Aab e Hayat Novel by Umera Ahmed Read Online – Episode 35

0

آب حیات از عمیرہ احمد – قسط نمبر 35

–**–**–

تم کیا کر رہے ہو اس وقت؟ امامہ لاؤنج میں ہونے والی کھڑکھڑاہٹوں کو سن کر رات کے اُس وقت باہر نکل آئی تھی، وہ اُس وقت تہجّد کے لیے اٹھی تھی۔ جبریل اس ویک اینڈ پر گھر آیا ہوا تھا اور کئی بار وہ بھی رات کے اس پہر پڑھنے کے لیے جاگتا اور پھر کچھ نہ کچھ کھانے کے لیے کچن جاتا۔ مگر اس بار اُس کا سامنا حمین سے ہوا تھا۔ وہ کچن کاؤنٹر کے سامنے پڑی ایک سٹول پر بیٹھا سلیپنگ سوٹ میں ملبوس آئس کریم کا ایک لیٹر والا کین کھولے اُسی میں سے آئس کریم کھانے میں لگا ہوا تھا۔
امامہ کو سوال کرنے کے ساتھ ہی جواب مل گیا تھا اور اُس نے اس کے کچھ کہنے سے پہلے ہی بے حد خفگی کے عالم میں کاؤنٹر کے سامنے آتے ہوئے اُس سے کہا۔
حمین یہ وقت ہے آئس کریم کھانے کا؟ اور وہ بھی اس طرح؟” اُس کا اشارہ اُس کے کین کے اندر ہی آئس کریم کھانے کی طرف تھا۔
میں نے صرف ایک سکوپ کھانی تھی۔ وہ ماں کے یک دم نمودار ہونے اور اپنے اس طرح پکڑے جانے پر گڑبڑایا تھا۔
لیکن یہ کھانے کا کوئی وقت نہیں ہے۔ امامہ نے اُس کے ہاتھ سے چمچ کھینچ لیا اور ڈھکن سے کین بند کرنے لگی۔
ابھی تو واقعی ایک چمچ ہی کھائی ہے میں نے۔ وہ بے اختیار کراہا۔ دانت صاف کر کے سونا۔ امامہ نے اُس کے جملے کو نظر انداز کرتے ہوئے کین کو واپس فریزر میں رکھ دیا۔ حمین جیسے احتجاجاً اسی انداز میں سٹول پر بیٹھا رہا۔
ایک تو میں آج ہارا اور میں نے اپنا ٹائٹل کھو دیا۔ دوسرا آپ مجھے آئس کریم کے دو سکوپس تک نہیں لینے دے رہیں۔ اس نے جیسے ماں سے احتجاجاً کہا۔ وہ چند لمحوں کے لیے کاؤنٹر کے دوسری طرف کھڑی اُس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے اُسے دیکھتی رہی پھر اُس نے مدہم آواز میں کہا۔
ٹائٹل تم نے اپنی مرضی سے کھویا ہے۔ تمہاری اپنی چوائس تھی یہ۔ حمین کو جیسے کرنٹ لگا تھا۔ وہ ماں کو دیکھتا رہا پھر اُس نے کہا۔
who told you that?
یہ ضروری نہیں۔ امامہ نے کہا۔
آل رائٹ! مجھے پتہ ہے۔ اُس نے ماں سے نظریں ملائے بغیر کہا۔
کس نے؟ امامہ پوچھے بغیر نہیں رہ سکی۔
بابا نے۔ اس کا جواب کھٹاک سے آیا تھا۔ وہ دونوں باپ بیٹا ایک دوسرے کو ہاتھ کی پشت کی طرح جانتے تھے۔
بہت غلط کام تھا۔ تمہیں یہ نہیں کرنا چاہیے تھا۔ امامہ نے جیسے اسے ملامت کرنے کی کوشش کی۔
تم نے یہ کیوں کیا؟ امامہ کو پوچھنا پڑا۔
آپ جانتی ہیں ممّی۔ وہ سٹول سے اٹھ کر کھڑا ہو گیا تھا۔
رئیسہ کے لیے؟ امامہ نے وہ جواب دیا جس کی طرف اُس نے اشارہ کیا تھا۔
فیملی کے لیے۔۔۔۔۔۔ جواب کھٹاک سے آیا تھا۔ آپ نے سکھایا تھا اپنے بہن بھائیوں سے مقابلہ نہیں ہوتا۔ میں جیت جاتا تو اُسے ہرا کر ہی جیتتا نا۔ اُسے بہت دکھ ہوتا۔ امامہ بول نہیں سکی۔ وہ دس سال کا تھا لیکن بعض دفعہ وہ 100 سال کی عمر والوں جیسی باتیں کرتا تھا، اُسے سمجھ نہیں آئی، وہ اُس سے کیا کہتی۔ ڈانٹتی؟ نصیحت کرتی؟ حمین سکندر لاجواب نہیں کرتا تھا۔ بے بس کر دیتا تھا۔
“Goodnight”
وہ اب وہاں سے چلا گیا تھا۔ امامہ اُسے جاتا ہوا دیکھتی رہی۔ اُن سب کا اُس کے بارے میں یہ خیال تھا کہ حمین صرف اپنے بارے میں سوچتا تھا، وہ لاپروا تھا، حسّاس نہیں تھا، نہ ہی وہ دوسروں کا زیادہ احساس کرتا تھا۔
بڑوں کے بعض خیالات اور بعض اندازے بچے بڑے غلط موقع پر غلط ثابت کرتے ہیں۔ امامہ چپ چاپ کھڑی اُسے جاتا دیکھتی رہی۔ سالار نے ٹھیک کہا تھا۔ اسے اپنی اولاد پر فخر ہوا تھا۔
*************
بابا آپ رئیسہ سے بات کرسکتے ہیں؟ عنایہ نے ایک دو دن بعد سالار سے کہا، وہ اس وقت ابھی آفس سے واپس آیا تھا اور کچھ دیر میں اُسے پھر کہیں جانے کے لیے نکلنا تھا۔ جب عنایہ اس کے پاس آ گئی تھی اور اُس نے بنا تمہید اس سے کہا تھا۔
کس بارے میں؟ سالار نے جیسے کچھ حیران ہو کر پوچھا۔ فوری طور پر اُس کے ذہن میں ایسی کوئی بات نہیں آئی تھی، جس پر اُسے رئیسہ سے بات کرنی پڑتی۔
وہ اپ سیٹ ہے۔ وہی spelling bee کی وجہ سے۔ عنایہ نے اُس کو بتانا شروع کیا۔ میں اس کو سمجھا رہی ہوں۔ لیکن مجھے لگتا ہے، میری بات اسے سمجھ نہیں آرہیں۔ وہ دوبارہ spelling bee میں حصّہ لینا چاہتی ہے اور وہ ہر روز رات کو بیٹھ کر تیّاری کرتی ہے اور مجھے بھی کہتی ہے کہ میں اُس کی تیّاری کرواؤں۔ عنایہ اب اُسے تفصیل سے مسئلہ سمجھا رہی تھی۔
پہلے تو حمین تیّاری کروا رہا تھا اُسے۔ سالار کو یاد آیا۔
ہاں حمین اور میں نے دونوں نے کروائی تھی۔ لیکن اب وہ مجھ سے کہتی ہے کہ میں اُسے تیّاری کرواؤں۔ I don’t mind doing that لیکن مجھے نہیں پتہ کہ اسے دوبارہ حصّہ لینا چاہیے یا نہیں۔ پھر ابھی تو ایک سال پڑا ہے اس مقابلے میں۔ اسے اپنی سٹڈیز پر زیادہ دھیان دینا چاہیے۔ عنایہ دھیمے لہجے میں باپ کو سب بتاتی گئی تھی۔
سالار کو غلطی کا احساس ہوا، انہیں رئیسہ سے فوری طور پر بات کرنی چاہیے تھی۔ یہ ان کی غلط فہمی تھی کہ وہ ایک آدھ دن میں ٹھیک ہو جاتی۔
اُسے بھیجو۔ اُس نے عنایہ سے کہا، وہ چلی گئی۔ سالار نے اپنی گھڑی دیکھی۔ اُس کے پاس 20 منٹ تھے گھر سے نکلنے کے لیے۔ وہ کپڑے پہلے ہی تبدیل کر چکا تھا اور اب کچھ فائلز دیکھ رہا تھا۔ رئیسہ اور عنایہ امامہ کی نسبت اُس سے زیادہ قریب تھیں۔ اُنہیں جو بھی اہم بات کرنی ہوتی تھی وہ امامہ سے بھی پہلے سالار سے کرتی تھیں۔
بابا! دروازے پر دستک دے کر رئیسہ اندر داخل ہوئی تھی۔
آؤ بیٹا! صوفے پر بیٹھے ہوئے سالار نے استقبالیہ انداز میں اپنا ایک بازو پھیلایا تھا، وہ اُس کے قریب صوفہ پر آ کر بیٹھ گئی۔ سالار نے اُسے صوفہ سے اُٹھا کر سامنے پڑی سینٹر ٹیبل پر بٹھا دیا۔ وہ کچھ جز بز ہوئی تھی لیکن اُس نے احتجاج نہیں کیا، وہ دونوں اب بالکل آمنے سامنے تھے۔ سالار کچھ دیر کے لئے خاموشی سے اسے دیکھتا رہا۔ گول شیشوں والی عینک سے اُسے دیکھتے ہوئے وہ ہمیشہ کی طرح بے حد توجہ سے اُس کی بات سننے کی منتظر تھی۔ اُس کے گھنے سیاہ بالوں میں بندھا ہوا ربن تھوڑا ڈھیلا تھا۔ جو اُس کے کندھوں سے کچھ نیچے جانے والے بالوں کو گُدّی سے لے کر سر کے بالکل درمیان تک باندھے ہوئے تھا لیکن ایک طرف ڈھلکا ہوا تھا۔ ماتھے پر آنے والے بالوں کو روکنے کے لئے رنگ برنگی ہیئر ربنز سے اُس کا سر بھرا ہوا تھا، یہ عنایہ کا کارنامہ تھا، رئیسہ کو ہیئر ربنز پسند تھے۔ سالار کو یاد بھی نہیں تھا وہ اُس کے لئے کتنے ربنز خرید چکا تھا لیکن ہر روز بدلے جانے والے کپڑوں کے ساتھ میچنگ ربنز دیکھ کر انہیں بھی اندازہ ہو جاتا تھا کہ رئیسہ اس معاملے میں خود کفیل تھی۔
عنایہ نے مجھے بتایا کہ تم اپ سیٹ ہو۔ سالار نے بالآخر بات کا آغاز کیا۔ وہ یک دم بلش ہوئی۔
نہیں…! نہیں تو۔ اس نے گڑبڑا کر سالار سے کہا۔ سالار اُسے دیکھتا رہا، رئیسہ نے چند لمحے اُس کی آنکھوں میں دیکھنے کی کوشش کی، پھر نظریں چُرالیں۔ پھر جیسے کچھ مدافعانہ انداز میں ہتھیار ڈالتے ہوئے کہا۔
“I am not very upset…. Just a little bit”
اُس نے اب سر جھکا لیا تھا۔
“And why is that?”
سالار نے جواباً پوچھا۔
“Because I am very unlcky”
اس نے بے حد ہلکی آواز میں کہا۔ سالار بول ہی نہیں سکا۔ اُسے اُس سے اس جملے کی توقع نہیں تھی۔
“That’s so wrong to say Raeesa.”
سالار سیدھا بیٹھے بیٹھے آگے کو جھک گیا، وہ اب کہنیاں اپنے گھٹنوں پر ٹکائے اس کے دونوں ہاتھ پکڑے ہوئے تھا۔ اُس کے ہاتھوں پر آنسوؤں کے قطرے گرے تھے۔ وہ سر جھکائے باپ کے سامنے بیٹھی اب رو رہی تھی۔ اُس کے گلاسز دھندلا گئے تھے۔ سالار کو تکلیف ہوئی، یہ پہلا موقع تھا اُس نے رئیسہ کو اس طرح روتے دیکھا تھا۔ عنایہ بات بات پر رو پڑنے والی تھی، رئیسہ نہیں۔
“I am……….”
وہ ہچکیوں کے درمیان کہہ رہی تھی۔
“No you are not”
سالار نے اُس کے گلاسز اتارتے ہوئے انہیں میز پر رکھا اور رئیسہ کو اٹھا کر گود میں بٹھا لیا۔ وہ باپ کی گردن میں بازو ڈالے اُس کے ساتھ لپٹی ہوئی رو رہی تھی۔ جیسے spelling bee آج ہی ہاری تھی۔ سالار کچھ کہے بغیر console کرنے والے انداز میں اُسے تھپکتا رہا۔
“I let you down Baba”
ہچکیوں کے درمیان اُس نے رئیسہ کو کہتے سنا۔ بالکل بھی نہیں رئیسہ …I am very proud of you سالار نے اُسے کہا۔ امامہ بالکل اُسی لمحے کمرے کا دروازہ کھول کر اندر آئی تھی اور وہیں ٹھٹھک گئی تھی، سالار نے ہونٹوں پر انگلی کے اشارے سے اُسے خاموش رہنے کا کہا تھا۔
میں نے اتنی محنت کی تھی۔ لیکن میں کبھی حمین، جبریل بھائی اور عنایہ آپی کی طرح کچھ بھی جیت نہیں سکتی۔ کیوں کہ میں lucky نہیں ہوں۔
وہ اس کے سینے میں منہ چھپائے اپنے دل کی بھڑاس نکال رہی تھی۔ سالار کی طرح امامہ کو بھی عجیب تکلیف ہوئی تھی اُس کی اس بات سے۔ وہ صوفہ پر آ کر سالار کے برابر بیٹھ گئی تھی۔ کافی کا وہ مگ اُس نے ٹیبل پر رکھ دیا جو وہ سالار کو دینے آئی تھی۔ یہ سالار نہیں تھا امامہ تھی جس نے رئیسہ پر جان ماری تھی۔ اُس کی learning disabilities دور کرنے کے لئے۔ اُسے بولنا اور درست بولنا سکھانے کے لئے۔ اُسے پڑھنا لکھنا سکھانے کے لئے۔ سالار نے صرف اُسے adopt کیا تھا، امامہ نے اُس کی زندگی بدل دی تھی اور اُس کا خیال تھا اب سب کچھ ٹھیک تھا۔ لیکن وہ فرق جو وہ اپنے آپ میں اور اُن تینوں میں دیکھ رہی تھی۔ اُس نے ان دونوں کو ہی پریشان کیا تھا۔
وہ رونے دھونے کے بعد اب خاموش ہو گئی تھی، سالار نے اُسے خود سے الگ کرتے ہوئے کہا۔
“Enough?”
رئیسہ نے گیلے چہرے کے ساتھ سر ہلایا۔ اُس کے بال ایک بار پھر بے ترتیب تھے۔ ربن ایک بار پھر ڈھیلا ہو چکا تھا۔ سالار سے الگ ہوتے ہوئے اُس نے امامہ کو دیکھا تھا اور جیسے کچھ اور نادم ہوئی۔ سالار نے اُسے ایک بار پھر ٹیبل پر بٹھا دیا۔
تمہیں کیوں لگتا ہے۔ وہ تینوں lucky ہیں اور تم نہیں؟ سالار نے اُسے بٹھانے کے بعد اُس کے گیلے گلاسز اٹھا کر ٹشو سے اس کے شیشے رگڑتے ہوئے اُس سے پوچھا۔
کیوں کہ وہ جس چیز میں حصّہ لیتے ہیں جیت جاتے ہیں، میں نہیں جیتتی۔ وہ ایک بار پھر رنجیدہ ہوئی۔ وہ ایگزامز میں مجھ سے اچھے گریڈز لیتے ہیں، میں کبھی اے پلس نہیں لے سکتی۔ میں کوئی بھی ایسا کام نہیں کر سکتی جو وہ نہیں کر سکتے۔ لیکن وہ بہت سے ایسے کام کر سکتے ہیں جو میں نہیں کر سکتی۔
آٹھ سال کی وہ بچی above average تھی۔ لیکن اُس کا تجزیہ excellent تھا۔
دنیا میں صرف ہر مقابلہ جیتنے والے lucky نہیں ہوتے۔ سب کچھ کر جانے والے lucky نہیں ہوتے۔ Lucky وہ ہوتے ہیں، جنہیں یہ پتہ چل جائے کہ وہ کس کام میں اچھے ہیں اور پھر وہ اُس کام میں excel کریں اور فالتو کاموں میں اپنی energy ضائع نہ کریں۔ وہ اب اسے سمجھا رہا تھا۔ رئیسہ کے آنسو تھم چکے تھے وہ اب باپ کا چہرہ دیکھ رہی تھی۔
”You have done exceptionally well
لیکن بس تم spelling bee میں اتنا ہی اچھا پرفارم کر سکتی تھی۔ وہاں کچھ بچے ایسے ہوں گے جو تم سے زیادہ اچھے تھے اور انہوں نے تمہیں ہرا دیا۔ لیکن اُن درجنوں بچوں کا سوچو جنہیں تم ہرا کر فائنل راؤنڈ میں پہنچی تھی، کیا وہ بھی unlucky ہیں؟ وہ کیا یہ سوچ لیں کہ وہ ہمیشہ ہارتے رہیں گے؟ سالار اُس سے پوچھ رہا تھا، رئیسہ نے بے اختیار سر نفی میں ہلایا۔
حمین، جبریل اور عنایہ کبھی سپورٹس میں اتنے exceptional نہیں رہے، جتنے بہت سے دوسرے بچے ہیں۔ اس لئے یہ مت کہو وہ سب کر سکتے ہیں۔ اس بار امامہ نے اُسے سمجھایا، رئیسہ نے سر ہلایا۔ بات ٹھیک تھی، وہ سپورٹس میں اچھے تھے لیکن وہ سپورٹس میں اپنے سکولز کے سب سے نمایاں اسٹوڈنٹس نہیں تھے۔
تمہیں اب یہ دیکھنا ہے کہ تم کس چیز میں بہت اچھا کر سکتی ہو اور پھر تمہیں اُسی چیز میں دل لگا کر کام کرنا ہے۔ کوئی بھی کام اس لئے نہیں کرنا کہ وہ جبریل، حمین اور عنایہ کر رہے ہیں۔ سالار نے بے حد سنجیدگی سے کہا تھا۔
یہ ضروری نہیں ہوتا کہ صرف اے پلس والا ہی زندگی میں بڑے کام کرے گا۔ بڑا کام اور کامیابی تو اللہ کی طرف سے ہوتی ہے۔ تم دعا کیا کرو کہ اللہ تم سے بہت بڑے کام کروائے اور تمہیں بہت کامیابی دے۔ رئیسہ نے اُن گلاسز کو ٹھیک کیا جو سالار نے اُسے لگائے تھے۔
تم رئیسہ ہو۔ حمین، جبریل اور عنایہ نہیں ہو۔ اور ہاں تم اُن سے الگ ہو that’s the best thing الگ ہونا بہت اچھی چیز ہوتا ہے رئیسہ اور زندگی spelling bee کا ایک مقابلہ نہیں ہوتا جس میں کچھ لفظ spell کر کے ٹائٹل جیتنے کے بعد ہم خود کو lucky اور نہ جیتنے پر unlucky سمجھیں۔ وہ اب اُس کا ربن دوبارہ باندھ رہا تھا، بال ٹھیک کرتے ہوئے۔
زندگی میں words کو spell کرنے کے علاوہ بھی بہت ساری skills چاہیے۔ ایک، دو نہیں۔ 100-50 اور تمہارے پاس بہت ساری skills ہیں۔ اور بھی آئیں گی۔ You will shine like a star جس جگہ بھی جاؤ گی، جو بھی کرو گی۔
رئیسہ کی آنکھیں، چہرہ اور ہونٹ بیک وقت چمکے تھے۔
اور پتہ ہے صحیح معنوں میں lucky کون ہوتا ہے؟ وہ جس کی اچھائی اور اخلاق لوگوں کو اُسے یاد رکھنے پر مجبور کر دے اور تم میری بہت اچھی اور بہت اخلاق والی lucky بیٹی ہو۔ وہ اب ٹیبل سے اُتر کر باپ کے گلے لگی تھی، جیسے اُسے سمجھ آ گئی تھی کہ وہ اسے کیا سمجھانا چاہ رہا تھا۔
“Yes I am”
اُس نے بڑی گرم جوشی سے سالار سے کہا، اُس سے الگ ہو کر وہ امامہ کے گلے لگی۔ امامہ نے اُس کی ہیئر ربنز نکال کر ایک ٹھیک کیں۔
سالار نے کافی کا ایک سپ لیا اور اُسے ادھورا چھوڑ کر وہاں سے چلا گیا، اُسے تاخیر ہو رہی تھی۔
بابا مجھ سے خفا تو نہیں ہوئے نا؟ سالار کے جانے کے بعد رئیسہ نے امامہ سے پوچھا۔
نہیں خفا نہیں ہوئے۔ لیکن تمہارے رونے سے ہمارا دل دُکھا۔ امامہ نے جواباً کہا۔
”I am so sorry Mummy…
میں دوبارہ کبھی نہیں روؤں گی۔ اُس نے امامہ سے وعدہ کیا، امامہ نے اُسے تھپکا۔
تم میری بہادر بیٹی ہو۔ عنایہ آپی کی طرح بات بات پر رونے والی تو نہیں۔ رئیسہ نے پرجوش انداز میں سر ہلایا، اُس کے ماں باپ اُسے سب سے زیادہ بہادر اور اخلاق والا سمجھتے تھے اور یہ اُسے پتہ ہی نہیں تھا۔ وہ بات چیت آٹھ سالہ رئیسہ کے ذہن پر نقش ہو گئی تھی۔ امامہ اور سالار کو دوبارہ کبھی اُس کو ایسی کسی بات پر سمجھانا نہیں پڑا تھا۔ اُسے اب یہ طے کرنا تھا کہ وہ کس کام میں اچھی تھی کس کام میں excel کر سکتی تھی۔ اُس کے باپ نے اُسے کہا تھا۔ lucky وہ تھا، جو یہ بوجھ لیتا اور پھر اپنی energy کسی اور چیز میں ضائع کرنے کے بجائے اسی ایک چیز میں لگاتا۔ رئیسہ بھی lucky کی اس نئی تعریف پر پورا اُترنے کی جد و جہد میں مصروف تھی۔
*************
حمین سکندر کا انتخاب MIT کے SPLASH پروگرام میں ہو گیا تھا۔ وہ اپنے سکول کے اس پروگرام کے لئے منتخب ہونے والا پہلا اور واحد بچہ تھا۔ اس پروگرام کے تحت MIT ہر سال غیر معمولی ذہانت کے حامل کچھ بچوں کو دنیا کی اُس ممتاز ترین یونیورسٹی میں چند ہفتے گزارنے اور وہاں پڑھانے والے دُنیا کے قابل ترین اساتذہ سے سیکھنے کا موقع دیتی۔ یہ بہترین دماغوں کو بے حد کم عمری میں ہی کھوجنے، پرکھنے اور چننے کا MIT کا اپنا ایک عمل تھا۔
امامہ اور سالار کے لئے حمین سکندر کے سکول کی طرح یہ بے حد اعزاز کی بات تھی۔ لیکن اس کے باوجود وہ یہ جاننے پر کہ حمین سکندر کا انتخاب ہو گیا تھا، فکرمند ہوئے تھے۔ وہ جبریل سکندر کو تن تنہا کہیں بھی بھیج سکتے تھے لیکن حمین کو اکیلے، اس عمر میں، اتنے ہفتوں کے لئے کہیں بھیجنا ان کے لئے بے حد مشکل فیصلہ تھا۔ خاص طور پر امامہ کے لئے جو اُس دس سال کے بچّے کو خود سے الگ کر کے اس طرح اکیلے بھیجنے پر بالکل تیّار نہیں تھی لیکن یہ سکول کا اصرار اور حمین کی ضد تھی جس نے اُسے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا تھا۔
ہم ان کی قسمت کو کنٹرول نہیں کر سکتے۔ کل کیا ہوتا ہے؟ کس طرح ہوتا ہے؟ کوئی چیز ہمارے ہاتھ میں نہیں ہے، تو میں مستقبل کے خوف کی وجہ سے انہیں گھر میں قید نہیں کروں گا کہ دنیا انہیں کوئی نقصان نہ پہنچا دے۔ سالار نے واضح طور پر اُسے کہا تھا۔
اُسے جانے دو۔ دیکھنے اور کھوجنے دو دنیا کو۔ ہماری تربیت اچھی ہو گی تو کچھ نہیں ہو گا اسے۔ اُس نے امامہ کو تسلّی دی اور وہ بھاری دل سے مان گئی تھی۔
حمین سکندر ساڑھے دس سال کی عمر میں پہلی بار MIT کی دنیا کھوجنے گیا تھا۔ ایک عجیب تجسس اور جوش و خروش کے ساتھ۔ MIT سے زیادہ اُسے اس بات پر ایکسائٹمنٹ ہو رہی تھی کہ وہ کہیں اکیلا جا رہا تھا۔ کسی بڑے کی طرح۔
اُسے گھر سے بھیجتے ہوئے اُن سب کا خیال تھا، وہ وہاں چند دن سے زیادہ نہیں رہ پائے گا ایڈجسٹ نہیں ہو گا۔ Home sick ہو جائے گا اور واپس آنے کی ضد کرے گا اُن کی توقعات بالکل غلط ثابت ہوئی تھیں۔ ایسا بالکل نہیں ہوا تھا۔ حمین سکندر وقتی طور پر ہی سہی لیکن وہاں جا کر وہ سب کچھ بھول گیا تھا۔ وہ ”دُنیا” تھی اور ”دُنیا” نے اس ساڑھے دس سال کے بچّے کو بری طرح fascinate کیا تھا۔ اُس دنیا میں ذہانت واحد شناختی علامت تھی اور وہ بے حد ذہین تھا۔ وہاں سے واپس آتے ہوئے وہ اپنے ماں باپ کے لئے یہ خوش خبری بھی لایا تھا کہ SPLASH میں آنے والا دنیا کا ذہین ترین دماغ قرار دیا گیا تھا۔ 150 کی ذہانت رکھنے والے صرف چند بچوں میں سے ایک۔ جنہوں نے اس پروگرام کو اس شناخت کے ساتھ اٹینڈ کیا تھا اور اپنی صلاحیتوں کے حساب سے اُن بچوں میں سرفہرست۔ حمین سکندر کو نہ صرف اُس کی ذہنی صلاحیتوں کی وجہ سے سنگل آؤٹ کیا گیا تھا بلکہ MIT نے اُسے ان بچوں میں بھی سر فہرست رکھا تھا جن کی پرورش MIT مستقبل کے ذہین ترین دماغوں کی کھوج کے پروگرام کے تحت کرنا چاہتی تھی۔ اور حمین بے حد خوش تھا اس سب کے اغراض و مقاصد سے پوری طرح باخبر نہ ہونے کے باوجود وہ صرف اسی بات پر خوش تھا کہ اُسے اب بار با رMIT میں جانے کے مواقع ملنے والے تھے کیوں کہ اُس ادارے نے کچھ منتخب بچوں کے لئے ہر سال MIT کے کچھ پروگرامز میں شرکت اوپن کر دی تھی۔ یہ اُن بچوں کی ذہانت کو ایک tribute یا previlage تھی۔
مجھے ہر سال وہاں جانا ہے۔ اس نے گھر آتے ہی کھانے پر ماں باپ کو اطلاع دی تھی۔ جنہوں نے اُس کی بات کو زیادہ توجہ سے نہیں سنا تھا۔ اگر کسی چیز پر سالار سکندر نے غور کیا تھا تو وہ یہ تھی کہ وہ اتنے دن اُن سے الگ رہنے کے باوجود بے حد خوش اور مطمئن تھا۔
نہیں میں نے کسی کو miss نہیں کیا۔ میں نے وہاں بہت انجوائے کیا۔ اُس نے اپنی ازلی صاف گوئی کا مظاہرہ کرتے ہوئے امامہ کی ایک بات کے جواب میں اعلان کیا تھا اور وہ دونوں اسے دیکھ کر رہ گئے
تھے۔ وہ بڑا ہوتا اور ایسی بات کرتا تو وہ زیادہ غور نہ کرتے لیکن وہ ایک بچہ تھا اور اگر کسی جگہ کے ماحول میں اس قدر مگن ہو گیا تھا کہ اسے اپنی فیملی بھی بھول گئی تھی اور وہ اپنے گھر اور گھر والوں سے strong bonding ہونے کے باوجود انہیں بھول گیا تھا تو یہ کوئی بڑی حوصلہ افزا بات نہیں تھی اُن دونوں کے لئے۔
آپ کو پتہ ہے بابا! مجھے اگلے سال ڈھیر ساری previlages ملیں گی، جب میں وہاں جاؤں گا پھر اُس سے اگلے سال اُس سے بھی زیادہ۔ پھر اُس سے اگلے سال اُس سے بھی زیادہ۔ وہ بے حد ایکسائٹمنٹ سے اُن دونوں کو بتا رہا تھا جیسے وہ یہ پلان خود ہی کر کے آیا تھا کہ اُسے اب وہاں ہر سال جانا تھا۔
آپ کو پتہ ہے، میں MIT کے کسی بھی Summer program کے لئے اپلائی کروں تو مجھے enrol کر لیں گے وہ، اور مجھ سے کوئی فیس نہیں لیں گے، بلکہ مجھے وہاں سب کچھ فری ملے گا۔ اُس کا خیال تھا اُس کے ماں باپ اس خبر پر اُس کی طرح ایکسائٹڈ ہو جائیں گے۔ وہ ایکسائٹڈ نہیں ہوئے تھے، وہ سوچ میں پڑ گئے تھے۔
تو بابا آپ مجھے ہر سال وہاں بھیجا کریں گے نا؟” اس نے بالآخر سالار سے کہا۔ وہ جیسے آتے ہی جانے کی یقین دہانی چاہتا تھا۔
اگلا سال بہت دور ہے حمین۔ جب اگلا سال آئے گا تو دیکھا جائے گا۔ سالار نے گول مول انداز میں اُس کی بات کا جواب دیتے ہوئے کہا۔
لیکن ہمیں پلاننگ تو ابھی سے کرنی چاہیے نا۔ وہ حمین کو دیکھ کر رہ گیا تھا۔ وہ پہلی بار کام کو پلان کرنے کی بات کر رہا تھا یہ اُس ننھے ذہن پر MIT کا پہلا اثر تھا۔
میں نے سوچا ہے۔ میں MIT سے ہی پڑھوں گا۔ اس نے جیسے باپ کو بتایا تھا۔ ”بہت زیادہ” وہ دونوں اُس کی بات سے محفوظ ہوئے۔ وہاں جانے سے پہلے تک وہ تعلیم میں دلچسپی نہ رکھنے کا اعلان کرتا رہتا تھا اور اُس کو یقین تھا دُنیا کا بڑا انسان وہ ہوتا ہے جو صرف ہائی سکول تک پڑھے اور بس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور وہ چونکہ خود بھی ایک بڑا انسان بننا چاہتا تھا تو وہ بھی صرف ہائی سکول تک ہی پڑھنا چاہتا تھا۔
اور اُس کے بعد؟” سالار نے اُس سے پوچھا۔
اُس کے بعد میں نوبل جیتوں گا۔ اُس نے بے حد اطمینان سے کہا تھا۔ یوں جیسے وہ spelling bee کی بات کر رہا ہو۔ وہ دونوں اس کا چہرہ دیکھ کر رہ گئے۔
**********
آپ کیا ڈھونڈ رہے ہیں پاپا؟ سالار نے بے حد نرمی سے سکندر عثمان سے پوچھا تھا۔ وہ دو گھنٹے سے اُن کے پاس بیٹھا، باتیں کرنے سے زیادہ اُن کی باتیں سن رہا تھا۔ ان کی گفتگو میں اب الزائمر جھلکنے لگا تھا۔ وہ جملوں کے درمیان رک کر کسی لفظ کو یاد نہ آنے پر گڑبڑاتے، اُلجھتے، جھلاتے، اور بھول جاتے۔ اور پھر وہ بات کرتے کرتے اٹھ کر کمرے میں ادھر ادھر جاتے ہوئے چیزیں اٹھا اٹھا کر دیکھنے لگے تھے۔ یوں جیسے انہیں کسی چیز کی تلاش تھی۔ سالار نے انہیں بالآخر ٹوک کر پوچھ ہی لیا تھا۔
یہیں رکھا تھا۔ انہوں نے سالار کے جواب میں کہا، وہ اپنے بیڈ کے سائیڈ ٹیبل کے پاس کھڑے تھے۔ سالار بہت دور صوفہ پر بیٹھا ہوا تھا۔
کیا؟ سالار نے کُریدا۔
ایک سگار باکس کامران نے بھیجا تھا، وہی دکھانا چاہتا تھا تمہیں۔” انہوں نے بے حد ایکسائٹڈ انداز میں کہا اور ایک بار پھر تلاش شروع کر دی۔ سگار باکس چھوٹی چیز نہیں تھا وہ اس کے باوجود اُسے تکیے اٹھا اٹھا کر ڈھونڈ رہے تھے۔ پتہ نہیں اُس وقت ان کے ذہن میں ڈھونڈنے والی چیز کی کوئی شکل بھی تھی یا نہیں۔ وہ الزائمر کے اُس مریض کو پہلی بار اس حالت میںمرض کے اثرات کے ساتھ دیکھ رہا تھا۔ جو اُس کا باپ تھا۔
شاید ملازم نے کہیں رکھا ہے۔ میں اُسے بلاتا ہوں۔ انہوں نے بالآخر تھک کے کہا تھا۔ وہ اب واپس سالار کے پاس آ کر بیٹھ گئے تھے اور انہوں نے اُسے آوازیں دینا شروع کر دیں۔ سالار نے اُنہیں ٹوکا۔
پاپا انٹرکام ہے اس کے ذریعہ بلائیں۔ سالار نے سائیڈ ٹیبل پر پڑا انٹرکام کا ریسیور اٹھاتے ہوئے باپ سے کہا۔
اس سے وہ نہیں آتا۔ انہوں نے جواباً کہا اور دوبارہ اُسے آوازیں لگانے لگے۔ وہ ایک ہی سانس میں جسے آوازیں دے رہے تھے اُن کے گھر اس وقت وہ ملازم موجود نہیں تھا، وہ چھٹی پر تھا اور سالار یہ جانتا تھا۔ وہ اُن کا پرانا ملازم تھا، اُسے لگا اُسے باپ کی مدد کرنی چاہیے۔ ملازم کو خود بلانا چاہیے۔
نمبر بتا دیں. میں بلاتا ہوں اُسے۔ سالار نے سکندر عثمان کو ایک بار پھر ٹوکا تھا۔
نمبر نہیں پتہ، ٹھہرو میں فون سے دیتا ہوں تمہیں۔ انہوں نے اُس کی بات کے جواب میں کہا تھا اور پھر رکے بغیر اپنی جیبیں ٹٹولنے لگے۔ سالار عجیب کیفیت میں انٹرکام کا ریسیور ہاتھ میں لئے بیٹھا رہا
وہ سیل فون جسے اُس کا باپ تلاش کر رہا تھا وہ سامنے میز پر پڑا تھا۔ وہ اُس انٹرکام کے نمبر کو، اپنے سیل فون کی یادداشت میں ڈھونڈنا چاہتا تھا۔ اور وہ انٹرکام پر اُس ملازم کا یک حرفی نمبر یاد نہیں رکھ پاتا تھا۔ وہ الزائمر کے جن کے ہاتھوں اپنے باپ کو زیر ہوتے دیکھ رہا تھا، تکلیف بڑا چھوٹا لفظ تھا اس کیفیت کے لئے جو اُس نے محسوس کی تھی۔ وہ بہت عرصے کے بعد امامہ اور بچوں کے ساتھ دو ہفتے کے لئے پاکستان آیا تھا۔ طیّبہ کی طبعیت ٹھیک نہیں تھی اور سالار اور اُس کی ملاقات کئی مہینوں سے نہیں ہوئی تھی اور اب وہ طیّبہ کے ہی بے حد اصرار پر بالآخر پاکستان آیا تھا اپنی فیملی کے ساتھ تو اپنے والدین کی حالت کو دیکھ کر بہت اپ سیٹ ہوا تھا۔خاص طور پر سکندر عثمان کو دیکھ کر۔
اُس نے انہیں ہمیشہ بے حد صحت مند اور چاق و چوبند دیکھا تھا۔ وہ ایک مشین کی طرح کام کرتے رہے تھے ساری زندگی۔ اور کام اُن کی زندگی کی سب سے پسندیدہ تفریح تھی اور اب وہ بڑی حد تک گھر تک محدود ہو گئے تھے۔ گھر میں سکندر عثمان اور نوکروں کے علاوہ کوئی نہیں تھا۔
اسلام آباد میں ہی مقیم سالار کا بڑا بھائی اپنی فیملی کے ساتھ اپنے گھر میں رہتا تھا۔ وہ سکندر عثمان اور طیّبہ کو اپنے ساتھ تو رکھنے پر تیّار تھا لیکن وہ، اُس کے بیوی، بچے، سکندر عثمان کے اُس پرانے گھر میں شفٹ ہونے پر تیّار نہیں تھے اور طیّبہ اور سکندر عثمان اپنا گھر چھوڑ کر بیٹے کے گھر نہیں جانا چاہتے تھے۔ سالار سمیت سکندر کے تینوں بیٹے بیرونِ ملک تھے، بیٹی کراچی۔ وہ گھر جو کسی زمانے میں افراد خانہ کی چہل پہل سے گونجتا تھا اب خالی ہو چکا تھا۔ سالار پہلی بار سکندر عثمان کی بیماری کے انکشاف پر بھی بے حد اپ سیٹ ہوا تھا۔ وہ انکشاف اُس پر اُس کی سرجری کے کئی مہینوں بعد ہوا تھا اور وہ بھی بے حد اتفاقی انداز میں جب سکندر عثمان اپنے ایک طبّی معائنے کے لئے امریکہ گئے تھے اور سالار کو اُن کی بیماری کی تفصیلات کا پتہ چلا تھا۔
آپ نے مجھے کیوں نہیں بتایا؟ اُس نے سکندر عثمان سے شکایت کی تھی۔ انہوں نے جواباً لاپروا انداز میں ہنستے ہوئے کہا تھا۔
کیا بتاتا یار۔ مجھے اپنی بیماری سے زیادہ تمہاری بیماری کا دُکھ ہے۔ میں 70 کا ہو چکا ہوں کوئی بیماری ہو نہ ہو کتنا جیوں گا میں؟ اور اس عمر میں الزائمر کے بغیر بھی کچھ یاد نہیں رہتا انسان کو۔ وہ اپنی بیماری کو معمول بنا کر پیش کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ایسے جیسے یہ کوئی چیز ہی نہیں تھی۔
اور اب وہی بیماری اُس کے سامنے اُس کے باپ کی یادداشت کو گُھن کی طرح کھانے لگی تھی۔
زندگی عجیب شے ہے، انسان اُس کے طویل ہونے کی دعا بھی کرتا ہے اور اس کی طوالت کے اثرات سے ڈرتا بھی ہے۔
سکندر عثمان ابھی تک سیل فون ڈھونڈتے جا رہے تھے۔ سالار نے فون اُٹھا کر اپنے باپ کے ہاتھ میں دے دیا۔
اوہ… اچھا…ہاں… یہ رہا… انہوں نے فون ہاتھ میں لیا پھر سوچنے لگے تھے، کس لیے لیا تھا۔
یہ فون کس لیے دیا ہے تم نے؟ میں نے مانگا تھا کیا؟ وہ اب اُس سے پوچھ رہے تھے، کوئی چیز سالار کے حلق میں گولہ بن کر پھنسی۔
نہیں، بس میں دینا چاہ رہا تھا آپ کو۔ وہ کہتے ہوئے یک دم اُٹھ گیا۔ وہ باپ کے سامنے رونا نہیں چاہتا تھا۔
تم اتنی جلدی جا رہے ہو، کیا اور نہیں بیٹھو گے؟ وہ جیسے مایوس ہوئے تھے۔
بیٹھوں گا، تھوڑی دیر تک آتا ہوں۔ وہ اُن سے نظریں چراتا بھرّائی آواز میں کہتا ہوا وہاں سے نکل گیا تھا۔
اپنے بیڈ روم سے متصل باتھ روم میں، باتھ ٹب کے کنارے بیٹھا وہ خود پر قابو نہیں رکھ سکا تھا۔ وہ سکندر عثمان کے بے حد قریب تھا اور یہ قربت آج عجیب طرح سے اذیّت دے رہی تھی اُسے۔ وہ اپنی زندگی کے ہنگاموں میں اتنا مصروف رہا تھا کہ اُس نے سکندر عثمان کی بگڑتی ہوئی ذہنی حالت کو نوٹس ہی نہیں کیا تھا۔ نوٹس تو تب کرتا جب وہ اُن سے باقاعدگی سے مل پاتا۔ SIF اُسے گرداب کی طرح الجھائے ہوئے تھا اُس کے پروجیکٹس نے اب اس کے پیروں کو پروں میں تبدیل کر دیا تھا۔ وہ سفر میں رہتا تھا۔ چار پانچ سال میں SIF دنیا کی بڑی فنانشل مارکیٹس میں ایک شناخت بنا رہا تھا۔ بے حد منفرد انداز میں تیز رفتار ترقی کے ساتھ۔ کام کی اس رفتار نے اُسے بہت سی چیزوں سے بے خبر بھی کیا تھا۔ وہاں بیٹھے ہوئے اُس نے اعتراف کیا تھا اور اب وہ حل ڈھونڈ رہا تھا اور حل ڈھونڈنے سے بھی نہیں مل رہا تھا۔ وہ دونوں اُن کے ساتھ مستقل امریکہ شفٹ ہونے پر کبھی تیار نہیں ہوتے، سالار کو اس کا اندازہ تھا اور امریکہ چھوڑ کر اُن کے پاس مستقل آجانا سالار کے لئے ممکن نہیں تھا۔ اس کے باوجود حل سامنے تھا۔ بے حد مشکل تھا، لیکن موجود تھا۔

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: