Aab e Hayat Novel by Umera Ahmed Read Online – Episode 46

0

آب حیات از عمیرہ احمد – قسط نمبر 46

–**–**–

سکندر عثمان اُن سب کی زندگی سے بے حد خاموشی سے چلے گئے تھے۔ وہ حمین کی وہاں آمد کے دوسرے دن نیند سے نہیں جاگے تھے۔ اُس وقت اُس گھر پر صرف امامہ اور حمین ہی تھے، طیبہ امریکہ میں تھیں۔
اُس رات حمین سکندر عثمان کے پاس بہت دیر تک بیٹھا رہا تھا۔ ہمیشہ کی طرح۔ وہ جب بھی یہاں آتا تھا امامہ اور اُن کے لئے ہی آتا تھا۔ سکندر عثمان سے وہ سالار کے دوسرے بچوں کی نسبت زیادہ اُنسیت رکھتا تھا اور ایسا ہی اُنس سکندر عثمان بھی اُس سے رکھتے تھے۔ الزائمر کی اس advanced stage پر بھی حمین کے سامنے آنے پر اُن کی آنکھیں چمکتی تھیں یا کم از کم دوسروں کو لگتی تھیں۔ کچھ بھی بول نہ سکنے کے باوجود وہ اُسے دیکھتے رہتے تھے اور وہ دادا کا ہاتھ پکڑے اُن کے پاس بیٹھا رہتا تھا۔ اُن سے خود ہی بات چیت کی کوشش کرتا رہتا۔ خود سوال کرتا، خود جواب دیتا۔ جیسے بچپن میں کرتا تھا۔ اور ویسی ہی باتیں جو بچپن میں ہوتی تھیں، اور تب سکندر عثمان اُن کے جواب دیا کرتے تھے۔
”دادا بتائیں، شتر مرغ کی کتنی ٹانگیں ہوتی ہیں؟” وہ اُن کے ساتھ واک کرتے کرتے یک دم اُن سے پوچھتا۔ سکندر عثمان اُلجھتے، شتر مرغ کی تصویر ذہن میں لانے کی کوشش کرتے، پھر ہار مانتے۔
”مرغ کی دو ہوں گی تو شُتر مرغ کی بھی دو ہوں گی دادا۔ یہ تو سوچے بغیر بتا دینے والا جواب تھا۔” سکندر عثمان اُس کی بات پر سر ہلانے لگتے۔
سکندر عثمان کی یادداشت کے دیوں کو حمین سکندر نے اپنے سامنے ایک ایک کر کے بجھتے دیکھا تھا اور ایک بچّے کے طور پر الزائمر کو نہ سمجھنے کے باوجود اُس نے اپنے دادا کے ساتھ مل کر اُن دیوں کی روشنی کو بچانے کی بے پناہ کوشش کی تھی۔
وہ کسی بھی چیز کا نام بھول جانے پر اُنہیں تسلی دے دیا کرتا تھا کہ یہ نارمل بات تھی۔ اور بھولنا تو اچھا ہوتا ہے اسی لئے وہ بھی بہت ساری چیزیں بھولتا ہے۔ وہ بچّے کی logic تھی اور بڑے کے سامنے لنگڑی تھی مگر سکندر عثمان کو اُس عمر میں اُس بیماری سے لڑتے ہوئے ویسی ہی logic چاہیے تھی جو اُنہیں یہ یقین دلا دیتی کہ وہ ٹھیک تھے، سب کچھ ”نارمل ” تھا۔
حمین اُن کی بیماری کے بڑھتے جانے پر آہستہ آہستہ کر کے اُن کے کمرے کی ہر چیز پر اُس چیز کا نام کاغذ کی چٹوں پر لکھ کر چسپاں کر دیا کرتا تھا تاکہ دادا کچھ نہ بھولیں، وہ جس چیز کو دیکھیں، اُس کا نام یاد کرنے کے لئے اُنہیں تردّد نہ کرنا پڑے۔ وہ چٹیں سینکڑوں کی تعداد میں تھیں اور اُس کمرے میں آنے والے ہر شخص کو ایک بار سکندر عثمان کے ساتھ اُس بیمارے سے لڑنے والے اُس دوسرے شخص کے بارے میں سوچنے پر بھی مجبور کر دیتا اور حمین نے اُس بیماری کے سامنے پہلی ہار اُس دن مانی تھی جس دن سکندر عثمان اُس کا نام بھول گئے تھے۔ وہ بے یقینی سے اُن کا چہرہ دیکھتا رہا تھا۔ وہ آخر اُس کا نام کیسے بھول گئے تھے۔ اُس وجود کا، جو چوبیس میں سے بارہ گھنٹے اُن کے اردگرد منڈلاتا رہتا تھا۔ اُس کے سامنے کھڑے سکندر عثمان اُس کا نام یاد کرتے، اٹکتے، اُلجھتے، ہکلاتے، گڑگڑاتے رہے اور حمین اُن کی جدوجہد اور بے بسی دیکھتا رہا۔ پھر وہ بڑی خاموشی سے سینٹر ٹیبل کے پاس گھٹنے ٹیک کر بیٹھا۔ وہاں پڑی ایک stick on چٹ اُس نے اُٹھائی، اُس پر اپنا نام لکھا اور پھر اپنے ماتھے پر اُسے چسپاں کرتے ہوئے وہ سکندر عثمان کے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا۔اُس وقت وہ پھوٹ پھوٹ کر رونا چاہتا تھا اور شاید زندگی میں پہلی بار، لیکن وہ نہیں رویا تھا، اُس نے جیسے سکندر عثمان کے سامنے اُس بات کو مذاق میں اُڑانے کی کوشش کی تھی لیکن وہ بات الزائمر سے جنگ کرتے اُس شخص کے لئے مذاق نہیں تھی۔ وہ اُس کے نام کے spelling کرتے ہنس پڑے تھے اور پھر ہنستے ہنستے وہ وہیں کھڑے کھڑے اپنی مٹھیاں بھینچتے رونے لگے تھے اور اُن سے قد اور عمر میں چھوٹے حمین نے اپنی عمر سے بڑے اُس بوڑھے شخص کو تھپکتے ہوئے تسلی دی تھی، جو اپنی ”نااہلی” اور ”مجبوری” پر نادم تھا اور جو اپنے چہیتے ترین رشتے کا نام یاد رکھنے سے بھی قاصر تھا۔ اُن کی اس بیماری نے حمین سکندر کو وقت سے پہلے میچور کر دیا تھا۔ جبریل نے سالار سکندر کی بیماری کو جھیلا تھا، حمین نے سکندر عثمان کی۔
وہ اُسے اپنے ساتھ جوڑے رکھنے کے لئے اُسے اپنی چیزیں دینا شروع ہو گئے تھے. Dada, you don’t have to do it” حمین جیسے سمجھ جاتا تھا کہ وہ Bater Deal کس شے کے لئے تھی۔ ”I have all the time in the world for you” وہ جیسے اُنہیں یقین دہانی کروانے کی کوشش کرتا۔ وہ پھر بھی اُسے کچھ نہ کچھ دینے کی کوشش کرتے، حمین اُن کے بہت سارے رازوں سے واقف تھا۔ اُن بہت ساری جگہوں سے بھی جہاں وہ اپنی قیمتی چیزیں چھپاتے تھے۔ اُس پر اُن کے اعتبار کا یہ عالم تھا کہ وہ ہر چیز چھپاتے ہوئے صرف حمین سکندر کو بتاتے تھے، صرف اس لئے کیونکہ انہیں یہ خدشہ تھا کہ وہ کہیں اس جگہ کو بھی نہ بھول جائیں جہاں وہ سب کچھ چھپا رہے تھے۔ اور ایسا ہی ہوتا تھا اُن کے بھولنے پر حمین اُنہیں وہ چیز نکال کر دیتا تھا۔ وہ کمرہ جیسے اُن دونوں دادا اور پوتے کے لئے hide and seek والی جگہ بن گیا تھا۔
”ایک دن تم بہت بڑے آدمی بنو گے۔” سکندر عثمان اُسے اکثر کہا کرتے تھے۔ ”اپنے بابا سے بھی بڑے آدمی۔” وہ اُن کی بات زیادہ غور و فکر کے بغیر سنتا پر بیچ میں اُنہیں ٹوک کر پوچھتا۔
”خالی بڑا آدمی بنوں گا یا rich بھی؟” بابا تو rich نہیں ہیں۔” اُسے جیسے فکر لاحق ہوئی۔ سکندر عثمان ہنس پڑے۔
”بہت امیر ہو جاؤ گے، بہت زیادہ۔”
”پھر ٹھیک ہے۔” اُسے جیسے اطمینان ہوتا۔ ”لیکن آپ کو کیسے پتہ ہے؟” اُسے یک دم خیال آتا۔
”کیونکہ میں تمہارے لئے دعا کرتا ہوں۔” سکندر عثمان بڑھاپے کی اُس لاٹھی کو دیکھتے جو اُن کے سب سے عزیز بیٹے کا اُن کے لئے تحفہ تھا۔
۔”Ok” حمین کے ذہن میں مزید سوالات آئے تھے لیکن وہ دادا سے اب بحث نہیں کرتا تھا۔
”میں تم پر دنیا میں سب سے زیادہ اعتماد کرتا ہوں۔” وہ اکثر اُس سے کہتے تھے اور وہ بڑی سنجیدگی سے اُنہیں کہتا تھا ”You are the only one who does it” اور سکندر عثمان جواباً کسی بچے کی طرح ہنسنے لگتے تھے۔
”جب میں اس دُنیا سے چلا جاؤں گا تو یہ ring تم امامہ کو دے دینا۔” اعتماد کے ایسے ہی کچھ لمحوں میں انہوں نے حمین کو وہ انگوٹھی دکھائی تھی جو وہ کئی سال اپنی ماں کی انگلی میں دیکھتا رہا تھا۔
”یہ تو ممّی کی ring ہے۔” حمین جیسے چلّایا تھا۔
”ہاں، تمہاری ممّی کی ہے۔ سالار نے شادی پر گفٹ کی تھی اُسے۔ پھر وہ اسے بیچ کر سالار کے پراجیکٹ میں کچھ investment کرنا چاہتی تھی، تو میں نے اسے لے کر اُسے وہ رقم دے دی۔ میں اُسے واپس دوں گا تو وہ نہیں لے گی اور میں نہیں چاہتا وہ اور سالار اسے بیچ کر مجھے میرا قرض واپس دینے کی کوشش کریں۔” سکندر عثمان بتاتے گئے تھے۔ اُنہیں نے اُسے ایک تھیلی میں ڈال کر اپنی وارڈروب کے ایک چور خانے میں حمین کے سامنے رکھا تھا۔ وہ چور خانہ حمین نے بھی پہلی بار ہی دیکھا تھا۔
”آپ اسے لاکر میں کیوں نہیں رکھوا دیتے؟” اُس نے سکندر عثمان کو مشورہ دیا تھا۔ وہ مسکرا دیے تھا۔
”میرے مرنے کے بعد لاکر سے جو بھی نکلے گا، وہ ساری اولاد کی مشترکہ ملکیت ہو گا۔ کوئی یہ امامہ کو نہیں دے گا۔” سکندر نے کہا۔
”لیکن آپ will میں لکھ سکتے ہیں۔” سکندر اُس کی بات پر ہنس پڑے تھے۔
”میری اولاد بہت اچھی ہے۔ لیکن میں زندگی میں اُن سے بہت ساری باتیں نہیں منوا سکتا تو مرنے کے بعد کیسے منوا سکوں گا جب تمہاری اولاد ہو گی تو تمہیں سمجھ آ جائے گی میری باتوں کی۔” انہوں نے جیسے بڑے پیار کے ساتھ اُسے کہا تھا۔
سکندر عثمان کی موت کے ایک ہفتے کے بعد اُس گھر میں اُن کی اولاد ترکے کی تقسیم کے لئے اکٹھی ہوئی تھی اور حمین سکندر کو وہ بات سمجھ آ گئی تھی۔سکندر عثمان اپنی زندگی میں ہی سب کچھ تقسیم کر چکے تھے، انہوں نے اپنے پاس صرف چند چیزیں رکھی تھیں جن میں وہ گھر بھی تھا۔ لیکن اُن چند چیزوں کی ملکیت پر بھی سب میں کچھ اختلافات آئے تھے اور یہ اختلافات بڑھ جاتے اگر سالار سکندر اور اُس کا خاندان سکندر عثمان کے رہ جانے والے اثاثوں پر اپنے حصّے کے حوالے سے claim کرتا۔ وہ اُن کے خاندان کا مشترکہ فیصلہ تھا۔ سکندر عثمان کے بچنے والے اثاثوں میں سے سالار سکندر اور اُس کے خاندان نے کچھ نہیں لیا تھا۔ البتہ سکندر عثمان کا وہ گھر حمین سکندر نے خریدنے کی آفر کی تھی۔ کیونکہ طیّبہ پہلے بھی زیادہ تر اپنے بیٹوں کے پاس بیرونِ ملک رہتی تھیں اور وہ اب مستقل طور پر اُن کے پاس رہنا چاہتی تھیں اور اُن کے وہاں سے شفٹ ہو جانے کے فیصلے کے بعد اُس گھر کو dispose off کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا اور اُس فیصلے کے دوران کسی نے امامہ کے بارے میں نہیں سوچا تھا، سالار سکندر اور اُس کے اپنے بچوں کے علاوہ۔ جنہیں یہ احساس ہو رہا تھا کہ سکندر عثمان کے چلے جانے کے بعد اُس گھر کے نہ رہنے سے ایک شخص ایک بار پھر دربدر ہونے والا تھا۔ حمین نے اُس گھر کو صرف امامہ کے لئے خریدا تھا اور اُن یادوں کے لئے جو اُن سب کی اُس گھر سے وابستہ تھیں۔ اور اُس نے جس قیمت پر اُسے خریدا تھا، وہ مارکیٹ سے دوگنی تھی۔
******
ممّی مجھے آپ کو ایک امانت پہنچانی ہے۔” حمین رات کو سالار اور امامہ کے کمرے میں آیا تھا۔ وہ صبح واپس جا رہا تھا۔ باری باری کر کے سب ہی واپس جارہے تھے۔ سالار اور وہ دونوں کچھ دیر پہلے ہی کمرے میں آئے تھے، جب وہ دستک دے کر اُن کے کمرے میں آیا تھا۔
”امانت؟” وہ کچھ حیران ہوئی تھی۔ حمین نے ایک تھیلی اُس کے ہاتھ پر رکھی اور اُس کے قریب صوفہ پر بیٹھ گیا۔
”یہ کیا ہے؟” اُس نے کچھ حیران ہوتے ہوئے پہلے حمین، پھر سالار کو دیکھا۔ جو فون پر کسی سے بات کرنے میں مصروف تھا۔
”آپ خود دیکھ لیں۔” حمین نے اُسے کہا۔ امامہ نے تھیلی میں ہاتھ ڈال کر اندر موجود چیز نکالی تھی اور ساکت رہ گئی تھی۔ فون پر بات کرتا سالار بھی اُسی طرح ٹھٹھکا تھا۔ یہ کیسے ممکن تھا۔ وہ دونوں اُس انگوٹھی کو سیکنڈز میں نہ پہچان جاتے جو اُن کی زندگی کی بہترین اور قیمتی ترین یادوں میں سے ایک تھی۔
”یہ تمہیں کہاں سے ملی؟” امامہ نے لرزتی ہوئی آواز میں پوچھا تھا۔ سالار نے فون منقطع کر دیا تھا۔
”دادا نے بچپن میں میرے سامنے وارڈ روب میں ایک دراز میں رکھتے ہوئے مجھے کہا تھا کہ اگر وہ اسے بھول جائیں تو اُن کے مرنے کے بعد میں اسے وہاں سے نکال کر آپ کو دے دوں۔” حمین کہہ رہا تھا۔
”وہ آپ کو یہ واپس دے دینا چاہتے تھے لیکن اُنہیں خدشہ تھا کہ آپ اسے نہیں لیں گی اور ایسا نہ ہو آپ اور بابا اُن کا قرض ادا کرنے کے لئے اسے بیچ دیں۔”
آنسو سیلاب کی طرح امامہ کی آنکھوں سے نکل کر اُس کے چہرے کو بھگوتے گئے تھے۔ سکندر عثمان ہمیشہ اُس کا بہت شکریہ ادا کرتے رہتے تھے۔ لیکن اُس تشکر کو انہوں نے جس طرح اپنے جانے کے بعد اُسے پہنچایا تھا، اُس نے امامہ کو بولنے کے قابل نہیں چھوڑا تھا۔ وہ ایک شفیق باپ تھے لیکن اُس سے بڑھ کر ایک شفیق سسر تھے۔
”تم نے کبھی بھی پہلے اس ring کے بارے میں ذکر نہیں کیا۔” سالار نے اپنے سامنے بیٹھے اپنے اُس بیٹے کو دیکھا جو آج بھی ویسا ہی عجیب اور گہرا تھا جیسا بچپن میں تھا۔
”میں نے اُن سے وعدہ کیا تھا کہ میں کبھی کسی کو اس انگوٹھی کے بار ے میں نہیں بتاؤں گا۔ یہ ایک امانت تھی، میں خیانت نہیں کر سکتا تھا۔” اُس نے عجیب سی مسکراہٹ کے ساتھ باپ سے کہا اور پھر اُٹھ کر کھڑا ہو گیا۔ ہموار قدموں سے چلتا ہوا وہ دروازہ کھول کر باہر نکل گیا ۔ وہ دونوں تب تک اُسے دیکھتے رہے، جب تک وہ غائب نہیں ہو گیا۔
”میں یہ انگوٹھی حمین کی بیوی کو دوں گی۔ اس پر اگر کسی کا حق ہے تو وہ حمین کا ہے۔” اُس کے جانے کے بعد امامہ نے مدہم آواز میں سالار سے کہا تھا۔ وہ انگوٹھی ابھی بھی اُس کی ہتھیلی پر تھی جسے وہ بہتے آنسوؤں کے ساتھ دیکھ رہی تھی کئی سالوں کے بعد اور کئی سالوں پہلے کی ساری یادیں ایک بار پھر زندہ ہو گئی تھیں۔
سالار نے اُس کی بات کے جواب میں کچھ نہیں کہا، اُس نے امامہ کے ہاتھ سے وہ انگوٹھی لی اور بڑی نرمی سے اُس کی انگلی میں پہنا دی۔ اُس کی مخروطی انگلیوں میں آج بھی بے حد آسانی سے پوری آ گئی تھی۔
”تمہارا بہت شکریہ ادا کرنا چاہتا تھا میں امامہ۔” اُس نے امامہ کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے کہنا شروع کیا۔ ”تم نے پاپا کی جتنی خدمت کی ہے، وہ میں نہیں کر سکتا تھا، نہ ہی میں نے کی ہے۔” ”سالار!” امامہ نے اُسے ٹوکا تھا۔ ”تم مجھے شرمندہ کر رہے ہو۔”
”مجھے اگر زندگی میں دوبارہ شریکِ حیات کا انتخاب کرنے کا موقع ملے تو میں آنکھیں بند کر کے تمہیں چنوں گا۔” وہ نم آنکھوں کے ساتھ کھلکھلا کر ہنس پڑی۔ اپنا ہاتھ چھڑاتے ہوئے اُس نے ہاتھ کی پشت پر سجی اُس انگوٹھی کو دوبارہ دیکھا۔ سولہ سال کی جدائی تھی جو اُس نے اس گھر میں سالار سے الگ رہ کر جھیلی تھی۔ وہ تب چند سال یہاں گزارنے آئی تھی اور تب وہ جیسے تلوار کی ایک دھار پر ننگے پاؤں چل رہی تھی۔ وہ سکندر عثمان کا خیال رکھتے ہوئے دن رات سالار کے لئے خوفزدہ رہتی تھی اور اُس نے سالار کو یہ نہیں بتایا تھا مگر اُس نے یہ دعا کی تھی تب کہ اگر سکندر عثمان کی خدمت کے عوض اُسے اللہ نے کوئی صلہ دینا تھا تو وہ سالار سکندر کی زندگی اور صحت یابی کی شکل میں دے اور آج سولہ سال بعد اُسے لگتا تھا شاید ایسا ہی ہوا تھا۔ اُس کی زندگی کا وہ ساتھی آج بھی اُس کے برابر بیٹھا ہوا تھا۔ وہ انگوٹھی ایک بار پھر سے اُس کے ہاتھ پر سج گئی تھی اور وہ سولہ سال بعد بالآخر ایک بار پھر سے سالار اور اپنے بچوں کے ساتھ مستقل طور پر امریکہ جا کر رہ سکتی تھی۔ بے شک وہ اپنے رب کی کسی بھی نعمت کا شکر ادا نہیں کر سکتی تھی۔
”میں نے آج بہت عرصے بعد ایک خواب دیکھا، وہی خواب۔” وہ چونکی، سالار اُسے کچھ بتا رہا تھا۔
******
”ہشّام مجھ سے ملنا چاہتا ہے۔” اپنے سامان کی پیکنگ کرتے ہوئے حمین نے رئیسہ سے کہا۔ وہ بھی ابھی سکندر عثمان کے گھر پر ہی تھی اور چند دن اُسے بھی وہاں ٹھہرنا تھا۔ وہ حمین کو اُس کا کچھ سامان دینے آئی تھی جب اُس نے اچانک اُس سے کہا تھا۔
”وہ شاید دادا کی تعزیت کے لئے ملنا چاہتا ہو گا۔” وہ ایک لمحہ کے لئے اٹکی پھر اُس نے روانی سے اُس سے کہا ۔
۔”I don’t think so” حمین نے اسی طرح کام میں مصروف ہوتے ہوئے کہا۔ ” تعزیت کے لئے وہ تم سے ملتا یا بابا سے ملتا، مجھ سے ملنے کی ضرورت نہیں تھی۔ تم دونوں کے درمیان کچھ بات چیت ہوتی ہے کیا؟” اُس نے اپنے ہمیشہ کے calculated اور direct انداز میں رئیسہ سے بیگ کی زپ بند کرتے ہوئے پوچھا۔ رئیسہ چند لمحے سوچتی رہی پھر اُس نے حمین سے اپنی اور ہشّام کی کچھ ہفتے پہلے ہونے والی ملاقات اور گفتگو دہرائی تھی۔
”تو اب وہ کیا چاہتا ہے؟” حمین نے پوری بات سُننے کے بعد صرف ایک سوال کیا تھا کوئی تبصرہ نہیں۔ ”پتہ نہیں! شاید تم سے کہے گا کہ تم مجھے منا لو۔” حمین نے نفی میں سر ہلایا۔
”نہیں، وہ مجھ سے یہ کبھی نہیں کہے گا کہ میں تمہیں اُس کی دوسری بیوی بننے پر آمادہ کروں۔ اتنا عقل مند تو ہے وہ کہ ایسا پروپوزل میرے پاس لے کر نہ آئے۔” اُس نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔
”رئیسہ تم کیا چاہتی ہو؟” چند لمحے بعد اُس نے دوٹوک انداز میں رئیسہ سے پوچھا۔
”میری چوائس کا ایشو نہیں ہے۔” وہ کچھ بے دلی سے مسکرائی۔ ”اس کا مسئلہ genuine ہے، تم نے ٹھیک کہا تھا۔ وہ شاہی خاندان ہے، اُن کے اپنے قواعد و ضوابط ہیں، اپنی سوچ ہے۔ مجھے بہت پہلے ہی اس relationship میں نہیں پڑنا چاہیے تھا۔” حمین اُسے دیکھتا رہا، اُس کے سامنے بیٹھی وہ جیسے خود کلامی کے انداز میں بولتی جا رہی تھی۔ یوں جیسے اپنے آپ کو سمجھانے کی کوشش کر رہی تھی۔
”بادشاہ بزدل ہے۔” حمین نے مدہم آواز میں اُس سے کہا۔ وہ بات کرتے کرتے رُک گئی۔ ”اور بزدل نہ پیار کر سکتے ہیں، نہ حکومت، نہ وعدہ نبھا سکتے ہیں، نہ تعلق۔” حمین نے جیسے اُسے ہشّام بن صباح کا مسئلہ چار جملوں میں سمجھایا تھا۔ جو وہ سمجھنے سے گریزاں تھی۔
”لوگ پیار کے لئے تخت و تاج ٹھکراتے ہیں نا تو وہ ٹھکرائے۔ اگر بادشاہ رہ کر تمہیں زندگی کا ساتھی نہیں بنا سکتا تو بادشاہت چھوڑ دے۔” رئیسہ ہنس پڑی۔
”بادشاہت چھوڑ دے، میرے لئے؟ میں اتنی valuable نہیں ہوں حمین! کہ کوئی میرے لئے بادشاہت چھوڑتا پھرے۔” اُس نے بڑی صاف گوئی سے کہا تھا۔
”ہو سکتا ہے ہو، ہو سکتا ہے، تمہیں پتہ نہ ہو۔ اور اگر وہ تمہاری قدر و قیمت پہچاننے کے قابل نہیں ہے تو ساتھ زندگی گزارنے کے قابل تو بالکل نہیں ہے۔” وہ دو ٹوک انداز میں کہہ رہا تھا۔
”تو حل میرے پاس ہے۔ اب دیکھتے ہیں اُس کو سمجھ میں آتا ہے یا نہیں۔ میں واپس جا کر اُس سے ملوں گا۔” حمین نے اعلان کرتے ہوئے کہا۔ رئیسہ اُس کا چہرہ دیکھتی رہ گئی۔
******

”ڈاکٹر احسن سعد آپ کو بڑی اچھی طرح جانتے ہیں۔ بلکہ وہ بتا رہے تھے کہ اُن کے والد صاحب بابا کے بھی بڑے قریبی دوست تھے۔ عبداللہ ہی بتا رہا تھا کہ وہ اور اُن کے والد، دادا کی تعزیت کے لئے امریکہ میں آ کر ملیں گے بابا سے۔” عنایہ چہل قدمی کرتے ہوئے کہہ رہی تھی۔
وہ اور جبریل لان میں چہل قدمی کر رہے تھے جب عنایہ کو اچانک عبداللہ کے ذکر چھیڑے جانے پر احسن سعد یاد آیا اور اُس کے ساتھ ہونے والی گفتگو۔ اور اُس نے جبریل سے اُس کا ذکر کرنا ضروری سمجھا۔
احسن سعد کا نام ہی جبریل کو چونکانے کے لئے کافی تھا، لیکن وہ یہ سُن کر زیادہ حیران ہوا تھا کہ جس احسن سعد کی وہ بات کر رہی تھی وہ نہ صرف جبریل سکندر کو جانتا تھا بلکہ اُس کا باپ سالار کا قریبی دوست تھا۔ وہ اُلجھا تھا، جس احسن سے وہ ملا تھا اُس نے ایسا کوئی ذکر یا حوالہ نہیں دیا تھا۔ اُسے عائشہ کے سابقہ شوہر کی تفصیلات کا پتہ نہیں تھا سوائے اُس کے نام، پروفیشن اور سٹیٹ کے۔ فوری طور پر وہ یہ سمجھ نہیں سکا کہ یہ وہی احسن سعد تھا یا وہ کسی اور کے ساتھ اُسے کنفیوز کر رہا تھا۔
”عبداللہ تو بے حد انسپائرڈ ہے اُس سے، کہہ رہا تھا نکاح کے گواہوں میں سے ایک وہ احسن سعد کو رکھے گا۔ اُس نے تو احسن سعد کو پیر و مرشد بنایا ہوا ہے، ہر بات میں اُس کا حوالہ دیتا ہے۔” وہ کہتی جا رہی تھی اور جبریل بے چین ہونے لگا تھا۔
”عبداللہ اُن ہی کے ساتھ پانچ وقت کی نماز پڑھتا ہے۔ مجھے بھی اچھا لگا وہ۔ ذکر تو پہلے بھی عبداللہ سے سنتی رہی تھی لیکن مل کر مجھے حیرانی ہوئی کہ وہ کافی young ہے۔ بہت باعلم ہے، دین کے بارے میں۔ اور حافظِ قرآن بھی ہے۔”
۔Similarities بڑھتی ہی جا رہی تھیں۔ جبریل اب بولے بغیر نہیں رہ سکا۔
۔”Married ہے؟” اُس نے خواہش کی تھی وہ کوئی اور احسن سعد ہو۔
”نہیں، بس یہی بڑی tragedy ہوئی ہے اُس کے ساتھ۔” عنایہ کے جواب نے جیسے اُس کا دل نکال کر رکھ دیا تھا۔
”بیوی سائیکو اور بُرے کریکٹر کی تھی۔ کسی کے ساتھ اُس کا affair چلتا رہا اور احسن سعد بیچارے کو پتہ ہی نہیں تھا۔ پھر divorce ہو گئی لیکن بیوی نے بچے کی کسٹڈی بھی نہیں دی اور اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ مل کر اُس معذور بچّے کو جان سے مار دیا۔ تاکہ دونوں شادی کر سکیں اور بچّے کے نام جو جائیداد تھی، وہ اُسے مل جائے۔ احسن سعد نے کیس کیا تھا اپنی سابقہ بیوی کے خلاف قتل کا تو ابھی اُس عورت نے کچھ patch up کرنے کی کوشش میں اُس بچّے کے نام جو بھی جائیداد تھی وہ اُس کے نام کر کے معافی مانگی ہے۔ بہت اچھا انسان تھا وہ، کہہ رہا تھا کہ معاف کر دے گا، اب بیٹا تو چلا گیا۔” عنایہ بڑی ہمدردی کے ساتھ وہ تفصیلات سُنا رہی تھی۔
”تُم جانتی ہو وہ بوائے فرینڈ کون ہے جس نے احسن سعد کی بیوی کے ساتھ مل کر اُس کے معذور بچّے کا قتل کیا ہے؟” جبریل نے یک دم اُسے ٹوکا تھا۔ عنایہ نے حیرانی سے اُس کا چہرہ دیکھا۔ جبریل کا سوال جتنا عجیب تھا، اُس کا لہجہ اور تاثرات اُس سے زیادہ عجیب۔
”نہیں، میں کیسے جان سکتی ہوں، ویسے عبداللہ احسن سعد سے کہہ رہا تھا کہ اُسے اپنی سابقہ بیوی اور اُس کے بوائے فرینڈ کو معاف نہیں کرنا چاہیے۔ میرا بھی یہی خیال تھا۔” عنایہ نے روانی میں کہا اور جبریل کے اگلے جملے نے اُس کا ذہن جیسے بھک سے اُڑا دیا تھا۔
”وہ بوائے فرینڈ میں ہوں۔” بے حد بے تاثر آواز میں جبریل نے اُس سے کہا تھا۔
”اور عنایہ میں ایرک عبداللہ سے تمہاری شادی بھی نہیں ہونے دوں گا۔” اس کا اگلا جملہ پہلے سے بھی زیادہ ناقابلِ یقین تھا۔
******
سالار سکندر، سکندر عثمان کے بیڈروم کا دروازہ کھول کر اندر چلا گیا۔ لائٹ آن کر کے اس نے سکندر عثمان کے بسترکو دیکھا۔ وہاں اب کوئی نہیں تھا۔ اُس کی آنکھوں میں ہلکی نمی دوڑی تھی۔ کئی سالوں سے اب اُس کے اور اُن کے درمیان صرف خاموشی کا رشتہ ہی رہ گیا تھا۔ بات چیت نہیں رہ گئی تھی۔ اس کے باوجود اُسے اُن کے وجود سے ایک عجیب سی طمانیت کا احساس ہوتا تھا۔
میں اپنی نظروں کے سامنے تمہیں جاتا ہوا نہیں دیکھ سکتا سالار! اس لئے بس یہی دعا کرتا ہوں کہ تم سے پہلے چلا جاؤں تمہارا دُکھ نہ دکھائے اللہ کسی بھی حالت میں مجھے۔ ” سالار کو لگا جیسے یہ جملے پھر اُس کمرے میں گونجے تھے۔ انہوں نے اُس کی بیماری کے دوران کئی بار اُس سے یہ باتیں کہیں تھیں۔ اور اُن کی دعا قبول ہو گئی تھی، وہ سالار کا دُکھ دیکھ کر نہیں گئے تھے۔
”کیا فرق پڑتا ہے پاپا! ہر ایک نے جانا ہوتا ہے دُنیا سے۔ جس کا رول ختم ہو جائے، وہ چلا جاتا ہے۔” سالار کئی بار اُنہیں جواباً کہتا تھا۔
”جوان بیٹے کا غم اللہ کسی کو نہ دکھائے سالار۔” وہ رو پڑے تھے اور یہ آنسو سالار نے اُن کی آنکھوں میں صرف اپنی بیماری کی تشخیص کے بعد دیکھنا شروع کیے تھے، ورنہ سکندر عثمان کہاں بات بات پر رو پڑنے والے آدمی تھی۔
وہ اُن کی کُرسی پر جا کر بیٹھ گیا۔ وہ اور امامہ اب وہاں سے چلے جانے والے تھے۔ وہ کمرہ اور وہ گھر اب بے مکین ہونے والا تھا۔ وہ دو ہفتوں سے وہاں تھا اور اس سے زیادہ وہاں نہیں ٹھہر سکتا تھا۔ حمین پہلے جا چکا تھا اور اب جبریل اور عنایہ بھی اُس کے پیچھے چلے جاتے، پھر امامہ۔ جو سب سے آخر میں وہاں سے جاتی اور پھر پتہ نہیں اُس گھر میں دوبارہ کبھی وہ یوں اکٹھے بھی ہو پاتے یا نہیں۔ اور اکٹھے ہوتے بھی تو بھی پتہ نہیں کب۔
زندگی کیا شے ہے، کیسے ہاتھ سے نکل جاتی ہے۔ وقت کیا شے ہے، رُکتا ہے تو رُک ہی جاتا ہے، چلتا ہے تو پہیوں پر۔
”میں آپ جیسا باپ کبھی نہیں بن سکا اپنی اولاد کے لئے پاپا۔” اُس نے مدہم آواز میں وہاں بیٹھے خود کلامی کی۔
”میں آپ جیسا بیٹا بھی کبھی نہیں بن سکا۔” وہ رُک کر دوبارہ بولا۔
”لیکن میرے بیٹے آپ جیسے باپ بنیں، اور آپ جیسے ہی بیٹے، میرے جیسے نہیں۔ میری صرف یہ دُعا ہے۔” اُس نے نم آنکھوں کے ساتھ ٹیبل پہ پڑے اُن کے گلاسز اُٹھا کر چھوئے پھر اُنہیں ٹیبل پر رکھ کر دوبارہ اُٹھ گیا۔
******
”بیوی کو کیوں مارا؟”
”ایک بڑے آدمی کے ساتھ اُس کے ناجائز تعلقات تھے۔”
”پھر؟”
”پھر مجھے پتہ چلا کہ جسے میں اپنی بیٹی سمجھتا تھا، وہ بھی اُس کی بیٹی تھی۔”
”پھر؟”
”پھر، بس برداشت نہیں کر سکا میں۔ میں غیرت مند تھا، اُسے بھی قتل کر دیا، باقی اولاد کو بھی۔ پتہ نہیں وہ بھی میری تھی یا نہیں۔”
۔CNN پر غلام فرید کے ساتھ ہونے والا وہ انٹرویو انگلش سب ٹائٹلز کے ساتھ چل رہا تھا اور دُنیا کے تمام میجر channels اسی وقت اس انٹرویو کو بریکنگ نیوز کے طور پر پیش کر رہے تھے۔ صرف دس منٹوں میں دُنیا بھر میں سالار سکندر اور SIF ایک بار پھر زبان زدِ عام ہونے والی تھی اور اس بار یہ ”شہرت” نہیں رسوائی تھی جو اُس خاندان کے حصّے میں آنے والی تھی۔
”وہ بڑا آدمی کون تھا؟” انٹرویور نے غلام فرید سے اگلا سوال کیا۔
”میں اُس کا چوکیدار تھا، اُس کے سکول کا۔ اُس نے مجھے اس لئے وہاں سے نکال دیا کہ اُس کے میری بیوی سے تعلقات تھے۔” انٹرویو کرنے والے نے غلام فرید کو ٹوکا۔
”اُس بڑے آدمی کا نام کیا تھا؟”
”سالار سکندر۔” غلام فرید نے بے حد روانی سے کہا۔
دُنیا بھر کی TVاسکرینز پر بالکل اسی لمحے سالار سکندر کی تصویر نمودار ہوئی تھی اور پھر اُس کے چند لمحے بعد رئیسہ سالار کی۔ بیک وقت۔ ایک ہی جیسی تصویریں۔
وہ CIA کا Sting Operation نہیں تھا، وہ انہوں نے پوری قوّت اور طاقت سے مغربی انٹیلی جینس ایجنسیز کے اشتراک سے دُنیا کے کامیاب ترین اسلامی مالیاتی نظام کے بانی اور SIF کی بنیادوں پر دن دہاڑے حملہ کیا تھا۔
”غلام فرید تم کیا چاہتے ہو؟” انٹرویور اب اُس سے پوچھ رہا تھا۔ غلام فرید ایک لحظہ کے لئے رکا، پھر اُس نے کہا۔
”سالار سکندر کے لئے پھانسی کی سزا۔”
******
نیروبی کے اُس فائیو سٹار ہوٹل میں ہونے والی تقریب، افریقہ کی تاریخ کے یادگار ترین لمحوں میں سے ایک تھا۔ کچھ گھنٹوں کے لئے دنیا کی تمام اکنامک مارکیٹس جیسے اُس ایک تقریب پر فوکس کر کے بیٹھ گئی تھیں، جہاں SIF حمین سکندر کی کمپنی TAI کے ساتھ مل کر افریقہ میں دنیا کے سب سے بڑے مالیاتی فنڈز کے قیام کا اعلان کرنے والی تھی۔ وہ merger نہیں تھا، اشتراک تھا اور دُنیا کا کوئی بڑا مالیاتی ادارہ نہیں تھا، جس کا سربراہ وہاں اُس فائیو سٹار ہوٹل کے بینکوئیٹ ہال میں موجود نہیں تھا۔ وہاں صرف دُنیا کے بہترین دماغ تھے۔ اپنی اپنی فیلڈ کے نامور لوگ اور ان لوگوں کے جمگھٹے میں وہاں سالار سکندر اور حمین سکندر اُس گلوبل فنڈ کا اعلان کرنے والے تھے۔ جس کی مالیت دُنیا کے تمام بڑے مالیاتی اداروں کو پچھاڑنے والی تھی۔
9:14 پر بھی ٹیلی سکوپ کی آنکھ سے اُس ٹارگٹ کلر کو وہ ”مہمان” لفٹ کے دروازے سے نمودار ہوتا نظر نہیں آیا۔ لیکن وہ دم سادھے، آنکھ ٹیلی سکوپ پر ٹکائے، ایک انگلی ٹریگر پر رکھے لفٹ کا دروازہ کھلنے کا منتظر تھا۔
دس……نو……آٹھ…… سات……چھے……پانچ…… چار…… تین…… دو…… ایک……
 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: