Aab e Hayat Novel by Umera Ahmed Read Online – Episode 40

0

آب حیات از عمیرہ احمد – قسط نمبر 40

–**–**–

وہ خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ وہاں مقامِ ملتزم کے سامنے کھڑا تھا کتنی بار وہ یہاں آیا تھا اور کتنی بار یہاں آ کر کھڑا ہوا تھا، اُسے اب گنتی بھی بھول چکی تھی۔ لیکن ہر بار کی طرح اس بار بھی و ہ وہاں اسی حالت میں کھڑا تھا۔ ہیبت کے عالم میں، عجز کی کیفیت میں۔ دنیا کی کوئی جگہ سالار سکندر کو مٹی نہیں کرتی تھی، صرف وہ جگہ تھی جو اُسے خاک بنا دیتی تھی اور وہ ”خاک” بننے ہی وہاں آتا تھا ہر بار اپنی اوقات جاننے اور اُس کی یاددہانی کے لئے… ہر بار جب دُنیا اُسے کسی چوٹی پر بٹھاتی تھی تو وہ اپنے فخر اور تکبر کو دفنانے یہاں آتا تھا۔ آج بھی آیا تھا بلکہ بلایا گیا تھا۔
خانہ کعبہ کا دروازہ کھولا جا رہا تھا۔ سیڑھی لگی ہوئی تھی۔ اور وہ دُنیا کے مختلف خطّوں سے آئے اُن دس مسلمانوں میں شامل تھا جنہیں خانہ کعبہ کے اندر ہونے والی صفائی کی سعادت کے لئے چنا گیا تھا۔ اور یہ اعزاز اُس کے حصے کس نیکی کے عوض آیا تھا، یہ اُسے ابھی تک سمجھ نہیں آرہا تھا۔ کرم تو وہ تھا ہی اور کرم تو اُس پر اللہ کا ہمیشہ ہی رہا تھا لیکن اس کے باوجود وہ اپنے نامہ اعمال میں ایسی کوئی نیکی کھوج رہا تھا جو ایسے کرم کا باعث بنتی۔
وہ شاہی خاندان کا مہمان بن کر پچھلے سالوں میں کئی بار عمرے کی سعادت حاصل کر چکا تھا۔ امامہ کے ساتھ بھی، اُس کے بغیر بھی۔ مگر یہ دعوت نامہ جو وہاں سے اس بار آیا تھا، وہ سالار سکندر کو کسی اور ہی کیفیت میں لے گیا تھا۔ ایسا انعام اور اتنا انعام، ایسا کرم اور اتنا کرم۔ وہ خطا کار اور گناہ گار تھا۔ ایسا کیا کر بیٹھا تھا کہ اب یوں درگزر کر رہا تھا، یوں عطا کر رہا تھا، وہ بھی جو وہم و گمان میں بھی نہ آنے والی باتیں ہوں۔
وہ اُس دعوت نامے کو آنکھوں سے لگا کر روتا رہا تھا۔ کیا صاف کرنا تھا اُس نے وہاں جا کر۔ سب صفائی تو اُس کے اپنے اندر ہونے والی تھی اور ہوتی آ رہی تھی۔
امامہ بھی وہاں تھی، ایک دوسری قطار میں اُن ہی افراد کی فیملیز کے ساتھ۔ وہ اُسے بھی ساتھ لایا تھا اور وہ اُسے رشک سے دیکھ رہی تھی، اس کے علاوہ وہ اور کیا کر سکتی تھی۔ اُس کے گھر امریکہ سے آنے والا وہ ”مہمان” اس بار اُس کے لئے ایسی سعادت لانے والا تھا، اس کا اندازہ تو اُسے تھا ہی نہیں۔ وہ اُسے ہمیشہ سرپرائز کرتا تھا، بغیر بتائے آ جاتا تھا جب بھی کبھی اُسے وقت ملتا تھا۔ دو دن کے لئے، تین دن کے لئے۔ اس بار بڑے عرصے کے بعد اُس نے امامہ کو اپنی آمد کے بارے میں پہلے سے بتایا تھا۔
“تمہارے لئے ایک سرپرائز ہے۔” اُس نے امامہ سے کہا تھا اور وہ ہمیشہ کی طرح سرپرائز بوجھ گئی تھی۔ ایسا کبھی نہیں ہوا تھا اُس نے وہ پہیلیاں نہ بوجھی ہوں جو سالار اُس کے سامنے رکھتا تھا۔
”تم مجھے عمرے پر لے کر جاؤ گے۔” اُس نے کئی اندازے لگانے کے بعد اُس سے فون پر کہا اور اُس کے ہنسنے پر امامہ نے فاتحانہ انداز میں کہا۔
”مجھے پتا تھا۔”
لیکن جس سعادت کے لئے اللہ نے اُسے اس بار بلایا تھا اُسے اس کا اندازہ نہیں تھا، وہ اُسے نہیں بوجھ سکی تھی اور جب اُس صبح اُس نے بالآخر امامہ کو وہ دعوت نامہ دکھایا تھا تو وہ گنگ ہو کر رہ گئی تھی۔ اور پھر وہی ہوا تھا جو ہوتا آیا تھا، جو ہونا تھا وہ پھوٹ پھوٹ کر روئی تھی۔
”تم اس لیے رو رہی ہو کہ یہ دعوت نامہ تمہارے لئے نہیں ہے؟” سالار نے اُس کے بہتے آنسو روکنے کے لئے جیسے اُسے چھیڑا۔
”نہیں، میں صرف اس لئے رو رہی ہوں کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔” وہ آنسوؤں کے درمیان رُکی۔ ”اللہ تم سے اتنا پیار کیوں کرتا ہے۔” وہ پھر رونے لگی تھی۔ ”حسد نہیں ہے…رشک ہے… تمہارا اعزاز ہے لیکن مجھے لگ رہا ہے میرے سر پر تاج بن کر سجا ہے۔” وہ آنسوؤں کے بیچ کہتی جارہی تھی۔
”جو بھی اعزاز ہیں، تمہاری وجہ سے ہی آئے ہیں امامہ… پہلے بھی… اب بھی… کوئی اور زندگی کا ساتھی ہوتا تو یہ سب نہ ہوتا۔” اُس نے جواباً اُس سے کہا تھا۔
اور اب خانہ کعبہ کے کُھلتے ہوئے دروازے سے وہ سالار سکندر کو سیڑھیاں چڑھ کر اندر جاتا دیکھ رہی تھی۔ وہ اندر جانے والا آخری شخص تھا۔
معجزہ ہی تھا وہ زندہ تھا…صحت مند، تندرست، چاق و چوبند… اس عمر میں بھی 20-22 گھنٹے کام کرتے رہنے کی سکت کے ساتھ۔
ڈاکٹرز کہتے تھے اُس کی زندگی معجزہ تھی اور اُس کی ایسی صحت مند زندگی معجزے سے آگے کی کوئی شے… 42 سال کی عمر میں اُسے ٹیومر ہوا تھا اور وہ اب 60 سال کا تھا… جو ٹیومر اُسے ہوا تھا، وہ سات سے دس سال کے اندر انسان کو ختم کردیتا تھا اور وہ 18 سال سے زندہ تھا… ہر چھے مہینے کے بعد اپنی رپورٹس کو دیکھتا تھا… اُس کے دماغ میں موجود ٹیومر آج بھی تھا…اُسی جگہ پر… اُسی سائز میں…اور بس…
وہ رب جو سمندروں کو باندھ دیتا تھا، اور اُنہیں اُن کی حدوں سے باہر نکلنے نہیں دیتا تھا…اُس کے سامنے وہ چند ملی میٹر کا ایک ناسور کیا شے تھا؟
موت اور اُس کے بیچ زندگی نہیں دعائیں آکر کھڑی ہوئی تھیں اور سالار سکندر کو خانہ کعبہ کے اندر داخل ہوتے ہوئے بھی یہ یاد تھا کہ وہ کس کی دعاؤں کی وجہ سے وہاں آج بھی اپنے قدموں پر کھڑا تھا۔ وہ امامہ ہاشم کے علاوہ کسی اور کی دعائیں ہو ہی نہیں سکتی تھیں جو اُسے زندگی بن کر یوں لگی تھیں۔
”کتنے سال سے میں نے اپنے لئے کوئی دعا ہی نہیں کی… جو بھی دعا کی ہے، تمہارے اور بچوں سے شروع ہوکر تم اور بچوں پر ہی ختم ہوجاتی ہے جب تک مجھے اپنا آپ یاد آتا ہے… مجھے دعا ہی بھول جاتی ہے۔” وہ اکثر اُس سے ہنستے ہوئے کہا کرتی تھی۔یوں جیسے ایک ماں اور بیوی کی پوری کہانی لکھ دیتی تھی۔
”دیکھو اللہ تمہیں کہاں کہاں بلاتے ہیں، کہاں کہاں دعا کرنے کا موقع دے رہے ہیں۔” یہاں آتے ہوئے امامہ نے بڑی حسرت سے اُس سے کہا تھا اور اب خانہ کعبہ کے اندر کھڑے وہ اُس سے کہنا چاہتا تھا کہ وہ اُسے جہاں بھی بلاتا تھا ،وہ اُسے ہر اُس جگہ پر امامہ کو بھی یاد رکھواتا تھا۔جیسے اُسے جتاتا اور بتاتا ہو کہ اُسے کیسی درجے والی عورت کا ساتھ عطا کیا گیا تھا۔
اُس گھر کے اندر کی دُنیا اور دُنیا تھی۔ اس کائنات کا حصہ ہوتے ہوئے بھی وہاں کروڑوں نہیں آئے تھے، لاکھوں نہیں، ہزاروں نہیں۔ بس ہر صدی میں چند سو… اور ایک وہ صدی تھی جب وہاں پیغمبر ﷺ آئے تھے… وہاں کی ہر جگہ، ہر دیوار پر اُن کا لمس تھا اور پھر سینکڑوں سال بعد وہاں سالار سکندر بھی کھڑا تھا… ہیبت نہ آتی تو کیسے نہ آتی… صاف کرنا تھا تو کیا چیز صاف کرنی تھی… اپنے وجود کے علاوہ تو اُسے وہاں صاف کرنے والی کوئی شے نظر ہی نہیں آرہی تھی۔
”تم اندر جا کر کیا مانگو گے سالار؟” اُس نے خانہ کعبہ آتے ہوئے اُس سے پوچھا تھا۔ ”تم بتاؤ کیا مانگوں؟” سالار نے جواباً اُس سے پوچھا۔
”پتہ نہیں کچھ سمجھ ہی نہیں آرہا۔” وہ رونے لگی… اور اُس دعوت نامہ کو دیکھنے کے بعد بار بار یہی ہورہا تھا وہ بار بار بات کرتے ہوئے رونے لگتی تھی… جیسے دل بھر آتا ہو… جیسے خوشی کی حد ختم ہوجاتی ہو۔
”تم سارے ستونوں کو ہاتھ لگا کر آنا… ساری دیواروں کو…اُن کو نبی پاک ﷺ نے بھی چھوا ہوگا، کسی نہ کسی کو… پھر تم باہر آؤ گے تو سب سے پہلے میں تمہارا ہاتھ چھوؤں گی۔” وہ بچوں جیسے انداز میں کہہ رہی تھی۔
اور خانہ کعبہ کے اندر اُس کی دیواروں، ستونوں کو آبِ زم زم سے دھوتے، چھوتے سالار سکندر کو سمجھ آگیا تھا امامہ ہاشم کیوں یاد آتی ہے ایسی ہر جگہ پر… کیوں دعا والی ہر جگہ پر سب سے پہلے اُس کے لئے دعا کرنا یاد آتا تھا… کیوں کہ وہ عشقِ رسولۖ تھا… خالص تھا… غرض کے بغیر تھا… قربانیوں سے گندھا تھا، یہ کیسے ممکن تھا وہاں سے جواب نہ ملتا… بُھلا دیا جاتا۔
”تُم نے اندر جاکر میرے لیے کیا مانگا؟” اُس کے باہر آنے پر امامہ نے عجیب بے تابی سے اُس سے پوچھا تھا۔ وہ ابھی اُس کے پاس آیا ہی تھا، اُس کے دونوں ہاتھ پکڑے وہ اب اُس سے پوچھ رہی تھی۔
”مانگا ہے کچھ… بتا نہیں سکتا۔” سالار نے جواباً عجیب مسکراہٹ کے ساتھ کہا ” جب پوری ہوجائے گی دُعا پھر بتاؤں گا۔” اُس نے اُسے جیسے اگلا سوال کرنے سے روک دیا تھا۔
”میں جانتی ہوں کیا مانگا ہے… لیکن میں بھی بتاؤں گی نہیں، دیکھتی ہوں قبول ہوتی ہے تمہاری دعا یا نہیں۔” امامہ نے جواباً عجیب سی مسکراہٹ کے ساتھ اُس سے کہا تھا۔
******
اسفند کی موت کی اطلاع عائشہ عابدین کو دینا جبریل سکندر کی ذمہ داری نہیں تھی، اس کے باوجود وہ اُس بچّے کی ماں سے ملنے آیا تھا اور عائشہ عابدین کو دیکھتے ہی کچھ دیر کے لئے وہ گنگ ہوگیا تھا۔ کچھ ایسا ہی حال عائشہ عابدین کا تھا، وہ دونوں کئی سالوں بعد ایک دوسرے سے ملے تھے اور ملتے ہی ایک دوسرے کو پہچان گئے تھے، اور اب یہ شناخت جیسے اُن کے حلق کا کانٹا بن گئی تھی۔
عائشہ کویقین نہیں آیا تھا کہ امریکہ کے بہترین ہاسپٹل میں بہترین ڈاکٹر کے ہاتھوں بھی اُس کے بچّے کی جان جاسکتی تھی۔ وہ خود ڈاکٹر تھی، اسفند کی چوٹ کی نوعیت اور سنگینی کو جانتی تھی لیکن وہ خود جس ہاسپٹل میں ریذیڈنسی کررہی تھی، وہاں اُس نے اس سے بھی زیادہ سنگین اور پیچیدہ نوعیت کے آپریشنز کے بعد بھی مریضوں کو صحت یاب ہوتے دیکھا تھا۔ لیکن اُس کا اپنا بیٹا اُن خوش قسمت لوگوں میں شامل کیوں نہیں ہوسکا تھا۔ اس سوال کا جو جواب عائشہ عابدین نے ڈھونڈا تھا ، وہ ایک لمبے عرصہ تک اُسے بھوت بن کر چمٹا رہاتھا۔
اُس نے غم کو پہلی بار مجسّم حالت میں دیکھا تھا، اُس شخص کی شکل میںجو اُسے اُس کی متاعِ حیات چھن جانے کی خبر سنانے آیا تھا… اور وہ وہ شخص تھا جس کے سراب نے عائشہ عابدین کو اُس عذاب میں ڈالا تھا جس میں وہ تھی۔
ایک ڈاکٹر کی طرح جبریل اُسے بتاتا گیا تھا کہ آپریشن کیوں ناکام ہوا، اسفند کی حالت کیوں بگڑی… کیوں نہیں سنبھل سکی… اور ان تمام تفصیلات کو دہراتے ہوئے جبریل سکندر کے لاشعور میں ڈاکٹر ویزل کے ہاتھ کی وہ حرکت بار بار آتی رہی، بار بار سر سے جھٹکنے کے باوجود… وہ ایک بت کی طرح گم صم اُس کی بات سنتی رہی یوں جیسے وہ اُس کے بیٹے کے بارے میں نہیں کسی اور کے بارے میں بات کررہا تھا۔
”آپ کے ساتھ کوئی اور ہے؟” اپنی کسی بات کے جواب میں ایک مکمّل خاموشی رکھنے کے باوجود جبریل اُس سے ایک بار پھر پوچھے بغیر نہیں رہ سکا تھا۔ اُسے وہ اس وقت نارمل نہیں لگ رہی تھی اور اُسے احساس ہوا تھا کہ اُسے اُس کی فیملی میں کسی اور سے بات کرنی چاہیے تھی۔ یا اگر اب کرسکتا تھا تو اب کرلے۔ عائشہ عابدین نے اُس کی بات کے جواب میں نفی میں سر ہلادیا۔ جبریل اُس کا چہرہ دیکھنے لگا تھا۔ اُسے سمجھ نہیں آیا تھا وہ اُس سے اگلا سوال کیسے کرے… سوال ہونے کے باوجود… فیملی نہیں تھی تو کہاں تھی… وہ کیا سنگل پیرنٹ کے طور پر اسفند کی پرورش کررہی تھی…؟ شوہر اگر نہیں بھی تھا تو کوئی اور تو فیملی میں ہوتا… اُس کی ماں اور بہنیں… وہ مزید کچھ نہیں سوچ سکا… عائشہ نے یک دم اُس سے کہا تھا”آپ جائیں… میں manage کرلوں گی سب کچھ۔” اُس کی آواز جیسے کسی گہرے کنویں سے آئی تھی… اُسے پتہ تھا وہ ”سب کُچھ” کیا تھا اور جبریل کو بھی اندازہ تھا وہ کس طرف اشارہ کررہی تھی۔
ایک روتی بلکتی ہوئی ماں کو تسلی دینا آسان کام تھا، لیکن بظاہر ہوش و حواس میں نظر آتی ایک خاموش گم صم ماں کو تسلی دینا اُس کو سمجھ نہیں آرہا تھا۔ وہ صرف چند منٹوں کے لئے اُس بچے کی فیملی سے ملنے آیا تھا اور اب یہ ملاقات ختم کرنا اُس کے لئے پہاڑ بن گیا تھا۔ اُس نے زندگی میں پہلی بار کسی مریض کو مرتے نہیں دیکھا تھا، لیکن کسی بچے کو پہلی بار مرتے دیکھا تھا… عائشہ عابدین سے مل کر اُس کا رنج کچھ اور بڑھا تھا… وہ اُس آپریشن کو lead نہیں کررہا تھا نہ ہی وہ اسفند کی موت کا ذمّہ دار تھا، اس کے باوجود یہ احساس اُس کا ساتھ چھوڑنے پر تیّار نہیں تھا کہ اُس آپریشن میں ڈاکٹر ویزل سے کچھ غلطی ہوئی تھی، آپریشن کے فوراً بعد ڈاکٹر ویزل اور اُس کی بات چیت نہیں ہوسکی تھی۔ وہ عجیب اضطراب اور پریشانی کے عالم میں وہاں سے گئے تھے۔ سب کا اندازہ تھا وہ اس آخری آپریشن کی ناکامی سے اپ سیٹ ہوئے تھے ، صرف جبریل تھا جس کا خیال تھا وہ خود بھی اپنی غلطی کا اندازہ لگاچکے تھے لیکن اب اس صورت حال کے درمیان وہ پھنسا کھڑا تھا… ضمیر کی چبھن اور انسانی ہمدردی… لیکن اُس سے بھی بڑھ کر شناسائی کا وہ پرانا تعلق جو اُس کے اور عائشہ عابدین کے درمیان نکل آیا تھا۔
”کوئی دوست ہے یہاں آپ کا؟” جبریل اب اُس کے قریب بیٹھ گیا تھا۔ اُسے ابھی تک یہ اندازہ نہیں ہوا تھا کہ وہ اُسے پہچانی ہے یا نہیں اور اُسے اس صورت حال میں اپنا تعارف کروانا چاہیے یا نہیں۔
”نہیں” عائشہ نے سر جھکائے اُسے دیکھے بغیر کہا۔ وہ اپنے دونوں ہاتھ اپنی گود میں رکھے اُن پر نظریں جمائے سر جھکائے بیٹھی تھی… جبریل اُس کے برابر والی کُرسی پر بیٹھا ہوا تھا۔اُس نے بے حد نرمی سے عائشہ کا ایک ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیا۔ عائشہ نے عجیب وحشت بھری نظروں سے اُسے دیکھا تھا۔
”میرا خیا ل ہے، ہم ایک دوسرے کو جانتے ہیں۔” اُس کا ہاتھ بڑی نرمی سے اپنے دونوں ہاتھوں میں لیتے ہوئے جبریل نے اُس سے کہا تھا۔ وہ اُسے رلانا نہیں چاہتا تھا لیکن اُس کا چہرہ دیکھتے ہوئے اُسے اندازہ ہوا تھا کہ اُسے اس وقت پھوٹ پھوٹ کر رونے کی ضرورت تھی… سکتے کی وہ کیفیت غیر فطری تھی۔
میں جبریل سکندر ہوں… نسا کا کلاس فیلو اور دوست… اور مجھے بہت افسوس ہے کہ ہم اسفند کو نہیں بچا سکے۔” وہ مدہم آواز میں اُس کا ہاتھ تھپکتے ہوئے کہہ رہا تھا۔ عائشہ نے گردن موڑ کربھی اُس کو نہیں دیکھا تھا۔ وہ اس وقت کسی کو پہچاننا نہیں چاہتی تھی، خاص طور پر ساتھ بیٹھے ہوئے شخص کو۔
”مجھے بتائیں میں آپ کے لئے کیا کرسکتا ہوں؟” جبریل نے اُس کے ہاتھوں کی ٹھنڈک محسوس کی تھی، یوں جیسے اُس نے برف کو ہاتھ میں لے لیا تھا، وہاں کا ٹمپریچر بھی عائشہ عابدین کے وجود کی ٹھنڈک کو غائب کرنے میں ناکام ہورہا تھا۔
۔”Please leave me alone…میری وجہ سے اپنا وقت ضائع نہ کریں… آپ ڈاکٹر ہیں، کسی کو آپ کی ضرورت ہوگی۔” اُس نے جبریل کے ہاتھوں سے اپنا ہاتھ کھینچتے ہوئے رُک رُک کر اُس سے کہا تھا۔ وہ اب اپنے دونوں ہاتھ اپنے گھٹنوں کے بیچ دبا کر بیٹھ گئی تھی… یوں جیسے یہ چاہتی نہ ہو کہ کوئی اُس کا ہاتھ پکڑے ، اُسے تسلی دے۔کرسی کی edge پر بیٹھی اپنے وجود کو جوتوں کے پنجوں پر ٹکائے وہ آگے پیچھے جھول رہی تھی یوں جیسے کسی گہری سوچ میں کسی ذہنی انتشار میں ہچکولے کھارہی ہو۔
وہ پہلی بار تھا کہ جبریل نے عائشہ عابدین کو غور سے دیکھا تھا… بے حد حیرانی کے عالم میں… سیاہ جینز اور سیاہ ہی جیکٹ میں ملبوس گردن کے گرد ایک گرے رنگ کا مفلر لپیٹے اُس کی ہم عمر وہ لڑکی اب اُس کی ہم عمر نہیں لگ رہی تھی… اُس کے کندھوں سے نیچے تک لہراتے سیاہ چمکدار بالوں میں جگہ جگہ سفید بال تھے… اُس کی رنگت زرد تھی اور آنکھیں سُرخ… یوں جیسے وہ عادی رونے عالوں میں سے تھی یا پھر ساری ساری رات جاگنے والوں میں سے… اُس کے سر پر وہ حجاب بھی نہیں تھا جو سالوں پہلے اُس کی پہچان تھا… ڈاکٹر نورین الہیٰ کے خاندان میں وہ حجاب لینے والی پہلی اور واحد لڑکی تھی اور بے حد اچھی خاندانی اقدار رکھنے کے باوجود جبریل جانتا تھا کہ نسا اور اُس کے خاندان کا رجحان مذہب کی طرف نہیں تھا۔ صرف عائشہ عابدین تھی جو مذہبی رجحان اور بے حد واضح طور پر ایسی ہی پہچان بھی رکھتی تھی اور اُس کی وجہ شاید اُس کا پاکستان میں قیام پذیر ہونا تھا، یہ جبریل کا اندازہ تھا۔ عائشہ سے اُس کی کبھی اتنی تفصیلی ملاقاتیں نہیں ہوئیں کہ اُسے اُس کی شخصیت کا صحیح اندازہ ہوپاتا… وہ جس عمر میں اُس سے ملا تھا، وہ ٹین ایج تھی اور اُس عمر میں اُسے بات بات پر مسکرانے اور بلش کرنے والی وہ لڑکی عنایہ اور رئیسہ جیسی ہی لگی تھی… اُس نے اس سے زیادہ غور اس پر نہیں کیا تھا، اس کے باوجود کہ وہ اُس کے فیس بک پر موجود تھی اور کبھی کبھار اُس کی تصویروں کو لائیک کرتی نظر آتی تھی، پھر وہ غائب ہوگئی تھی۔ اُسے نسا سے پتہ چلا تھا کہ میڈیسن کی تعلیم کے دوران ہی اُس کی شادی ہوگئی تھی اور اُس وقت جبریل نے مبارک باد کا میسج اُس کی وال پر لگانا چاہا تو اُسے پتہ چلا کہ وہ اب اُس کے contacts میں نہیں تھی… عائشہ عابدین سے اُس کا وہ پہلا تعارف بس یہی تک ہی رہا تھا… نسا اور وہ بہت جلد دو مختلف سٹیٹس کے ہاسپٹلز میں چلے گئے تھے…اُن کے درمیان ایک دوست اور کلاس فیلو کے طور پر موجود رشتہ بھی کچھ کمزور پڑنے لگا تھا… نسا اب کہیں engaged تھی اور جبریل اپنے پروفیشن میں بے حد مصروف… اور اس تیز رفتار سے گزرنے والی زندگی میں عائشہ عابدین کسی سپیڈ بریکر کی طرح آئی تھی۔ جبریل نے اُس کی بات کے جواب میں کچھ کہنے کے بجائے اپنا سیل فون نکال کر اُس میں سے نسا کا نمبر ڈھونڈنے کی کوشش کی تھی۔ چند لمحوں میں اُسے نمبر مل گیا تھا۔
”کیا میں نساء کو فون کر کے بلاؤں؟”اُس نے عائشہ سے کہا ” نہیں” جبریل اُس کا چہرہ دیکھ کر رہ گیا۔ وہ عجیب تھی یا ہوگئی تھی، جبریل کی سمجھ میں نہیں آیا یا پھر یہ صدمہ تھا جس نے اُسے یو ں بے حال کردیا تھا۔

جبریل کو لوگوں پر ترس آتھا تھا ہمیشہ ہی… ہمدردی اُس کی گھٹی میں تھی لیکن اس کے باوجود وہ ایک معروف ڈاکٹر تھا، ایک ایک منٹ دیکھ کر چلنے والا… اُس نے وہاں بیٹھے بیٹھے سوچا تھا، وہ ہاسپٹل کے متعلقہ شعبے سے کسی کو یہاں بھیجتا ہے تاکہ وہ عائشہ عابدین کی مدد کرے اور اُس کی فیملی کے دوسرے افراد سے رابطہ کر سکے۔ وہ اُٹھنے لگا تھا جب اُس نے عائشہ عابدین کی آواز سُنی تھی۔
”آپ کو پتہ ہے میرے ساتھ یہ سب کیوں ہوا ہے؟” وہ رُک کر اُسے دیکھنے لگا ، وہ اُس کی طرف متوجہ نہیں تھی، لیکن خود کلامی کے انداز میں بول رہی تھی۔
”کیوں کہ میں اللہ کی نافرمان عورت ہوں، اللہ نے مجھے سزا دی ہے۔ احسن سعد ٹھیک کہتا ہے۔” جبریل اُسے دیکھتا رہا گیا تھا۔ عائشہ عابدین نے جیسے وہ بوجھ اتار کر اُس کے سامنے پھینکنے کی کوشش کی تھی جو اُس کے لئے آزار بن گیا تھا۔ احسن سعد کون تھا، جبریل نہیں جانتا تھا اور وہ اُس کے بارے میں جو کہتا تھا، جبریل اُس کی وجہ سے بھی ناواقف تھا۔ مگر اُس کے وہ دو جملے اُس دن اُس کے پیروں کی زنجیر بن گئے تھے۔
*****
گاڑی بالآخر پورچ میں آکر رُکی اور اندر سے امامہ بڑی تیز رفتاری سے باہر نکلی تھی۔ گاڑی تب تک رُک چکی تھی اور اُس کی اگلی سیٹ سے ایرک اُتر رہا تھا۔ پہلی نظرمیں امامہ اُسے پہچان نہیں سکی۔ وہ واقعی بدل گیا تھا۔ لمبا تو وہ پہلے بھی تھا، لیکن اب وہ پہلے کی طرح بہت دبلا پتلا نہیں رہا تھا۔
اُس کے ہاتھوں میں دو گلاب کی کلیوں اور چند سبز شاخوں کا ایک چھوٹا سے بُکے تھا… ہمیشہ کی طرح… امامہ کو یاد تھا وہ بچپن میں بھی اکثر اُسے اسی طرح ایک پھول اور دو پتوں والی شاخیں اکثر دیتا تھا… جب بھی اُسے کسی خاص موقع پر ملنے آتا تو… اور بعض دفعہ وہ پورا ”گلدستہ ”اُس کے گھرکے لان سے ہی بنایا گیا ہوتا تھا۔
ایرک اُس سے سلام کے بعد گلے ملنے کے لئے بے اختیار آگے بڑھا پھر جھینپ کر خود ہی ٹھٹھکا ، شاید اُسے کوئی خیال آگیا تھا… امامہ نے آگے بڑھ کر تھپکنے والے انداز میں اُس کے گرد بازو پھیلایا تھا۔
”میں تمہیں پہچان ہی نہیں سکی، تم بڑے ہوگئے ہو… بہت بدل بھی گئے ہو۔” اُس نے ایرک سے کہا، وہ مسکرا یا۔
”لیکن آپ نہیں بدلیں…آپ ویسی ہی ہیں۔” وہ ہنس پڑھی تھی ” سننے میں کتنا اچھا لگتا ہے کہ کچھ نہیں بدلا… حالانکہ سب کچھ بدل گیا ہے۔ میں بھی بوڑھی ہوگئی ہوں۔” وہ ہنس رہی تھی۔
”بڑھاپے کی definition اب شاید بدل گئی ہوگی۔” ایرک نے برجستگی سے کہا ، وہ پھر ہنس پڑی۔
”یہ آپ کے لئے۔” ایرک نے اُسے وہ چھوٹا سا گلدستہ تھمایا تھا۔
”تمہاری عادتیںنہیں بدلیں… لیکن پھول بدل گیا ہے۔” امامہ نے گلدستہ ہاتھ میں لیتے ہوئے کہا ” کیونکہ ملک بدل گیا ہے۔” اُس نے دوبدو کہا۔
”ہاں یہ بھی ٹھیک کہا تم نے… سامان کہاں ہے تمہارا؟” امامہ کو یک دم خیال آیا وہ گاڑی سے اس گلدستے اور ایک چھوٹے بیگ کے علاوہ خالی ہاتھ اُترا تھا۔
”ہوٹل میں … میں وہیں رہوں گا، بس آپ سے ضروری ملاقات کرنی تھی، اس لئے آیا ہوں۔” ایرک نے اُس کے ساتھ اندر جاتے ہوئے کہا۔
”پہلے تم ہمیشہ ہمارے پاس آیا کرتے تھے اور یہیں رہتے تھے، اس بار کسی اور کے پاس آئے ہو کیا؟” امامہ کو لگا تھا وہ شاید پاکستان اپنے کسی پروفیشنل کام سے آیا تھا۔ نہیں کسی اور کے پاس تو نہیں آیا لیکن بس مجھے لگا اس بار کسی ہوٹل میں رُک کر بھی دیکھنا چاہیے۔” وہ بات گول کرگیا تھا۔
وہ لنچ کا وقت تھا اور اُس نے صبح جب فون پر اُس سے ملاقات کے لئے بات کی تھی تو امامہ نے لنچ کے کھانے پر خاص اہتمام کیا تھا۔ ایرک کو جو چیزیں پسند تھیں، اُس نے بنوائیں تھیں اور ایرک نے اُس کے ساتھ باتیں کرتے ہوئے بڑے شوق سے کھانا کھایا تھا۔
لنچ کے دوران گپ شپ میں ایرک اور اُس کے درمیان ہر ایک کے بارے میں بات ہوئی تھی سوائے عنایہ کے… ایرک نے اُس کا ذکر تک نہیں کیا تھا اور امامہ نے یہ بات نوٹس کی تھی… حوصلہ افزا تھی یہ بات لیکن پتہ نہیں کیوں اُسے غیر معمولی لگی تھی…اور اُس کی چھٹی حس نے اُسے جو سگنل دیا تھا، وہ ٹھیک تھا۔
لنچ کے بعد چائے کا آخر ی سپ لے کر کپ رکھتے ہوئے ایرک نے اپنے بیگ سے ایک لفافہ نکال کر اُس کے سامنے میز پر رکھ دیا تھا۔ امامہ ابھی چائے پی رہی تھی، وہ بُری طرح ٹھٹھکی تھی۔
”یہ کیا ہے؟”
”آپ دیکھ لیں۔”
اُس نے امامہ سے کہا، پلک جھپکتے اُس خوبصورت لفافے کو کھولنے سے بھی پہلے… اُس کے چہرے سے مسکراہٹ یک دم غائب ہوگئی تھی، وہ اس ایک لمحے کو avoid کرنا چاہ رہی تھی اور وہ پھر بھی سامنے آکر کھڑا ہوگیا تھا۔ لفافے کے اندر ایک خوبصورت کاغذ پر بے حد خوبصورت طرزِ تحریر میں ایرک نے وہی لکھا ہوا تھا جس کا اُسے خدشہ تھا۔ وہ عنایہ کے لئے اس کی طرف سے ایک فارمل پروپوزل تھا۔ اس وعدے کے ساتھ کہ وہ اُسے بہت خوش رکھے گا اور آفر کے ساتھ کہ وہ اس پروپوزل کے لئے اُن کی تمام شرائط قبول کرنے پر تیار ہے۔
امامہ کی نظریں کچھ دیر اُس کاغذ پر جمی رہیں اور ایرک کی اُس پر۔ پھر امامہ نے کاغذ کو اُس لفافے میں واپس ڈال کر اُسے میز پر رکھ دیا تھا۔ ایرک سے اب نظر ملانا اور سامنا کرنا یک دم مشکل ہوگیا تھا۔ اُس نے بالآخر ایرک کو دیکھا، وہ سنجیدہ تھا اور گفتگو کا آغازاُسی نے کردیا تھا۔
”آپ نے کئی سال پہلے مجھ سے کہا تھا میں پڑح لکھ کر کچھ بن جاؤں پھر آپ سے اس بارے میں بات کروں اور تب تک میں عنایہ سے بھی اس موضوع پر کبھی بات نہ کروں۔ دیکھیں میں نے آپ کی دونوں شرائط پوری کی ہیں۔” اُس نے کہا تھا اور اُس کے دونوں جملوں نے امامہ کے لئے جواب کو اور بھی مشکل کردیا تھا۔
”میں جانتا ہوں مسز سالار، آپ کے لئے میں ایک بہت مشکل انتخاب ہوں لیکن میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ میں ایک بُرا انتخاب ثابت نہیں ہوں گا۔” ایرک نے جیسے اُس کی مشکل بھانپتے ہوئے خود ہی اُسے یقین دہانی کروانے کی کوشش کی تھی۔
وہ اُس کا چہرہ دیکھتی رہی، وہ اچھا لڑکا تھا… بُرا ہوتا تو اُسے بُرا بھلا کہنا کتنا آسان ہوتا… امامہ نے دل میں سوچا تھا…وہ انکار کی ہر وجہ اپنی طرف سے ختم کر آیا تھا… مسلمان بھی ہوگیا تھا، ایک اچھے پروفیشن میں بھی تھا۔ خاندانی اعتبار سے بھی اچھا تھا۔ امامہ کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا وہ پھر بھی اُسے انکار کیا کہہ کے کرے… یہ کہہ کے کہ اُسے خوف اور خدشات تھے، اُس کے نومسلم ہونے کے حوالے سے… یا یہ کہے کہ وہ صرف ایک پاکستانی سے عنایہ کی شادی کرنا چاہتی تھی جو اُس کے اپنے کلچر سے واقف ہو… اُس کے ذہن میں اس وقت جوابات جیسے بھاگ رہے تھے اور کوئی ایک بھی ایسا نہیں تھا جو تسلی بخش ہوتا لیکن اس کے باوجود اُسے ایک جواب تو ایرک کو دینا ہی تھا۔
”تم بہت اچھے ہو ایرک۔” امامہ نے بالآخر اپنا گلا صاف کرتے ہوئے کہنا شروع کیا ۔”عبداللہ!” اُس نے امامہ کو بیچ میں ٹوک کر جیسے اُس کی تصحیح کی۔ وہ ایک لحظہ کے لئے خاموش ہوئی پھر اُس نے جیسے بڑی مشکل سے اُس سے کہا ”عبداللہ… تم بڑے اچھے لڑکے ہو اور میں تمہیں پسند کرتی ہوں لیکن عنایہ کے حوالے سے ابھی کوئی فیصلہ کرنا مشکل ہے، میں نہیں جانتی عنایہ تمہارے پروپوزل کے حوالے سے کیا سوچتی ہے… اُس کی پسند ناپسند بے حد اہم ہے۔” وہ جملہ ادا کرتے ہوئے بھی امامہ کو احساس ہورہا تھا وہ ایک بے تکی بات کررہی تھی… اگر بات عنایہ کی پسند ناپسند کی تھی ، تو پھر رشتہ پکاتھا۔ ایرک کے لئے اُس کی پسندیدگی بہت واضح تھی۔
”میں نے عنایہ سے پہلے اس لئے بات نہیں کی کیوں کہ آپ نے مجھ سے وعدہ لیا تھا ، میں یہ بات جب بھی کروں گا، آپ سے ہی کروں گا۔” اُس نے امامہ کی بات کاٹ کر جیسے اُسے یاددہانی کروائی تھی۔
”میں سالار سے بات کروں گی، تم دو ہفتے پہلے آجاتے تو اُن سے تمہاری ملاقات ہوجاتی… وہ یہیں تھے کچھ دن۔”امامہ نے جواباً کہا تھا ، فوراً ہاں کہہ دینے سے یہ بہتر تھا۔
”وہ جہاں بھی ہوں گے، میں اُن سے ملنے جاسکتا ہوں، میں جانتا ہوں وہ بڑے مصروف ہیں لیکن پھر بھی۔” ایرک نے اُس سے کہا ”آپ کو تو میرے پروپوزل پر کوئی اعتراض نہیں ہے نا؟” وہ یک دم خوش ہوا تھا اور اُس کے چہرے پر چھلکنے والی خوشی اور اطمینان نے جیسے امامہ کو احساسِ جُرم دیا تھا۔
” میں نے تمہیں بتایا ہے عبداللہ تم بہ بہت اچھے ہو، لیکن میری خواہش ہے کہ عنایہ کی شادی جس سے بھی ہو، وہ صرف نام کا مسلمان نہ ہو، نیک ہو، دین دار ہو، سمجھ بوجھ رکھنے کے ساتھ ساتھ دین کی تعلیمات پر عمل بھی کرتا ہو۔” امامہ نے بالآخر اُس سے کہنا شروع کیا ، وہ بے حد سنجیدہ تھی۔ وہ اُس کی بات بے حد غور سے سُن رہا تھا۔
”مرد کو دین کا پتہ نہ ہو تو عورت کے لئے بہت مسئلہ ہوجاتا ہے۔یہ ایک پوری نسل کی تربیت کی بات ہوتی ہے۔ ہم لوگ لبرل مسلمان ہیں لیکن بے دین اور بے عمل نہیں ہیں اور نہ ہی ایسے ہونا چاہتے ہیں، نہ اپنی اگلی نسلوں کے لئے یہ چاہتے ہیں۔ مجھے نہیں پتہ تم کتنے practicing ہو اور اسلام کے بارے میں تمہارے concepts کتنے واضح ہیں لیکن عنایہ بہت مذہبی ہے… میں نہیں چاہتی اُس کی شادی کسی ایسی جگہ ہو جہاں میاں بیوی کے درمیان جھگڑے کی وجہ مذہبی اعتقادات اور اُن پر عمل کا ہونا یا نہ ہونا ہو۔” وہ کہتی جارہی تھی۔
”تمہیں شاید پتہ نہ ہو لیکن میں بھی نومسلم تھی۔اپنے مذہب کو ترک کر کے اسلام کی صحیح تعلیمات اختیار کی تھیں میں نے… فیملی، گھر سب چھوڑا تھا… بڑے مسائل کا سامنا کیا تھا … یہ آسان نہیں تھا۔”اُس کی آواز بُھرّا گئی تھی، وہ رُکی اپنی آنکھیں پونچھتے وہ ہنسی یوں جیسے اپنے آنسوؤں کو چھپانا چاہتی ہو۔
” یہ آسان کام نہیں تھا۔” اُس نے دوبارہ کہنا شروع کیا ”لیکن سالار نے بہت آسان کردیا میرے لئے… وہ practicing مسلمان ہے اور میں اپنی بیٹی کے لئے اُس کے باپ جیسامسلمان ہی چاہتی ہوں، زندگی میں اتنی تکلیفیں برداشت کر کے اتنی لمبی جد و جہد کے بعد میں اپنی اگلی نسل کو پھر سے بے دین اور بے عمل دیکھنا نہیں چاہتی۔ تم مسلمان تو ہو لیکن شاید اسلام کی تعلیمات میں اتنی دلچسپی نہ ہو کیوں کہ مسلمان ہونے کی تمہاری وجہ ایک لڑکی سے شادی ہے۔ شادی ہوجائے گی تمہاری دلچسپی دین میں ختم ہوجائے گی… کچھ عرصہ بعد شاید تمہیں یہ بھی پروا نہ رہے کہ تم مسلمان ہو۔ حرام اور حلال کے درمیان جو دیوار ہم اُٹھا کر رکھتے ہیں، تمہارے لئے وہ اُٹھانا ضروری نہ ہو… محبت بہت دیرپا چلنے والی شے نہیں ہے، اگر دو انسانوں کے بیچ عادات ، اعتقادات اور خیالات کی خلیج ہو تو۔” ایرک نے اُس کی گفتگو کے درمیان اُسے ایک بار بھی نہیں ٹوکا تھا، وہ صرف خاموشی سے اُس کی باتیں سنتا رہا۔
”تم کسی ویسٹرن لڑکی سے شادی کرلو تو تمہاری بہت اچھی نبھے گی…” وہ اب اُسے جیسے مشورہ دیتے ہوئے راستہ دکھانے کی کوشش کررہی تھی۔ وہ مسکرا دیا۔
”کوئی اچھی مسلمان لڑکی جو وہیں سے ہو۔” اس بار اُس نے اس لمبی گفتگو کے دوران پہلی بار امامہ کو ٹوکا۔
”وہ جو بھی ہو گی،آپ کی بیٹی تو نہیں ہو گی مسز سالار۔”امامہ خاموش ہوگئی۔
”آپ نے اچھا کیا یہ سب کچھ کہا مجھ سے… جو بھی آپ کے خدشات ہیں، میں اب اُنہیں دیکھ سکتا ہوں، اور آپ کو وضاحت بھی دے سکتا ہوں۔ نو سال ہو گئے ہیں مجھے عبداللہ بنے… لیکن مجھے لگتا ہے مسلمان میں بہت پہلے سے تھا… تب سے جب آپ لوگوں کے خاندان سے ملنا شروع ہوا تھا…” وہ بہت سوچ سوچ کے ٹھہر ٹھہر کر کہہ رہا تھا۔
”میں بہت زیادہ باعمل اور باکردار مسلمان نہیں ہوں… آپ کے بیٹوں جیسا تو بالکل بھی نہیں ہوں… لیکن اپنے آس پاس نظر آنے والے بہت سے مسلمانوں سے بہتر ہوں۔ نو سال میں میں نے اپنے دین کے حوالے سے صرف حرام اور حلال ہی کو نہیں سمجھا اور بھی بہت کچھ سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ مجھے پتہ ہے آپ کبھی قادیانی تھیں، پھر آپ تائب ہوکر مسلمان ہوئیں… مجھ سے یہ مت پوچھیے گا کہ یہ مجھے کس نے بتایا لیکن میں یہ جانتا ہوں اور اس لئے آپ سے یہ توقع رکھتا ہوں کہ آپ مجھ سے زیادہ ہمدردی رکھیں گی۔ آپ کی طرح میں بھی اپنی اگلی نسل کو اچھا انسان اور مسلمان دیکھنا چاہتا ہوں… صرف مسلمان نہیں… اس لئے آپ کی بیٹی سے شادی کرنا چاہتا ہوں… ایک اچھی دین دار عورت ہی ایک اچھے گھرانے کی بنیاد رکھتی ہے… یہ بھی دین نے ہی بتایا ہے مجھے۔” امامہ اُس کی باتیں سُن رہی تھی، عبداللہ اُس کے انکار کو بہت مشکل کرتا جارہا تھا ۔ وہ جو بھی اُس سے کہہ رہا تھا، وہ clarity کے ساتھ کہہ رہا تھا۔
”مجھے عنایہ بہت اچھی لگتی ہے، محبت کرتا ہوں اُس سے لیکن شادی کا فیصلہ صرف محبت کی وجہ سے نہیں کیا نہ ہی مذہب کی تبدیلی محبت کا نتیجہ ہے… میری زندگی میں آپ اور آپ کی فیملی کا ایک بہت پازیٹو رول رہا ہے… میں آپ لوگوں کے مذہب سے بعد میں متاثر ہوا تھا، آپ لوگوں کی انسانیت اور مہربانی سے پہلے متاثر ہوا تھا… اور میری زندگی کے ایک بہت مشکل phase میں مجھے آپ لوگوں کا حُسنِ سلوک یاد ہے… ایک ایک چیز… آپ کہیں تو میں دہرا سکتا ہوں… میں اُس مذہب کے awe میں آگیا تھا جو ایسے خوبصورت انسان بنانے کی صلاحیت اور قدرت رکھتا تھا… میں اُس وقت بہت چھوٹا تھا، آپ لوگوں کے لئے جو محسوس کرتا تھا، اُسے آپ لوگوں کو بتا نہیں سکتا تھا۔ اب اتنے سالوں بعد مجھے موقع ملا ہے تو میں بتا رہا ہوں۔” وہ رُکا… سر جھکائے بہت دیر خاموش رہا۔
 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: