Aab e Hayat Novel by Umera Ahmed Read Online – Episode 39

0

آب حیات از عمیرہ احمد – قسط نمبر 39

–**–**–

پریذیڈنٹ نے کافی کا خالی کپ واپس میز پر رکھ دیا۔ پچھلے پانچ گھنٹے میں یہ کافی کا آٹھواں کپ تھا جو اس نے پیا تھا۔اُس نے زندگی میں کبھی اتنی کافی نہیں پی تھی، مگر زندگی میں کبھی اُسے اس طرح کا فیصلہ بھی نہیں کرنا پڑا تھا۔ وہ آگے گڑھا اور پیچھے کھائی والی صورت حال سے دوچار تھا اور اپنے عہدِ صدارت کے ایک بہت غلط وقت پر ایسی صورت حال سے دوچار ہوا تھا۔
کانگریس کے الیکشنز سر پر تھے اور یہ فیصلہ ان الیکشنز کے نتائج پر بری طرح اثر انداز ہوتا۔ بری طرح کا لفظ شاید ناکافی تھا، اس کی پارٹی دراصل الیکشن ہارجاتی لیکن اس فیصلہ کو نہ کرنے کے اثرات زیادہ مضر تھے۔ وہ اسے جتنا ٹال سکتا تھا ، ٹال چکا تھا، جتنا کھینچ سکتا تھا، کھینچ چکا تھا۔اب اُس کے پاس ضائع کرنے کے لئے وقت نہیں تھا۔ کچھ lobbies کی قوتِ برداشت جواب دے رہی تھی۔ کچھ power players دبے لفظوں میں اپنی ناراضگی اور شدیدردِّعمل سے اُسے خبردار کررہے تھے۔ فارن آفس اُسے مسلسل متعلقہ ممالک سے امریکی سفارت خانوں کی تقریباً روزانہ کی بنیاد پر آنے والی queries اور concerns کے بارے میں آگاہ کررہا تھا اور خود وہ دو ہفتے کے دوران مستقل ہاٹ لائن پر رہا تھا۔
امریکہ کی بین الاقوامی پسپائی ایک الیکشن ہارنے سے زیادہ سنگین تھی مگر اس کے پاس آپشنز نہ ہونے کے برابر تھے، اپنی کیبنٹ کے چھے اہم ترین ممبرز کے ساتھ پانچ گھنٹوں کی طویل گفت و شنید کے بعد وہ جیسے تھک کر پندرہ منٹ کی ایک بریک لینے پر مجبور ہوگیا تھا۔ اور اس وقت وہ اس بریک کے آخری چند کچھ منٹ گزاررہا تھا۔
ٹیبل سے کچھ پیپرز اُٹھا کر وہ دوبارہ دیکھنے لگا تھا، وہ کیبنٹ آفس میں ہونے والی پانچ گھنٹے کی طویل میٹنگ کے اہم نکات تھے۔اُس کی کیبنٹ کے وہ چھے ممبرز دو برابر گروپس میں بٹے ہوئے دو مختلف لابیز کے ساتھ تھے۔ وہ ٹائی اس کے کاسٹنگ ووٹ سے ٹوٹنے والی تھی اور یہی چیز اسے اتنا بے بس کررہی تھی۔ اس فیصلے کی ذمّہ داری ہر حال میں اسی کے سر پر آرہی تھی۔ یہ اس کے عہدِ صدارت میں ہوتا اور اُس کے کاسٹنگ ووٹ سے ہوتا۔اگر ہوتا تو… اور اس ذمّہ داری کو وہ لاکھ کوشش کے باوجود کہیں اور منتقل نہیں کر پارہا تھا۔
اُس نے ہاتھ میں پکڑے کاغذات کو ایک نظر پھر دیکھنا شروع کیا۔ وہ بُلٹ پوائنٹس اس وقت حقیقتاً اُسے بُلٹس کی طرح لگ رہے تھے۔
بریک کے آخری دو منٹ باقی تھے جب وہ ایک فیصلہ پر پہنچ گیا تھا۔ بعض دفعہ تاریخ بنانے والے کے ہاتھوں کو خود جکڑ کر خود کو بنواتی ہے۔
اور تاریخ 17 جنوری 2030 کو بھی یہی کر رہی تھی۔
******
ہشام نے پہلی بار اُس لڑکی کو سوڈان میں دیکھا تھا۔ UNHCR کے ایک کیمپ پر کسی پناہ گزین گونگی عورت کے ساتھ اشاروں میں بات کرتے اور اُسے کچھ سمجھاتے۔ وہ پاکستانی یا انڈین تھی۔ ہشام نے اُس کے نقوش اور رنگت سے اندازہ لگایا تھا، اور پھر اُس کے گلے میں لٹکے کارڈ پر اُس کا نام پڑھ کر اُسے اُس کا نام پتہ چل گیا تھا۔
بے حد معمولی شکل و صورت کی ایک بے حد دبلی پتلی گھنے بالوں والی ایک سانولی رنگت کی ایک دراز قامت لڑکی… اُس کا پانچ فٹ سات انچ قد اُس کی واحد خاصیت لگی تھی اُس پہلی ملاقات میں ہشام کو۔
وہ ایک عورت سے بات کرتے کرتے ہشام کی طرف متوجہ ہوئی، ایک co-worker کے طور پر اُسے مسکراہٹ دی اور ہاتھوں کے اشارے سے ہیلو اور حال چال پوچھا، اُس لڑکی نے بھی ہاتھوں کے اشارے سے اُس کو جواب دیا۔ دونوں نے بیک وقت اپنے گلے میں لٹکے کارڈز پکڑ کر اوپر کرتے ہوئے اور اُس پر انگلی پھیرتے ہوئے جیسے خود کو متعارف کیا۔ وہ CARE کی ورکر تھی، وہ ریڈکراس کا اور وہ دونوں USA سے آئے تھے۔ رسمی تعارف اور وہاں کے حالات کے بارے میں اشاروں میں ہی بات کرنے کے بعد وہ دونوں آگے بڑھ گئے تھے۔
اُن کی دوسری ملاقات دوسرے دن ہوئی تھی۔ لکڑی کے عارضی باتھ رومز کی تنصیب و تعمیر والی جگہ پر۔ وہ آج بھی اُس سے پہلے وہاں موجود تھی اور کچھ تصویریں لے رہی تھی۔ وہ کچھ سامان لے کر وہاں آیا تھا ایک لوڈر گاڑی میں لٹکے… دونوں نے ایک بار پھر اشاروں کی زبان میں رسمی علیک سلیک کی۔
تیسری ملاقات لمبی تھی، وہ ایڈ ورکرز کے ایک ڈنر میں ملے تھے… ڈنر ہال کے باہر کوریڈور میں… دونوں دس منٹ اشاروں کی زبان میں بات کرتے رہے… وہ پاکستان سے تھی، وہ بحرین سے… وہ نیو یارک یونیورسٹی میں پڑھ رہا تھا، وہ سٹی یونیورسٹی نیو یارک میں… وہ فنانس کا اسٹوڈنٹ تھا ، وہ سوشل سائنسز کی… اور ان دونوں کے درمیان کامن چیز صرف ایک تھی۔ ریلیف ورک، جس میں وہ دونوں اپنی ٹین ایج سے انوالوڈ تھے… اُن دونوں کا Academic C.V اتنا لمبا نہیں تھا جتنا اُن کا Extra-Curricular کوریڈور میں کھڑے اُن دس منٹوں میں اُن دونوں نے ایک دوسرے کے بارے میں ہی پوچھا اور جانا تھا… اشاروں کی زبان میں سوالات بہت تفصیلی ہو گئے تھے لیکن ہشام کا دل چاہا تھا وہ اُس سے اور بھی سوال کرتا… وہ قوتِ گویائی رکھتی تو وہ کر ہی لیتا… اُس کے ساتھ کھڑے اُس نے سوچا تھا… وہ اُسے اُس شام اتنی ہی دل چسپ لگی تھی اور اس سے پہلے کہ وہ دونوں ہمیشہ کی طرح مل کر آگے بڑھ جاتے… اُس کوریڈور سے بہت سارے گزرنے والے ایڈ ورکرز میں سے ایک جو اُن دونوں کو جانتا تھا اُس نے اُنہیں بلند آواز میں دور سے مخاطب کرتے ہوئے ہیلو کہا اور ساتھ حال احوال دریافت کیا۔ وہ دونوں بیک وقت اُس کی طرف مخاطب ہوئے۔ انہوں نے بیک وقت اُس کی ہیلو کا جواب دیتے ہوئے جواباً اُس کی خیریت دریافت کی اور پھر دونوں نے بیک وقت کرنٹ کھا کر ایک دوسرے کو دیکھا۔ stunned silence میں… اور پھر دونوں قہقہہ لگا کر ہنسے تھے… اور ہنستے ہی گئے تھے… سُرخ ہوتے ہوئے چہرے کے ساتھ… اپنی شرمندگی چھپانے کے لئے اُن کے پاس اس سے اچھا طریقہ کوئی اور نہیں تھا اُس وقت…
اُن دونوں کا پہلا تعارف ”خاموشی” نے کروایا تھا اور وہ خاموشی ہمیشہ اُن کے ہر جذبے کی آواز بنی رہی… وہ جیسے اُن کا سب سے دل چسپ کھیل تھا… جب ایک دوسرے سے کچھ بھی خاص کہنا ہوتا تو Sign Language میں بات کرنے لگتے۔ ہنستے کھلکھلاتے، بوجھتے، بھٹکتے، سنبھلتے، سمجھتے… کیا کھیل تھا…!!
وہ اُس وقت یونیورسٹی میں ابھی گئے ہی تھے… ہشام کو حیرت تھی اُن کی ملاقات اس سے پہلے کیوں نہیں ہوئی۔ وہ دونوں ایک جیسی relief agencies کے ساتھ کام کر رہے تھے، لیکن اس سے پہلے وہ صرف امریکہ کے اندر ہی طوفانوں اور سیلابوں کے دوران ہونے والے ریلیف ورک سے منسلک رہے تھے، یہ پہلا موقع تھا کہ وہ دونوں امریکہ سے باہر ہونے والے کسی ریلیف کیمپ میں حصّہ لینے کے لئے گئے تھے۔
نیو یارک واپسی کے بعد بھی اُن دونوں کا رابطہ آپس میں ختم نہیں ہوا تھا… دو مختلف یونیورسٹیز میں ہونے کے باوجود وہ ایک دوسرے سے وقتاً فوقتاً مختلف سوشل ایونٹس میں ملتے رہتے تھے کیوں کہ دونوں مسلمان طلبہ کی تنظیم سے بھی وابستہ تھے… اور پھر یہ رابطہ وقتاً فوقتاً ان سوشل ایونٹس سے ہٹ کر بھی ہونے لگا… وہ دونوں ایک دوسرے کی فیملی سے بھی مل چکے تھے اور اب بہت باقاعدگی سے ملنے لگے تھے۔ دونوں کے والد ایک دوسرے کو بہت اچھی طرح جانتے تھے…
ہشام امریکہ میں بحرین کے سفیر کا بیٹا تھا، اور بحرین کے سفارت خانے میں ہونے والی اکثر گیدرنگز میں اُسے بھی انوائیٹ کیا جاتا تھا۔ اُس کی ماں ایک فلسطینی نژاد ڈاکٹر تھی اور اس کا باپ امریکہ کے علاوہ بہت سے یورپین ممالک میں بحرین کی نمائندگی کر چکا تھا۔ دو بہن بھائیوں میں وہ بڑا تھا اور اُس کی بہن ابھی ہائی سکول میں تھی۔
ریلیف ورک میں دل چسپی ہشام کو اپنی ماں سے وراثت میں ملی تھی جو ہشام کے باپ سے شادی سے پہلے ریڈ کراس کے ساتھ منسلک تھی اور فلسطین میں ہونے والے ریلیف کیمپس میں اکثر اُن امدادی ٹیموں کے ساتھ جاتی تھی جو امریکہ سے جاتی تھیں۔ شادی کے بعد اُس کا وہ کام صرف فنڈز اکٹھے کرنے اور donations تک محدود رہ گیا تھا۔ مگر ہشام نے اپنی ماں فاطمہ سے یہ شوق وراثت میں لیا تھا۔ اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ شوق بڑھتا ہی گیا تھا۔
اُس لڑکی سے ملنے کے بعد اُسے اپنا شوق اور جنوں بہت کم اور کمتر لگا تھا۔ وہ اُس کم عمری میں جن ریلیف پروجیکٹس کے ساتھ منسلک رہی تھی، بہت کم ایسا ہوا تھا کہ ریلیف آپریشن کے بعد بہترین خدمات کا سرٹیفیکیٹ حاصل کرنے والوں میں اُس کا نام نہ ہوتا۔ اُس سے میل جول کا آغاز ہونے کے بعد ہشام کو احساس ہوا کہ اُن کے درمیان انسانیت کی خدمت کا جذبہ ایک واحد کامن چیز نہیں تھی، اور بھی بہت سی دلچسپیاں مشترکہ تھیں اور صرف دلچسپیاں اور مشاغل ہی نہیں… خصوصیات بھی… دونوں کتابیں پڑھنے کے شوقین تھے اور بہت زیادہ… دونوں کو تاریخ میں دل چسپی تھی… دونوں پھرنے پھرانے کے شوقین تھے اور دونوں بہت زیادہ باتونی نہیں تھے… سوچ سمجھ کر بات کرنے کے عادی تھے۔
ہشام کی پوری زندگی لڑکیوں کے ساتھ مخلوط تعلیمی ماحول اور معاشرے میں گزری تھی… نہ اُس کے لئے لڑکیاں نئی چیز تھیں، نہ اُن سے دوستی… لیکن زندگی میں پہلی بار وہ کسی لڑکی سے متاثر ہو کر اُس کی طرف متوجہ ہوا تھا۔ اُس کا کبھی کوئی آئیڈیل نہیں رہا تھا لیکن اُسے لڑکیوں میں جو چیزیں اٹریکٹ کرتی تھیں، اُن میں سے کوئی بھی چیز اُس لڑکی میں نہیں تھی… نہ وہ حسین تھی… نہ سٹائلش، نہ ایسی ذہین کہ اگلے کو چاروں شانے چِت کردے لیکن اس کے باوجود وہ اُسے کسی مقناطیس کی طرح اپنی طرف کھینچتی تھی… نظر کا ایک جدید انداز کا چشمہ لگائے وہ سادہ سی جینز اور کُرتیوں میں اکثر flip flops میں بہت سی stilleto heels والی لڑکیوں کے سامنے ہشام کو زیادہ پرکشش محسوس ہوتی تھی… خود میں مگن، دوسروں سے بے نیاز… کالرڈ کُرتیوں اور شرٹس میں سر کے بال جُوڑے کی شکل میں باندھے اپنی لمبی نیلی گردن کو کسی راج ہنس کی طرح لہراتی وہ ہمیشہ اُسے فون یا ٹیبلٹ ہاتھ میں پکڑے اپنے حال میں مگن ملتی تھی، اُن بہت سی دوسری لڑکیوں کے برعکس جو اُسے دیکھتے ہی بے حد attentive ہو جاتی تھیں۔ ہشام عرب تھا، عورت کی اداؤں سے بخوبی واقف ہونے کے باوجود اداؤں ہی سے گھائل ہونے والا، لیکن اُس لڑکی کے پاس کوئی ادا سرے سے تھی ہی نہیں اس کے باوجود وہ گھائل ہورہا تھا۔
”میرے معاشرے میں اگر مرد کسی عورت کے ساتھ کہیں جائے تو کھانے کا بل وہ دیتا ہے، عورت نہیں۔” ہشام نے پہلی بار اُسے کہیں کھانے کی دعوت دی تھی اور بِل کی ادائیگی کے وقت اُسے پرس نکالتے دیکھ کر اُس نے بڑی سنجیدگی سے روکتے ہوئے کہا تھا۔ وہ جواباً مسکراتے ہوئے پرس سے کچھ نوٹ نکالتے ہوئے اُس سے بولی ”اور میرے باپ نے مجھے کہا تھا کہ اپنے باپ اور بھائی کے علاوہ کسی مرد کے ساتھ بھی کھانا کھاتے ہوئے اپنا بل خود دینا، یہ تمہیں ہر خوش فہمی اور اُسے ہر غلط فہمی سے دور رکھے گا… اس لئے یہ میرے حصّہ کا بل…” اُس نے نوٹ میز پر رکھتے ہوئے ہشام سے کہا تھا۔ مسکرائی وہ اب بھی تھی، ہشام چند لمحوں کے لئے لاجواب ہوا تھا… وہ بڑا مہنگا ریسٹورنٹ تھا جہاں وہ اُسے لایا تھا اور وہ جب بھی کسی لڑکی کو وہاں لا کر بل خود ادا کیا کرتا تھا، اُسے اُس لڑکی کی طرف سے بے حد ناز بھرا اور مصنوعی حیرت اور گرم جوشی سے بھرپور شکریہ موصول ہوتا تھا۔ آج کچھ خلافِ توقع چیز ہوگئی تھی۔
”ریسٹورنٹ مہنگا تھا میں اس لئے کہہ رہا تھا۔” وہ جملہ اگلے کئی ہفتے ہشام کو اکیلے میں بھی دانت پیسنے پر مجبور کرتا رہا تھا… شرم ساری میں اُس نے زندگی بھر کبھی کسی عورت کو ایسی توجیہہ نہیں دی تھی۔
”شکریہ لیکن میں بہت امیر ہوں۔” اُس لڑکی نے جواباً مسکراتے ہوئے اُس سے کہا۔
”اس کا مطلب ہے تم میرا بل بھی دے سکتی ہو۔” وہ پتہ نہیں کیوں کہنے لگا تھا۔
”بل نہیں دے سکتی لیکن بل دینے کے لئے اُدھار دے سکتی ہوں۔” اُس نے جواباً اُس سے کہا۔
۔”So very kind of you… پھر دے دو…” ہشام نے اُسی روانی سے کہا۔ وہ پہلی بار اُلجھی، اُسے دیکھا پھر اُس نے اپنے پرس سے بل کی بقایا رقم نکال کر اُس کی طرف بڑھائی، ہشام نے وہ رقم پکڑ کر بل پر رکھتے ہوئے فولڈر بند کرتے ہوئے ویٹر کی طرف بڑھا دیا۔
اُس لڑکی نے اتنی دیر میں اپنا بیگ کھول لیا۔ وہ اُس میں سے کچھ تلاش کر رہی تھی، چند لمحے گود میں رکھے بیگ میں ہاتھ مارتے رہنے کے بعد اُس نے بالآخر ایک چھوٹی ڈائری نکالی اور پھر اُس کے بعد پین… میز پر ڈائری رکھ کر اُس نے اُس ڈائری میں اُس رقم کا اندراج کیا جو اُس نے کچھ دیر پہلے ہشام کو اُدھار دی تھی۔ پھر اُس نے پین اور ڈائری دونوں ٹیبل کے اوپر سے ہشام کی طرف بڑھائے۔ اُس نے کچھ حیران ہو کر دونوں چیزیں پکڑیں اور پھر اُس سے کہا۔
” یہ کیا ہے؟” لیکن سوال کے ساتھ ہی اُسے پہلی نظر ڈائری پر ڈالتے ہی جواب مل گیا تھا… وہ اُس کے signatures اُس رقم کے سامنے چاہتی تھی جہاں اُس نے اُدھار دی جانے والی رقم لکھی تھی۔ وہ چند لمحوں کے لئے اُس کی شکل دیکھ کر رہ گیا، وہ اب اپنے گلاسز اُتار کر اُنہیں صاف کرتے ہوئے دوبارہ لگارہی تھی۔ معمول کی طرح خود میں محو اور اُسے نظر انداز کئے یوں جیسے یہ سب ایک روٹین کی بات تھی۔ ہشام نے پین سنبھال کر دستخط کرنے سے پہلے ڈائری کے صفحے پلٹ کر بڑے تجسس سے لیکن محظوظ ہونے والے انداز میں دیکھا… وہاں چھوٹی بڑی رقموں کی ایک قطار تھی اور لینے والا صرف ایک ہی شخص تھا جس کا نام نہیں تھا صرف دستخط تھے، مختلف تاریخوں کے ساتھ لیکن کہیں بھی ادائیگی والے حصے میں کسی ایک رقم کی بھی ادائیگی نہیں کی گئی تھی۔
”مجھے اندازہ نہیں تھا تم اتنی calculated ہو… ہر چیز کا حساب رکھتی ہو؟” ڈائری پر دستخط کرتے ہوئے ہشام کہے بغیر نہیں رہ سکا۔
”اگر میں لکھوں گی نہیں تو بھول جاؤں گی اور معاملات میں تو clarity ضروری ہوتی ہے۔” اُس لڑکی نے جواباً اطمینان کے ساتھ کہا، وہ اب اُس سے ڈائری اور پین لے کر واپس اپنے بیگ میں رکھ چکی تھی۔
”ڈائری سے تو لگتا ہے تم واقعی بہت امیر ہو… اتنی دریا دلی سے کس کو قرض دے رہی ہو؟” ٹیبل سے اُٹھتے ہوئے ہشام نے اُس کو کُریدا، وہ بات گول کر گئی۔ اُن کے درمیان اتنی بے تکلفی نہیں تھی کہ وہ اُسے زیادہ کُریدتا مگر اُس ڈائری میں کئے ہوئے اُس آدمی کے دستخط اُسے یاد رہ گئے تھے۔ وہ اُن دستخط سے اتنا تو اندازہ لگا ہی چکا تھا کہ وہ کسی مرد کے دستخط تھے۔
ایک ہفتے بعد اُس نے اُس لڑکی کو وہ قرض واپس کرتے ہوئے اُس کی ڈائری میں ادائیگی کے حصّے میں اپنے دستخط paid کی تحریر کے ساتھ کرتے ہوئے ایک بار پھر سے ڈائری اُلٹ پلٹ کر دیکھی… وہ ڈائری اُس سال کی تھی، اور سال کے شروع سے اُس مہینے تک کسی صفحے پر کوئی ادائیگی نہیں تھی، لیکن اُدھار لینے کی رفتار میں تسلسل تھا… چھوٹی بڑی رقمیں، لیکن لاتعداد بار۔
”اس سال تمہیں کوئی اُدھار واپس کرنے والا میں پہلا شخص ہوں۔” ہشام نے جیسے بڑے فخریہ انداز میں کہا، اُس نے مسکرا کر اُس سے ڈائری اور نوٹ دوبار ہ واپس لئے، نوٹوں کو ہشام کے سامنے گنا، اپنے پرس سے چند چھوٹے نوٹ نکال کر ہشام کو واپس کیے کیوں کہ اُس نے راؤنڈ فگر میں رقم واپس کی تھی۔
”چھوڑو اسے رہنے دو۔” ہشام نے نوٹ واپس دینے کی کوشش کی۔”اتنی بڑی رقم نہیں ہے یہ۔”اُس نے جیسے لاپرواہی سے کہا۔
”کافی کا ایک کپ اور ایک ڈونٹ آسکتا ہے، ایک ویفل آئس کریم آسکتی ہے یا ایک برگر۔” اُس نے بڑے اطمینان سے جواباً کہا تھا، وہ ہنسا۔
”تم واقعی ضرورت سے زیادہ حساب کتاب کرتی ہو۔”
”میری ماں کہتی ہے روپیہ مشکل سے کمایا جاتا ہے اور اُس کی قدر کرتے ہوئے اُسے خرچ کرنا چاہیے۔” اُس نے جیسے ایک بار پھر ہشام کو لاجواب کیا تھا، ذرا سی شرمندگی دکھائے بغیر۔
”اس طرح تو تم واقعی بہت امیر ہو جاؤ گی۔” ہشام نے اُسے tease کیا۔
”انشا اللہ!”
اُس نے جواباً اتنے اطمینان سے کہا کہ ہشام کو ہنسی آگئی تھی۔ ہنسنے کے بعد ہشام کو احساس ہوا شاید یہ مناسب نہیں تھا کیوں کہ وہ اُسی طرح سنجیدہ تھی۔
”تمہیں بُرا تو نہیں لگا؟” اُس نے کچھ سنبھلتے ہوئے اُس سے پوچھا۔
”کیا؟”
”میرا ہنسنا…”
”نہیں… مجھے کیوں بُرا لگے گا… تم کیا مجھ پر ہنسے تھے؟” ہشام نے سر کھجایا، لڑکی سیدھی تھی، سوال ٹیڑھا تھا۔
”یہ جس کو اتنے اُدھار دیتی رہی ہو، یہ کون ہے؟” اُس نے بھی اُس سے ایک ٹیڑھا سوال کیا تھا۔
”ہے کوئی۔” وہ ایک بار پھر نام گول کر گئی۔
”تم نام بتانا نہیں چاہتی؟” وہ کہے بغیر نہیں رہ سکا۔
”نہیں۔” وہ چند لمحوں کے لئے چُپ رہا پھر اُس نے کہا ”بہت زیادہ قرضہ نہیں ہو گیا اس کے سر؟” اس کی سوئی اب بھی وہیں اٹکی ہوئی تھی۔
”میں اُسے انکار نہیں کر سکتی…” ہشام عجیب طرح سے بے چین ہوا۔
”پیسے کے معاملے میں کسی پراعتبار نہیں کرنا چاہیے۔” شاید زندگی میں پہلی بار اُس نے کسی کو ایسا مشورہ دیا تھا۔
”پیسے کے بارے میں نہیں، میں ویسے ہی اعتبار کرتی ہوں اُس پر۔”
اُس نے بڑے آرام سے کہا تھا۔ ہشام کی سمجھ میں نہیں آیا وہ اُس سے کیا کہے؟ وہ اُن کی دوستی کا آغاز تھا اور وہ ایک دوسرے کی ذاتیات میں دخل اندازی نہیں کر سکتے تھے، اُن کے درمیان ایسی بے تکلفی نہیں تھی۔
اُس شخص کا تعارف بھی ہشام سے بہت جلد ہی ہو گیا تھا۔
******
تالیوں کی گونج نے حمین سکندر کی تقریر کے تسلسل کو ایک بار پھر توڑا تھا، روسٹرم کے پیچھے کھڑے چند لمحوں کے لئے رُک کر اُس نے تالیوں کے اس شور کے تھمنے کا انتظار کیا۔
وہ MIT کے graduating students کا اجتماع تھا، اور وہ وہاں commencement speaker کے طور پر بلایا گیا تھا۔ پچھلے سال وہ MIT کے graduating students میں شامل تھا۔ Saloon School Of Management سے ڈسٹنکشن کے ساتھ نکلنے والوں میں سے ایک اور اس سال وہ یہاں graduating students سے خطاب کر رہا تھا۔ MIT وہ واحد یونیورسٹی نہیں تھی جس نے اُسے اس سال اس اعزاز کے قابل سمجھا تھا۔ Ivy League کی چند اور نامور یونیورسٹیز نے بھی اُسے مدعو کیا تھا۔
24 سال کی عمر میں حمین سکندر پچھلے تین سالوں کے دوران دُنیا کے بہترین entreprenuers میں سے ایک مانا جا رہا تھا، اُس ایک آئیڈیا کی وجہ سے جو پچھلے کچھ سالوں میں ایک بیج سے ایک تناور درخت کی شکل اختیار کر چکا تھا۔
۔Trade an Idea کے نام سے اُس کی ڈیجیٹل فنانس کمپنی نے پچھلے تین سالوں میں گلوبل مارکیٹس میں دھوم مچا رکھی تھی۔ دُنیا کے 125 بہترین مالیاتی اور کاروباری ادارے اُس کمپنی کے باقاعدہ کلائنٹس تھے اور ڈیڑھ ہزار چھوٹے ادارے بالواسطہ اُس کی خدمات سے فائدہ اُٹھا رہے تھے۔
اور یہ سب تین سال کی مختصر مدّت میں ہوا تھا، جب وہ تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اس کمپنی کی بنیاد رکھنے میں بھی مصروف تھا۔
۔Trade an Idea کا concept بے حد دل چسپ اور منفرد تھا اور ایک عام user کو وہ ابتدائی طور پر کسی digital game جیسا لگتا۔
اُس کی ابتداء بھی حمین سکندر نے بے حد چھوٹے پیمانے پر کی تھی۔ ایک ویب سائٹ پر اُس نے دنیا کی سو بہترین یونیورسٹیز کے اسٹوڈنٹس کو ایک آن لائن چیلنج دیا تھا۔ ایسا کوئی آئیڈیا trade کرنے کے لئے جس کے لئے انہیں یا تو فنانس چاہیے تھا یا کسی کمپنی کی سپورٹ اور یا پھر وہ اپنا idea کسی خاص قیمت پر trade کرنے کے لئے تیّار تھے۔ لیکن trading اور traders دونوں بے حد مختلف تھے۔
اُس ویب سائٹ پر تین کوئز تھے… اے کیٹگری، بی اور سی کیٹگری… ہر کوئز میں بیس سوالا ت تھے اور ویب سائٹ پر رجسٹریشن کے لئے ایک پاس ورڈ ضروری تھا جو اس کوئز میں کامیاب ہونے کے بعد بھیجا جاتا ہے اور وہی نمبر اُس trader کی ID تھی۔
کیٹگری A کا کوئز مشکل ترین تھا اور ناک آؤٹ کے انداز میں timed تھا۔ کیٹگری B اور C اُس سے آسان تھے اور نہ timed تھے اور نہ ہی اُن میں ناک آؤٹ ہوتا تھا۔ یہ ان تین کیٹگریز کی درجہ بندی تھی جو وہاں آنے والے traders کی پرفارمنس پر automatically انہیں مختلف کیٹگریز میں رکھتی تھی۔ جو A کیٹگری میں آگے نہ جا پاتا وہ B کے کوئز میں حصہ لیتا اور جو B میں بھی آگے نہ جاپاتا تو وہ C میں اور جو C میں بھی آگے نہ جا پاتا تو اُسے Trade an Idea کی طرف سے kick out کر دیا جاتا تھا اس پیغام کے ساتھ کہ ابھی اُسے اور سیکھنے کی ضرورت ہے… ٹریڈنگ اُس کا کام نہیں۔ اے کیٹگری کے کوئز میں کامیاب ہو جانے والے غیر معمولی ذہنی صلاحیتوں کے حامل افراد ایک پاس ورڈ حاصل کرنے میں کامیاب ہوتے اور پھر اگلے مرحلے تک رسائی کرتے… ایک ایسے ٹریڈ سینٹر میں جہاں بہترین یونیورسٹیز کے بہترین دماغ اپنے اپنے ideas کو رجسٹر کروانے کے بعد آن لائن موجود ٹریڈرز کے ساتھ اپنے ideas کے حوالے سے بات چیت کرتے… وہ گروپ ڈسکشن بھی ہو سکتی تھی اور وہ ٹریڈرز کی آپس میں گفت و شنید بھی… پہلے مرحلے پر حمین صرف پانچ بڑی کمپنیز کو اس بات پر آمادہ کر پایا تھا کہ وہ اس ٹریڈ روم میں idea لے کر آنے والوں کے ideas سُنیں اور اُس پر اُن سے بات چیت کریں، اگر اُنہیں کسی کا idea پسند آجائے تو… اس کے عوض اُنہیں TAI کو ایک مخصوص فیس ادا کرنی تھی، اگر وہاں کوئی idea انہیں پسند آجاتا اور وہ اُسے خریدنے، اُس میں invest کرنے یا اُس میں پارٹنر شپ کرنے پر تیار ہوتے تو۔
کیٹگری بی میں پیش ہونے والے آئیڈیاز کی trading بھی اسی فارمولا کے تحت ہوتی تھی، لیکن وہاں ایک اضافی چیز یہ تھی کہ وہاں اپنے ideas کے ساتھ آنے والے مختلف نوجوان افراد interactions کے ذریعہ اپنی پسند کے کسی ایک جیسے idea پر collaboration کرسکتے تھے اور اگر ایسی کوئی collaboration کسی آئیڈیا کو عملی شکل تک ڈھال دیتا تو Trade an Idea اُس collaboration کے لئے بھی انہیں ایک فیس چارج کرتا۔
کیٹگری C اس سے بھی آسان تھی، وہاں trade کے لئے آنے والے traders اپنے ideas کو barter بھی کر سکتے تھے یعنی کسی بھی trader کو اگر دوسرے کا idea پسند آتا اور وہ اُسے cash سے خریدنے کی اہلیت نہ رکھتا ہو، تو پھر وہ اُس idea کے بدلے کچھ اور idea, skill, service یا پروجیکٹ اُسے پیش کر سکتا تھا۔
وہ بہت basic سا فارمولا تھا۔ جو حمین نے صرف ذہانت کو encash کرنے کی بنیاد پر نکالا تھا اور اپلائی کیا تھا۔
پہلی بار اُس کی کلائنٹ بننے والی پانچ میں سے تین کمپنیز کو وہاں پہلے مہینے میں تین ایسے آئیڈیاز پسند آگئے تھے جن کے traders کو انہوں نے hire کرلیا تھا۔
تین سال پہلے کلائنٹس اور ٹریڈرز کی ایک محدود تعدار سے شروع ہونے والی کمپنی اب ان basic tradings سے بہت آگے بڑھ چکی تھی، وہ اب خود Trade an Idea پر آنے والے ٹریڈرز سے ایسے ideas اور بزنس پروپوزلز لے لیتی جس میں انہیں potential نظر آتا اور وہ اپنے بڑے کلائنٹس کی ضروریات اور دل چسپی کے مطابق مختلف ideas اور پروجیکٹس انہیں شیئر کردیتی۔
۔Trade an Idea نے پچھلے تین سال میں تین سو ایسی نئی کمپنیز کی بنیاد رکھی تھی جن کے ideas اُن کے پلیٹ فارم پر آنے کے بعد مختلف بین الاقوامی کمپنیز نے اُن ideas میں investment کی تھی۔Trade an Idea سے ملنے والے ideas پر تکمیل پانے والے پروجیکٹس کی کامیابی کا 90% ratio تھا۔
دُنیا کے سو بہترین اداروں کے بہترین اسٹوڈنٹس کو ایک پلیٹ فارم پر لانے والا یہ ادارہ اب دُنیا کی ہزاروں یونیورسٹیز کے لاکھوں اسٹوڈنٹس کو اپنے اپنے ideas گھر بیٹھے آن لائن نامور اور کامیاب ترین کمپنیز کے نمائندوں کے سامنے پیش کرنے کا موقع دے رہا تھا۔ وہ پلیٹ فارم ایک نئے entreprenuer کے لئے ایک ڈریم پلیٹ فارم تھا۔ Trade an Idea اب ان ہی کیٹگریز کے ساتھ ایک اور ایسی کیٹگری کا اضافہ کر چکا تھا جہاں کوئی بھی شخص اپنی خسارے میں جانے والی کمپنی، بزنس، سیٹ اپ پروجیکٹ بیچ سکتا تھا اور آن لائن ہی اُس کی evaluation بھی کروا سکتا تھا۔
حمین سکندر کا نام دُنیا کی کسی بھی بڑی مالیاتی کمپنی کے لئے اب نیا نہیں تھا۔ اُس کی کمپنی trade کے نئے اصول لے آئی تھی اور اُن نئے اصولوں پر کام کررہی تھی۔
”اکثر لوگوں کا خیال ہے میں رول ماڈل ہوں… ہو سکتا ہے میں بہت ساروں کے لئے ہوں… لیکن خود مجھے رول ماڈل کی تلاش کبھی نہیں رہی…” تالیوں کا شور تھم جانے کے بعد اُس نے دوبارہ کہنا شروع کیا تھا۔ ”رول ماڈلز اور آئیڈیلز کتابوں میں زیادہ ملتے ہیں اور میرے ماں باپ کو ہمیشہ مجھ سے یہ شکایت رہی کہ میں کتابیں نہیں پڑھتا۔” وہاں بیٹھے ہوئے اسٹوڈنٹس میں کھلکھلاہٹیں اُبھری تھیں اور اگلی ایک نشست پر بیٹھی امامہ بھی ہنس پڑی تھی۔
”میں نے اپنی زندگی میں دل چسپی سے صرف ایک کتاب پڑھی تھی اور وہ میرے باپ کی آٹو بائیوگرافی تھی… وہ بھی بارہ سال کی عمر میں اپنی ماں کے لیپ ٹاپ میں۔” سامنے والی نشستوں پر بیٹھی امامہ کا رنگ فق ہو گیا، وہ ہنسنا یک دم بھول گئی تھی۔
”اور وہ واحد کتاب ہے جس کو میں نے بار بار پڑھا… وہ۔۔۔۔۔۔۔ وہ واحد کتاب ہے جو میرے لیپ ٹاپ میں بھی ہے… میرے باپ کی آٹو بائیو گرافی کی بہترین بات یہ ہے کہ اُس میں کوئی ہیرو، کوئی آئیڈیل، کوئی رول ماڈل نہیں ہے، اور اُسے پڑھتے ہوئے مجھے ہمیشہ یہ احساس ہوا کہ میرا باپ کتنا lucky ہے کہ اُسے کسی سے inspire ہو کر اُس جیسا نہیں بننا پڑا، زندگی گزارنے کے اُن کے اپنے اصول اور فارمولاز اُن کے بچپن اور جوانی کو dictate کرتے رہے۔”
وہ کہتا جا رہا تھا اور وہاں بیٹھی امامہ عجیب سے شاک اور شرمندگی میں بیٹھی تھی، وہ کتاب جسے وہ آج بھی publish کروانا نہیں چاہتی تھی، صرف اس لئے کیوں کہ وہ اپنی اولاد کو اُن کے باپ کے حوالے سے کسی شرمندگی میں مبتلا نہیں دیکھنا چاہتی تھی… وہ کتاب اُس کی تیسری اولاد بارہ سال کی عمر میں صرف ایک بار نہیں، بار بار پڑھتا رہا تھا۔ اُس کی ایک کاپی اُس کے لیپ ٹاپ تک بھی چلی گئی تھی اور وہ بے خبر تھی۔
”میں نے اُس کتاب کو پڑھنے کے بعد یہ طے کیا تھا کہ مجھے inspire ہونے جیسا آسان کام نہیں کرنا… inspire کرنے جیسا مشکل کام کر کے دیکھنا ہے۔” وہ کہہ رہا تھا۔
”میرا تعارف کرواتے وقت وہ ساری چیزیں گنوائی گئیں جن سے آپ سب کے سانس رُک جائیں، آنکھیں جھپکنا بند ہو جائیں، منہ کُھلے کے کُھلے رہ جائیں… میں نے کس عمر میں کیا کر دیا، اور کس عمر میں کیا… اس سال میری کمپنی کا ٹرن اوور کیا تھا… دُنیا کے دس بہترین entreprenuer میں، میں کس نمبر پر ہوں… دُنیا کی کون کون سی کمپنیاں میری کلائنٹ ہیں… آپ میں سے اگر کوئی مجھ سے اور میری کامیابی سے متاثر نہیں ہوا یہ سب سُن کر بھی تو مجھے حیرت ہو گی…” وہ رُکا، جیسے مجمع کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے اُس نے کہا۔
”لیکن اس تعارف میں بہت سے ایسے facts شامل ہیں جن کو سُن کر آپ کو مجھ میں اپنا آپ یا اپنے آپ میں میں دِکھنے لگوں گا… جیسے اس تعارف میں یہ حقیقت شامل نہیں ہے کہ میں آج تک کوشش کے باوجود کبھی اپنی بہن سے لیا گیا قرض واپس نہیں کر سکا۔” مجمع میں ہلکی تالیوں کے ساتھ قہقہے گونجے۔
حمین بے حد سنجیدہ تھا۔
”لیکن میں ایک دن وہ ساری رقم واپس کروں گا یہ وہ وعدہ ہے جو میں اُس سے 8 سال کی عمر سے کر رہا ہوں جب میں نے اُس سے پہلی بار قرض لیا تھا، اور میں کبھی وعدہ پورا نہیں کر سکا۔” وہ ہنستے ہوئے مجمع کے سامنے بے حد سنجیدگی سے کہہ رہا تھا۔ میری بہن کے پاس ڈائریز کا ایک ڈھیر ہے جس میں اُس نے اُس سے اُدھار لیے جانے والے ایک ایک سینٹ کا بھی حساب رکھا ہوا ہے۔” تالیوں کے شور میں وہ رُکا۔ ”اور ہر اچھے بزنس مین کی طرح میں بھی اتنی بڑی رقم فوری طور پر کسی کو نہیں دے سکتا چاہے وہ قرضہ کی واپسی ہی کیوں نہ ہو…” وہ بول رہا تھا۔
”اور میں سُست ہوں، ضرورتاً جھوٹ بولتا ہوں، چیزیں اکثر بھول جاتا ہوں، دوستوں کو مایوس کرتا ہوں۔” اُس کے ہر جملے پر وہ اسٹوڈنٹس پر جوش انداز میں تالیاں بجا رہے تھے جیسے کسی rock star کو داد دے رہے ہوں۔
”اور ان تمام خامیوں کے ساتھ بھی مجھے اگر most inspirational person کی فہرست میں رکھا جاتا ہے تو یہ خوف ناک بات ہے… خوف ناک اس لئے کیوں کہ ہم ایک ایسے زمانے میں داخل ہو چکے ہیں جہاں صرف کامیابی ہمیں قابلِ عزت اور قابلِ رشک بنا رہی ہے… ہماری انسانی خصوصیات اور خوبیاں نہیں۔”
تالیوں کے شور نے ایک بار پھر اُسے رُکنے پر مجبور کیا تھا۔ مجمع اب اُس کے سینس آف ہیومر کو نہیں، اُس کے اُن الفاظ کو سراہ رہا تھا۔
۔”MIT کے graduating students کو یہ بات کہتے ہوئے میں stupid لگوں گا کہ اُن چیزوں کو redefine کریں جو ہمارے لئے inspirational ہونی چاہیے… میں دس سال کا تھا جب میرے باپ نے مجھے زبردستی پاکستان بھیج دیا… مجھے اور میری فیملی کو… کیوں کہ میرے دادا کو الزائمر تھا، اور میرے باپ کا خیال تھا اُنہیں ہماری ضرورت تھی… میں نے اگلے چھے سال اپنے دادا کے ساتھ گُزارے تھے… دنیا کی کوئی یونیورسٹی مجھے وہ تربیت اور علم نہیں دے سکتی جو الزائمر کے ہاتھوں اپنی یادداشت کھوتے ہوئے اُس 75 سال کے بوڑھے نے اپنے دس سال کے پوتے کو دی… MIT بھی نہیں…” سنّاٹے کو تالیوں نے توڑا تھا۔ پھر اُس کے لئے کھڑے ہو جانے والے ہجوم نے اگلے کئی منٹ اپنے ہاتھ نہیں روکے۔
”میں ہمیشہ سوچتا تھا اس سب کا فائدہ کیا تھا… مجھے امریکہ میں ہونا چاہیے تھا، دادا کے پاس نہیں… لیکن پھر آہستہ آہستہ سب کچھ بدلنا شروع ہو گیا… مجھے اُن کے ساتھ بیٹھنا، بات کرنا، سننا اور اُن کی مدد کرنا اچھا لگنے لگا… دس سال کا بچہ کبھی یہ نہیں سمجھ سکتا کہ کوئی انسان سامنے پڑی ہوئی چیز کا نام کیسے بھول سکتا ہے… لیکن میں یہ سب دیکھ رہا تھا اور اس سب نے مجھے ایک چیز سکھائی۔ ”There is no tomorrow“ جو بھی ہے، آج ہے… اور آج کا بہترین مصرف ہونا چاہیے…”کل” چانس ہے، ہو سکتا ہے، آپ کو نہ ملے۔”
اُس نے تقریر ختم کر دی تھی۔ وہ پورا مجمع ایک بار پھر اُس کے لئے کھڑا ہو چکا تھا، تالیاں بجاتے ہوئے۔
امامہ بھی تالیاں بجارہی تھی، ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ اُسے دیکھتے ہوئے… اُسے داد دیتے ہوئے… اُس کی اولاد نے اُسے ایسے بہت سے فخریہ لمحے دیے تھے… بہت سارے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آہستہ آہستہ اُس گھر کے سارے پرندے اُڑ گئے تھے… جبریل، عنایہ، حمین رئیسہ… مگر ہر ایک کی پرواز شاندار تھی، وہ جس آسمان پر بھی اُڑ رہے تھے… فاتحانہ انداز میں اُڑ رہے تھے۔
”تم سمجھدار ہو گئے ہو یا ایکٹنگ کر رہے تھے؟” وہاں سے واپسی پر امامہ نے اُس سے گاڑی میں کہا تھا۔ وہ ڈرائیونگ کرتے ہوئے ہنس پڑا۔
”ایکٹنگ کر رہا تھا، یہ تو ظاہر ہے… غلط سوال کرلیا آپ نے مجھ سے۔” اُس نے ماں کی بات کے جواب میں کہا تھا۔
”تم بے حد خراب ہو حمین!” امامہ کو یک دم جیسے یاد آیا۔
”میں بھی سوچ رہا تھا آپ بابا کی آٹو بائیوگرافی بھول کیسے گئیں؟” حمین نے ماں کے اس جملے پر برق رفتاری سے کہا۔
”تمہیں اُسے نہیں پڑھنا چاہیے تھا۔” امامہ اب بھی سنجیدہ تھی۔
”آپ ہی کہتی ہیں، کتابیں پڑھنا اچھی عادت ہے۔” اُس نے ماں سے کہا
”میں نے یہ نہیں کہا تھا کہ کتابیں چوری کر کے اور بغیر اجازت پڑھو۔”امامہ نے اُسی سنجیدگی سے اُسے ڈانٹا۔
”زندگی میں پہلی اور آخری بار کوئی کتاب چوری کر کے پڑھی ہے۔ آپ تسلّی رکھیں میں اتنا passionate نہیں ہوں ریڈنگ کے بارے میں۔” اُس نے بڑے اطمینان سے کہا۔ امامہ اگر اُسے شرمندہ دیکھنا چاہتی تھی تو یہ اُس کی غلط فہمی تھی۔ اُس کے پاس ہر logic اور ہر بہانہ تھا۔ سالار کا بیٹا تھا تو ان چیزوں کی افراط تھی اُس کے پاس۔
”ممّی آپ خوامخواہ ہی پریشان ہوتی رہتی ہیں، ہم بڑے ہو چکے ہیں، آپ ہر بات ہم سے راز نہیں رکھ سکتیں۔” اُس نے ماں کا کندھا تھپکتے ہوئے جیسے اُسے یاد دلایا۔
”باقی تینوں ہو چکے ہیں، تم نہیں ہوئے۔”
امامہ نے اُس کی بات کو ایک کان سے سُن کر دوسرے کان سے اُڑاتے ہوئے کہا۔٠
۔”That’s not fair آپ نے میری speech نہیں سُنی کیا؟” اُس نے بے ساختہ اعتراض کرتے ہوئے کہا تھا۔
”وہ speech عنایہ نے لکھی ہوگی۔” امامہ نے کہا۔ ایک لمحہ کے لئے وہ لاجواب ہوا اور ونڈ سکرین سے باہر دیکھتے ہوئے بھی اُسے امامہ کی چبھتی نظروں کا احساس ہو رہا تھا۔
۔”She just edited it” اُس نے بالآخر اعتراف کیا…
۔”As always” امامہ نے جتانے والے انداز میں کہتے ہوئے گہرا سانس لیا۔
۔”You know it very well میں ساری عمر speeches لکھتا رہا ہوں، کرتا رہا ہوں، یہ مشکل نہیں ہے میرے لئے، میں خود بھی کر سکتا ہوں۔” ”کر سکتے ہو، بالکل کر سکتے ہو۔ لیکن بس یہ نہ کہو کہ تمہاری speech سُن کر تمہارے سمجھدار ہونے کا یقین کر لوں۔”
امامہ مزید کچھ کہنے کے بجائے خفگی کے عالم میں خاموش ہو گئی اور ونڈ سکرین سے باہر دیکھنے لگی۔
”غصّے میں آپ بہت حسین لگتی ہیں۔” اُس نے یک دم بڑی سنجیدگی سے ماں سے کہا، امامہ نے گردن موڑ کر اُسے دیکھا۔ ”یہ بھی میں نے بابا کی کتاب میں کہیں پڑھا تھا… چیپٹر نمبر فائیو میں؟ نہیں شاید فور میں۔’‘ وہ اب اپنا بازو اُس کے کندھے کے گرد پھیلائے ماں کو منانے کی کوشش کررہا تھا۔
”واقعی لکھا ہے تمہارے بابا نے؟” امامہ نے جیسے بے یقینی سے اُسے پوچھا، اس کے باوجود کہ وہ یہ کتاب درجنوں بار پڑھ چکی تھی۔ ایڈٹ، ری ایڈٹ کر چکی تھی اُس کے باوجود ایک لمحہ کے لئے اُسے واقعی شائبہ ہوا۔
”لکھا تو نہیں، لیکن اگر آپ کہیں تو میں edit کر کے شامل کر دیتا ہوں… آپ کو ویسے بھی پتہ ہے میں غلط باتوں کا چیمپئن ہوں۔” اُس نے بے حد اطمینان سے ماں سے کہا۔ وہ ہنس پڑی، وہ واقعی یہ بھی کر سکتا تھا، اُس کے لئے اُسے شبہ نہیں تھا۔
******
”ہم کہیں مل سکتے ہیں؟” اسکرین چمکی۔
”کہاں؟” تحریر اُبھری۔
”جہاں بھی تمہیں آسانی ہو، میں آجاؤں گا۔” جواب آیا۔
”اچھا سوچتی ہوں۔” لفظوں نے کہا۔

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: