہ کیا۔
رئیسہ سالار زندگی میں کوئی بڑا کام کرنا چاہتی تھی۔ اس بات سے بے خبر کہ اس کی قسمت میں صرف بڑے کام لکھے ہیں۔
**************
بابا مجھے آپ کو حمین کے بارے میں کچھ بتانا ہے۔رئیسہ کی منمناتی آواز پر سالار بیرونی دروازے سے نکلتے نکلتے ٹھٹک گیا تھا۔ وہ اس وقت واک کے لیے نکل رہا تھا اور رئیسہ ہمیشہ کی طرح اسے دروازے تک چھوڑنے آئی تھی۔ سالار کو اچھنبا ہوا تھا۔وہ کبھی کسی کی شکایت نہیں کرتی تھی اور حمین کی شکایت کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوسکتا۔ وہ اس کی سب سے بڑی رازدان تھی۔
سالار نے کچھ غور اور حیرانی سے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا۔ کیا بتانا ہے؟
رئیسہ نے جواب دینے کی بجائے پلٹ کر لاؤنج کی طرف دیکھا، جہاں سےحمین کی آواز آ رہی تھی۔ وہ امامہ سے باتیں کر رہا تھا۔
کچھ ہے جو میں آپ کو بتانا چاہتی ہوں۔ اس نے سرگوشی نما آواز میں سالار سے کہا۔ اس بارسالار نے اس کا ہاتھ پکڑا اور دروازہ کھول کر باہر جاتے ہوئے اس سے کہا۔
آؤ! ہم واک کے لیے چلتے ہیں۔ اسے ندازہ ہو گیا تھا کہ وہ گھر کے اندر حمین کے بارے میں بات کرتے ہوئے جھجک رہی تھی۔
رئیسہ چپ چاپ اس کے ساتھ باہر نکل آئی تھی۔
تو حمین کے بارے میں تم کیا بتانا چاہتی ہو؟ پانچ، دس منٹ کی واک اور ہلکی پھلکی گپ شپ کے بعد اس نے رئیسہ سے پوچھا۔
رئیسہ نے فوری طور پہ کچھ جواب نہیں دیا۔ وہ سوچ میں پڑ گئی۔
آئی ایم ناٹ شیور! اس نے کہا۔ کچھ ہے، جو میں آپ کو بتانا چاہتی ہوں۔ لیکن مجھے یہ نہیں پتا کہ مجھے بتانا چاہیے یا نہیں۔ وہ ہمیشہ اسی طرح بات کرتی تھی۔ ہر لفظ بولنے سے پہلے دس دفعہ تول کر۔
تم مجھ پر ٹرسٹ کر سکتی ہو۔ سالار نے جیسے اسی تسلی دی۔
مجھے آپ پر ٹرسٹ ہے، لیکن میں حمین کو بھی ہرٹ نہیں کرنا چاہتی۔ یہ اس کا سیکرٹ ہے اور یہ اچھی بات نہیں کہ میں اس کا سیکرٹ کسی کو بتاؤں۔ شاید مجھے نہیں بتانا چاہیے۔ میں پوری طرح شیور نہیں، میں ابھی سوچ رہی ہوں۔
ایسی کیا بات ہے رئیسہ! سالار نے نرم آواز میں اسے کریدا۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ حمین کے بارے میں جو بھی بات ہے، وہ ایک سیکرٹ رہے گی۔ اس نے رئیسہ سے کہا۔ مگر وہ متاثر نہیں ہوئ۔
بابا! آپ حمین سے بہت خفا ہو جائیں گے اور میں یہ نہیں چاہتی۔ اس بار رئیسہ نے اپنے خدشات کا اظہار کھل کر کیا۔ سالار کی چھٹی حس نے اسے سگنل دینا شروع کیے۔
رئیسہ یہ اچھی بات نہیں ہے۔ سالار نے اس بار سنجیدگی سے اسے گھرکا۔ اگر حمین نے ایسا کچھ کیا ہے، جو تمہیں لگتا ہے کہ ہمیں پتا ہونا چاہیے۔ تو تم کو ہمیں بتا دینا چاہیے۔ اس طرح کوئی بھی چیز چھپانا ٹھیک نہیں۔ رئیسہ کی یہ پردہ پوشی سالار کو اس وقت بہت بری لگی تھی۔
مجھے ایک دن دیں۔ رئیسہ نے اس کے لہجے میں جھلکتی خفگی کو محسوس کرتے ہوئے کہا۔ میں آپ کو کل بتا دوں گی۔
وہ بے اختیار گہرا سانس لے کر رہ گیا۔ انہوں نے اپنے بچوں کی پرورش زور زبردستی سے نہیں کی تھی۔
ٹھیک ہے، ایک دن اور سوچ لو اور پھر مجھے بتا دو۔اس نے بات ختم کر دی۔
لیکن رئیسہ کے انکشاف سے پہلے ہی سکول سے امامہ کو کال آ گئی تھی۔ اگلے دن سکول میں انہیں حمین کے بارے میں جو بتایا گیا، اس نے کچھ دیر کے لیے اس کے ہوش و حواس اڑا دیے۔ وہ جونیئر ونگ میں بزنس کر رہا تھا اور ایسی ہی ایک بزنس ڈیل کے نتیجے میں ایک بچہ اپنا ایک بے حد مہنگا گیم گنوانے کے بعد اپنے ماں باپ کو اس لین دین کی تفصیلات سے آگاہ کر بیٹھا تھا اور اس کا پتا اس کے والدین کی شکایت سے چلا تھا۔ جس کے نتیجے میں سکول نے تحقیقات کی تھی اور حمین سکندر کو پہلا وارننگ لیٹر ایشو ہوا تھا۔ سالار کا دماغ واقعی گھوم کر رہ گیا تھا۔
اس بزنس کے آغاز کو بہت وقت نہیں گزرا تھا۔ بزنس کا آغاز اتفاقی تھا۔ اس کی کلاس میں اس کا ایک کلاس فیلو ایسے جوگرز لے کر آیا تھا۔، جنہیں دیکھ کر حمین سکندر مچل گیا تھا۔ امامہ نے ان برانڈڈ سنیکرز کی خواہش کو رد کر دیا تھا۔ کیونکہ۔چند ہفتے پہلے حمین نے نئے سنیکرز لیے تھے۔ حمین سکندر ہر روز اسپورٹس آورز میں اپنے اس کلاس فیلو کے سنیکرز دیکھتا اور انہیں حاصل کرنے کے طریقے سوچتا۔ اس نے ان سنیکرز کو بارٹر ٹریڈ کے ذریعے حاصل کرنے کی کوششوں کا آغاز کر دیا۔
کوئی ایسی چیز، جس کے بدلے میں وہ کلاس فیلو ان سنیکرز کو حمین کو دے دیتا۔ اس کا وہ کلاس فیلو حمین کے اتنے ڈائریکٹ سوال پر کچھ گڑبڑا گیا۔ اس نے کچھ تامل کے بعد حمین کو یہ بتایا تھا کہ وہ ایک اور کلاس فیلو کی گھڑی کو پسند کرتا تھا اور اگر اسے وہ مل جائے تو اس کے بدلے وہ سنیکرز دے سکتا ہے۔ جس کلاس فیلو کی گھڑی اس نے مانگی تھی، اسے ایک اور کلاس فیلو کی سائیکل میں دلچسپی تھی اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور سائیکل والے کو ایک اور کلاس فیلو کے بیگ میں۔
یہ سلسلہ چلتے چلتے حمین سکندر کے پاس موجود ایک کی بورڈ تک آ گیا تھا، جو وہ کبھی کبھار سکول لے جا کر بجاتا تھا۔ اور حمین نے فوری طور پر اس کی بورڈ کے بدلے وہ سنیکرز حاصل کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا اور پھر دوسرے ہی دن اس کو عملی جامہ پہنا دیا۔
بزنس کا پہلا اصول مؤثر اسٹریٹیجی اور دوسرا وقت پہ درست استعمال۔ سالار سکندر کے منہ سے دن رات سننے والے الفاظ کو اس کے نو سالہ بیٹے نے کس مہارت سے استعمال کیا تھا۔ اگر سالار دیکھ لیتا تو عش عش کر اٹھتا۔
حمین سکندر کی کلاس کے بارہ افراد نے اگلے دن سکول گراؤنڈ میں اپنی پسندیدہ ترین چیز کے حصول کے لیے اپنی کم فیورٹ چیز کا تبادلہ کیا تھا اور تبادلے کی اس چین کے ذریعے حمین سکندر وہ سنیکرز حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا تھا۔
کلائنٹس کا اطمینان، کاروبار کا تیسرا اصول ہے اور نو سال کی عمر میں سالار سکندر کے اس بیٹے نے یہ تینوں چیزیں مدنظر رکھی تھی۔ وہ اس وقت گیارہ مسرور کسٹمرز کے درمیان راجہ اندر بنا تھا۔ جو اس کا شکریہ ادا کرتے نہیں تھک رہے تھے۔
اور اگر ان میں سے کسی نے اپنی کوئی چیز واپس مانگ لی تو؟ رئیسہ نے اس کے سامنے اپنے خدشے کا اظہار کر دیا۔
ایسا تو ہو ہی نہیں سکتا۔ حمین نے پر اعتماد انداز میں کہا۔
کیوں؟ حمین نے اس کے کیوں کے جواب میں اپنی جیب سے ایک کانٹریکٹ نکال کر اسے دکھایا۔ جس پر حمین سمیت بارہ لوگوں کے سائن تھے اور اس کانٹریکٹ پر اس لین دین کے حوالے سے شرائط و ضوابط درج تھے۔ جس میں ایک شرط یہ بھی تھی کہ ایک دفعہ چیزوں کا تبادلہ ہونے کے بعد واپس نہیں ہو سکتی تھی۔
اگر ممی، بابا نے تمہارے سنیکرز دیکھ لیے تو؟ حمین نے اس کے سوال پہ سر کھجاتے ہوئے کہا، اب یہی ایک الجھن ہے۔ میں ان کے سامنے یہ نہیں پہنوں گا، ہم انہیں بتائیں گے ہی نہیں۔
کیوں؟ رئیسہ اب بھی مطمئن نہیں تھی۔
پیرنٹس بہت سی باتیں نہیں سمجھتے۔ حمین نے جیسے کسی بزرگ کی طرح فلسفہ جھاڑا۔ اس بزنس ڈیل کے ایک ہفتہ بعد ان گیارہ لوگوں میں سے ایک اور لڑکا اس کے پاس آن موجود ہوا تھا۔ اس بار اسے کلاس کے ہی ایک لڑکے کے گلاسز چاہیے تھے اور وہ حمین کے ذریعے یہ ڈیل کرنا چاہتا تھا اور اس کے لیے وہ حمین کو پانچ ڈالرز دینے پر تیار تھا۔ وہ رقم بڑی نہیں تھی، لیکن حمین اس ترغیب کے سامنے ٹہر نہ سکا۔ ایک بار پھر اس نے ایک پوری بارٹر چین کے ذریعے وہ برانڈڈ سن گلاسز اپنے کلائنٹ کو ڈیلیور کر دیے تھے اور پانچ ڈالرز کما لیے تھے۔ یہ اس کی زندگی کی پہلی کمائی تھی اور رئیسہ کو اس کا بھی پتا تھا۔۔ وہ اس بار بھی خوش نہیں تھی۔ یہ بزنس اس کی کلاس سے نکل کر اسکول میں پھیل گیا تھا۔اسکول میں چند مہینوں میں سب کو یہ پتا تھا کہ اگر کسی کو سکول میں کسی دوسرے بچے کی کوئی چیز پسند آ جائے تو اس کے حصول کے لیے حمین سکندر واحد نام تھا، جس کی خدمات وہ حاصل کر سکتے تھے۔ حمین کو خود بھی اندازہ نہیں تھا کہ وہ کیا کرنے جا رہا۔ تین ماہ کے اس عرصے میں حمین نے اس بزنس سے 175 ڈالرز کمائے تھے اور رئیسہ اس کے ہر لین دین سے واقف تھی۔
حمین کے پاس اب بہت سے پیسے تھے، جو اس نے ممی بابا سے نہیں لیے تھے۔
سالار اور امامہ نے اسکول میں حمین سے زیادہ بات چیت نہیں کی تھی۔ سالار نے اس سے کہا تھا وہ اس مسئلے پر گھر میں بات کریں گے اور پھر وہ چلے گئے۔ لیکن حمین پریشان ہو گیا تھا۔
چھٹی کے وقت حمین نے رئیسہ کو اس صورت حال سے آگاہ کر دیا تھا جو اسے پیش آئی تھی۔ وہ بے حد پریشان ہو گئی تھی۔
وارننگ لیٹر؟ اسے یقین نہیں آیا تھا کہ حمین کے ساتھ ایسا ہو سکتا ہے۔ میں نے تمہیں کتنی بار منع کیا تھا لیکن تم نے بات نہیں مانی۔
مجھے توقع نہیں تھی کہ ایسا ہو جائے گا۔ وہ دونوں سکول بس میں سوار ہونے کی بجائے اب اس مسئلے کو ڈسکس کرنے میں مصروف تھے۔
بابا اور ممی بہت خفا ہوئے ہوں گے؟ رئیسہ نے اس سے پوچھا۔ تمہیں بہت ڈانٹا کیا؟
نہیں! یہاں تو نہیں ڈانٹا لیکن گھر جا کر ڈانٹیں گے۔ بابا نے کہا تھا، انہیں مجھ سے ضروری باتیں کرنی ہے گھر جا کر۔ حمین کچھ فکرمند انداز میں کہہ رہا تھا۔
وہ تمہیں سکول سے نکال دیں گے کیا؟ رئیسہ کو تشویش ہوئی۔
نہیں، ایسا تو نہیں ہو گا۔ بابا نے معذرت کی ان سے۔اور وہ مان بھی گئے۔ حمین نے اسے بتایا۔
کتنی بری بات ہے۔ رئیسہ کو اور افسوس ہوا۔ بابا کو کتنا برا لگا ہو گا۔ وہ بہت شرمندہ ہو گئے ہوں گے۔ اور ممی بھی ہو رہی ہوں گی۔
مجھے پتہ ہے۔ حمین کچھ خجل تھا۔
تمہیں یہ نہیں کرنا چاہیئے تھا حمین۔
جبریل اور عنایہ کو اس حوالے سے کچھ نہیں بتانا۔سالار نے امامہ کو گھر ڈراپ کرتے ہوئے اس سے کہا تھا۔
اس دن سکول سے واپسی پر حمین جتنا سنجیدہ تھا امامہ اس سے بھی زیادہ سنجیدہ تھی۔ ہر روز کی طرح پرجوش سلام کا جواب سلام سے ملا تھا، نہ ہی ہمیشہ کی طرح وہ اس سے جا کر لپٹا تھا۔ اور نہ ہی امامہ نے ایسی کوشش کی تھی۔ اور یہ سرد مہری کا مظاہرہ صرف حمین کے ساتھ نہیں بلکہ رئیسہ کے ساتھ بھی ہوا تھا۔
*************
رات کے کھانے سے فارغ ہو کر سالار نے باقی بچوں کے اپنے کمرے میں جانے کے بعد حمین اور رئیسہ کو وہاں روک لیا تھا، وہ دونوں سالار کے سامنے صوفے پر بیٹھے نظریں جھکائے اپنے ہاتھوں کو دیکھ رہے تھے۔
تمہیں یہ سب پتا تھا نا رئیسہ؟ سالار نے رئیسہ کو مخاطب کیا۔
اس نے سر اٹھایا اور پھر کچھ شرمندہ انداز میں سر ہلاتے ہوئے کہا۔ یس بابا۔!
اور تم حمین کے بارے میں مجھے یہی بتانا چاہتی تھی؟
اس سوال پر اس بار چونک کر حمین نے رئیسہ کو دیکھا۔ جس نے ایک بار پھر سر ہلایا۔
تم نے مجھے بہت مایوس کیا۔ سالار نے جواباً رئیسہ سے کہا۔
بابا آئی ایم سوری! رئیسہ نے روہانسی ہو کر کہا۔
یہ قابل معافی نہیں۔ انہوں نے جواباً کہا۔
بابا اس میں رئیسہ کا کوئی قصور نہیں۔ حمین نے اس کی حمایت کرنے کی کوشش کی۔ سالار نے اسے ترشی سے جھڑک دیا۔
شٹ اپ! حمین اور رئیسہ دونوں گم صم ہو گئے۔انہوں نے سالار کے منہ سے اس طرح کے الفاظ اور اس انداز میں ان کا اظہار پہلی بار دیکھا تھا۔
تم اب یہاں سے جاؤ۔ سالار نے رئیسہ سے کہا۔ جس کی آنکھیں اب آنسوؤں سے بھر رہی تھی اور سالار کو اندازہ تھا وہ چند لمحوں میں رونا شروع کر دیے گی اور وہ فی الحال وہاں بیٹھ کر اسے بہلانا نہیں چاہتا تھا۔
رئیسہ چپ چاپ وہاں سے چلی گئی۔
تمہیں سکول میں بزنس کے لیے بھیجا تھا؟ سالار نے حمین سے بات چیت شروع کر دی۔
نہیں۔
پھر کس کام کے لیے بھیجا تھا؟ سالار نے اگلا سوال کیا۔
پڑھنے کے لیے۔ حمین کا سر اب بھی جھکا ہوا تھا۔
اور تم یہ پڑھ رہے تھے؟ سالار نے بے حد خفگی سے کہا۔ میں ناخوش ہوں۔ سالار نے اس سے کہا۔۔
آئی ایم سوری! جواب تڑ سے آیا تھا۔
تمہیں یہ سب کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
حمین نے بے اختیار گہرا سانس لیا۔ پھر اس نے باپ کو سنیکرز کے جوڑے کی وجہ سے اسٹارٹ کیے جانے والے اس بزنس کی تفصیلات بتانا شروع کی۔ سالار ٹوکے بغیر سنتا رہا۔ حمین نے اب کچھ بھی نہیں چھپایا۔
جب وہ خاموش ہوا تو سالار نے اس سے پوچھا۔ وہ کانٹریکٹس کہاں ہیں جو تم نے ان سب سے سائن کروائے ہیں؟
حمین وہاں سے اٹھ کر کمرے میں گیا اور کچھ دیر بعد ایک فائل لے کر آ گیا۔ سالار نے فائل کھول کر اس کے اندر موجود معاہدے کی شقوں پہ نظر ڈالی، پھر حمین سے پوچھا۔
یہ کس نے لکھی ہے؟
میں نے خود۔ اس نے جواب دیا۔
سالار اس معاہدے کو پڑھنے لگا۔ سالار متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔ سالار نے فائل بند کی، پھر اس سے پوچھا۔
اور جو رقم تم نے ان سب سے لی ہے، وہ کہاں ہے؟
میرے پاس۔ حمین نے جواب دیا۔
کچھ خرچ کی؟ سالار نے پوچھا۔
نہیں۔ اس نے کہا۔
سالار نے سر ہلایا اور فائل اسے دیتے ہوئے کہا۔ اب تم ایک لیٹر لکھو گے جس میں تم اپنے ان سب کلائنٹس سے معذرت کرو گے اور انہیں ان کی رقم اور وہ چیزیں لوٹاؤ گے، جو تمہارے پاس ہیں۔ اس کے بعد تم وہ ساری چیزیں ان سب لوگوں تک واپس پہنچاؤ گے جو تم نے ایکسچینج کی ہے۔ حمین چند لمحے ساکت رہا پھر سر ہلا دیا۔
اوکے! اور میں یہ کیسے کروں؟ اس نے سالار سے کہا۔
تم ایک بزنس مین ہو، تمہیں اگر وہ بزنس کرنا آتا تھا تو یہ بھی آنا چاہیے۔ سالار اٹھ کر کھڑا ہو گیا۔ اور پھر جب تم یہ کام ختم کر لو گے تو ہم دوبارہ بات کریں گے، تمہارے پاس ایک ہفتہ ہے۔
اسے وہاں بیٹھے بیٹھے اندازہ ہو گیا تھا کہ اس کا باپ اسے کس پریشانی میں ڈال گیا تھا۔
********************
اس بزنس کا اگلا تجربہ، حمین سکندر کی زندگی کا سب سے سبق آموز تجربہ تھا۔ وہ ایک ہفتہ کی بجائے ایک دن میں یہ کام کرنا چاہتا تھا لیکن اگلے ہی دن اسے پتا چل گیا کہ سالار نے اس کام کے لیے اسے ایک ہفتہ کیوں دیا تھا۔
حمین سکندر اگلے دن سکول میں اس بزنس کے ذریعے ہونے والے بزنس معاہدوں کو ختم کرنے میں پہلی بار اسکول کے سب سے ناپسندیدہ اسٹوڈنٹ کے درجے پر فائز ہو رہا تھا۔ کامیابی انسان کو ایک سبق سکھاتی ہے اور ناکامی دس۔ لیکن حمین سکندر نے پندرہ سیکھے۔
بابا! آئی ایم سوری۔ گاڑی سے اترتے ہوئے سالار کو دیکھ کر لپکتی ہوئی رئیسہ اس کے پاس آئی تھی۔ وہ رئیسہ کی پہلی غلطی تھی، جس پر سالار نے اسے ڈانٹا تھا اور اسے کل سے یہ بات ہضم نہیں ہو رہی تھی۔
سالار نے اپنی اس منہ بولی بیٹی کو دیکھا، جو پروانوں کی طرح اپنے ماں باپ کے گرد منڈلاتی پھرتی تھی۔
تمہیں پتا ہے، تم نے کیا غلطی کی؟ سالار نے ایک دن کی خاموشی کے بعد اس کو معاف کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔
یس! مجھے آپ کو اور ممی کو سب بتانا چاہیے تھا۔
رئیسہ نے اپنے گلاسز ٹھیک کرتے ہوئے سر جھکا کر کہا۔
اور؟ سالار نے مزید کریدا۔
اور مجھے حمین کو سپورٹ نہیں کرنا چاہیے تھا۔لیکن بابا! میں نے اس کو سپورٹ کبھی نہیں کیا۔
تم نے خاموش رہ کر اسے سپورٹ کیا۔ سالار نے کہا۔
بابا! میں نے اسے منع کیا تھا، لیکن اس نے مجھے کنوینس کر لیا تھا۔ رئیسہ نے وضاحت دی۔
اگر اس نے تمہیں کنوینس کر لیا تھا تو پھر تم مجھے کیوں بتانا چاہتی تھی؟ سالار نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیا اور کہا۔ تم کنوینس نہیں ہوئی تھی، تمہارے دل میں تھا کہ حمین ٹھیک کام نہیں کر رہا۔
رئیسہ نے سر ہلا دیا۔
یہ زیادہ بری بات تھی۔ تمہیں پتا تھا وہ ایک غلط کام کر رہا ہے لیکن تم نے اسے کرنے دیا، چھپایا۔
وہ مجھ سے ناراض ہو جاتا بابا۔ رئیسہ نے کہا۔
تو کیا ہوتا؟ سالار نے سنجیدگی سے کہا۔
میں اسے ناراض نہیں کر سکتی۔ اس نے بے بسی سے کہا۔
اس کی ناراضگی اس سے بہتر تھی، جتنی پریشانی وہ اب اٹھائے گا۔ تمہیں اندازہ ہے، سکول میں کتنی شرمندگی اٹھانی پڑے گی اسے اب۔ رئیسہ نے ایک بار پھر سر ہلا دیا۔
وہ تمہارا بھائی ہے، دوست ہے، تم اس سے بہت پیار کرتی، ہو میں جانتا ہوں۔ لیکن اگر کوئی ہمیں عزیز ہو تو اس کی غلطی ہمیں عزیز نہیں ہونی چاہیے۔ وہ سر ہلاتے سن رہی تھی اور ذہن نشین کر رہی تھی۔
سالار خاموش ہوا تو رئیسہ نے سر اٹھا کر اس سے پوچھا۔
کیا میں اب بھی آپ کو اچھی لگتی ہوں بابا؟ سالار نے اس کے گرد بازو پھیلا کر اسے سینے سے لگاتے ہوئے اس کا سر چوما۔
یس!
رئیسہ کھل اٹھی۔ وہ ایسی ہی تھی چھوٹی سی بات پر پریشان ہونے والی، چھوٹی سی بات پہ خوش ہو جانے والی۔

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: