Aab e Hayat Novel by Umera Ahmed Read Online – Episode 42

0

آب حیات از عمیرہ احمد – قسط نمبر 42

–**–**–

لاک اپ میں بیٹھے اُس رات عائشہ عابدین نے اپنی زندگی کو recap کرنے کی کوشش کی تھی۔ مگر اُس کی زندگی میں اتنا بہت کچھ ہو چکا تھا کہ وہ اس کوشش میں بھی ناکام ہو رہی تھی۔ یوں جیسے وہ 28 سال کی زندگی نہیں تھی آٹھ سو سال کی زندگی تھی۔ کوئی بھی واقعہ اُس ترتیب سے یاد نہیں آ رہا تھا جس ترتیب سے وہ اُس کی زندگی میں ہوا تھا اور وہ یاد کرنا چاہتی تھی۔
لاک اپ کے بستر پر چت لیٹے، چھت کو گھورتے ہوئے اُس نے یہ سوچنے کی کوشش کی تھی کہ اُس کی زندگی کا سب سے بدترین واقعہ کیا تھا۔ سب سے تکلیف دہ تجربہ اور دور۔۔۔۔۔۔۔۔
باپ کے بغیر زندگی گزارنا؟
احسن سعد سے شادی؟
اُس کے ساتھ، اُس کے گھر میں گزارا ہوا وقت؟
ایک معذور بیٹے کی پیدائش؟
احسن سعد سے طلاق؟
اسفند کی موت؟
یا پھر اپنے ہی بیٹے کے قتل کے الزام میں دن دہاڑے ہاسپٹل سے پولیس کے ہاتھوں گرفتار ہونا؟
اور ان سارے واقعات کے بیچوں بیچ کئی اور ایسے تکلیف دہ واقعات جو اُس کے ذہن کی دیوار پر اپنی جھلک دکھاتے ہوئے جیسے اُس فہرست میں شامل ہونے کے لئے بے قرار تھے۔
وہ طے نہیں کر سکی۔ ہر تجربہ، ہر حادثہ، اپنی جگہ تکلیف دہ تھا، اپنی طرح سے ہولناک۔ وہ اُن کے بارے میں سوچتے ہوئے جیسے زندگی کے وہ دن جینے لگی تھی اور اگلے واقعہ کے بارے میں سوچنا شروع کرتے ہوئے اُسے یہ اندازہ لگانا مشکل ہو رہا تھا کہ پچھلا واقعہ زیادہ تکلیف دہ تھا یا پھر جو اُسے اب یاد آ رہا تھا۔
کبھی کبھار عائشہ عابدین کو لگتا تھا کہ وہ ڈھیٹ تھی۔ تکلیف اور ذلّت سہہ سہہ کر وہ اب شرمندہ ہونا اور درد سے متاثر ہونا چھوڑ چکی تھی۔ زندگی میں وہ اتنی ذلّت اور تکلیف سہہ چکی تھی کہ شرم اور شرمندگی کے لفظ جیسے اُس کی زندگی سے خارج ہو گئے تھے۔ وہ اتنی ڈھیٹ ہو چکی تھی کہ مرنا بھی بھول گئی تھی۔ اُسے کسی تکلیف سے کچھ نہیں ہوتا تھا۔ دل تھا تو وہ اتنے ٹکڑے ہو چکا تھا کہ اب اور ٹوٹنا اُس کے بس میں نہیں رہا تھا۔ ذہن تھا تو اُس پر جالے ہی جالے تھے۔ عزتِ نفس، ذلّت، عزّت جیسے لفظوں کو چھپا دینے والے جالے۔ یہ سوچنا اُس نے کب کا چھوڑدیا تھا کہ یہ سب اُس کے ساتھ ہی کیوں ہوتا تھا، اُس نے تو کسی کا کچھ نہیں بگاڑا تھا۔ اس سوال کا جواب ویسے بھی اُسے احسن سعد نے رٹوا دیا تھا۔
”لکھو! اس کاغذ پر کہ تم گناہ گار ہو۔ اللہ سے معافی مانگو، پھر مجھ سے معافی مانگو، پھر میرے گھر والوں سے معافی مانگو، بے حیا عورت!”
پتہ نہیں یہ آواز اُس کے کانوں میں گونجنا بند کیوں نہیں ہوتی تھی۔ دن میں، رات میں، سینکڑوں بار ان جملوں کی بازگشت اُسے اُس کے اس سوال کا جواب دیتی رہتی تھی کہ یہ سب اُس کے ساتھ ہی کیوں ہوتا تھا۔
وہ ایک گناہ گار عورت تھی۔ یہ جملہ اُس نے اتنی بار اپنے ہاتھ سے کاغذ پر لکھ کر احسن سعد کو دیا تھا کہ اب اُسے یقین ہو گیا تھا کہ وہ جملہ حقیقت تھا۔ اُس کا گناہ کیا تھا، صرف یہ اُسے یاد نہیں آتا تھا۔ مگر اُسے پھر بھی یقین تھا کہ جو بھی گناہ اُس نے کبھی زندگی میں کیا ہو گا۔ بہت بڑا ہی کیا ہو گا۔ اتنا بڑا کہ اللہ تعالیٰ اُسے یوں بار بار ”سزا” دے رہا تھا… سزا کا لفظ بھی اُس نے احسن سعد اور اُس کے گھر میں ہی سُنا اور سیکھا تھا… جہاں گناہ اور سزا کے لفظ کسی ورد کی طرح دہرائے جاتے تھے… ورنہ عائشہ عابدین نے تو احسن سعد کی زندگی میں شامل ہونے سے پہلے اللہ کو خود پر صرف ”مہربان” دیکھا تھا۔
”بے حیا عورت!” وہ گالی اُس کے لئے تھی۔ عائشہ عابدین کو گالی سُن کر بھی یہ یقین نہیں آیا تھا… زندگی میں پہلی بار ایک گالی اپنے لئے سُن کر وہ گنگ رہ گئی تھی… کسی مجسمے کی طرح… کھڑی کی کھڑی… یوں جیسے اُس نے کوئی سانپ یا اژدہا دیکھ لیا تھا… وہ ناز و نعم میں پلی تھی… گالی تو ایک طرف، اُس نے کبھی اپنے نانا نانی یا ماں سے اپنے لئے کوئی سخت لفظ بھی نہیں سُنا تھا… ایسا لفظ جس میں عائشہ کے لئے توہین یا تضحیک ہوتی اور اب اُس نے اپنے شوہر سے اپنے لئے جو لفظ سُنا تھا اُس میں تو الزام اور تہمت تھی… وہ ”بے حیا” تھی… عائشہ عابدین نے اپنے آپ کو بہلایا تھا، سو تاویلیں دے کر کہ یہ گالی اُس کے لئے کیسے ہوسکتی تھی… یا شاید اُس نے غلط سُنا تھا… یا پھر اُن الفاظ کا مطلب وہ نہیں تھا جو وہ سمجھ رہی تھی… وہ اُس کیفیت پر ایک کتاب لکھ سکتی تھی ۔ ان توجیہات، اُن وضاحتوں پر جو پہلے گالی سُننے کے بعد اگلے کئی دن عائشہ عابدین نے اپنے آپ کو دیں تھیں… اپنی عزّتِ نفس کو دوبارہ بحال کرنے کے لئے… Antibiotics کے ایک کورس کی طرح… لیکن یہ سب صرف پہلی گالی کی دفعہ ہوا تھا، پھر آہستہ آہستہ عائشہ عابدین نے ساری توجیہات اور وضاحتوں کو دفن کردیا تھا… وہ اب گالیاں کھاتی تھی اور بے حد خاموشی سے کھاتی تھی، اور بہت بڑی بڑی… اور اُسے یقین تھا کہ وہ یہ گالیاں deserve کرتی تھی کیونکہ احسن سعد اُسے یہ کہتا تھا… پھر وہ مارا کھانا بھی اسی سہولت سے سیکھ گئی تھی… اپنی عزّتِ نفس کو ایک اور سلیپنگ ڈوز دیتے ہوئے… پانچ افراد کا وہ گھرانہ اُسے یہ یقین دلانے میں کامیاب ہو گیا تھا کہ اُس کے ساتھ جو کچھ بھی ہو رہا تھا، وہ اُسے deserve کر رہی تھی ۔
وہ مومنین کے ایک ایسے گروہ میں پھنس گئی تھی جو زبان کے پتھروں سے اُسے بھی مومن بنانا چاہتے تھے کیونکہ وہ ” گناہ گار ” تھی۔
احسن سعد اُس کی زندگی میں کیسے آیا تھا اور کیوں آ گیا تھا… ایک وقت تھا اُسے لگتا تھا وہ اُس کی خوش قسمتی بن کر اُس کی زندگی میں آیا تھا اور پھر ایک وہ وقت تھا جب اُسے وہ ایک ڈراؤنا خواب لگنے لگا تھا، جس کے ختم ہونے کا انتظار وہ شدّ و مد سے کرتی تھی… اور اب اسے لگتا تھا وہ وہ عذاب تھا جو اللہ تعالیٰ نے اُسے اُس کے کردہ، ناکردہ گناہوں پر اس دنیا میں ہی دے دیا تھا۔

وہ ہاؤس جاب کررہی تھی جب احسن سعد کا پروپوزل اُس کے لئے آیا تھا۔ عائشہ کے لئے یہ کوئی انوکھی بات نہیں تھی۔ اُس کے لئے درجنوں پروپوزلزپہلے بھی آچکے تھے اور اس کے نانا نانی کے ہاتھوں رد بھی ہوچکے تھے۔ اُس کا خیال تھا کہ یہ پروپوزل بھی کسی غور کے بغیر رد کر دیا جائے گا کیونکہ اُس کے نانا، نانی اُس کی تعلیم مکمل ہوئے بغیر اُسے کسی قسم کے رشتے میں باندھنے پر تیار نہیں تھے۔ مگر اس بار ایسا نہیں ہوا تھا… احسن سعد کے والدین کی میٹھی زبان عائشہ عابدین کی فیملی پر اثر کرگئی تھی، اور اس پر بھی۔
”ہمیں صرف ایک نیک اور اچھی بچی چاہیے، اپنے بیٹے کے لئے… باقی سب کچھ ہے ہماری پاس، کسی چیز کی کمی نہیں ہے… اور آپ کی بیٹی کی اتنی تعریفیں سنی ہیں ہم لوگوں نے کہ بس ہم آپ کے ہاںجھولی پھیلا کر آئے بغیر نہیں رہ سکے” احسن کے باپ نے اُس کے نانا سے کہا تھا۔ عائشہ عابدین جو جب پتہ چلا تھا کہ اُس کی ایک نند اُس کے ساتھ میڈیکل کالج میں ہی پڑھتی تھی… اُن دونوں کا آپس میں بہت رسمی سا تعارف تھا… مگر اُسے حیرت ہوئی تھی کہ اُس رسمی تعارف پر بھی اُس کی اتنی تعریفیں وہ لڑکی اپنی فیملی میں کرسکتی تھی جو کالج میں بالکل خاموش اور لئے دیے رہتی تھی… عائشہ عابدین کے لئے کسی کی زبان سے اپنی تعریفیں سُننا کوئی اچھنبے کی بات نہیں تھی، وہ کالج کے سب سے نمایاں سٹوڈنٹس میں سے ایک تھی، اور وہ ہر طرح سے نمایاں تھی، academic قابلیت میں، نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں میں اور پھر اپنی personality کی وجہ سے بھی… وہ اپنے batch کی نہ صرف حسین بلکہ بے حد سٹائلش لڑکیوں میں گردانی جاتی تھی … بے حد practicing مسلمان ہوتے ہوئے بھی اور مکمل طور پر حجاب اوڑھے ہوئے بھی… حجاب عائشہ عابدین پر سجتا تھا… یہ اُس کے charisma کو بڑھانے کی چیز تھی اور یہ رائے اُس کے بارے میں لڑکے اور لڑکیوں کی متفقہ رائے تھی… اور اب اُس لڑکی کے لئے احسن سعد کا پروپوزل آیا تھا، جس کی فیملی کو اُس کے نانا نانی نے پہلی ملاقات میں ہی Ok کر دیا تھا۔ پتہ نہیں کون ”سادہ” تھا… اُس کے نانا، نانی جنہیں احسن کے ماں باپ بہت شریف اور سادہ لگے تھے یا پھر وہ خود کہ انہوں نے اُس خاندان کے بارے میں لمبی چوڑی تحقیق صرف اس لئے نہیں کروائی کیونکہ انہوں نے احسن سعد کے ماں باپ کی دینداری کا پاس کیا تھا۔ لیکن اس کے باوجود انہوں نے شادی سے پہلے احسن سعد اور عائشہ کی ایک ملاقات کروانا ضروری سمجھاتھا… احسن سعد اُس وقت امریکہ میں ریذیڈنسی کررہا تھا اور چھٹیوں میں پاکستان آیا ہوا تھا۔
احسن سعد سے پہلی ملاقات میں عائشہ کو ایک لمبے عرصہ کے بعد جبریل یاد آیا تھا… اُسے وہ جبریل کی طرح کیوں لگا تھا، عائشہ کو اس سوال کا جواب کبھی نہیں ملا۔ وہ شکل و صورت میں صرف مناسب تھا، تعلیمی قابلیت میں بے حد اچھا… اور بات چیت میں بے حد محتاط… اُس کا پسندیدہ موضوع صرف ایک تھا مذہب، جس پر وہ گھنٹوں بات کرسکتا تھا اور اُس کے اور عائشہ عابدین کے درمیان connecting factor یہی تھا… پہلی ہی ملاقات میں وہ دونوں مذہب کی بات کرنے لگے تھے اور عائشہ عابدین اُس کے awe میں آئی تھی۔ وہ حافظِ قرآن تھا اور وہ اُسے بتارہا تھا کہ اُس کی زندگی میں کبھی کسی لڑکی کے ساتھ دوستی نہیں رہی، وہ عام لڑکوں کی طرح کسی اُلٹی سیدھی حرکتوں میں نہیں پڑا… وہ مذہب کے بارے میں جامع معلومات رکھتا تھا… اور وہ معلومات عائشہ سے بے حد زیادہ تھیں لیکن وہ ایک سادہ زندگی گزارنا چاہتا تھا اور عائشہ بھی یہی چاہتی تھی… ایک عملی مسلمان گھرانے کے خواب دیکھتے ہوئے… وہ احسن سعد سے متاثر ہوئی تھی اور اُس کا خیا ل تھا وہ اپنی عمر کے دوسرے لڑکوں سے بے حد mature اور مختلف تھا… وہ اگر کبھی شادی کرنے کا سوچتی تھی تو ایسے ہی آدمی سے شادی کرنے کا سوچتی تھی… احسن سعد پہلی ملاقات میں اُسے متاثر کرنے میں کامیاب رہا…اُس کی فیملی اُس کے گھر والوں سے پہلے ہی متاثر تھی… یہ صرف نورین الہیٰ تھی جس نے احسن کی فیملی پر کچھ اعتراضات کئے تھے۔ اُسے وہ بے حد ”کٹّر” لگے تھے اور اُس کی اس رائے کو اُس کے اپنے ماں باپ نے یہ کہتے ہوئے رد کردیا تھا کہ وہ خود ضرورت سے زیادہ لبرل تھی اس لئے وہ اُنہیں اس نظر سے دیکھ رہی تھی۔ نورین شاید کچھ اور بحث و مباحثہ کرتی اگر اُسے یہ نہ محسوس ہوجاتا کہ عائشہ عابدین بھی وہی چاہتی تھی جو اُس کے ماں باپ چاہتے تھے۔ نورین الہیٰ نے اپنے ذہن میں ابھرنے والے تمام خدشات کو یہ کہہ کر سُلا دیا تھا کہ عائشہ کو احسن کے والدین کے پاس نہیں رہنا تھا… امریکہ احسن کے ساتھ رہنا تھا اور امریکہ کا ماحول بڑے بڑوں کو moderate کر دیتا تھا۔
شادی بہت جلدی ہوئی تھی اور بے حد سادگی سے… یہ احسن سعد کے والدین کا مطالبہ تھا اور عائشہ اور اُس کے نانا، نانی اُس پر بے حد خوش تھے… عائشہ ایسی ہی شادی چاہتی تھی اور یہ اُسے اپنی خوش قسمتی لگی تھی کہ اُسے ایسی سوچ رکھنے والا سسرال مل گیا تھا۔ احسن سعد کی فیملی کی طرف سے جہیز کے حوالے سے کوئی مطالبہ نہیں آیا تھا بلکہ انہوں نے سختی سے عائشہ کے نانا نانی کو اُن روایتی تکلفات سے منع کیا تھا۔ مگر یہ عائشہ کی فیملی کے لئے اس لئے ممکن نہیں تھا کیونکہ عائشہ کے لئے اُس کے نانا نانی بہت کچھ خریدتے رہتے تھے اور جس کلاس سے وہ تعلق رکھتی تھی ، وہاں جہیز سے زیادہ مالیت کے تحائف دلہن کے خاندان کی طرف سے موصول ہوجاتے تھے اور عائشہ کی شادی کی تقریب میں بھی ایسا ہی ہوا تھا۔ بہت سادگی سے کی جانے والی تقریب بھی شہر کے ایک بہترین ہوٹل میں منعقد ہوئی تھی، احسن سعد اور اُس کے خاندان کو عائشہ اور اُس کی فیملی کی طرف سے دیے جانے والے تحائف کی مالیت بے شک لاکھوں میں تھی مگر اس کے برعکس شادی پر دیے جانے والے عائشہ کے ملبوسات اور زیورات احسن سعد کے خاندانی رکھ رکھاؤ اور مالی حیثیت سے مطابقت نہیں رکھتے تھے… وہ صرف مناسب تھے… عائشہ کی فیملی کا دل برا ہوا تھا لیکن عائشہ نے اُنہیں سمجھایا تھا اُس کا خیال تھا، وہ ”سادگی” سے شادی کرنا چاہتے تھے اور اگر انہوں نے زیورات اور شادی کے ملبوسات پر بھی بہت زیادہ پیسہ خرچ نہیں کیا تو بھی یہ ناخوش ہونے والی بات نہیں تھی، کم از کم اُس کا دل صرف ان چھوٹی موٹی باتوں کی وجہ سے کھٹّا نہیں ہوا تھا۔
اُس کا دل شادی کی رات اُس وقت بھی کھٹّا نہیں ہوا تھا، جب کمرے میں آنے کے بعد اُس کے قریب بیٹھ کر پہلا جملہ احسن سعد نے اپنی نئی نویلی دلہن اور اُس کے حسن پر نہیں کہا تھا بلکہ اُس کی ماں کے حوالے سے کہا تھا۔
” تمہاری ماں کو شرم نہیں آتی… اس عمر میں فاحشاؤں کی طرح sleeveless لباس پہن کر مردوں کے ساتھ ٹھٹھے لگاتی پھر رہی ہے… اور اُسی طرح تمہاری بہنیں اور تمہارے خاندان کی ساری عورتیں پتہ نہیں آج کیا پہن کر شادی میں شرکت کرنے پہنچی ہوئی تھیں۔” عائشہ کا اندر کا سانس اندر اور باہر کا باہر رہ گیا تھا، جو اُس نے اپنے کانوں سے سُنا تھا، اُسے اُس پر یقین نہیں آیا تھا ، احسن کا یہ لب ولہجہ اتنا نیا اور اجنبی تھا کہ اُسے یقین آ بھی نہیں سکتا تھا، اُن کے درمیان نسبت طے ہونے کے بعد وقتاً فوقتاً بات چیت ہوتی رہی تھی اور وہ ہمیشہ بڑے خوشگوار انداز اور دھیمے لب و لہجہ میں بڑی شائستگی اور تمیز کے ساتھ بات کرتا تھا، اتنا اکھڑ لہجہ اُس نے پہلی بار سُنا تھا اور جو لفظ وہ اُس کی ماں اور خاندان کی عورتوں کے لئے استعمال کر رہا تھا، وہ عائشہ عابدین کے لئے ناقابلِ یقین تھے۔
”تمہاری ماں کو کیا آخرت کا خوف نہیں ہے؟ مسلمان گھرانے کی عورت ایسی ہوتی ہے؟ اور پھر بیوہ ہے وہ۔” عائشہ آنکھیں پھاڑے اُس کا چہرہ دیکھ رہی تھی، وہ اُسے یہ سب کیوں سُنا رہا تھا؟ اُس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا۔ وہ ایک دن کی دلہن تھی اور یہ وہ لفظ نہیں تھے جو وہ سننے کے لئے اپنی زندگی کے ایک اہم دن کے انتظار میں تھی۔ وہ آدھا گھنٹہ ایسی عورتوں کے بارے میں لعنت ملامت کرتا رہا تھا اور اُسے یہ بھی بتاتا رہا تھا کہ اُس کی فیملی کو یہ اندازہ نہیں تھا کہ اُس کی ماں اور بہنیں اتنی آزاد خیال تھیں اور امریکہ میں اُن کا یہ لائف سٹائل تھا… انہوں نے تو اُس کے نانا نانی اور خود اُسے دیکھ کر یہ رشتہ طے کیا تھا۔ وہ احسن سعد سے یہ کہنے کی جرات نہیں کرسکی کہ وہ اس رشتہ کے طے ہونے پہلے امریکہ میں دو تین بار اُس کی ماں اور بہنوں سے مل چکا تھا… اور نسبت طے ہوتے ہوئے بھی اُس کی فیملی اُس کی ماں اور بہنوں سے مل چکی تھی… وہ آزاد خیال تھے تو یہ اُن سے چھپا ہوا نہیں تھا جس کا انکشاف اُس رات ہونے پر وہ یوں صدمہ زدہ ہوگئے تھے۔ احسن سعد کے پا س مذہب کی ایسی تلوار تھی جس کے سامنے عائشہ عابدین بولنے کی ہمت نہیں کرسکتی تھی۔ اُس نے دل ہی دل میں یہ مان لیا تھا کہ غلطی اُس کی ماں اور بہنوں ہی کی تھی… وہ اسلامی لحاظ سے مناسب لباس میں نہیں تھیں اور احسن اور اُس کی فیملی اگر خفا تھی تو شاید یہ جائز ہی تھا۔
اُس رات احسن سعد نے اس ابتدائیے کے بعد ایک لمبی تقریر میں اُسے بیوی اور ایک عورت کی حیثیت سے اُس کا درجہ اور مقام سنا اور سمجھا دیا تھا… جو سیکنڈری تھا… وہ سر ہلاتی رہی تھی… وہ ساری آیات اور احادیث کے حوالے آج کی رات کے لئے ہی جیسے اکٹھا کرتا رہا تھا… وہ بے حد خاموشی سے سب کچھ سُنتی گئی تھی… وہ وقتی غصہ نہیں تھا، وہ ارادتاً تھا… وہ اُسے نفسیاتی طور پر ہلادینا چاہتا تھا اور وہ اُس میں کامیاب رہا تھا۔عائشہ جیسی پر اعتماد لڑکی کی شخصیت پر یہ پہلی ضرب تھی جو اُس نے لگائی تھی… اُس نے اُسے بتایا تھا کہ اُس گھر اور اُس کی زندگی میں وہ اُس کے ماں باپ اور بہنوں کے بعد آتی ہے… اور ہاں اس فہرست میں اُس نے اللہ کو بھی پہلے نمبر پر رکھا تھا… عائشہ عابدین کو اُس نے جیسے اُس دائرے سے باہر کھڑا کردیا تھا جس کے اندر اُس کی اپنی زندگی گھومتی تھی۔ 21 سال کی ایک نوعمر لڑکی جس طرح ہراساں ہوسکتی وہ ویسے ہی ہراساں اور حواس باختہ ہوئی تھی۔احسن سعد نے اُس سے کہا تھا اُس کے اور عائشہ کے درمیان جو بات چیت ہوگی عائشہ اُسے کسی سے share نہیں کرے گا… عائشہ نے اُس کی بھی حامی بھرلی تھی، اُس کا خیال تھا یہ ایک عام وعدہ تھا جو ہر مرد بیوی سے لیتا تھا… مگر وہ ایک عام وعدہ نہیں تھا، احسن سعد نے اُس کے بعد اُس سے قرآن پاک پر رازداری کا حلف لیا تھا یہ کہتے ہوئے کہ وہ اُس کی بیوی تھی اور شوہر کے طور پر وہ یہ استحقاق رکھتا تھا کہ وہ اُسے جو کہے وہ اُس کی اطاعت کرے… 21 سال کی عمر تک وہ عائشہ عابدین کی زندگی کی سب سے بُری رات تھی لیکن اُسے یہ اندازہ نہیں تھا کہ وہ اس کے بعد بُری راتوں کی گنتی بھی بھولنے والی تھی۔
اُس رات احسن سعد کا غصّہ اور رویّہ صرف اُس کا غصّہ اور رویّہ نہیں تھا۔ اگلی صبح عائشہ عابدین کو اُس کی فیملی بھی اُسی انداز میں ملی تھی… بے حد سرد مہری، بے حد اکھڑا ہوا لہجہ، اُس کا احساسِ جرم اور بڑھا تھا اور اُس نے دعا کی تھی کہ اُس رات ولیمہ کی تقریب میں اُس کی ماں اور بہنیں ایسے کوئی لباس نہ پہنیں جس پر اُسے ایک اور طوفان کا سامنا کرنا پڑے۔
لیکن شادی کے چند دنوں کے اندر اُسے اندازہ ہو گیا تھا کہ اُس کی فیملی کی خفگی کی وجہ اُس کی اپنی فیملی کا آزاد خیال ہونا نہیں تھا… اُن کی خفگی کی وجہ اُن کی توقعات کا پورا نہ ہونا تھا جو وہ عائشہ کی فیملی سے لگائے بیٹھے تھے، شادی سادگی سے کرنے اور جہیز یا کچھ بھی نہ لانے کا مطلب ”کچھ بھی” نہ لانا نہیں تھا۔ اُن کو توقع تھی کہ اُن کے اکلوتے اور اتنے قابل بیٹے کو عائشہ کی فیملی کوئی بڑی گاڑی ضرور دیتی… عائشہ کے نام کوئی گھر، کوئی پلاٹ ، کوئی بینک بیلنس ضرور کیا جاتا… جیسے اُن کے خاندان کی دوسری بہوؤں کے نام ہوتا تھا… شادی سادگی سے ہونے کا مطلب اُن کے نزدیک صرف شادی کی تقریبات کا سادہ ہونا تھا۔ شادی کے تیسرے دن یہ گلے شکوے عائشہ سے کر لیے گئے تھے اور اس کوشش کے ساتھ کہ وہ انہیں اپنی فیملی تک پہنچائے جو عائشہ نے پہنچا دئیے تھے اب شاکڈ ہونے کی باری اس کی فیملی کی تھی۔ شادی کے تین دن بعد پہلی بار نورین الہیٰ نے اپنی بیٹی کو یہ آپشن دیا تھا کہ وہ ابھی اُس رشتہ کے بارے میں اچھی طرح سوچ لے… جو لوگ تیسرے دن ایسے مطالبے کرسکتے ہیں، وہ آگے چل کر اُسے اور بھی پریشان کرسکتے تھے، عائشہ ہمت نہیں کرسکی تھی… اپنی دوستوں اور کزنز کے ٹیکسٹ میسجز اور کالز اور چھیڑ چھاڑ کے دوران وہ یہ ہمّت نہیں کر سکی تھی کہ وہ ماں سے کہہ دیتی کہ اُسے طلاق چاہیے تھے۔ اُس نے وہی راستہ چُنا تھا جو اس معاشرے میں سب چنتے تھے… سمجھوتے کا اور اچھے وقت کے انتظار کا… اُس کا خیال تھا یہ سب کچھ وقتی تھا… یہ چند مطالبے پورے ہونے کے بعد سب کچھ بدل جانے والا تھا اور پھر ایک بار وہ احسن کے ساتھ امریکہ چلی جاتی تو وہ اور احسن اور طریقے سے زندگی گزارتے۔
احسن کی فیملی کی ساری شکایات ختم کر دی گئی تھیں۔ اُسے شادی کے ایک ہفتہ کے بعد ایک بڑی گاڑی دی گئی تھی، عائشہ کے نام نورین نے اپنا ایک پلاٹ ٹرانسفر کردیا تھا اور عائشہ کے نانا نے اُس کو کچھ رقم تحفے میں دی تھی جو اُس نے احسن کے مطالبے پر اُس کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کردی تھی۔ وہ اُس کے بعد دو ہفتوں کے لئے ہنی مون منانے بیرونِ ملک چلے گئے تھے۔
احسن سعد نے پہلی بار اُس پر ہاتھ بھی ہنی مون کے دوران کسی با ت پر برہم ہو کر اُٹھایا تھا۔ اُس سے پہلے اُس نے اُسے گالیاں دی تھیں… عائشہ عابدین سے بہت بڑی غلطی ہو گئی تھی، اپنی زندگی کے بارے میں… عائشہ نے جان لیا تھا… اُس کا شوہر بہت اچھا مسلمان تھا لیکن اچھا انسان نہیں تھا اور عائشہ نے اُس کا انتخاب اُس کے اچھے مسلمان ہونے کی وجہ سے کیا تھا، اس دھوکے میں جس میں وہ اُن بہت سارے اچھے مسلمانوں اور انسانوں کی وجہ سے آئی تھی جو منافق اور دو رُخے نہیں تھے۔
وہ ایک مہینہ کے بعد واپس امریکہ چلا گیا تھا لیکن ایک مہینہ میں عائشہ بدل گئی تھی۔ وہ ایک عجیب و غریب خاندان میں آگئی تھی۔ جو بظاہر تعلیم یافتہ اور روشن خیال تھا لیکن اندر سے بے حد گھٹن ذدہ تھا اور اس گھٹن اور منافقت کا منبع احسن سعد کا باپ تھا اس کا اندازہ اُسے بہت جلد ہو گیا تھا… احسن صرف اپنے باپ کی copy بن گیا تھا اور اُسے اپنی ماں کی copy بنانا چاہتا تھا جسے وہ ایک آئیڈیل مسلمان عورت سمجھتا تھا… وہ اور اُس کی بہنیں، وہ عائشہ عابدین کو اُن کے جیسا بنانا چاہتا تھا… اور عائشہ عابدین کو بہت جلد اندازہ ہو گیا تھا وہ ”آئیڈیل مسلم عورتیں” نفسیاتی مسائل کا شکار تھیں، اُس گھر کے ماحول اور سعد کے رویے اور مزاج کی وجہ سے… اُس کی نندوں کے لئے رشتوں کی تلاش جاری تھی، لیکن عائشہ کو یقین تھا جو معیار احسن اور سعد اُن دونوں کے لئے لے کر بیٹھے تھے ، ان کے لئے رشتوں کی تلاش اور بھی مشکل ہوجاتی تھی۔
عائشہ شادی کے دو مہینوں کے اندر اندر اُس ماحول سے وحشت ذدہ ہوگئی تھی۔ اور اس سے پہلے کہ وہ احسن سعد کا لیا ہوا حلف توڑ کر اپنے نانا، نانی سے سب کچھ share کرتی اور انہیں کہتی کہ وہ اُسے اس جہنم سے نکال لیں… اُسے پتہ چلا تھا کہ وہ پریگننٹ تھی… وہ خبر جو اُس وقت اُسے خوش قسمتی لگتی، اُسے اپنی بدقسمتی لگی تھی۔عائشہ عابدین ایک بار پھر سمجھوتہ کرنے پر تیار ہوگئی، ایک بار پھر اس اُمید کے ساتھ کہ بچہ اس گھر میں اُس کے سٹیٹس کو بدل دینے والا تھا اور کچھ نہیں تو کم از کم اُس کے اور احسن سعد کے تعلق کو تو… یہ بھی اُس کی خوش فہمی تھی، وہ پریگننسی اُس کے لئے ایک اور پھندہ ثابت ہوا تھا۔ احسن سعد اور اُس کی فیملی نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ وہ بچے کی پیدائش تک پاکستان میں ہی رہے گی۔ عائشہ نے نو مہینے جتنے صبر اور تحمل کے ساتھ گزارے تھے، صرف وہ ہی جانتی تھی۔ وہ ہاؤس جاب کے بعد جاب کرنا چاہتی تھی لیکن اُس کے سسرال والوں اور احسن کو یہ پسند نہیں تھا اس لئے عائشہ نے اُس پر اصرار نہیں کیا۔ اُس کے سسرال والوں کو عائشہ کا بار بار اپنے نانا نانی کے گھر جانا اور اُن کا اپنے گھر آنا بھی پسند نہیں تھا تو عائشہ نے یہ بات بھی بنا چوں چراں کے مان لی تھی۔ وہ اب کسی سوشل میڈیا فورم پر نہیں تھی کیوں کہ احسن کو خود ہر فورم پر ہونے کے باوجود یہ پسند نہیں تھا کہ وہ وہاں ہو اور اُس کے contacts میں کوئی مرد ہو، چاہے وہ اُس کا کوئی رشتہ دار یا کلاس فیلو ہی کیوں نہ ہو اور عائشہ نے اپنی بہنوں کے اعتراضات کے باوجود اپنی ID ختم کر دی تھی، اُس کے پاس ویسے بھی کوئی ایسی بات نہیں تھی جس کے اظہار کے لئے اُسے فیس بک کے کسی اکاؤنٹ کی ضرورت پڑتی۔
احسن سعد کی ماں کو یہ پسند نہیں تھا کہ وہ اپنے کمرے میں اکیلے بیٹھے، صبح دیر تک سوتی رہے، عائشہ صبح سویرے فجر کی نماز پڑھنے کے بعد ہر حالت میں لاؤنج میں آجاتی تھی۔ گھر میں ملازم تھے لیکن ساس سسر کی خدمات اُس کی ذمہ داری تھی اور اُسے اس پر بھی اعتراض نہیں ہوتا تھا۔ کھانا بنانے کی وہ ذمہ داری جو اس سے پہلے تین خواتین میں تقسیم تھی، اب عائشہ کی ذمہ داری تھی اور یہ بھی وہ چیز نہیں تھی جس سے اُسے تکلیف پہنچتی… وہ بہت تیز کام کرنے کی عادی تھی اور نانا نانی کے گھر میں بھی وہ بڑے شوق سے اُن کے لئے کبھی کبھار کھانا بنایا کرتی تھی… وہ ذمہ داریوں سے نہیں گھبراتی تھی، تذلیل سے گھبراتی تھی۔ اُس گھر کے افراد ستائش اور حوصلہ افزائی جیسے لفظوں سے نا آشنا تھے… وہ تنقید کرسکتے تھے، تعریف نہیں… یہ صرف عائشہ نہیں تھی جس کی خدمت گزاری کو وہ سراہنے سے قاصر تھے، وہاں کوئی بھی کسی کو سراہتا نہیں تھا۔
وہ اس گھر میں یہ سوال کرتی تو اپنے آپ کو ہی احمق لگتی کہ اُس نے کھانا کیسا بنایا تھا…شروع شروع میں بڑے شوق سے کیے جانے والے ان سوالات کا جواب اُسے بے حد تضحیک آمیز جملوں اور تمسخر سے ملا تھا، کبھی کبھار اُسے لگتا وہ بھی نفسیاتی ہونا شروع ہو گئی تھی۔
احسن سعد اُس کے لئے ایک ایسا ضابطہ طے کر گیا تھا، وہ غلطی کرے گی تو کاغذ پر لکھ کر اپنی غلطی کا اعتراف کرے گی… اللہ سے حکم عدولی کی معافی مانگے گی، پھر اُس شخص سے جس کی اُس نے نافرمانی کی ہو۔
ایک ہفتے میں کم از کم ایک بار عائشہ ایسا ایک معافی نامہ گھر کے کسی نہ کسی فرد کے نام لکھ رہی ہوتی تھی اور پھر آہستہ آہستہ اُسے اندازہ ہوا، وہ معافی نامہ بھی سعد کی ایجاد تھی…احسن سعد اپنا سارا بچپن اپنی غلطیوں کے لئے اپنے باپ کو ایسے معافی نامے لکھ لکھ کر دیتا رہتا تھا اور اب اپنی بیوی کے گلے میں اُس نے وہی رسی ڈال دی تھی۔
عائشہ پہلے حجاب کرتی تھی، اب وہ نقاب اور دستانے پہننا بھی شروع ہو گئی تھی۔ اُس نے بال کٹوانا چھوڑ دیا تھا، بھنوؤں کی تراش خراش، چہرے کے بالوں کی صفائی، سب کچھ چھوڑ دیا تھا کیونکہ اُس گھر کی عورتیں ان میں سے کوئی کام نہیں کرتی تھیں… وہ آئیڈیل عورتیں تھیں اور عائشہ عابدین کو اپنے آپ کو اُن کے مطابق ڈھالنا تھا۔ اپنے باہر کو دوسروں کے بنائے ہوئے سانچوں میں ڈھالتے ڈھالتے عائشہ عابدین کے اندر کے سارے سانچے ٹوٹنا شروع ہو گئے تھے۔
اُس کے نانا، نانی اور فیملی کو یہ پتہ تھا کہ اُس کے سسرال والے اچھے لوگ نہیں تھے، لیکن عائشہ اُس گھر میں کیا برداشت کررہی تھی، اُنہیں اس کا اندازہ نہیں تھا… وہ اُس حلف کو نبھار ہی تھی جو وہ شادی کی پہلی رات لے بیٹھی تھی، کوئی بھی اُس سے ملنے پر اُس سے فون پر بات کرنے پر اُسے کریدتا رہتا عائشہ کے پاس بتانے کو کچھ بھی نہیں ہوتا تھا سوائے اس کے کہ وہ اپنے گھر میں بہت خوش تھی اور اُس کی ناخوشی دوسرے کی غلط فہمی تھی اور ان نو مہینوں کے دوران اُس کا اور احسن سعد کا تعلق نہ ہونے کے برابر تھا… وہ شادی پر واپس جانے کے بعد بچے کی پیدائش تک دوبارہ واپس نہیں آیا تھا، ان کے درمیان فون پر اورskype پر بات بھی بہت مختصر ہوتی اور اُس میں تب وقفہ پڑ جاتا جب احسن کے گھر میں کوئی اُس سے خفا ہوتا، وہ امریکہ میں ہونے کے باوجود گھر میں ہونے والے ہر معاملے سے آگاہ رکھا جا رہا تھا، خاص طور پر عائشہ کے حوالے سے۔
عائشہ کو کبھی کبھار لگتا تھا وہ شوہر اور بیوی کا رشتہ نہیں تھا، ایک بادشاہ اور کنیز کا رشتہ تھا۔احسن سعد کو اُس میں ویسی ہی اطاعت چاہیے تھی اور وہ اپنے دل پر جبر کرتے ہوئے وہ بیوی بننے کی کوشش کر رہی تھی جو بیوی احسن سعد کو چاہیے تھی۔ اسفند کی پیدائش تک کے عرصے میں عائشہ عابدین کچھ کی کچھ ہوچکی تھی۔ جس گھٹن میں وہ جی رہی تھی، اُس گھٹن نے اس کے بچے کو بھی متاثر کیا تھا… اُس کا بیٹا اسفند نارمل نہیں تھا۔ یہ عائشہ عابدین کا ایک اور بڑا گناہ تھا۔
******
اوول آفس سے ملحقہ ایک چھوٹے سے کمرے میں پروٹوکول آفیسر کی رہنمائی میں داخل ہوتے ہوئے سالار سکندر کے انداز میں اُس جگہ سے واقفیت کا عنصر بے حد نمایاں تھا۔ وہ بڑے مانوس انداز میں چلتے ہوئے وہاں آیا تھا اور اُس کے بعد ہونے والے تمام “rituals” سے بھی وہ واقف تھا۔ وہ یہاں کئی بار آچکا تھا… کئی وفود کا حصّہ بن کر… لیکن یہ پہلا موقع تھا جب وہ وہاں تنہا بُلایا گیا تھا۔
اُسے بٹھانے کے بعد وہ آفیسر اندرونی دروازے سے غائب ہو گیا تھا… وہ پندرہ منٹ کی ایک ملاقات تھی جس کے بلٹ پوائنٹس وہ اس وقت ذہن میں دہرا رہا تھا، وہ امریکہ کے بہت سارے صدور سے مل چکا، لیکن جس صدر سے وہ اُس وقت ملنے آیا تھا… ”خاص” تھا… کئی حوالوں سے۔
وال کلاک پر ابھی 9:55 ہوئے تھے … صدر کے اندر آنے میں پانچ منٹ باقی تھے… اُس سے پہلے 9:56 پر ایک ویٹر اُس کو پانی serve کر کے گیا تھا… اُس نے گلاس اُٹھا کر رکھ دیا تھا۔ 9:57 پر ایک اور اٹینڈنٹ اُسے کافی سرو کرنے آیا تھا۔اُس نے منع کردیا۔9:59 پر اوول آفس کا دروازہ کھلا اور صدر کی آمد کا اعلان ہوا… سالار اُٹھ کر کھڑا ہوگیا تھا ۔
اوول آفس کے دروازے سے اُس کمرے میں آنے والا صدر، امریکہ کی تاریخ کا کمزور ترین صدر تھا…وہ 2030 کا امریکہ تھا… بے شمار اندرونی اور بیرونی مسائل سے دوچار ایک کمزور ملک… جس کی کچھ ریاستوں میں اس وقت خانہ جنگی جاری تھی… کچھ دوسری میں نسلی فسادات… اور ان سب میں وہ امریکہ کا وہ پہلا صدر تھا جس کی کیبنٹ اور تھنک ٹینکس میں مسلمانوں اور یہودیوں کی تعداد اب برابر ہوچکی تھی، اُس کی policies کے ساتھ ساتھ گورنمنٹ بھی اندرونی خلفشار کا شکار تھی… لیکن یہ وہ مسائل نہیں تھے جن کی وجہ سے امریکہ کا صدر اُس سے ملاقات کررہا تھا۔
امریکہ اپنی تاریخ کے سب سے بڑے مالیاتی اور بینکنگ بحران کے دوران اپنی بین الاقوامی پوزیشن اور ساکھ کو بچانے کے لئے سر توڑ کوشش کررہا تھا اور SIF کے سربراہ سے وہ ملاقات اُن ہی کوششوں کا ایک حصّہ تھی…اُن آئینی ترامیم کے بعد جو امریکہ کو اپنے ملک کی economy کو مکمل طور پر ڈوبنے سے بچانے کے لئے کرنی پڑی تھیں۔
اپنی تاریخ کے اس سب سے بڑے مالیاتی بحران میں جب امریکہ کی اسٹاک ایکسچینج کریش کر گئی تھی… اُس کے بڑے مالیاتی ادارے دیوالیہ ہو رہے تھے… ڈالر کی مسلسل گرتی ہوئی ویلیو کو کسی ایک جگہ روکنا مشکل ہو گیا تھا اور امریکہ کو تین مہینے کے دوران تین بار اپنی کرنسی کو استحکام دینے کے لئے اُس کی ویلیو خود کم کرنی پڑی تھی… صرف ایک ادارہ تھا جو اس مالیاتی بحران کو جھیل گیا تھا… لڑکھڑانے کے باوجود وہ امریکہ کے بڑے مالیاتی اداروں کی طرح زمین بوس نہیں ہوا تھا، نہ ہی اس نے ڈاؤن سائزنگ کی تھی، نہ بیل آؤٹ پیکجز مانگے تھے…اور وہ SIF تھا… پندرہ سال میں وہ ایک بین الاقوامی مالیاتی ادارے کے طور پر اپنی شاندار ساکھ اور نام بنا چکا تھا اور امریکہ اور بہت سے دوسرے چھوٹے ملکوں میں وہ بہت سے چھوٹے بڑے اداروں کو mergers کے ذریعے اپنی چھتری تلے لاچکا تھا اور وہ چھتری مغربی مالیاتی اداروں کی شدید مخاصمت اور مغربی حکومتوں کے سخت ترین امتیازی قوانین کے باوجود پھیلتی چلی گئی تھی… پندرہ سالوں میں SIF نے اپنی survival اور ترقی کے لئے بہت ساری جنگیں لڑی تھیں اور ان میں سے ہر جنگ چومکھی تھی لیکن SIF اور اُس سے منسلک افراد ڈٹے رہے تھے اور پندرہ سال کی اس مختصر مدت میں مالیاتی دنیا کا ایک بڑا مگرمچھ اب SIF بھی تھا جو اپنے بقا کے لئے لڑی جانے والی ان تمام جنگوں کے بعد اب بے حد مضبوط ہوچکا تھا…امریکہ، یورپ اور ایشیا اُس کی بڑی مارکیٹس تھیں لیکن یہ افریقہ تھا جس پر SIF مکمل طور پر قابض تھا… وہ افریقہ جس میں کوئی گورا 2030 میں SIF کے بغیر کوئی مالیاتی ٹرانزیکشن کرنے کا تصور بھی نہیں کرسکتا تھا… افریقہ SIF کے ہاتھ میں نہیں تھا، سالار سکندر کے ہاتھ میں تھا جسے افریقہ اور اُس کے leaders نام اور چہرے سے پہچانتے تھے… پچھلے پندرہ سالوں میں صرف سالار کا ادارہ وہ واحدادارہ تھا جو افریقہ کے کئی ممالک میں بدترین خانہ جنگی کے دوران بھی کام کرتا رہا تھا اور اُس سے منسلک وہاں کام کرنے والے سب افریقی تھے اور SIF کے mission statement پر یقین رکھنے والے… جو یہ جانتے تھے جو کچھ SIF ان کے لئے کررہا تھا، اور کرسکتا تھا وہاں دنیا کا کوئی اور مالیاتی ادارہ نہیں کرسکتا تھا۔ SIF افریقہ میں ابتدائی دور میں کئی بار نقصان اُٹھانے کے باوجود وہاں سے نکلا نہیں تھا، وہ وہاں جما اور ڈٹا رہا تھا اور اُس کی وہاں بقا کی بنیادی وجہ سود سے پاک وہ مالیاتی نظام تھا جو وہاں کی لوکل انڈسٹری اور انڈسٹریلسٹس کو نہ صرف سود سے پاک قرضے دے رہا تھا بلکہ اُنہیں اپنے وسائل سے اُس انڈسٹری کو کھڑا کرنے میں انسانی وسائل بھی فراہم کر رہا تھا۔
پچھلے پندرہ سالوں میں SIF کی افریقہ میں ترقی کی شرح ایک سٹیج پر اتنی بڑحھ گئی تھی کہ بہت سے دوسرے مالیاتی اداروں کو افریقہ میں اپنا وجود قائم رکھنے کے لئے SIF کا سہارا لینا پڑا تھا۔
سالار سکندر سیاہ فاموں کی دُنیا کا بے تاج بادشاہ تھا اور اُس کی یہ پہچان بین الاقوامی تھی۔ افریقہ کے مالیاتی نظام کی کنجی SIF کے پاس تھی اور سالار سکندر کے اُس دن وائٹ ہاؤس میں بیٹھے ہونے کی ایک وجہ یہ بھی تھی۔ امریکہ ورلڈ بینک کو دیے جانے والے فنڈز میں اپنا حصہ ادا کرنے کے قابل نہیں رہا تھا اور ورلڈ بینک کو فنڈز کی فراہمی میں ناکام رہنے کے بعد اُس سے سرکاری طور پر علیحدگی اختیار کررہا تھا… ورلڈ بینک اُس سے پہلے ہی ایک مالیاتی ادارے کے طور پر بُری طرح لڑکھڑا رہا تھا… یہ صرف امریکہ نہیں تھا جو مالیاتی بحران کا شکار تھا، دُنیا کے بہت سے دوسرے ممالک بھی اسی کساد بازاری کا شکار تھے اور اس افراتفری میں ہر ایک کو صرف اپنے ملک کی اکانومی کی پروا تھی، اقوامِ متحدہ سے منسلک ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف جیسے اداروں کے ذریعے ترقی پذیر ممالک کی اقتصادیات پر قابض رہنا اب نہ صرف ناممکن ہوگیا تھا بلکہ دُنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں آئے ہوئے مالیاتی بحران کے بعد اب یہ بے کار بھی ہوگیا تھا…
ورلڈ بینک اب وہ سفید ہاتھی تھا جس سے وہ ساری استعماری قوتیں جان چھڑانا چاہتی تھیں اور کئی جان چھڑا چکی تھیں۔ اقوامِ متحدہ کا وہ چارٹر جو اپنے ممبران کو ورلڈ بینک کے ادرے کو فنڈز فراہم کرنے کا پابند کرتا تھا ،اب ممبران کے عدم تعاون اور عدم دلچسپی کے باعث کاغذ کے ایک پرزے سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتا تھا۔ اقوامِ متحدہ اب وہ ادارہ نہیں رہا تھا جو بین الاقوامی برادری کو سینکڑوں سالوں سے چلنے والے ایک ہی مالیاتی نظام میں پروئے رہنے پر مجبور کرسکتا… دُنیا بدل چکی تھی اور گھڑی کی سوئیوں کی رفتار کے ساتھ مزید بدلتی جا رہی تھی اور اس رفتار کو روکنے کی ایک آخری کوشش کے لئے امریکہ کے صدر نے SIF کے سربراہ کو وہاں بلایا تھا۔
ایوان ہاکنز نے اندر داخل ہوتے ہوئے اپنے اُس پرانے حریف کو ایک خیر مقدمی مسکراہٹ دینے کی کوشش کی جو اُس کے استقبال کے لئے مودبانہ اور بے حد باوقار انداز میں کھڑا تھا… سیاست میں آنے سے پہلے ایوان ایک بڑے مالیاتی ادارے کا سربراہ رہ چکا تھا ، سالار سکندر کے ساتھ اُس کی سالوں پرانی واقفیت بھی تھی اور رقابت بھی… SIF نے امریکہ میں اپنی تاریخ کا پہلا بڑا merger اُس کے ادارے کو کھا کر کیا تھا، اور اُس merger کے بعد ایوان کو اپنے عہدے سے فارغ کردیا گیا تھا۔ وہ آج امریکہ کا صدر تھا لیکن وہ ناکامی اور بدنامی آج بھی اُس کے portfolio میں ایک داغ کے طور پر موجود تھی۔ یہ ایوان کی بدقسمتی تھی کہ اتنے سالوں کے بعد وہ اُسی پرانے حریف کی مدد لینے پر ایک بار پھر مجبور ہوا تھا … وہ اُس کے دورِ صدارت میں اُسے دھول چٹانے آن پہنچا تھا… یہ اُس کی کیفیات تھیں… سالار کی نہیں… وہ وہاں کسی اور ایجنڈے کے ساتھ آیا تھا…اُس کا ذہن کہیں اور پھنسا ہوا تھا۔
”سالار سکندر…” چہرے پر ایک گرم جوش مسکراہٹ کا نقاب چڑھائے ایوان نے سالار کا استقبال تیز رفتاری سے اُس کی طرف بڑھتے ہوئے یوں کیا تھا جیسے وہ حریف نہیں رہے تھے… بہترین دوست تھے جو وائٹ ہاؤس میں نہیں کسی گالف کورس پر مل رہے تھے۔ سالار نے اُس کی خیر مقدمی مسکراہٹ کا جواب بھی اتنی ہی خوش دلی کے ساتھ مصافحہ کرتے ہوئے دیا تھا۔ دونوں کے درمیان رسمی کلمات کا تبادلہ ہوا… موسم کے بارے میں ایک آدھ بات ہوئی، جو اچھا تھا اور اُس کے بعد دونوں اپنی اپنی نشست سنبھال کر بیٹھ گئے تھے۔ وہ one on one ملاقات تھی، کمرے کے دروازے اب بند ہوچکے تھے اور وہاں اُن دونوں کا سٹاف نہیں تھا اور اس one on one ملاقات کے بعد اُن دونوں کی ایک مشترکہ پریس کانفرنس تھی جس کے لئے اس کمرے سے کچھ فاصلے پر ایک اور کمرے میں دنیا بھر کے صحافی بے تابی سے بیٹھے ہوئے تھے۔ اس ملاقات سے پہلے اُن دونوں کی ٹیم کے افراد کئی بار آپس میں مل چکے تھے، ایک فریم ورک وہ ڈسکس بھی کرچکے تھے اور تیار بھی… اب اس ملاقات کے بعد باضابطہ طور پر وہ دونوں وہ اعلان کررہے تھے جس کی بھنک میڈیا کو پہلے ہی مل چکی تھی۔
امریکہ اب ورلڈ بینک کے ذریعے نہیں SIF کے ذریعے دنیا کے ترقی پذیر ممالک میں گھسنا چاہتا تھا، خاص طور پر افریقہ میں اور اس کے لئے وہ ورلڈ بینک سے باضابطہ علیحدگی اختیار کر رہا تھا… مگر اُس کے سامنے مسئلہ صرف ایک تھا، امریکہ کا ایجنڈا SIF کے ایجنڈے سے مختلف تھا اور اس ملاقات میں سالار سکندر کو ایک بے حد informal انداز میں ایک آخری بار ان امریکی مفادات کے تحفظ کی یاد دہانی کروانی تھی… امریکہ SIF کی ٹیم کے بہت سارے مطالبات مان کر اُس فریم ورک پر تیار ہوا تھا۔ یہ وہ امریکہ نہیں رہا تھا جو بندوق کی نوک پر کسی سے بھی کچھ بھی کروا سکتا تھا۔ یہ انتشار کا شکار ایک کھوکھلا ہوتا ہوا ملک تھا جو بات سُنتا تھا… مطالبات مانتا تھا اور اپنی پوزیشن سے پیچھے ہٹ جاتا تھا… یا پھر آخری حربے کے طور پر اپنے مفادات کی خاطر وہ کرتا تھا جو اس بار بھی اس میٹنگ کے اچھے یا بُرے نتیجے کے ساتھ پہلے سے مشروط تھا۔
 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: