Aab e Hayat Novel by Umera Ahmed Read Online – Episode 37

0

آب حیات از عمیرہ احمد – قسط نمبر 37

–**–**–

“I hope you are not upset with me”
جبریل سٹڈی ٹیبل پر بیٹھا پڑھ رہا تھا جب اُس نے کمرے کا دروازہ کھلتے اور حمین کو اندر آتے دیکھا۔ دونوں کے درمیان خاموش نظروں کا تبادلہ ہوا پھر جبریل دوبارہ اپنی کتاب کی طرف متوجہ ہوگیا۔ حمین بستر پر جاکر لیٹا اُسے دیکھتا رہا۔ پھر اُس نے بالآخر اُسے مخاطب کیا تھا۔
“Upse?t”
جبریل نے پلٹ کر اُسے کچھ حیرانی دیکھا تھا ”کیوں؟” حمین اُٹھ کر بیٹھ گیا بڑے محتاط انداز میں اُس نے گفتگو کا آغاز کیا۔
”تم نے ہماری باتیں سُنی تھیں؟” وہ کچھ بھی کہنے سے پہلے جیسے تصدیق چاہتا تھا۔ ایک لمحہ کے لیے جبریل اُسے دیکھتا رہا، پھر اُس نے سر ہلاتے ہوئے کہا ”ہاں” حمین کے تاثرات بدلے۔ ہلکی شرمندگی نے اُسے جیسے کچھ اور defensive کیا تھا۔
”اسی لئے پوچھ رہا تھا تم مجھ سے خفا تو نہیں ہو نا؟” حمین نے اب اپنے جملے کو ذرا سا بدلا۔”نہیں” جبریل نے اُسی انداز میں کہا۔حمین اپنے بستر سے اُٹھ کر اُس کے قریب آکر کھڑا ہوگیا۔”لیکن مجھے مایوسی ضرور ہوئی۔” جبریل نے اُس کے قریب آنے پر جیسے اپنے جملے کو مکمّل کیا۔حمین اب سٹڈی ٹیبل سے پشت ٹکائے کھڑا تھا۔
I didn’t mean that…” تم میرے بھائی ہو اور میں تم سے بہت پیار کرتا ہوں…Trust me I have nothing against you…”حمین نے جیسے اُسے صفائی دینے کی کوشش کی۔
“I know it….”
جبریل نے نرمی سے اُسے ٹوکا اور اُس کا بازو ہلکے سے تھپتھپایا ” لیکن تمہیں بابا سے ایسی بات نہیں کرنی چاہیے تھی”…He must have been shocked… جبریل اب اُسے سمجھا رہا تھا۔”تم واقعی سمجھتے ہو کہ وہ مجھے تم سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں… فرق کرتے ہیں؟” وہ اُس سے کہہ رہا تھا”جبکہ مجھے لگتا تھا وہ تمہیں زیادہ importance دیتے ہیں۔” جبریل نے جواباً اُسے کہا تھا…”کافی سال ایسے ہی لگتا رہا…” جبریل نے جیسے بات ادھوری چھوڑی، حمین نے کچھ تجسس سے کریدا ”پھر؟” ”پھر میں بڑا ہوگیا۔” وہ مسکرایا تھا…And I realized…” کہ ایسا نہیں ہے۔” وہ کہہ رہا تھا ” کچھ qualities کو وہ مجھ میں زیادہ پسند کرتے ہیں کچھ تم میں، لیکن انہوں نے ہم دونوں میں کبھی فرق نہیں کیا، اگر کیا بھی ہوگا تو اُس کی کوئی وجہ ہوگی۔” وہ اُس کا بڑا بھائی تھا اور بڑے بھائی ہی کی طرح اُسے سمجھا رہا تھا۔ حمین خاموشی سے بات سُن رہا تھا۔ جب اُس نے بات ختم کی تو حمین نے اُس سے کہا۔
”میں یہ نہیں چاہتا کہ تم اپنی یونیورسٹی چھوڑ کر پاکستان جاؤ… میں اتنا selfish نہیں ہوں…” وہ جیسے اُسے صفائی دینے کی کوشش کررہا تھا “I just want to stay here” اُس نے جبریل سے کہا تھا۔
” تمہیں کوئی selfish سمجھ بھی نہیں رہا حمین … تمہاری چوائس کی بات ہے اور بابا اس لئے تمہیں سمجھانے کی کوشش کر رہے تھے کیوں کہ تم چھوٹے ہو اور یہاں تم اکیلے نہیں رہ سکتے… بابا بہت بزی ہیں، کئی بار کئی کئی دن گھر نہیں آ پاتے… تم اکیلے کیسے رہو گے اُن کے ساتھ… صرف اس لئے تمہیں پاکستان بھیجنا چاہتے تھے وہ…” اُس نے جبریل کی بات کاٹ دی اور بے حد ہلکی لیکن مستحکم آواز میں اُس سے کہا۔ I don’t want you to go to Pakistan” تمہاری سٹڈیز متاثر ہوں گی… میں چلا جاؤں گا…حالانکہ میں خوش نہیں ہوں لیکن مجھے لگتا ہے میں سب کو ناراض کر کے یہاں stay نہیں کرسکتا۔” وہ کہتے ہوئے اپنے بستر کی طرف چلا گیا۔ جبریل کو لگا وہ کچھ اُلجھا ہوا تھا… جبریل اُسے لیٹتے ہوئے دیکھتا رہا پھر اُس نے حمین سے کہا۔
”چند سالوں کی بات ہے حمین… پھر بابا تمہیں بھی واپس امریکہ بلا لیں گے”…You can pursue your dreams… جبریل نے جیسے اُسے تسلّی دینے کی کوشش کی۔
“I don’t dream much…” اُس نے جواباً چادر اپنے اوپر کھینچتے ہوئے کہا تھا… جبریل اُسے دیکھ کر رہ گیا… حمین کے دماغ میں کیا تھا اُسے بوجھنا بڑا مشکل تھا، صرف دوسروں کے لئے ہی نہیں، شاید اُس کے اپنے لئے بھی۔
جبریل ایک بار پھر اپنی سٹڈی ٹیبل پر پڑھنے بیٹھ گیا تھا وہ اُس ویک اینڈ پر گھر آیا ہوا تھا اب اُسے کل پھر واپس جانا تھا، اُس کا اگلا سمسٹر شروع ہونے والا تھا۔
“?Who will stay with Baba” کاغذ پر کچھ لکھتے ہوئے اُس کا ہاتھ رُک گیا… جبریل نے پلٹ کر ایک بار پھر بستر پر لیٹتے ہوئے حمین کو دیکھا، اُس نے تقریباً دس منٹ بعد اُسے مخاطب کیا تھا جب وہ یہ سمجھ رہا تھا کہ وہ سو چکا تھا۔ اور اُس کے سوال نے کسی کرنٹ کی طرح اُسے جیسے حمین کی سوچ تک رسائی دی تھی۔ وہ واقعی بے حد گہرا تھا…یہ MIT نہیں تھی… امریکہ نہیں تھا… جو حمین کو واپس جانے سے کھینچ رہا تھا… یہ سالار سکندر کی بیماری تھی جس نے حمین کو اُسے اکیلا چھوڑ دینے پر متوحش کیا تھا۔
وہ وہاں باپ کے پاس رُکنا چاہتا تھا… بغیر اُسے یہ بتائے کہ وہ اُس کی وجہ سے وہاں رہنا چاہتا تھا… کیوں کہ وہ اُس کے بارے میں فکرمند تھا… بالکل اُسی طرح جیسے سالار سکندر اپنے باپ کے بارے میں فکرمند تھا ، لیکن اُسے یہ بتانا نہیں چاہتا تھا…
” تم بابا کی وجہ سے رُکنا چاہتے ہو؟” جبریل نے جیسے اُس کا راز افشا کر دیا تھا۔ حمین کے چادر سے ڈھکے وجود میں حرکت ہوئی… شاید اپنے دل کا بھید یوں فاش ہوجانے کی توقع نہیں تھی اُسے… لیکن اُس نے جواب نہیں تھا… اُس نے چادر بھی اپنے چہرے سے نہیں ہٹائی… جبریل پھر بھی اُسے دیکھتا رہا۔
حمین سکندر ایک خرگوش کی طرح سُرنگیں بنانے کا ماہر تھا… پلک جھپکنے میں کیا کیا کھود کر کہاں سے کہاں پہنچنے کا شوقین… وہ پلک جھپکتے میں دل سے نکلتا تھا وہ لمحہ بھر میں دل میں واپس آنکلتا تھا۔
جبریل سکندر اپنے اُس چھوٹے بھائی کو دیکھتا رہا جس کی اُسے اکثر سمجھ نہیں آتی تھی اور جب آتی تھی تو اُسے اپنی سمجھ بوجھ پر شک ہونے لگتا تھا۔
******
”تم سب لوگ جارہے ہو؟” بار بار پوچھنے اور اس کا جواب عنایہ سے ہاں میں ملنے کے باوجود ایرک کو یقین نہیں آرہا تھا کہ یہ ممکن تھا اور کبھی ہوسکتا تھا۔
”لیکن کیوں؟” اگلا سوال کرنے کا خیال اُسے بڑی دیر بعد آیا تھا حالانکہ عنایہ اُس سوال سے پہلے اس کا بھی جواب دے چکی تھی۔
”بابا چاہتے ہیں ہم کچھ سال دادا دادی کے پاس رہیں… وہ اکیلے ہیں پاکستان میں۔” عنایہ سے ہمیشہ کی طرح بڑے تحمل سے اس کے اس سوال کا جواب ایک بار پھر دہرایا۔
”چند سال؟ کتنے سال؟” ایرک بے حد ڈسٹربڈ تھا۔”پتہ نہیں…” عنایہ نے جواب دیا اور اُسے واقعی اس سوال کا جواب نہیں پتہ تھا۔
”لیکن یہ گھر کیوں چھوڑ رہے ہو تم لوگ؟ تمہارے فادر اور جبرل تو نہیں جا رہے؟” ایرک نے اُسی انداز میں کہا تھا۔
”بابا نیویارک شفٹ ہورہے ہیں جبریل ویسے ہی یونیورسٹی میں ہے… اتنا بڑا گھر ہماری ضرورت نہیں رہا اب۔” عنایہ نے دہرایا۔ لیکن تم پریشان مت ہو… ہم لوگ امریکہ تو آتے جاتے رہیں گے…اور تم پاکستان آسکتے ہو… جب بھی تمہارا دل چاہے۔” عنایہ کو اندازہ تھا اُس کی اپنی فیملی کے ساتھ جذباتی وابستگی کا… وہ اُن کے بغیر اکیلا رہ جانے والا تھا۔
وہ دونوں اس وقت سکول کے گراؤنڈ کے ایک بینچ پر بریک کے دوران بیٹھے ہوئے تھے…ایرک نے اُس کی باتوں کے جواب میں کچھ بھی نہیں کہا تھا، وہ بس خاموش بیٹھا رہا تھا یوں جیسے اُس shock کو digest کرنے کی کوشش کررہا تھا جو عنایہ کے انکشاف نے اُسے دیا تھا۔
”کیا میں تم لوگوں کے ساتھ نہیں جاسکتا؟” ایک لمبی خاموشی کے بعد ایرک نے بالآخر اُس سے کہا۔ سوال نے عنایہ کو مشکل میں ڈال دیا۔ جواب وہ جانتی تھی لیکن دے نہیں سکتی تھی۔
”تمہاری ممّی اور فیملی کو تمہاری ضرورت ہے، تم اُنہیں چھوڑ کر ہمارے ساتھ کیسے جاسکتے ہو؟” عنایہ نے اپنے انکار کو بے حد مناسب الفاظ میں اُس تک پہنچایا تھا۔
”ممّی کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا… میں اُن سے اجازت لے سکتا ہوں… کیا تم لوگ مجھے اپنے ساتھ رکھ سکتے ہو؟” ایک اور سوال آیا… عنایہ ایک بار پھر وہیں کھڑی ہوگئی۔
”ایرک میں نہیں جانتی… میں ممّی اور بابا سے پوچھ سکتی ہوں لیکن اپنی فیملی کو اس طرح چھوڑ کر ایک دوسری فیملی کے ساتھ جانا ٹھیک نہیں ہے۔” عنایہ نے کہا تھا۔ وہ 13 سال کی تھی اُسے بڑوں کی طرح نہیں سمجھا سکتی تھی پھر بھی اُس نے کوشش کی تھی۔
ایرک اُس کی بات پر خاموش رہا پھر اُس نے کہا
”چند سالوں تک میں ویسے ہی یونیورسٹی چلا جاؤں گا… گھر سے تو ویسے بھی جانا ہی ہوگا مجھے۔” اُس نے سوچے سمجھے بغیر کہا۔
”پھر تو اور بھی ضروری ہے کہ یہ وقت تم اپنی فیملی کے ساتھ گزارو۔” عنایہ نے اُسی نرم لہجے میں کہا۔
”میں اپنے آپ کو تمہاری فیملی کا حصّہ سمجھتا ہوں، کیا تم لوگ ایسا نہیں سمجھتے؟” ایرک نے جواباً اُس سے کہا اور جیسے پھر سے اُسے مشکل میں ڈالا۔
”میں ممّی سے بات کروں گی ایرک۔” عنایہ نے اس argument سے نکلنے کے لئے جیسے ایک حل تلاش کیا۔
”اگر تم لوگ چلے گئے تو میرا گھر ایک بار پھر سے ٹوٹ جائے گا۔” ایرک نے اُس سے کہا ”میرے پاس کوئی ایسی جگہ نہیں رہے گی جہاں میں جا سکوں۔” اُس نے جیسے منّت والے انداز میں کہا تھا یوں جیسے یہ سب عنایہ کے ہاتھ میں تھا، وہ چاہتی تو سب کُچھ رک جاتا۔
عنایہ کا دل بُری طرح پسیجا تھا۔
”ایسے مت کہو ایرک… دور جانے سے یہ تھوڑی ہوتا ہے کہ تمہارے ساتھ ہمارا تعلق بھی ختم ہوجائے گا، ہم لوگ ملتے رہیں گے… بات بھی کریں گے Emails بھی… چھٹیوں میں تم ہمارے پاس پاکستان آسکتے ہو… اور ہم یہاں امریکہ… کچھ بھی ختم ہونے نہیں جارہا۔” عنایہ نے اُسے تسلّی دینے کی کوشش کی، یہ جانتے ہوئے بھی کہ ایرک ٹھیک کہہ رہا تھا… فاصلہ دیو ہوتا ہے، سارے تعلق کھاجاتا ہے… پیار کا، دل کا ، دوستی کا، رشتوں کا۔
”اگر وہ سب نہیں رک سکتے تو تم رُک جاؤ۔”ایرک نے یک دم اُس سے کہا، وہ بُری طرح گڑبڑائی۔
”میں کیسے رُک سکتی ہوں… پہلے ہی حمین ضد کررہا ہے… اور اُس کی بات کوئی نہیں مان رہا اور مجھے تو کوئی اعتراض بھی نہیں ہے… میں ممّی کی help کرنا چاہتی ہوں دادا دادی کا خیال رکھنے میں۔” اُس نے ایرک سے کہا تھا، وہ بے اختیار اُس سے کچھ کہنا چاہتا تھا لیکن رُک گیا۔ اتنے سال عنایہ کے ساتھ پڑھنے اُس کے ساتھ دوستی اور تقریباً ہر روز اُس کے گھر جانے کے باوجود اُن کے درمیان ایسی بے تکلفی نہیں تھی کہ وہ اُسے کچھ بھی کہہ دیتا یا کہہ سکتا۔ عنایہ سکندر کا وہ رکھ رکھاؤ ماں باپ کی طرف سے genes میں آیا تھا یا خاندانی تربیت تھی، لیکن یہ جس بھی وجہ سے تھا اس نے عنایہ سکندر کو ہمیشہ اپنی کلاس کے لڑکوں کے لئے enigmatic رکھا تھا اور ایرک کے لئے fantasy… وہ جس معاشرے میں پل بڑھ رہے تھے وہاں “I love you” ہیلو ہائے جیسی چیز بن کر رہ گئی تھی… کوئی بھی کسی سے بھی کبھی بھی کہہ سکتا تھا اور سننے کے لئے تیّار رہتا تھا۔ نہ یہ بُری چیز سمجھی جاتی تھی نہ بُرا بنادینے والی چیز… اس کے باوجود ایرک کو جھجھک تھی اُسے لگتا تھا وہ اگر کبھی عنایہ سے اپنی محبّت کا اظہار اس طرح کرے گا تو وہ ناراض ہوجائے گی اور پھر شاید اس گھر میں اُس کا داخلہ ہی بند ہوجائے گا۔ اور پھر اس نے امامہ سے وعدہ کیا تھا کہ وہ ایسی کوئی بات عنایہ سے نہیں کہے گا جب تک وہ بڑا نہیں ہوجاتا، زندگی میں کچھ بن نہیں جاتا… اور ایرک اب اچانک اپنے آپ کو ایک مخمصے میں پارہا تھا… وہ اب جارہی تھی… شاید ہمیشہ کے لئے… اور پتہ نہیں وہ لوگ دوبارہ کبھی مل بھی پاتے تھے یا نہیں تو کیا اُسے اُس سے کہنا چاہیے تھا وہ سب جو وہ عنایہ کے لئے دل میں محسوس کرتا تھا… یا ایسے ہی خاموش رہنا چاہیے تھا۔

اُس دن پہلی بار عنایہ کے حوالے سے ایرک بُری طرح پریشان ہوا تھا… اُسے یہ نہیں لگ رہا تھا کہ و ہ جارہی تھی، اُسے لگ رہا تھا وہ اُسے کھونے والا تھا… اور اُس کے پاس اس مسئلے کا کوئی حل فور ی طور پر سمجھ نہیں آرہا تھا اور جو حل وہاں بیٹھے بیٹھے ایرک کا بالآخر سمجھ آیا تھا… وہ کس قدر بے وقوفانہ تھا اس کا اُسے اندازہ بھی نہیں تھا۔
******
“I want to marry your daughter”
یہ اُس دو صفحوں پر مشتمل خط کی ہیڈ لائن تھی جو سالار کو ایرک کی طرف سے ملا تھا اور سالار نے بے حد خاموشی کے عالم میں اُس خط کو پڑھا تھا۔ وہ شاکڈ ہوا تھا اس لئے نہیں کہ وہ ایرک کی طرف سے ایسے کسی خط کی توقع نہیں کر رہا تھا بلکہ اس لئے کیوں کہ اُس نے یہ سوچا ہی نہیں تھا کہ عنایہ اتنی بڑی ہو گئی ہے کہ کوئی اُس کے حوالے سے اُس سے ایسی بات بھی کر سکتا تھا… وہ اس معاملے میں روایتی ہی تھا جسے ابھی بھی اپنی بیٹی بہت چھوٹی لگ رہی تھی۔
امامہ اُسے چائے دینے بیڈروم میں آئی تھی جب اُس نے ڈاک چیک کرتے سالار کو ایک کاغذ ہاتھ میں لئے سوچوں میں گُم دیکھا۔ وہ چائے کا کپ رکھ کر جانے لگی تھی جب سالار نے اُسے روک لیا اور وہ خط اُسے تھما دیا۔ امامہ نے کچھ اُلجھے انداز میں اُس خط کو پکڑا تھا لیکن پہلی ہیڈنگ پر نظر ڈالتے ہی اُس کا دماغ جیسے بھک سے اُڑ گیا تھا… دوسری لائن پر نظر ڈالے بغیر بھی وہ جانتی تھی وہ کون ہوسکتا تھا، غصّے کی ایک لہر اُس کے اندر اتر آئی تھی اور سُرخ چہرے کے ساتھ اُس نے سالار سے کہا ”ایرک؟”
سالار نے سر ہلاتے ہوئے چائے کا سپ لیا اور اُسے کہا ”سارا لیٹر پڑھو۔” امامہ نے لیٹر پر ایک نظر ڈالتے ہوئے کہا ”اسے پڑھے بغیر بھی میں جانتی ہوں اُس نے کیا لکھا ہوگا۔” وہ پھر بھی خط پڑھ رہی تھی۔ سالار چونکا تھا ”تم سے بات کی ہے اُس نے پہلے؟” ”نہیں میں پھر بھی جانتی ہوں” امامہ نے بالآخر خط ختم کرتے ہوئے اُسے تہہ کر کے سالار کی طرف بڑھایا۔ وہ بہت خفا لگ رہی تھی۔
خط میں ایرک نے حتی المقدور بے حد مناسب انداز میں سالار سکندر سے عنایہ کے لئے اپنی پسندیدگی کا اظہار کیا تھا… وہ اُس سے کس قدر محبت کرتا تھا اور کیوں اُس کے لئے عنایہ کا ساتھ ضروری تھا… پھر اُس نے سالار کو بتایا تھا کہ وہ اُس کے لئے کیا کیا کرسکتا تھا اور عنایہ کو وہ کتنا خوش رکھے گا۔
وہ خط اُس کی اپنی بیٹی کے حوالے سے نہ لکھا گیا ہوتا تو سالار اُس خط کو پڑھ کر محفوظ ہوتا ، ہنستا اور شاید ایرک سے چھیڑ چھاڑ بھی کرتا لیکن وہ اُس کی اپنی بیٹی کے حوالے سے تھا… بچگانہ ہوتے ہوئے بھی issue بچگانہ نہیں رہا تھا۔ عنایہ پسند کرتی ہے ایرک کو؟” جو پہلا خیال سالارکے ذہن میں آیا تھا وہ اب یہ آیا تھا۔
”تم کیسی باتیں کرتے ہو سالار… عنایہ بے چاری کو پتہ تک نہیں ہوگا کہ یہ کیا خیالی پلاؤ پکاتا رہتا ہے… اگر ایسی کوئی بات ہوتی تو وہ مجھ سے کہتی… ایرک ایک فیملی فرینڈ ہے، بوائے فرینڈ نہیں ہے۔” امامہ نے بے حد ناگواری سے اُس کے سوال کو بالکل رد کرتے ہوئے جواب دیا ۔
” یہ ضروری نہیں ہے امامہ کہ ہمیں اپنی اولاد کے دل کی ہر بات پتہ ہو۔” امامہ نے اُس کی بات کاٹ دی اور کہا ”مجھے ہے” وہ ہنس پڑا ” میں دن رات اُن کے ساتھ رہتی ہوں سالار… تم نہیں رہتے… تم باپ ہو اولاد کو اور طرح جانتے ہو، میں ماں ہوں اُن کو اور طرح دیکھتی ہوں۔” اُس نے سالار کے ہنسنے پر جیسے وضاحت کی تھی۔ ”تم ٹھیک کہہ رہی ہو اس کے باوجود یہ ضروری نہیں ہے کہ 24 گھنٹے بھی اگر اولاد کو نظروں کے سامنے رکھا جائے تو اُن کے دلوں کو بھی دیکھا جاسکے۔ میں خوش فہمیاں اور غلط فہمیاں دونوں ہی نہیں پالتا امامہ… باپ ہوں اس لئے rational ہوکر سوچ رہا ہوں… ماں کی طرح جذباتی ہوکر نہیں۔” امامہ چند لمحوں کے لئے خاموش ہوگئی، وہ ٹھیک کہہ رہا تھا، وہ دونوں کئی سالوں سے اکٹھے تھے اُسے یہ خوش گمانی نہیں ہونی چاہیے تھی کہ عنایہ کو ایرک کی پسندیدگی کے بارے میں بالکل ہی اندازہ نہیں ہوگا۔اُس کا دل چاہتا تھا نہ ہو… لیکن سالار دماغ کی بات کہہ رہا تھا۔
” میں عنایہ سے پوچھ لوں گی۔” اُس نے یک دم کہا ”کیا؟” سالار چائے پیتے پیتے رکا”ایرک کے حوالے سے… اس خط کے حوالے سے… لیکن میری سمجھ میں نہیں آتا میں کیسے اُس سے…” وہ عجیب طرح سے اُلجھ کر رکی “She is just a kid” سالار اُس کی بات پر ہنستا ” ہاں یہ خط پڑھتے ہوئے میں بھی یہی سوچ رہا تھا کہ کوئی میری بیٹی کے بارے میں اس طرح سوچ بھی کیسے سکتا ہے…She is just a kid… لیکن یہ زندگی ہے اور ہم امریکہ میں رہ رہے ہیں جہاں آٹھ نو سال کے بچے بچیاں بھی بوائے فرینڈز اور گرل فرینڈز کے concept سے واقف ہیں۔ اس لئے ہمیں بھی کچھ زیادہ realistic ہوکر اس صورت حال کو دیکھنا پڑے گا… تم ابھی عنایہ سے بات مت کرو… مجھے ایرک سے بات کرنے دو۔” سالار نے جیسے اُ س صورت حال کا تجزیہ کرتے ہوئے ایک حل نکالا۔
”اور اُس سے مل کر تم کیا کرو گے؟” امامہ کو جیسے یہ حل پسند نہیں آیا تھا ”اسی حوالے سے گفتگو کروں گا… اُسے سمجھانے کی کوشش کروں گا کہ یہ سب کتنا بچگانہ ہے اور کیوں ممکن نہیں ہے۔”سالار نے جواباً کہا۔
”دو تین سال پہلے بھی ایرک نے ایسی ہی بات کی تھی عنایہ کے بارے میں… تب بھی میں نے اُسے سمجھایا تھا کہ ایسا نہیں ہوسکتا، وہ مسلمان نہیں ہے اور بے حد چھوٹا ہے لیکن میں کچھ سختی سے منع اس لئے نہیں کرسکی تھی اُسے کیوں کہ اُس وقت وہ اپنے باپ کی موت کی وجہ سے بہت اپ سیٹ تھا۔ میں نہیں چاہتی تھی وہ اور اپ سیٹ ہو۔” امامہ نے سالار کو پہلی بار ایرک کے ساتھ ہونے والی وہ گفتگو دہرائی تھی۔
سالار اُس کی بات پر جیسے حیران ہوا ”تم نے کیا کہا تھا تب اُسے؟”
میں نے اُس سے کہا کہ وہ ابھی صرف اپنی تعلیم پر توجہ دے اور مجھ سے وعدہ کرے کہ وہ عنایہ سے اس بارے میں بات نہیں کرے گا جب تک وہ اپنی تعلیم مکمل نہیں کر لیتا۔”امامہ نے اُسے بتایا۔
“?And he agreed”
سالار نے جواباً اس سے پوچھا۔ امامہ نے سر ہلادیا ”اُس نے عنایہ سے کبھی کوئی ایسی ویسی بات نہیں کی ورنہ وہ مجھے ضرور بتاتی۔” امامہ نے کہا۔
”اسی لئے اس نے خط میں ریفرنس دیا ہوا تھا کہ وعدے کے مطابق میں عنایہ کے بجائے آپ سے اپنی خواہش کا اظہار کر رہا ہوں… اور میں سمجھ نہیں پارہا تھا کہ وہ کس وعدے کا ریفرنس دے رہا ہے۔” سالار پہلی بار amused نظر آیا تھا۔ امامہ کے چہرے پر اب بھی سنجیدگی تھی۔
”میرا خیال ہے اب مجھے اس سے ضرورملنا چاہیے، یہ ساری صورت حال بے حد دل چسپ ہے۔” سالار نے کہا اور امامہ نے بُرا منایا۔
” کیا دلچسپی ہے اس صورت حال میں؟ تمہیں زندگی میں ہمیشہ weird لوگ اور weird situations ہی اچھی لگی ہیں۔” وہ کہے بغیر نہیں رہ سکی۔
”بالکل ٹھیک کہہ رہی ہو تم… تم سے میری شادی اس کا ثبوت ہے… اور دیکھو یہ کتنی اچھی رہی ہے ہم دونوں کے لئے” وہ اُسے tease کررہا تھا… اپنی اُس wit لئے جو اُس کا خاصہ تھی۔
زندگی کے اتنے سال ساتھ گزارنے کے باوجود وہ آج بھی اُسے لاجواب کردینے کی صلاحیت رکھتا تھا اور وقتاً فوقتاً اس کا مظاہرہ کرتا رہتا تھا۔
”تم ایرک سے مل کر کیا کرنا چاہتے ہو؟” امامہ نے اُس کے تبصرے کو مکمل طور پر نظر انداز کرتے ہوئے پوچھا۔
”بات چیت کرنا چاہتا ہوں، اُس کی sincerity دیکھنا چاہتا ہو ں اُس پروپوزل کے حوالے سے۔”
وہ ہول کر رہ گئی تھی ” کیا مطلب ہے تمہارا سالار؟ تم ایک تیرہ سال کے بچے کے پروپوزل کی بات کر رہے ہو… ایک غیر مسلم کی… اور تم اپنی بیٹی کے لئے اسے consider کرنے کی بات کررہے ہو؟ تمہارا دماغ ٹھیک ہے نا؟ یہ مذاق نہیں ہے…”امامہ نے بے حد خفا ہوکر اُس سے کہا تھا۔
”ہاں میں جانتا ہوں یہ مذاق نہیں ہے۔ وہ تیرہ سال کا بچّہ ہے ، یہ میں بھی جانتا ہوں… غیر مسلم ہے ، یہ بھی میں جانتا ہوں… لیکن وہ تیرہ سال کا بچّہ اگر دس گیارہ سال کی عمر میں بھی یہی پروپوزل دیتا ہے اور اپنے وعدے کی پاسداری کر رہا ہے تو پھر میں اُسے غیر سنجیدگی سے نہیں لے سکتا۔” سالار اب سنجیدہ ہو گیا تھا۔ امامہ بے یقینی سے اُس کا چہرہ دیکھتی رہی۔
”تم عنایہ کے لئے اُسے consider نہیں کرسکتے…Don’t tell me کہ تم ایسا کررہے ہو؟”
”میں صرف اُس ایک option کو دیکھ رہا ہوں جو زندگی میں پہلی بار میری بیٹی کے حوالے سے آیا ہے۔” سالار نے جواباً کہاتھا۔
”سالار میں کسی غیر مسلم کا option اپنی بیٹی کے لئے consider نہیں کروں گی۔” امامہ نے دو ٹوک انداز میں اُس سے کہا ”مذاق میں بھی نہیں۔” سالار نے اُس کے چہرے کو بغور دیکھتے ہوئے کہا تھا۔
” کسی غیر مسلم کا option میں بھی consider نہیں کروں گا لیکن کسی ایسے غیر مسلم کا ایسا ضرور کروں گا جو مسلمان ہونے کی خواہش اور ارادہ رکھتا ہو۔” اُس نے بھی اُسی انداز میں کہا۔
”میں اُس option کو بھی consider نہیں کروں گی… میں نہ idealistic ہوں نہ ہی fantasies پر یقین رکھتی ہوں، میں اپنی بیٹی کو کسی مشکل صورت حال میں نہیں ڈالوں گی، ایسے کسی ممکنہ رشتے کے ذریعہ۔” امامہ نے اُس کی بات کے جواب میں کہا۔
”ہم رسک دوسروں کے لئے لے سکتے ہیں، دوسروں کو نصیحتیں بھی کرسکتے ہیں اور دوسروں کو ایسے بڑے کاموں پر اکسا بھی سکتے ہیں اور اُن کی حوصلہ افزائی بھی کر سکتے ہیں لیکن یہ سب چیزیں اپنے بچوں کے لئے ہم نہیں چاہ سکتے۔” وہ کہتی گئی تھی۔
”میں نے تم سے شادی کر کے ایک رسک لیا تھا امامہ… مجھے بھی بہت روکا گیا تھا… بہت سارے وہم میرے دل میں بھی ڈالنے کی کوشش کی گئی تھی… دُنیا میں لوگ ایسے رسک لیتے ہیں، لینے پڑتے ہیں…” سالار نے جواباً اُس سے جو کہا تھا اُس نے امامہ کی زبان سے سارے لفظ چھین کر اُسے جیسے گونگا کر دیا تھا… وہ بالکل ٹھیک کہہ رہا تھا لیکن اُسے ایرک کے ساتھ اپنا موازنہ اور اس انداز میں اچھا نہیں لگا تھا۔ ”ایرک اور مجھ میں بہت فرق ہے۔ مذہب میں فرق ہوگا، لیکن کلچر میں نہیں… ہم ہمسائے تھے ایک جیسے خاندانوں سے تعلق رکھتے تھے… بچپن سے ایک دوسرے کو جانتے تھے۔” وہ اپنے دفاع میں پرجوش دلائل دیتے دیتے یک دم اپنا جوش کھوتی چلی گئی ،اُسے یک دم اندازہ ہوا تھا کہ اپنے دماغ میں دیا جانے والا اُس کا ہر argument اُس کے اور ایرک کے درمیان موجود مماثلت کو مزید ثابت کر رہا تھا۔
”میں ایرک کے option پر غور نہیں کررہا… عبداللہ کے option پر کررہا ہوں… 13 سال کی عمر میں میں اپنی بیٹی کی کسی سے شادی نہیں کروں گا لیکن اگر 13 سال کی عمر میں بھی میری بیٹی کی وجہ سے کوئی میرے دین کی طرف راغب ہو رہا ہے تو میں صرف اس لئے اسے shut up call نہیں دوں گا کہ یہ میری غیرت اور معاشرتی روایات پر ضرب کے برابر ہے… مجھے معاشرے کو نہیں، اللہ کو منہ دکھانا ہے۔” سالار نے جیسے ختم کرنے والے انداز میں بات کی تھی۔ امامہ قائل ہوئی یا نہیں، لیکن خاموش ہوگئی تھی، اُس کی بات غلط نہیں تھی لیکن سالار کی بھی درست تھی، وہ دونوں اپنے perspecitve سے سوچ رہے تھے اور دوسرے کے perspective کو بھی سمجھ رہے تھے۔ وہ پہلا موقع تھا جب امامہ نے شکر ادا کیا تھا کہ وہ پاکستان جا رہے تھے اور عنایہ اور ایرک ایک دوسرے سے دور ہو جاتے تو اس کے خیال میں ایرک کے سر سے عنایہ کا بھوت بھی اُتر جاتا۔ سالار کے برعکس وہ اب بھی یہ ماننے پر تیّار نہیں تھی کہ ایرک کی اسلام اور عنایہ میں دلچسپی lasting ہو سکتی تھی۔اُسے یقین تھا 13 سال کا وہ بچہ 24-25 سال کا ہوتے ہوئے زندگی کے بہت سارے نشیب و فراز سے گزرتا اور زندگی کی رنگینیوں سے بھی متعارف ہوتا پھر سالار سکندر کا خاندان اور اُس خاندان کی ایک لڑکی عنایہ سکندر، ایرک عبداللہ کو کہاں یاد رہتی اور اتنی یاد کہ وہ اُس کے لئے اپنا مذہب چھوڑ کر اُس کے پیچھے آت امامہ اس بات پر بھی اللہ تعالیٰ کی شکر گزار تھی کہ وہ سب کچھ one sided تھا اگر عنایہ اس کا حصہ ہوتی تو اُس کی پریشانی اس سے سوا ہوتی۔
******
”ممی ایرک ہمارے ساتھ پاکستان جانا چاہتا ہے۔” کچن میں کام کرتی امامہ ٹھٹھک گئی۔ عنایہ اُس کے ساتھ کچن میں ہاتھ بٹارہی تھی جب اُس کے ساتھ کام کرتے کرتے اُس نے اچانک امامہ سے کہا تھا۔ امامہ نے گردن موڑ کر اس کا چہرہ بغور دیکھا تھا۔ عنایہ اُس کی طرف متوجہ نہیں تھی، وہ ڈش واشر میں برتن رکھ رہی تھی۔
”تمہیں پتہ ہے ایرک نے تمہارے پاپا کو خط لکھا ہے۔” امامہ نے کُریدنے والے انداز میں یک دم عنایہ سے کہا۔ وہ کچھ گلاس رکھتے ہوئے چونکی اور ماں کو دیکھنے لگی، پھر اُس نے کہا۔
”اُس نے پاپا سے بھی یہی بات کی ہوگی… وہ بہت اپ سیٹ ہے چند دنوں سے… ہر روز مجھے request کررہا ہے کہ یا تو اُس کو بھی ساتھ لے جاؤں یا پھر خود بھی یہی رہ جاؤں۔” اُس کی بیٹی نے بے حد سادگی سے اُس سے کہا تھا۔ وہ اب دوبارہ برتن رکھنے میں مصروف ہوگئی تھی۔
امامہ اپنے جس خدشے کی تصدیق کرنا چاہ رہی تھی، اُس کی تصدیق نہ ہونے پر اُس نے جیسے شکر کیا تھا… وہ خط کے مندرجات سے واقف نہیں تھی۔
”مجھے ایرک پر ترس آتا ہے۔” عنایہ نے ڈش واشر بند کرتے ہوئے ماں سے کہا۔ امامہ نے کچن کیبنٹ بند کرتے ہوئے ایک بار پھر اُسے دیکھا، عنایہ کے چہرے پر ہمدردی تھی اور ہمدردی کے علاوہ اور کوئی تاثر نہیں تھا اور اس وقت امامہ کو اُس ہمدردی سے بھی ڈر لگا تھا۔
”کیوں ترس آتا ہے؟ ” امامہ نے کہا ”کیوں کہ وہ بہت اکیلا ہے۔” عنایہ نے جواباً کہا ”خیر ایسی کوئی بات نہیں ہے۔اُس کی فیملی ہے… ممی بہن بھائی دوست… پھر اکیلا کہاں سے۔” ” لیکن ممی وہ اُن سب سے اُس طرح close تو نہیں ہے جس طرح ہم سے ہے۔” عنایہ نے اُسے defend کیا ”تو یہ اُس کا قصور ہے، وہ گھر میں سب سے بڑا ہے، اُسے اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کا خود خیال رکھنا چاہیے۔” امامہ نے جیسے ایرک کو قصور وار ٹھہرانے کی کوشش کی۔
”اگر جبریل اپنی فیملی کے بجائے کسی دوسرے کی فیملی کے ساتھ اس طرح attach ہوکر یہ محسوس کرنے لگے کہ وہ اکیلا ہے تو تمہیں کیسا لگے گا؟” امامہ نے جیسے اُسے ایک بے حد مشکل equation حل کرنے کے لئے دے دی تھی۔ عنایہ کچھ دیر کے لئے واقعی ہی بول نہیں پائی پھر اُس نے بے حد مدپم آواز میں کہا۔
”ممّی ہر ایک جبریل کی طرح خوش قسمت نہیں ہوتا۔” امامہ کو اُس کا جملہ عجیب طرح سے چبھا، اُس کی بیٹی نے شاید زندگی میں پہلی بار کسی دوسرے شخص کے بارے میں اپنی ماں کی رائے سے اتفاق نہ کرتے ہوئے جیسے اُسے defend کرنے کی کوشش کی تھی اور اس کوشش نے امامہ کو پریشان کیا تھا۔
”ایرک چھوٹا بچہ نہیں ہے عنایہ!” امامہ نے کچھ تیز آواز میں اُس سے کہا۔
” وہ 13 سال کا ہے… ” اُس نے اپنے لفظوں پر زور دیتے ہوئے کہا۔ عنایہ نے حیران ہوکر ماں کا چہرہ دیکھا نہ اُسے اور نہ ہی خود امامہ کو سمجھ آئی تھی کہ اس جملے کا مطلب کیا تھا۔ واحد چیز جو عنایہ اخذ کرپائی تھی وہ یہ تھی کہ اُس کی ماں کو اس وقت ایرک کا تذکرہ اور اُس کی زبان سے تذکرہ اچھا نہیں لگا تھا لیکن یہ بھی حیران کن بات تھی کیوں کہ ایرک کا ذکر اُن کے گھر میں اکثر ہوتا تھا۔
”ممّی کیا میں ایرک کا خط پڑھ سکتی ہوں؟” غیر متوقع طور پر عنایہ نے فرمائش کی تھی، جبکہ امامہ سمجھ رہی تھی وہ اب گفتگو کا موضوع بدل دے گی۔
”نہیں اس کی ضرورت نہیں ہے۔” امامہ نے حتمی انداز میں کہا ، وہ اب اس موضوع کو شروع کردینے پر پچھتا رہی تھی۔
”حمین نے پڑھا ہو گا وہ خط۔ ایرک اُسے ایک خط پڑھا رہا تھا… میرا خیال ہے یہ وہی خط ہوگا۔”
عنایہ نے کچن سے نکلتے ہوئے اُس کے اوپر جیسے بجلی گرائی تھی… ”حمین نے؟” امامہ کو یقین نہیں آیا۔
 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: