Aab e Hayat Novel by Umera Ahmed Read Online – Episode 34

0

آب حیات از عمیرہ احمد – قسط نمبر 34

–**–**–

عنایہ نے ایرک کو کھڑکی سے دیکھا تھا اور دیکھتی رہ گئ تھی۔
عنایہ! کچن میں کام کرتی امامہ نے اسے اتنی دیر کھڑکی سے باہر جھانکتے دیکھ کر پکارا تھا۔ عنایہ اس قدر مگن تھی کہ اسے ماں کی آواز سنائی نہیں دی۔امامہ کچن ایریا سے خود بھی سٹنگ ایریا کی اس کھڑکی کے سامنے آ گئ جس سے عنایہ باہر دیکھ رہی تھی اور کھڑکی سے باہر نظر آنے والے منظر نے اسے بھی عنایہ ہی کی طرح منجمد کیا تھا۔ ایرک ایک کیکڑے کی طرح اپنے چاروں ہاتھوں اور پیروں پر چل رہا تھا۔ وہ چوپائے کی طرح نہیں چل رہا تھا۔ وہ اپنی پشت کے بل چل رہا تھا۔ اپنا پیٹ اونچا کیے، اپنے دونوں ہاتھوں کے بل اپنے اوپری دھڑ کو اٹھائے۔ اپنی ٹانگیں، گھٹنوں کے بل اٹھائے۔ وہ بڑی دقت سے چل بلکہ رینگ رہا تھا۔ لیکن رکے بغیر، بے حد اطمینان سے۔ وہ اس طرح ادھر سے ادھر جاتے ہوئے چہل قدمی میں مصروف تھا جیسے یہ اس کے چلنے کا نارمل طریقہ تھا۔ وہ جب تھک جاتا، بیٹھ کر تھوڑی دیر سانس لیتا پھر اسی طرح چلنا شروع کر دیتا۔
یہ کیا کر رہا ہے؟ عنایہ نے اب کچھ پریشان ہوکر امامہ سے پوچھا۔۔
پتا نہیں۔
کیا یہ چل نہیں سکتا؟ عنایہ کو تشویش ہوئ۔
پتا نہیں۔ امامہ اور کیا جواب دیتی۔
جبریل تم ذرا جا کر اسے اندر لے آؤ۔ جبریل اوپر والی منزل سے سیڑھی اتر رہا تھا۔ جب امامہ نے پلٹ کر اسے کہا۔
کسے؟ جبریل نے جواباً کھڑکی کےپاس آتے ہوئے کہا اور امامہ کو اس کے سوال کا جواب دینے کی ضرورت نہ پڑی۔ اس نے ایرک کو دیکھ لیا تھا۔ پھر وہ رکے بنا باہر نکل آیا۔
ہیلو! جبریل نے ایرک کے ساتھ ٹہلتے ہوئے اس سے کہا۔ اس کی سرخ ہوتی رنگت، پھولا ہوا سانس اور ماتھے پر چمکتے پسینے کے قطروں سے اسے یہ اندازہ ہوگیا تھا کہ وہ تھک چکا ہے۔ لیکن اس کے باوجود صرف لوگوں کی توجہ حاصل کیے رکھنے کے لیے خود پر ظلم کر رہا تھا۔
ہیلو! اس نے بھی جبریل کی ہیلو کا جواب اتنے ہی پرجوش لیکن تھکے ہوئے انداز میں دیا تھا۔
یہ کوئ نئ ایکسرسائز ہے؟ جبریل نے اس کے ساتھ ہلکے قدموں سے چلتے ہوئے کہا۔
نہیں۔ ایرک کا جواب آیا۔
پھر؟
میں کیکڑا ہوں۔ اور کیکڑے ایسے ہی چلتے ہیں۔ ایرک نے اس بار اس کی طرف دیکھے بنا کہا۔
اوہ آئی سی! جبریل نے بے اختیار کہا۔ اور یہ تبدیلی کب آئ؟ آخری بار جب میں نے تمہیں دیکھا تھا تو تم انسان تھے۔ جبریل اس سے یوں بات کر رہا تھا جیسے اسے اس کی بات کا یقین آگیا تھا۔
آج رات، ایرک نے پھولے ہوئے سانس کیساتھ کہا۔
اوہ! کیکڑے اکثر رک کر آرام بھی کرتے ہیں، تم نہیں کرو گے؟ جبریل نے بلآخر اسے مشورہ دینے والے انداز میں کہا۔
ایرک کے لیے جیسے تنکے کو سہارا والی بات ہوئ تھی۔ وہ ڈھے جانے والے انداز میں فٹ پاتھ پر چت لیٹے ہوئے بولا ۔
اوہ یس! میں بھول گیا تھا۔ اچھا ہوا تم نے یاد دلا دیا۔اس نے جبریل کے قدموں میں لیٹے لیٹے کہا۔
ڈونٹ مائنڈ! کیکڑے اتنی ایفرٹ کرنے کے بعد کھاتے پیتے بھی ہیں۔ جبریل نے اسے اگلی بات یاد دلائ۔
آہاں! مجھے بھی کھانے کو کچھ چاہیئے۔ ایرک کی بھوک واقعی اس کی بات سے چمکی تھی۔ اس کے بازو اور کمر اس وقت شل ہو رہے تھے۔
ہمارے گھر میں کیکڑوں کی کچھ خوراک ہے، اگر تمہیں انٹرسٹ ہو تو تم جا کے کھا سکتے ہو۔ جبریل نے کہا۔
ایرک ایکدم اسی طرح کیکڑا بنے بنے اس کے ساتھ چلنے لگا۔ جبریل رکا اور اس نے بڑی شائستگی سے اس سے کہا۔ مجھے اچھا لگے گا اگر تم کچھ دیر کے لیے دوبارہ انسان بن جاؤ۔ میری ممی اور بہن کیکڑوں سے بہت ڈرتی ہیں۔
وہ رکا، بیٹھا اور اٹھ کر کھڑا ہو گیا۔
جبریل کیساتھ گھر میں داخل ہوتے ہوئے اس نے امامہ اور عنایہ کی حیران نظریں محسوس کر لی تھی۔
ایرک تم کیا کر رہے تھے باہر؟ اس کے اندر آتے ہی عنایہ نے اس سے پوچھا تھا۔ سوہ جواباً فاتحانہ انداز میں مسکرایا۔ یوں جیسے وہ جو چاہتا تھا حاصل کر لیا ہو۔
یہ ایرک نہیں ایک کیکڑا ہے۔ جبریل نے اس کا تعارف کرایا۔ اور بہتر ہے آئندہ اسے اسی نام سے پکارا جائے۔
تم اتنے دن سے آئے کیوں نہیں؟ امامہ نے موضوع بدلنے کوشش کی۔
میں مصروف تھا۔ وہ اب اپنے بازو اور کلائیاں دبا رہا تھا۔
جبریل اور عنایہ نے نظروں کا تبادلہ کیا اور ہنسی کو روکا۔ انہیں اندازہ تھا ایک کیکڑا بن کر پندرہ بیس منٹ چہل قدمی کا نتیجہ کیا نکلنے والا ہے اب۔۔۔۔
تم بعض دفعہ بے حد احمقانہ حرکتیں کرتے ہو۔ عنایہ نے اس سے کہا۔
تم واقعی ایسا سمجھتی ہو؟ ایرک اس کے تبصرے پر کچھ مضطرب ہوا۔
ہاں بالکل۔
ایرک کے چہرے پر اب کچھ مایوسی آئ۔
اگر تم ہمارے گھر کے اندر آنا چاہتے تھے تو اس کا سیدھا راستہ دروازے پر دستک دے کر اجازت مانگنا ہے۔ کیکڑا بن کر ہمارے گھر کے سامنے پھرنا نہیں یا تم یہ چاہتے ہو کہ ہم خود تمہیں کیھنچ کھینچ کر اندر بلائیں۔ عنایہ نے کچھ خفگی سے کہا۔
ایرک کا چہرہ سرخ ہوا۔ یہ شرمندگی تھی اس بات کی کہ وہ اس کی حرکت کو سمجھ گئے تھے۔
مسز سالار مجھے پسند نہیں کرتی۔ ایرک نے اس کی بات کے جواب میں امامہ کو دیکھتے ہوئے کہا۔ امامہ اسے دیکھ کر رہ گئ۔ اسے اندازہ نہیں تھا کہ اس کے پہلی بار سمجھانے کا اثر ایرک پر یہ ہو گا۔
خیر! وہ تو ہم میں سے کوئی بھی نہیں کرتا۔ خاص طور پر میں، بٹ یو آر سٹل ویلکم۔ یہ جبریل تھا جو فریج سے سوفٹ ڈرنک نکال رہا تھا۔
میرے بھی تمہارے بارے میں ایسے ہی خیالات ہیں۔ایرک نے اسے ٹکڑا توڑ جواب دیا۔
اوہ ریئلی! جبریل اسے زچ کر رہا تھا۔
مسز سالار! میں فریج سے کوئ ڈرنک لے سکتا ہوں؟
نہیں۔ جو آخری تھا وہ میں نے لے لیا۔ لیکن تم یہ پی سکتے ہو۔ امامہ سے پہلے جبریل نے اس سے کہا اور اپنے ہاتھ میں پکڑا وہ کین جس سے اس نے ابھی دو گھونٹ لیے تھے اس کے سامنے رکھ دیا۔ اور خود اندرونی کمرے کی طرف چلا گیا۔ عنایہ لاؤنج کی صفائ میں امامہ کی مدد کر رہی تھی۔ ایرک کچھ دیر دیکھتا رہا پھر اس نے کین اٹھا کر ایک ہی سانس میں اسے ختم کر لیا۔
اگر مدد کی ضرورت ہو تو میں مدد کر سکتا ہوں۔ایرک نے انہیں آفر کی۔
تمہارے بازو اب دو دن تک کچھ اٹھانے کے قابل نہیں ہوں گے اس لیے آرام کرو۔ ہم خود ہی کرلیں گے ایرک۔ امامہ نے جواباً اس سے کہا۔
میرا نام ایرک نہیں ہے۔ ایرک نے بے حد سنجیدگی سے امامہ کو جواب دیا۔
ہاں ہاں پتا ہے تمہارا نام اب کیکڑا ہے۔ عنایہ نے ہوور چلاتے ہوئے مذاق اڑانے والے انداز میں کہا۔
میرا نام عبداللہ ہے۔۔۔امامہ اور عنایہ نے بیک وقت پہلے اسے پھر ایک دوسرے کو دیکھا۔
کیا مطلب؟ امامہ کچھ ہکا بکا سی رہ گئ۔
اب میرا نام ایرک نہیں، عبداللہ ہے۔ ایرک نے اپنا جملہ سنجیدگی سے دہرایا۔
کس نے بدلا ہے تمہارا نام؟ عنایہ بھی دنگ تھی۔
میں نے خود۔ اس نے فخریہ انداز میں کہا۔
ایرک ایک بہت خوبصورت نام تھا۔ امامہ نے اس سے کہا۔ کیوں عنایہ؟ اس نے روانی میں عنایہ سے پوچھا۔
عبداللہ زیادہ خوبصورت نام ہے ممی! عنایہ نے ماں کی تائید نہیں کی لیکن بڑے جتانے والے انداز میں بتایا کہ وہ عبداللہ سے کیا مفہوم لے رہی ہے۔
امامہ جس موضوع سے بچنا چاہتی تھی بات پھر وہی آگئ تھی۔
اس نام کا مطلب جانتے ہو؟ امامہ نے اگلا سوال کیا۔
ہاں۔ اللہ کا بندہ۔ اس نے ایک بار پھر امامہ کو لاجواب کر دیا۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ سب مجھے عبداللہ کہا کرے اب۔ اس نے اگلا مطالبہ کیا۔
اس سے کیا ہو گا؟ اس بار امامہ کے سوال پر وہ خاموش ہو گیا۔ واقعی اس سے کیا ہو سکتا تھا۔
وہ کچھ دیر ایسے ہی کھڑا رہا پھر کچھ کہے بغیر خاموشی سے دروازہ کھول کر باہر نکل گیا۔ امامہ کو عجیب قلق ہوا۔
عبداللہ برا نہیں ہے۔ وہ عنایہ کی آواز پر کرنٹ کھا کر پلٹی تھی۔
عنایہ! وہ ایرک ہے۔ صرف نام بدل لینے سے وہ عبداللہ نہیں ہو سکتا بیٹا۔ امامہ نے کہنا ضروری سمجھا تھا۔ عنایہ خاموش رہی تھی۔
————————–
سالار نے اس فائل میں لگے کاغذات کو باری باری دیکھا، آخری کاغذ فائل میں رکھنے کے بعد اس نے اپنے سامنے بیٹھے حمین کو دیکھا۔ فائل بند کی اور اسے واپس تھما دی۔
تو اس سارے تجربے سے تم نے کیا سیکھا؟
بہت سی باتیں۔ حمین نے گہرا سانس لیکر کہا۔ سالار نے اپنی ہنسی چھپائ۔
صرف دو باتیں بتا دو۔
بچے اچھے کلائنٹس نہیں ہوتے۔ اس نے بے ساختہ کہا۔
اور؟ سالار نے پوچھا۔
بزنس آسان نہیں ہے۔ اس نے سالار سے کہا۔
درست۔ سالار نے اس کی تائید کی۔ پھر اس سے کہا۔ہر وہ چیز جو اچھی لگے اور دوسروں کی ملکیت ہو ہماری زندگی کا مقصد نہیں ہو سکتی۔ ہماری پسندیدہ چیز وہی ہونی چاہیئے جو کہ ہمارے پاس ہے، کسی دوسرے کی چیز چھیننے کا حق ہمیں نہیں۔
تمہیں پتا ہے، انسان کے پاس سب سے طاقتور چیز کیا ہے؟ اس نے حمین سے پوچھا۔
کیا؟ حمین نے کہا۔
عقل۔ اگر اس کا درست استعمال آتا ہو۔ اور تمہیں پتا ہے، انسان کے پاس سب سے خطرناک چیز کیا ہے؟
کیا؟ حمین نے پھر اسی انداز میں کہا۔
عقل۔ اگر اس کا درست استعمال نہ آتا ہو تو یہ صرف دوسروں کو نہیں خود آپ کو بھی تباہ کر سکتی ہے۔
حمین جانتا تھا سالار کس کی عقل کی بات کر رہا تھا۔ وہ اس کی ہی بات کر رہا تھا۔۔
وہ دنیا کے دو ذہین ترین دماغ تھے۔ صرف باپ بیٹا نہیں۔ پینتالیس سال کی عمر میں وہ ایک سود سے پاک اسلامی مالیاتی نظام کا ڈھانچہ کھڑا کر چکا تھا۔ وہ رسک لیتا تھا، چیلنج قبول کرتا تھا، نئے راستے ڈھونڈنا اور بنانا جانتا تھا۔ برین ٹیومر سے لڑتے ہوئے بھی وہ اپنی زندگی کے ایک، ایک دن کو بامقصد گزار رہا تھا۔ ایک دنیا اس کے نام سے واقف تھی۔ ایک دنیا اسے مانتی تھی، وہ جس فورم پہ کھڑا ہو کر بات کرتا تھا فنانس کی دنیا کے گرو اس کو خاموشی اور توجہ سے سنتے تھے۔ وہ فنانس کی دنیا میں لیجنڈری کی حیثیت اختیار کر چکا تھا۔
اس سارے تجربے نے حمین سکندر کو پہلی بار سنجیدہ کیا تھا۔ اس نے اس رات ایک بات اپنے باپ کو نہیں بتائی تھی اور وہ یہ تھی کہ اسے زندگی میں بزنس ہی کرنا تھا اپنے باپ سے زیادہ بڑا اور کامیاب بننا تھا۔ اسے دنیا کا امیر ترین آدمی بننا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ممی میں قرآن پاک پڑھنا چاہتا ہوں۔ ڈنر ٹیبل پر اس رات ایرک اپنی فیملی کے ساتھ کئ دنوں بعد ساتھ بیٹھا تھا۔ کیرولین کا بوائے فرینڈ بھی وہی تھا۔
وہ کیا ہے؟ ایک لمحہ کو کیرولین کی سمجھ میں نہ آیا۔ کہ وہ کس چیز کے پڑھنے کی خواہش کا اظہار کر رہا ہے۔
مسلمز کی ہولی بک۔ جو عنایہ کی فیملی پڑھتی ہے۔اس نے ماں کو وضاحت دی۔
کیرولین کے پارٹنر رالف نے کھانا کھاتے کھاتے رک کر ان دونوں کو دیکھا۔
تم ٹرانسلیشن پڑھنا چاہتے ہو؟ کیرولین نے کہا۔
نہیں میں عربی پڑھنا چاہتا ہوں۔ جیسے وہ پڑھتے ہیں۔ وہ سنجیدہ تھا۔
لیکن تمہیں عربی نہیں آتی۔ کیرولین بھی اب سنجیدہ تھی۔
ہاں! لیکن جبریل مجھے سکھا دے گا۔ اس نے ماں سے کہا۔
اس کی ضرورت کیا ہے؟ کیرولین کو خاموش دیکھ کر رالف بولے بغیر نہ رہ سکا۔ یہ مسلمانوں کی ہولی بک ہے تمہیں اس کو پڑھنے کے لیے ایک نئ زبان سیکھنے کی ضرورت نہیں۔ تم اس کی ٹرانسلیشن پڑھ سکتے ہو اگر تمہیں ایک کتاب کے طور پر اسے پڑھنے میں دلچسپی ہے تو۔ اس نے رالف کی بات کا جواب دینے کی زحمت بھی نہیں کی۔۔
ممی! رالف کو مکمل طور پر نظرانداز کر کے اس نے سوالیہ انداز میں کیرولین کی طرف دیکھا۔
وہ ایک گہرا سانس لیکر رہ گئ۔ اس کے اور ایرک کے تعلقات آج کل جس نوعیت کے تھے اس میں یہ بڑی بات تھی کہ وہ کسی کام کے لیے اس سے اجازت مانگ رہا تھا ورنہ وہ کوئ کام کر کے بھی اسے بتانے کی زحمت نہیں کرتا تھا۔
تمہاری اسٹڈیز متاثر ہو گی ایرک۔ کیرولین کو جو واحد مسئلہ تھا اس نے اس کا ذکر کیا۔۔
وہ متاثر نہیں ہو گی۔ آئ پرامس۔ اس نے فوراً ماں کو یقین دہانی کرا دی۔
اوکے! ٹھیک ہے، لیکن اگر تمہاری اسٹڈیز متاثر ہوئی تو میں تمہیں روک دوں گی۔
ایرک کا چہرہ کھل اٹھا۔
تم کب جاؤ گے جبریل کے پاس قرآن پڑھنے؟ کیرولین نے پوچھا۔
ہفتے میں دو بار۔ ایرک نے کہا۔
ٹھیک ہے۔ وہ جیسے مطمئن ہوئ۔
آپ جبریل کی ممی کو فون کر کے بتا دیں کہ آپ نے مجھے اجازت دے دی ہے۔ ایرک نے کہا۔
ٹھیک ہے میں فون کر دوں گی۔۔ کیرولین نے کہا۔ ایرک شکریہ ادا کرتے ہوئے کھانا کھا کے اٹھ کھڑا ہوا۔
تم بے وقوفی کر رہی ہو۔ اس کے وہاں سے جاتے ہی رالف نے بے حد ناخوش انداز میں کیرولین سے کہا۔
کیسی بے وقوفی؟ وہ سمجھتے ہوئے بھی نہ سمجھی تھی۔
تمہارا بیٹا پہلے ہی تمہارے لیے درد سر بنا ہوا ہے اور تم اسے قرآن پاک اور عربی سیکھنے بھیج رہی ہو تاکہ وہ انتہا پسند ہو جائے۔ وہ بھی ایک مسلمان خاندان کے پاس۔
کیرولین ہنس پڑی تھی۔
تم اس خاندان کو جانتے نہیں ہو رالف۔۔ میں ساڑھے تین سال سے جانتی ہوں۔ نیبرز ہیں ہمارے۔ جیمز کی موت کے بعد انہوں نے ہمارا بہت خیال رکھا۔ میں مارک اور سبل کو اکثر ان لوگوں کے پاس چھوڑ کر جاتی تھی۔ وہ ایرک کو کچھ برا نہیں سکھائیں گے۔ سکھانا ہوتا تو اسے میری اجازت کے بنا بھی سکھانا شروع کر دیتے۔ مجھے کیسے پتا چلتا۔کیرولین کہہ رہی تھی۔
تم پھر بھی سوچ لو۔ میں نہیں سمجھتا کہ یہ ایک اچھا فیصلہ ہے۔ ایک ڈسٹربڈ بچے کو قرآن پڑھانا۔ وہ اگر مسلمانوں کی طرح تشدد پسند ہو گیا تو؟ رالف کے اپنے خدشات تھے۔
ایرک اس اجازت کے اگلے ہی دن دوبارہ امامہ اور سالار کے گھر پہنچ گیا جبریل کے پاس قرآن پاک کا آغاز کرنے۔
وہ ایک دن پہلے بھی اسی طرح جبریل کے پاس گیا تھا۔ وہ اس وقت قرآن کی تلاوت کر رہا تھا۔ ایرک اس کے پاس جا کر بیٹھ گیا تھا اور پھر اس کے پاس اتنی دیر تک بیٹھا رہا کہ جبریل کو بلآخر تلاوت ختم کر کے اس سے پوچھنا پڑا تھا کہ وہ وہاں کسی کام سے تو نہیں آیا تھا؟
میں بھی ایسے قرآن پاک پڑھنا اور سیکھنا چاہتا ہوں جیسے تم پڑھ رہے ہو۔ اس نے جبریل کو جواب دیا۔ وہ اس کی شکل دیکھ کر رہ گیا۔
میری تو یہ مذہبی کتاب ہے اس لیے پڑھ رہا ہوں میں، تم پڑھ کر کیا کرو گے؟ اس نے ایرک کو سمجھانے کی کوشش کی۔
مجھے دلچسپی ہے، جاننے میں اور مجھے اچھا لگتا ہے جب تم تلاوت کرتے ہو۔ ایرک نے جواباً کہا۔ تم انٹرنیٹ پر ٹرانسلیشن پڑھ سکتے ہو یا میں تمہیں دے دوں گا ایک انگلش ٹرانسلیشن۔ اور تمہیں تلاوت اچھی لگتی ہے تو تم وہ بھی وہاں سے ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہو۔ تمہیں اس کے لیے قرآن پاک کی تلاوت سیکھنے کی ضرورت نہیں۔ جبریل نے نرمی سے اسے جیسے راستہ دکھایا تھا۔
لیکن میں ٹرانسلیشن نہیں پڑھنا چاہتا اور میں تلاوت سننا نہیں خود کرنا چاہتا ہوں۔ جیسے تم کرتے ہو۔
ایرک اب بھی مصر تھا۔
یہ بہت لمبا کام ہے ایرک، ایک دن میں نہیں ہو سکتا۔ جبریل نے اسے ٹالنے کی کوشش کی، وہ نہ ٹلا۔
کتنا لمبا کام ہے؟ ایرک نے پوچھا۔
تمہیں تو کئ سال لگ جائیں گے۔
اوہ! تو کوئ مسئلہ نہیں، میرے پاس بہت وقت ہے۔ ایرک نے مطمئن ہو کر کہا۔
جبریل عجب مشکل میں پڑ گیا تھا۔
تم سب سے پہلے اپنی ممی سے پوچھو۔ جبریل نے بلآخر کہا۔
ممی کو کوئ ایشو نہیں ہو گا، مجھے پتا ہے۔ اس نے جبریل کو یقین دلانے کی کوشش کی۔
اگر انہیں کوئ ایشو نہیں ہو گا تو انہیں یہ بات ممی سے یا مجھ سے کہنی ہو گی۔ جبریل اس کی یقین دہانی سے متاثر ہوئے بغیر بولا۔
میں اپنے لیے کچھ بھی فیصلہ کر سکتا ہوں۔ مجھے ہر کام ممی سے پوچھنے کی ضرورت نہیں۔ ایرک نے اس سے کہا۔
تم ابھی چھوٹے ہو ایرک اور زیادہ سمجھدار بھی نہیں ہو۔ جب تک تم اٹھارہ سال کے نہیں ہو جاتے۔تمہیں اپنا ہر کام ممی سے پوچھ کر کرنا چاہیئے اور یہ کوئ بری بات نہیں۔جبریل نے اسے سمجھایا تھا۔
بلآخر ایرک نے ہار مان لی۔ اور اگلے دن ماں کی اجازت کیساتھ آنے کا کہا۔
————————
امامہ کے لیے کیرولین کی فون کال ایک سرپرائز تھی۔ اس نے بڑے خوشگوار انداز میں اس سے بات چیت کرتے ہوئے امامہ کو اس اجازت کے بارے میں بتایا تھا جو اس نے ایرک کو دی تھی اور امامہ حیران رہ گئ۔
اسے ایرک اور جبریل کے درمیان ہونے والی گفتگو کا علم نہیں تھا۔
ممی! مجھے یقین تھا نہ وہ اپنی ممی سے بات کرے گا، نہ ہی وہ اسے اجازت دیں گی۔ جبریل نے ماں کے استفسار پر اسے بتایا۔
لیکن اب اس کی ممی نے مجھے کال کر کے کہا ہے کہ انہیں کوئ اعتراض نہیں ہے تو اب کیا کریں؟ امامہ نے کہا۔
کیا کرنا ہے؟ وہ ہنس پڑا۔ قرآن پاک سکھاؤں گا اسے اب۔ جبریل نے ماں سے کہا تھا۔
اسے اپنے جواب پہ امامہ کے چہرے پہ خوشی نظر نہیں آئی۔
آپ کو پریشانی کس بات کی ہے؟ جبریل نے جیسے ماں کو کریدنے کی کوشش کی۔ امامہ اس سے کہہ نہ سکی کہ اسے سارا مسئلہ عنایہ کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ مجھے کوئ مسئلہ نہیں ہے۔ جو بھی ہوتا ہے اللہ کی مرضی سے ہی ہوتا ہے اور ہم کچھ بھی بدلنے پہ قادر نہیں ہے۔ ٹھیک ہے، ایرک تم سے قرآن پاک سیکھنا چاہتا ہے تو تم اسے سکھاؤ۔ امامہ نے بلآخر جیسے ہتھیار ڈال دییے۔
————————–
گیارہ سال کی عمر میں قرآن پاک سے ایرک کا وہ پہلا باقاعدہ تعارف تھا۔ اس سے پہلے وہ اس کتاب کا صرف نام جانتا تھا۔ جنرل نالج کے طور پہ۔۔۔
وہ سالار اور امامہ کے گھر جا کر مسلمانوں کے قریب ہوا تھا اور جبریل کی تلاوت سن سن کر وہ قرآن پاک سے متاثر ہونا شروع ہو گیا تھا۔ وہ زبان اور وہ تلاوت اسے جیسے کسی فینٹسی میں لے جاتی تھی۔
جس دن اس نے جبریل سے قرآنی قاعدہ کا پہلا سبق لیا تھا اس رات اس نے آن لائن قرآن پاک کا پورا انگلش ترجمہ پڑھ لیا تھا۔ وہ کتابیں پڑھنے کا شوقین اور عادی تھا اور اس نے قرآن کو بھی ایک کتاب کے طور پہ پڑھا تھا۔ بہت ساری چیزوں کو سمجھتے ہوئے، بہت سی چیزوں کو نہ سمجھتے ہوئے، بہت سی باتوں سے متاثر ہوتے ہوئے، بہت سے احکامات سے الجھتے ہوئے، بہت سارے واقعات کو اپنی کتاب بائبل سے منسلک کرتے ہوئے۔
جبریل کو حیرت نہیں ہوئی تھی جب اگلے دن ایرک نے اسے قرآنی قاعدہ کا سبق بالکل ٹھیک ٹھیک سنایا تھا۔ لیکن وہ یہ جان کر خاموش ضرور ہو گیا تھا کہ ایرک نے ایک رات میں بیٹھ کر قرآن پاک کا پورا ترجمہ پڑھ لیا تھا۔
اس کا فائدہ کیا ہوا؟ جبریل نے اس سے پوچھا۔
کس چیز کا؟ قرآن پاک پڑھنے کا؟ ایرک نے اس کے سوال کی وضاحت چاہی۔
ہاں۔ جبریل نے جواب دیا۔
ایرک کو کوئ جواب نہیں سوجھا۔ اس کا خیال تھا کہ جبریل اس سے متاثر ہو گا۔ وہ متاثر نہیں ہوا تھا، الٹا اس سے سوال کر رہا تھا۔
فائدہ تو نہیں سوچا میں نے۔ میں نے تو بس تجسس میں پڑھا ہے قرآن پاک۔ایرک نے کہا۔
تو اب تمہای کیا رائے ہے قرآن پاک کے بارے میں؟ اب بھی سیکھنا چاہتے ہو؟ جبریل نے اس سے پوچھا۔
ہاں۔ اب اور بھی زیادہ۔۔۔ ایرک نے کہا۔ مجھے یہ بے حد انٹرسٹنگ لگی ہے۔
جبریل اس کی بات پہ مسکرایا تھا۔
مقدس کتابوں کو صرف پڑھ لینا کوئ بڑی بات نہیں ہوتی۔ جبریل نے اس سے کہا تھا۔ اسے پڑھنے کیساتھ ساتھ اس پہ عمل بھی ضروری ہے۔
ایرک اس کو بغور دیکھتے ہوئے اس کی بات سن رہا تھا۔
اس دن جبریل نے اسے دوسرا سبق قرآنی قاعدہ کا نہیں دیا تھا۔ اس نے اسے دوسرا سبق ایک اچھا انسان بننے کے حوالے سے دیا تھا۔
کوئ بھی ایسی چیز جس کا تعلق اللہ سے ہے اور پھر جو ہم سیکھتے ہیں تو پھر اس دن ہمارے اندر دوسروں کے لیے کچھ زیادہ بہتری آنی چاہیئے تاکہ نظر آئے کہ ہم کوئ خاص چیز سیکھ رہے ہیں۔
وہ سارے سبجیکٹ جو ہم سکول میں پڑھتے ہیں اور جو ہم وہاں سیکھتے ہیں وہ ہماری پرسنالٹی پر اثر انداز نہیں ہوتے، وہ صرف تب ہمارے کام آتے ہیں جب ہمیں ایگزامز دینا ہو، جاب کرنی ہو، یا بزنس کرنا ہو۔کتابیں ہمیں باعلم بناتی ہیں۔ باعمل ہمیں صرف وہ کتاب بنا سکتی ہے جو اللہ تعالی نے انسان کو صرف باعمل کرنے کے لیے اتاری ہے۔
ایرک اس کی بات بڑی توجہ سے سن رہا تھا۔
بابا نے مجھ سے کہا تھا کہ اگر ہم اچھے انسان نہ بن سکیں تو عبادت کرنے اور مذہب کے بارے میں پڑھنے کا کوئ فائدہ نہیں۔ کیونکہ مذہب اور مذہبی کتابیں اللہ نے صرف ایک مقصد کے لیے اتاری ہیں۔ کہ ہم اچھے انسان بن کر رہیں۔ ایک دوسرے کے حقوق و فرائض کا خیال رکھیں۔ خاص طور پر ان کا، جو ہماری ذمہ داری ہے۔ جیسے تمہارے چھوٹے بہن بھائ اور تمہاری ممی تمہاری ذمہ داری ہیں۔جبریل بڑی ذہانت سے گفتگو کو اس موضوع کی طرف موڑ رہا تھا جس پہ وہ ایرک سے بات کرنا چاہتا تھا۔ تو اب تم نے دیکھنا ہے کہ جس دن تم قرآن پڑھ کر جاتے ہو اس دن تمہارے اندر کیا تبدیلی آتی ہے۔ اس دن تم اپنی فیملی کے لیے اور دوسروں کے لیے، کیا اچھا کام کرتے ہو۔ جبریل نے جیسے اسے چیلنج دیا تھا۔
میں کوشش کروں گا۔ ایرک نے وہ چیلنج قبول کر لیا تھا۔ پھر اس نے جیسے اس کی مدد مانگی۔ تو آج میں گھر جا کر کیا کروں؟
تم آج ایسا کام مت کرنا جس سے تمہا ری ممی اپ سیٹ ہوتی ہے۔
جبریل نے اس سے کہا۔ ایرک کچھ خجل ہوا۔
تم مجھے عبداللہ کہا کرو۔ ایرک نے جان بوجھ کر موضوع بدلنے کے لیے اسے ٹوکا۔
عبداللہ تو اللہ کا بندہ ہوتا ہے۔ سب سے زیادہ مہربان، سب کا خیال رکھنے والا اور سب کا احساس کرنے والا، کسی کو تکلیف نہ دینے والا۔ میں تمہیں عبداللہ تب کہنا شروع کروں گا جب تم سب سے پہلے اپنی ممی کو تکلیف دینا بند کرو گے۔
جبریل نے اس کی کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دیا تھا۔ ایرک جیسے کچھ اور خجل ہوا۔ ایک لمحے کے لیے اسے لگا کہ جبریل اس سے جو کچھ کہہ رہا تھا وہ اس کی ممی کے کہنے پہ کہہ رہا تھا لیکن اس نے خاموشی سے بات مان لی۔
اس دن ایرک گھر جا کر پہلی بار رالف سے خوش دلی سے ملا تھا۔ رالف اور کیرولین کو ایک لمحے کے لیے لگا شاید ایرک سے غلطی ہوئ ہے یا پھر انہیں وہم ہو رہا ہے۔ اس نے پہلی بار رالف سے خوش مزاجی کا مظاہرہ کیا تھا۔
ایرک رکے بغیر وہاں سے چلا گیا۔ رالف اور کیرولین نے ایک دوسرے کو حیرانی سے دیکھا۔
اس کو کیا ہوا؟ رالف نے کچھ خوشگوار حیرت سے کہا۔
پتا نہیں۔ کیرولین نے لاعلمی کا اظہار کیا۔
وہ پہلی تبدیلی نہیں تھی جو ایرک میں آئ تھی۔ وہ آہستہ آہستہ مزید تبدیل ہوتا گیا۔ قرآن پاک کا سبق اب ہر روز وہ لینے جایا کرتا تھا۔ اگر کبھی جبریل نہ ہوتا تو حمین یا امامہ اسے سبق پڑھا دیتے۔ لیکن ایرک کو یہ اعتراف کرنے میں عار نہیں تھا کہ جیسے جبریل اسے پڑھاتا تھا ویسے کوئ نہیں پڑھا سکتا تھا۔
اس گھر میں ایرک کی جڑیں اب زیادہ گہری اور مضبوط ہو گئ تھی۔ امامہ کی تمام تر احتیاط کے باوجود۔۔۔
——————————
جبریل لوگوں کو نا سمجھ میں آنے والے انداز میں متاثر کرتا تھا۔ تیرہ سال کی عمر میں اس کا ٹھہراؤ عام بچوں کے برعکس تھا۔ سالار کی بیماری نے امامہ کے ساتھ اسے بھی بدل دیا تھا۔ اس نے امریکہ میں سالار کی سرجری اور اس کے بعد وہاں امامہ کے قیام کے دوران تینوں چھوٹے بہن بھائیوں کی پرواہ کسی باپ کی طرح کی تھی۔ سکندر اور طیبہ، سالار کے بچوں کی تربیت سے پہلے بھی متاثر تھے لیکن ان کی غیر موجودگی میں جبریل نے جس طرح ان کے گھر پر اپنے بہن بھائ کا خیال رکھا تھا وہ ان کو مزید متاثر کر گیا تھا۔ ایک دس سالہ بچہ کئ مہینے اپنے کھیل کود، اپنی سرگرمیاں بھلا بیٹھا تھا اور یہی وہ وقت تھا جب جبریل ذہنی طور پر بھی بدلتا گیا۔
تیرہ سال کی عمر میں ہائ سکول سے ڈسٹنکشن کے ساتھ پاس کر کے یونیورسٹی جانے والا وہ اپنے سکول کا پہلا اسٹوڈنٹ تھا۔ اور وہ وہاں بل گیٹس فاؤنڈیشن کی ایک اسکالرشپ پر پہنچا تھا۔ وہ پہلی سیڑھی تھی جو میڈیسن کی طرف جاتے ہوئے اس نے چڑھی تھی۔
سالار سکندر کے خاندان کا پہلا پرندہ یونیورسٹی پہنچ چکا تھا۔
——————————
گرینڈ حیات ہوٹل کا بال روم اس وقت نیشنل اسپیلنگ بی کے 93ویں مقابلے کے فائنلسٹ کا پہلا راؤنڈ منعقد کروانے کے لیے تیار تھا۔ حمین سکندر اپنے ٹائٹل کا دفاع کر رہا تھا اور رئیسہ سالار اس مقابلے میں پہلی دفعہ حصہ لے رہی تھی۔
رئیسہ اس وقت اسٹیج پر اپنے پہلے لفظ کے بولے جانے کے انتظار میں تھی۔ رئیسہ نے پوچھا جانے والا لفظ بے حد غور سے سنا تھا۔ وہ لفظ غیر مانوس نہیں تھا۔ وہ انہی الفاظ میں شامل تھا جس کی اس نے تیاری کی تھی۔
Crustaceology
اس نے زیر لب اس لفظ کو دہرایا پھر بنا آواز کے اس کے ہجے کیے اور پھر بلآخر اس نے اس لفظ کو ہجے کرنا شروع کیا۔
C.r.u.s.t.a.c.o.l.o.g.y
رئیسہ نے بےیقینی کے عالم میں اس گھنٹی کو سنا تھا جو لفظ غلط ہونے پر بجی تھی۔ اس کا رنگ فق ہوا۔ لیکن اس سے زیادہ حمین سکندر کا، جسے اس کے بولنے کے دوران ہی اندازہ ہو گیا تھا کہ اس نے کیا غلطی کی تھی۔ ہال میں امامہ اور سالار، جبریل اور عنایہ کیساتھ عجیب سی کیفیت میں بیٹھے تھے وہ اس کی توقع بہت پہلے سے کر رہے تھے۔ رئیسہ کا فائنل راؤنڈ تک پہنچنا بھی ان کے لیے ناقابل یقین ہی تھا۔ اس نے اپنی صلاحیتوں سے بڑھ کر پر پرفارمنس دکھائ تھی۔ وہ پہلا مکا تھا جو رئیسہ نے سیدھا منہ پہ کھایا تھا۔
حمین اس سے کچھ کرسیوں کے فاصلے پر تھا۔ ان کے درمیان کچھ اور فائنلسٹ تھے۔ لیکن اس کے باوجود اس نے اٹھ کر رئیسہ کی کرسی پر آ کر اس کا کندھا تھپکا تھا۔
حمین سکندر اسٹیج پر اب پہلے لفظ کے لیے کھڑا تھا اور اس کا استقبال تالیوں کیساتھ ہوا تھا۔ وہ اگر پچھلے سال ڈارلنگ آف دی کراؤڈ تھا تو اس سال بھی وہ ہاٹ فیورٹ کے طور پہ مقابلے میں کھڑا تھا۔ پچھلے سارے راؤنڈز میں اس نے مشکل ترین الفاظ کو حلوے کی طرح بوجھا تھا۔
Vignettee
اس کا لفظ بولا جارہا تھا۔ وہ حمین سکندر کے لیے ایک اور حلوہ تھا۔ وہ اس سے زیاد مشکل اور لمبے الفاظ کے ہجے کر چکا تھا۔ رئیسہ نے بھی زیرلب کئ دوسرے فائنلسٹس کی طرح وہ لفظ ہجوں کی طرح درست طور پر ادا کیا۔
V.i,g.n.e.t.t.e
بیل بجی۔ ہال میں سکتہ ہوا، پھر سرگوشیاں ابھریں۔پھر پروناؤنسر نے درست اسپیلنگ ادا کیے۔ حمین نے سر جھکا کر جیسے اپنی غلطی کا اعتراف کیا اور اپنی کرسی کی طرف چلنا شروع کیا۔
وہ اس مقابلے کا پہلا اپ سیٹ تھا۔ پچھلے سال کا چیمپئن اپنے پہلے ہی لفظ کو ہجے کرنے میں ناکام رہا تھا۔ ہال میں بیٹھے سالار، امامہ، جبریل اور عنایہ بیک وقت پریشانی کی ایک عجیب کیفیت سے گزرے تھے۔ وہ ایک ہی راؤنڈ میں رئیسہ کی ناکامی دیکھ کر حمین کی کامیابی پہ تالیاں نہیں بجانا چاہتے تھے اور انہیں بجانی بھی نہیں پڑی تھی۔ لیکن حمین سے لفظ نہ بوجھنا غیر متوقع تھا۔
لیکن انہیں یہ اندازہ نہیں تھا اس دن انہیں وہاں بیٹھے مقابلے کے آخر تک اسی صورت حال کا سامنا کرنا پڑے گا۔
رئیسہ اگلے دو لفظ بھی نہ بوجھ سکی تھی اور حمین سکندر بھی۔ وہ دونوں فائنل مقابلے کے ابتدائ مرحلے میں ہی مقابلے سے آؤٹ ہو گئے تھے۔
رئیسہ کی یہ پرفارمنس غیر متوقع نہیں تھی۔ لیکن حمین سکندر کی ایسی پرفارمنس اس رات ایک بریکنگ نیوز تھی۔ پچھلے سال کا چیمپئن مقابلے سے آؤٹ ہو گیا تھا اور حمین کے چہرے کا اطمینان ویسا ہی تھا جیسے اسے کوئ فرق ہی نہ پڑا ہو۔ وہ دونوں مقابلے سے باہر ہونے کے بعد اپنے ماں باپ کے پاس آ کر بیٹھ گئے تھے۔
دونوں نے ان دونوں کو تھپکا تھا۔ تسلی دی تھی۔ یہ ہی کام جبریل اور عنایہ نے بھی کیا تھا۔
بہت اچھے۔ انہوں نے اپنے چھوٹے بہن بھائی کا حوصلہ بندھایا تھا۔
انہوں نے اس سال کے نئے چیمپئن کو بھی دیکھا تھا اور ان انعامات کے ڈھیر کو بھی جو اس پر نچھاور کیے جا رہے تھے۔ رئیسہ کا غم جیسے کچھ اور بھی بڑھا۔ وہ سالار سکندر کا نام روشن نہ کر سکی تھی۔جیسے ان کے بڑے بہن بھائ کرتے تھے۔ وہ ان جیسی نہیں تھی۔ اسے شدید احساس کمتری ہوا۔ وہ سب اس سے بہتر شکل و صورت کے تھے، اس سے بہترین ذہنی صلاحیتیں رکھتے تھے۔ وہ کسی بھی طرح ان کا مقابلہ نہیں کر سکتی تھی۔
ان کے گھر میں لانے والی ٹرافیز، میڈلز میں اس کا بہت تھوڑا حصہ تھا۔ آج پہلی بار وہ رنجیدہ ہوئ تھی۔
تم اداس ہو؟ یہ حمین کی سرگوشی تھی جو اس نے گاڑی میں ہونے والی سب کی گفتگو کے درمیان اس کے کان میں کی تھی۔
نہیں۔ رئیسہ نے اسی انداز میں جواب دیا۔
مجھے پتا ہے تم اداس ہو۔ حمین نے ایک اور سرگوشی کی۔
تم نیکسٹ ایئر جیت سکتی ہو۔ اس نے جیسے رئیسہ کو آس دلائ۔
مجھے پتا ہے لیکن اگلا سال بہت دور ہے۔ اس نے مدھم آواز میں کہا۔
حمین نے اس کی کمر میں گدگدی کرنے کی کوشش کی وہ سکڑ کر پیچھے ہٹی۔ اسے ہنسی نہیں آئ تھی۔ وہ ہنسنا چاہتی بھی نہیں تھی۔
میں بھی تو ہارا ہوں۔ حمین کو اس کے موڈ کا اندازہ ہو گیا تھا۔
تم جیتے بھی تو تھے نا۔ اس نے جواباً کہا۔
وہ تو یونہی تکا لگ گیا تھا۔ اس نے جیسے اپنا ہی مذاق اڑاتے ہوئے کہا۔
رئیسہ جواب دینے کی بجائے کھڑکی سے باہر دیکھتی رہی۔ یہ جیسے اعلان تھا کہ وہ اس موضوع پر بات نہیں کرنا چاہتی۔
————————–
رئیسہ اپ سیٹ ہے۔
اس رات سالار نے امامہ سے سونے سے پہلے کہا تھا۔
میں جانتی ہوں اور اسی لیے نہیں چاہتی تھی کہ وہ اس مقابلے میں حصہ لیتی جن میں باقی تینوں ٹرافیز جیت چکے تھے لیکن تم نے منع نہیں کیا اسے۔امامہ نے اس سے کہا۔
میں کیسے اسے منع کرتا۔ یہ کہتا کہ تم نہیں جیت سکتی اس لیے مت حصہ لو۔ اور پھر وہ فائنل راؤنڈ تک پہنچی۔ بہت اچھا کھیلی ہے۔ یہ زیادہ اہم چیز ہے۔سالار نے اپنے ہاتھ سے گھڑی اتارتے ہوئے بیڈ سائڈ ٹیبل پر رکھ دی۔
وہ بہت سمجھدار ہے۔ ایک دو دن تک ٹھیک ہوجائے گی جب میں اسے سمجھاؤں گی کہ حمین بھی تو ہارا ہے۔ لیکن اسے پرواہ تک نہیں۔ اسے اپنے سے زیادہ رئیسہ ہی کی فکر تھی۔ امامہ نے کہا۔
اسے فکر کیوں ہو گی۔ وہ تو اپنی مرضی سے ہارا ہے۔سالار نے بے حد اطمینان سے کہا۔
امامہ ٹھٹک گئ۔ کیا مطلب ہے تمہارا؟
سالار نے گردن موڑ کر اسے دیکھا اور مسکرایا۔ تمہیں اندازہ نہیں ہوا؟
کس بات کا؟ کہ وہ جان بوجھ کر ہارا ہے؟ ایسا نہیں ہو سکتا۔ امامہ نے خود سوال پوچھا اور خود ہی جواب دیا۔
تم پوچھ لینا اس سے کہ ایسا ہو سکتا ہے یا نہیں۔سالار نے بحث کیے بغیر اس سے کہا۔ وہ اب سونے کے لیے لیٹ گیا۔ امامہ ہکا بکا اس کا چہرہ دیکھتی رہی۔پھر جیسے اس نے جھلا کر کہا۔
تم باپ بیٹا عجیب ہو۔ بلکہ عجیب ایک مہذب لفظ ہے۔
تم جبریل کو مائنس کیوں کر جاتی ہو ہر بار۔ سالار نے اسے چھیڑا۔
شکر ہے وہ حمین اور تمہاری طرح نہیں ہے۔ لیکن میری سمجھ میں نہیں آ رہا حمین کیوں اس طرح کرے گا۔ وہ اب الجھی ہوئ تھی۔
رئیسہ کے لیے۔ سالار نے جواباً اس سے کہا۔
اور مجھے اس پر فخر ہے۔ اس نے آنکھیں بند کر کے کروٹ لی اور سائڈ ٹیبل لیمپ آف کر دیا۔
وہ غلط نہیں کہتی تھی وہ دونوں باپ بیٹا ہی عجیب تھے۔
——————————-
رئیسہ تم سو کیوں نہیں رہی؟ عنایہ نے اسے ایک کتاب کھولے، سٹڈی ٹیبل پر بیٹھے دیکھ کر پوچھا تھا۔
میں وہ الفاظ دیکھنا اور یاد کرنا چاہتی ہوں جو مجھے نہیں آتے۔ عنایہ اسے دیکھ کر رہ گئ۔
انہیں ابھی گھر واپس آئے ایک گھنٹہ ہی ہوا ہو گا اور وہ ایک بار پھر سے کتاب لیکر بیٹھ گئ تھی۔
تم نے پہلے ہی بہت محنت کی ہے رئیسہ۔ یہ صرف تمہاری بدقسمتی تھی۔ عنایہ کو اندازہ نہیں ہوا وہ اسے تسلی دینے کے لیے جن الفاظ کا انتخاب کر رہی تھی وہ بڑے غلط تھے۔ وہ الفاظ رئیسہ کے دماغ میں جیسے کھب گئے تھے۔
اب سو جاؤ۔ عنایہ نے کسی بڑے کی طرح اسے تھپکا تھا۔
میں نہیں سو سکتی۔ مدھم آواز میں رئیسہ نے کہا۔
عنایہ کو یوں لگا جیسے رئیسہ کی آواز بھرائ ہوئ تھی۔ رئیسہ نے کتاب بند کر کے ٹیبل پہ رکھی اور پھر وہاں سے اٹھ کر بستر پہ آئ اور اوندھے منہ لیٹ کر اس نے بلک بلک کر رونا شروع کر دیا۔
رئیسہ۔۔۔۔۔۔۔! رئیسہ پلیز۔۔۔۔! عنایہ خود بھی روہانسی ہو گئ تھی۔ رئیسہ چھوٹی چھوٹی بات پہ رونے والی بچی نہیں تھی اسے یہ اندازہ نہیں تھا کہ رئیسہ اپنے بدقسمت ہونے پر رو رہی تھی۔

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: