Aab e Hayat Novel by Umera Ahmed Read Online – Episode 45

0

آب حیات از عمیرہ احمد – قسط نمبر 45

–**–**–

وہ اگلے دن ٹھیک وقت پر اُس کے اپارٹمنٹ کے باہر کھڑا تھا اور پہلی بیل پر ہی عائشہ عابدین نے دروازہ کھول دیا تھا۔ وہ شاید پہلے ہی اُس کی منتظر تھی۔ سیاہ ڈھیلے پاجامے اور ایک بلو ٹی شرٹ کے ساتھ flip flops پہنے، اپنے بالوں کو ایک ڈھیلے جوڑے کی شکل میں سمیٹے، وہ جبریل کو پہلے سے بہتر لگی تھی، اُس کی آنکھوں کے حلقے بھی کم تھے۔ وہ بے حد خوبصورت تھی اور سولہ سال کی عمر میں بھی اُس سے نظریں ہٹانا مشکل ہوتا تھا۔ اُس کا چہرہ اب بھی کسی کی نظروں کو روک سکتا تھا۔ جبریل کو احساس ہوا۔
”وعلیکم السلام۔” وہ اُس کے سلام کا جواب دیتے ہوئے دروازے کے سامنے سے ہٹ گئی۔ اُس نے جبریل کے ہاتھوں میں اُس چھوٹے سے گلدستے کو دیکھا۔ جس میں چند سفید اور گلابی پھول تھے اور اُس کی ساتھ ایک کوکیز کا پیک۔ اُس کا خیال تھا وہ دونوں چیزیں اُسے تھمائے گا۔ لیکن وہ دونوں چیزیں اُٹھائے اندر چلا گیا تھا۔
کچن کاؤنٹر پر اُس نے پہلے پھول رکھے، پھر کوکیز کا وہ پیک اور پھر وہاں پڑے کافی کے اُس مگ کو دیکھا جس میں سے بھاپ اُڑ رہی تھی۔ وہ یقیناً اُس کے آنے سے پہلے وہ پی رہی تھی۔ ایک پلیٹ میں آدھا آملیٹ تھا اور چند چکن ساسیجز۔ وہ ناشتہ کرتے کرتے اُٹھ کر گئی تھی۔
”میں بہت جلدی آ گیا ہوں شاید؟” جبریل نے پلٹ کر عائشہ کو دیکھا جو اب اندر آ گئی تھی۔
”نہیں میں دیر سے جاتی ہوں۔ آج سنڈے تھا اور رات کو ہاسپٹل میں ڈیوٹی تھی۔” اُس نے جواباً جبریل سے کہا۔
”آپ کا سنڈے خراب کر دیا میں نے۔” جبریل نے مسکراتے ہوئے معذرت خواہانہ انداز میں کہا۔ وہ اب لاؤنج میں پڑے صوفہ پر جا کر بیٹھ گیا تھا۔ عائشہ کا دل چاہا اُس سے کہے۔ اُس کی زندگی میں ہر دن پہلے ہی بہت خراب تھا۔ وہ کچھ نہیں بولی تھی اور کچن کاؤنٹر کی طرف چلی گئی۔
”یہ آپ میرے لئے لائے ہیں؟” جبریل نے اُسے پھول اُٹھاتے ہوئے دیکھا۔
”جی!” اُس نے جواباً کہا۔
”اس کی ضرورت نہیں تھی۔” اُس نے جبریل کو دیکھا، پھر اُنہیں ایک vase میں ڈالنے لگی۔
”یہ بھی جانتا ہوں۔” جبریل نے کہا۔ اُن پھولوں کو اُس vase میں ڈالتے ہوئے عائشہ کو خیال آیا کہ وہ شاید دو، ڈھائی سال کے بعد اپنے لئے کسی کے لائے ہوئے پھولوں کو چھو رہی تھی۔آخری بار اُس کے گھر آنے والے پھول اسفند کے لئے اُس کے کچھ عزیز و اقارب کے لائے ہوئے پھول تھے۔ اُس نے ان تکلیف دہ یادوں کو جیسے سر سے جھٹکنے کی کوشش کی۔
”آپ بریک فاسٹ کر لیں، ہم پھر بات کرتے ہیں۔” جبریل کی آواز نے اُسے چونکایا۔ وہ سینٹر ٹیبل پر پڑی اون سلائیاں اُٹھا کر دیکھ رہا تھا۔ بے حد amused انداز میں۔
”یہ آپ کا شوق ہے؟” اُس نے اسکارف کے اُس حصّے کو چھوتے ہوئے کہا، جو ادھ بُنا تھا۔
”وقت گزارنے کی ایک کوشش ہے۔” آملیٹ کی پلیٹ سے آملیٹ کا ایک ٹکڑا کانٹے کی مدد سے اُٹھاتے ہوئے عائشہ نے جواب دیا۔
”اچھی کوشش ہے۔” جبریل نے مسکراتے ہوئے اون سلائیوں کو دوبارہ اُس باکس میں رکھا، جس میں وہ پڑے تھے۔
”آپ یہ کافی لے سکتے ہیں۔ میں نے ابھی بنائی تھی، پی نہیں۔ میں اپنے لئے اور بنالیتی ہوں۔” اُس نے کافی کا مگ لا کر اُس کے سامنے ٹیبل پر پڑے ایک mat پر رکھ دیا تھا۔ وہ خود دوبارہ ناشتہ کرنے کچن کاؤنٹر کے پاس پڑے سٹول پر جاکر بیٹھ گئی تھی۔
”میرا خیال تھا آپ مجھے ناشتے کی بھی آفر کریں گی۔” جبریل نے مسکراتے ہوئے اُس سے کہا۔
”میں نے اس لئے آفر نہیں کی کیونکہ آپ قبول نہیں کرتے۔” اُس نے ساسجز کے ٹکڑے کرتے ہوئے جواباً کہا۔
”ضروری نہیں۔” جبریل نے اصرار کیا۔
”آپ ناشتہ کریں گے؟” ٹھک سے اُس سے پوچھا گیا۔
”نہیں۔” جبریل نے کہا اور پھر بے ساختہ ہنسا۔ ”میں ناشتہ کر کے آیا ہوں، اگر پتہ ہوتا کہ آپ کروا سکتی ہیں تو نہ کر کے آتا۔ Assumptions بڑی نقصان دہ ہوتی ہیں۔” اُس نے کہا۔ عائشہ خاموشی سے اُس کی بات سنتے ہوئے ناشتہ کرتی رہی۔
”میں آپ کی کال کا انتظار کرتا رہا تھا۔ اس توقع کے باوجود کہ آپ کال نہیں کریں گی۔” جبریل نے اُس سے کہا۔ وہ کافی کے سپ لے رہا تھا۔ عائشہ نے چکن ساسجز کا آخری ٹکڑا منہ میں ڈالتے ہوئے اُسے دیکھا۔ اُسے ایک کاغذ پر لکھا ہوا Sorry کا وہ لفظ یاد آ گیا تھا جو وہ اُسے ایک لفافے میں دے کر گیا تھا اور جسے دیکھ کر وہ بے حد الجھی تھی۔ وہ اُس سے کس بات کے لئے معذرت خواہ تھا، کس چیز کے لئے شرمندگی کا اظہار کر رہا تھا۔ لاکھ کوشش کے باوجود وہ کوئی وضاحت، کوئی توجیہہ ڈھونڈنے میں کامیاب نہیں ہوئی تھی اور اتنا اُلجھنے کے باوجود اُس نے جبریل کو فون کر کے اُس ایک لفظ کی وضاحت نہیں مانگی تھی۔ وہ اُس شخص سے راہ و رسم بڑھانا نہیں چاہتی تھی۔ بار بار اُس سے بات کرنا، اُس سے ملنا نہیں چاہتی تھی۔ ہر بار اُس کی آواز، اُس سے ملاقات، عائشہ عابدین کو پتہ نہیں کیا کیا یاد دلانے لگتا تھا۔ کیا کیا پچھتاوا اور احساسِ زیاں تھا جو اُسے ہونے لگتا تھا اور عائشہ اپنے ماضی کے اُس حصّے میں نہیں جانا چاہتی تھی جہاں جبریل سکندر کھڑا تھا۔ وہ closure کر چکی تھی۔
جبریل نے اُسے کچن کاؤنٹر کے پار سٹول پر بیٹھے اپنی خالی پلیٹ پر نظریں جمائے کسی گہری سوچ میں دیکھا۔ اُس نے جبریل کی بات کے جواب میں کچھ نہیں کہا تھا۔ یوں جیسے اُس نے کچھ سُنا ہی نہ ہو۔ جبریل کو سمجھ نہیں آیا وہ اُس سے جو کہنے آیا تھا، وہ کیسے کہے گا۔ اُس وقت اُس نے بے اختیار یہ خواہش کی تھی کہ کاش اُس نے اُس سرجری کے دوران ڈاکٹر ویزل کی وہ غلطی دیکھی ہی نہ ہوتی۔
”آپ کا وزیٹنگ کارڈ مجھ سے کھو گیا تھا۔ مجھے یاد نہیں، وہ میں نے کہاں رکھ دیا تھا۔” وہ بالآخر بولی تھی اور اُس نے بے حد عجیب ایکسکیوز دی تھی اُسے۔ یعنی وہ اُسے یہ بتانا چاہ رہی تھی کہ اُس نے جبریل کا نمبر save نہیں کیا ہوا تھا۔
کچھ کہنے کے بجائے جبریل نے اپنی جیب سے والٹ نکال کر ایک اور وزیٹنگ کارڈ نکالا اور اُسے اون سلائیوں کے اُس ڈبّے میں رکھتے ہوئے کہا۔ ”یہاں سے گم نہ ہو شاید۔” عائشہ نے نظریں چرا لی تھیں۔ وہ پلیٹیں اُٹھاتے ہوئے اُنہیں سِنک میں رکھ آئی۔
”آپ مجھ سے کچھ بات کرنا چاہتے تھے۔” اپنے لئے کافی بناتے ہوئے اُس نے بالآخر جبریل کو وہ ایشو یاد دلایا جس کے لئے وہ یہاں آیا تھا۔
”احسن سعد مجھ سے ملنے آیا تھا۔” کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد جبریل نے اُس سے کہا۔ اُس کا خیال تھا وہ بری طرح چونکے گی۔
”میں جانتی ہوں۔” وہ انتہائی غیر متوقع جواب تھا۔ جبریل چند لمحے بول نہیں سکا۔ وہ اُس کی طرف متوجہ نہیں تھی۔ وہ کافی کو اس انہماک سے بنا رہی تھی جیسے اُس کی زندگی کا مقصد کافی کا وہ کپ بنانا ہی تھا۔
”اُس نے مجھے کال کی تھی۔” جبریل کی خاموشی کو جیسے اُس نے decode کرتے ہوئے مزید کہا۔ جبریل کی سمجھ میں نہیں آیا وہ اب کیا کہے۔ اگر احسن سعد نے اُسے کال کی تھی، جبریل سے ملاقات کے بعد، تو یہ ممکن نہیں تھا کہ اُس نے عائشہ کو اسفند کی سرجری کے حوالے سے اُس کے اعتراف کے حوالے سے کچھ نہ کہا ہو اور اگر اُس نے عائشہ سے ذکر کیا تھا تو عائشہ اس وقت اتنے پرسکون انداز میں اُس کے سامنے کیسے بیٹھی رہ سکتی تھی۔ احسن سعد نے جبریل کے کام کو مشکل سے آسان کر دیا تھا، مگر اب اس کے بعد اگلا سوال جبریل کو سوجھ نہیں رہا تھا۔
وہ اب اپنا کافی کا مگ لئے اُس کے سامنے صوفہ پر آکر بیٹھ گئی تھی۔
”اب آپ کو یہ تو پتہ چل گیا ہوگا کہ میں کتنی گناہ گار اور قابلِ نفرت ہوں۔” عائشہ عابدین کے لہجے میں عجیب اطمینان تھا، یوں جیسے وہ خود پر ملامت نہیں، اپنی تعریف کر رہی ہو۔ جبریل اُسے دیکھتا رہا۔ عائشہ عابدین کی آنکھوں میں کچھ بھی نہیں تھا۔ وہ تکلیف اور درد بھی نہیں جو جبریل نے ہر بار اُس کی آنکھوں میں دیکھا تھا۔ وہ شرمندگی اور ندامت بھی نہیں جو ہر بار اُس کی آنکھوں میں جھلکتی تھی۔ اُس کی آنکھوں میں اب کچھ بھی نہیں تھا۔ اور اُس کے جملے نے جبریل کے سارے لفظوں کو گونگا کر دیا تھا۔
”احسن نے آپ کو یہ بتایا کہ سرجری میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔” جبریل کو پتہ نہیں کیوں شبہ ہوا کہ شاید احسن نے اُسے کچھ نہیں بتایا ورنہ عائشہ عابدین کی زبان پر کچھ اور سوال ہونا چاہیے تھا۔
”ہاں۔” اُس یک لفظی جواب نے جبریل کو ایک بار پھر کچھ بولنے کے قابل نہیں چھوڑا تھا۔ وہ اب اُسے نہیں دیکھ رہی تھی اُس کافی کے مگ سے اُٹھتی بھاپ کو دیکھ رہی تھی جو اُس کے دونوں ہاتھوں میں تھا۔ یوں جیسے وہ ہاتھوں میں کوئی کرسٹل بال لئے بیٹھی ہو، جس میں اپنا مستقبل دیکھنے کی کوشش کر رہی ہو۔ ماضی وہ تھا جسے وہ بھولنے کے علاوہ اور کچھ نہیں کرنا چاہتی تھی اور حال میں اُسے دلچسپی نہیں تھی۔ وہ زندگی کے اُس حصے سے بس آنکھیں بند کر کے گزرنا چاہتی تھی، احسن سعد کی چلّاتی ہوئی آواز اُس کے کانوں میں گونج رہی تھی۔
”گالی… گالی… گالی… اور گالیاں…” وہ فون کان سے لگائے کسی میکانکی انداز میں وہ گالیاں سُن رہی تھی جو کئی سال اُس کی زندگی کے شب و روز کا حصّہ رہی تھیں اور وہ اُنہیں سنتے ہوئے اب immune ہو چکی تھی۔ اُن برے لفظوں کا زہر اب اُس کا کچھ بھی نہیں بگاڑتا تھا۔ نہ اُسے شرم محسوس ہوتی تھی، نہ تذلیل، نہ ہِتک، نہ غصہ، نہ پریشانی۔ طلاق کا کیس چلنے کے دوران، طلاق ہونے کے بعد اور اسفند کی کسٹڈی کے کیس کے دوران بھی احسن کا جب دل چاہتا تھا، وہ اُسے اسی طرح فون کرتا تھا اور یہی سارے لفظ دہراتا تھا، جو اُس نے اب بھی دہرائے تھے۔ وہ کوشش کے باوجود اُس کی کال نہ لینے کی ہمت نہیں کر پاتی تھی۔ نفسیاتی طرف پر وہ اس قدر خائف تھی کہ اُسے یوں لگتا تھا وہ اُس کی کال نہیں سُنے گی تو وہ اُس کے گھر آجائے گا وہ اُسے یہی کہتا تھا اور وہ یہ بھول گئی تھی کہ وہ امریکہ میں تھی۔ اُس کی ایک کال پر پولیس احسن سعد کو کبھی اُس کے گھر کے پاس پھٹکنے بھی نہ دیتی لیکن عائشہ اتنی بہادر ہوتی تو اُس کی زندگی ایسی نہ ہوتی۔Abuse کی ایک قسم وہ تھی جو اُس نے اپنی شادی قائم رکھنے کے لئے، ایک اچھی بیوی اور اچھی مسلمان عورت بننے کی جدوجہد کرتے ہوئے سہی تھی۔ Abuse کی دوسری قسم وہ تھی جو اُس نے اسفند کی زندگی میں باپ نام کی اُس محرومی کو نہ آنے کے لئے سہی تھی، جو خود اُس کی زندگی میں تھی۔
اسفند کے ایک کندھے میں پیدائشی نقص تھا، وہ اپنا بازو ٹھیک سے اُٹھا نہیں پاتا تھا اور وہ slow learner تھا۔ اور اُس کے یہ دونوں ”نقائص” احسن سعد اور اُس کی فیملی کے لئے ناقابلِ یقین اور ناقابلِ معافی تھی۔ اُن کی سات نسلوں میں کبھی کوئی بچّہ کسی ذہنی یا جسمانی نقص کا شکار کبھی نہیں ہوا تھا۔ تو اُن کے گھر میں اسفند کی پیدائش کیسے ہو گئی تھی۔ یہ بھی عائشہ کا قصور تھا۔ اُس کے جینز کا، اُس کے اعمال کا، وہ اُس کا عذاب اور سزا تھی۔ احسن سعد اور اُس کی فیملی کے لئے آزمائش کیوں بنا تھا۔ اور عائشہ کے کھوکھلے لفظ اب بالکل گونگے ہو گئے تھے۔ اُسے بھی یقین تھا اُس کی اولاد کی یہ تکلیف اُس کے کسی گناہ کا نتیجہ تھی پر کیا گناہ؟ یہ سوال وہ تھا جس کا جواب اُسے نہیں ملتا تھا۔ اور اُس معذور اولاد کے ساتھ اُس نے احسن سعد کی اطاعت کی ہر حد پار کر لی تھی۔ صرف اس لئے، کیونکہ اُسے لگتا تھا اُس کے بیٹے کو باپ کی ضرورت تھی۔ وہ اکیلی اُسے کیسے پالتی؟ وہ اسفند کی پیدائش کے بعد امریکہ آ گئی تھی اور یہاں احسن نے اُسے ریذیڈنسی کرنے کے لئے کہا تھا کیونکہ وہ financially اتنی ذمہ داریاں پوری نہیں کر سکتا تھا۔ عائشہ نے سوچے سمجھے بغیر اپنی تعلیم کا سلسلہ دوبارہ شروع کر دیا تھا۔ وہ یہ نہیں سمجھ سکی تھی کہ احسن کو یک دم ایسے کون سے finances نظر آنے لگے تھے جس کے لئے اس کا کام کرنا بھی ضروری تھا۔ اور وہاں آنے کے ایک سال بعد اُسے پتہ چلا تھا کہ اُس کے امریکہ آنے کے چند مہینے بعد ہی احسن نے پاکستان میں دوسری شادی کر لی تھی۔ وہ اب بہت frequently پاکستان آ جا رہا تھا اور عائشہ کو کبھی شک نہیں ہوا تھا کہ اُس کی زندگی میں کوئی دوسری عورت آ چکی تھی۔ وہ انکشاف کسی نے اُس کی فیملی کے سامنے کیا تھا جو احسن سعد کی دوسری بیوی اور اُس کے خاندان کو جانتا تھا۔ عائشہ عابدین کو سمجھ ہی نہیں آئی تھی کہ وہ اس خبر پر کس ردِّ عمل کا اظہار کرتی۔ یہ سب فلموں اور ڈراموں میں ہوتا تھا مگر اُس کے ساتھ ہوا تھا تو اُسے فلمیں اور ڈرامے بھی ہیچ لگنے لگے تھے۔
احسن سعد نے بے حد ڈھٹائی سے دوسری شادی کا اعتراف کیا تھا اور اُسے بتایا تھا کہ وہ مسلمان ہے اور چار شادیاں بھی کر سکتا تھا اور یہاں تو اُس کے پاس ایک بے حد مضبوط وجہ تھی کہ اُس کی بیوی اُسے صحت مند اولاد نہیں دے سکتی تھی جو اُس کی دوسری بیوی اُسے دے گی۔ زندگی میں وہ پہلا لمحہ تھا جب عائشہ عابدین تھک گئی تھی اور اُس نے احسن سعد اور اُس کی فیملی کے بجائے اپنی فیملی کی بات مانتے ہوئے اُس سے علیحدگی کا فیصلہ کیا تھا۔ اور اُس فیصلے نے احسن سعد کے ہوش اُڑا دیے تھے۔ اُسے عائشہ عابدین سے ایسے ردّعمل کی توقع نہیں تھی۔ اسفند کے نام کچھ جائیداد تھی جو عائشہ کے نانا نے عائشہ کے نام کرنے کے بجائے جائیداد کی تقسیم کے دوران اُس کے بیٹے کے نام gift کی تھی اور عائشہ کے احسن سعد کے لئے valuable ہونے کی یہ بڑی وجہ تھی۔ اُسے عائشہ کے کردار پر شک تھا، اُس کی بے عمل اور بے ہدایتی پر شکایت تھی، لیکن اس سب کے باوجود وہ عائشہ کو آزاد کرنے پر تیار نہیں تھا۔ مگر اُس کا کوئی حربہ کارگر نہیں ہوا تھا۔ عائشہ کی طلاق کی proceedings کے دوران پاکستان میں احسن سعد کی دوسری بیوی نے بھی شادی کے آٹھ ماہ بعد خلع کا کیس فائل کر دیا تھا۔احسن سعد اور اس کی فیملی نے اس کے بعد کچھ مشترکہ فیملی فرینڈز کے ذریعے مصالحت کی بے انتہا کوشش کی تھیں مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عائشہ کی فیملی نے ایسی کسی کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دیا تھا، اور عائشہ اس سارے عرصہ میں ایک کیچوے کی مانند رہی تھی۔ جو ہو رہا تھا، وہی ہونا چاہیے تھا۔ مگر جو بھی ہو رہا تھا، وہ خود نہیں کرنا چاہتی تھی۔ وہ تب بھی یہ فیصلہ نہیں کر پا رہی تھی کہ وہ صحیح کر رہی تھی یا غلط۔ اللہ کے نزدیک اُس کا یہ عمل گناہ تھا یا نہیں۔ اور اگر وہ گناہ تھا تو وہ چاہتی تھی یہ گناہ کوئی اور اپنے سر لے لے لیکن اُسے احسن سعد سے نجات دلا دے۔
جس دن اُس کی طلاق فائنل ہوئی تھی، اُس دن اُس نے حجاب اُتار دیا تھا۔ کیونکہ اُسے یقین تھا اب وہ کتنی بھی نیکیاں کر لے، وہ اللہ کی نظروں میں گناہ گار ہی تھی۔ احسن سعد نے ایک لڑکی کی زندگی تباہ نہیں کی تھی، اُس نے اُسے اُس دین سے بھی برگشتہ کر دیا تھا۔ جس کی پیروکار ہونے پر عائشہ عابدین کو فخر تھا۔
”تمہارے یار کو بتا آیا ہوں تمہارے سارے کرتوت۔” احسن سعد نے فون پر دھاڑتے ہوئے اُس سے کہا تھا۔ ”تم کیا پلان کر رہی ہو کہ میرے بیٹے کو مار کر تم اپنا گھر بساؤ گی، رنگ رلیاں مناؤ گی۔ میں تو صرف تمہیں جیل نہیں بھیجوں گا، تمہارے اس یار کو بھی بھیجوں گا جس نے میرے بیٹے کا آپریشن کر کے جان بوجھ کر اُسے مارا اور اُس نے اپنی زبان سے مجھے بتایا ہے۔” وہ بکتا، جھکتا، بولتا ہی چلا گیا اور وہ سنتی رہی تھی۔
”عائشہ!” جبریل کی آواز نے ایک بار پھر اُسے چونکایا۔ اُس کے ہاتھوں میں موجود کافی کے مگ سے اب بھاپ اُٹھنا بند ہو چکی تھی۔ کافی ٹھنڈی ہو چکی تھی۔ عائشہ نے سر اُٹھا کر جبریل کو دیکھا۔ وہ اب اُسے بتا رہا تھا کہ اس آپریشن کے دوران کیا ہوا تھا۔ اور اُسے یقین نہیں تھا، صرف اس کا اندازہ تھا کہ ڈاکٹر ویزل سے اُس آپریشن میں کچھ غلطیاں ہوئی تھیں اور قصوروار نہ ہونے کے باوجود وہ اپنے آپ کو مجرم محسوس کر رہا تھا۔ یہ اُس کی بے وقوفی ہی تھی کہ وہ یہ انکشاف احسن سعد کے سامنے کر بیٹھا تھا۔
”آپ پریشان نہ ہوں۔ آپ کو کچھ نہیں ہو گا۔ احسن سعد آپ کو نقصان نہیں پہنچائے گا۔” اُس کی بات کے اختتام پر عائشہ کی زبان سے نکلنے والے جملے نے جبریل کو حیران کر دیا تھا۔ وہ اُسی طرح پرسکون تھی۔ وہ اگر ایک شدید جذباتی ردّعمل کی توقع کر رہا تھا تو ایسا نہیں ہوا تھا۔ کسی غصّے کا اظہار، کوئی ملامتی لفظ! کچھ بھی نہیں! وہ جواباً اُسے تسلّی دے رہی تھی کہ اُسے کچھ نہیں ہو گا۔
”میں نے احسن کو بتا دیا ہے کہ میں اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کو مانتے ہوئے کورٹ میں اسفند کے قتل کا اعتراف کر لوں گی۔” اُس کے اگلے جملے نے جبریل کا دماغ جیسے بھک سے اُڑا دیا تھا۔
******
”تم سے کوئی ملنے آیا ہے۔” جیل کے ایک سنتری نے ایک راہداری جتنی لمبی بیرک کی ایک دیوار کے ساتھ چادر زمین پر ڈال کر سوئے اُس بوڑھے آدمی کو بڑی رعونت کے عالم میں اپنے جوتے کی ٹھوکر سے جگایا تھا۔ وہ ہڑبڑایا نہیں، ویسے ہی پڑا رہا اور لیٹے لیٹے اُس نے آنکھیں کھول کر سر پر کھڑے اُس سنتری کو دیکھا۔ اُسے یقین تھا اُسے کوئی غلط فہمی ہوئی تھی۔ اُس سے ملنے کون آ سکتا تھا۔ پچھلے بارہ سالوں سے تو کوئی نہیں آیا تھا، پھر اب کون آئے گا۔
”ار ے اُٹھ! مرا پڑا ہے سُنا نہیں ایک بار کہ کوئی ملنے آیا ہے۔” سنتری نے اس بار کچھ زیادہ طاقت سے اُسے ٹھوکر ماری تھی، وہ اُٹھ کے بیٹھ گیا۔
” کون آیا ہے؟” اُس نے سنتری سے پوچھا۔
”وہی میڈیا والے کُتّے۔” سنتری نے گالی دی۔ ”سزائے موت کے قیدیوں سے انٹرویو کرنا ہے اُنہیں۔” اُس نے ایک بار پھر لیٹنے کی کوشش کی لیکن سنتری کے ہاتھ میں پکڑے ڈنڈے کی حرکت نے اُسے مجبور کر دیا کہ وہ اُس کے ساتھ چل پڑے۔ وہ ان میڈیا والوں سے بے زار تھا اور NGO والوں سے بھی جو وقتاً فوقتاً وہاں سروے کرنے آتے تھے۔ اُن کے حالاتِ زندگی جاننے، اُن کے جرم کی وجوہات کریدنے، جیل کے حالات کے بارے میں معلومات حاصل کرنے۔ وہ جیسے سرکس کے جانور تھے جنہیں اُن کے سامنے پیش ہو کر بتانا پڑتا کہ انہوں نے جو کیا، کیوں کیا؟ کیا اب اُنہیں پچھتاوا تھا؟ اور کیا اُنہیں اپنے گھر والے یاد آتے تھے؟
بے زاری کے ساتھ لڑکھڑاتے قدموں سے وہ اُس سنتری کے پیچھے چلتا گیا جو اُسے بیرک سے نکال کر ملاقاتیوں والی جگہ کے بجائے جیلر کے کمرے میں لے آیا تھا۔ اور وہاں غلام فرید نے پہلی بار اُن چار افراد کو دیکھا، جن میں سے دو گورے تھے اور دو مقامی خواتین۔ وہ چاروں انگلش میں بات کر رہے تھے اور غلام فرید کے اندر داخل ہوتے ہی اُن کے اور جیلر کے درمیان کچھ بات چیت ہوئی اور پھر جیلر اُس سنتری کے ہمراہ وہاں سے چلا گیا۔
”غلام فرید؟” ایک عورت نے جیسے تصدیقی انداز میں اُس سے پوچھا تھا۔ غلام فرید نے سر ہلایا۔ ”بیٹھو!” اُسی عورت نے اشارے سے سامنے پڑی ایک کُرسی پر اُسے بیٹھنے کے لئے کہا۔ غلام فرید کچھ نروس ہوا تھا، لیکن پھر وہ جھجھکتا، سکڑتا، سمٹتا، اُن کے سامنے پڑی کُرسی پر بیٹھ گیا تھا۔ ایک گورے نے اُس کے بیٹھتے ہی ہاتھ میں پکڑے ایک فون سے اُس کی کچھ تصویریں لی تھیں۔ جس عورت نے اُس سے گفتگو کا آغاز کیا تھا وہ اب پنجابی میں اُس سے پوچھ رہی تھی کہ وہ کس جرم میں کب وہاں آیا تھا۔ غلام فرید نے رٹے رٹائے طوطے کی طرح اُس کے ان دس بارہ سوالات کا جواب دیا تھا، اور پھر انتظار میں بیٹھ گیا تھا کہ وہ اب ان بنیادی سوالات کے بعد ایک بار پھر سے اُس کے مجرم کو کُریدنا شروع کریں گے پھر جیل میں اُس کی زندگی کے بارے میں پوچھیں گے اور پھر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مگر اُس کی توقع غلط ثابت ہوئی تھی۔ انہوں نے اُس کی زبانی اُس کا نام، ولدیت، رہائش، جرم کی نوعیت اور جیل میں آنے کے سوال کے بعد اُس سے پوچھا تھا۔
”جیل سے باہر آنا چاہتے ہو غلام فرید؟” وہ گورا تھا مگر اُس سے شستہ اُردو میں بات کر رہا تھا۔ غلام فرید کو لگا اُسے سننے میں کچھ دھوکہ ہوا تھا۔
”جیل سے باہر آنا چاہتے ہو؟” اُس آدمی نے جیسے اُس کے چہرے کے تاثرات پڑھ لئے تھے۔
جیل سے باہر؟ غلام فرید نے سوچا، ایک لمحہ کے لئے۔ کیا وہ جیل سے باہر آنا چاہتا تھا؟ پھر اُس نے نفی میں سر ہلایا۔جو اُس آدمی کے لئے جیسے غیر متوقع تھا۔
”کیوں؟” اُس نے بے ساختہ پوچھا تھا۔
”باہر آ کر کیا کروں گا؟” غلام فرید نے جواباً کہا تھا۔
”نہ کوئی گھر ہے، نہ خاندان۔ اور اس عمر میں محنت مزدوری نہیں ہوتی۔ جیل ٹھیک ہے۔ یہاں سب ملتا ہے۔” غلام فرید نے کہا تھا۔ اُس نے سوچا تھا اب سروے کے سوال بدل گئے تھے۔
”اگر تمہیں ڈھیر سا پیسہ، ایک شاندار سا گھر اور ایک بیوی بھی مل جائے تو بھی باہر آنا نہیں چاہتے؟ زندگی نئے سرے سے شروع کرنا نہیں چاہتے؟” اس بار دوسری عورت نے اُس سے کہا تھا۔
بہت سارا پیسہ؟ غلام فرید نے سوچا۔ بہت سارے پیسے کی خواہش نے ہی تو مسئلہ پیدا کیا تھا اُس کے لئے۔ اُسے پتہ نہیں کیا کیا یاد آیا تھا۔ اتنے سال گزر جانے کے بعد بھی جب وہ سوچتا تھا تو اُسے سب یاد آجاتا تھا۔ اپنی کڑوی زبان والی بیوی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جس کے وہ عشق میں گرفتار تھا اور جو کبھی شہد جیسی میٹھی تھی۔ اور وہ بچے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک دو سال کے وقفے سے باری باری پیدا ہونے والے نو بچّے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جن میں سے چند بڑوں کے علاوہ اُسے اب کسی کا نام اور شکل یاد نہیں تھی۔ وہ مولوی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جو اُس کا دشمن تھا اور وہ سود۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جو ختم ہی نہیں ہوتا تھا۔ اُسے آج بھی وہ رقم یاد تھی جو اُس نے سود پر لی تھی اور وہ رقم بھی جو بڑھتے بڑھتے اتنی بڑھ گئی تھی کہ ایک دن وہ اپنا ذہنی توازن ہی کھو بیٹھا تھا۔
”سالار سکندر یاد ہے تمہیں؟” اُس کو خاموش دیکھ کر اُس گورے نے غلام فرید سے پوچھا تھا۔ غلام فرید کی آنکھوں میں ایک عجیب سی وحشت آئی تھی۔ جھریوں سے بھرے چہرے، بڑھے بالوں اور بے ترتیب داڑھی کے ساتھ پھٹے پرانے، ملگجے کپڑوں میں وہاں ننگے پاؤں بیٹھے بھی اُسے سالار سکندر یاد تھا اور اُس کا باپ۔ اور وہ نفرت بھی جو اُس کے دل میں اُن کے لئے تھی اور بہت سے اُن دوسرے لوگوں کے لئے بھی جنہوں نے اُس کا استعمال کیا تھا۔
غلام فرید نے زمین پر تھوکا تھا۔ کمرے میں بیٹھے چاروں افراد کے چہروں پر مسکراہٹ اُبھری۔
******
”میرے بچپن میں، میری زندگی میں، جتنا بڑا رول آپ لوگوں کی فیملی کا تھا، پچھلے پانچ سالوں میں اتنا ہی بڑا رول اس شخص کا ہے۔” عبداللہ نے عنایہ کو بتایا تھا۔ چند ہفتوں بعد ہونے والی اپنی منگنی سے پہلے یہ اُن کی دوسری ملاقات تھی۔ عنایہ ایک سیمنار میں شرکت کے لئے کیلی فورنیا آئی تھی اور عبداللہ نے اُسے ڈنر پر بلایا تھا۔ وہ اُسے ڈاکٹر احسن سعد سے ملوانا چاہتا تھا جو اُسی کے ہاسپٹل میں کام کرتے تھے اور وہ ہمیشہ سے اُن سے بہت متاثر تھا۔ عنایہ نے کئی بار اُس سے پچھلے سالوں میں اس شخص کے حوالے سے سُنا تھا جس سے وہ اب تھوڑی دیر میں ملنے والی تھی۔
”مسلمان ہونا آسان تھا میرے لئے۔ لیکن مسلمان رہنا اور بننا بڑا مشکل تھا۔ ڈاکٹر احسن نے یہ کام بڑا آسان کر دیا میر ے لئے۔ جبریل کے بعد یہ دوسرا شخص ہے جسے میں رول ماڈل سمجھتا ہوں کہ وہ دین اور دُنیا دونوں کو ساتھ لے کر چل رہے ہیں۔” عبداللہ بڑے پرجوش انداز میں عنایہ کو بتا رہا تھا اور وہ مسکراتے ہوئے سُن رہی تھی ۔ عبداللہ جذباتی نہیں تھا، بےحد سوچ سمجھ کر بولنے والوں میں سے تھا اور کسی کی بے جا تعریف کرنے والوں میں سے نہیں تھا۔
”کچھ زیادہ ہی متاثر ہو گئے ہو تم اُن سے۔” عنایہ کہے بغیر نہیں رہ سکی تھی۔ وہ ہنس پڑا۔
”تم jealous تو نہیں ہو رہی؟” اُس نے عنایہ کو tease کیا۔
”ہوئی تو نہیں، لیکن ہو جاؤں گی۔” اُس نے جواباً مسکراتے ہوئے کہا،
”مجھے یقین ہے، تم اُن سے ملو گی تو تم بھی میری ہی طرح متاثر ہو جاؤ گی اُن سے۔” عبداللہ نے کہا۔
”میں اپنے نکاح میں ایک گواہ اُنہیں بناؤں گا۔” عنایہ اس بار قہقہہ مار کر ہنسی تھی۔
”عبداللہ! تم اس قدر inspired ہو اُن سے؟ مجھے تھوڑا بہت تو اندازہ تھا لیکن اس حد تک نہیں۔ مجھے اب اور اشتیاق ہو رہا ہے اُن سے ملنے کا۔” عنایہ نے اُس سے کہا۔ ”وہ یقیناً بڑے اچھے شوہر بھی ہوں گے۔ اگر تم نکاح میں بھی اُنہیں گواہ بنانا چاہتے ہو تو۔” عنایہ کو مزید تجسس ہوا تھا۔
”بس اس ایک معاملے میں خوش قسمت نہیں رہے وہ۔” عبداللہ یک دم سنجیدہ ہو گیا۔ ”اچھی بیوی ایک نعمت ہوتی ہے اور بُری ایک آزمائش۔ اور اُنہیں دو بار اس آزمائش سے گزرنا پڑا۔ اُن کی نرمی اور اچھائی کا ناجائز فائدہ اُٹھایا اُن کی بیویوں نے۔” عبداللہ کہہ رہا تھا۔
۔”Ohhh that’s sad” عنایہ نے کریدے بغیر افسوس کا اظہار کیا۔
”تمہیں پتہ ہے، تم سے شادی کے لئے بھی میں نے اُن سے بہت دُعا کروائی تھی اور دیکھ لو اُن کی دعا میں کتنا اثر ہے۔ ورنہ تمہارے پیرنٹس آسانی سے ماننے والے تو نہیں تھے۔” عبداللہ اب بڑے فخریہ انداز میں کہہ رہا تھا۔
”میرے پیرنٹس کسی کی دعاؤں کے بجائے تمہارے کردار اور اخلاص سے متاثر ہوئے ہیں عبداللہ۔” عنایہ نے اُسے جتایا۔
اسے اپنی بے یقینی کا وہ عالم ابھی بھی یاد تھا جب چند مہینے پہلے عبداللہ سے پاکستان میں ملنے کے بعد امامہ نے اُسے فون کیا تھا اور اُسے بتایا تھا کہ انہوں نے اُس کا رشتہ امریکہ میں مقیم ایک ہارٹ سرجن کے ساتھ طے کر دیا تھا،۔وہ کچھ دیر کے لئے بھونچکا رہ گئی تھی۔ اس سے پہلے جو بھی پروپروزلز اُس کے لئے زیر ِغور آتے تھے، عنایہ سے مشورہ کیا جاتا تھا اور پھر اُسے ملوایا جاتا تھا۔ یہ پہلا پروپوزل تھا، جس کے بارے میں اُسے اُس وقت اطلاع دی جا رہی تھی جب رشتہ طے کر دیا گیا تھا۔ عجیب صدمے کی حالت میں اُس نے امامہ سے کہا تھا۔
ً”مگر ممّی آپ کو مجھے پہلے ملوانا چاہیے تھا اُس سے۔ اُس کے بارے میں تو مجھ سے کچھ پوچھا تک نہیں آپ نے۔”
”تمہارے بابا نے بات طے کی ہے۔” امامہ نے جواباً کہا۔عنایہ خاموش ہو گئی۔ عجیب دھچکا لگا تھا اُسے۔
” تم نہیں کرنا چاہتی؟” امامہ نے اُس سے پوچھا تھا۔
”نہیں میں نے ایسا نہیں کہا، پہلے بھی آپ لوگوں ہی کو کرنا تھا، تو ٹھیک ہے۔” عنایہ نے کچھ بجھے دل کے ساتھ کہا تھا۔ اُسے عبداللہ یاد آیا تھا اور بالکل اُسی لمحے امامہ نے اُس سے کہ۔
”عبداللہ نام ہے اُس کا۔” نام سُن کر بھی لحظہ بھر کے لئے بھی اسے یہ خیال نہیں آیا تھا کہ وہ ایرک عبداللہ کی بات کر رہی تھیں۔ امامہ اس قدر کٹر مخالف تھیں ایرک عبداللہ سے شادی کی کہ عنایہ یہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ وہ جس عبداللہ کا اتنے دوستانہ انداز میں ذکر کر رہی تھیں، وہ وہی تھا۔
۔”Ok” عنایہ نے بمشکل کہا۔
” تم سے ملنا بھی چاہتا ہے وہ۔ نیویارک آیا ہوا ہے۔ میں نے اُسے تمہارا ایڈریس دیا تھا۔” امامہ کہہ رہی تھی۔ عنایہ نے بے ساختہ کہا۔
”ممّی پلیز! اب اس طرح میرے سر پر مت تھوپیں اُسے کہ آج مجھے رشتہ طے ہونے کی خبر دے رہی ہیں اور آج ہی مجھے اُس سے ملنے کا بھی کہہ رہی ہیں۔ ویسے بھی اب رشتہ طے ہو گیا ہے، ملنے، نہ ملنے سے کیا فائدہ ہو گا۔” اُس نے جیسے اپنے اندر کا غصّہ نکالا تھا۔
”اُس کی فیملی بھی شاید ساتھ ہو۔ اُس کی ممّی سے بات ہوئی ہے میری۔ اگلے ٹرپ پر میں بھی ملوں گی اُس کی فیملی سے۔ منگنی کا فارمل فنکشن تو چند مہینوں بعد ہو گا۔” امامہ نے اس طرح بات جاری رکھی تھی جیسے اُس نے عنایہ کی خفگی کو نوٹس ہی نہیں کیا تھا۔
عنایہ صدمہ کی حالت میں اگلے ایک گھنٹے تک وہیں بیٹھی رہی تھی اور ایک گھنٹے کے بعد اُس کے دروازے پر بیل بجنے پر اُس نے جس شخص کو دیکھا تھا، اُسے لگا تھا سردیوں کے موسم میں ہر طرف بہار آ گئی تھی۔ گلاب کا ایک ادھ کھلا پھول ٹہنی سمیت اُسے پکڑاتے ہوئے دروازے پر ہی اُس نے عنایہ سے پھاوڑا مانگا تھا تاکہ اُس کے دروازے کے باہر پڑی برف ہٹا سکے۔ وہ کئی سالوں بعد مل رہے تھے اور عنایہ کو وہیں ایرک یاد آیا تھا جو اکثر اُن کے گھر میں لگے پھول ہی توڑ توڑ کر اُس کو اور امامہ کو لا کر دیا کرتا تھا اور جس کی favorite hobby سردیوں میں اپنے اور اُن کے گھر کے باہر سے برف ہٹانا تھی۔
۔”He is here” عبداللہ کی آواز اُسے خیالوں سے باہر لے آئی تھی۔ وہ ریسٹورنٹ کے دروازے پر نمودار ہونے والے کسی شخص کو دیکھتے ہوئے کھڑا ہوا تھا۔ عنایہ نے گردن موڑ کر دیکھا۔ وہ احسن سعد سے اُس کی پہلی ملاقات تھی۔ اُسے اندازہ نہیں تھا اُس سے ہونے والا اگلا سامنا اُس کی زندگی میں کتنا بڑا بھونچال لانے والا تھا۔
******
”تمہارے لئے کوئی لڑکی دیکھیں؟”امامہ نے حمین سے اُس صبح ناشتے کی ٹیبل پر کہا تھا۔ وہ اُن کے پاس چند دنوں کے لئے پاکستان آیا ہوا تھا۔ یہ اُس کی روٹین میں شامل تھا، بنا بتائے کچھ دنوں کے لئے امامہ اور سکندر عثمان سے ملنے آ جانا۔ اپنی زندگی اور بزنس کی بے پناہ مصروفیات میں بھی وہ کبھی یہ نہیں بھولتا تھا۔
”صرف ایک لڑکی؟” حمین نے بڑی سنجیدگی سے امامہ سے کہا جو اُس کی پلیٹ میں کچھ اور آملیٹ ڈال رہی تھی۔ وہ پچھلے کچھ عرصہ سے ہر بار اُس کے پاکستان آنے پر اسے شادی کے حوالے سے کچھ نہ کچھ کہتی رہتی تھی۔ وہ ہنس کر ایک کان سے سُن کر دوسرے کان سے نکال دیتا تھا۔
”میں سیریس ہوں۔ مذاق کے موڈ میں نہیں ہوں۔” امامہ نے اُسے گھورا تھا۔
”باقی تینوں میں سے ہر ایک آزاد پھر رہا ہے، تو میں نے کیا گناہ کیا ہے۔” حمین نے اُس سے کہا تھا۔
”جبریل کے پاس ابھی شادی کے لئے وقت نہیں۔ عنایہ کی تو ریذیڈنسی مکمل ہوتے ہی کر دوں گی۔ رئیسہ اور تمہارے لئے اب تلاش شروع کرتی ہوں۔” امامہ نے اپنے لئے کپ میں چائے ڈالتے ہوئے کہا۔
۔”You should do something more productive” حمین نے اُسے چھیڑا۔
”مثلاً؟” اُس نے جواباً بڑی سنجیدگی سے اُس سے پوچھا۔
”ڈھونڈتا ہوں آپ کے لئے کوئی productive کام۔” حمین نے آملیٹ کا آخری ٹکڑا منہ میں ڈالتے ہوئے کہا۔
”یہاں کرنے کے لئے کچھ بھی نہیں ہے اور اس عمر میں نئے سرے سے کوئی activity ڈھونڈنا مشکل ہوتا ہے۔ اتنے سالوں سے ایک routine کی عادی ہوں اور پاپا کو اس طرح گھر چھوڑ کر میں کوئی activity ڈھونڈنا بھی نہیں چاہتی۔” امامہ نے اُس سے بڑی سنجیدگی سے کہا۔ یوں جیسے اُسے خدشہ ہو، وہ واقعی اُس کے لئے کوئی activity ڈھونڈنے نہ چل پڑے۔ وہ تھا بھی تو ایسا ہی۔
حمین نے امامہ کو بڑے پیار سے دیکھا۔ وہاں اسلام آباد کے ایک گھر میں اپنی منتخب کردہ گوشہ نشینی کی زندگی گزارتے ہوئے بھی وہ اُن سب کی زندگی کا محور تھیں۔ حمین نے جو سال بچپن میں یہاں سالار اور جبریل کی عدم موجودگی میں امامہ کے ساتھ گزارے تھے، وہ اُن دونوں کو بہت قریب لے آئے تھے۔ وہ اس سے پہلے اپنے ہر دکھ سکھ کی بات جبریل سے کرنے کی عادی تھی، اب حمین سے کرنے لگی تھی۔ اُس نے امامہ کی بات سننے اور ماننے کی عادت اُن ہی سالوں میں سیکھی تھی۔
”ممّی! آپ نے فیملی کے لئے سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں۔” حمین نے یک دم پتہ نہیں کس ذہنی رو میں اُس سے کہا تھا۔ وہ اُس کی بات پر چائے کا سپ لیتے لیتے مسکرا دی تھی۔
”ہمیشہ عورت ہی دیتی ہے حمین۔ میں نے کوئی الگ کام نہیں کیا۔” اُس نے بڑی لاپرواہی سے حمین سے کہا تھا۔
”اگر آپ کو کبھی اپنے جیسی کوئی عورت ملے تو مجھے اُس سے ضرور ملوائیں۔ ہو سکتا ہے، میں شادی کر لوں اُس سے، بلکہ فوراً کر لوں گا۔” اُس نے کہا۔ امامہ بڑے پراسرار انداز میں مسکرائی۔
”یہ تو کام بڑا آسان کر دیا ہے تم نے، میرے لئے۔” وہ بھی مسکرایا۔
”تمہارے ساتھ چلنا اور زندگی گزارنی بھی بہت مشکل ہو گا حمین، تم بھی کام کے معاملے میں اپنے بابا جیسے ہو۔ workaholic جو کام سامنے ہونے پر سب کچھ بھول بیٹھے۔” امامہ نے اُس سے کہا تھا۔ ”بابا سے موازنہ نہ کریں میرا۔ اُن کی اور میری سپیڈ میں بہت فرق ہے۔” وہ خوش دلی سے ہنسا تھا۔
”رئیسہ اچھی لڑکی ہے۔” امامہ نے یک دم کہا تھا۔ حمین کو سمجھ نہیں آئی۔ اُنہیں بیٹھے بٹھائے رئیسہ کیوں یاد آ گئی تھی۔ امامہ نے بھی اُس سے آگے کچھ نہیں کہا تھا۔
”ہاں! رئیسہ بہت اچھی لڑکی ہے۔” اُس نے بھی سوچے سمجھے بغیر ماں کی بات کی تائید کی تھی اور اُسے ہشّام اور رئیسہ کا مسئلہ یاد آ گیا تھا، جسے ڈسکس کرنے کے لئے وہ امامہ کے پاس آیا تھا۔ مگر اگلے دن سکندر عثمان کی اچانک موت نے اُسے یہ کرنے نہیں دیا۔
******

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: