Aab e Hayat Novel by Umera Ahmed Read Online – Episode 4

0

آب حیات از عمیرہ احمد – قسط نمبر 4

–**–**–

”مجھے اس طرح آنکھیں پھاڑ کر دیکھنا بند کرو۔” اس نے اس بار کچھ خفگی سے فرقان سے کہا۔
”تم… تم بہت نیک آدمی ہو سالار…! اللہ تم سے بہت خوش ہے…” وہ آملیٹ کا ایک اور ٹکڑا لیتے لیتے فرقان کی بات پر ٹھٹھک گیا۔
اس کی بھوک یک دم ختم ہو گئی تھی۔ مزید ایک لفظ کہے بغیر اس نے پلیٹ پیچھے ہٹا دی اور اپنے برتن اٹھا کر اندر کچن میں لے گیا۔ وہ خوشی، سرشاری، اطمینان اور سکون جو کچھ دیر پہلے جیسے اس کے پورے وجود سے چھلک رہا تھا، فرقان نے پلک جھپکتے اسے دھواں بن کر غائب ہوتے دیکھا۔
مسجد کی طرف جاتے ہوئے فرقان نے بالآخر اس سے پوچھا تھا۔
”اتنے چپ کیوں ہو گئے ہو؟” وہ اسی طرح خاموشی سے چلتا رہا۔
”میری کوئی بات بری لگی ہے؟”
وہ اب بھی خاموش رہا۔ مسجد کے دروازے پر اپنے جو گرز اتار کر اندر جانے سے پہلے اس نے فرقان سے کہا۔
”مجھے تم سب کچھ کہہ لینا فرقان! لیکن کبھی نیک آدمی مت کہنا۔”
فرقان کچھ بول نہیں سکا۔ سالار مسجد میں داخل ہو گیا تھا۔
٭٭٭٭
امامہ کی آنکھ گیارہ بجے سیل فون پر آنے والی ایک کال سے کھلی تھی، وہ ڈاکٹر سبط علی تھے۔ ان کی آواز سنتے ہی اس کا دل بھر آیا تھا۔
”میں نے آپ کو نیند سے جگا دیا؟”
وہ معذرت خواہانہ انداز میں بولے۔ انہوں نے اس کی رندھی ہوئی آواز پر غور نہیں کیا تھا۔
”نہیں، میں اٹھ گئی تھی۔” اس نے بستر سے اٹھتے ہوئے جھوٹ بولا۔
وہ اس کا حال احوال پوچھتے رہے۔ وہ بڑے بوجھل دل کے ساتھ تقریباً خالی الذہنی کے عالم میں ہوں ہاں میں جواب دیتی رہی۔
چند منٹ اور بات کرنے کے بعد انہوں نے فون بند کر دیا۔ کال ختم کرتے ہوئے اس کی نظر اپنے سیل فون میں چمکتے ہوئے نام پر پڑی تھی۔ وہ چونک اٹھی، اسے فوری طور پر یاد نہیں آیا کہ اس نے سالار کا نام اور فون نمبر کب محفوظ کیا تھا۔ یقینا یہ بھی اسی کا کارنامہ ہو گا۔ اس نے اس کا ایس ایم ایس پڑھنا شروع کیا۔
”پلیز جاگنے کے بعد مجھے میسج کرنا۔ مجھے ضروری بات کرنا ہے۔” اسے نجانے کیوں اس کا میسج پڑھ کر غصہ آیا۔
”بڑی جلدی یاد آگئی ہیں۔” وہ میسج کا ٹائم چیک کرتے ہوئے بڑبڑائی۔ وہ شاید دس، پچاس پر آیا تھا۔ ”اگر آفس جاتے ہوئے اسے میں یاد نہیں آئی تو آفس میں بیٹھ کر کیسے آسکتی ہوں۔” وہ اس وقت اس سے جی بھر کر بدگمان ہو رہی تھی اور شاید ٹھیک ہی ہو رہی تھی۔ وہ پچھلی رات کے لیے ”چیف گیسٹ” تھی اور اگلی صبح وہ اس کے ساتھ بن بلائے مہمان جیسا سلوک کر رہا تھا۔ کم از کم امامہ اس وقت یہی محسوس کر رہی تھی وہ اس وقت وہ باتیں سوچ رہی تھی جو سالار کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھیں۔
وہ کچھ عجیب انداز میں خود ترسی کا شکار ہو رہی تھی۔ اس نے کمبل تہہ کرتے ہوئے بستر ٹھیک کیا اور بیڈ روم سے باہر نکل آئی۔ اپارٹمنٹ کی خاموشی نے اس کی اداسی میں اضافہ کیا تھا۔ کھڑکیوں سے سورج کی روشنی اندر آرہی تھی۔ کچن کے سنک میں وہ برتن ویسے ہی موجود تھے جس طرح وہ چھوڑ کر گئی تھی۔
”ہاں، وہ بھلا کیوں دھوتا، یہ سارے کام تو ملازماوؑں کے ہوتے ہیں۔ لیکن میں تو نہیں دھووؑں گی، چاہے ایک ہفتہ ہی پڑے رہیں۔ میں ملازمہ نہیں ہوں۔” ان برتنوں کو دیکھ کر اس کی خفگی میں کچھ اور اضافہ ہو گیا۔ اس وقت وہ ہر بات منفی انداز میں لے رہی تھی۔
وہ بیڈ روم میں آئی تو اس کا سیل فون بج رہا تھا۔ ایک لمحہ کے لیے اس کو خیال آیا کہ شاید سالار کی کال ہو، لیکن وہ مریم کی کال تھی۔ امامہ کا حال احوال پوچھنے کے بعد اس نے بڑے اشتیاق کے عالم میں امامہ سے پوچھا۔
”سالار نے منہ دکھائی میں کیا دیا تمہیں؟” امامہ چند لمحے بول نہیں سکی۔ اس نے تو کوئی تحفہ نہیں دیا تھا اسے، سالار کے نامہ اعمال میں ایک اور گناہ کا اضافہ ہو گیا تھا۔
”کچھ بھی نہیں۔” امامہ نے کچھ دل شکستہ انداز میں کہا۔
”اچھا…؟ چلو کوئی بات نہیں، بعد میں دے دے گا، شاید اسے خیال نہیں آیا۔” مریم نے بات بدل دی تھی، لیکن اس کا آخری جملہ امامہ کو چبھا۔ اسے خیال نہیں آیا… ہاں واقعی اسے خیال نہیں آیا ہو گا۔ وہ بے حد خفگی کے عالم میں سوچتی رہی۔
سالار سے اس کے گلے شکوے اس گھر میں آنے کے دوسرے دن ہی شروع ہو گئے تھے لیکن اس کے باوجود وہ لاشعوری طور پر اس کی کال کی منتظر تھی۔ کہیں نہ کہیں اسے اب بھی امید تھی کہ وہ کم از کم دن میں ایک بار تو اسے کال کرے گا۔ کم از کم ایک بار… ایک لمحے کو اسے خیال آیا کہ اسے میسج کر کے اسے اپنے ہونے کا احساس تو دلانا چاہیے۔ لیکن دوسرے ہی لمحے اس نے اس خیال کو ذہن سے جھٹک دیا۔
وہ بے حد بے دلی سے اپنے کپڑے نکال کر نہانے کے لیے چلے گئی۔ واش روم سے باہر نکلتے ہی اس نے سب سے پہلے سیل فون چیک کیا تھا وہاں کوئی میسج تھا اور نہ کوئی مسڈ کال۔
چند لمحے وہ سیل فون پکڑے بیٹھی رہی پھر اس نے اپنی ساری انا اور سارے غصے کو بالائے طاق رکھ کر اسے مسیج کر دیا۔
اس کاخیال تھا، وہ اسے فوراً کال کرے گا لیکن اس کا یہ خیال غلط ثابت ہوا تھا۔ پانچ منٹ… دس منٹ… پندرہ منٹ… اس نے اپنی انا کا کچھ اور مٹی کرتے ہوئے اسے میسج کیا۔ بعض دفعہ میسج بھی تو نہیں ہیں، اس نے اپنی عزت نفس کی ملامت سے بچنے کے لیے بے حد کمزور تاویل تلاش کی۔
”آج کل ویسے بھی نیٹ ورک اور سگنلز کا اتنا زیادہ مسئلہ ہے۔”
”عزت نفس” نے اسے جواباً ڈوب مرنے کے لیے کہا تھا۔ فون اب بھی نہیں آیا تھا، لنچ بریک کے باوجود۔ ماہ رمضان نہ ہوتا تو شاید وہ اس وقت اپنی ”عزت نفس” کو اس کے لنچ میں مصروف ہونے کا بہانہ پیش کرتی۔
اب وہ واقعی ناخوش تھی بلکہ ناخوش سے بھی زیادہ، اب اس کا دل رونے کو چاہ رہا تھا۔
کچھ دیر بعد اس نے سالار کے سیل پر کال کی۔ دو بیلز کے بعد کال کسی لڑکی نے ریسیو کی۔ ایک لمحے کے لیے امامہ کی سمجھ میں نہیں آیا۔ وہ سالار کے بجائے کسی لڑکی کی آواز کی توقع نہیں کر رہی تھی۔
”میں آپ کی کیا ہیلپ کر سکتی ہوں میم؟” لڑکی نے بڑی شائستگی کے ساتھ اس سے پوچھا۔
”مجھے سالار سے بات کرنی ہے۔” اس نے کچھ تذبذب سے کہا۔
”سالار سکندر صاحب تو ایک میٹنگ میں ہیں۔ اگر آپ کوئی کلائنٹ ہیں اور آپ کو بینک سے متعلقہ کوئی کام ہے تو میں آپ کی مدد کر سکتی ہوں یا آپ میسج چھوڑ دیں ان کے لیے… میٹنگ میں بریک آئے گی تو میں انہیں انفارم کر دوں گی۔” اس لڑکی نے بے حد پروفیشنل انداز میں کہا۔ امامہ خاموش رہی۔
”ہیلو… مس امامہ!” اس لڑکی نے یقینا سالار کے سیل پر اس کی آئی ڈی پڑھ کر اس کا نام لیا تھا۔ وہ اب اسے متوجہ کر رہی تھی۔
”میں بعد میں کال کر لوں گی۔” اس نے بددلی کے ساتھ فون بند کر دیا۔
”تو وہ میٹنگ میں ہے اور اس کا سیل تک اس کے پاس نہیں… اور مجھے کہہ رہا تھا کہ میں جاگنے کے بعد اسے انفارم کروں… کس لیے؟” وہ دل برداشتہ ہو گئی تھی۔
٭٭٭٭
“ارے بیٹا! میں تو کب سے تمہارے فون کے انتظار میں بیٹھی ہو۔ تمہیں اب یاد آئی سعیدہ اماں کی۔” سعیدہ اماں نے اس کی آواز سنتے ہی گلہ کیا۔
اس نے جواباً بے حد کمزور بہانے پیش کیے۔ سعیدہ اماں نے اس کی وضاحتوں پر غور نہیں کیا۔
”سالار ٹھیک تو ہے نا تمہارے ساتھ؟”
انہوں نے اس سوال کے مضمرات کا اس صورت حال میں سوچے بغیر پوچھا اور امامہ کے صبر کا جیسے پیمانہ لبریز ہو گیا تھا۔ وہ یک دم پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی تھی۔ سعیدہ اماں بری طرح گھبرا گئی تھیں۔
”کیا ہوا بیٹا؟… ارے اس طرح کیوں رو رہی ہو…؟ میرا تو دل گھبرانے لگا ہے… کیا ہو گیا آمنہ؟” سعیدہ اماں کو جیسے ٹھنڈے پسینے آنے لگے تھے۔
”سالار نے کچھ کہہ دیا ہے کیا؟” سعیدہ اماں کو سب سے پہلا خیال یہی آیا تھا۔
”مجھے اس سے شادی نہیں کرنی چاہیے تھی۔” امامہ نے ان کے سوال کا جواب دیے بغیر کہا۔
سعیدہ اماں کی حواس باختگی میں اضافہ ہوا۔
”میں نے کہا بھی تھا آپ سے۔” وہ روتی جا رہی تھی۔
”کیا وہ اپنی پہلی بیوی کی باتیں کرتا رہا ہے تم سے؟”
سعیدہ اماں نے سالار کے حوالے سے واحد خدشے کے بے اختیار ذکر کیا۔
”پہلی بیوی…؟” امامہ نے روتے روتے کچھ حیرانی سے سوچا۔
لیکن سالار کے لیے اس وقت اس کے دل میں اتنا غصہ بھرا ہوا تھا کہ اس نے بلا سوچے سمجھے سعیدہ اماں کے خدشے کی تصدیق کی تھی۔
”جی…!” اس نے روتے ہوئے جواب دیا۔
سعیدہ اماں کے سینے پر جیسے گھونسا لگا۔ یہ خدشہ تو نہیں تھا لیکن ان کا خیال تھا کہ اپنے گھر لے جاتے ہی پہلے دن تو وہ کم از کم اپنی اس کئی سال پرانی منکوحہ کا ذکر نہیں کرے گا۔ امامہ کو سالار پر کیا غصہ آنا تھا جو سعیدہ اماں کو آیا تھا، انہیں یک دم پچھتاوا ہوا تھا۔ واقعی کیا ضرورت تھی یوں راہ چلتے کسی بھی دو ٹکے کے آدمی کو پکڑ کر یوں اس کی شادی کر دینے کی۔ انہوں نے پچھتاتے ہوئے سوچا۔
”تم فکر نہ کرو… میں خود سبط علی بھائی سے بات کروں گی۔” سعیدہ اماں نے بے حد غصے میں کہا۔
”کوئی فائدہ نہیں اماں! بس میری قسمت ہی خراب ہے۔”
سعیدہ اماں کے پاس آنے والی عورتوں کے منہ سے کئی بار سنا ہوا گھسا پٹا جملہ کس طرح اس کی زبان پر آگیا، اس کا اندازہ امامہ کو نہیں ہوا لیکن اس جملے نے سعیدہ اماں کے دل پر جیسے آری چلا دی۔
”ارے کیوں قسمت خراب ہے… کوئی ضرورت نہیں ہے وہاں رہنے کی… تم ابھی آجاوؑ اس کے گھر سے… ارے میری معصوم بچی پر اتنا ظلم… ہم نے کوئی جہنم میں تھوڑا پھیکنا ہے تمہیں۔”
امامہ کو ان کی باتوں پر اور رونا آیا۔ خود ترسی کا اگر کوئی ماوؑنٹ ایورسٹ ہوتا تو وہ اس وقت اس کی چوٹی پر جھنڈا گاڑ کر بیٹھی ہوتی۔
”بس ! تم ابھی رکشہ لو اور میری طرف آجاوؑ۔ کوئی ضرورت نہیں ہے ادھر بیٹھے رہنے کی۔”
سعیدہ اماں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا۔
یہ گفتگو مزید جاری رہتی تو شاید امامہ بغیر سوچے سمجھے روتے ہوئے اسی طرح وہاں سے چل بھی پڑتی۔ وہ اس وقت کچھ اتنی ہی جذباتی ہو رہی تھی لیکن سالار کے ستاروں کی گردش اس دن صرف چند لمحوں کے لیے اچھی ثابت ہوئی۔ سعیدہ اماں سے بات کرتے کرتے کال کٹ گئی تھی، اس کا کریڈٹ ختم ہو گیا تھا۔ امامہ نے لینڈ لائن سے کال کرنے کی کوشش کی لیکن کال نہیں ملی۔ شاید سعیدہ اماں نے فون کا ریسیور کریڈل پر ٹھیک سے نہیں رکھا تھا۔ وہ بری طرح جھنجھلائی۔
سعیدہ اماں سے بات کرتے ہوئے وہ اتنی دیر میں پہلی بار بہت اچھا محسوس کر رہی تھی، یوں جیسے کسی نے اس کے دل کا بوجھ ہلکا کر دیا ہو۔ اسے اس وقت جس ”متعصب” جانب داری کی ضرورت تھی، انہوں نے اسے وہی دی تھی۔ ان سے بات کرتے ہوئے روانی اور فراوانی سے بہنے والے آنسو اب یک دم خشک ہو گئے تھے۔
وہاں سے دس میل کے فاصلے پر اپنے بینک کے بورڈ روم میں بیٹھی evaluation team کو دی جانے والی پریزینٹیشن کے اختتامیہ سوال و جواب کے سیشن پر credibility and trust factors سے متعلقہ کسی سوال کے جواب میں بولتے ہوئے سالار کو اندازہ بھی نہیں تھا کہ اس کے گھر پر موجود اس کی ایک دن کی بیوی اور نو سالہ ”محبوبہ” گھر پر بیٹھی اس کی ”ساکھ” اور ”نام” کا تیاپانچہ کرنے میں مصروف تھی۔ جس کو اس وقت اس وضاحت کی اس ایویلیویشن ٹیم سے زیادہ ضرورت تھی۔
سونا ہو گیا… رونا بھی ہو گیا… اب اور کیا رہ گیا تھا… امامہ نے ٹشو پیپر سے آنکھیں اور ناک رگڑتے ہوئے بالآخر ریسیور رکھتے ہوئے سوچا۔ اسے کچن کے سنک میں پڑے برتنوں کا خیال آیا، بڑی نیم دلی سے وہ کچن میں گئی اور ان برتنوں کو دھونے لگی۔
وہ شام کے لیے اپنے کپڑے نکالنے کے لیے ایک بار پھر بیڈ روم میں آگئی اور تب ہی اس نے اپنا سیل فون بجھتے سنا۔ جب تک وہ فون کے پاس پہنچی، فون بند ہو چکا تھا۔ وہ سالار تھا اور اس کے سیل پر یہ اس کی چوتھی مسڈ کال تھی۔ وہ سیل ہاتھ میں لیے اس کی اگلی کال کا انتظار کرنے لگی۔ کال کے بجائے اس کا میسج آیا۔ وہ اسے اپنے پروگرام میں تبدیلی کے بارے میں بتا رہا تھا کہ ڈاکٹر سبط علی کا ڈرائیور ایک گھنٹے تک اسے وہاں سے ڈاکٹر صاحب کے گھر لے جائے گا اور وہ افطار کے بعد آفس سے سیدھا ڈاکٹر صاحب کے گھر آنے والا تھا۔
چند لمحوں کے لیے اس کا دل چاہا، وہ فون کو دیوار پر دے مارے لیکن وہ اس کا اپنا فون تھا۔ سالار کو کیا فرق پڑتا۔
وہ اس سے رات کو اتنا لمبا چوڑا اظہار محبت نہ کرتا تو وہ آج اس سے توقعات کا یہ انبار لگا نہ بیٹھی ہوتی لیکن سالار کے ہر جملے پر اس نے لاشعوی طور پر پچھلی رات اپنے دامن کے ساتھ ایک گرہ باندھ لی تھی اور گرہوں سے بھرا وہ دامن اب اسے بری طرح تنگ کرنے لگا تھا۔
ڈاکٹر سبط علی گھر پر نہیں تھے۔ آنٹی کلثوم نے بڑی گرم جوشی کے ساتھ اس کا استقبال کیا اور وہ بھی جس حد تک مصنوعی جوش و خروش اور اطمینان کا مظاہرہ کر سکتی تھی، کرتی رہی۔ آنٹی کے منع کرنے کے باوجود وہ ان کے ساتھ مل کر افطار اور ڈنر کی تیاری کرواتی رہی۔
ڈاکٹر سبط علی افطار سے کچھ دیر پہلے آئے تھے اور انہوں نے امامہ کی سنجیدگی نوٹ کی تھی۔ مگر اس کی سنجیدگی کا تعلق سالار سے نہیں جوڑا تھا۔ وہ جوڑ بھی کیسے سکتے تھے۔
سالار افطار کے تقریباً آدھ گھنٹے بعد آیا تھا۔
اور امامہ سے پہلی نظر ملتے ہی سالار کو اندازہ ہو گیا تھا کہ سب کچھ ٹھیک نہیں ہے۔ وہ اس کی خیر مقدمی مسکراہٹ کے جواب میں مسکرائی تھی، نہ ہی اس نے ڈاکٹر سبط علی اور ان کی بیوی کی طرح گرم جوشی سے اس کے سلام کا جواب دیا تھا۔ وہ بس نظریں چرا کر لاوؑنج سے اٹھ کر کچن میں چلی گئی تھی۔ ایک لمحہ کے لیے سالار کو لگا کہ شاید اسے غلط فہمی ہوئی ہے۔ آخر وہ اس سے کس بات پر ناراض ہو سکتی ہے۔
وہ ڈاکٹر سبط علی کے پاس بیٹھا ان سے باتیں کرتا ہوا اپنے ذہن میں پچھلے چوبیس گھنٹوں کے واقعات کو دہراتا اور کوئی ایسی بات ڈھونڈنے کی کوشش کرتا رہا جو امامہ کو خفا کر سکتی تھی۔ اسے ایسی کوئی بات یاد نہیں آئی۔ ان کے درمیان آخری گفت گو رات کو ہوئی تھی۔ وہ اس کے بازو پر سر رکھے باتیں کرتی سوئی تھی۔ خفا ہوتی تو… وہ الجھ رہا تھا…
”کم از کم میں نے ایسا کچھ نہیں کیا جو اسے برا لگا ہو، شاید یہاں کوئی ایسی بات ہوئی ہو۔” سالار نے خود کو بری الذمہ قرار دیتے ہوئے سوچا۔ ”لیکن یہاں کیا بات ہوئی ہو گی…؟… شاید میں کچھ ضرورت سے زیادہ حساس ہو کر سوچ رہا ہوں، غلط فہمی بھی ہو سکتی ہے مجھے۔”
وہ اب خود کو تسلی دے رہا تھا لیکن اس کی چھٹی حس اسے اب بھی اشارہ دے رہی تھی۔ بے شک وہ اس سے نو سال بعد ملا تھا مگر نو سال پہلے دیکھے جانے والا اس کا ہر موڈ اس کے ذہن پر رجسٹرڈ تھا اور وہ امامہ کے اس موڈ کو بھی جانتا تھا۔
ڈنر ٹیبل پر بھی زیادہ تر گفت گو ڈاکٹر سبط علی اور سالار کے درمیان ہی ہوئی۔ وہ آنٹی کے ساتھ وقفے وقفے سے سب کو ڈشز سرو کرتی رہی، خاموشی اب بھی برقرار تھی۔
وہ ڈاکٹر سبط علی کے ساتھ مسجد میں تراویج پڑھنے آیا اور حفظ قرآن کے بعد آج پہلی بار تروایح کے دوران اٹکا۔ ایک بار نہیں دوبار… اس نے خود کو سنبھال لیا تھا لیکن وہ بار بار ڈسٹرب ہو رہا تھا۔
وہ ساڑھے دس بجے کے قریب ڈاکٹر سبط علی کے گھر سے سعیدہ اماں کے گھر جانے کے لیے نکلے تھے اور سالار نے بالآخر اس سے پوچھ ہی لیا۔
”تم مجھ سے خفا ہو؟”
کھڑکی سے باہر دیکھتے وہ چند لمحوں کے لیے ساکت ہوئی پھر اس نے کہا۔
”میں تم سے کیوں خفا ہوں گی؟” وہ بدستور کھڑکی کی طرف گردن موڑے باہر دیکھ رہی تھی۔ سالار کچھ مطمئن ہوا۔
”ہاں، میں بھی سوچ رہا تھا کہ ایسی تو کوئی بات نہیں ہوئی جس پر تمہار اموڈ آف ہوتا۔” کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے امامہ نے اس کی بات سنی اور اس کی برہمی کچھ اور بڑھی۔
”یعنی میں عقل سے پیدل ہوں جو بلا وجہ اپنا موڈ آف کرتی پھر رہی ہوں… اور اس نے میرے رویے اور حرکتوں کا نوٹس ہی نہیں لیا۔”
”میں تمہیں آج فون کرتا رہا لیکن تم نے فون ہی نہیں اٹھایا۔” وہ ڈرائیو کرتے ہوئے کہہ رہا تھا۔
امامہ کو سوچتے ہوئے عجیب سی تسلی ہوئی۔
”اچھا ہوا نہیں اٹھایا یعنی اس نے محسوس تو کیا کہ میں جان بوجھ کر اس کی کال نہیں لیتی رہی۔”
”پھر میں نے گھر کے نمبر پر فون کیا۔ وہ بھی انگیجڈ تھا، تم یقینا اس وقت مصروف تھی اس لیے کال نہیں لے سکیں۔” وہ بے حد عام سے لہجے میں کہہ رہا تھا۔ وہاں بے نیازی کی انتہا تھی۔
امامہ کے رنج میں اضافہ ہوا۔ پھر اسے یاد آیا کہ اس کے فون کا بیلنس ختم ہو چکا تھا۔
”مجھے اپنے فون کے لیے کارڈ خریدنا ہے۔”
سالار نے اسے ایک دم کہتے سنا، وہ اپنا ہینڈ بیگ کھولے اس میں سے کچھ نکال رہی تھی اور جو چیز اس نے نکال کر سالار کو پیش کی تھی، اس نے چند لمحوں کے لیے سالار کو ساکت کر دیا تھا۔ وہ ہزار روپے کا ایک نوٹ تھا۔ وہ اس کے تاثرات سے بے خبر اب ونڈو سکرین سے باہر کسی ایسی شاپ کو ڈھونڈنے کی کوشش کر رہی تھی جہاں پر وہ کارڈز دستیاب ہوتے۔ سالار نے اپنی طرف بڑھے ہوئے اس کے ہاتھ کو پیچھے کرتے ہوئے کہا۔
”واپسی پر لیتے ہیں… اور اس کی ضرورت نہیں ہے۔”
امامہ نے چونک کر اسے دیکھا۔
”تمہیں آنکھیں بند کر کے اپنا سیل فون تھما دیا تھا جب تم میری کچھ نہیں تھی تو اب کیا پیسے لوں گا تم سے!”
گاڑی میں کچھ عجیب سی خاموشی در آئی تھی۔ دونوں کو بیک وقت کچھ یاد آیا تھا اور جو یاد آیا تھا اس نے یک دم وقت کو وہیں روک دیا تھا۔
بہت غیر محسوس انداز میں امامہ نے ہاتھ میں پکڑے کاغذ کے اس ٹکڑے کو بہت سی تہوں میں لپیٹنا شروع کر دیا۔ اس نے اس کی ساری رقم لوٹا دی تھی، بلکہ اس سے زیادہ ہی جتنی اس نے فون، فون کے بل اور اس کے لیے خرچ کی ہو گی۔ مگر احسان… یقینا اس کے احسانوں کا وزن بہت زیادہ تھا۔ اس نے کاغذ کی لپٹی تہوں کو دوبارہ بیگ میں ڈال لیا۔ صبح سے اکٹھی کی ہوئی بدگمانیوں کی دھند یکدم چھٹ گئی تھی یا کچھ دیر کے لیے امامہ کو ایسا ہی محسوس ہوا۔
باہر سڑک پر دھند تھی اور وہ بڑی احتیاط سے گاڑی چلا رہا تھا۔ امامہ کا دل چاہا، وہ اس سے کچھ بات کرے لیکن وہ خاموش تھا۔ شاید کچھ سوچ رہا تھا یا لفظ ڈھونڈ رہا تھا۔
”آج سارا دن کیا کرتی رہیں تم؟”
اس نے بالآخر گفت گو کا دوبارہ آغاز کرنے کی کوشش کی تھی۔ پورا دن فلیش کی طرح امامہ کی آنکھوں کے سامنے سے گزر گیا۔ امامہ کو ندامت ہوئی، وہ جو کچھ کرتی رہی تھی، اسے بتا نہیں سکتی تھی۔
”میں سوتی رہی۔” اس نے پورے دن کو تین لفظوں میں سمیٹ دیا۔
”ہاں، مجھے اندازہ تھا، جاگ رہی ہوتیں تو میری کال ضرور ریسیو کرتیں۔” ایک بار پھر خاموشی چھا گئی۔
”پاپا، ممی اور انتیا آرہے ہیں کل شام۔” سالار نے کچھ دیر کے بعد کہا۔
امامہ نے چونک کر اسے دیکھا۔
”تم سے ملنے کے لیے؟” اس نے مزید اضافہ کیا اور بالآخر سسرال کے ساتھ اس کا پہلا رابطہ ہونے والا تھا۔ امامہ کو اپنے پیٹ میں گرہیں لگتی محسوس ہوئیں۔
”تم نے انہیں میرے بارے میں بتایا ہے؟” اس نے بے حد نپے تلے الفاظ میں پوچھا۔
”نہیں، فی الحال نہیں، لیکن آج بتاوؑں گا پاپا کو فون پر۔” وہ ونڈو سکرین سے باہر دیکھتے ہوئے کہہ رہا تھا۔
امامہ نے اس کے چہرے کو پڑھنے کی کوشش کی۔ کوئی پریشانی، تشویش، اندیشہ، خدشہ، خوف، پچھتاوا… وہ کچھ بھی پڑھنے میں ناکام رہی۔ اس کا چہرہ بے تاثر تھا اور اگر اس کے دل میں کچھ تھا بھی تو وہ اسے بڑی مہارت سے چھپائے ہوئے تھا۔
سالار نے اس کی کھوجتی نظروں کو اپنے چہرے پر محسوس کیا۔ اس نے امامہ کی طرف دیکھا اور مسکرایا۔ امامہ نے بے اختیار نظریں ہٹائیں۔
”انیتا کی فلائٹ ساڑھے پانچ بجے اور پاپا کی سات بجے ہے… میں کل بینک سے جلدی ایئرپورٹ چلا جاوؑں گا، پھر ممی اور پاپا کو لے کر میرا خیال ہے نو یا ساڑھے نو بجے تک گھر پہنچوں گا۔”
”یہ تم نے کیا پہنا ہوا ہے؟” سالار نے یک دم اس کے لباس کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے کہا۔
تین گھنٹے پینتالیس منٹ کے بعد بالآخر اسے یاد آگیا کہ میں نے کچھ پہنا ہوا ہے۔ یہ سوچ کر امامہ کی خفگی میں کچھ اضافہ ہوا۔
”کپڑے۔” امامہ نے جواب دیا۔
سالار اس کی بات پر بے اختیار ہنسا۔ ”جانتا ہوں کپڑے پہنے ہیں، اسی لیے تو پوچھ رہا ہوں۔”
امامہ گردن موڑ کر کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی کہ اب وہ تعریف کرے گا۔ اس نے سوچا۔ دیر سے سہی، لیکن اسے میرے کپڑے نظر تو آئے۔ اس کی خفگی میں کچھ اور کمی ہوئی۔
”کون سا کلر ہے یہ؟” سالار نے اپنے پیروں پر پہلی کلہاڑی ماری۔
کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے امامہ کا دل چاہا، وہ چلتی گاڑی کا دروازہ کھول کر باہر کود جائے۔ پونے چار گھنٹے میں وہ اس کے کپڑوں کا رنگ بھی نہیں پہچان سکا تھا۔ اس کا مطلب تھا کہ اس نے اسے غور سے دیکھا نہیں تھا۔
”پتا نہیں۔” اس نے اسی طرح کھڑکی سے باہر جھانکتے ہوئے بے حد سرد مہری سے کہا۔
”ہاں، میں بھی اندازہ نہیں کر سکا۔ آج کل خواتین پہنتی بھی تو بڑے عجیب عجیب کلر ہیں۔” سالار نے اس کے لہجے پر غور کیے بغیر عام سے انداز میں کہا۔
وہ زنک اور کاپر کے سب سے زیادہ اِن شیڈ کو ”عجیب” کہہ رہا تھا۔ امامہ کو رنج سا رنج ہوا۔ سالار شوہروں کی تاریخی غلطیاں دہرا رہا تھا۔ اس بار امامہ کا دل تک نہیں چاہا کہ وہ اس کی بات کا جواب دے، وہ اس قابل نہیں تھا۔ اسے یاد آیا، اس نے کل بھی اس کے کپڑوں کی تعریف نہیں کی تھی۔ کپڑے…؟ اس نے تو اس کی بھی تعریف نہیں کی تھی… اظہار محبت کیا تھیا اس نے … لیکن تعریف… ہاں، تعریف تو نہیں کی تھی اس نے … وہ جیسے پچھلی رات کو یاد کرتے ہوئے تصدیق کر رہی تھی، اسے دکھ ہوا۔ کیا وہ اُسے اتنی بھی خوب صورت نہیں لگی تھی کہ وہ ایک بار ہی کہہ دیتا۔ کوئی ایک جملہ، ایک لفظ، کچھ بھی نہیں، وہ ایک بار پھر خود ترسی کا شکار ہونے لگی۔ عورت اظہار محبت اور ستائش کو کبھی ”ہم معنی” نہیں سمجھتی۔ یہ کام مرد کرتا ہے اور غلط کرتا ہے۔
ڈرائیونگ کرتے ہوئے سالار کو اندازہ نہیں ہوا کہ گفت گو کے لیے موضوعات کی تلاش میں اِدھر اُدھر کی باتیں کرتے اس نے کس قدر سنگین موضوع کو چھیڑ دیا تھا۔ وہ بڑے اطمینان سے جیسے ایک بارودی سرنگ کے اوپر پاوؑں رکھ کر کھڑا ہو گیا تھا جو اس کے پاوؑں اٹھاتے ہی پھٹ جاتی۔
سعیدہ اماں کی گلی میں گاڑی پارک کرنے کے بعد سالار نے ایک بار پھر امامہ کے موڈ میں تبدیلی محسوس کی۔ اس نے ایک بار پھر اسے اپنا وہم گردانا۔ ابھی کچھ دیر پہلے ڈاکٹر سبط علی کے گھر پہ بھی غلط فہمی کا شکار رہا۔ آخر ہو کیا گیا ہے مجھے…؟ وہ بھلا کیوں صرف چوبیس گھنٹے میں مجھ سے ناراض ہوتی پھرے گی۔ اس نے اطمینان سے سوچا۔
سعیدہ اماں دراوزہ کھولتے ہی امامہ سے لپٹ گئی تھیں۔ چند لمحوں بعد وہ آنسو بہا رہی تھیں۔ سالار جزبز ہوا۔ آخر اتنے عرصے سے وہ اکٹھے رہ رہی تھیں۔ یقینا دونوں ایک دوسرے کو مس کر رہی ہوں گی۔ اس نے بالآخر خود کو سمجھا۔
سعیدہ اماں نے سالار کے سلام کا جواب دیا، نہ ہی ہمیشہ کی طرح اسے گلے لگا کر پیار کیا۔ انہوں نے امامہ کو گلے لگایا، اس سے لپٹ کر آنسو بہائے اور پھر اسے لے کر اندر چلی گئیں۔ وہ ہکا بکا دروازے میں ہی کھڑا رہ گیا تھا۔ انہیں کیا ہوا؟ وہ پہلی بار بری طرح کھٹکا تھا۔ اپنے احساس کو وہم سمجھ کر جھٹکنے کی کوشش اس بار کامیاب نہیں ہوئی۔ کچھ غلط تھا مگر کیا…؟ وہ کچھ دیر وہیں کھڑا رہا پھر اس نے پلیٹ کر بیرونی دروازہ بند کیا اور اندر چلا آیا۔
وہ دونوں کچھ باتیں کر رہی تھیں، اسے دیکھ کر یک دم چپ ہو گئیں۔ سالار نے امامہ کو اپنے آنسو پونچھتے دیکھا۔ وہ ایک بار پھر ڈسٹرب ہوا۔
”میں چائے لے کر آتی ہوں… بادام اور گاجر کا حلوہ بنایا ہے آج میں نے۔” سعیدہ اماں یہ کہتے ہوئے کھڑی ہوئیں۔ سالار نے بے اختیار نہیں ٹوکا۔
”سعیدہ اماں! کسی چیز کی ضرورت نہیں ہے۔ ہم لوگ کھانا کھا کر آئے ہیں اور چائے بھی پی لی ہے۔ صرف آپ سے ملنے کے لیے آئے ہیں۔”
وہ کہتے کہتے رک گیا، اسے احساس ہوا کہ وہ پیش کش سرے سے اسے کی ہی نہیں گئی تھی۔ سعیدہ اماں مکمل طور پر امامہ کی طرف متوجہ تھیں اور امامہ اسے کچھ کھانے پینے میں متامل نظر نہیں آئی۔
”میں کھاوؑں گی اور میں آپ کے ساتھ چلتی ہوں آپ کس طرح اٹھائیں گی برتن۔” امامہ نے سعیدہ اماں سے کہا اور پھر ان کے ساتھ ہی کچن میں چلی گئی۔ سالار ہونقوں کی طرح وہاں بیٹھا رہ گیا۔
اگلے پندرہ منٹ وہ اس صورت حال پر غور کرتا، وہیں بیٹھا کمرے کی چیزوں کو دیکھتا رہا۔
بالآخر پندرہ منٹ کے بعد امامہ اور سعیدہ اماں کی واپسی ہوئی۔ اسے امامہ کی آنکھیں پہلے سے کچھ زیادہ سرخ اور متورم لگیں، یہی حال کچھ اس کی ناک کا تھا۔ وہ یقینا کچن میں روتی رہی تھی مگر کس لیے؟ وہ اب الجھ رہا تھا۔ کم از کم اب وہ آنسو اسے سعیدہ اماں اور اس کی باہمی محبت و یگانگت کا نتیجہ نہیں لگ رہے تھے۔ سعیدہ اماں کے چہرے اور آنکھوں میں اسے پہلے سے بھی زیادہ سردمہری نظر آئی۔
اسے اس وقت چائے میں دلچسپی تھی نہ کسی حلوے کی طلب… کچھ بھی کھانا اس کے لیے بدہضمی کا باعث ہوتا لیکن جو ماحول یک دم وہاں بن گیا تھا، اس نے اسے ضرورت سے زیادہ محتاط کر دیا تھا۔ کسی انکار کے بغیر اس نے خاموشی سے پلیٹ میں تھوڑا سا حلوہ نکالا۔ امامہ نے ڈاکٹر سبط علی کے گھر کی طرح یہاں بھی اس سے پوچھے بغیر اس کی چائے میں دو چمچ چینی ڈال کر اسے کے سامنے رکھ دی، پھر اپنی پلیٹ میں لیا حلوہ کھانے لگی۔
چند منٹوں کی خاموشی کے بعد بالآخر سعیدہ اماں کی قوت برداشت جواب دے گئی تھی۔ اپنے ہاتھ میں پکڑی پلیٹ ایک طرف رکھتے ہوئے انہوں نے اپنی عینک کو ناک پر ٹھیک کرتے ہوئے تیز نظروں سے سالار کو گھورا۔

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: