Aab e Hayat Novel by Umera Ahmed Read Online – Episode 41

0

آب حیات از عمیرہ احمد – قسط نمبر 41

–**–**–

”آپ لوگ میری زندگی میں نہ آتے تو میں ایک بہت بُرا انسان بنتا۔ پاپا کی موت کے بعد میں ویسے ہی تھا جیسے سمندر میں ایک چھوٹی سی کشتی، جس کی کوئی سمت نہیں ہوتی۔ ڈوب جاتی، تو ڈوب جاتی۔ میں اُس وقت بہت دعا کیا کرتا تھا کہ مسٹر سکندر کو کچھ نہ ہو، اُن کا ٹریٹمنٹ صحیح ہو جائے کیونکہ میں نہیں چاہتا تھا آپ کے گھر میں وہ تکلیف آئے جس سے میں اور میری فیملی گزر رہی تھی۔” وہ چپ ہو گیا۔ امامہ بھی بول نہیں سکی۔ پانی دونوں کی آنکھوں میں تھا اور درد بھی اور دونوں یہ دونوں چیزیں چھپانے کی کوشش میں تھے۔
”میں پاکستان صرف آپ سے بات کرنے اور یہ سب بتانے کے لئے آیا ہوں۔ آپ نے اپنی بیٹی کی تربیت بہت اچھی کی ہے۔ وہ بہت عزت اور حیا والی ہے اور میں نے اتنے سالوں میں اُس کے لئے محبت کا جذبہ رکھنے کے باوجود اُن حدود کا احترام کیا ہے جو آپ نے اُس کے لئے طے کی ہیں اور جسے اُس نے کبھی نہیں توڑا۔ میں آپ کی بیٹی کو اتنی ہی عزت اور احترام کے ساتھ اپنی زندگی اور گھر کا حصہ بنانا چاہتا ہوں۔” عبداللہ نے اپنے بیگ سے ایک چھوٹی سی ڈبیا نکال کر اُس لفافے کے اوپر رکھ دی۔ جو اُس نے میز پر رکھا تھا۔
اُس خوبصورت لفافے کے اوپر ایک خوبصورت سُرخ ڈبیا میں عنایہ سکندر کا نصیب تھا، جو اُتنا ہی خوبصورت تھا۔ نم آنکھوں کے ساتھ امامہ اُس ڈبیا سے نظریں نہیں ہٹا سکی۔ اُس کی مرضی سے کبھی کچھ نہیں ہوتا تھا، لیکن جو بھی ہوتا تھا، وہ بہترین ہوتا تھا۔
*****
۔”Ring خوبصورت ہے، پر نقلی ہے۔” حمین نے ڈنر ٹیبل پر بیٹھے فش اور چپس کھاتے ہوئے ڈبیا کو رئیسہ کی طرف سرکایا، جو سلاد کا ایک پیالہ کھاتے ہوئے اس کی بات سُن رہی تھی۔
کُھلی ہوئی ڈبیا کو بند کرتے ہوئے اُس نے اُسی ہاتھ سے اپنے گلاسز ٹھیک کیے اور بڑے تحمل سے کہا۔
۔”I know”
وہ فش اور چپس تقریباً نگل رہا تھا اور ساتھ TV لاؤنج میں اسکرین رگبی کا ایک میچ دیکھ رہا تھا۔
رئیسہ ویک اینڈ گزارنے وہاں آئی تھی، امریکہ واپس آنے کے بعد اور اگلے دن عنایہ بھی وہاں پہنچ رہی تھی اور اس وقت ایک فاسٹ فوڈ سے ہوم ڈیلیوری کروانے کے بعد وہ کھانا کھانے میں مصروف تھے جب رئیسہ نے وہ انگوٹھی اُسے دکھائی تھی۔
”تم نے کسی کو دینی ہے یا تمہیں کسی نے دی ہے؟” حمین نے میچ دیکھتے دیکھتے چلی ساس کی بوتل تقریباً اپنی پلیٹ میں خالی کرتے ہوئے اُس سے پوچھا۔
”ہشام نے دی ہے۔” رئیسہ نے کسی تمہید کے بغیر مدہم آواز میں بے حد سنجیدگی سے کہا۔ اس بار حمین نے سکرین سے نظریں ہٹا لی تھیں۔
”جب وہ واپس آئے گا تو میں اُسے واپس کر دوں گی۔” اُس نے ایک لمحہ کے توقف کے بعد اُسی سانس میں کہا۔
”مطلب؟” حمین اب سنجیدہ ہو گیا تھا۔
”اُس نے مجھے پروپوز کیا ہے لیکن میں نے اُس کا پروپوزل قبول نہیں کیا۔ میں چاہتی ہوں پہلے دونوں فیملیز آپس میں بات کرلیں۔” رئیسہ نے اُسے مختصراً بتایا۔
”لیکن ہشام تو ابھی اپنی فیملی کے ساتھ بحرین میں ہوگا۔ اُس کی فیملی کیا وہاں سے آ کر بات کرے گی؟” حمین نے جواباً اُس سے پوچھا۔ وہ کچھ دیر پہلے ہشام اور اُس کی فیملی کے حوالے سے بات کر رہے تھے۔
تین دن پہلے بحرین میں ہونے والے رائل فیملی کے اُس پلین کریش میں وہاں کے حکمران اور اُس کی فیملی کے چھے افراد کی ہلاکت ہوئی تھی۔ بحرین کا حکمران ہشام کا تایا تھا اور اُس حادثے کی اطلاع ملنے کے فوری بعد ہشام اپنی فیملی کے ساتھ بحرین چلا گیا تھا۔ رئیسہ بھی اُس کے ساتھ ہی امریکہ واپس آئی تھی۔
”ہشام تو آجائے گا اگلے ہفتے، لیکن اُس کی فیملی ابھی رہے گی وہاں۔” رئیسہ نے اُس سے کہا۔
”تو پھر کیا ہوگا؟”حمین نے دوبارہ چپس کھانا شروع کرتے ہوئے کہا۔
”اسی لئے تو تم سے بات کر رہی ہوں، تم بتاؤ۔” رئیسہ نے اُسے جواباً کہا۔
”ممی کریں گی صاف صاف دو ٹوک انکار۔” چلی ساس میں مچھلی کا ٹکڑا ڈبوتے ہوئے حمین نے جیسے مستقبل کا نقشہ دو جملوں میں اُس کے سامنے کھینچا۔
”ہاں مجھے پتہ ہے۔” رئیسہ نے گہرا سانس لیا۔”
تمہیں پسند تو نہیں ہے نا؟” حمین نے اُس سے اس طرح سرسری سے انداز میں پوچھا جیسے یہ کوئی عام سی بات تھی۔
”ہے۔” اُس نے یک لفظی جواب دیا اور ایک پورا زیتون اُٹھا کر نگلا۔
۔”Too bad” حمین نے جیسے افسوس کرنے والے انداز میں کہا۔
”عنایہ اور عبداللہ کا پتہ ہے تمہیں اس کے باوجود تم نے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔” رئیسہ نے اُس کی بات کاٹی۔
”ہشام پیدائشی مسلمان ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
”لیکن بحرینی ہے، بلکہ عرب ہے۔” حمین نے اُسے بات مکمل کرنے کا موقع نہیں دیا تھا۔
”ویسے تو وہ امریکی ہے۔” رئیسہ نے جیسے مدافعانہ انداز میں کہا۔
”امریکی تو ممّی کو ویسے ہی زہر لگتے ہیں۔” حمین نے بے حد اطمینان سے تصویر کا ایک اور تاریک پہلو اُسے دکھایا۔
”اسی لئے تم سے بات کر رہی ہوں۔” رئیسہ نے سلاد کھانا بند کر دیا۔
”تم ایک بات بتاؤ، تمہیں صرف وہ پسند ہے یا محبت وغیرہ ہے؟” رئیسہ نے اُسے جواباً گھورا۔
”صرف جنرل نالج کے لئے پوچھ رہا ہوں۔” حمین نے مدافعانہ انداز میں بے اختیار کہا۔
”یہ جنرل نالج کا سوا ل نہیں ہے۔” رئیسہ نے جتانے والے انداز میں کہا۔
”کامن سینس کا ہو گا پھر… وہ تو میری ویسے ہی خراب ہے۔” پلیٹ صاف کرتے ہوئے حمین نے بے حد اطمینان سے کہا۔
”تم کچھ کر سکتے ہو یا نہیں؟” رئیسہ نے اُس کو اگلا جملہ بولنے سے پہلے کہا۔
”میں صرف کوشش کر سکتا ہوں لیکن اس کا فائدہ نہیں… لیکن سب سے پہلے یہ ضروری ہے کہ تم میری ملاقات ہشام سے کراؤ… میں دیکھنا چاہتا ہوں تمہارے حوالے سے وہ دراصل کتنا سیریس ہے۔”
”وہ میں کروا دوں گی، وہ مسئلہ نہیں ہے۔” رئیسہ نے کچھ مطمئن ہوتے ہوئے کہا۔
”اور اگر ممّی یا بابا نہیں مانتے پھر؟” حمین نے یک دم اُس سے کہا۔ وہ خاموش بیٹھی رہی، پھر اُس نے کہا۔
”مجھے وہ اچھا لگتا ہے لیکن ایسی جذباتی وابستگی نہیں ہے کہ میں اُسے چھوڑ نہ سکوں۔”
”اچھے کی امید رکھنی چاہیے لیکن بدترین کے لئے تیار رہنا چاہیے… بابا کو اعتراض نہیں ہوگا، لیکن ممّی کا میں کہہ نہیں سکتا، کوشش کروں گا… لیکن ہشام نے اپنی فیملی سے بات کی ہے تمہیں پروپوز کرنے سے پہلے؟ کیوں کہ اگر اس کی فیملی کو کوئی اعتراض ہوا تو ممی بابا میں سے کوئی بھی اس پروپوزل پر غور نہیں کرے گا۔” حمین کو بات کرتے کرتے خیال آیا تھا۔ اپنی فیملی سے بات کر کے ہی اُس نے مجھ سے بات کی ہے، اُس کی فیملی کو کوئی اعتراض نہیں ہے۔” رئیسہ نے اُسے جیسے یقین دہانی کروائی تھی۔
حمین اُس کی بات سنتے ہوئے اپنے میز پر دھرے فون کی سکرین پر کچھ دیکھ رہا تھااور اپنی انگلی سے سکرین کو سکرول کررہا تھا، رئیسہ کو لگا اُس نے اُس کی بات غور سے نہیں سنی تھی۔
”تم میری بات سُن رہے ہو؟” رئیسہ نے جیسے اُسے متوجہ کیا۔
”ہاں، میں ہشام کے بارے میں search کر رہا ہوں۔” اُس نے جواباً کہا۔
”کیا؟” رئیسہ چونکی۔
”ہشام کو اور اُس کی فیملی کو پتہ ہے کہ تم ایڈاپٹڈ ہو؟” حمین اُسی طرح سکرین سکرول کر رہا تھا…
”ہشام کو پتہ ہے تو ظاہر ہے اُس کی فیملی کو بھی پتہ ہو گا۔” وہ ایک لمحہ کے لئے ٹھٹھکی اور پھر اُس نے کہا۔
”اوہ!” حمین اپنے فون کی سکرین پر کچھ پڑھتے پڑھتے بے اختیار چونکا تھا۔
”کیا ہوا؟” رئیسہ چونکی۔
”تمہارے لئے ایک اچھی خبر ہے اور شاید بُری بھی۔” حمین نے ایک گہرا سانس لے کر سر اُٹھایا اور اُسے دیکھا اور پھر اپنا فون اُس کے سامنے رکھ دیا۔
*****
وہ شخص دیوار پر لگی رئیسہ کی تصویر کے سامنے اب پچھلے پندرہ منٹ سے کھڑا تھا۔ پلکیں جھپکائے بغیر، ٹکٹکی لگائے اس لڑکی کا چہرہ دیکھتے ہوئے… چہرے میں کوئی شباہت تلاش کرتے ہوئے، سالار سکندر کے شجرہ میں دبے آتش فشاں کی شروعات ڈھونڈتے ہوئے۔ اگر وہ اس شخص کو نشانہ بنا سکتا تھا تو اسی ایک جگہ سے بنا سکتا تھا۔ وہ ہونٹ کاٹتے ہوئے کچھ بڑبڑا بھی رہا تھا، خود کلامی…ٍ۔ ایک سکینڈل کا تانا بانا تیار کرنے کے لئے ایک کے بعد ایک مکر و فریب کا جال، وجوہات، حقائق کو مخفی کرنےٍ۔ وہ ایک گہرا سانس لے کر اپنے عقب میں بیٹھے لوگوں کو کچھ ہدایات دینے کے لئے مڑا تھا۔
سی آئی اے ہیڈ کوارٹرز کے اس کمرے کی دیواروں پر لگے بورڈز چھوٹے بڑے نوٹس، چارٹس، فوٹوگرافس اور ایڈریسز کی چِٹوں سے بھرے ہوئے تھے۔
کمرے میں موجود چار آدمیوں میں سے تین اس وقت بھی کمپیوٹر پر مختلف ڈیٹاکھنگالنے میں مصروف تھے ، یہ کام وہ پچھلے ڈیڑھ ماہ سے کررہے تھے۔ اس کمرے میں جگہ جگہ بڑے بڑے ڈبّے پڑے تھے جو مختلف فائلز، ٹیپس، میگزینز اور نیوز پیپرز کے تراشوں اور دوسرے ریکارڈ سے بھرے ہوئے تھے، کمرے میں موجود ریکارڈ کیبنٹس پہلے ہی بھری ہوئی تھیں ، کمرے میں موجودتمام ڈیٹا ان کمپیوٹرز کی ہارڈ ڈسکس میں بھی محفوظ تھا۔
کمرے میں موجود دو آدمی پہلے ڈیڑھ ماہ سے سالار سکندر کے بارے میں آن لائن آنے والا تمام ریکارڈ اور معلومات اکٹھی کرتے رہے تھے۔ کمرے میں موجود تیسرا شخص سالار اور اس کی فیملی کے ہر فرد کے ای میلز کا ریکارڈ کھنگالتا رہا تھا۔ چوتھا شخص اس کی فیملی اور مالی معلومات کو چیک کرتا رہا تھا۔اس ساری جدوجہد کا نتیجہ ان تصویروں اور شجرہ نسب کی صورت میں ان بورڈز پر موجود تھا۔ وہ چار لوگ دعویٰ کرسکتے تھے کہ سالار اور اُس کی فیملی کی پوری زندگی کا ریکارڈ اگر خدا کے پاس موجود تھا تو اس کی ایک کاپی اس کمرے میں بھی تھی۔ سالار کی زندگی کے بارے میں کوئی ایسی چیز نہیں تھی جو اُن کے علم میں نہیں تھی یا جس کے بارے میں وہ ثبوت نہیں دے سکتے تھے۔
۔CIA کے Sting Operations سے لے کر اُس کی ٹین ایج کی گرل فرینڈز تک اور اُس کے مالی معاملات سے لے کر اُس کی اولاد کی پرسنل اور پرائیوٹ لائف تک اُن کے پاس ہر چیز کی تفصیلات تھیں۔
لیکن سارا مسئلہ یہ تھا کہ ڈیڑھ دو ماہ کی اس محنت اور پوری دنیا سے اکٹھے کیے ہوئے اس ڈیٹا میں سے وہ ایسی کوئی چیز نہیں نکال سکے تھے جس سے وہ اس کی کردار کشی کر سکتے۔
وہ ٹیم جو پندرہ سال سے اس طرح کے مقاصد پر کام کرتی رہی تھی۔ یہ پہلی بار تھا کہ وہ اتنی سر توڑ محنت کے باوجود اس شخص اور اس کے گھرانے کے کسی شخص کے حوالے سے کسی قسم کا سکینڈل نکال نہیں پائی تھی۔ دو سو پوائنٹس کی جو چیک لسٹ اُنہیں دی گئی تھی، وہ دو سو کراسز سے بھری ہوئی تھی اور یہ اُن کی زندگی میں پہلی بار ہو رہا تھا۔ انہوں نے ایسا صاف ریکارڈ کسی کا نہیں دیکھا تھا۔
کسی حد تک وہ ستائش کے جذبات رکھنے کے باوجود ایک آخری کوشش کررہے تھے۔ ایک آخری کوشش۔ کمرے کے ایک بورڈ سے دوسرے اور دوسرے سے تیسرے بورڈ تک جاتے جاتے وہ آدمی سالار کے فیملی ٹری کی اس تصویر پر رُکا تھا۔ اس تصویر کے آگے کچھ اور تصویریں تھیں اور ان کے ساتھ کچھ بلٹ پوائنٹس۔ ایک دم جیسے اُسے بجلی کا جھٹکا لگا تھا۔ اُس نے اس لڑکی کی تصویر کے نیچے اس کی تاریخِ پیدائش دیکھی پھر مڑ کر کمپیوٹر کے سامنے بیٹھے ہوئے آدمی کو وہ سال بتاتے ہوئے کہا۔
”دیکھو اس سال ان dates پر یہ کہاں تھا؟”
کمپیوٹر پر بیٹھے ہوئے آدمی نے چند منٹوں کے بعد سکرین پر نمودار ہونے والی تحریر پڑھتے ہوئے کہا۔
”پاکستان۔”
سوال کرنے والے آدمی کے ہونٹوں پر بے اختیار مسکراہٹ آئی تھی۔
”کب سے کب تک؟”
اُس آدمی نے اگلا سوال کیا، کمپیوٹر کے سامنے بیٹھے ہوئے شخص نے کی بورڈ پر انگلیوں کو حرکت دیتے ہوئے، اسکرین پر دیکھتے ہوئے اُسے تاریخیں بتائیں۔
”آخرکار ہمیں کچھ مل ہی گیا۔” اس آدمی نے بے اختیار ایک سیٹی بجاتے ہوئے کہا تھا۔ اُنہیں جہاز ڈبونے کے لئے تارپیڈو مل گیا تھا۔
یہ پندرہ منٹ پہلے کی روداد تھی۔ پندرہ منٹ بعد وہ اب جانتا تھا کہ اُسے اس آتش فشاں کا منہ کھولنے کے لئے کیا کرنا تھا۔
*****
اُس نے اپنے دونوں ہاتھوں کو مٹھیوں کی طرح بھینچ کر کھولا، ایک بار، دو بار، تین بار، پھر اپنی آنکھوں کو انگلیوں کی پوروں سے مسلا۔ کُرسی کی پشت سے ٹیک لگائے، اپنی لمبی ٹانگوں کو اسٹڈی ٹیبل کے نیچے رکھے foot holder پر سیدھا کرتے ہوئے وہ جیسے کام کرنے کے لئے ایک بار پھر تازہ دم ہو گیا تھا۔ پچھلے چار گھنٹے سے مسلسل اُس laptop پر کام کرتے رہنے کے باوجود، جو اس وقت بھی اُس کے سامنے کھلا ہوا تھا اور جس پر چمکتی گھڑی اس وقت سوئٹزر لینڈ میں رات کے 2:34 ہو جانے کا اعلان کر رہی تھی۔
وہ ڈیوس میں ورلڈ اکنامک فورم کا keynote اسپیکر تھا جس کی تقریر کل دنیا کے ہر بڑے چینل اور اخبار کی ہیڈ لائنز بننے والی تھی۔ 3:40 پر اُس نے بالآخر اپنا کام ختم کیا۔ laptop کو بند کر کے وہ اسٹڈی ٹیبل سے اُٹھ کھڑا ہوا تھا، وہ موسم سرما تھا اور ڈیوس میں سورج طلوع ہونے میں ابھی وقت تھا۔ اتنا وقت کہ وہ چند گھنٹے کے لئے سو جاتا۔ اور چند گھنٹوں کی نیند اُس کے لئے کافی تھی، نماز کے لئے دوبارہ جاگنے سے پہلے۔ وہ اُس کی زندگی کا معمول تھا اور اب اتنے سالوں سے تھا کہ اُسے معمول سے زیادہ عادت لگنے لگا تھا۔ صوفہ کے سامنے موجود سینٹر ٹیبل پر سوئٹزر لینڈ اور امریکہ کے کچھ بین الاقوامی جریدوں کی کاپیز پڑی تھیں اور اُن میں سے ایک کے سرورق پر حمین سکندر کی تصویر تھی۔ 500 Young Global Leaders کی فہرست میں پہلے نمبر پر براجمان، اپنی مخصوص شرارتی مسکراہٹ اور چمکتی ہوئی آنکھوں کے ساتھ کیمرہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھتے ہوئے۔
ایک لمحہ کے لئے سالار کو یونہی لگا تھا جیسے وہ اُس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ رہا تھا۔ اُسی اعتماد، دلیری اور وقار کے ساتھ جو اس کا خاصہ تھا۔
سالار سکندر کے ہونٹوں پر مسکراہٹ لہرائی، اُس نے جھک کر وہ میگزین اُٹھایا تھا۔ وہ ورلڈ اکنامک فورم میں پہلی بار آ رہا تھا اور دنیا کے اس prestigious فورم کا جیسے نیا پوسٹر بوائے تھا۔ وہاں پڑا کوئی میگزین ایسا نہیں تھا جس میں اُس نے حمین سکندر یا اُس کی کمپنی کے حوالے سے کچھ نہ پڑھا ہو۔
۔”Devilishly Handsome, Dangerousl Meticulous” سالار سکندر کے ہونٹوں پر مسکراہٹ گہری ہوئی۔ وہ ہیڈ لائن حمین سکندر کے بارے میں تھی۔ جس سے اس کی ملاقات کل اُسی فورم میں ہونے والی تھی، جہاں اُس کا بیٹا بھی خطاب کرنے والا تھا۔ اُس نے اُس میگزین کو دوبارہ سینٹر ٹیبل پر رکھ دیا۔
اُس کے بیڈ سائیڈ ٹیبل پر پڑا سیل فون کھٹکا، بستر پر بیٹھتے ہوئے سالار نے اُسے اُٹھا کر دیکھا۔ وہ واقعی شیطان تھا، خیال آنے پر بھی سامنے آ جاتا تھا۔
۔”Awake?” وہ حمین سکندر کا ٹیکسٹ تھا، اُسے باپ کی روٹین کا پتہ تھا۔ وہ خود بھی insomniac تھا۔
۔”Yes” سالار نے جواباً ٹیکسٹ کیا۔
”بڑی اچھی فلم آرہی تھی، سوچا آپ کو بتادوں۔” جواب آیا۔ سالار کو اُس سے ایسے ہی کسی جواب کی توقع تھی۔ دوسرا ٹیکسٹ آیا جس میں اُس چینل کا نمبر بھی تھا جس پر وہ مووی آرہی تھی، اُس کی کاسٹ کے ناموں کے ساتھ جس میں چارلیز تھیرن کا نام بلاک لیٹرز میں لکھا ہوا تھا۔ وہ باپ کو تنگ کرنے کے موڈ میں تھا۔ سالار کو اندازہ ہو گیا تھا۔
۔”Thank you for the recommendation” سالار نے زیرِ لب مسکراہٹ کے ساتھ اُس کے ٹیکسٹ کا جواب دیا۔ اُس کی بات کا جواب نہ دینا اس سے زیادہ بہتر تھا۔
۔”I am seriously thinking of getting married” اگلا جملہ بے سر و پیر کے تھا۔ سالار سکندر گہرا سانس لے کر رہ گیا۔ وہ ورلڈ اکنامک فورم کا ینگ سٹار سپیکر تھا جو اپنی تقریر سے ایک رات پہلے باپ سے رات کے اس وقت اس طرح کی بے تکی باتیں کر رہا تھا۔
۔”What an idea! Tread it on TAI” اُس نے اُسے جوابی ٹیکسٹ کیا اور پھر گڈ نائٹ کا میسج۔ کھٹاک سے ایک smiley اُس کی اسکرین پر اُبھری تھی۔ دانت نکالتے ہوئے۔
۔”I am serious” سالار فون رکھ دینا چاہتا تھا، لیکن پھر رُک گیا۔
۔“Options چاہیے یا approval ؟” اُس نے اس بار بے حد سنجیدگی سے اُسے ٹیکسٹ کیا۔
۔”Suggestions” جواب اُسی تیز رفتاری سے آیا۔
۔”TV بند کر کے سو جاؤ۔” اُس نے جواباً اُسے ٹیکسٹ کیا۔
”بابا میں صرف یہ سوچ رہا ہوں کہ رئیسہ اور عنایہ کی شادی کیے بغیر میرا شادی کرنا مناسب نہیں، خاص طور پر جب جبریل کی شادی کا فی الحال کوئی امکان نہیں۔” وہ اُس کے اس جملے پر اب بالآخر کھٹکا تھا۔ اُس کی باتیں اتنی بے سروپا نہیں تھیں، جتنا وہ اُنہیں سمجھ رہا تھا۔ رات کے اس پہر وہ فلم سے اپنی شادی اور اپنی شادی سے عنایہ اور رئیسہ کی شادی کا ذکر لے کر بیٹھا تھا تو کوئی مسئلہ تھا۔ اور مسئلہ کہاں تھا، یہ سالار کو ڈھونڈنا تھا۔
”تو؟” اُس نے اگلے ٹیکسٹ میں جیسے کچھ اور اُگلوانے کے لئے دانہ ڈالا، جواب خاصی دیر بعد آیا۔ یعنی وہ اب سوچ سوچ کر ٹیکسٹ کر رہا تھا۔ وہ دونوں باپ بیٹا جیسے شطرنج کی ایک بساط بچھا کر بیٹھ گئے تھے۔
”تو بس پھر ہمیں عنایہ اور رئیسہ کے حوالے سے کچھ سوچنا چاہیے۔” جواب سوچ سمجھ کر آیا تھا، لیکن مبہم تھا۔
”رئیسہ کے بارے میں یا عنایہ کے بارے میں؟” سالار نے بڑے کُھلے الفاظ میں اُس سے پوچھا۔ حمین کو شاید باپ کے اس بے دھڑک سوال کی توقع نہیں تھی، وہ امامہ نہیں تھی جس کو وہ گھما پھرا لیتا تھا، وہ سالار سکندر تھا جو اُسی کی طرح لمحوں میں بات کی جڑ تک پہنچ جاتا تھا۔
”رئیسہ کے بارے میں۔” بالآخر اُسے ہتھیار ڈالتے ہوئے کہنا پڑا، سالار کے لئے جواب غیر متوقع نہیں تھا۔ لیکن حیران وہ اُس کی ٹائمنگ پر ہوا تھا۔
”تم خود رئیسہ کے لئے بات کر رہے ہو یا رئیسہ نے تمہیں بات کرنے کے لئے کہا ہے؟” سالار کا اگلا ٹیکسٹ پہلے سے بھی direct تھا۔ حمین کا جواب اور بھی دیر سے آیا۔
”میں خود کر رہا ہوں۔” سالار کو اُس کے جواب پر یقین نہیں آیا۔
”رئیسہ کہیں انوالوڈ ہے؟” اُس نے اگلا ٹیکسٹ کیا۔ جواب ایک بار پھر دیر سے آیا اور یک دم سالار کو احساس ہوا کہ یہ ٹیکسٹنگ دو لوگوں کے درمیان نہیں ہو رہی تھی۔ تین لوگوں کے درمیان ہو رہی تھی۔ وہ، حمین اور رئیسہ۔
وہ تاخیر جو حمین کی طرف سے جواب آنے پر ہو رہی تھی، وہ اس لئے ہو رہی تھی کیوں کہ وہ سالار کے ساتھ ہونے والے سوال، جواب رئیسہ کو بھی بھیج رہا تھا اور پھر اُس کی طرف سے آنے والے جوابات اُسے فار ورڈ کر رہا تھا۔ وہ اُن دونوں کی بچپن کی عادت تھی، ایک دوسرے کے لئے spokes person کا رول ادا کرنا اور زیادہ تر یہ رول رئیسہ ہی اُس کے لئے کیا کرتی تھی۔
”کوئی اُسے پسند کرتا ہے۔” جواب دیر سے آیا تھا لیکن اُس کے direct سوال کے بدلہ میں بے حد ڈپلومیٹک انداز میں دیا گیا تھا اور یہ حمین کا انداز نہیں تھا۔ یہ رئیسہ کا انداز تھا۔
”کون پسند کرتا ہے؟ ہشام؟” سالار نے جواباً بے حد اطمینان سے ٹیکسٹ کیا۔ اُسے یقین تھا اُس کے جوابیہ سوال نے دونوں بہن، بھائی کے پیر تلے سے کچھ لمحوں کے لئے زمین نکالی ہو گی۔ اُن کو یہ اندازہ نہیں ہو سکتا تھا کہ سالار اتنا ”باخبر” ہو سکتا تھا۔
حسبِ توقع ایک لمبے وقفے کے بعد ایک پورے منہ کھولے ہنستی ہوئی smiley آئی تھی۔
۔”Good Shoot” یہ حمین کا جواب تھا۔
”رئیسہ سے کہو آرام سے سو جائے۔ ہشام کے بارے میں آمنے سامنے بیٹھ کر بات ہو گی۔ میں اس وقت آرام کرنا چاہتا ہوں اور تم دونوں اب مجھے مزید کوئی ٹیکسٹ نہیں کرو گے۔”
سالار نے ایک voice message حمین کو بھیجتے ہوئے فون رکھ دیا۔ وہ جانتا تھا اس کے بعد وہ واقعی بھوتوں کی طرح غائب ہو جائیں گے،خاص طور پر رئیسہ۔
*****
جبریل نیند میں فون کی آواز پر ہڑبڑا کر اُٹھا تھا۔ اُسے پہلا خیال ہاسپٹل کا آیا تھا لیکن اُس کے پاس آنے والی وہ کال ہاسپٹل سے نہیں آئی تھی، اُس پر نساء کا نام چمک رہا تھا۔ وہ غیر متوقع تھا۔ ایک ہفتے پہلے اسفند کی تدفین کے دوران اُس کی ملاقات نساء سے ایک لمبے عرصے کے بعد ہوئی تھی اور اُس کے بعد اس طرح رات کے اس وقت آنے والی کال۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کال ریسیو کرتے ہوئے دوسری طرف سے اُس نے جبریل سے معذرت کی تھی کہ وہ رات کے اس وقت اُسے ڈسٹرب کر رہی تھی اور پھر بے حد اضطراب کے عالم میں اُس نے جبریل سے کہا تھا۔
”تم عائشہ کے لئے کچھ کر سکتے ہو؟” جبریل کچھ حیران ہوا۔
”عائشہ کے لئے کیا؟”
”وہ پولیس کسٹڈی میں ہے۔”
۔”What?” وہ ہکا بکا رہ گیا ”کیوں؟”
”قتل کے کیس میں؟” وہ دوسری طرف سے کہہ رہی تھی۔ جبریل شاکڈ رہ گیا۔
”کس کا قتل؟” وہ اب رونے لگی تھی۔
”اسفند کا۔” جبریل کا دماغ گھوم کر رہ گیا۔
*****
وہ یخنی میں ڈوبے ہوئے روٹی کے ٹکڑے چمچے کے ساتھ اپنے باپ کو کھلا رہا تھا، اُس کا باپ لقمے کو چبانے اور نگلنے میں تقریباً دو منٹ لے رہا تھا۔ وہ ہر بار صرف اتنی ہی یخنی پیالے میں ڈالتا جس میں ایک ٹکڑا ڈوب جاتا پھر چمچہ سے اس ٹکڑے کو باپ کے منہ میں ڈالنے کے بعد وہ بے حد تحمل سے پیالے میں نیا ٹکڑا ڈالتا جو گرم یخنی میں پھولنے لگتا تھا۔ وہ ایک ہی وقت میں یخنی اس پیالے میں ڈالتا تو یخنی اب تک ٹھنڈی ہو چکی ہوتی۔ یخنی کا ایک پیالہ پینے میں اس کا باپ تقریباً ایک گھنٹہ لگاتا تھا۔ ٹھنڈی یخنی میں ڈوبے ہوئے روٹی کے ٹکڑے بھی وہ اسی رغبت سے کھاتا جیسے وہ ان گرم لقموں کو کھا رہا تھا۔ سکندر عثمان کے ذائقے کی حس آہستہ آہستہ ختم ہورہی تھی، گرم اور ٹھنڈی خوراک میں تخصیص کرنا وہ کب کا چھوڑ چکے تھے۔ صرف اُن کی دیکھ بھال کرنے والے فیملی کے افراد تھے جو اس تخصیص کو اُن کے لئے اب بھی برقرار رکھنے کی کوشش کررہے تھے۔ وہ اب بھی خوراک کو اُن کے لئے ممکنہ حد تک ذائقہ دار بناکر دے رہے تھے ، یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ اس ذائقے سے لطف اندوز ہو سکتے تھے نہ اس ذائقے کو یاد رکھ سکتے تھے۔ باپ کو کھانا کھلانے کے ساتھ ساتھ سالار اور امامہ نے بھی وہیں بیٹھے بیٹھے کھانا کھایا تھا۔ وہ جب بھی یہاں آتا تھا، تینوں وقت کا کھانا باپ کے کمرے میں اُسے کھانا کھلاتے ہوئے یہی کھاتا تھا اور اس کی عدم موجودگی میں یہ کام امامہ اور بچے کرتے تھے۔ ان کے گھر کا ڈرائنگ روم ایک عرصہ سے نہ ہونے کے برابر استعمال ہورہا تھا۔ اس کے ماں باپ کا بیڈروم اس کی فیملی کے افراد کی بہت ساری سرگرمیوں کا مرکز تھا۔ یہ اُس شخص کو تنہائی سے بچانے کی ایک کوشش تھی جو کئی سالوں سے اس کمرے میں بستر تک محدود تھا اور الزائمر کی آخری اسٹیج میں داخل ہو چکا تھا۔
ٹرالی میں پڑا نیپکن اُٹھا کر اُس نے سکندر عثمان کے ہونٹوں کے کونے سے نکلنے والی یخنی کے وہ قطرے صاف کیے جو چند لمحے پہلے نمودار ہوئے تھے۔ انہوں نے خالی آنکھوں سے اُسے دیکھا جن سے وہ اُسے ہمیشہ دیکھتے تھے۔ وہ اُنہیں کھانا کھلاتے ہوئے جواب کی توقع کے بغیر اُن سے بات کرنے کی کوشش کیا کرتا تھا۔ اس کے باپ کی خاموشی کے وقفے اب گھنٹوں پر مشتمل ہونے لگے تھے۔ گھنٹوں کے بعد کوئی لفظ یا جملہ اُن کے منہ سے نکلتا تھا جس کا تعلق اُن کی زندگی کے کسی سال کی کسی یاد سے ہوتا تھا اور وہ سب اس جملے کو سال کے ساتھ جوڑنے کی کوشش میں لگ جاتے تھے۔
سکندر عثمان کھانا کھاتے ہوئے ہمیشہ یک ٹک اُسے دیکھتے تھے۔ اب بھی دیکھ رہے تھے۔ سالار جانتا تھا اُس کا باپ جیسے ایک اجنبی کا چہرہ پہچاننے کی کوشش کررہا تھا۔ ان کو کھانا کھلانے کی کوئی احتیاط، کوئی محبت، کوئی لگن اُن کی یادداشت پر کہیں محفوظ نہیں ہورہی تھی۔ وہ ایک اجنبی کے ہاتھ سے کھانا کھا رہے تھے اور اُن کے ختم ہوتے ہوئے دماغی خلیے اُس اجنبی کے چہرے کو کوئی نام دینے کی کوشش میں لگے رہتے تھے۔
سالار جانتا تھا کہ اس کے باپ کو اُس کے ہاتھ سے کھایا ہوا وہ دوپہر کا کھانا بھی یاد نہیں ہوگا ۔ وہ جتنی بار اُس کے کمرے میں آتا ہوگا، وہ اپنے باپ کے لئے ایک نیا شخص ، ایک نیا چہرہ ہوگا اور صرف وہی نہیں، اُس کی فیملی کے باقی سب افراد بھی۔ سکندر عثمان شاید حیران ہوتے ہوں گے کہ اُن کے کمرے میں بار بار نئے لوگ کیوں آتے تھے۔ وہ اپنے گھر میں ”اجنبیوں” کے ساتھ رہ رہے تھے۔
اُس نے یخنی کا آخری چمچ اپنے باپ کے منہ میں ڈالا۔ پھر پیالہ ٹرالی میں رکھ دیا۔ اب وہ اپنے باپ کو چمچ کے ساتھ پانی پلا رہا تھا۔ اُس کا باپ لمبا گھونٹ نہیں لے سکتا تھا۔
امامہ کچھ دیر پہلے کمرے سے اُٹھ کر گئی تھی۔ اُس کا سامان پہلے ہی ایئر پورٹ جا چکا تھا۔ اب باہر ایک گاڑی اُس کے انتظار میں کھڑی تھی جو اسے تھوڑی دیر میں ایئرپورٹ لے جاتی۔ اس کا سٹاف بے صبری سے اس کمرے سے اُس کی برآمدگی کا منتظر تھا۔
سالار نے گلاس واپس رکھتے ہوئے بیڈ پر بیٹھ کر اپنے باپ کی گردن کے گرد پھیلا ہوا نیپکن ہٹایا۔ پھر کچھ دیر تک سکندر عثمان کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیے وہ بیٹھا رہا۔آہستہ آہستہ اس نے انہیں اپنی روانگی کا بتایا تھا اور اُس تشکر و احسان مندی کا بھی جو وہ اپنے باپ کے لئے ہمیشہ محسوس کرتا تھا خاص طور پر آج۔ سکند ر عثمان خالی نظروں سے اُسے دیکھ اور سُن رہے تھے۔ وہ جانتا تھا وہ کچھ بھی سمجھ نہیں پا رہے تھے۔ لیکن یہ ایک رسم تھی جو وہ ہمیشہ ادا کرتا تھا۔ اُس نے اپنی بات ختم کرنے کے بعد باپ کے ہاتھ چومے پھر اُنہیں لٹا کر کمبل اوڑھا دیا، اور کچھ دیر بے مقصد بیڈ کے پاس کھڑا اُنہیں دیکھتا رہا تھا۔ اُس کے بعد پتہ نہیں کب وہ اپنے باپ کے پاس آنے کے قابل ہوتا۔ سالار یہ نہیں جانتا تھا وہ آخری کھانا تھا جو اُس نے اپنے باپ کے ساتھ کھایا تھا۔
تاش کا ترپ کا پتّہ پھینکا جانے والا تھا اور ”مہلت” ختم ہونے والی تھی۔۔۔۔۔

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: