Aab e Hayat Novel by Umera Ahmed Read Online – Episode 43

0

آب حیات از عمیرہ احمد – قسط نمبر 43

–**–**–


میٹنگ کا نتیجہ ویسا ہی نکلا تھا جیسا ایوان کو توقع تھی۔ سالار سکندر کو SIF کے ایجنڈے کے حوالے سے کوئی ابہام نہیں تھا، نہ ہی امریکی حکومت کے ایجنڈے کے حوالے سے۔ وہ امریکی حکومت کی مدد کرنے پر تیار تھا، اُس فریم ورک کے تحت جو اُس کی ٹیم نے تیار کیا تھا۔ لیکن SIF کو امریکہ کا ترجمان بنانے پر تیار نہیں تھا۔ اُس نے ایوان کی تجویز کو شکریہ کے ساتھ رد کر دیا تھا۔ دو مگرمچھوں کے درمیان دشمنی ہو سکتی تھی، دوستی نہیں۔ مگر دشمنی کے ساتھ بھی وہ ایک ہی پانی میں رہ سکتے تھے، بڑے محتاط اور پُر امن طریقے سے، اپنی اپنی حدود میں۔ اور اُس نے ایوان کو بھی یہی مشورہ دیا تھا جس سے ایوان نے اتفاق کیا تھا۔ سالار سکندر سے انہیں جیسے جواب کی توقع تھی، انہیں ویسا جواب ہی ملا تھا۔
۔SIF کو اب ایک نئے سربراہ کی ضرورت تھی، جو زیادہ “flexible” ہوتا اور زیادہ سمجھدار بھی۔ سالار سکندر میں ان دونوں چیزوں کی اب کچھ کمی ہو گئی تھی۔ یہ ایوان کا اندازہ تھا۔
۔CIA کو SIF کے نئے سربراہ کے بارے میں تجاویز دینے سے پہلے SIF کے پرانے سربراہ کو ہٹانے کے لئے احکامات دے دیئے گئے تھے اور یہ اس میٹنگ کے بعد ہوا تھا۔
اُس سے پہلے ایوان نے سالار سکندر کے ساتھ اُس پریس کانفرنس میں شرکت کی تھی جس میں امریکہ نے باقاعدہ طور پر ملک میں ہونے والے مالیاتی کرائسس سے ہٹنے کے لئے نہ صرف SIF کی مدد لینے کا اعلان کیا تھا بلکہ SIF کے ساتھ طے پانے والے اس فریم ورک کا بھی اعلان کیا تھا جس کی منظوری صدر نے بے حد دباؤ کے باوجود دے دی تھی۔
ایوان ہاکنز کو اس اعلان کے وقت ویسی ہی تضحیک محسوس ہو رہی تھی جیسی اُس نے اُس وقت محسوس کی تھی جب اُس کے مالیاتی ادارے کا merger، SIF کے ساتھ ہوا تھا اور جس کے بعد وہ اپنے عہدے سے فارغ ہو گیا تھا۔ اُسے یقین تھ،ا تاریخ اس بار اپنے آپ کو کچھ مختلف طریقے سے دہرانے والی تھی۔ اس دفعہ اسکرین سے غائب ہونے والا اُس کا پرانا حریف تھا، وہ نہیں۔
******
رئیسہ سالار کی زندگی پر اگر کوئی کتاب لکھنے بیٹھتا تو یہ لکھے بغیر نہیں رہ سکتا تھا کہ وہ خوش قسمت تھی، جس کی زندگی میں آتی تھی اُس کی زندگی بدلنا شروع کر دیتی تھی۔ وہ جیسے پارس پتھر جیسا وجود رکھتی تھی، جو اُس سے چھو جاتا، سونا بننے لگتا۔
سالار سکندر کے خاندان کا حصّہ بننے پر بھی وہ اُن کی زندگی میں بہت ساری تبدیلیاں لے آئی تھی اور اب ہشام سے منسلک ہونے کے بعد اس کی زندگی کے اُس خوش قسمتی کے دائرے نے ہشّام کو بھی اپنے گھیراؤ میں لینا شروع کر دیا تھا۔
بحرین میں ہونے والے اُس طیّارے کے حادثے میں امیر سمیت شاہی خاندان کے کچھ افراد ہلاک نہیں ہوئے تھے، وہ دراصل بحرین کی بادشاہت کے حصّہ داروں کی ہلاکت تھی۔ پیچھے رہ جانے والا ولی عہد بے حد نوجوان، ناتجربہ کار اور عوام سے بہت دور تھا اور اُس حلقے میں بے حد ناپسندیدہ تھا، جو امیر کا حلقہ تھا۔
ہشّام کے باپ صباح بن جرّاح کے وہم و گمان میں بھی یہ نہیں تھا کہ وہ امیر اور شاہی خاندان کے افراد کی تدفین کی تقریبات میں شرکت کے لئے جب بحرین پہنچے گا تو بادشاہت کا ہُما اُس کے سر پر آن بیٹھے گا۔ بحرین کی کونسل کے ایک ہنگامی اجلاس میں ولی عہد کو برطرف کرتے ہوئے بادشاہت کی فہرست میں بہت نیچے کے نمبر پر براجمان صباح کو اکثریتی تائید سے بحرین کا نیا امیر نامز کر دیا گیا تھا۔ اس عہدے پر اُسے وقتی طور پر فائز کیا گیا تھا، مگر اگلے چند ہفتوں میں کونسل نے اس حوالے سے حتمی فیصلہ بھی کر دیا تھا۔ ولی عہد کی نامزدگی کونسل کے اگلے اجلاس تک کے لئے ملتوی کر دی گئی تھی۔
یہی وہ خبر تھی جو رئیسہ کو حمین نے سنائی تھی۔ خبر اتنی غیر متوقع اور ناقابلِ یقین تھی کہ رئیسہ کو بھی یقین نہیں آیا تھا، لیکن جب اُسے یقین آیا تو وہ ایکسائٹیڈ ہوئی تھی۔
”اور اب بُری خبر کیا ہے؟ وہ بھی سنا دو۔” اُس نے حمین سے پوچھا۔
”ہشّام اور تمہاری شادی میں اب بہت ساری رکاوٹیں آئیں گی صرف اُس کے خاندان کی طرف سے نہیں، پورے شاہی خاندان کی طرف سے۔” حمین نے اُسے بنا کسی تمہید کے کہا۔ وہ فکرمند ہونے کے باوجود خاموش ہو گئی تھی۔
ہشّام سے اُس کی ملاقات امریکہ واپسی کے دوسرے دن ہی ہو گئی تھی۔ وہ ویسا ہی تھا۔ بے فکرا، لاپروا، اپنے باپ کے بدلے جانے والے اسٹیٹس کے بارے میں زیادہ دلچسپی نہ دکھاتا ہوا۔ اُس کا خیال تھا، اُس کے باپ کو ملنے والا وہ عہدہ وقتی تھا۔ چند ہفتوں کے بعد کونسل اُس کے باپ کی جگہ شاہی خاندان کے اُن افراد میں سے کسی کو اس عہدے پر فائز کرے گی جو جانشینی کی دوڑ میں اُس کے باپ سے اوپر کے نمبر پر تھے۔
”تم نے اپنی فیملی سے بات کی؟” اُس نے چھوٹتے ہی رئیسہ سے وہ سوال کیا تھا جس کے حوالے سے وہ فکرمند تھی۔
”حمین سے بات ہوئی میری اور حمین نے بابا سے بھی بات کی ہے، لیکن بابا کو ہمارے حوالے سے پہلے ہی کچھ اندازہ تھا۔ انہوں نے کہا ہے کہ وہ مجھ سے اس ایشو پر آمنے سامنے بات کریں گے۔ لیکن حمین تم سے ملنا چاہتا ہے۔” رئیسہ نے اسے بریف کیا تھا۔
حمین ہشّام سے چند بار سرسری انداز میں پہلے بھی مل چکا تھا، لیکن یہ پہلی بار تھا کہ حمین نے خاص طور پر اُس سے ملنے کی فرمائش کی تھی۔
”مل لیتا ہوں۔ میں تو اتنا مصروف نہیں رہتا، وہ رہتا ہے۔ تم اُس سے co-ordinate کر لو کہ کب ملنا چاہے گا؟” ہشّام نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ اُس سے کہا تھا۔
”تمہاری فیملی کو میری adoption کا پتہ ہے؟” اس بار رئیسہ نے بالآخر اُس سے وہ سوال کیا تھا جو بار بار اُس کے ذہن میں آرہا تھا۔
”نہیں، میری کبھی اُن سے اس حوالے سے بات نہیں ہوئی۔ لیکن تم یہ کیوں پوچھ رہی ہو؟” ہشام اُس کی بات پر چونکا تھا۔
”اُنہیں اعتراض تو نہیں ہو گا کہ میں adopted ہوں؟”
”کیوں اعتراض ہو گا؟ میرا نہیں خیال کہ میرے پیرنٹس اتنے تنگ نظر ہیں کہ اس طرح کی باتوں پر اعتراض کریں گے۔” ہشّام نے دو ٹوک انداز میں کہا تھا۔
”میں اپنے والدین کو بہت اچھی طرح جانتا ہوں۔” اُس نے رئیسہ سے کہا تھا۔
حمین سے اُس کی ملاقات دو ہفتے بعد طے ہوئی تھی مگر اُس سے پہلے ہی ہشّام کو ایک بار پھر ایمرجنسی میں بحرین بلا لیا گیا تھا۔ اُس کے باپ کی کونسل نے متفقہ فیصلے سے امیر کے طور پر توثیق کر دی تھی اور ہشّام بن صباح کو بحرین کا نیا ولی عہد نامزد کر دیا گیا تھا۔ ایک خصوصی طیّارے کے ذریعے ہشّام کو بحرین بلایا گیا تھا اور وہاں پہنچنے پر یہ خبر ملنے پر اُس نے سب سے پہلے فون پر رئیسہ کو یہ اطلاع دی تھی۔ وہ بے حد خوش تھا۔ رئیسہ چاہتے ہوئے بھی خوش نہیں ہو سکی۔ وہ ایک ”عام آدمی” سے یک دم ایک ”خاص آدمی” ہو گیا تھا۔ حمین کی باتیں اُس کے کانوں میں گونج رہی تھیں۔ ہشّام بہت جلدی میں تھا، اُن دونوں کے درمیان صرف ایک آدھ منٹ کی گفتگو ہو سکی تھی۔ فون بند ہونے کے بعد رئیسہ کے لئے سوچ کے بہت سارے در کُھل گئے تھے، وہ fairy tales پر یقین نہیں کرتی تھی کیونکہ اُس نے جس فیملی میں پرورش پائی تھی وہاں کوئی fairy tale نہیں تھی۔ وہاں اتفاقات اور انقلابات نہیں تھے۔ کیریئر، زندگیاں، نام، سب محنت سے بنائی جا رہی تھیں اور رئیسہ سالار کو اپنے سامنے نظر آنے والی وہ fairy tale بھی ایک سراب لگ رہی تھی۔
وہ ایک عرب امریکن سے شادی کرنا چاہتی تھی، ایک عرب بادشاہ سے نہیں۔ اُسے luxuries کی خواہش نہیں تھی اور اُس کی زندگی کے مقاصد اور تھے۔ اور چند دن پہلے تک اُس کے اور ہشّام کی زندگی کے مقاصد ایک جیسے تھے۔ اب وہ لمحہ بھر میں ریل کی پٹڑی پر جانے والے دو ٹریک بنے ہوئے تھے۔ مخالف سمت میں جانے والے ایک دوسرے ٹریک ہو گئے تھے۔
وہ بہت غیر جذباتی ہو کر اب حمین کی اُس گفتگو کو یاد کر رہی تھی جو اُس نے ہشّام کے حوالے سے کی تھی اور وہ تب کی تھی جب ہشّام ولی عہد نہیں بنا تھا اُسے اب جاننا تھا کہ حمین ہشّام کے بارے میں اب کیا سوچتا تھا۔
ہشّام کے حوالے سے یہ خبر بھی حمین نے ہی اُسے اُس رات دی تھی جب وہ سونے کی تیّاری کر رہی تھی۔ وہ ایک کانفرنس اٹینڈ کرنے کے لئے Montreal میں تھا۔
”میں جانتی ہوں۔” اُس نے جواباً ٹیکسٹ کیا۔
”مجھے مبارک باد دینی چاہیے یا افسوس کرنا چاہیے؟” جواباً ٹیکسٹ آیا تھا۔ وہ اُس کے مزاج سے واقف تھا۔ وہ مسکرا دی۔
”تمہاری رائے کیا ہے؟” اُس نے جواباً پوچھا۔
”افسوسناک خبر ہے۔”
”جانتی ہوں۔” اُس نے حمین کے ٹیکسٹ پر اتفاق کیا۔
جواباً اُس کی کال آنے لگی تھی۔
”اتنا بھی اپ سیٹ ہونے والی بات نہیں ہے۔” حمین نے ہیلو سنتے ہی بڑے خوشگوار لہجہ میں اُس سے کہا تھا۔ وہ اُس کی آواز کا ہر انداز پہچانتا تھا۔
”میں اپ سیٹ تو نہیں ہوں۔ بس یہ سب غیر متوقع ہے اس لیے۔۔۔۔۔” رئیسہ نے بات ادھوری چھوڑ دی۔
”میرے لئے غیر متوقع نہیں ہے یہ، مجھے اندازہ تھا اس کا۔” اُس نے جواباً کہا تھا۔
”تو پھر اب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟” رئیسہ نے ایک بار پھر ادھورے جملے میں اُس سے مسئلے کا حل پوچھا۔
”تم نے کہا تھا تم اس پروپوزل کے حوالے سے بہت زیادہ جذباتی نہیں ہو۔” حمین نے اطمینان سے لمحہ بھر میں تصویر کا سیاہ ترین پہلو اُسے دکھایا یعنی ہشّام کو بھول جانے کا مشورہ دیا۔
۔“?You really think so” رئیسہ کو جیسے یقین نہیں آیا۔ ”تمہیں لگتا ہے میری اور اُس کی شادی نہیں ہو سکتی؟”
”ہو سکتی ہے۔ لیکن اُس کی شادی صرف تمہارے ساتھ ہو اور تمہارے ساتھ ہی رہے، یہ میرے لئے زیادہ بڑا مسئلہ ہے۔ عرب بادشاہ ”حرم” رکھتے ہیں۔” حمین نے اُسے جتایا تھا۔ تصویر کا ایک اور رُخ اُسے دکھایا جو اُس نے ابھی دیکھنا شروع بھی نہیں کیا تھا۔
”میں جانتی ہوں۔” اُس نے مدہم آواز میں کہا، پھر اگلے ہی جملے میں جیسے اُس کا دفاع کرنے کی کوشش کی۔” لیکن ہشّام کے باپ نے شاہی خاندان کا حصّہ ہوتے ہوئے بھی کبھی دوسری شادی نہیں کی۔”
”وہ امریکہ میں سفیر رہے، بادشاہ کبھی نہیں رہے۔” حمین نے ترکی بہ ترکی کہا۔ دونوں کے درمیان اب خاموشی کا ایک لمبا وقفہ آ گیا تھا۔
۔“?So it’s all over”
اُس نے بالآخر حمین سے پوچھا۔ حمین کے دل کو کچھ ہوا۔ وہ پہلی محبت تھی جو اُس نے کبھی نہیں کی تھی، مگر اُس نے پہلی محبت کا انجام بہت بار دیکھا تھا۔۔ لیکن اب رئیسہ کو اُس انجام سے دو چار ہوتے دیکھ کر اُسے دلی تکلیف ہوئی تھی۔
”تمہارا دل تو نہیں ٹوٹے گا؟” وہ بے حد فکرمند انداز میں اُس سے پوچھ رہا تھا۔ رئیسہ کا دل بھر آیا۔
”ٹوٹے گا، لیکن میں برداشت کر لوں گی۔” رئیسہ نے بھرّائی ہوئی آواز میں اپنی آنکھوں میں آئی نمی پونچھتے ہوئے کہا۔
حمین کا دل اور پگھلا، ”ساری دُنیا میں تمہیں یہی ملا تھا؟” اُس نے دانت پیستے ہوئے رئیسہ سے کہا تھا۔
”مسئلہ شادی نہیں ہے رئیسہ، مسئلہ آئندہ کی زندگی ہے۔ کوئی گارنٹی نہیں ہے اس رشتے میں۔” حمین نے ایک بار پھر اُس کے ہتھیار ڈالنے کے باوجود جیسے اُس کا دُکھ کم کرنے کی کوشش کی تھی۔ وہ خاموش ہو گئی، کال ختم ہو گئی تھی۔ مگر ہشام نا رئیسہ کے ذہن سے نکلا تھا نہ ہی حمین کے۔
اگلے دن کے اخبارات نہ صرف بحرین کے نئے امیر اور ولی عہد کے بارے میں تصویروں اور خبروں سے بھرے ہوئے تھے بلکہ اُن خبروں میں ایک خبر نئے ولی عہد ہشّام بن صبّاح کی منگنی کی بھی تھی، جو بحرین کے ہلاک ہونے والے امیر کی نواسی سے طے پا رہی تھی۔ وہ خبر حمین اور رئیسہ دونوں نے پڑھی تھی اور دونوں نے ایک دوسرے سے شیئر نہیں کی تھی۔
******
”کوئی تم سے ملنا چاہتا ہے۔”
وہ اگلی صبح تھی۔ ساری رات لاک اپ میں جاگتے رہنے کے بعد وہ ناشتہ کے بعد کافی کا ایک کپ ہاتھ میں لئے بیٹھی تھی جب ایک آفیسر نے لاک اپ کا دروازہ کھولتے ہوئے ایک کارڈ اُس کے ہاتھ میں تھمایا اور کارڈ پر لکھا ہوا نام دیکھ کر عائشہ عابدین کا دل چاہا تھا وہاں کوئی سوراخ ہوتا تووہ اُس میں گھس کر چھپ جاتی۔ پتہ نہیں اُس شخص کے سامنے اُسے اب اور کتنا ذلیل ہونا تھا دُنیا سے غائب ہو جانے کی خواہش اُس نے زندگی میں کتنی بار کی تھی، لیکن شرم کے مارے اُس نے پہلی بار کی تھی۔
وہ پولیس آفیسر کے ساتھ وہاں آئی تھی جہاں وہ ایک اٹارنی کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔ اُس کی رہائی کے لئے کاغذات لئے، جس پر اب صرف اُس کے signatures ہونے تھے۔
جبریل اور اُس کے درمیان رسمی جملوں کا تبادلہ ہوا تھا، ایک دوسرے سے نظریں ملائے بغیر۔ پھر اُس اٹارنی سے اُس کی بات چیت شروع ہوئی تھی، کاغذات، دستخط، اور پھر اسے رہائی کی نوید دے دی گئی تھی۔
بے حد خاموشی کے عالم میں وہ دونوں بارش کی ہلکی پھوار میں پولیس سٹیشن سے باہر پارکنگ میں گاڑی تک آئے تھے۔
”میں بہت معذرت خواہ ہوں۔ میری وجہ سے بار بار آپ کو بہت پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، نساء کو آپ کو فون نہیں کرنا چاہیے تھا۔ میں کچھ نہ کچھ انتظام کر لیتی۔ یہ اتنا بڑا مسئلہ نہیں تھا۔”
گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر اُس کے برابر بیٹھی عائشہ نے پہلی بار اپنی خاموشی توڑتے ہوئے بے حد شائستگی سے جبریل کی طرف دیکھے بغیر اُسے مخاطب کیا تھا۔
جبریل نے گردن موڑ کر اُسے دیکھا۔ اُس کے جملے میں وہ آخری بات نہ ہوتی تو وہ نساء کی اس بات پر کبھی یقین نہیں کرتا کہ وہ mentally upset تھی۔ وہ اپنے خلاف parental negligence کے تحت فائل ہونے والے قتل کے ایک الزام کو معمولی بات کہہ رہی تھی۔
”آپ نے کچھ کھایا ہے؟” جبریل نے جواباً بڑی نرمی سے اُس سے پوچھا تھا۔ عائشہ نے سر ہلا دیا۔ وہ اب اُسے بتانے لگی تھی کہ وہ کسی قریبی بس سٹاپ یا ٹرین سٹیشن پر اُسے ڈراپ کر دے تو وہ خود گھر پہنچ سکتی تھی۔ جبریل نے گاڑی ڈرائیو کرتے ہوئے اُس کی ہدایات سنیں اور ٹھیک ہے کہہ دیا۔ مگر وہ وہاں نہیں رُکا تھا جہاں وہ اُسے ڈراپ کرنے کے لئے کہہ رہی تھی، وہ سیدھا اُس کے گھر پہنچ گیا تھا۔ اُس بلڈنگ کے سامنے جہاں اس کا اپارٹمنٹ تھا، عائشہ نے اُس سے یہ نہیں پوچھا تھا کہ اُسے اُس کے گھر کا ایڈریس کیسے پتہ تھا۔ وہ اُس کا شکریہ ادا کر کے گاڑی سے اُترنے لگی تو جبریل نے اُس سے کہا۔

”کافی کا ایک کپ مل سکتا ہے؟” وہ ٹھٹھکی اور اُس نے پہلی بار جبریل کا چہرہ دیکھا۔
”گھر پر کافی ختم ہو چکی ہے، میں کچھ ہفتوں سے گروسری نہیں کر سکی۔” اُس نے کہتے ہوئے دوبارہ دروازے کے ہینڈل پر ہاتھ رکھا۔
”میں چائے بھی پی لیتا ہوں۔” جبریل نے اُسے پھر روکا۔
”میں چائے نہیں پیتی، اس لئے لاتی بھی نہیں۔” عائشہ نے اس بار اُسے دیکھے بغیر گاڑی کا دروازہ کھول دیا۔
”پانی تو ہو گا آپ کے گھر؟”
جبریل اپنی طرف کا دروازہ کھول کر باہر نکل آیا اور اُس نے گاڑی کی چھت کے اوپر سے اُسے دیکھتے ہوئے کہا۔ اس بار عائشہ اُسے صرف دیکھتی رہی تھی۔
اُس کا اپارٹمنٹ اس قدر صاف ستھرا اور خوبصورتی سے سجا ہوا تھا کہ اندر داخل ہوتے ہی جبریل چند لمحوں کے لئے ٹھٹھک گیا تھا، جن حالات کا وہ شکار تھی، وہ وہاں کسی اور طرح کا منظر دیکھنے کی توقع کر رہا تھا۔
”آپ کی aesthatics بہت اچھی ہے۔”
وہ عائشہ سے کہے بغیر نہیں رہ سکا تھا۔ عائشہ نے جواباً کچھ بھی نہیں کہا تھا۔ اپنا لونگ کوٹ اُتارتے اور دروازے کے پیچھے لٹکاتے ہوئے وہ لاؤنج میں سیدھا کچن ایریا کی طرف گئی، کچھ بھی کہے بغیر اُس نے ایک کیبنٹ کھول کر کافی کا جار نکال لیا تھا اور پھر پانی گرم کرنے لگی تھی۔
جبریل لاؤنج میں کھڑا اُس جگہ کا جائزہ لے رہا تھا، جہاں آنے والا کوئی شخص بھی یہ جان جاتا کہ اُس گھر میں ایک بچہ تھا جو اُس گھر میں رہنے والوں کی زندگی کا محور تھا۔
لاؤنج میں بنے play area میں اسفند کے کھلونے پڑے ہوئے تھے۔ دیواروں پر جگہ جگہ عائشہ اور اُس کی تصویریں۔ جبریل نے نظریں چرا لی تھیں۔ پتہ نہیں اس guilt کو وہ کیا کہتا اور اس کا کیا کرتا جو بار بار عائشہ عابدین کے بچے کے حوالے سے اُسے ہوتا تھا۔ اُس نے مُڑ کر عائشہ کو دیکھا تھا، وہ بے حد میکانکی انداز میں اُس کے لئے کافی کا ایک کپ تیار کر رہی تھی، یوں جیسے وہ کوئی waitress تھی۔ پورے انہماک سے ایک ایک چیز کو ٹرے میں سجاتے اور رکھتے ہوئے باقی ہر چیز سے بے خبر۔ اس چیز سے بھی کہ وہاں جبریل بھی تھا۔
وہ اب کافی کی ٹرے لے کر لاؤنج میں آ گئی تھی۔ سینٹر ٹیبل پر کافی کے ایک کپ کی وہ ٹرے رکھتے ہوئے وہ کچھ کہے بغیر صوفہ پر بیٹھ کر اُس سے پوچھنے لگی۔
۔“?Sugar”
”مجھے کافی کڑوی نہیں لگتی۔” جبریل اُس سے کچھ فاصلے پر بیٹھ گیا۔
۔“?Milk? Cream” عائشہ نے شوگر پاٹ چھوڑتے ہوئے باقی دو چیزوں کے بارے میں پوچھا۔ جو ٹرے میں رکھی ہوئی تھیں۔
”یہ بھی نہیں۔ مجھے کچھ دیر میں ہاسپٹل کے لئے نکلنا ہے۔” جبریل نے اب مزید کچھ کہے بغیر وہ کپ اُٹھا لیا تھا جو عائشہ نے میز پر اُس کی طرف بڑھایا تھا۔ اُس نے بڑی خاموشی کافی پی۔ کپ دوبارہ میز پر رکھا اور پھر اپنی جیب سے ایک لفافہ نکال کر میز پر رکھتے ہوئے اُس سے کہا ۔
”اسے آپ میرے جانے کے بعد کھولیں۔ پھر اگر کوئی سوال ہو تو میرا نمبر یہ ہے۔” اُس نے کھڑے ہوتے ہوئے جیب سے ایک وزیٹنگ کارڈ نکال کر میز پر اُسی لفافے کے پاس رکھ دیا۔
”حالانکہ میں جانتا ہوں آپ سوال نہیں کرتیں۔ مجھے فون بھی نہیں کریں گی۔ اس کے باوجود مجھے اسے پڑھنے کے بعد آپ کے کسی سوال کا انتظار رہے گا۔”
عائشہ نے خاموشی سے میز پر پڑے اُس لفافے اور کارڈ کو دیکھا پھر سر اُٹھا کر کھڑے جبریل کو۔ دُنیا میں ایسی تمیز اور تہذیب والے مرد کہاں پائے جاتے ہیں۔ اُس نے سامنے کھڑے مرد کو دیکھتے ہوئے سوچا تھا اور اگر پائے جاتے تھے تو اُن میں سے کوئی اُس کا نصیب کیوں نہیں بنا تھا۔ وہ کھڑی ہو گئی تھی۔
جبریل کو اپارٹمنٹ کے دروازے پر چھوڑ کر آنے کے بعد اُس نے اپنے اپارٹمنٹ کی کھڑکی سے جھانک کر پارکنگ کو دیکھا جہاں وہ ابھی کچھ دیر میں نمودار ہوتا اور پھر وہ نمودار ہوا تھا اور وہ تب تک اُسے دیکھتی رہی جب تک وہ گاڑی میں بیٹھ کر وہاں سے چلا نہیں گیا۔
پھر وہ میز پر پڑے اُس لفافے کی طرف آئی تھی۔ اُس سفید لفافے کو اُس نے اُٹھا کر دیکھا جس پر اُس کا نام جبریل کی خوبصورت ہینڈ رائٹنگ میں لکھا ہوا تھا۔
۔Miss Aisha Abedeen
پھر اُس نے لفافے کو کھول لیا۔
******
کاغذ کی اس چٹ پر احسن سعد کا نام اور فون نمبر لکھا ہوا تھا۔ ریسپشن سے جبریل کو بتایا گیا تھا کہ وہ شخص کئی بار اُسے کال کر چکا تھا اور ایمرجنسی میں اُس سے بات کرنا یا ملنا چاہتا تھا۔ جبریل اُس وقت چھے گھنٹے آپریشن تھیٹر میں گزارنے کے بعد تھکا ہوا گھر جانے کے لئے نکل رہا تھا جب یہ چٹ اُس کے حوالے کی گئی تھی، اُس چٹ پر اُس کے لئے ایک میسج بھی تھا۔
******
ٹیلی اسکوپ سے اس نے ایک بار پھر اس بینکوئٹ ہال کی کھڑکی سے اندر نظر ڈالی۔ ہال میں سیکورٹی کے لوگ اپنی اپنی جگہ پر مستعد تھے۔ care taker staff بھی اپنی اپنی جگہ پر تھا۔ اس بینکوئٹ ہال کا داخلی دروازہ اس قد آدم کھڑکی کے بالکل سامنے تھا جس کھڑکی کے بالمقابل ساٹھ فٹ چوڑی، دو رویہ مین روڈ کے پار ایک عمارت کی تیسری منزل کے ایک اپارٹمنٹ میں وہ موجود تھا۔ اس اپارٹمنٹ کے بیڈ روم کی کھڑکی کے سامنے ایک کرسی رکھے وہ ایک جدیدsniperرائفل کی ٹیلی اسکوپک سائٹ سے کھڑکی کے پردے میں موجود ایک چھوٹے سے سوراخ سے اس بینکوئٹ ہال میں جھانک رہا تھا۔ بینکوئٹ ہال کا داخلہ دروازہ کھلا ہوا تھا اور کوریڈور میں استقبالی قطار اپنی پوزیشن لے چکی تھی۔ اس کی گھڑی پر 9:02 بجے تھے۔ مہمان نو بج کر پندہ منٹ پر اس کو ریڈور میں داخل ہونے والا تھا اور تقریباً ایک گھنٹہ اور پندہ منٹ وہاں گزارنے کے بعد وہ وہاں سے جانے والا تھا۔ مہمان کے اس ہوٹل میں پہنچنے سے اس کی روانگی کے بعد تک اس علاقے میں تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ کے لیے ہر طرح کا مواصلاتی رابطہ جام ہونے والا تھا۔ یہ سیکورٹی کے ہائی الرٹ کی وجہ سے تھا۔ ڈیڑھ گھنٹہ کے لیے وہاں سیل فون اور متعلقہ کوئی ڈیوائسز کام نہیں کر سکتی تھی۔ لیکن وہ ایک پروفیشنل ہٹ مین تھا۔ اس سے پہلے بھی اسی طرح کے ہائی الرٹس میں کامیابی سے کام کرتا رہا تھا۔ اس کو ہائر کرنے کی وجہ بھی اس کی کامیابی کاتناسب تھا جو تقریباً سو فی صد تھا۔ وہ صرف دو لوگوں کو مارنے میں ناکام رہا تھا اور اس کی وجہ اس کے نزدیک اس کی بری قسمت تھی۔ پہلی بار اس کی رائفل لاسٹ سیکنڈز میں اس اسٹینڈ سے ہل گئی تھی، جس پر وہ رکھی تھی اور دوسری بار خیر دوسری بار کا قصہ طویل تھا۔
وہ پچھلے دو مہینے سے اس اپارٹمنٹ میں رہ رہا تھا۔ اس دن سے تقریباً ایک مہینہ پہلے سے جب وہ یہ ہوٹل اس بینکوئٹ کے لئے مختص کیا گیا تھا۔ جنہوں نے اسے اس اہم کام پر مامور کیا تھا۔ اس تقریب کے لیے اس ہوٹل اور ہوٹل کے اس بینکوئٹ ہال کا انتخاب کرنے والے بھی وہی تھے۔
اس مہمان کو ختم کرنے کا فیصلہ چار ماہ پہلے ہوا تھا۔ وقت، جگہ اور قاتل کا انتخاب بے حد ماہرانہ طریقے سے بڑے غور و خوض کے بعد کیا گیا تھا۔ اس مہمان کے سال کی مکمل مصروفیات کے شیڈول میں سے مقام، ملک اور ممکنہ قاتلوں کے نام شارٹ لسٹ کیے گئے تھے۔ پھر ہر جگہ اور تاریخ پر ہونے والے اس حادثے کے اثرات پر سیر حاصل بحث کی گئی تھی۔ فوری اثرات اور اس سے نمٹنے کی حکمت عملی پر بات کی گئی تھی۔ ممکنہ ردِ عمل کے نقصانات سے بچنے کے لیے منصوبے تیار کیے گئے تھے۔ ایک قاتلانہ حملے کے ناکام ہو جانے کی صورت میں ہونے والے ممکنہ ردِ عمل اور نقصانات پر غور کیا گیا تھا اور ہر میٹنگ کے بعد ”کام” کی جگہیں اور تاریخیں بدلتی رہی تھیں، لیکن قاتل ایک ہی رہا تھا۔ کیوںکہ وہ موزوں ترین تھا۔ اس شہر میں اس تاریخ پر اس تقریب کے لیے سیکیورٹی کی وجوہات کے باعث تین مختلف ہوٹلز کا نام لسٹ میں رکھا گیا تھا، لیکن اسے ہائر کرنے والے جانتے تھے کہ تقریب کہاں ہو گی۔
اس سے دو ماہ پہلے ہی اسے اپارٹمنٹ میں رہائش پذیر ستائس سالہ لڑکی سے دوستی کرنے کے لیے کہا گیا تھا۔ اس لڑکی کے چار سالہ پرانے بوائے فرینڈ سے بریک اپ کے لیے ایک پروفیشنل کال گرل کا استعمال کیا گیا تھا جو اس کے کار ڈیلر بوائے فرینڈ سے ایک کار خریدنے کے بہانے ملی تھی اور اسے ایک ڈرنک کی آفر کر کے ایک موٹل لے گئی تھی۔
اس کال گرل کے ساتھ گزارے ہوئے وقت کی ریکارڈنگ دوسرے دن اس لڑکی کو میل میں موصول ہو گئی تھی۔ اس کا بوائے فرینڈ نشے میں تھا اسے پھنسایا گیا تھا اور یہ سب ایک غلطی تھی، لیکن اس کے بوائے فرینڈ کی کوئی تاویل، اس کے غصے اور رنج کو کم نہیں کر سکی تھی۔ اس کی گرل فرینڈ کے لئے یہ بات اس لئے بھی زیادہ تکلیف دہ تھی۔ زیادہ ناقابل برداشت تھی، کیونکہ وہ تین ہفتے بعد شادی کرنے والے تھے۔ اس نے اپنے بوائے فرینڈ کا سامان گھر کے دروازے سے باہر نہیں پھینکا تھا۔ اسے اپارٹمنٹ کی کھڑکی سے باہر پھینکا تھا۔ سڑک پر بکھرے سامان کو اکٹھا کرتے ہوئے خود کو اور اس کال گرل کو کوستے ہوئے بھی اس کا بوائے فرینڈ یہ سوچ رہا تھا کہ چند ہفتوں میں اس کا غصہ ٹھنڈا ہو جائے گا اور وہ دونوں دوبارہ اکٹھے ہو جائیں گے۔ جنہوں نے ان کا تعلق ختم کروایا تھا۔ انہیں اس بات کا اندیشہ بھی تھا۔ چنانچہ معاملات کو پوائنٹ آف نوریٹرن تک پہنچانے کے لیے اس لڑکی کے کمپیوٹر کو ہیک کیا گیا تھا۔ اس کی اور اس کی گرل فرینڈ کی بے حد قابل اعتراض تصویروں کو اس کی ای میل آئی ڈی کے ساتھ بہت ساری ویب سائٹس پر اَپ لوڈ کر دیا گیا تھا۔
یہ جیسے تابوت میں آخری کیل تھی۔ اس لڑکی نے اپنے بوائے فرینڈ کی ای میل آئی ڈی سے بھیجا ہوا پیغام پڑھا تھا۔ جس میں لکھا تھا کہ اس نے اپنے بریک اَپ کے بعد اس کی ساری پکچرز کو قابل اعتراض ویب سائٹس سے اَپ لوڈ کر دیا ہے۔ اس کی گرل فرینڈ نے پہلے وہ لنکس وزٹ کیے تھے۔ پھر اپنے بوائے فرینڈ کی اس کال گرل کے ساتھ ویڈیو کو اَپ لوڈ کیا تھا اور اس کے بعد اپنے سابقہ بوائے فرینڈ کو اس کے شو روم میں جا کر اس کے کسٹمرز کے سامنے اس وقت سامنے اس وقت پیٹا تھا، جب وہ انہیں ایک جدید ماڈل کی گاڑی تقریباً بیچنے میں کامیاب ہو چکا تھا۔
۔”Happy families drive this car” اس نے تقریباً چھپن بار یہ جملہ اس جوڑے کے سامنے دہرایا تھا جو ٹیسٹ ڈرائیوکے لیے وہاں موجود تھے اور اس کے ساتھ اس نے ایک سو چھپن بار یہ جھوٹ بھی بولا تھا کہ کس طرح خود بھی اس کار کو ذاتی استعمال میں رکھنے کی وجہ سے اس کا اور اس کی گرل فرینڈ کا ریلیشن شپ مضبوط ہوا تھا۔ اس کے بوائے فرینڈ کو مار کھانے پر اتنا شاک نہیں لگا تھا۔ چار سالہ کورٹ شپ میں وہ اپنی گرل فرینڈ کے ہاتھوں اس شہر کی تقریباً ہر مشہو رپبلک پیلس پر پٹ چکا تھا اور یہ تو بہرحال اس کا اپنا شو روم تھا۔ جتنا اسے اپنی گرل فرینڈ کے الزام سن کر شاک لگا تھا۔
اس کے چیخنے چلانے اور صفائیاں دینے کے باوجود اس کی گرل فرینڈ کو یقین تھا کہ اس نے شراب کے نشے میں یہ حرکت کی ہوگی۔ ورنہ اس کی ذاتی لیپ ٹاپ میں موجود تصویریں اس کی ای میل ایڈریس کے ساتھ کون اَپ لوٹ کر سکتا تھا۔
اس بریک اَپ کے ایک ہفتے کے بعد وہ نائٹ کلب میں اسے سے ملا تھا۔ چند دن ان کی ملاقاتیں اسی بے مقصد انداز میں ہوتی رہیں تھیں۔ وہ میڈیک ٹیکنیشن تھی اور اس نے اپنا تعارف پینٹر کے طور پر کروایا تھا۔ وہ ہر بار اس لڑکی کو ڈرنکس کی قیمت خود ادا کرتا تھا۔ چند دن کی ملاقاتوں کے بعد اس نے اسے گھر پہ مدعو کیا تھا اور اس کے بعد وہاں کا آنا جانا زیادہ ہونے لگاتھا۔ وہ اس بلڈنگ کے افراد کو ایک ریگولر وزیٹر کا تاثر دینا چاہتا تھا اور دو ماہ کے اس عرصے میں وہ اس اپارٹمنٹ کی دوسری چابی بنوا چکا تھا اور ایک ہفتہ پہلے وہ اس لڑکی کی عدم موجودگی میں اس کے اپارٹمنٹ پر وہ اسنائپر رائفل اور کچھ دوسری چیزیں بھی منتقل کر چکا تھا۔ وہ جانتا تھا اس تقریب سے ایک ہفتہ پہلے اس علاقے کی تمام عمارتوں پر سیکورٹی چیک ہو گا۔ وہ تب ایسا کوئی بیگ اسکریننگ کے بغیر عمارت میں منتقل نہیں کر سکے گا اور اس وقت بھی اس علاقے کی تمام بلڈنگز بے حد ٹائٹ سیکورٹی میں تھیں۔ وہ ایک ریگولر وزیٹر نہ ہوتا تو اس وقت اس بلڈنگ میں داخل نہیں ہو سکتا تھا۔ اس بلڈنگ سے پچاس میل دور اس کی گرل فرینڈ کو اسپتال میں کسی ایمرجنسی کی وجہ سے روک لیا گیا تھا۔ ورنہ اس وقت وہ اپنے اپارٹمنٹ پر ہوتی۔ پارکنگ میں کھڑی اس کی کار کے چاروں ٹائر پنکچر تھے اور اگر وہ ان دونوں چیزوں سے کسی نہ کسی طرح بچ کر بھی گھر روانہ ہو جاتی تو راستے میں اس کو چیک کرنے کے لیے کچھ اور بھی انتظامات کیے گئے تھے۔
نو بج کر تیرہ منٹ ہو رہے تھے۔ وہ اپنی رائفل کے ساتھ مہمان کے استقبال کے لئے بالکل تیار تھا۔ جس کھڑکی کے سامنے وہ تھا، ہوٹل کے اس بینکوئٹ ہال کی وہ کھڑکی بلٹ پروف شیشے کی بنی تھی۔ ڈبل گلیزڈ بلٹ پروف شیشہ۔ یہی وجہ تھی کہ ان ونڈوز کے سامنے کوئی سیکورٹی اہلکار تعینات نہیں تھے۔ تعینات ہوتے تو اس نشانہ باندھنے میں یقینا دقت ہوتی، لیکن اس وقت اسے پہلی بار یہ محسوس ہو رہا تھا کہ اسے اس سے پہلے کسی کو مارنے جکے لئے اتنی جامع سہولیات نہیں ملی تھیں۔ مہمان کو ریڈور میں چلتے ہوئے آنا تھا۔ ایلویٹر سے نکل کر کوریڈور میں چلتے ہوئے بینکوئٹ ہال کے داخلی دروازے تک اس مہمان کو شوٹ کرنے کے لیے اس کے پاس پورے دو منٹ کا وقت تھا۔ ایک بار وہ بینکوئٹ ہال میں اپنی ٹیبل کی طرف چلا جاتا تو اس کی نظروں سے اوجھل ہو جاتا، لیکن دو منٹ کا وقت س جیسے پروفیشنل کے لیے دو گھنٹے کے برابر تھا۔
اس بینکوئٹ ہال کی تمام کھڑکیاں بلٹ پروف تھیں۔ صرف اس کھڑکی کے سوا جس کے سامنے وہ تھا۔ تین ہفتے پہلے بظاہر ایک اتفاقی حادثے میں اس کھڑکی کا شیشہ توڑا گیا تھا۔ اسے تبدیل کروانے میں ایک ہفتہ لگا تھا اور تبدیل کیا جانے والا شیشہ ناقص تھا۔ یہ صرف وہ لوگ جانتے تھے جنہوں نے یہ سارا منصوبہ بنایا تھا۔ اسٹیج تیار تھا اور اس پر وہ فنکار آنے والا تھا جس کے لیے یہ ڈراما کھیلا جا رہا تھا۔
 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: