Aab e Hayat Novel by Umera Ahmed Read Online – Episode 38

0

آب حیات از عمیرہ احمد – قسط نمبر 38

–**–**–

”ہاں میں نے ایرک اور اُسے بیٹھے کوئی کاغذ پڑھتے دیکھا تھا۔ میرا خیال ہے یہ خط ہی ہو گا۔ کیوں کہ ایرک ہر کام اُس سے پوچھ کر کر رہا ہے آج کل۔ But I ۔am not sure “عنایہ نے اپنے ہی اندازے کے بارے میں خود ہی بے یقینی کا اظہار کیا۔
”ہر شیطانی کام کے پیچھے حمین ہی کیوں نکلتا ہے آخر؟” امامہ نے دانت پیستے ہوئے سوچا تھا، وہ اس وقت یہ بھی بھول گئی تھی کہ اُسے کچن میں کیا کام کرنا تھا۔ اُسے اب یقین تھا کہ ایرک کو اس خط کا مشورہ دینے والا حمین ہی ہو سکتا تھا۔
******
اور امامہ کا اندازہ بالکل ٹھیک تھا۔ وہ خط ایرک نے لکھا تھا اور حمین نے اُسے ایڈٹ کیا تھا۔ اُس نے اُس خط کے ڈرافٹ میں کچھ جذباتی جملوں کا اضافہ کیا تھا اور کچھ حد سے زیادہ جذباتی جملوں کو حذف کیا تھا۔
ایرک اُس کے پاس ایک خط کا ڈرافٹ لایا تھا۔ یہ بتائے بغیر کہ وہ خط وہ سالار سکندر کے نام لکھنا چاہتا تھا، اُس نے حمین سے مدد کی درخواست کی تھی کہ وہ ایک مسلم گرل فرینڈ کو پرپوز کرنا چاہتا تھا اور اُس کے باپ کو خط لکھنا چاہتا تھا۔ حمین نے جواباً اسے مبارک باد دی تھی۔ ایرک نے اُس سے کہا تھا کہ کیوں کہ وہ مسلم کلچر کے بارے میں زیادہ نہیں جانتا اس لئے اُسے اُس کی مدد درکار تھی، اور حمین نے وہ مدد فراہم کی تھی۔
محمد حمین سکندر نے Muslim sensitivites کو مدِنظر رکھتے ہوئے اُس کے لیٹر کو redraft کیا تھا۔ اور ایرک نے نہ صرف اُس کا شکریہ ادا کیا تھا۔ بلکہ جب سالار سکندر نے اُسے ملاقات کی دعوت دی تو اُس نے حمین کو اس بارے میں بھی مطلع کیا تھا۔حمین کی excitement کی کوئی حد نہیں تھی۔ اُس کا دل تو یہ چاہ رہا تھا کہ ایرک کا یہ راز سب سے کہہ دے، لیکن اُس نے ایرک سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اس راز کو کسی سے نہیں کہے گا۔ عنایہ نے ایک آدھ دن اُس گٹھ جوڑ کے بارے میں اُسے کریدنے کی کوشش کی تو بھی اُس نے صرف یہ کہا تھا کہ وہ ایک ضروری لیٹر لکھنے میں ایرک کی مدد کر رہا تھا، لیکن خط کس کے نام تھا اور اُس میں کیا لکھا جا رہا تھا؟ عنایہ کے کُریدنے پر بھی حمین نے یہ راز نہیں اُگلا تھا۔
”مجھے پتہ ہے، ایرک نے وہ خط کس کے لئے لکھوایا تھا۔” عنایہ، امامہ کے پاس سے ہو کر سیدھا حمین کے پاس پہنچی تھی۔ وہ اُس وقت اپنے کمرے میں کمپیوٹر پر کوئی گیم کھیلنے میں مصروف تھا اور عنایہ کے اس تبصرے پر اُس نے بے اختیار دانت پیستے ہوئے کہا۔ ”مجھے پہلے ہی پتہ تھا، وہ کوئی راز نہیں رکھ سکتا۔ مجھے کہہ رہا تھا، کسی کو نہ بتاؤں۔ خاص طور پر تمہیں اور اب خود تمہیں بتا دیا اُس نے۔” حمین خفا تھا، اُس کا اندازہ یہی تھا کہ یہ راز ایرک نے خود ہی فاش کیا ہو گا۔
”ایرک نے مجھے نہیں بتایا۔ مجھے تو ممّی نے بتایا ہے۔” اس بار حمین گیم کھیلنا بھول گیا تھا، اُس کے ہیرو نے اُس کے سامنے اونچی چٹان سے چھلانگ لگائی اور وہ اُسے سمندر میں گرنے سے نہیں بچا پایا۔ کچھ ویسا ہی حال اُس نے اپنا بھی اس وقت محسوس کیا تھا۔ ایک دن پہلے ہی اس کے اور ممّی کے تعلقات میں پاکستان جانے کے فیصلے نے پھر سے گرم جوشی پیدا کی تھی اور اب یہ انکشاف۔
”ممّی نے کیا بتایا ہے؟” حمین کے منہ سے ایسے آواز نکلی جیسے اُس نے کوئی بھوت دیکھا تھا۔
”ممّی نے بتایا کہ ایرک نے پاپا کو کوئی خط لکھا ہے اور مجھے فوراً خیال آیا کہ جو خط تم پڑھ رہے تھے، وہ وہی ہو سکتا ہے۔” عنایہ روانی میں بتا رہی تھی اور حمین کے دماغ میں جیسے دھماکے ہو رہے تھے۔ ”کاٹو تو بدن میں لہو نہ ہونا“ اس وقت اُس پر مصداق ثابت ہوتا۔ ایسی کون سی مسلم گرل فرینڈ بن گئی تھی، یک دم ایرک کی؟ جس کے باپ کو خط لکھوانے کے لئے اس کی ضرورت پڑتی۔ جبکہ 24 گھنٹے وہ اگر کسی کے گھر بھی آتا تھا تو وہ خود ان ہی کا گھر تھا۔ پھر اُس کی عقل میں یہ بات کیوں نہیں آئی یا وہ excitement میں اتنا ہی اندھا ہو گیا تھا کہ اُس نے یہ سوچ لیا کہ ایرک کبھی عنایہ کے حوالے سے ایسا کچھ نہیں سوچ سکتا۔ حمین اپنے آپ کو ملامت کر رہا تھا اور ملامت بڑا چھوٹا لفظ تھا اُن الفاظ کے لئے جو وہ اُس وقت اپنے اور ایرک کے لئے استعمال کر رہا تھا۔
”تم بول کیوں نہیں رہے؟” عنایہ کو اُس کی خاموشی کھٹکی تھی۔
”میں نے سوچا ہے میں اب کم بولوں اور زیادہ سوچوں گا۔” حمین نے اپنا گلا صاف کرتے ہوئے اُس تک وہ خبر پہنچائی جس پر اُسے یقین نہیں آیا۔
۔“Keep dreaming” اُس نے اپنے چھوٹے بھائی کو tease کرنے والے انداز میں کہا۔
”ممّی نے تمہیں بتایا، اُس خط میں کیا ہے؟” حمین اس وقت گلے گلے اس دلدل میں پھنسا ہوا تھا۔
”نہیں، لیکن میں نے انہیں بتایا کہ یہ خط حمین کی مدد سے لکھا گیا ہو گا، میں اُس سے پوچھ لوں گی۔ اُس خط میں کیا لکھا تھا ایرک نے پاپا کو؟” عنایہ اب اُس سے پوچھ رہی تھی۔ حمین بے اختیار کراہا تھا۔ وہ مصیبت کو دعوت نہیں دیتا تھا مصیبت خود آکر اُس کے گلے کا ہار بن جاتی تھی۔
******
ایرک کو سالار نے خود دروازے پر ریسیو کیا تھا۔ وہ ویک اینڈ تھا اور اس وقت اُن کے بچے سائیکلنگ کے لئے نکلے ہوئے تھے۔ گھر پر صرف امامہ اور سالار تھے۔
”یہ آپ کے لئے!” ایرک نے اپنے ایک ہاتھ میں پکڑے چند پھول جو گلدستے کی شکل میں بندھے ہوئے تھے اُس کی طرف بڑھا دیے۔ سالار نے ایک نظر اُن پھولوں پر ڈالی، اُسے یقین تھا اُس میں سے کچھ خود اُس ہی کے لان سے لئے گئے تھے۔ لیکن اُس نے اسے نظر انداز کیا تھا۔
”اس کی ضرورت نہیں تھی۔” اُس نے اُسے اندر لاتے ہوئے شکریہ کے بعد کہا۔ ایرک فارمل میٹنگ کے لئے آیا تھا اور آج پہلی بار سالار نے اُسے فارمل گیٹ اپ میں دیکھا تھا۔
”بیٹھو!” سالار نے اُسے وہیں لاؤنج میں ہی بیٹھنے کے لئے کہا۔ ایرک بیٹھ گیا۔ سالار اُس کے بالمقابل بیٹھا اور اُس کے بعد اُس نے ٹیبل پر پڑا ایک لفافہ کھولا۔ ایرک نے پہلی بار غور کیا، وہ اُسی کا خط تھا اور سالار اب اُس خط کو دوبارہ کھولتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔ ایرک بے اختیار نروس ہوا تھا۔ خط لکھ بھیجنا اور بات تھی اور اب اُسی خط کو اپنے سامنے اُس بندے کے ہاتھ میں دیکھنا جس کے نام وہ لکھا گیا تھا، دوسری۔
سالار نے ایک ڈیڑھ منٹ لیا۔ پھر اُس خط کو ختم کرتے ہوئے ایرک کو دیکھا۔ ایرک نے نظریں ہٹا لیں۔
”کیا عنایہ کو پتہ ہے، تمہاری اس خواہش کے بارے میں؟” سالار نے بے حد ڈائریکٹ سوال کیا تھا۔
”میں نے مسز سالار سے وعدہ کیا تھا کہ میں عنایہ سے کبھی ایسی کوئی بات نہیں کروں گا اس لئے میں نے آپ کو خط لکھا۔” ایرک نے جواباً کہا، سالار نے سر ہلایا اور پھر کہا۔
”اور یہ واحد وجہ ہے جس کی وجہ سے میں نے تمہیں یہاں بلایا ہے، تمہارا خط پھاڑ کر نہیں پھینکا۔ تم وعدہ کر کے نبھا سکتے ہو، یہ بہت اچھی کوالٹی ہے۔”
سالار سنجیدہ تھا اور اُس نے بے حد بے دھڑک انداز میں کہا تھا۔ ایرک کی تعریف کی تھی، لیکن اُس کے لہجے اور چہرے کی سنجیدگی نے ایرک کو خائف کیا تھا۔
”تو تم عنایہ سے شادی کرنا چاہتے ہو؟” سالار نے اُس خط کو اب واپس میز پر رکھ دیا تھا اور اُس کی نظریں ایرک پر جمی ہوئی تھیں۔ ایرک نے سر ہلایا۔ ”پہلی بات یہ ایرک کہ صرف شادی کی نیّت کر کے مذہب بدل لینا بہت چھوٹی بات ہے۔ ہمارا دین اس کی اجازت دیتا ہے، اسے بہت پسند نہیں کرتا۔” سالار نے کہا۔
”تمہارے پاس مسلمان ہونے کے لئے میری بیٹی سے شادی کے علاوہ کوئی اور وجہ ہے؟” سالار نے اُسی انداز میں اُس سے اگلا سوال کیا تھا۔ ایرک خاموش بیٹھا اس کا چہرہ دیکھتا رہا۔
”مذہب کی تبدیلی ایک بہت بڑا فیصلہ ہے اور یہ نفس کی کسی خواہش کی وجہ سے نہیں ہونا چاہیے، عقل کا فیصلہ ہونا چاہیے۔ کیا تمہاری عقل تمہیں یہ کہتی ہے کہ تمہیں مسلمان بن کر اپنی زندگی اللہ کے احکامات کے مطابق گزارنی چاہیے؟” اُس نے ایرک سے پوچھا، وہ گڑبڑایا۔
”میں نے اس پر سوچا نہیں۔”
”میرا بھی یہی اندازہ ہے کہ تم نے اس پر سوچا نہیں۔
اس لئے بہتر ہے پہلے تم اس پر اچھی طرح سوچو۔” سالار نے جواباً اس سے کہا۔
”میں کل پھر آؤں؟” ایرک نے اُس سے کہا۔
”نہیں! تم ابھی کچھ سال اس پر سوچو کہ تمہیں مسلمان کیوں بننا ہے؟ اور اُس کی وجہ عنایہ نہیں ہونی چاہیے۔” سالارنے اُس سے کہا۔
”میں ویسے بھی عنایہ کی شادی ”صرف مسلمان” سے نہیں کروں گا، مسلمان ہونے کے ساتھ اُسے ایک اچھا انسان بھی ہونا چاہیے۔” اُس نے کہا۔
ایرک کے چہرے پر یک دم مایوسی اُبھری۔
”یعنی آپ میرا پروپوزل قبول نہیں کر رہے؟” اُس نے سالار سے کہا۔
”فوری طور پر نہیں، لیکن تقریباً دس سال بعد جب مجھے عنایہ کی شادی کے حوالے سے کوئی فیصلہ کرنا ہوگا تو میں تمہیں ضرور consider کروں گا۔ لیکن اس کے لئے ضروری ہے، ان دس سالوں میں تم ایک اچھے مسلمان کے ساتھ ساتھ ایک اچھے انسان بن کر بھی رہو۔” سالار نے دو ٹوک انداز میں کہا۔
۔“Can you guide me to this” ایرک نے یک دم کہا۔ سالار چند لمحے خاموش رہا، وہ اُسی ایک چیز سے بچنا چاہتا تھا، اسی ایک چیز کو avoid کرنا چاہتا تھا۔ لیکن اب ایرک نے اُس سے بالکل direct مدد مانگ لی تھی۔
”ہاں، ہم سب تمہاری مدد کر سکتے ہیں، لیکن اُس کے لئے رشتہ جوڑنا ضروری نہیں ہے ایرک! ہم انسانیت کے رشتے کی بنیاد پر بھی تمہاری مدد کر سکتے ہیں اور کرتے رہیں گے۔” سالار نے بالآخر جواباً کہا۔
”13 سال کی عمر میں سکول میں پڑھتے ہوئے تم شادی کرنا چاہتے ہو اور تمہیں یہ اندازہ نہیں ہے کہ شادی ذمہ داریوں کا دوسرا نام ہے۔ تم اپنی فیملی کی ذمّہ داریوں سے بھاگتے ہوئے ایک اور فیملی بنانے کی کوشش کر رہے ہو۔ تم اس فیملی کی ذمّہ داری کیسے اُٹھاؤ گے؟ مذہب بدل کر ایک دوسرے مذہب میں داخل ہونا اُس سے بھی بڑا کام ہے، کیا تمہارے پاس اتنا وقت اور passion ہے کہ تم اپنے اس نئے مذہب کو سمجھو، پڑھو اور اُس پر عمل کرو؟ کیا تم اُن پابندیوں سے واقف ہو جو یہ نیا مذہب تم پر لگائے گا؟” سالار اب اُس پر جرح کر رہا تھا۔
”میں قرآن پاک کو ترجمے سے پڑھ چکا ہوں، میں پہلے ہی سب چیزیں جانتا ہوں اور میں عمل کر سکتا ہوں۔” ایرک بھی سنجیدہ ہوگیا تھا۔
”ٹھیک ہے۔ پھر ایسا کرتے ہیں کہ دس سال کا ایک معاہدہ کرتے ہیں۔ اگر 23 سال کی عمر میں تمہیں لگا کہ تمہیں عنایہ سے ہی شادی کرنی ہے تو پھر میں عنایہ سے تمہاری شادی کر دوں گا۔ شرط یہ ہے کہ ان دس سالوں میں تم کو ایک اچھے مسلمان ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اچھے انسان کے طور پر بھی نظر آنا چاہیے۔” سالار نے ایک اور بالکل سادہ کاغذ اُس کے سامنے رکھتے ہوئے کہا۔
”یہ بہت لمبی مدّت ہے۔” ایرک نے سنجیدگی سے کہا تھا۔
”ہاں۔ لیکن یہ وہ مدّت ہے جس میں مجھے تمہارے فیصلے تمہاری sincerity کو ظاہر کریں گے، تمہارے بچگانہ پن کو نہیں۔” سالار نے جواباً اس سے کہا۔ وہ سالار کو دیکھتا رہا، بے حد خاموشی سے۔ اُس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے پھر اُس نے کہا۔
”مسٹر سالار سکندر آپ مجھ پر دراصل اعتبار نہیں کر رہے۔” اس نے بے حد blunt ہو کر سالار سے کہا۔
”اگر کر رہے ہوتے تو مجھ سے دس سال کے انتظار کا نہ کہتے۔ لیکن ٹھیک ہے، آپ اپنی جگہ ٹھیک ہیں۔” اُس نے کہا، میز پر پڑا ایک قلم اُٹھایا۔ وہاں پڑے سادے کاغذ کے بالکل نیچے اپنا نام لکھا، اپنے دستخط کئے اور تاریخ ڈالی۔ پھر قلم بند کر کے واپس میز پر اُس کاغذ کے اوپر رکھ دیا۔ ”میں عنایہ سے متاثر نہیں ہوا، میں آپ اور آپ کے گھر سے متاثر ہوا، آپ کی بیوی کی نرم مزاجی اور آپ کی اصول پسندی سے، اُن values سے، جو آپ نے اپنے بچوں کو دی ہیں اور اس ماحول سے، جہاں میں ہمیشہ آکر اپنا آپ بھول جاتا تھا۔ وہ مذہب، یقیناً اچھا مذہب ہے جس کے پیروکار آپ لوگوں جیسے ہوں۔ میں عنایہ کے ساتھ ایک ایسا ہی گھر بنانا چاہتا تھا کیوں کہ میں بھی اپنی اور اپنے بچوں کے لئے ایسی زندگی چاہتا ہوں۔ میں جانتا تھا آپ لوگوں کے خاندان کا حصّہ بننا اتنا آسان نہیں ہو گا لیکن میں کوشش کرتا رہوں گا۔ کیوں کہ کوشش تو آپ کا مذہب ہی کرنے کو کہتا ہے، جو اب میرا مذہب بھی ہو گا۔”
وہ کسی تیرہ سال کے بچّے کے الفاظ نہیں تھے اور وہ اتنے جذباتیت سے بھرپور بھی نہیں تھے جیسا اُس کا خط تھا۔ لیکن اُس کے باوجود اُس کے اُن جملوں نے صرف سالار کو نہیں امامہ کو بھی بُری طرح متاثر کیا تھا۔ وہ چند لمحے پہلے لاؤنج میں داخل ہوئی تھی اور اُس نے صرف ایرک کے جملے سنے تھے۔ ایرک اب اُٹھ کر کھڑا ہو چکا تھا۔ اُس نے امامہ کو بھی دیکھا اور اُسے ہمیشہ کی طرح سلام کیا، پھر خداحافظ کہہ کر وہاں سے نکل گیا۔ لاؤنج میں ایک عجیب سی خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ بیرونی دروازے کے بند ہونے کی آواز پر امامہ آگے بڑھ آئی تھی، اُس نے لاؤنج کی سینٹر ٹیبل پر پڑا وہ کاغذ اُٹھا کر دیکھا جس پر ایرک دستخط کر کے گیا تھا، اُس کاغذ پر صرف ایک نام تھا عبداللہ اور اُس کے نیچے دستخط اور تاریخ۔
امامہ نے سالار کو دیکھا، اُس نے ہاتھ بڑھا کر وہ کاغذ امامہ کے ہاتھ سے لیا، اُسے فولڈ کر کے اُسی لفافے میں ڈالا جس میں ایرک کا خط تھا۔ اور پھر اُسے امامہ کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔
”یہ دوبارہ آئے گا اور اگر میں نہ بھی ہوا اور یہ اپنے وعدے پر پورا اترا تو تم بھی اُس وعدے پر پورا اُترنا، جو میں نے اُس سے کیا ہے۔ امامہ نے کپکپاتی انگلیوں سے کچھ بھی کہے بغیر وہ لفافہ پکڑا تھا۔
*****
عائشہ عابدین کو زندگی میں پہلی بار اگر کسی لڑکے سے ملنے کا اشتیاق پیدا ہوا تھا، تو وہ جبریل سکندر تھا۔ پاکستان میں رہتے ہوئے بھی اُس نے اپنی بڑی بہن نساء عابدین سے جبریل کے بارے میں اتنا کچھ سُن رکھا تھا کہ وہ ایک فہرست بنا سکتی تھی۔ نساء جبریل کی کلاس فیلو تھی اور اُس سے ”شدید” متاثر اور مرعوب۔ اس کے باوجود کہ وہ خود ایک شاندار تعلیمی کیریئر رکھنے والی اسٹوڈنٹ تھی۔
عائشہ فیس بک پر اپنی بہن کی وال پر اکثر جبریل کے comments پڑھتی تھی جو وہ اُس کی بہن کے status updates پر دیتا رہتا تھا۔ عائشہ بھی کئی بار ان updates پر تبصرہ کرنے والوں میں سے ہوتی تھی لیکن جبریل سکندر کی wit کا مقابلہ وہاں کوئی بھی نہیں کر پاتا تھا۔ اُس کے comments نساء عابدین کی وال پر بالکل الگ چمکتے نظر آتے تھے۔ اور جب وہ کسی وجہ سے وہاں تبصرہ نہیں کر پاتا تو کئی بار اُس کے کلاس فیلوز کے تبصروں کی لمبی قطار کے بیچ میں جبریل کی خاموشی اور غیر حاضری کو بُری طرح miss کیا جاتا۔ اور ان miss کرنے والوں میں سرفہرست عائشہ عابدین تھی۔ جسے خود بھی یہ اندازہ نہیں تھا کہ وہ جبریل کے comments پڑھتے پڑھتے بے حد addictive ہو گئی تھی۔
نساء کے ساتھ جبریل کی مختلف فنکشنز اور سرگرمیوں میں اکثر بہت ساری گروپ فوٹوز نظر آتی تھیں۔ لیکن عائشہ کو ہمیشہ جبریل کی فیملی کے بارے میں curiosity تھی۔ وہ سالار سکندر سے واقف تھی کیوں کہ اُس کا تعارف نساء نے ہی کروایا تھا۔ لیکن اُس کی فیملی کے باقی افراد کو دیکھنے کا اُسے بے حد اشتیاق تھا اور یہی اشتیاق اُسے بار بار جبریل کی فرینڈز لسٹ میں نہ ہونے کے باوجود اُس کی تصویروں کو کھوجنے کے لئے مجبور کرتا تھا، جہاں اُسے رسائی حاصل تھی۔ کچھ تصویریں وہ دیکھ سکتی تھی، کچھ وہ نہیں دیکھ سکتی تھی۔ لیکن ان تصویروں میں، جن تک اُسے رسائی حاصل تھی، اُن میں جبریل کی فیملی کی تصاویر نہیں تھیں۔
جبریل بھی غائبانہ طور پر عائشہ سے واقف تھا، اور اس تعارف کی وجہ فیس بک پر نساء کے status updates پر ہونے والے تبصروں میں اُن کا حصہ لینا تھا۔ اور نساء نے اپنی وال پر جبریل کو اپنی بہن سے متعارف کروایا تھا۔ وہ غائبانہ تعارف بس اتنا ہی رہا تھا کیوں کہ جبریل نے کبھی اُس کی ID کھوجنے کی کوشش نہیں کی اور عائشہ کی اپنی وال پر تصویریں بہت کم تھیں، اُس سے بھی زیادہ کم وہ لوگ تھے جنہیں اُس نے اپنی contact list میں add کیا ہوا تھا۔ نساء کے برعکس اُس کا حلقہ احباب بے حد محدود تھا، اور اُس کی کوشش بھی یہی رہتی تھی کہ وہ اُسے اتنا ہی محدود رکھے۔
عائشہ کو جبریل کے بارے میں ہمیشہ یہ غلط فہمی رہی کہ وہ نساء میں انٹرسٹڈ تھا اور اس تاثر کی بنیادی وجہ خود نساء تھی جو اس بات کو ایڈمٹ کرنے میں کبھی تامّل نہیں کرتی تھی کہ عمر میں اُس سے چھوٹا ہونے کے باوجود وہ جبریل کو پسند کرتی تھی۔ ایک دوست کے طور پر جبریل کی اُس سے بے تکلفی تھی، ویسی ہی بے تکلّفی جیسی اُس کی اپنی دوسری کلاس فیلوز سے بھی تھی اور نساء نے کبھی اس بے تکلّفی کو misinterpret نہیں کیا تھا۔ کیوں کہ جبریل لڑکیوں کے ساتھ بے تکلّفی اور دوستی میں بھی بہت ساری حدود و قیود رکھتا تھا اور بے حد محتاط تھا۔ نساء عمر میں اُس سے چار سال بڑی تھی۔ وہ اپنے قد کاٹھ اور maturity دونوں سے پندرہ سولہ سال کا نہیں لگتا تھا اور نساء یہ بھی جانتی تھی۔ یونیورسٹی میں اتنا وقت گزار لینے کے باوجود جبریل ابھی تک گرل فرینڈ نامی کسی بھی چیز کے بغیر تھا، تو ایسے حالات میں سالار سکندر کی اُس لائق اولاد پر قسمت آزمائی کرنے کے لئے کوئی بھی تیّار ہو سکتا تھا۔ صرف نساء ہی نہیں۔
عائشہ عابدین ان سب چیزوں سے واقف تھی نساء کی جبریل میں دلچسپی اُن کے گھر میں ایک اوپن سیکرٹ تھا لیکن ان دونوں کے future کے حوالے سے نہ تو اُن کو کوئی assurance تھی نہ ہی کسی اور کو نساء ذہانت اور قابلیت سے متاثر ہونے والوں میں سے تھی اور جبریل سکندر وہ پہلا شخص نہیں تھا جس نے اُسے متاثر کیا تھا، مگر فی الحال یہ جبریل ہی تھا جس کا ذکر وہ کرتی رہتی تھی۔
عائشہ عابدین ایک passive observer کی طرح یہ سب کچھ دیکھتی آرہی تھی اور جب تک وہ جبریل سے ملی، وہ اُس سے پہلے ہی بہت متاثر تھی۔
یونیورسٹی کے ایک فنکشن میں وہ پہلی بار جبریل سے بالآخر ملنے میں کامیاب ہو گئی تھی۔ نساء کو اندازہ نہیں تھا کہ عائشہ صرف جبریل سے ملنے کے لئے اُس کے ساتھ یونیورسٹی آنے پر تیّار ہوئی ہے، ورنہ وہ جب بھی امریکہ آتی اُن سب کی کوششوں کے باوجود اپنی مرضی کی جگہوں کے علاوہ کہیں نہیں جاتی تھی یونیورسٹی میں ہونے والی کوئی تقریب تو وہ شاید کوئی آخری چیز تھی جس کے لئے عائشہ یونیورسٹی آتی اور نساء نے یہ بات جبریل سے اُسے متعارف کرواتے ہوئے کہہ بھی دی تھی۔
جبریل سکندر وہ پہلا لڑکا تھا جسے دیکھنے کا عائشہ عابدین کو اشتیاق ہوا تھا اور جبریل سکندر ہی وہ پہلا لڑکا تھا جسے عائشہ عابدین اپنے ذہن سے نکالنے میں اگلے کئی سال تک کامیاب نہیں ہو سکی تھی۔
تصویریں کبھی کبھار کسی شخص کی شخصیت اور وجاہت کو کیموفلاج کر دیتی ہیں اور بہت اچھا کرتی ہیں۔ محمد جبریل سکندر charismatic تھا خطرناک حد تک متاثر اور مرعوب کرنے والی شخصیت رکھتا تھا 16 سال کی عمر میں بھی وہ تقریباً چھے فٹ قد کے ساتھ سالار سکندر کی گہری سیاہ آنکھیں اور اپنی ماں کے تیکھے نین نقوش اور بے حد بھاری آواز کے ساتھ ایک عجیب ٹھہراؤ کا منبع دِکھتا تھا ایک بے حد casual ڈارک بلو جینز اور دھاری دار بلیک اینڈ وائٹ ٹی شرٹ میں ملبوس جبریل سکندر مسکراتے ہوئے پہلی بار عائشہ عابدین سے مخاطب ہوا تھا اور وہ بُری طرح نروس ہوئی تھی وہ نروس ہونا نہیں چاہتی تھی لیکن جبریل سے وہاں کھڑے صرف مخاطب ہونا بھی اُسے اُس کے پیروں سے ہلانے کے لئے کافی تھا۔ وہ صرف نساء ہی نہیں کسی بھی عمر کی کسی بھی لڑکی کو پاگل کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ عائشہ عابدین نے دل ہی دل میں اعتراف کیا تھا۔
”کیوں؟ آپ کو اچھا نہیں لگتا امریکہ آکر گھومنا پھرنا؟” اُس نے نساء کے کسی تبصرے پر عائشہ سے پوچھا تھا۔
”نہیں مجھے اچھا لگتا ہے، لیکن بہت زیادہ نہیں۔” وہ گڑبڑائی۔ اُس نے خود کو سنبھالا، پھر جبریل کے سوال کا جواب دیا جس کی آنکھیں اُسی پر ٹکی ہوئی تھیں۔ وہ اب سینے پر بازو لپیٹے ہوئے تھا۔ وہ اُس کے جواب پر مسکرایا تھا پھر اُس نے نساء کو فنکشن کے بعد عائشہ کے ساتھ کسی ریسٹورنٹ میں کافی کی دعوت دی تھی جو نساء نے قبول کر لی تھی، وہ دونوں اپنے کچھ دوستوں کا انتظار کرتے ہوئے گپ شپ میں مصروف ہو گئے تھے عائشہ ایک بار پھر passive observer بن گئی تھی۔ نساء ایک بہت dominating لڑکی تھی اور گھر میں وہ ہر کام اپنی مرضی اور اپنے طریقے سے کروانے کی عادی تھی لیکن عائشہ نے نوٹس کیا تھا، نساء جبریل کے ساتھ اُس طرح نہیں کر رہی تھی۔ وہ اُس کی پوری بات سن کر کچھ کہتی اور اُس کی بہت سی باتوں سے اتفاق کر رہی تھی۔ ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے عائشہ عابدین کو وہ بے حد اچھے لگ رہے تھے ایک پرفیکٹ کپل جس پر اُسے رشک آ رہا تھا اور جبریل سے اس طرح متاثر ہونے کے باوجود وہ اُسے نساء کی زندگی کے ساتھی کے طور پر ہی دیکھ رہی تھی نساء کا taste اور چوائس ہر چیز میں اچھی اور منفرد تھی اور جبریل اُس کا ایک اور ثبوت ہے۔
فنکشن کے بعد وہ نساء اور جبریل کے کچھ دوستوں کے ساتھ ایک کیفے میں کافی پینے گئی تھی، یہ ایک اتفاق تھا یا خوش قسمتی کہ چھے لوگوں کے اُس گروپ میں جبریل اور عائشہ کی سیٹس ایک دوسرے کے ساتھ تھیں۔ نساء جبریل کے بالمقابل میز کے دوسری جانب تھی اور عائشہ کے دوسری طرف نساء کی ایک اور دوست سوزین۔
عائشہ عابدین کی nervousness اب اپنی انتہا کو تھی۔ وہ اُس کے اتنے قریب تھی کہ اُس کے پرفیوم کی خوشبو محسوس کر رہی تھی۔ ٹیبل پر دھرے اُس کے ہاتھ کی کلائی میں بندھی گھڑی سے ڈائل پر ٹک ٹک کرتی سوئی دیکھ سکتی تھی لیکن اگر وہ کچھ نہیں کر سکتی تھی تو وہ گردن موڑ کر اُسے اتنے قریب سے دیکھنا تھا۔ وہ غلط جگہ بیٹھ گئی تھی عائشہ عابدین کومینیو دیکھتے ہوئے احساس ہوا تھا۔
جبریل میزبان تھا اور وہ سب ہی سے پوچھ رہا تھا، اُس نے عائشہ سے بھی پوچھا تھا۔ عائشہ کو مینیو کارڈ پر اُس وقت کچھ بھی لکھا نہیں دکھ رہا تھا۔ جو دکھ بھی رہا تھا وہ اس احساس سے غائب ہو گیا تھا کہ وہ گردن موڑ کر اُسے دیکھ رہا تھا۔ ”جو سب لیں گے میں بھی لے لوں گی۔” عائشہ نے جیسے سب سے محفوظ حل تلاش کیا تھا، جبریل مسکرایا اور اُس نے اپنا اور اُس کا آرڈر ایک ہی جیسا نوٹ کروایا۔ وہ ایک ویجی ٹیبل پیزا تھا جسے اُس نے ڈرنکس کے ساتھ آرڈر کیا تھا اور بعد میں کافی کے ساتھ چاکلیٹ موز۔ نساء اپنا آرڈر پہلے دے چکی تھی اور باقی سب لوگ بھی اپنے آرڈر نوٹ کروارہے تھے۔ ہیم برگر… شرمپس…stuffed turkey… یہ امریکن دوستوں کے آرڈرز تھے۔ نساء نے ایک Salmon Sandwich منگوایا تھا۔
”میں اس سال میڈیکل میں چلی جاؤں گی، میرا ایڈمیشن ہو گیا ہے۔”روٹین کی گفتگو کے دوران جبریل کے سوال پر یک دم اُس نے بتایا۔
۔“Fantastic!” اُس نے جواباً مسکراتے ہوئے کہا لیکن یہ نہیں بتایا کہ وہ خود بھی میڈیسن میں ہی جا رہا تھا۔
وہ سب لوگ گفتگو میں مصروف تھے اور اس گفتگو میں اُس کی خاموشی کو جبریل ہی وقتاً فوقتاً ایک سوال سے توڑتا۔ وہ جیسے اُسے بوریت سے بچانے کی کوشش کررہا تھا یا پھر engage کرنے کی اور عائشہ نے یہ چیز محسوس کی تھی۔ وہ جن ٹین ایجرز کو جانتی تھی، وہ اور طرح کے تھے یہ اور طرح کا تھا۔
کھانا آنے پر وہ اُسی طرح گفتگو میں مصروف خود کھانے کے ساتھ ساتھ عائشہ کو بھی سرو کرتا رہا۔ یوں جیسے وہ روٹین میں یہ سب کرنے کا عادی رہا ہو۔
محمد جبریل سکندر سے ہونے والی وہ پہلی ملاقات اور اُس میں ہونے والی ایک ایک چیز عائشہ عابدین کے ذہن اور دل دونوں پر نقش ہو گئی تھیں۔
”جس بھی لڑکی کا یہ نصیب ہو گا، وہ بے حد خوش قسمت ہوگی۔” اُس نے سوچا تھا۔ ”کاش یہ نساء ہی کو مل جائے!” اُس نے بے حد دل سے خواہش اور دعا کی تھی۔ اُس عمر میں بھی اُس نے اپنی زندگی کے حوالے سے کچھ بھی سوچنا شروع نہیں کیا تھا۔ اگر کرتی تو جبریل وہ پہلا لڑکا ہوتا جس جیسے شخص کی خواہش وہ اپنے لئے بھی کرتی۔ جبریل نے اُس کے لاشعور کو اُس پہلی ملاقات میں اس طرح اثر انداز کیا تھا۔
”میں تمہارے لئے بہت دعا کر رہی ہوں نساء کہ تمہاری شادی جبریل سے ہو جائے جب بھی ہو وہ بہت اچھا ہے۔” اس کیفے سے اُس شام گھر واپس آنے کے بعد عائشہ نے نساء سے کہاتھا۔ وہ جواباً ہنسی۔
”خیر ابھی شادی وغیرہ کا تو کوئی سین نہیں ہو سکتا ہم دونوں کے لئے وہ بہت young ہے اور مجھے اپنا کیریئر بنانا ہے، لیکن مجھے وہ بہت پسند ہے اور اگر کبھی بھی اُس نے مجھ سے کچھ کہا تو میں انکار نہیں کروں گی کون انکار کر سکتا ہے جبریل کو۔” اپنے بیڈروم میں کپڑے تبدیل کرنے کے لئے نکالتے ہوئے نساء نے اُس سے کہا۔
”اُس کے ماں باپ نے بہت اچھی تربیت کی ہے اُس کی۔ تم نے دیکھا، وہ کس طرح تمہیں توجہ دے رہا تھا۔ مجھے یاد نہیں، میں کبھی اپنے ساتھ کوئی guest لے کر گئی ہوں اور جبریل نے اُسے اس طرح attention نہ دی ہو۔” وہ کہتی چلی گئی۔ عائشہ کا دل عجیب انداز میں بُجھا۔ تو وہ توجہ سب ہی کے لئے ہوتی تھی اور عادت تھی، favor نہیں۔ اُس نے کچھ مایوسی سے سوچا۔ “Fair enough”
”تمہیں پتہ ہے، مجھے کیوں اچھا لگتا ہے وہ…؟” نساء اُس سے کہہ رہی تھی۔ ”وہ حافظِ قرآن ہے۔ بے حد practising ہے۔ کبھی تم اُس کی تلاوت سنو۔ لیکن اتنا مذہبی ہونے کے باوجود وہ بہت لبرل ہے، تنگ نظر نہیں ہے۔ جیسے بہت سارے new born Muslims ہو جاتے ہیں۔ نہ ہی اس کو میں نے کبھی دوسروں کے حوالے سے judgemental پایا ہے۔ مجھے نہیں یاد کبھی اُس نے میرے یا کسی اور فی میل کلاس فیلو کے لباس کے حوالے سے کچھ کہا ہو یا ویسے کسی کے بارے میں comment کیا ہو۔
۔Never” نساء کہتی جا رہی تھی وہ لباس کے معاملے میں خاصی ماڈرن تھی اور اُسے یہ قابلِ قبول نہیں ہو سکتا تھا کہ کوئی اُس پر اس حوالے سے کوئی قدغن لگاتا اور جبریل میں اُسے یہ خوبی بھی نظر آگئی تھی۔
عائشہ بالکل کسی سحر زدہ معمول کی طرح یہ سب سُن رہی تھی۔ نساء کے انکشافات نے جیسے عائشہ کے لئے اُس کی زندگی کے آئیڈیل لائف پارٹنر کی چیک لسٹ میں موجود اینٹریز کی تعداد بڑھا دی تھی۔
اُس رات عائشہ عابدین نے بڑی ہمّت کر کے جبریل کو فرینڈ ریکویسٹ بھیجی تھی اور پھر کئی گھنٹے وہ اس انتظار میں رہی کہ وہ کب اُسے add کرتا ہے۔
وہ فجر کے وقت نمار کے لئے اُٹھی تھی اور اُس وقت نماز پڑھنے کے بعد اُس نے ایک بار پھر فیس بُک چیک کیا تھا اور خوشی کی ایک عجیب لہر اُس کے اندر سے گزری تھی، وہ add ہوچکی تھی۔ اور جو پہلی چیز عائشہ نے کی تھی، وہ اُس کی تصویروں میں اُس کی فیملی کی تصویروں کی تلاش تھی۔ اور اُسے ناکامی نہیں ہوئی تھی۔ اُس کے اکاؤنٹ میں اس کی فیملی کی بہت ساری تصاویر تھیں۔ سالار سکندر کی، حجاب میں ملبوس امامہ کی، اُس کی ٹین ایجر بہن عنایہ کی، حمین کی، اور رئیسہ کی۔ جبریل کے انکلز اور کزنز کی، جو اُن کی فیملی کے برعکس بے حد ماڈرن نظر آرہے تھے لیکن اُن سب میں عجیب ہم آہنگی نظر آ رہی تھی۔
وہ جبریل سکندر سے دوستی کرنا چاہتی تھی، لیکن وہ ہمّت نہیں کر پائی تھی۔ لیکن وہ اور اُس کی فیملی یک دم جیسے اُس کے لئے ایک آئیڈیل فیملی کی شکل اختیار کر گئے تھے۔ ایسی فیملی جس کا وہ حصہ بننا چاہتی تھی۔ وہ اُس فیملی کا حصہ نہیں بن سکی تھی لیکن عائشہ عابدین کو احسن سعد اور اُس کی فیملی سے پہلی بار متعارف ہو کر بھی ایسا ہی لگا تھا کہ وہ جبریل سکندر جیسا خاندان تھا…اور احسن سعد جبریل سکندر جیسا مرد۔ قابل، باعمل مسلمان، حافظِ قرآن۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عائشہ عابدین نے جبریل سکندر کے دھوکے میں احسن سعد کو اپنانے کا فیصلہ کیا تھا۔
******
اس کتاب کا پہلا باب اگلے نو ابواب سے مختلف تھا۔ اسے پڑھنے والا کوئی بھی شخص یہ فرق محسوس کئے بغیر نہیں رہ سکتا تھا کہ پہلا باب اور اگلے نو ابواب ایک شخص کے لکھے ہوئے نہیں لگ رہے تھے۔ وہ ایک شخص نے لکھے تھے بھی نہیں۔
وہ جانتی تھی وہ اُس کی زندگی کی پہلی بد دیانتی تھی، لیکن یہ نہیں جانتی تھی کہ وہی آخری بھی ہو گی۔ اس کتاب کا پہلا باب اس کے علاوہ اب اور کوئی نہیں پڑھ سکتا تھا۔ اُس نے پہلا باب بدل دیا تھا۔
نم آنکھوں کے ساتھ اُس نے پرنٹ کمانڈ دی۔ پرنٹر برق رفتاری سے وہ پچاس صفحے نکالنے لگا جو اس کتاب کا ترمیم شدہ پہلا باب تھا۔
اُس نے ٹیبل پر پڑی ڈسک اُٹھائی اور بے حد تھکے ہوئے انداز میں اُس پر ایک نظر ڈالی۔ پھر اُس نے اسے دو ٹکڑوں میں توڑ ڈالا۔ پھر چند اور ٹکڑے۔۔ اپنی ہتھیلی پر پڑے ان ٹکڑوں کو ایک نظر دیکھنے کے بعد اُس نے انہیں ڈسٹ بن میں پھینک دیا۔
ڈسک کا کور اُٹھا کر اُس نے زیرِ لب اس پر لکھے چند لفظوں کو پڑھا، پھر چند لمحے پہلے لیپ ٹاپ سے نکالی ہوئی ڈسک اُس نے اس کور میں ڈال دی۔
پرنٹر تب تک اپنا کام مکمل کرچکا تھا۔ اُس نے ٹرے میں سے ان صفحات کو نکال دیا۔ بڑی احتیاط کے ساتھ اس نے اُنہیں ایک فائل کور میں رکھ کر اُنہیں دوسری فائل کورز کے ساتھ رکھ دیا جن میں اس کتاب کے باقی نو ابواب تھے۔
ایک گہرا سانس لیتے ہوئے وہ اُٹھ کھڑی ہوئی۔ کھڑے ہو کر اُس نے ایک آخری نظر اُس لیپ ٹاپ کی مدھم پڑتی سکرین پر ڈالی۔
اسکرین تاریک ہونے سے پہلے اس پر ایک تحریر اُبھری تھی۔ ”!Will be waiting”
اُس کی آنکھوں میں ٹھہری نمی یک دم چھلک پڑی تھی۔ وہ مسکرا دی۔ اسکرین اب تاریک ہونے لگی۔ اُس نے پلٹ کر ایک نظر کمرے کو دیکھا پھر بیڈ کی طرف چلی آئی۔ ایک عجیب سی تھکن اُس کے وجود پر چھانے لگی تھی۔ اس کے وجود پر یا ہر چیز پر… بیڈ پر بیٹھ کر چند لمحے اُس نے بیڈ سائیڈ ٹیبل پر پڑی چیزوں پر نظر دوڑائی۔
وہ پتہ نہیں کب وہاں اپنی رسٹ واچ چھوڑ گیا تھا… شاید رات کو جب وہ وہاں تھا، وہ وضو کرنے گیا تھا۔پھر شاید اُسے یاد ہی نہیں رہا تھا۔ وہ رسٹ واچ اٹھا کر اُسے دیکھنے لگی۔ سیکنڈز کی سوئی کبھی نہیں رُکتی، صرف منٹ اور گھنٹے ہیں جو رُکتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ سفر ختم ہوتا ہے… سفر شروع ہو جاتا ہے۔
بہت دیر تک اس گھڑی پر انگلیاں پھیرتی وہ جیسے اس کے لمس کو کھوجتی رہی۔ وہ لمس وہاں نہیں تھا۔ وہ اس کے گھر کی واحد گھڑی تھی جس کا ٹائم بالکل ٹھیک ہوتا تھا۔ صرف منٹ نہیں…سیکنڈز تک…کاملیت اس گھڑی میں نہیں تھی، اس شخص کے وجود میں تھی جس کے ہاتھ پر وہ ہوتی تھی۔
اُس نے آنکھوں کی نمی صاف کرتے ہوئے اس گھڑی کو دوبارہ سائیڈ ٹیبل پر رکھ دیا۔ کمبل اپنے اوپر کھینچتے ہوئے وہ بستر پر لیٹ گئی۔اُس نے لائٹ بند نہیں کی تھی۔اُس نے دروازہ بھی مقفل نہیں کیا تھا۔ وہ اُس کا انتظار کررہی تھی۔ بعض دفعہ انتظار بہت ”لمبا” ہوتا ہے… بعض دفعہ انتظار بہت مختصر ہوتا ہے۔
اُس کی آنکھوں میں نیند اُترنے لگی۔ وہ اسے نیند سمجھ رہی تھی… ہمیشہ کی طرح آیت الکرسی کا ورد کرتے ہوئے وہ اُسے چاروں طرف پھونک رہی تھی۔ جب اُسے وہ یاد آیا۔ وہ اس وقت وہاں ہوتا تو اُس سے آیت الکرسی اپنے اوپر پھونکنے کی فرمائش کرتا۔
بیڈ سائیڈ ٹیبل پر پڑے ایک فوٹو فریم کو اُٹھا کر اس نے بڑی نرمی کے ساتھ اُس پر پھونک ماری۔ پھر فریم کے شیشے پر جیسے کسی نظر نہ آنے والی گرد کو اپنی انگلیوں سے صاف کیا، چند لمحے تک وہ فریم میں اس ایک چہرے کو دیکھتی رہی پھر اُس نے اس کو دوبارہ بیڈ سائیڈ ٹیبل پر رکھ دیا۔ سب کچھ جیسے ایک بار پھر سے یادآنے لگا تھا۔ اُس کا وجود ایک بار پھر سے ریت بننے لگا تھا۔آنکھوں میں ایک بار پھر سے نمی آنے لگی تھی۔
اس نے آنکھیں بند کرلیں۔ آج ”اُسے” بہت دیر ہوگئی تھی۔ امامہ نے ہڑبڑا کر آنکھیں کھولی تھیں۔کمرے میں نیم تاریکی تھی۔ سالار اُس کے برابر میں سورہا تھا۔ اُس نے وال کلاک پر نظر ڈالی، رات کا آخری پہر تھا۔ وہ اُٹھ کر بیٹھ گئی… عجیب خواب تھا… وہ کس کا انتظار کر رہی تھی اُسے خواب میں بھی سمجھ نہیں آیا تھا۔ کتاب کے وہ دس ابواب سالار کے تھے۔ وہ کتاب سالار ہی لکھ رہا تھا اور ابھی تک اُس کے نو ابواب لکھے جا چکے تھے۔ دسواں نہیں۔ وہ گھڑی بھی سالار کی تھی اور سالار نے حمین کی پچھلی برتھ ڈے پر اُس کی ضد اور اصرار پر اُسے دی تھی اور اب وہ گھڑی حمین باندھتا تھا۔ اور اُس نے خواب میں اپنے آپ کو بوڑھا دیکھا تھا۔ وہ اُس کا مستقبل تھا۔ وہ کسی کو یاد کر رہی تھی، کسی کے لئے اداس تھی، مگر کس کے لئے، اور وہ کسی کا انتظار کر رہی تھی؟ اور کوئی نہیں آ رہا تھا۔ مگر کون؟ اور پھر وہ تحریر… Will be waiting… وہ خواب کی ایک ایک detail کو دہرا رہی تھی۔ ایک ایک جزئیات کو دہرا سکتی تھی۔
وہ بستر سے اُٹھ گئی، بے حد بے چینی کے عالم میں… اُن کی پیکنگ مکمّل ہو چکی تھی۔ وہ اس گھر میں اُن کی آخری رات تھی اُس کے بعد وہ اُن سب کے ساتھ پاکستان جانے والی تھی اور سالار اور جبریل کو وہیں رہ جانا تھا۔
ایک بار پھر سے اُس کا گھر ختم ہو جانا تھا۔ یہ جیسے اُس کی زندگی کا ایک پیٹرن ہی بن گیا تھا۔ گھر بننا، گھر ختم ہونا، پھر بننا، پھر ختم ہونا، ایک عجیب ہجرت تھی جو ختم ہی نہیں ہوتی تھی۔ اور اس ہجرت میں اپنے گھر کی وہ خواہش اور خواب پتہ نہیں کہاں چلا گیا تھا۔ وہ اُس رات اس طرح خواب سے جاگنے کے بعد بھی بہت اُداس تھی۔
پہلے وہ سالار کی بے انتہا مصروفیت کی وجہ سے اُس کے بغیر اپنے آپ کو رہنے کی عادی کر پائی تھی اور اب پاکستان چلے جانے کے بعد اُسے جبریل کے بغیر بھی رہنا تھا۔
وہ چلتے ہوئے کمرے میں موجود صوفہ پر جا کر بیٹھ گئی۔ اُسے لگ رہا تھا جیسے اُس کے سر میں درد ہونے لگا تھا اور صوفہ پر بیٹھتے ہوئے اُسے ایک بار پھر اُس خواب کا خیال آنے لگا تھا۔ اُس خواب کے بارے میں سوچتے سوچتے وہ بُری طرح ٹھٹھکی۔ کتاب کے دس ابواب، اُس کی اُداسی، اُس کا بڑھاپا، کسی کو یاد کرنا۔
اُسے یاد آیا تھا۔ اُس کتاب کا ہر باب سالار کی زندگی کے پانچ سالوں پر مشتمل تھا۔ ڈاکٹرز نے سالار کو سات سے دس سال کی زندگی کی مہلت دی تھی اور کتاب کا دسواں باب 50 سال کے بعد ختم ہو رہا تھا۔

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: