Aab e Hayat Novel by Umera Ahmed Read Online – Episode 44

0

آب حیات از عمیرہ احمد – قسط نمبر 44

–**–**–

جبریل نے ٹیبل کے دوسری طرف بیٹھے ہوئے شخص کو بغور دیکھا تھا۔ وہ اُس سے چند سال بڑا لگتا تھا۔ ایک بے حد مناسب شکل و صورت کا، بے حد سنجیدہ نظر آنے والا مرد۔ جو کلین شیوڈ تھا۔ حالانکہ جبریل کے ذہن میں اُس کا جو خاکہ تھا، وہ ایک داڑھی والے مرد کا تھا۔
ویٹر اُن کے سامنے کافی رکھ کر چلا گیا تو احسن سعد نے گفتگو کا آغاز کیا۔
”میرے بارے میں آپ یقیناً بہت کچھ سُن چکے ہوں گے، میری سابقہ بیوی سے۔” اُس کے لہجے میں ایک عجیب سی تحقیر اور یقین تھا، اور ساتھ ہونٹوں پر اُبھر آنے والی ایک طنزیہ مسکراہٹ بھی۔ جبریل نے کچھ ایسا ہی جملہ اُس message میں پڑھا تھا جو احسن سعد نے فون کالز پر اُس سے رابطہ کرنے پر ناکامی پر اُس کے لئے چھوڑا تھا۔
”مجھے اپنی سابقہ بیوی کے باری میں تمہیں کچھ بتانا ہے۔”
چھے گھنٹے آپریشن تھیٹر میں کھڑے رہنے کے بعد اس کاغذ پر لکھی وہ تحریر پڑھتے ہی جبریل کا دماغ پل جھپکتے میں گھوم کر رہ گیا تھا۔ جس receptionist نے ڈاکٹر احسن سعد کا وہ پیغام جبریل سکندر کے لئے نوٹ کیا تھا۔ اُس نے وہ چٹ جبریل کو دیتے ہوئے بے حد عجیب نظروں سے اُسے دیکھا تھا، وہ ایک بے حد scandalous فقرہ تھا اور اُسے پڑھتے اور سُنتے دیکھ کر کوئی بھی جبریل سکندر کے حوالے سے عجیب سے احساسات کا شکار ہوتا، اس کے باوجود کہ اُس ہاسپٹل میں جبریل بے حد ” clean record” رکھنے والے چند نوجوان ڈاکٹرز میں سے ایک تھا۔
۔“?Are you sure this is for me”
جبریل ایک پاکستانی نام دیکھنے کے باوجود اس پیغام کو پڑھ کر اُس receptionist سے وچھے بغیر نہیں رہ سکا۔ نہ وہ احسن سعد کو جانتا تھا نہ کسی سابقہ بیوی کو۔ اور یہ شخص اس سے ایمرجنسی میں ملنا چاہتا تھا۔ اُسے لگا کوئی غلط فہمی بھی ہو سکتی تھی۔
۔“Ohhhh yeah! I am pretty sure” اُس receptionist نے جواباً کہا۔ جبریل اُلجھے ذہن کے ساتھ کپڑے تبدیل کرنے کے لئے گیا تھا اور کپڑے تبدیل کرنے کے بعد اُس نے وہیں کھڑے کھڑے احسن سعد کے اُس نمبر پر کال کی جو اُس chit پر تھا۔ پہلی ہی بیل پر کال ریسیو کر لی گئی تھی۔ یوں جیسے وہ اُسی کے انتظار میں تھا اور جبریل کے کچھ کہنے سے بھی پہلے اُس نے جبریل کا نام لیا۔ ایک لمحہ کے توقف کے بعد جبریل نے yes کیا۔
”مجھے آپ سے فوری طور پر ملنا ہے، میں کچھ دن کے لئے یہاں ہوں اور پھر چلا جاؤں گا۔” احسن سعد نے فوری طور پرکہا۔
”مگر آپ مجھ سے کس سلسلے میں بات کرنا چاہتے ہیں؟ میں آپ کو نہیں جانتا۔” Chit کے اُس پیغام کے باوجود جبریل پوچھے بغیر نہیں رہ سکا۔
”میں عائشہ کے بارے میں بات کرنا چاہتا ہوں۔” احسن سعد کے جملے پر جبریل کا ذہن بھک سے اُڑ گیا تھا۔ اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ عائشہ کا شوہر اس سے رابطہ کرے گا۔ اُس نے احسن سعد کا نام نہ نساء سے سُنا تھا، نہ ہی عائشہ سے اور نہ ہی اسفند کے funeral میں کسی سے، جہاں وہ دس پندرہ منٹ رُک کر نساء اور ڈاکٹر نورین سے ہی console کر کے آیا تھا۔ اگر احسن سعد وہاں کہیں تھا بھی تو اُن دونوں کی ملاقات نہیں ہوئی تھی۔ اور اب یک دم بیٹھے بٹھائے وہ سیدھا نہ صرف اُس کو کال بھی کر رہا تھا، بلکہ کال کر کے وہ بات بھی عائشہ ہی کے بارے میں کرنا چاہتا تھا، لیکن کیا بات؟
”عائشہ عابدین؟” جبریل نے بڑے محتاط لہجہ میں اُس سے پوچھا۔ اس بار یہ یقین ہونے کے باوجود کہ وہ عائشہ عابدین ہی کا شوہر ہو سکتا تھا، اُس کو فوری طور پر کوئی اور ”عائشہ” یاد نہیں آئی تھی۔ جس کا شوہر اُس سے رابطہ کرنے کی ضرورت محسوس کرتا۔ اور رابطہ کرنے کی ضرورت تو یقیناً اُسے عائشہ کے شوہر سے بھی متوقع نہیں تھی۔
”ہاں ڈاکٹر عائشہ عابدین۔” دوسری طرف سے احسن سعد نے بڑے چبھتے ہوئے لہجہ میں کہا۔
”میں یہ سمجھ نہیں پا رہا کہ آپ مجھ سے ملنا کیوں چاہ رہے ہیں؟” جبریل کہے بغیر نہیں رہ سکا۔ ”میں آپ کو ٹھیک سے جانتا بھی نہیں۔”
”آپ مجھے ٹھیک سے نہیں جانتے، لیکن میری سابقہ بیوی کو ضرورت سے زیادہ جانتے ہیں۔ اسی لئے اُسے وکیل فراہم کر رہے ہیں۔ اُس کی ضمانت کروا رہے ہیں۔” جبریل خاموش رہا۔
احسن سعد کے طنز میں صرف تحقیر نہیں تھی ”باخبری” بھی تھی۔ وہ مکمل معلومات رکھنے کے بعد ہی اُس سے رابطہ کر رہا تھا۔
”میں آپ کے ہاسپٹل سے زیادہ دور نہیں ہوں اور میں زیادہ وقت بھی نہیں لوں گا آپ کا۔ کیونکہ آپ بھی مصروف ہیں اور فالتو وقت میرے پاس بھی نہیں ہے۔ لیکن آپ سے ملنا اس لئے ضروری ہے کیونکہ ایک مسلمان کے طور پر میں آپ کو اُس خطرے سے آگاہ کرنا چاہتا ہوں جس کا اندازہ آپ کو نہیں ہے اور چاہتا ہوں آپ وہ غلطی نہ کریں، جو میں نے کی ہے۔” احسن سعد بہت لمبی بات کرتا تھا، اُس کی بات سُنتے ہوئے جبریل نے سوچا مگر وہ اُس کی بات سننے سے بھی پہلے اُس سے ملنے کا فیصلہ کر چکا تھا۔ وہ احسن سعد سے مل کر اُسے کہنا چاہتا تھا کہ وہ عائشہ کے خلاف وہ کیس واپس لے لے جو اُس نے فائل کیا تھا۔ اُس وقت احسن سعد کے ساتھ ملنے کی جگہ طے کرتے ہوئے اُسے یقین تھا وہ اُس شخص کو سمجھا لے گا۔ اس کے باوجود کہ اُس نے نساء سے اُس کے بارے میں بے حد خوفناک باتیں سُنی تھیں۔ اس کے باوجود کہ اُس نے عائشہ عابدین کی وہ حالت دیکھی تھی۔ مگر کہیں نہ کہیں جبریل سکندر اُسے ایک خراب شادی اور خراب سے زیادہ mismatched شادی ہی سمجھتا رہا تھا جس میں ہونے والی غلطیاں یک طرفہ نہیں ہو سکتی تھیں۔ کہیں نہ کہیں ایک مرد کے طور پر اُس کا یہ خیال تھا کہ ساری غلطیاں احسن سعد کی نہیں ہو سکتی تھیں، کچھ خامیاں عائشہ عابدین میں بھی ہوں گی۔ کہیں نہ کہیں جبریل سکندر یہ جاننے کے بعد کہ احسن سعد کی فیملی بے حد مذہبی تھی، اُن کے لئے biased تھا۔ اُس کا خیال نہیں، اُسے یقین تھا کہ وہ اتنے سخت نہیں ہو سکتے، جتنا اُس نے اُن کے بارے میں سُنا تھا۔ کہیں نہ کہیں وہ یہ bias اُس حافظِ قرآن کے لئے بھی رکھتا تھا جو اُس کی طرح قرآن جیسی متبرک شے کو اپنے سینے اور ذہن میں رکھتا تھا۔ وہ یہ ماننے پر تیّار نہیں تھا کہ جس دل میں قرآن محفوظ کیا گیا تھا، وہ اتنا سخت اور بے رحم ہو سکتا تھا۔ اُسے یقین تھا، جو بھی کچھ تھا، اُس میں غلط فہمیوں کا زیادہ قصور ہو گا، بُری نیت اور اعمال کی نسبت۔ اور وہ اسی خیال کے ساتھ احسن سعد سے ملنے آیا تھا۔ اس یقین کے ساتھ کہ وہ اُسے سمجھا لے گا اور اس جھگڑے کو ختم کروا دے گا۔ اور احسن سعد سے مصافحہ کرنے، کافی پینے کے لئے اُس میز پر بیٹھنے تک اُس کا یہ یقین قائم رہا تھا، جو احسن سعد کی گفتگو کے آغاز کے ساتھ ہی ہوا ہونا شروع ہو گیا تھا۔
”عائشہ نے کبھی مجھ سے آپ کے حوالے سے بات نہیں کی۔” جبریل نے اُس پر نظریں جمائے نرم لہجے میں کہا۔ احسن سعد قہقہہ مار کر ہنسا۔ جبریل اپنی بات مکمل نہیں کر سکا۔ اُسے سمجھ نہیں آئی، اُس کی گفتگو میں ہنسنے والی کیا بات تھی۔
”میں نہ تو بے وقوف ہوں، نہ ہی بچہ۔” اُس نے اُس قہقہے کے اختتام پر جبریل سے کہا۔
”مجھے یقین ہے، تم نہ بے وقوف ہو اور نہ ہی بچّے۔ اور نہ میں ایسا سمجھتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔” جبریل نے جواباً بڑے محتاط انداز میں کہا۔
۔”Then stop treating me like one” احسن سعد نے ایک بار پھر اُس کی بات بیچ میں کاٹتے ہوئے کہا تھا۔ اُس کی آواز اب بلند تھی، ماتھے پر بل اور ہونٹ بھنچے ہوئے اُس نے کافی کے اُس کپ کو ہاتھ سے دور دھکیل دیا تھا جس سے کچھ دیر پہلے اُس نے ایک سِپ لیا تھا۔ کافی چھلک کر میز پر گری تھی۔ اس کے دونوں ہاتھ اب مٹھیوں کی شکل میں بھنچے ہوئے میز پر تھے، سیکنڈز کے اندر احسن سعد نے کسی گرگٹ کی طرح رنگ بدلا تھا۔ وہ اب شدید غصّہ میں نظر آ رہا تھا اور جبریل کو سمجھ نہیں آئی تھی کہ اُن چند جملوں میں، جن کا تبادلہ اُن کے درمیان ہوا تھا، ایسا کیا تھا جو اُسے اس طرح غضب ناک کرتا۔
”تم اُس عورت کے guaranter بنے ہوئے ہو اور تم مجھ سے یہ کہہ رہے ہو کہ اُس نے تم سے میرے بارے میں کبھی کچھ نہیں کہا۔” اُس کی آواز اب پہلے سے بھی زیادہ بلند ہوئی تھی۔ آس پاس کی ٹیبلز پر بیٹھے لوگوں نے گردنیں موڑ کر اُن کو دیکھا۔ جبریل نے ایک نظر اطراف میں مڑتی گردنوں کو دیکھا۔ پھر بے حد سرد مہری سے اُس سے کہا۔
”اگر تم اس آواز اور انداز میں مجھ سے بات کرنا چاہتے ہو تو میں یہاں ایک منٹ بھی مزید ضائع نہیں کرنا چاہوں گا۔” جبریل نے کہتے ہوئے ایک ہاتھ سے اپنا والٹ جیب سے نکالا اور دوسرے ہاتھ کو فضا میں ذرا سا بلند کر کے ویٹر کو اپنی طرف متوجہ کیا اور اُسے بل لانے کا اشارہ کیا۔ احسن سعد کو یک دم ہی احساس ہوا، وہ سامنے بیٹھے ہوئے شخص کو غلط طریقے سے ہینڈل کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
”میں اپنے بیٹے کے قتل کی وجہ سے اس قدر فرسٹریٹڈ ہوں کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ I am sorry۔” وہ اگلے ہی لمحے گرگٹ کی طرح ایک بار پھر رنگ بدل گیا تھا۔ اب اُس کی آواز ہلکی تھی، بھنچی ہوئی مٹھیاں ڈھیلی پڑ گئی تھیں اور وہ ایک ہاتھ سے اپنا ماتھا اور کنپٹیاں رگڑ رہا تھا۔ جبریل نے اُس تبدیلی کو بھی اتنی ہی باریکی سے دیکھا تھا جتنی باریکی سے اُس نے پہلی تبدیلی دیکھی تھی اور اُس نے احسن سعد کی معذرت کو قبول کیا تھا۔
”تم میرے مسلمان بھائی ہو اور میں چاہتا ہوں کہ تمہیں اس دھوکے سے بچا لوں، جو میں نے کھایا۔” اُس کا اگلا جملہ جبریل کے سر کے اوپر سے گزر گیا تھا۔ احسن سعد اب بے حد نرم اور دھیمے انداز میں بات کر رہا تھا، بے حد شائستگی کے ساتھ۔ جبریل نے ٹوکے بغیر اُسے بات کرنے دی۔
”میری بیوی ایک characterless عورت ہے۔ جس طرح اُس نے تمہیں اُلّو بنایا ہے، اپنی مظلومیت استعمال کر کے۔ اُسی طرح تم سے پہلے درجنوں کو بنا چکی ہے۔ وہ کسی بھی مرد کو منٹوں میں اپنی مٹھی میں کر کے انگلیوں پر نچا سکتی ہے۔” اُس کے لہجے میں عائشہ کے لئے اتنا زہر موجود تھا کہ جبریل دم بخود رہ گیا تھا۔ وہ جن لوگوں میں اُٹھتا بیٹھتا تھا وہاں طلاق بھی ہوتی تھی، بریک اپ بھی، مگر کوئی اپنی بیوی کے بارے میں اس طرح کی گفتگو نہیں کرتا تھا جس طرح کی گفتگو احسن کر رہا تھا۔
”میرا عائشہ کے ساتھ کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں تھا اور میں سمجھ نہیں پا رہا کہ تمہاری باتوں کو الزامات سمجھوں یا غلط فہمی؟” جبریل مداخلت کیے بغیر نہیں رہ سکا تھا۔
”یہ حقائق ہیں۔” احسن نے جواباً کہا۔
”جو بھی ہے، مجھے ان میں دلچسپی نہیں۔ عائشہ ایک بہت اچھی لڑکی ہے اور میں نے صرف اس لئے اُس کی مدد کی کیونکہ اُس کی بہن میری کلاس فیلو تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔” احسن نے اُس کی بات کاٹی۔
”تم اُس کی بہن کو جانتے ہو گے، اس عورت کو نہیں۔ اس فاحشہ اور حرّافہ کو نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
۔”Language please” جبریل کا چہرہ اور کانوں کی لویں بیک وقت سُرخ ہوئی تھیں۔ وہ احسن سعد سے اس طرح کے الفاظ کی توقع نہیں کر رہا تھا۔
”تم اگر اس عورت کو جانتے ہوتے تو تمہیں ان الفاظ پر کبھی اعتراض نہ ہوتا۔ یہ اس سے زیادہ گندے الفاظ deserve کرتی ہے۔” احسن کی زبان ویسے ہی چلتی رہی تھی۔
”وہ تمہاری بیوی رہ چکی ہے، تمہارے ایک بچّے کی ماں ہے۔ کم از کم تم سے یہ الفاظ deserve نہیں کرتی۔ بیوی بُری ہو سکتی ہے، ماں بھی۔ مگر عورت کی عزت ہوتی ہے نا۔ اتنی respect تو دکھاؤ، اُس کے لئے۔” جبریل بے حد ٹھنڈے مزاج کا تھا لیکن جو ”گفتگو” وہ سُن رہا تھا وہ اُس جیسے ٹھنڈے مزاج کے شخص کو کھولا دینے کے لئے بھی کافی تھی۔
”جو عورت بیوی رہ چکی ہو، اُس کی کیا عزت!” احسن سعد نے جواب نہیں دیا تھا، اپنی ذہنیت کو اُس کے سامنے ننگا کرّ کے رکھ دیا تھا۔
۔”Then I pity on you اور اُس عورت کو بھی، جو تمہاری بیوی رہی۔” جبریل نے بے حد سرد لہجے میں اُس سے کہا تھا۔ اُسے اندازہ ہو گیا تھا وہ غلط شخص کو سمجھانے بیٹھا تھا۔
”اُس سے تمہارا کوئی رشتہ نہیں، پھر تمہیں کیوں تکلیف ہو رہی ہے؟” احسن سعد نے جواباً اُسے ایک جھلسانے والی مسکراہٹ کے ساتھ کہا تھا۔
”تم اُسے جانتے ہی کتنا ہو کہ ایک شوہر کی رائے کو رد کر رہے ہو؟”
”میں اُسے سولہ سال کی عمر سے جانتا ہوں، اُسے بھی، اُس کی فیملی کو بھی۔ اور وہ ایک بہت اچھی لڑکی تھی اور ہے۔”
احسن سعد کے چہرے پر ایک رنگ آ کر گزرا تھا۔
۔“So I was right, it was an old affair”
۔“Shut Up! You are sick” جبریل کو اب اپنے سر میں درد محسوس ہونے لگا تھا۔ اُسے لگ رہا تھا، وہ تھوڑی ہی دیر میں احسن سعد کے ساتھ اُسی کی طرح گالم گلوچ پر اُتر آئے گا، وہ شخص کسی کو بھی infuriate کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا، وہ کسی کو بھی پاگل کر سکتا تھا۔
”تم مجھ سے کس لئے ملنے آئے ہو؟” جبریل نے اُس بل جیکٹ کے اندر بل کی رقم رکھتے ہوئے بے حد بے زاری سے کہا،، جو ویٹر بہت پہلے رکھ کر گیا تھا۔ یہ جیسے احسن سعد کے لئے اشارہ تھا کہ وہ وہاں سے جانا چاہتا تھا۔
”میں تمہیں صرف اس عورت کے بارے میں بتانے آیا تھا کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔” جبریل نے بے حد درشتی سے اُس کی بات کاٹی۔
”اور میں انٹرسٹڈ نہیں ہوں، اُس کے یا اُس کے کردار کے بارے میں کچھ بھی سُننے میں۔ I am just not کیونکہ وہ کیا ہے، کیسی ہے یہ میرا مسئلہ نہیں ہے۔
“Is that clear to you?”
”پھر تم اُس عورت کو سپورٹ کرنا بند کرو۔” احسن سعد نے جواباً اُس سے کہا تھا۔
”میں اُسے اس لیے سپورٹ کر رہا ہوں کیونکہ کوئی ماں اپنی اولاد کو نہیں مار سکتی۔ وہ negligent ہو بھی تو بھی اس negligence کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ اُس اولاد کو مارنا چاہتی تھی اور اُس کے خلاف قتل کا کیس کر دیا جائے۔” جبریل اب بے حد blunt ہو رہا تھا۔ یہ شاید احسن کا رویہ تھا، جس نے اُس کا سارا لحاظ منٹوں میں غائب کر دیا تھا۔
”تم پہلے یہ طے کرو کہ تمہیں عائشہ سے نفرت ہے کیوں؟ اُس کے عورت ہونے کی وجہ سے؟ بیوی ہونے کی وجہ سے؟ Characterless ہونے کی وجہ سے یا اپنے بیٹے کو مارنے کے شبہ کی وجہ سے؟ تم بیٹھ کر یہ طے کرو کہ تمہاری اتنی گہری نفرت کی وجہ ہے کیا؟” جبریل اُس سے کہتا گیا تھا۔
۔“That’s none of your business” احسن سعد نے درشتی سے کہا تھا۔
”میں تم سے psychiatry پڑھنے نہیں آیا۔” جبریل نے سر ہلایا
۔”Exatctly میں بھی تم سے morality پڑھنے نہیں آیا۔ تم مسلمان ہو، بہت اچھی طرح جانتے ہو کہ جس عورت کو طلاق دے دی گئی ہو، اُس کے حوالے سے کیا ذمّہ داریاں عائد ہوتی ہیں اور اُس میں کم از کم یہ ذمّہ داری شامل نہیں ہے کہ تم ہر مرد کے سامنے بیٹھ کر اس پر کیچڑ اُچھالو۔”
”تم مجھے میرا دین سکھانے کی کوشش مت کرو۔” احسن سعد نے اُس کی بات کاٹ کر بے حد تنّفر سے کہا تھا۔ ”میں حافظ قرآن ہوں، اور تبلیغ کرتا ہوں۔ درجنوں غیر مسلموں کو مسلمان کر چکا ہوں۔ تم مجھے یہ مت بتاؤ کہ میرا دین مجھ پر عورتوں کے حوالے سے کیا ذمہ داری عائد کرتا ہے اور کیا نہیں۔ تم اپنے دین کی فکر کرو کہ ایک نامحرم عورت کے ساتھ افیئر چلا رہے ہو اور مجھ سے کہہ رہے ہو کہ میں اپنی سابقہ آوارہ بیوی کی شان میں قصیدے پڑھوں۔” وہ بات نہیں کر رہا تھا۔ زہر تھوک رہا تھا۔ وہ جبریل کی زندگی میں آنے والا پہلا تبلیغی تھا، جس کی زبان میں جبریل نے مٹھاس کی جگہ کڑواہٹ دیکھی تھی۔
”تمہاری تصویریں میں نے شادی کے بعد بھی اُس کے لیپ ٹاپ میں دیکھی تھیں اور تب اُس نے کہا تھا تم اُس کی بہن کے دوست ہو، تمہارا اور اُس کا کوئی تعلق نہیں۔ لیکن میں غلط نہیں تھا، میرا شک ٹھیک تھا۔ کوئی لڑکی بہن کے بوائے فرینڈ کی تصویریں اپنے laptop میں جمع کر کے نہیں رکھتی ہے۔” احسن سعد کہہ رہا تھا اور جبریل دم بخود تھا۔ ”اور آج تم نے بالآخر بتا دیا کہ یہ affair کتنا پُرانا تھا۔ اسی لئے تو اُس عورت نے جان چھڑائی ہے، میرے بیٹے کو مار کر۔” اُس کی ذہنی حالت اس وقت جبریل کو قابلِ رحم لگ رہی تھی۔ اتنی قابلِ رحم کہ وہ بے اختیار کہنے پر مجبور ہوگیا تھا۔
”احسن اُس نے تمہارے بیٹے کو نہیں مارا۔ وہ سرجری میں ہونے والی ایک غلطی سے مارا گیا۔” اُس کی زبان سے وہ نکلا تھا جو شاید اُس کے لاشعور میں تھا اور جس سے وہ خود نظریں چُراتا پھر رہا تھا۔ احسن کو اس کا جملہ سُن کر کرنٹ لگا تھا اور جبریل پچھتایا تھا۔ وہ ایک برا دن تھا اور اُس بُرے دن کا وہ بدترین وقت تھا۔
”تم کیسے جانتے ہو یہ؟” احسن نے سرسراتی ہوئی آواز میں اُس سے کہا تھا ۔
”کیونکہ میں اُس آپریشن ٹیم کا حصّہ تھا۔” اس بار جبریل نے سوچ سمجھ کر کہا تھا۔ بدترین انکشاف وہ تھا جو ہو چکا تھا۔ اب اس کے بعد کی تفصیلات کا پتہ چل جانا یہ نا چلنا بے معنی تھا۔ احسن دم سادھے اُس کا چہرہ دیکھ رہا تھا۔ ساکت، پلکیں جھپکائے بغیر۔ اُس کے چہرے کا رنگ سانولا تھا یا سُرخ یا زرد۔ چند لمحوں کے لئے جیسے جبریل کے لئے یہ طے کرنا مشکل ہو گیا تھا۔
”وہ سرجری میں نے نہیں کی احسن۔ میں assist کر رہا تھا ڈاکٹر ویزل کو، اور مجھے یہ بھی یقین نہیں ہے کہ سرجری میں واقعی کوئی غلطی ہوئی تھی یا وہ میرا وہم تھا۔” جبریل نے اُس کے سامنے جیسے وضاحت دینے کی کوشش کی تھی۔ احسن سعد وہاں اُسے عائشہ عابدین سے بدگُمان کرنے آیا تھا لیکن اُسے اندازہ نہیں تھا کہ اُسے جواباً جبریل سے کیا پتہ چلنے والا تھا۔
وہ یک دم اُٹھا تھا اور پھر وہاں سے چلا گیا تھا۔ جبریل سکندر وہاں بیٹھا رہ گیا تھا۔
******
۔“Hello back in USA”صبح سویرے اپنے فون کی سکرین پر اُبھرنے والی اس تحریر اور بھیجنے والے کے نام نے رئیسہ کو چند لمحوں کے لئے ساکت کیا تھا۔ اس کے باوجود کہ وہ یہ توقع کر رہی تھی کہ وہ واپس آنے کے بعد اُس سے رابطہ ضرور کرے گا۔ حالات جو بھی تھے، اُن دونوں کے درمیان بہرحال ایسا کچھ نہیں ہوا تھا کہ اُن دونوں کو ایک دوسرے سے چھپنا پڑتا۔ “Welcome Back” کا ٹیکسٹ اُسے بھیجتے ہوئے رئیسہ نے ایک بار پھر خود کو یاد دلایا تھا کہ زندگی میں ہونے والے اُس پہلے بریک اپ کو اُس نے دل پر نہیں لینا تھا اور بار بار خود کو یہ یاد دہانی ضروری تھی۔ درد ختم نہیں ہو رہا تھا، لیکن کم ضرور ہوتا تھا۔ کچھ دیر کے لئے تھمتا ضرور تھا۔
”یونیورسٹی جا رہی ہو؟” وہ نہا کر نکلی تو اُس نے فون پر ہشام کا اگلا ٹیکسٹ دیکھا۔ اُس نے ہاں کا جوابی ٹیکسٹ کرتے ہوئے اُسے اپنے ذہن سے جھٹکنے کی کوشش کی۔
”ملیں؟” اگلا ٹیکسٹ فوراً آیا تھا۔ وہ کارن فلیکس کھاتے ہوئے میز پر پڑے فون پر چمکتے اُس سوال کو دیکھتی رہی۔ کہنا چاہتی تھی۔ اب کیسے؟ مگر لکھا تھا
”نہیں، میں مصروف ہوں۔” کارن فلیکس حلق میں اٹکنے لگے تھے۔ وہ اب اُس کا سامنا نہیں کرنا چاہتی تھی۔ دل سنبھالنے کی ساری کوششوں کے باوجود اُس کا سامنا مشکل ترین تھا۔ وہ روایتی لڑکی نہیں بننا چاہتی تھی۔ نہ گلے شکوے کرنا چاہتی تھی، نہ طنز، نہ جھگڑا، اور نہ ہی اُس کے سامنے رو پڑنا چاہتی تھی وہ بحرین بہرحال اس لئے نہیں گیا تھا کہ بچھڑ جاتا۔
فون کی اسکرین پر جواباً ایک منہ چڑاتی smiley آئی تھی۔ یوں جیسے اُس کے بہانے کا مذاق اُڑا رہی ہو۔ رئیسہ نے اُسے اگنور کیا اور اُسے جواباً کچھ نہیں بھیجا۔
پندرہ منٹ بعد اُس نے اپنے اپارٹمنٹ کے باہر نکلنے پر گاڑی سمیت اُسے وہاں پایا تھا۔ وہ شاید وہیں بیٹھے ہوئے اُسے text بھیج رہا تھا، ورنہ اتنی جلد وہ وہاں نہیں پہنچ سکتا تھا۔ اُسے سرپرائز دینا اچھا لگتا تھا اور رئیسہ کو یہ سرپرائز لینا۔ مگر یہ کچھ دن پہلے کی بات تھی۔
وہ اُس کے بلائے بغیر اُس کی طرف آئی تھی۔ دونوں کے چہروں پر ایک دوسرے کو دیکھ کر خیر مقدمی مسکراہٹ اُبھری۔ حال احوال کا پوچھا گیا، اُس کے بعد رئیسہ نے اُس سے کہا ”مجھے آج یونیورسٹی ضرور پہنچنا ہے، کچھ کام ہے۔” ہشّام نے جواباً کہا۔
”میں ڈراپ کر دیتا ہوں اور ساتھ کچھ گپ شپ بھی لگا لیں گے۔ بڑے دن ہو گئے ہمیں ملے اور بات کیے۔” رئیسہ نے اُس سے نظریں چُرا لیں تھیں۔ مزید کچھ بھی کہے بغیر وہ گاڑی کا دروازہ کھول کر بیٹھ گئی تھی۔
”کیا ہوا؟” ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھتے ہی ہشّام نے اُس کی طرف مڑتے ہوئے بے حد سنجیدگی سے کہا۔
”کیا؟” رئیسہ نے انجان بننے کی کوشش کی،۔ یہ کہنا کہ میں ناخوش ہوں، دل شکستہ ہوں، کیونکہ تم مجھے اُمیدیں دلاتے دلاتے کسی اور لڑکی کو اپنی زندگی میں لے آئے ہو۔ یہ سب کم از کم رئیسہ کی زبان پر نہیں آ سکتا تھا۔
”کیا؟” اُس نے جواباً ہشّام سے پوچھا تھا۔
”تمہارا موڈ آف ہے؟” وہ اب بڑی سنجیدگی سے پوچھ رہا تھا۔
”نہیں، موڈ کیوں آف ہو گا؟” رئیسہ نے جواباً اُس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے کہا۔
”پتہ نہیں، یہی تو جاننا چاہتا ہوں۔” وہ اُلجھا ہوا تھا۔ ”تم کچھ دنوں سے مکمل طور پر غائب ہو میری زندگی سے۔ بحرین سے بھی رابطہ کرنے کی کوشش کی، لیکن تم کال ریسیو نہیں کرتی، نہ ہی میسجز کا جواب دیتی ہو۔ ہوا کیا ہے؟”
”تمہیں کیا لگتا ہے، کیا وجہ ہو سکتی ہے میرے اِس رویّے کی؟” رئیسہ نے جواباً اُس سے پوچھا۔
”مجھے نہیں پتہ۔” ہشّام نے ایک لمحہ کی خاموشی کے بعد کہا تھا۔
”میں اب یہ سب ختم کرنا چاہتی ہوں۔” رئیسہ نے بالآخر اُس سے کہا۔ وہ چونکا نہیں، اُسے دیکھتا رہا پھر سر جھٹک کر بولا۔
”یعنی میرا اندازہ ٹھیک ہے۔ تمہارا موڈ واقعی ہی آف ہے۔” رئیسہ نے اُس کی بات کے جواب میں کچھ کہنے کے بجائے اپنے بیگ سے انگوٹھی کی وہ ڈبیا نکال لی اور گاڑی کے ڈیش بوڑ پر رکھ دی۔ ہشّام بول نہیں سکا۔ گاڑی میں خاموشی رہی، پھر ہشّام نے کہا۔
”تم نے engagement کی خبر پڑھ لی ہے؟”
”اُس سے بھی پہلے مجھے یہی خدشہ تھا، اس لئے اُس خبر سے میں حیران نہیں ہوئی۔” رئیسہ نے مدہم آواز میں اُس سے کہا۔ بڑے ٹھنڈے انداز میں، جس کے لئے وہ ہمیشہ پہچانی جاتی تھی۔
”میں نے تم سے ایک commitment کی تھی رئیسہ، اور میں اپنا وعدہ نہیں توڑوں گا۔ نیوز پیپر میں آنے والی ایک خبر ہم دونوں کے درمیان دیوار نہیں بن سکتی، اتنا کچا رشتہ نہیں ہے یہ۔” ہشّام بڑی سنجیدگی سے کہتا گیا تھا۔
”نیوز پیپر کی خبر کی بات نہیں ہے ہشّام، تمہاری فیملی کے فیصلے کی بات ہے۔ تم اب ولی عہد ہو۔ تمہاری ذمہ داریاں اور تم سے رکھی جانے والی توقعات اور ہیں۔” وہ اُس کی بات پر ہنسا تھا۔
”ولی عہد! میں ابھی تک نہ اپنے اس رول کو سمجھ پایا ہوں اور نہ ہی یہ اندازہ لگا پا رہا ہوں کہ میں اس منصب کے لئے اہل ہوں بھی یا نہیں۔ یہ power politics ہے۔ آج جس جگہ پر ہم ہیں۔ کل ہوں گے بھی یا نہیں، کوئی certainity نہیں۔ اگر مجھے فیصلہ کرنا ہوتا تو میں کبھی یہ عہدہ نہ لیتا مگر یہ میرے باپ کی خواہش ہے۔” وہ اب سنجیدگی سے کہہ رہا تھا۔ رئیسہ نے اُس کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔
”غلط خواہش نہیں ہے۔ کون ماں باپ نہیں چاہیں گے، اپنی اولاد کے لیے ایسا منصب۔ تم خوش قسمت ہو، تمہیں ایسا موقع ملا ہے۔” وہ مدہم آواز میں کہتی گئی۔
”پہلے میں بھی یہی سمجھتا تھا۔” ہشّام نے جواباً کہا۔ ”لیکن اب ایسا نہیں ہے۔ ہر چیز کی ایک قیمت ہوتی ہے۔ کوئی بھی چیز لاٹری میں نہیں ملتی۔ یہ ضروری ہے ولی عہد کے لئے کہ وہ ایک شادی شاہی خاندان میں کرے، وہ بھی پہلی۔ میری اور تمہاری شادی ہو چکی ہوتی تو اور بات تھی۔ لیکن اب نہیں ہو سکتا کہ میں شاہی خاندان میں شادی سے انکار کروں۔ جنہوں نے میرے باپ کی بادشاہت کا فیصلہ کیا ہے، انہوں نے ہی یہ فیصلہ بھی کیا ہے۔ مجھ سے اس بارے میں رائے نہیں لی گئی، بتایا گیا تھا۔” وہ خاموش ہوا۔
”میں اندازہ کر سکتی ہوں اور اسی لئے تم سے کوئی شکایت نہیں کر رہی۔ میرے اور تمہارے درمیان ویسے بھی اتنے عہد و پیمان تو ہوئے بھی نہیں تھے کہ میں تم کو کسی بات کے لئے الزام دیتی۔ اسی لئے ختم کرنا چاہتی ہوں خود یہ سب کچھ۔ تاکہ تم اگر کوئی obligation محسوس کر رہے ہو تو نہ کرو۔ اور میں hurt نہیں ہوں۔” اُس نے بات ختم کی، توقف کیا پھر آخری جملہ بولا۔
”تم ہوئی ہو۔ میں جانتا ہوں اور میں نادم بھی ہوں۔” ہشّام نے اُس کی بات کے اختتام پر کہا۔ ”اور میں یہ سب ختم نہیں کرنا چاہتا، نہ ہی میں تم سے اس لئے ملنے آیا ہوں۔ رئیسہ میں تم سے بھی شادی کروں گا اور یہ بات میں نے اپنی فیملی کو بتا دی ہے اور اُنہیں اعتراض نہیں ہے۔” وہ اُس کی بات پر بے اختیار ہنسی اور ہنستی ہی چلی گئی۔ اتنا کہ اُس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔
”حمین بالکل ٹھیک کہتا تھا۔ پتہ نہیں اُس کی زبان کالی ہے یا وہ ضرورت سے زیادہ عقلمند ہے۔” وہ بالآخر اپنی آنکھیں رگڑتے ہوئے بولی۔ ہشّام پوچھے بغیر نہیں رہ سکا۔
”وہ کیا کہتا ہے؟”
”یہی جو تم ابھی کہہ رہے ہو۔ دوسری شادی۔ وہ کہتا ہے۔ بادشاہ حرم رکھتے ہیں اور حرم کی ملکہ بھی کنیز ہی ہوتی ہے۔”
ہشّام کچھ دیر کے لئے بول نہیں سکا، یوں جیسے لفظ ڈھونڈنے کی کوشش کر رہا ہو۔ پھر اُس نے جیسے مدافعانہ انداز میں کہا۔
”عربوں میں ایسا نہیں ہوتا، اگر بادشاہ کی چار بیویاں بھی ہوں تو بھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔” رئیسہ نے بڑی نرمی سے اُس کی بات کاٹ دی۔
”مجھے کسی بادشاہ سے شادی کرنے کی خواہش نہیں تھی، میں ہشّام سے شادی کرنا چاہتی تھی۔ تمہاری مجبوری ہو سکتی ہے ایک سے زیادہ شادیاں کرنا، میری مجبوری نہیں ہے۔ میں محبت کرتی ہوں لیکن دل کے ہاتھوں اتنی مجبور نہیں ہوں کہ تمہارے علاوہ کسی اور کے بارے میں سوچ ہی نہ سکوں۔” اُس کے لہجے میں وہی practicality تھی جس کے لئے ہشّام اُس کو پسند کرتا تھا۔ مگر آج پہلی بار وہ عقل، وہ سمجھ بوجھ اُسے بُری لگی تھی۔
”اتنا کمزور رشتہ تو نہیں ہے ہمارا رئیسہ۔” اُس نے رئیسہ کی بات کے جواب میں کہا۔
”میرا بھی یہی خیال تھا کہ بہت مضبوط تھا، لیکن میرا خیال غلط تھا۔ میری ممّی کبھی بھی intercultural اور interracial شادیوں کے حق میں نہیں، اور میں سمجھتی تھی یہ bias ہے۔ لیکن آج مجھے احساس ہوا ہے کہ وہ ٹھیک کہتی ہیں۔ تہذیب کا فرق بہت بڑا فرق ہوتا ہے۔” رئیسہ کہہ رہی تھی۔ ”کبھی بھی بہت بڑا مسئلہ بن سکتا ہے جیسے ابھی ہوا۔ لیکن مجھے خوشی ہے کہ یہ سب اب ہوا ہے۔ بعد میں ہوتا تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔” وہ رُکی، ہشّام نے اُس کی بات پوری نہیں ہونے دی۔
”میں تمہاری ممّی سے متفق نہیں ہوں۔ محبت کا رشتہ ہر فرق سے بڑا اور طاقت ور ہوتا ہے۔” رئیسہ نے کہا۔
”مانتی ہوں لیکن وہ تب ہوتا ہے جب مرد کی محبت میرے بابا جیسی pure ہو اور وہ میرے بابا کی طرح اپنے فیصلے پر قائم رہ سکے۔” اُس نے سالار سکندر کا حوالہ دیا تھا، اگر محبت کے بارے میں اُسے کوئی ریفرینس یاد تھا تو وہ اپنے ماں باپ کی آپس میں محبّت ہی کا تھا۔ اور وہ حوالہ ہشّام نے بہت بار سُنا تھا، لیکن آج پہلی بار اُس نے ہشّام کا موازنہ سالار سکندر سے کیا تھا، اور علی الاعلان کیا تھا۔
”میں بھی اپنی محبت میں بہت کھرا ہوں اور تمہارے لئے لڑ سکتا ہوں۔” اُس نے رئیسہ سے کہا تھا۔ اُس کا وہ حوالہ اور موازنہ اُسے پہلی بار شدید بُرا لگا تھا۔ وہ پچھلے کئی ہفتوں سے بحرین میں سر اور پلکوں پر بٹھایا جارہا تھا اور یہاں وہ اُسے ایک ”عام آدمی” کے سامنے چھوٹا گردان رہی تھی۔
”ہاں، تم ہو محبّت میں کھرے۔ لیکن تم لڑ نہیں سکتے ہشّام! نہ مجھے زندگی میں شامل کرنے کے لئے، نہ ہی مجھے اپنی زندگی میں رکھنے کے لئے۔” رئیسہ نے اب گاڑی کا دروازہ کھول لیا تھا۔
”میں پھر بھی اپنے ماں باپ کو تمہارے ماں باپ کے پاس رشتے کے لئے بھیجوں گا اور یہ وقت بتائے گا کہ میں تمہارے لئے لڑ سکتا ہوں یا نہیں۔” گاڑی سے باہر نکلتے ہوئے رئیسہ نے اُسے کہتے سُنا تھا۔ اُس نے پلٹ کر نہیں دیکھا تھا۔ پیچھے کچھ بھی نہیں تھا۔ اُس نے ہشّام کے جملے کو سُنتے ہوئے سوچا تھا۔
******
وہ ایک ہفتہ جبریل سکندر کے لئے عجیب ذہنی انتشار لایا تھا۔ احسن سعد ایک بے حد ڈسٹرب کر دینے والی شخصیت رکھتا تھا اور وہ اُسے بھی ڈسٹرب ہی کر کے گیا تھا۔ اُسے اندازہ نہیں تھا کہ اُس کے اسفند کی سرجری سے متعلقہ انکشاف پر اب وہ کیسے react کرے گا۔ جس بات کا اُسے خدشہ تھا، وہ اُس کیس میں کسی بھی حوالے سے اپنی نامزدگی تھی جو وہ نہیں چاہتا تھا۔ ایک ڈاکٹر کے طور پر اپنے کیریئر کے اس اسٹیج میں اپنے پروفیشن سے متعلقہ کسی سکینڈل یا کیس کا حصّہ بننا اپنے کیریئر کی تباہی کے مترادف تھا۔ لیکن اب اس پر پچھتانے کا فائدہ نہیں تھا۔ جو ہونا تھا، وہ ہو چکا تھا اور اسی ہفتے میں بے حد سوچ و بچار کے بعد اُس نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ وہ عائشہ کو بھی اس سرجری کے حوالے سے وہ سب کچھ بتا دے گا، جو وہ احسن سعد کو بتا چکا تھا۔ ان حالات میں ایسا کرنا بے حد ضروری ہو گیا تھا۔
اُس نے ہفتے کی رات کو اُسے فون کیا تھا، فون بند تھا۔ جبریل نے اُس کے لئے پیغام چھوڑا تھا کہ وہ اُسے کال بیک کرے، آدھ گھنٹہ کے بعد اُس نے عائشہ کا نام اپنی اسکرین پر چمکتا دیکھا۔
کال ریسیو کرنے کے بعد اُن کے درمیان حال احوال کے حوالے سے چند سیکنڈز کی گفتگو ہوئی، پھر جبریل نے اُس سے اگلے دن ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا۔
”کس لئے ملنا چاہتے ہیں آپ؟” عائشہ نے بے تاثر انداز میں اُس سے پوچھا تھا۔
”یہ بات میں آپ کو سامنے بیٹھ کر ہی بتا سکتا ہوں۔” اُس نے جواباً کہا تھا۔ وہ چند لمحے خاموش رہی پھر اُس نے پوچھا تھا کہ وہ کس وقت اُس سے ملنا چاہتا تھا۔
”کسی بھی وقت، جب آپ کے پاس وقت ہو۔” اُس نے جواباً کہا تھا۔
”گیارہ، بارہ بجے؟” عائشہ نے چند لمحے سوچ کر اُس سے کہا۔
۔”Done” اُس نے جواباً کہا اور عائشہ عابدین نے خدا حافظ کہہ کر فون بند کر دیا۔ جبریل فون ہاتھ میں لئے اگلا جملہ سوچتا ہی رہ گیا۔ احسن سعد نے اُس سے کہا تھا کہ اُس نے عائشہ عابدین کے لیپ ٹاپ میں اُس کی تصویریں دیکھی تھیں۔ جبریل کو یاد نہیں پڑتا تھا کہ اُس کے اور عائشہ کے درمیان کبھی تصویروں کا تبادلہ ہوا ہو اور تصویروں کا کوئی تبادلہ تو اُس کے اور نساء کے درمیان بھی نہیں ہوا تھا لیکن نساء کے پاس اُس کی گروپ فوٹوز ضرور تھیں۔ مگر عائشہ اُن تصویروں کو اپنے پاس اس طرح الگ کیوں رکھے ہوئے تھی۔ وہ گروپ فوٹوز ہوتیں تو احسن سعد اُس میں سے صرف جبریل کو پہچان کر اُس پر اعتراض نہ کرتا، یقیناً عائشہ کے پاس اُس کی کچھ الگ تصویریں بھی تھیں، اور وہ تصویریں وہ کہاں سے لے سکتی تھی؟ یقیناً فیس بک سے، جہاں وہ اُس زمانے میں اپنی تصویریں باقاعدگی سے upload کیا کرتا تھا اور اُس سے بھی بڑھ کر حمین۔ وہ اُس کے بارے میں بہت سوچنا نہیں چاہتا تھا، لیکن سوچتا چلا گیا تھا۔ احسن سعد سے ملاقات کے بعد عائشہ عابدین کے لئے اُس کی ہمدردی میں دس گنا اضافہ ہو گیا تھا۔

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: