Aab e Hayat Novel by Umera Ahmed Read Online – Episode 36

0

آب حیات از عمیرہ احمد – قسط نمبر 36

–**–**–

”امامہ تم بچوں کے ساتھ پاکستان شفٹ ہو جاؤ۔” اُس رات اُس نے بالآخر انتظار کیے بغیر وہ حل امامہ کے سامنے پیش کر دیا تھا۔ امامہ کو اس کی بات سمجھ میں ہی نہیں آئی تھی۔
”کیا مطلب” میں چاہتا ہوں تم حمین، عنایہ اور رئیسہ کے ساتھ پاکستان آجاؤ۔ میرے پیرنٹس کو میری ضرورت ہے، میں اُن کے پاس نہیں ٹھہر سکتا لیکن میں انہیں اس حالت میں اکیلا بھی نہیں چھوڑ سکتا۔ تم نے دیکھا ہے پاپا کو۔” وہ بے حد رنجیدہ تھا۔
”ہم انہیں اپنے پاس رکھ سکتے ہیں وہاں امریکہ میں…” امامہ نے جیسے ایک تجویز پیش کرنے کی کوشش کی تھی۔
”وہ یہ گھر نہیں چھوڑیں گے اور میں اس عمر میں انہیں اور اپ سیٹ کرنا نہیں چاہتا۔ تم لوگ یہاں شفٹ ہو جاؤ… میں آتا جاتا رہوں گا… جبریل ویسے بھی یونیورسٹی میں ہے، اُسے گھر کی ضرورت نہیں ہے اور میں تو امریکہ میں بھی سفر ہی کرتا رہتا ہوں زیادہ۔ مجھے وہاں فیملی کے ہونے نہ ہونے سے زیادہ فرق نہیں پڑتا۔” وہ اُس سے نظریں ملائے بغیر کہہ رہا تھا۔ امامہ اُس کا چہرہ دیکھتی رہی وہ سب کچھ اس طرح آسان بنا کر پیش کر رہا تھا جیسے یہ کوئی مسئلہ ہی نہیں تھا۔ دو منٹوں کا کام تھا جو کیا جا سکتا تھا۔
”تمہارے اپنے پیرنٹس بھی ہیں یہاں، وہ بھی بہت بوڑھے ہیں۔ تم یہاں رہو گی تو ان سب کی دیکھ بھال کرسکو گی…” وہ اُس سے کہہ رہا تھا۔ امامہ نے کچھ خفگی سے اُس سے کہا۔
”تم یہ سب میرے پیرنٹس کے لئے نہیں کر رہے سالار۔ اس لئے ان کا حوالہ نہ دو۔”
”تم ان کے بارے میں فکر مند نہیں ہوتی کیا؟ انہیں اس عمر میں دیکھ بھال کی ضرورت ہوگی… کوئی 24 گھنٹے ساتھ نہ رہے، چند گھنٹے ہی رہے لیکن حال چال پوچھنے والا ہو۔” وہ کہہ رہا تھا۔ اپنے پیرنٹس کی بات کرنے سے زیادہ اُس کے پیرنٹس کی بات کر رہا تھا۔ امامہ کو بُرا لگا… اُسے اس جذباتی بلیک میلنگ کی ضرورت نہیں تھی۔
”سالار اتنے سالوں میں کبھی پہلے تم نے میرے پیرنٹس کی دیکھ بھال کو ایشو بنا کر مجھے پاکستان میں رکھنے کی بات نہیں کی۔ آج بھی اُن کو ایشو نہ بناؤ۔” وہ کہے بغیر نہیں رہ سکی تھی۔
”ہاں نہیں کی تھی کیوں کہ آج سے پہلے میں نے کبھی اپنے پیرنٹس کا یہ حال بھی نہیں دیکھا تھا۔” اُس نے جواباً کہا۔ وہ قائل نہیں ہوئی۔
”مجھے جذباتی طور پر بلیک میل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔” اُس نے اسی انداز میں کہا تھا۔
”تم ان کے پاس رہنا نہیں چاہتی؟ یہاں میرے گھر پر؟” سالار نے دو ٹوک انداز میں اُس سے پوچھا۔
”میں تمہارے ساتھ بھی رہنا چاہتی ہوں۔” اُس نے جواباً کہا۔ سالار نے اُس سے نظریں چُرا لیں۔
”اُن سب کو تمہاری ضرورت ہے امامہ۔”
”اور تم؟ تمہیں میری ضرورت نہیں ہے؟” امامہ نے گِلہ کیا تھا۔
”ان سب کے پاس زندگی کے زیادہ سال نہیں ہیں۔ میں یہ بوجھ اپنے ضمیر پر نہیں لینا چاہتا کہ میں نے زندگی کے آخری سالوں میں اپنے ماں باپ کی پروا نہیں کی۔” وہ کہہ رہا تھا۔ وہ اُس سے کہہ نہیں سکی وہ اُس کے ساتھ بھی تو اسی لئے چپکی رہنا چاہتی تھی۔ اُسے بھی تو اُس کی زندگی کا پتہ نہیں تھا۔ ڈاکٹرز نے کہا تھا 5-7 سال۔ زیادہ سے زیاہ دس سال۔ اور وہ اُسے اُس سے بھی پہلے اپنے سے الگ کررہا تھا۔ وہ یہ ساری باتیں سوچنا ہی نہیں چاہتی تھی۔ زندگی کے کسی بھیانک خواب کے بارے میں… مستقبل کے بُرے دنوں کے بارے میں… وہ فی الحال صرف حال کے بارے میں سوچنا چاہتی تھی… جو سامنے تھا… جو آج تھا… وہ اُسی میں جینا چاہتی تھی۔ ”تمہیں میری ضرورت ہے سالار… اکیلے تم کیسے رہو گے؟” وہ اُس سے کہہ رہی تھی۔” میں رہ لوں گا امامہ… تم جانتی ہو میں کام میں مصروف رہتا ہوں تو مجھے سب کچھ بھول جاتا ہے۔” یہ سچ تھا لیکن اُس کو نہیں کہنا چاہیے تھا۔ امامہ ہرٹ ہوئی تھی وہ کچھ بول نہیں سکی اُس کی آنکھیں آنسوؤں سے پل میں بھر گئی تھیں۔سالار اُس کے برابر صوفہ پر بیٹھا تھا اُس نے امامہ سے نظریں چُرانے کی کوشش کی تھی نہیں چرا سکا۔
”زندگی میں انسان صرف اپنی ضرورتوں کے بارے میں سوچتا رہے تو خود غرض ہوجاتا ہے۔” اُس نے امامہ کو جیسے وضاحت ایک فلاسفی میں لپٹ کر پیش کرنے کی کوشش کی تھی۔امامہ قائل نہیں ہوئی۔
”مجھے پتہ ہے تمہیں ضرورت نہیں ہے… نہ میری نہ بچوں کی۔ تمہارے لئے کام کافی ہے… کام تمہاری فیملی ہے، تمہاری تفریح بھی… لیکن میری زندگی میں تمہارے اور بچوں کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے۔ میرا کام اور تفریح صرف تم لوگ ہو۔” اُس نے بھرائی ہوئی آواز میں گلہ بھی کیا ، اُس کی بے حسی بھی بتائی، اپنی مجبوری بھی سنائی۔
”تم یہ نہیں سوچتے کہ تم ابھی انڈر ٹریٹمنٹ ہو، تمہیں بھی کسی خیال رکھنے والے کی ضرورت ہے۔” وہ جیسے اُسے یاد دلا رہی تھی بیماری کا نام لئے بغیر، کہ اُسے بھی تیمار دار کی ضرورت تھی۔
”پرانی بات ہوگئی امامہ… میں ٹھیک ہوں پانچ سال سے اس بیماری کے ساتھ زندگی گزاررہا ہوں… کچھ نہیں ہوتا مجھے۔” اس نے جیسے امامہ کے خدشات دیوار پر پڑھ کر بھی پھونک سے انہیں اڑایا تھا۔
”میں پاپا کو اس حال میں یہاں اس طرح نہیں چھوڑ سکتا نوکروں کے سر پر… میں حمین کو اُن کے پاس رکھنا چاہتا ہوں۔ لیکن میں حمین کو اکیلا یہاں نہیں رکھ سکتا اس لئے تمہاری ضرورت ہے اس گھر کو۔ تم اسے request سمجھو… خود غرضی یا پھر اصرار… لیکن میں چاہتا ہوں تم پاکستان آجاؤ… یہاں اس گھر میں۔” اس نے سالار کی آواز اور آنکھوں میں رنجیدگی دیکھی تھی۔
”میرے لئے تمہارے بغیر رہنا بے حد مشکل ہے… میں عادی ہو گیا ہوں تمہارا بچوں کا… گھر کے آرام کا… لیکن میرے ماں باپ کے بے حد احسانات ہیں ہم پر…صرف مجھ پر ہی نہیں ہم دونوں پر… میں اپنی comfort کو اُن کی comfort کے لئے چھوڑنے کا حوصلہ رکھتا ہوں… یہ فرض ہے مجھ پر۔” وہ جو کچھ اُس سے کہہ رہا تھا وہ مشورہ اور رائے نہیں تھی نہ ہی درخواست…وہ فیصلہ تھا جو وہ کر چکا تھا اور اب صرف اُسے سنا رہا تھا۔
وہ اُس کا چہرہ دیکھتی رہ گئی وہ غلط نہیں کہہ رہا تھا لیکن غلط وقت پر کہہ رہا تھا، وہ اُس سے قربانی مانگ رہا تھا لیکن بہت بڑی مانگ رہا تھا۔ وہ کچھ بھی کہے بغیر اُس کے پاس سے اُٹھ گئی تھی۔ وہ saint نہیں تھی لیکن یہ بات سالار کو سمجھ نہیں آتی تھی۔
*****
دو ہفتوں کے بعد امریکہ واپس جاتے ہوئے سالار نے سکندر عثمان کو اپنے فیصلے کے بارے میں بتایا تھا وہ خوش نہیں ہوئے تھے۔
”نہیں بے وقوفی کی بات ہے یہ… امامہ اور بچوں کو یہاں شفٹ کرنا۔” انہوں نے فوری طور پر کہا تھا۔ ”ان کی سٹڈیز کا ہحج ہوگا اوریہاں کیوں لارہے ہو اُنہیں تُک کیا بنتی ہے؟” سالار نے انہیں یہ نہیں بتایا تھا کہ وہ اُن کے لئے کررہا تھا یہ سب۔
”بس پاپا! وہاں مشکل ہورہا ہے سب کچھ manage کرنا، مالی طور پر۔” اُس نے باپ سے جھوٹ بولا وہ انہیں زیرِ احسان کرنا نہیں چاہتا تھا۔ ”بہت زیادہ ہوتے جارہے ہیں وہاں اخراجات۔ saving بالکل نہیں ہو رہی۔ یہاں کچھ عرصہ رہیں گے تو تھوڑا بہت save کر لیں گے ہم۔” اُس نے بے حد روانی سے سکندر عثمان سے کہا۔
”لیکن تم تو کہہ رہے تھے SIF بہت کامیاب ہے… تمہارا پیکج بہت اچھا ہے۔” وہ کچھ متوحش ہوئے۔
”ہاں وہ تو بہت اچھا جارہا ہے اُس کے حوالے سے مسائل نہیں ہیں مجھے لیکن بس savings نہیں ہو پا رہی پھر بچیاں بڑی ہو رہی ہیں میں چاہ رہا ہوں کچھ سال پاکستان میں رہیں۔ اپنی ویلیوز کا پتہ ہو، پھر لے جاؤں انہیں۔” اُس نے اپنے بہانے کو کچھ اضافی سہارے دیے۔ سکندر عثمان ابھی بھی پوری طرح قائل نہیں ہوئے تھے۔
”تم اکیلے کیسے رہو گے سالار؟ تمہارا ابھی علاج ہو رہا ہے۔ بیوی، بچوں کے بغیر وہاں کون خیال رکھے گا تمہارا؟”وہ اپنی تشویش کا اظہار کر رہے تھے۔
”میں سوچ رہا ہوں، میرے پاس جو اکاؤنٹ میں کچھ رقم ہے وہ تمہیں دے دوں تاکہ تمہیں اگر کوئی فنانشل مسئلہ ہے تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔” سالار نے اُن کی بات کاٹ دی۔
”بس پاپا! اب نہیں۔” اُس نے باپ کا ہاتھ پکڑ لیا تھا۔ ”اب اور کچھ نہیں۔ کتنا کریں گے آپ میرے لئے؟ مجھے بھی کچھ کرنے دیں۔ احسان نہیں کر سکتا تو حق ہی ادا کرنے دیں مجھے۔” اُس نے عجیب بے بسی سے باپ سے کہا۔
”مجھے تمہاری فکر رہے گی۔” سالار نے ایک بار پھر اُن کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔ ”مجھے بھی آپ کی فکر رہتی ہے پاپا۔”
”اس لئے رکھنا چاہتے ہو ان سب کو یہاں؟” سکندر عثمان جیسے بوجھ گئے تھے۔
”آپ جو چاہے سمجھ لیں۔”
”میں اور طیّبہ بالکل ٹھیک ہیں، پرانے ملازم ہیں ہمارے پاس، وفادار۔ سب ٹھیک ہے۔ تم میری وجہ سے یہ مت کرو۔” وہ اب بھی تیّار نہیں تھے، اولاد پر انہوں نے ہمیشہ احسان کیا تھا۔ احسان لینے کی عادت ہی نہیں تھی اُنہیں اور وہ بھی عمر کے اس حصّہ میں۔ بے حد خواہش ہونے کے باوجود، مجبور ہونے کے باوجود، سکندر عثمان اولاد کو اپنی وجہ سے تکلیف میں نہیں ڈالنا چاہتے تھے۔ ”میں ویسے بھی سوچتا ہوں فیکٹری جایا کروں کبھی کبھار۔ کام مکمّل طور پر چھوڑ دیا ہے اس لئے زیادہ بھولنے لگا ہوں میں۔” وہ اپنے الزائمر کی شکل بدل رہے تھے۔
”تمہارے بیوی اور بچوں کو تمہارے پاس رہنا چاہیے سالار۔ تم زبردستی انہیں یہاں مت رکھو۔ میرے اور طیّبہ کے لئے بس۔” انہوں نے جیسے سالار کو سمجھانے کی کوشش کی۔
”زبردستی نہیں رکھ رہا پاپا! اُن کی مرضی سے ہی رکھ رہا ہوں۔ وہ یہاں آکر ہمیشہ خوش ہوتے رہیں ہیں، اب بھی خوش ہوں گے۔” اُس نے باپ کو تسلّی دی تھی۔ اُسے اندازہ بھی نہیں تھا، باپ کا تجربہ کتنا درست ہونے والا تھا۔
*****
”میں پاکستان نہیں جاؤں گا۔” پاکستان شفٹ ہونے کی سب سے زیادہ مخالفت حمین سکندر کی طرف سے آئی تھی اور یہ مخالفت صرف سالار کے لئے ہی نہیں امامہ کے لئے بھی خلاف توقع تھی۔ وہ پاکستان جانے کے لئے ہمیشہ تیار رہتا تھا۔ دادا کے ساتھ اُس کی بنتی بھی بہت تھی اور وہ دادی کا لاڈلا بھی تھا۔ پاکستان میں اُسے بڑی attractions دکھتی تھیں اور اب یک بیک مستقل طور پر پاکستان جاکر رہنے پر سب سے زیادہ اعتراضات اُسی نے کیے تھے۔
”بیٹا دادا اور دادی بوڑھے ہو گئے ہیں۔ تم نے دیکھا، وہ بیمار بھی تھے۔ انہیں care کی ضرورت ہے۔” امامہ نے اُسے سمجھانے کی کوشش کی تھی۔
”اُن کے پاس servants ہیں۔ وہ اُن کا اچھی طرح خیال رکھ سکتے ہیں۔” وہ بالکل قائل ہوئے بغیر بولا۔

”سرونٹ اُن کی اچھی کیئر نہیں کرسکتے۔” امامہ نے جواباً کہا۔
”آپ انہیں اولڈ ہوم بھیج دیں۔” وہ اُس معاشرے کا بچہ تھا۔ اُسی معاشرے کا بے رحم لیکن عملی حل بتا رہا تھا۔
”کل کو ہم بوڑھے ہو جائیں گے تو تم ہمیں بھی اولڈ ہوم میں بھیج دو گے۔” امامہ نے کچھ ناخوش ہوتے ہوئے اُس سے کہا۔
”آپ انہیں یہاں لے آئیں۔” حمین نے ماں کی خفگی کو محسوس کیا۔
”وہ یہاں نہیں آنا چاہتے۔ وہ اپنا گھر نہیں چھوڑنا چاہتے۔” امامہ نے اُس سے کہا۔
”پھر ہم بھی اپنا گھر کیوں چھوڑیں؟ میں اپنا سکول کیوں چھوڑوں؟” وہ دنیا کے دس ذہین ترین دماغوں میں سے ایک تھا۔ غلط بات نہیں کہہ رہا تھا۔ Rationally بات کر رہا تھا۔ دماغ کا سب سے بڑا مسئلہ یہی ہوتا ہے۔ وہ عقل سے سوچتا ہے، دل سے نہیں۔
”یہ ہمارا گھر نہیں ہے حمین! کرائے کا ہے۔ ہم صرف یہاں رہ رہے ہیں اور جب ہم سب پاکستان چلے جائیں گے تو بابا اور جبریل اس گھر کو چھوڑ دیں گے کیوں کہ انہیں اتنے بڑے گھر کی ضرورت نہیں ہوگی۔ جبریل ویسے بھی یونیورسٹی میں ہے۔ تمہارے بابا نیویارک شفٹ ہونا چاہتے ہیں۔” امامہ اُسے کہتی چلی گئی تھی۔
”جبریل پاکستان نہیں جائے گا؟” حمین نے پوچھا۔
”نہیں، تمہارے بابا اُسے اس لئے پاکستان بھیجنا نہیں چاہتے کیوں کہ وہ یونیورسٹی میں ہے۔ اُس کی سٹڈیز متاثر ہوں گی۔” امامہ نے اُسے سمجھایا۔
”میری بھی تو ہوں گی، مجھے بھی ہر سال MIT جانا ہے، میں کیسے جاؤں گا۔” وہ خفا ہوا تھا اور بے چین بھی۔ اُسے اپنا سمر پروگرام خطرے میں پڑتا دِکھا تھا۔
”تم ابھی سکول میں ہو۔ جبریل یونیورسٹی میں ہے… اور پاکستان میں بہت اچھے سکولز ہیں تم cover کر لو گے سب کچھ… جبریل نہیں کر سکے گا اُسے آگے میڈیسن پڑھنی ہے…” امامہ اُسے logic دینے کی کوشش کر رہی تھی جو حمین کے دماغ میں نہیں بیٹھ رہی تھی۔
“That’s not fair Mummy”
حمین نے دو ٹوک انداز میں کہا۔
”اگر جبریل پاکستان نہیں جائے گا تو میں بھی نہیں جاؤں گا… مجھے MIT جانا ہے۔” وہ واضح طور پر بغاوت کررہا تھا۔
”ٹھیک ہے تم مت جاؤ… میں عنایہ اور رئیسہ چلے جاتے ہیں تم یہاں رہنا اپنے بابا کے پاس…” امامہ نے یک دم اُس سے بحث کرنا بند کر دیا تھا۔”یہ تمہارے بابا کا حکم ہے اور ہم سب اس کو مانیں گے… تم disobey کرنا چاہتے ہو تو تمہاری مرضی، میں مجبور نہیں کروں گی۔”
امامہ کہتے ہوئے وہاں سے اُٹھ کر چلی گئی تھی۔ دُنیا کے وہ دو بہترین دماغ ایک دوسرے کے بالمقابل آگئے تھے۔
”تم پاکستان نہیں جانا چاہتے حمین؟” اُس رات سالار نے حمین کو بٹھا کر پوچھا تھا۔ امامہ نے اُسے ڈنر سے کچھ دیر پہلے اس کے انکار کے بارے میں بتایا تھا۔
”نہیں۔” حمین نے باپ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھتے ہوئے کہا تھا۔ ”اور کوئی بھی جانا نہیں چاہتا۔” اُس نے مزید تبصرہ کیا۔
”میں کسی اور کی نہیں صرف تمہاری بات کر رہا ہوں۔” سالار نے اُسے ٹوک دیا، حمین سر جھکائے چند لمحے خاموش بیٹھا رہا پھر اُس نے سر اُٹھا کر باپ کو دیکھا اور نفی میں سر ہلا دیا۔
”وجہ؟” سالار نے اُسی انداز میں کہا۔
”بہت ساری ہیں۔” اُس نے بے حد مستحکم انداز میں باپ کو جواب دیا۔
”کسی بھی کام کو کرنے یا نہ کرنے کی صرف ایک وجہ ہوتی ہے، باقی سب بہانے ہوتے ہیں۔ اس لئے تم صرف وجہ بتاؤ، بہانے نہیں۔” سالار نے اپنے گیارہ سالہ بیٹے کے ذخیرۂ الفاظ کی ہوا نکالتے ہوئے کہا۔ حمین اس میٹنگ کے لئے پہلے سے تیّار تھا اور وجوہات کو جمع کرنے پر بھی اچھا خاصا وقت صرف کر چکا تھا۔ باپ نے جیسے انگلی سے پکڑ کر دوبارہ زیرو پر کھڑا کر دیا تھا۔
”میں پاکستان میں adjust نہیں ہوسکتا۔” حمین نے بالآخر وہ ایک وجہ تلاش کر کے پیش کی۔
”اگر تم کانگو میں adjust ہوسکتے ہو تو پاکستان میں بھی ہو جاؤ گے۔ افریقہ سے زیادہ برا نہیں۔” سالار نے اُسی انداز میں کہا۔
”تب میں چھوٹا تھا۔” حمین نے مدافعانہ انداز میں کہا۔
”تم اب بھی چھوٹے ہی ہو۔” سالار نے بات کاٹی۔
”لیکن میں بڑا ہو رہا ہوں۔”حمین نے جیسے اعتراض کیا۔
”اُس میں کافی time لگے گا… تمہارے لئے کم از کم پچیس سال۔” سالار نے بے حد سنجیدگی سے اُسے tease کیا وہ باپ کو دیکھ کر رہ گیا۔
“I am serious Baba”
اُس نے سالار کی بات سے محفوظ ہوئے بغیر کہا۔ ”میں پاکستان نہیں جانا چاہتا۔ It’s not a good idea for Mummy either ” وہ کسی بڑے کی طرح باپ کے فیصلے پر تبصرہ کررہا تھا۔ سالار خاموشی سے اُس کی بات سُن رہا تھا۔
”مجھے یہاں تعلیم حاصل کرنی ہے۔ میں وہاں holidays پر جاسکتا ہوں ہمیشہ کے لئے نہیں۔” وہ بالکل امریکی انداز میں بے حد صاف گوئی سے باپ کو بتا رہا تھا کہ وہ کیا کر سکتا تھا اور کیا نہیں۔
”چند سالوں کی بات ہے حمین۔ اُس کے بعد تم بھی اس قابل ہوجاؤ گے کہ امریکہ میں واپس آکر کہیں بھی پڑھ سکو۔” سالار نے اُس کی بات کے جواب میں کہا، وہ گیارہ سال کا بچّہ باپ کو بے حد مدلّل دلائل دینے کی کوشش کررہا تھا۔
”چند سال سے بہت فرق پڑتا ہے۔ ایک سال سے بھی بہت فرق پڑتا ہے۔” اُس نے سالار کی بات کے جواب میں کہا۔
”تو تم یہ قربانی نہیں دو گے؟” سالار نے اس بار بات بدلی۔
”جبریل بھی تو دے سکتا ہے قربانی… آپ بھی تو دے سکتے ہیں۔ میں ہی کیوں؟” اُس نے جواباً اُسی انداز میں کہا۔
دنیا کے بڑے بڑے اداروں کے برابر ہو کے، ان کے سامنے بیٹھ کر اُن سے financial deals کرنا اور بات تھی۔ اُن کے سوالات اور اعتراضات کے انبار کو سمیٹنا آسان کام تھا۔ اپنے گیارہ سال کے بیٹے کو اس بات پر قائل کرنا زیادہ مشکل تھا کہ وہ قربانی کیوں دے جو اُس کا بھائی نہیں دے رہا تھا…اُس کا باپ بھی نہیں دے رہا تھا… پھر وہ کیوں؟
اور اس کیوں کا جواب فارمولوں اور equations میں نہیں ملتا تھا، صرف اُن اخلاقی اقدار میں ملتا تھا جن سے اُس نے اپنی اولاد کی تربیت کی تھی لیکن اس کے باوجود اُس کی اولاد اُس سے یہ سوال کررہی تھی۔
”تم جانتے ہو تمہارے دادا کو الزائمر ہے، وہ بہت بوڑھے ہو چکے ہیں اور انہیں ضرورت ہے کہ کوئی ان کے پاس ہو… تم سے انہیں زیادہ محبت ہے اس لئے میں چاہتا تھا تم اُن کے پاس رہو۔”سالار نے جیسے وہ جواب ڈھونڈنا شروع کیے جن سے وہ اسے سمجھا پاتا۔
”ویسے بھی جب تمہاری ممی، عنایہ اور رئیسہ کے ساتھ یہاں سے چلی جائیں گی تو تم یہا ں کس کے پاس رہو گے؟ گھر میں تمہاری دیکھ بھال کے لئے کوئی نہیں ہوگا۔”سالار نے کہنا شروع کیا۔
“I can take care of myself” حمین نے باپ کی
بات ختم ہونے پر کہا تھا۔”میں اتنا چھوٹا نہیں ہوں بابا… میں اکیلا رہ سکتا ہوں۔ آپ مجھے بورڈنگ میں بھی رکھ سکتے ہیں یا پھر میں کسی relative کے پاس بھی رہ سکتا ہوں۔” اُس نے سالار کے سامنے ایک کے بعد ایک solutions رکھنا شروع کیا۔
”اُن میں سے ایک بھی option میرے لئے قابلِ قبول نہیں ہے، تمہیں سب کے ساتھ پاکستان جانا ہے۔” سالار نے دو ٹوک انداز میں اُس سے کہا۔
”آپ مجھ میں اور جبریل میں فرق کیوں کرتے ہیں بابا؟” اُس کے اگلے جملے نے سالار کا دماغ گھما کر رکھ دیا تھا۔ اس نے اپنے گیارہ سالہ بیٹے کا چہرہ دیکھا جس نے زندگی میں پہلی بار اُس سے ایسا سوال یا ایسی شکایت کی تھی۔
”فرق…؟ تم اس فرق کو define کرسکتے ہو؟” سالار پہلے سے بھی زیادہ سنجیدہ ہو گیا تھا۔ وہ سمجھتا تھا اُسے پانچ منٹ لگنے والے تھے زیادہ سے زیادہ اُسے سمجھانے میں اور اب جیسے یہ ایک پینڈورہ باکس ہی کھلنے لگا تھا۔
”آپ جبریل کو مجھ سے بہتر سمجھتے ہیں۔” اگلا تبصرہ پہلے سے بھی زیادہ خطرناک تھا۔ ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے وہ دیکھتے رہے۔ پھر کچھ دیر بعد سالار نے اُس سے کہا۔
”اور میں اُسے کیوں بہترسمجھتا ہوں؟” وہ جیسے اُس کے اس الزام کی بھی وضاحت چاہتا تھا۔
”کیوں کہ وہ حافظِ قرآن ہے… میں نہیں ہوں۔” بے حد روانی سے کہے گئے اس جملے نے سالار کو فریز کیا تھا… وہ واقعی پینڈورہ باکس ہی کھول بیٹھا تھا لیکن بہت غلط حوالے سے۔
وہ باغی نہیں تھا… نہ ہی بدتمیز نہ ہی بدلحاظ، لیکن وہ جو سوچتا اور محسوس کرتا تھا وہ کہہ دیتا تھا۔ زندگی میں پہلی بار سالار کو لگا وہ سکندر عثمان تھا اور اپنے سامنے آن بیٹھا تھا… لاجواب… بے بس… تاریخ یقیناً اپنے آپ کو دہراتی تھی لیکن اپنی مرضی کے وقت پر۔
”تمہیں جبریل برا لگتا ہے؟” سالار نے بے حد مدہم آواز میں اُس سے پوچھا۔
”He is my only brother…
مجھے وہ کیسے بُرا لگ سکتاہے، لیکن مجھے آپ لوگوں کا یہ attitude اچھا نہیں لگتا…” حمین کو یہ شکایت کب سے ہونی شروع ہوئی تھی اُس کا اندازہ سالار کو نہیں ہوا۔ لیکن وہ اس وقت وہاں عجیب سی کیفیت میں بیٹھا ہوا تھا۔
”ایسا نہیں ہے حمین۔” اُس نے بالآخر حمین سے کہا۔ وہ اپنے سلیپنگ سوٹ کے پاجامے کو گھٹنے سے رگڑ رہا تھا جیسے اُس میں سوراخ ہی کر دینا چاہتا ہو۔
”بابا… میں آجاؤں؟” وہ جبریل تھا جو دروازے پر دستک دے کر اندر داخل ہوا تھا… گفتگو کے عجیب مرحلے پر وہ اندر آیا تھا۔ سالار اور حمین دونوں ہی اپنی اپنی جگہ پر کچھ جزبز ہوئے تھے۔
”ہاں آجاؤ۔” سالار نے اُس سے کہا، وہ اندر آکر حمین کے برابر میں صوفہ پر بیٹھ گیا پھر اُس نے ایک نظر حمین کو دیکھا جو اُس سے نظریں نہیں ملا رہا تھا پھر اُس نے باپ سے کہا۔
”دادا کے پاس میں پاکستان چلا جاتا ہوں… میں زیادہ اچھے طریقے سے اُن کی دیکھ بھال کر سکوں گا” کمرے میں عجیب خاموشی چھائی تھی۔ نہ سالار کچھ کہہ سکا، نہ حمین کچھ بول سکا تھا۔ اُن دونوں کی آواز زیادہ اونچی نہیں تھی لیکن جبریل پھر بھی یقیناً یہ گفتگو سُن کر ہی آیاتھا۔
”ممی اور حمین یہیں رہیں آپ کے پاس… میں اکیلے بھی اُن کو سنبھال سکتا ہوں۔” وہ ہمیشہ کی طرح مدہم، مستحکم آواز میں کہہ رہا تھا۔
”پاکستان میں ویسے بھی میڈیسن کی تعلیم کے لئے کم وقت لگتا ہے۔ یونیورسٹی کا سال ضائع ہونے سے بھی فرق نہیں پڑے گا۔” وہ اتنے آرام سے کہہ رہا تھا جیسے یہ کوئی مسئلہ ہی نہیں تھا… جبریل ایسا ہی تھا، کسی panic کے بغیر مسئلے کا حل نکالنے والا۔
”میں تم سے بعد میں بات کروں گا جبریل۔”سالار نے اُسے درمیان میں ہی ٹوک دیا۔
”میں گھر میں سب سے بڑا ہوں بابا… میری ذمّہ داری سب سے زیادہ ہے… حمین کو آپ یہیں رہنے دیں اور مجھے جانے دیں… اور میں یہ سب بہت خوشی سے کہہ رہا ہوں، مجھے کوئی خفگی نہیں ہے۔”جبریل نے سالار کے ٹوکنے کے باوجود اُس سے کہا اور اُٹھ کھڑا ہوا۔
اُس کے کمرے سے جانے کے بعد بھی سالاراور حمین خاموش ہی بیٹھے رہے تھے وہ بے حد awkward صورت حال تھی جس کا سامنا ان دونوں نے چند لمحے پہلے کیا تھا۔
”میرے اور امامہ کے لئے تم میں اور جبریل میں کوئی فرق نہیں۔ اُسے قرآن پاک حفظ کرنے کے لئے عزت دیتے ہیں لیکن تم تینوں پر اُسے برتری نہیں دیتے۔ اس لئے یہ کبھی مت سمجھنا کہ ہم دونوں تم چاروں میں کوئی تفریق کریں گے۔” سالار نے بہت لمبی خاموشی کے بعد اُس سے کہنا شروع کیا تھا۔
”تمہارے دادا میری ذمّہ داری ہیں اور میرا خیال تھا میں اپنی ذمّہ داری تمہارے اور جبریل کے ساتھ بانٹ سکتا تھا… اس لئے یہ کوشش کی۔ لیکن تم پر زبردستی نہیں کروں گا میں… تم نہیں جانا چاہتے، مت جاؤ۔” سالار اُس سے کہتے ہوئے اٹھ کر چلا گیا، حمین وہیں بیٹھا رہا… سر جھکائے… خاموش…سوچتے ہوئے۔
 
Read More:  Kaho Mujh Se Mohabbat Hai by Iqra Aziz – Episode 3

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: