Aab e Hayat Novel by Umera Ahmed Read Online – Episode 47

0

آب حیات از عمیرہ احمد – قسط نمبر 47

–**–**–

اُس بینکوئیٹ ہال کے اوپر والے فلور کے ایک کمرے کی ایک کھڑکی کے شیشوں سے ایک اور ٹیلی سکوپک رائفل بالکل اُسی طرح اُس ٹارگٹ کلر کو نشانہ بنائے اُلٹی گنتی گننے میں مصروف تھی۔ وہ چوتھا فلور تھا اور وہ کمرہ اس فلور کے سٹور رومز میں سے ایک تھا جہاں پر صفائی سُتھرائی اور اسی طرح کا سامان trollies میں بھرا پڑا تھا۔ جن لوگوں نے اُس بینکوئیٹ ہال میں اُس مہمان کے لئے اُس پیشہ ورانہ قاتل کا انتخاب کیا تھا۔ اُن ہی لوگوں نے اُس قاتل کے لئے اس شخص کا انتخاب کیا تھا اور اُس جگہ کا بھی، جہاں وہ 40 سالہ شخص رائفل کے ٹریگر پر انگلی رکھے آنکھیں اُس ٹارگٹ کلر پر لگائے بیٹھا تھا۔ اُس نے اس کمرے کو اندر سے لاک کر رکھا تھا۔ وہ ایک ٹرالی دھکیلتا ہوا اُس کمرے میں صبح کے وقت آیا تھا جب اُس floor کے کمروں کی house keeping ہو رہی تھی اور پھر وہ اپنی ٹرالی کو اندر رکھ کر باہر جانے کے بجائے خود بھی اندر ہی رہ گیا تھا۔ وقتاً فوقتاً کچھ اور بھی ٹرالیاں لانے والے اندر آتے اور جاتے رہے تھے اور اُس کے ساتھ ہیلو ہائے کا تبادلہ بھی کرتے رہے تھے، مگر کسی کو اُس پر شبہ نہیں ہوا تھا۔ ایک مقررہ وقت پر اُس نے سٹور روم کو اندر سے لاک کر لیا تھا کیونکہ اُسے پتہ تھا اب اُس فلور کو بھی وقتی طور پر سیل کیا جانا تھا۔ جب تک وہ کانفرنس وہاں جاری تھی۔
سٹور روم کی کھڑکی کے شیشے میں اُس کی ٹیلی سکوپک رائفل کے لئے سوراخ پہلے سے موجود تھا جسے tape لگا کر وقتی طور پر بند کیا گیا تھا۔ اُس نے tape ہٹانے سے پہلے ایک دوسری ٹیلی سکوپ سے سڑک کے پاس اُس عمارت کے اُس فلیٹ کی اُس کھڑکی کو دیکھا اور پھر اُس پیشہ ور قاتل کو جو گھات لگانے کی تیاری کر رہا تھا۔ پھر اُس نے اپنی گھڑی کو دیکھ کر وقت کا اندازہ لگایا۔ ابھی بہت وقت تھا اور اُس کی کھڑکی سے اُس پیشہ ور قاتل کی کھڑکی کا view بے حد زبردست تھا۔ وہ پہلا فائر مس بھی کر جاتا تو بھی وہ قاتل اُس کی رینج میں رہتا۔ بھاگتے ہوئے بھی، کھڑکی سے ہٹنے کی کوشش کے دوران بھی، انہوں نے جیسے اُس کے لئے حلوہ بنا دیا تھا۔
اُسے یقین تھا اُس کھڑکی میں گھات لگانے کے بعد اُس پیشہ ور قاتل نے اُس ہوٹل کے اوپر نیچے کے ہر فلور کی کھڑکیوں کو اپنی ٹیلی سکوپک رائفل سے ایک بار جیسے کھوجا ہو گا۔ کہیں کوئی غیر معمولی حرکت یا شخص کو trace کرنے کی کوشش کی ہو گی، وہ ٹیلی سکوپک رائفل کھڑکی کے شیشے سے لگا کر بیٹھتا خود اُس کی نظر میں نہ آتا تب بھی اُس کی رائفل کی نال اُس کی نظر میں آجاتی۔ اس لئے آخری منٹوں تک وہ کھڑکی کے پاس نہیں گیا تھا۔ اُسے اُس پیشہ ور قاتل پر ایک پہلا اور آخری کارگر shot فائر کرنے کے لئے گھنٹوں چاہیے بھی نہیں تھے۔ وہ بے حد close range میں تھا۔
اور اب بالکل آخری منٹوں میں اُس نے بالآخر رائفل کو اُس سوراخ میں ٹکایا تھا۔
اُسے اُس پیشہ ور قاتل کو اُس وقت مارنا تھا جب وہ فائر کر چکا ہوتا۔ اُس مہمان کو صرف مارنا ضروری نہیں تھا بلکہ اُس سازش کے سارے ثبوت مٹائے جانے بھی ضروری تھے۔
گھڑی کی سوئیاں جیسے بھاگتی جا رہی تھیں ٹک…… ٹک…… ٹک کرتے… دو انگلیاں،، دو ٹریگر پر اپنا دباؤ بڑھا رہی تھیں
٭٭٭
حمین سکندر سے ہشام متاثر زیادہ تھا یا مرعوب، اُسے کبھی اندازہ نہیں ہوا تھا۔ مگر وہ اُس سے jealous تھا، اس کے بارے میں اُسے شبہ نہیں تھا۔
رئیسہ سے ملنے اور اُس کی فیملی کے بارے میں جاننے سے بھی پہلے وہ حمین سکندر کے بارے میں جانتا تھا۔ اپنے تقریبا ًہم عمر اُس نوجوان کے بارے میں وہ اتنا ہی تجسس رکھتا تھا جتنا بزنس اور فائنانس کی دُنیا میں دلچسپی رکھنے والا کوئی بھی شخص۔
ہشّام کا باپ امریکہ میں سفارت کاری کے دوران بھی بہت ساری کمپنیز چلا رہا تھا اور اُن کمپنیز میں سے کچھ کا واسطہ حمین سکندر کی کمپنیز سے بھی پڑتا تھا۔ وہ خود حمین سے رئیسہ سے متعارف ہونے سے پہلے کبھی نہیں ملا تھا لیکن اُس کا باپ مل چکا تھا اور اُس کا مداح تھا۔ اپنی زندگی کی دوسری دہائی کے اوائل میں وہ جن بزنس ٹائیکونز سے ڈیل کر رہا تھا، وہ عمر میں اس سے دوگنا نہیں چار گنا بڑے تھے اس کے باوجود حمین سکندر کی بزنس اور فائنانس کی سمجھ بوجھ کو کوئی سوال نہیں کرتا تھا۔ وہ بولتا تھا تو لوگ سنتے تھے۔ بیان جاری کرتا تھا تو اُس پر تبصرے آتے تھے۔ پراڈکٹ پلان دیتا تھا تو یہ ممکن نہیں تھا کہ وہ مارکیٹ میں نوٹس نہ ہو، اور business ventures کرتا تھا تو یہ ممکن نہیں تھا کہ ناکامی سے دوچار ہو۔ اور اس حمین سکندر سے متاثر ہونے والوں میں ایک ہشّام بھی تھا۔ متاثر بھی، مرعوب بھی لیکن اُس سے رقابت کا جذبہ اُس نے رئیسہ کی وجہ سے رکھنا شروع کیا۔ وہ لڑکی جس پر ہشّام جان چھڑکتا تھا۔ وہ صرف ایک شخص پر اندھا اعتماد کرتی تھی، صرف ایک شخص کا حوالہ بار بار دیتی تھی اور بدقسمتی سے وہ شخص وہ تھا، جس سے ہشّام پہلے ہی مرعوب تھا۔ پھر رقابت کے علاوہ کوئی اور جذبہ ہشّام اپنے دل میں محسوس کر ہی نہیں سکتا تھا۔ یہ جاننے کے باوجود کہ رئیسہ اُسے صرف ایک دوست اور بھائی سمجھتی تھی اور یہ جاننے کے باوجود کہ حمین کے بھی رئیسہ کے لئے احساسات ایسے ہی تھے۔
وہ رئیسہ سے متعارف ہونے کے بعد حمین سے چند بار سرسری طور پر مل چکا تھا۔ مگر یہ پہلا موقع تھا جب وہ اُس سے تنہا ملنے جا رہا تھا اور وہ بھی اُس کے گھر پر وہ اب بحرین کا ولی عہد نہ ہوتا تو اُس شخص سے ملنے کے لئے جاتے ہوئے بے حد احساسِ کمتری کا شکار ہو رہا ہوتا۔ حمین سکندر کی کامیابی اور ذہانت کسی کو بھی اس احساس سے دوچار کر سکتی تھی۔
نیویارک کے ایک مہنگے ترین علاقے میں ایک 57 منزلہ عمارت کی چھت پر بنے اُس pent house میں حمین سکندر نے بے حد گرم جوشی سے اُس کا استقبال کیا تھا۔ اُس کے ساتھ اب سائے کی طرح رہنے والے باڈی گارڈز اُس عمارت کے اندر نہیں آ سکتے تھے کیونکہ entrance پر visitors میں صرف ہشّام کا نام تھا ولی عہد یا شاہی خاندان کے القابات کے بغیر۔
ان چند مہینوں میں پہلی بار His Royal Highness صرف ہشّام بن صباح کے طور پر پکارے گئے تھے۔ اُسے بُرا نہیں لگا، صرف عجیب لگا۔ وہ نام اُس کے پینٹ ہاؤس کے دروازے پر اندر داخلے کے وقت حمین نے اور بھی چھوٹا کر دیا تھا
”مجھے خوشی ہے کہ تم بالکل وقت پر آئے ہو ہشّام۔” اُس سے مصافحہ کرتے ہوئے ایک سیاہ ٹراؤزر اور سفید ٹی شرٹ میں ملبوس حمین سکندر نے کہا تھا۔
وہ اتوار کا ایک دن تھا اور وہ لنچ کے بعد مل رہے تھے۔ وہ دُنیا کے امیر ترین نوجوانوں میں سے ایک کے گھر پر تھا اور ہشّام کا خیال تھا اُس pent house میں بھی وہی سب لوازمات ہوں گے جو وہ اپنے خاندانی محلات اور اپنے سوشل سرکل میں دیکھتا آیا تھا۔ پر تعیش رہائش گاہ، جہاں پر دُنیا کی ہر آسائش ہو گی، ہر طرح کے لوازمات کے ساتھ۔ بہترین interior، فرنیچر، شو پیسز، bars اور دُنیا کی بہترین سے بہترین شراب۔ اُس کا خیال تھا، نیویارک کے اُس مہنگے ترین علاقے میں اُس pent house میں حمین سکندر نے ایک دنیاوی جنّت بسا رکھی ہو گی کیونکہ ہشّام ایسی جنّتیں دیکھتا آیا تھا۔
حمین سکندر کے اُس pent house میں کچھ بھی نہیں تھا۔ بہت مختصر، تقریباً نہ ہونے کے برابر فرنیچر، دیواروں پر چند کیلی گرافی کے شاہکار، اور کچن کاؤنٹر پر ایک رحل میں کُھلا قرآن پاک جس کے قریب پانی کا ایک گلاس اور کافی کا ایک مگ تھا۔
ہشّام بن صباح عجیب ہیبت میں آیا تھا، اُس شخص کی جس سے وہ ”مل” رہا تھا۔ جسے بزنس اور فائنانس کی دنیا کا guru نہیں جن مانا جاتا تھا اور جس کے کروڑوں روپے کے اُس pent house میں دکھاوے کے لئے بھی رکھی جانے والی چیز قرآن پاک تھا۔ وہ سالار سکندر کا خانوادہ تھا۔
”یہ میرے دادا کا دیا ہوا قرآن پاک ہے، اِسے ہمیشہ ساتھ رکھتا ہوں میں۔ گھر پر تھا، فرصت بھی، تو تمہارے آنے سے پہلے پڑھ رہا تھا۔” حمین نے رحل پر رکھے قرآن پاک کو بند کرتے ہوئے کہا۔
”بیٹھو!” وہ اب ہشّام سے کہہ رہا تھا اُس کو اُس کاؤنٹر کے قریب پڑے کچن سٹولز کے بجائے لاؤنج میں پڑے صوفوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے۔
وہ پورا pent house اُس وقت دھوپ سے چمک رہا تھا۔ سفید انٹیریئر میں گلاس سے چھن چھن کر آتی ہوئی روشنی کی کرنیں اُن صوفوں تک بھی آ رہی تھیں جن پر اب وہ بیٹھے ہوئے تھے۔ ہشّام بن صباح شاہی محل کے تخت پر بیٹھ کر آیا تھا۔ مگر اُس کے سامنے صوفے پر ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھے ہوئے شخص کے جیسا طمطراق اُس نے کبھی نہیں دیکھا تھا۔
بات کا آغاز مشکل ترین تھا اور بات کا آغاز حمین نے کیا تھا، اُسے چائے کافی کی آفر کے ساتھ۔
”کافی۔” اُس نے جواباً آفر قبول کرتے ہوئے کہا۔ حمین اُٹھ کر اب سامنے کچن ایرا میں کافی میکر سے کافی بنانے لگا۔
”رئیسہ سے تمہارا بہت ذکر سُنا ہے میں نے اور ہمیشہ اچھا۔” وہ کافی بناتے ہوئے اُس سے کہہ رہا تھا۔
”میں نے بھی۔” ہشّام کہے بغیر نہیں رہ سکا۔ حمین کافی انڈیلتے ہوئے مسکرایا اور اُس نے کہا ”I am not surprised”
وہ اب کافی کے دو مگ اور کوکیز کی ایک پلیٹ ایک ٹرے میں رکھے واپس آ کر بیٹھ گیا تھا۔
ہشّام نے کچھ کہے بغیر کافی کا اپنا مگ اُٹھایا، حمین نے ایک کوکی۔
”تم مجھ سے ملنا چاہتے تھے۔” کوکی کو کھانا شروع کرنے سے پہلے اُس نے جیسے ہشّام کو ایک reminder دیا۔
”ہاں۔” ہشّام کو یک دم کافی پینا مشکل لگنے لگا تھا جس مسئلے کے لئے وہ وہاں آیا تھا، وہ مسئلہ پھر گلے کے پھندے کی طرح یاد آیا تھا۔
”میں رئیسہ سے بہت محبت کرتا ہوں۔” اُس نے بالآخر اُس جملے سے آغاز کیا جس جملے سے وہ آغاز کرنا نہیں چاہتا تھا۔
”۔Good” حمین نے بے حد اطمینان سے جیسے کوکی کو نگلنے سے پہلے یوں کہا جیسے وہ اُس کا چیس کا سکور تھا۔
”میں اُس سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔” ہشّام نے اگلا جملہ ادا کیا۔ اُسے اپنا آپ عجیب چغد محسوس ہو رہا تھا اُس وقت۔
”میں جانتا ہوں۔” حمین نے کافی کا پہلا سپ لیتے ہوئے کہا۔”مگر سوال یہ ہے کہ یہ کروگے کیسے؟”
اُس نے جیسے ہشّام کی مدد کرتے ہوئے کہا۔ وہ اُسے سیدھا اُس موضوع پر بات کرنے کے لئے لے آیا تھا جس پر بات کرنے کے لئے وہ آیا تھا۔ ہشّام اگلے کئی لمحے اُس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے دیکھتا رہا یہاں تک کہ حمین کو اُس پر ترس آنے لگا تھا۔
”اگر تم میری جگہ ہوتے تو کیا کرتے؟” ہشّام نے یک دم اُس سے پوچھا۔ حمین کے چہرے پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔
”جو میں کرتا، وہ تم کرنے کی جرأت بھی نہیں کر سکتے۔” حمین نے جواباً کہا۔ ہشام کو عجیب سی ہتک محسوس ہوئی۔ وہ اُسے چیلنج کر رہا تھا۔
”تم بتائے بغیر مجھے judge نہیں کر سکتے۔” اُس نے حمین سے کہا۔
”ٹھیک ہے، بتا دیتا ہوں۔” حمین نے کافی کا کپ رکھتے ہوئے کہا۔
”رئیسہ کو چھوڑ دینے کے علاوہ کوئی بھی حل بتا دو مجھے، میرے مسئلے کا۔” پتہ نہیں اُسے کیا وہم ہوا تھا کہ حمین کے بولنے سے پہلے وہ ایک بار پھر بول اُٹھا تھا۔ حمین اس بار مسکرایا نہیں، صر ف اُس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھتا رہا۔
”میں اگر تمہاری جگہ ہوتا تو……”
٭٭٭٭
امامہ جبریل کا چہرہ دیکھ کر رہ گئی تھی ۔ اُسے کچھ دیر کے لئے جیسے اُس کی باتیں سمجھنا ہی مشکل ہو گیا تھا۔ اُس نے جو عنایہ اور عبداللہ کے حوالے سے کہا، جو احسن اور عبداللہ کے حوالے سے اور جو اپنے اور عائشہ کے حوالے سے، وہ سب کچھ عجیب انداز میں اُس کے دماغ میں گڈمڈ ہو گیا تھا۔
”مجھے کچھ سمجھ ہی نہیں آ رہا جبریل۔” وہ بالآخر اُس سے کہے بغیر نہیں رہ سکی۔
”ممّی! I am sorry” جبریل کو بے اختیار اس کے چہرے کے تاثرات سے اندازہ ہوا کہ اُس نے ماں کو پریشان اور حواس باختہ کر دیا تھا۔ زندگی میں پہلی بار وہ ماں کو کسی لڑکی کے حوالے سے اپنے کسی ”افیئر” کی بات کر رہا تھا وہ بھی ایک ایسا معاملہ جس میں اُس پر الزامات لگائے جا رہے تھے۔ عائشہ عابدین کون تھی؟ امامہ نے زندگی میں کبھی اُس کا نام نہیں سُنا تھا اور جبریل پر کیوں اُس کے ساتھ انوالوڈ ہونے کا الزام ایک ایسا شخص لگا رہا تھا جو اُس کے ہونے والے داماد کے لئے ایک inspiration کی حیثیت رکھتا تھا اور جبریل کیوں رعنایہ کی شادی عبداللہ کے ساتھ کرنے کے اچانک خلاف ہو گیا تھا۔ جبکہ ماضی میں ہمیشہ وہی تھا جو امامہ کو عبداللہ کے حق میں قائل کرنے کی کوشش کرتا رہا تھا۔
”میں یہ سب آپ سے شیئر نہیں کرنا چاہتا تھا، لیکن اب اس کے علاوہ اور کوئی حل سمجھ میں نہیں آ رہا مجھے۔” وہ شرمندہ زیادہ تھا یا پریشان، اندازہ لگانا مشکل تھا۔
”لیکن اس سب میں عنایہ اور عبداللہ کا کیا قصور ہے؟”
”ممّی اگر وہ اُس شخص کے زیرِ اثر ہے تو وہ بیوی کے ساتھ رویے کے لحاظ سے بھی ہو گا۔ جو کچھ میں نے احسن سعد کو عائشہ کے ساتھ کرتے دیکھا ہے، وہ میں اپنی بہن کے ساتھ ہوتے نہیں دیکھ سکتا۔” جبریل نے غیر مبہم لہجے میں کہا۔
”تم نے عنایہ سے بات کی ہے؟” امامہ نے بے حد تشویش سے اُس سے پوچھا۔
”ہاں میں نے کی ہے اور وہ بہت اپ سیٹ ہوئی ہے ، لیکن اُس نے کچھ بھی نہیں کہا۔ میں نہیں جانتا وہ کیا سوچ رہی ہے۔” جبریل کہہ رہا تھا۔ امامہ اُس کا چہرہ دیکھ رہی تھی۔ اُس نے جبریل کو کبھی اس طرح پریشان اور اس طرح کسی معاملے پر سٹینڈ لیتے نہیں دیکھا تھا۔
”اتنے مہینے سے عائشہ عابدین کا مسئلہ چل رہا ہے، تم نے پہلے کبھی مجھے اس کے بارے میں کیوں نہیں بتایا؟” وہ پوچھے بغیر نہیں رہ سکی۔ وہ بے حد سنگین الزامات تھے جو جبریل پر کسی نے لگائے تھے اور اپنی اولاد پر اندھا اعتماد ہونے کے باوجود امامہ ہل کر رہ گئی تھی۔ زندگی میں پہلی بار اُسے اپنی اولاد کے حولے سے ایسی کسی بات کو سُننا پڑ رہا تھا، وہ بھی جبریل کے بارے میں۔ حمین کے حوالے سے کوئی بات وہ سُنتی تو شاید پھر بھی اُس کے لئے غیر متوقع نہ ہوتی، وہ حمین سے کچھ بھی توقع کر سکتی تھی، لیکن جبریل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
”بتانے کے لئے کوئی بات تھی ہی نہیں ممّی!” جبریل نے جیسے صفائی دینے کی کوشش کی۔ ایک دوست کی بہن ہے وہ۔ دوست نے اُس کی مدد کرنے کے لئے کہا اور میں اس لئے considerate تھا کیونکہ مجھے لگا آپریشن میں کچھ غلطی ہوئی ڈاکٹر ویزل سے۔ اگرچہ اُس میں میرا قصور نہیں تھا، پھر بھی میں اُس سے ہمدردی رکھ رہا تھا۔ مجھے یہ تھوڑی پتہ تھا کہ ایک psycho آ کر خوامخواہ میں مجھے اپنی ex-wife کے ساتھ انوالو کرنے کی کوشش کرے گا۔” وہ کہتا جا رہا تھا۔
۔”That man is…..” جبریل کہتے کہتے رُک گیا، یوں جیسے اُس کے پاس احسن سعد کو بیان کرنے کے لئے لفظ ہی نہ رہے ہوں۔
”تمہارے پاپا سے بات کرنی ہو گی ہمیں۔ اتنا بڑا فیصلہ ہم خود نہیں کر سکتے۔” امامہ نے اُس کی بات ختم ہونے کے بعد کہا۔
”فیصلہ بڑا ہوا یا چھوٹا، ممّی میں عنایہ کی عبداللہ سے شادی نہیں ہونے دوں گا۔” جبریل نے شاید زندگی میں پہلی بار امامہ سے کسی بات پر ضد کی تھی۔
”کسی دوسرے کے جرم کی سزا ہم عبداللہ کو تو نہیں دے سکتے جبریل۔” امامہ نے مدہم آواز میں اُسے سمجھانے کی کوشش کی۔
”عبداللہ میری ذمہ داری نہیں ہے، عنایہ ہے۔ میں رسک نہیں لے سکتا اور نہ ہی آپ کو لینا چاہیے۔” وہ ماں کو جیسے خبردار کر رہا تھا اور امامہ اب واقعی پریشان ہونے لگی تھی۔
”تمہارے بابا جو بھی فیصلہ کریں گے، وہ بہتر فیصلہ ہو گا۔ اور تم ٹھیک کہتے ہو ہم عنایہ کے لئے کوئی رسک نہیں لے سکتے، لیکن ہم عبداللہ کی بات سُنے بغیر اس طرح اُس سے قطع تعلق بھی نہیں کر سکتے۔” امامہ نے کہا۔ ”عبداللہ سے ایک بار بات کرنی چاہیے۔”
جبریل کچھ ناخوش ہو کر اُٹھ کر جانے کے لئے کھڑا ہ وگیا تھا۔ وہ دروازے کے قریب پہنچا جب امامہ نے اُسے پکارا، وہ پلٹا۔
”ایک بات پوری ایمانداری سے بتانا مجھے۔” وہ ماں کے سوال اور انداز دونوں پر حیران ہوا۔
”جی؟”
”تم عائشہ عابدین کو پسند کرتے ہو؟” جبریل ہل نہیں سکا۔
٭٭٭٭
وہ عنایہ کے کہنے پر عائشہ عابدین سے ملنا آیا تھا، یقین اور بے یقینی کی ایک عجیب کیفیت میں جھولتے ہوئے۔ وہ اسلام سے ایک بچے کے طور پر متعارف ہوا تھا، ایک بچے کے طور پر متاثر۔ وہ ایک ایسے خاندان کے ذریعہ اُس مذہب کے سحر میں آیا تھا جیسے لوگ اُس نے دیکھے ہی نہیں تھے۔ اُن کی نرمی، فیاضی اور ہمدردی نے ایرک کا وجود نہیں دل اپنی مٹّھی میں کیا تھا اور اتنے سالوں میں وہ اسلام کی اسی روشن خیالی، اسی فیاضی اور نرمی کو ہی idealize کرتا رہا تھا۔ اور اب وہ اپنے mentor کے بارے میں ایسی باتیں سُن رہا تھا جو اُس کے لئے ناقابلِ یقین تھیں۔ وہ اُس نے عنایہ کی زبان سے نہ سُنی ہوتیں تو وہ اُنہیں جھوٹ کے پلندے کے علاوہ اور کچھ بھی نہ سمجھتا۔ ڈاکٹر احسن سعد وہ نہیں ہو سکتے تھے اور وہ نہیں کر سکتے تھے، جس کا الزام عنایہ اُن پر لگا رہی تھی۔
عنایہ نے امریکہ پہنچنے کے فوراً بعد اُسے کال کر کے بلوایا تھا، اور پھر احسن سعد کے معاملے کو اُس سے ڈسکس کیا تھا۔ جبریل پر ڈاکٹر احسن کے الزامات کو بھی اور عائشہ عابدین کے ساتھ ہونے والے معاملات کو بھی۔ وہ یقین کرنے پر تیّار نہیں تھا کہ احسن سعد، اتنا بے حس اور جھوٹا ہو سکتا تھا۔ مگر جس پر وہ الزامات لگ رہے تھے اُس کے بارے میں بھی عبداللہ قسم کھا سکتا تھا کہ وہ یہ نہیں کر سکتا۔
دونوں کے درمیان بحث ہوئی پھر تکرار اور پھر اُن کی زندگی کا پہلا جھگڑا۔ دو بے حد ٹھنڈے اور دھیمے مزاج کے لوگوں میں۔
”میں یقین نہیں کر سکتا۔ میں یقین نہیں کر سکتا۔ ڈاکٹر احسن سعد عملی مسلمان ہیں۔ نماز کی امامت کرواتے ہیں۔ وہ اپنی بیوی کے ساتھ یہ سلوک کریں گے۔ یہ سب…؟؟ اور بغیر وجہ کے۔ میں مان ہی نہیں سکتا۔ میں مان ہی نہیں سکتا۔” وہ اس کے علاوہ کچھ کہتابھی تو کیا کہتا۔
”تو جاؤ، تم پھر عائشہ سے مل لو اور خود پوچھ لو کہ کیا ہوا تھا اُس کے ساتھ۔ لیکن میرا بھائی جھوٹ نہیں بول سکتا۔” عنایہ نے بھی جواباً بے حد خفگی سے کہا تھا۔
ملاقات کا اختتام بے حد تلخ نوٹ پر ہوا تھا، اور اُس وقت پہلی بار عنایہ کو احساس ہوا کہ جبریل کے خدشات بے جا نہیں تھے۔ عبداللہ اگر اس حد تک احسن سعد سے متاثر تھا تو اُن دونوں کے تعلق میں یہ اثر بہت جلد رنگ دکھانے لگتا۔ وہ عبداللہ سے مل کر بہت ڈسٹربڈ ہو کر آئی تھی۔ وہ مصیبت جو کسی اور کے گھر میں تھی اُن کی زندگی میں ایسے آئی تھی کہ اُنہیں اندازہ بھی نہیں ہوا تھا۔
عبداللہ نے اُس سے ملنے کے بعد اُسے کال نہیں کی تھی، اُس نے جبریل کو کال کی تھی۔ ایک بے حد شکایتی کال۔ یہ پوچھنے کے لئے کہ وہ احسن سعد کے حوالے سے یہ سب کیوں کہہ رہا تھا، کیا وہ نہیں جانتا تھا، احسن کتنا اچھا انسان اور مسلمان تھا۔ وہ بہت دیر جبریل کی بات سُنے بغیر، بے حد جذباتی انداز میں بولتا ہی چلا گیا تھا۔ جبریل سُنتا رہا تھا۔ وہ اُس کی زندگی کے مشکل ترین لمحات میں سے ایک تھا۔ ایک نو مسلم کو یہ بتانا کہ اُس کے سامنے جو سب سے زیادہ عملی مسلمان تھا، وہ اچھا انسان ثابت نہیں ہوا تھا۔ وہ عبداللہ کا دل مسلمانوں سے نہیں اُٹھانا چاہتا تھا، خاص طور پر اُن مسلمانوں سے جو تبلیغ کا کام کر رہے تھے۔ وہ ایک حافظِ قرآن ہو کر ایک دوسرے حافظِ قرآن کے بارے میں ایک نومسلم کو یہ نہیں کہنا چاہتا تھا کہ و ہ جھوٹا تھا، ظالم تھا، بہتان لگانے والا ایک لالچی انسان تھا۔ اس کے باوجود کہ وہ صوم و صلوة کا پابند ایک مسلمان تھا۔ جبریل سکندر کا مخمصہ ایک بڑا مخمصہ تھا مگر اُس کی خاموشی اُس سے زیادہ خرابی کا باعث بنتی تو وہ خاموش نہیں رہ پایا تھا۔
”احسن سعد کے بارے میں جو میں جانتا ہوں اور جو میں کہوں گا، تم پھر اُس سے hurt ہو گے اس لئے سب سے بہترین حل یہ ہے کہ تم اُس عورت سے جا کر ملو اور وہ سارے documents دیکھو جو اُس کے پاس ہیں۔” اُس نے عبداللہ کی باتوں کے جواب میں اُسے کہا تھا۔
اور اب عبداللہ یہاں تھا۔ عائشہ عابدین کے سامنے، اُس کے گھر پر۔ وہ جبریل کے ریفرنس سے آیا تھا۔ عائشہ عابدین اُس سے ملنے سے انکار نہیں کر سکی۔ وہ اُس رات آن کال تھی اور اب گھر سے نکلنے کی تیّاری کر رہی تھی جب عبداللہ وہاں پہنچا تھا اور وہ وہاں اب اُس کے سامنے بیٹھا اُسے بتا رہا تھا کہ اُس کی منگیتر نے احسن سعد کے حوالے سے کچھ شبہات کا اظہار کیا تھا خاص طور پر عائشہ عابدین کے حوالے سے اور وہ اُن الزامات کی تصدیق یا تردید کے لئے وہاں آیا تھا۔ لیکن یہ کہنے سے پہلے اُس نے عائشہ کو بتایا تھا کہ وہ احسن سعد کو کیا درجہ دیتا تھا اور اُس کی زندگی کے پچھلے کچھ سالوں میں وہ اُس کے لئے ایک رول ماڈل رہے تھے۔ وہ جیسے ایک ”بُت” لے کر عائشہ عابدین کے پاس آیا تھا جسے ٹوٹنے سے بچانے کے لئے وہ کسی بھی حد تک جا سکتا تھا اور گفتگو کے شروع میں ہی اتنی لمبی تمہید جیسے ایک حفاظتی دیوار تھی جو اُس نے صرف اپنے سامنے ہی نہیں، عائشہ عابدین کے سامنے بھی کھڑی کر دی تھی۔ اُس نے بھی جبریل جیسی ہی خاموشی کے ساتھ اُس کی باتیں سُنی تھیں۔ بے حد تحمل اور سکون کے ساتھ۔ کسی مداخلت یا اعتراض کے بغیر۔ عبداللہ کو کم از کم اُس سے یہ توقع نہیں تھی۔ وہ یہاں آنے سے پہلے عائشہ عابدین کا ایک image ذہن میں رکھ کر آیا تھا۔ وہ پہلی نظر میں بھی اُس image پر پوری نہیں اُتری تھی۔ بے حجاب ہونے کے باوجود اُس میں عبداللہ کو بے حیائی نہیں دکھی تھی۔ بے حد سادہ لباس میں، میک اپ سے بے نیاز چہرے والی، ایک بے حد حسین لڑکی، جس کی آنکھیں اُداس تھیں اور جس کی آواز بے حد دھیمی۔ عبداللہ وہاں ایک تیز طرّار، بے حد فیشن ایبل، الٹرا ماڈرن، عورت سے ملنے کی توقع لے کر آیا تھا۔ جسے اُس کے اپنے خیال اور ڈاکٹر احسن سعد کے بتائے ہوئے کردار کے مطابق بے حد قابلِ اعتراض حلیے میں ہونا چاہیے تھا۔ مگر عبداللہ کی قسمت میں شاید اور حیران ہونا باقی تھا۔
عنایہ اور جبریل دونوں نے اُسے کہا تھا کہ وہ اُسے documents دکھائے گی۔ احسن سعد سے طلاق کے کاغذات، قانونی کارروائی کے کاغذات، کورٹ کی judgement ، کسٹڈی کی تفصیلات اور وہ حقائق جو صرف وہی بتا سکتی تھی۔ عائشہ عابدین نے ایسا کچھ بھی نہیں کہا تھا۔
”احسن سعد بُرا شخص نہیں ہے، صرف میں اور وہ compatible نہیں تھے، اس لئے شادی نہیں چلی۔” تقریباً دس منٹ تک اُس کی بات سننے کے بعد عائشہ نے بے حد مدہم آواز میں اُسے کہا تھا۔
”وہ یقیناً اتنے ہی اچھے مسلمان ہیں، جتنا آپ اُسے سمجھتے ہیں اور اُس میں بہت ساری خوبیاں ہیں۔ آپ بڑے خوش قسمت ہیں کہ آپ کا واسطہ اُن کی خوبیوں سے پڑا۔ میں شاید اتنی خوش قسمت نہیں تھی یا پھر مجھ سے کوتاہیاں سرزد ہوئی ہوں گی۔” وہ کہہ رہی تھی اور عبداللہ کے دل کو جیسے تسلی نہیں ہو رہی تھی۔ یہ وہ کچھ نہیں تھا جو وہ سُننا چاہتا تھا۔ لیکن وہ بھی نہیں تھا جس کی اُسے توقع تھی۔
”وہ آپ کے لئے ایک inspiration اور رول ماڈل ہیں، یقیناً ہوں گے۔” وہ کہہ رہی تھی۔ ”کوئی انسان perfect نہیں ہوتا مگر چند غلطیاں کرنے پر ہم کسی کو نظروں سے نہیں گرا سکتے۔ میرے اور احسن سعد کے درمیان جو بھی ہوا، اُس میں اُن سے زیادہ میری غلطی ہے۔ اور آپ کے سامنے میں اُن کے بارے میں کچھ بھی کہہ کر وہ غلطی پھر سے دہرانا نہیں چاہتی۔” عائشہ نے بات ختم کر دی تھی۔ عبداللہ اُس کی شکل دیکھتا رہ گیا تھا۔ اُسے تسلی ہونی چاہیے تھی، نہیں ہوئی۔ وہ وہاں احسن سعد کے بارے میں کچھ جاننے اور کھوجنے نہیں آیا تھا اُس کو defend کرنے آیا تھا۔ اُس عورت کے سامنے جو اُس کی تذلیل اور تضحیک اور دل شکنی کا باعث بنی تھی لیکن اُس عورت نے جیسے اُس کے سامنے کوئی گنجائش ہی نہیں چھوڑی تھی۔ کسی صفائی، کسی وضاحت کی۔ اُس نے ہر غلطی، ہر گناہ، خاموشی سے اپنے کھاتے میں ڈال لیا تھا۔ اُس کے لاؤنج میں بیٹھے عبداللہ نے دیواروں پر لگی اُس کے بیٹے کی تصویریں دیکھی تھیں، اُس کے کھلونوں کی، ایک چھوٹا سا صاف سُتھرا گھر…۔ویسی جگہ نہیں، جیسا وہ اُسے تصوّر کر کے آیا تھا، کیوں کہ احسن سعد نے اُسے اس عورت کے ”پھوہڑ پن” کے بھی بہت قصّے سنا رکھے تھے۔ جو احسن سعد کے گھر کو چلانے میں ناکام تھی، جس کا واحد کام اور مصروفیت TV دیکھتے رہنا یا آوارہ پھرنا تھا اور جو گھر کا کوئی کام کرنے کے لئے کہنے پر بھی برہم ہو جاتی تھی۔ عبداللہ کے دماغ میں گرہیں بڑھتی ہی چلی جا رہی تھیں۔ وہ اُس لڑکی سے نفرت نہیں کر سکا۔ اُسے ناپسند نہیں کر سکا۔
”جبریل سے آپ کا کیا تعلق ہے؟” وہ بالآخر ایک آخری سوال پر آ گیا تھا جہاں سے یہ سارا مسئلہ شروع ہوا تھا۔
”میں اُس سے پیار کرتی ہوں۔” وہ اُس کے سوال پر بہت دیر خاموش رہی پھر اُس نے عبداللہ سے کہا۔ سر اُٹھا کر نظریں چرائے بغیر۔
٭٭٭٭
۔”I met your ex-wife” وہ جملہ نہیں تھا، جیسے ایک بم تھا جو اُس نے احسن سعد کے سر پر پھوڑا تھا۔
عبداللہ پچھلی رات واپس پہنچا تھا اور اگلے دن ہاسپٹل میں اُس کی ملاقات احسن سے ہوئی تھی۔ اُسی طرح ہشاش بشّاش، بااخلاق، پرجوش۔ عبداللہ کے کانوں میں عنایہ اور جبریل کی آوازیں اور انکشافات گونجنے لگے تھے۔ اُس نے احسن سے ملاقات کا وقت مانگا تھا۔ جو بڑی خوش دلی سے دیا گیا تھا۔ وہ دونوں ایک ہی اپارٹمنٹ کی بلڈنگ میں رہتے تھے۔ احسن کے والدین اُس کے ساتھ رہتے تھے، اس لئے وہ ملاقات اپنے گھر پر کرنا چاہتا تھا مگر احسن اُس شام کچھ مصروف تھا تو عبداللہ کو اُس ہی کے اپارٹمنٹ پر جانا پڑا۔ وہاں اُس کی ملاقات احسن کے والدین سے ہوئی تھی۔ ہمیشہ کی طرح ایک رسمی ہیلو ہائے۔ احسن لاؤنج میں بیٹھے بٹھائے اُس سے بات کرنا چاہتا تھا مگر عبداللہ نے اُس سے علیحدگی میں ملنا چاہا تھا اور تب وہ اُسے اپنے بیڈ روم میں لے آیا تھا مگر وہ کچھ اُلجھا ہوا تھا۔ عبداللہ کا رویہ کچھ عجیب تھا مگر احسن سعد کی چھٹی حس اُسے اُس سے بھی بُرے سگنلز دے رہے تھے اور وہ بالکل ٹھیک تھے۔ عبداللہ نے کمرے کے اندر آتے ہی گفتگو کا آغاز اسی جملے سے کیا تھا اور احسن سعد کا لہجہ، انداز اور تاثرات پلک جھپکتے میں بدلے تھے۔ عبداللہ نے زندگی میں پہلی بار اُس کی یہ آواز سُنی تھی۔ وہ لہجہ بے حد خشک اور سرد تھا۔ Rude بہتر لفظ تھا اُسے بیان کرنے کے لئے۔ اور اُس کے ماتھے پر بل آئے تھے۔ آنکھوں میں کھا جانے والی نفرت، بھینچے ہوئے ہونٹوں کے ساتھ اُس نے عبداللہ سے کہا۔
”کیوں؟”
عبداللہ نے بے حد مختصر الفاظ میں اُسے بتایا کہ عنایہ نے اُس سے کہا تھا کہ جبریل اُس کی شادی عبداللہ سے نہیں کرنا چاہتا اور اُس کے انکار کی وجہ احسن سعد سے اُس کا قریبی تعلق تھا۔ اُس نے احسن سعد کو بتایا کہ عنایہ اور جبریل دونوں نے اُس پر سنگین الزامات لگائے تھے اور اُسے عائشہ عابدین سے ملنے کے لئے کہا جو اُس کے لئے ضروری ہو گیا تھا۔
”تو تم نے اُن پر اعتبار کیا، اپنے اُستاد پر نہیں اور تم مجھ سے بات یا مشورہ کئے بغیر اُس کُتیا سے ملنے چلے گئے، اور تم دعویٰ کرتے ہو کہ تم نے مجھ سے سب کچھ سیکھ لیا۔” احسن نے اُس کی گفتگو کے درمیان ہی اُس کی بات بے حد خشمگیں لہجے میں کاٹی تھی۔ عبداللہ بات ویسے بھی کرنے کے قابل نہیں رہا تھا۔ اُس نے احسن سعد کی زبان سے ابھی ابھی ایک گالی سُنی تھی، عائشہ عابدین کے لئے وہ گالی اُس کے لئے شاکنگ نہیں تھی، احسن سعد کی زبان سے اُس کا نکلنا شاکنگ تھا۔ مگر وہ شام عبداللہ کے لئے وہ آخری شاک لانے والی نہیں تھی۔ وہ جس بُت کی پوجا کر رہا تھا، وہ وہاں اُس بُت کو اوندھے منہ گرتے دیکھنے آیا تھا۔
”تمہیں کوئی حق نہیں تھا کہ تم میری سابقہ بیوی سے ملتے۔ میرے بارے میں اس طرح investigation کرتے، تم اُس ”……” ،”…”،”…” کے پاس پہنچے۔ جس نے تمہیں میرے بارے میں جھوٹ پہ جھوٹ بولا ہو گا۔” احسن سعد کے جملوں میں اب عائشہ کے لئے گالیاں اس طرح آ رہی تھیں جیسے وہ اُسے مخاطب کرنے کے لئے روز مرّہ کے القابات تھے وہ غصّے کی شدت سے بے قابو ہو رہا تھا، عائشہ کی نفرت اُس کے لئے سنبھالنا مشکل ہو رہی تھی یا اپنا سالوں کا بنایا ہوا image مسخ ہونے کی تکلیف نے اُسے اس طرح بلبلانے پر مجبور کر دیا تھا، عبداللہ سمجھنے سے قاصر تھا۔
”وہ دکھانے بیٹھ گئی ہو گی تمہیں کورٹ کے کاغذات کو، یہ دیکھو کورٹ میرے شوہر کو جھوٹا کہہ رہی ہے۔۔ کورٹ نے مجھ پر مار پیٹ کے الزامات کو مانا ہے، کورٹ نے احسن سعد کو دوسری شادی کرنے کے لئے اُسے دھوکہ باز کہا ہے اور اس لئے اُس …… عورت کے طلاق کے مطالبے کو جائز قرار دیتے ہوئے اُسے طلاق دلوا دی اور بچے کی کسٹڈی بھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔” وہ بولتا ہی جارہا تھا اور عبداللہ ساکت صرف اُسے سُن رہا تھا۔ وہ سارے انکشافات جن کو سُننے کے لئے جبریل نے اُسے عائشہ کے پاس بھیجا تھا، وہ الزامات وہ خود احسن سعد سے سُن رہا تھا۔
”میں اس ملک کے courts کو دو ٹکے کا نہیں سمجھتا۔ یہ کافروں کی عدالتیں ہیں، اسلام کو کیا سمجھتی ہوں گی، وہ فیصلے دیتی ہیں جو شریعہ کے خلاف ہیں۔ میرا مذہب حق دیتا ہے مجھے دوسری شادی کا، کسی بھی وجہ کے بغیر۔ تو کورٹ کون ہوتی ہے مجھے اس عمل پر دھوکہ باز کہنے والی؟ مجھے حق ہے کہ میں ایک نافرمان بیوی کو مار پیٹ سے راہِ راست پر لاؤں، کورٹ کس حق کے تحت مجھے اس سے روک سکتا ہے؟ میں مرد ہوں، مجھے میرے دین نے عورت پر برتری دی ہے، کورٹ کیسے مجھے مجبور کر سکتی ہے کہ میں اپنی بیوی کو برابری دوں؟ اِن ہی چیزوں کی وجہ سے تو تمہارا معاشرہ تباہ ہو گا۔ بے حیائی، عُریانی، منہ زوری، مرد کی نافرمانی، یہی چیزیں تو لے ڈوبی ہیں تمہاری عورتوں کو۔ اور تمہارے کورٹس کہتے ہیں کہ ہم بھی بے غیرت ہو جا ئیں اور ان عورتوں کو بسائیں اور اُن کے پیچھے کُتے کی طرح دُم ہلاتے پھریں۔”
وہ شخص کون تھا؟ عبداللہ پہچان ہی نہیں پا رہا تھا۔ اتنا زہر، ایسا تعصّب، ایسے الفاظ اور یہ سوچ۔ اُس نے ڈاکٹر احسن سعد کے اندر یہ چھپا انسان تو کبھی نہیں دیکھا تھا جو امریکہ کو ہمیشہ اپنا ملک قرار دیتے ہوئے اپنے آپ کو ایک proud American کہتا تھا اور آج وہ اُسے تمہارا ملک، تمہارا معاشرہ، تمہارے کورٹس کہہ کہہ کر بات کر رہا تھا۔ اُمّت اور اخوّت کے جو دو لفظ اُس کا کلمہ تھے وہ دونوں یک دم کہیں غائب ہوگئے تھے۔
”اب طلاق منہ پر مار کر میں نے اُس حرّافہ کو چھوڑا ہوا ہے تو خوار ہوتی پھر رہی ہے۔ کسی کی keep اور گرل فرینڈ ہی رہے گی وہ ساری عمر، کبھی بیوی نہیں بنے گی۔ اُسے یہی آزادی چاہیے، تمہاری سب عورتوں کو یہی سب چاہیے۔ گھر، خاندان، چاردیواری کس چڑیا کے نام ہیں اُنہیں کیا پتہ۔ عصمت جیسا لفظ اُن کی ڈکشنری میں ہی نہیں اور پھر الزام لگاتی ہیں شوہروں پر تشدّد کے، گھٹیا عورتیں۔” اُس کے جملوں میں اب بے ربطگی تھی یوں جیسے وہ خود بھی اپنی باتیں جوڑ نہ پا رہا ہو، مگر وہ خاموش ہونے پر تیّار نہ تھا۔ اُس کا علم بول رہا ہوتا تو اگلے کئی گھنٹے بھی عبداللہ اسی طرح اُسے سُن سکتا تھا جیسے وہ ہمیشہ سحر زدہ معمول کی طرح سُنتا رہتا تھا مگر یہ اُس کی جہالت تھی جو گفتگو کر رہی تھی اور کرتے ہی رہنا چاہتی تھی۔
عبداللہ اُس کی بات کاٹ کر کچھ کہنا چاہتا تھا مگر اُس سے پہلے احسن سعد کے دونوں ماں باپ اندر آگ ئے تھے وہ یقیناً احسن کے اس طرح بلند آواز میں باتیں سُن کر اندر آئے تھے۔
”ابّو میں نے آپ سے کہا تھا نا کہ آپ کے دوست کا بیٹا میرا دشمن ہے، مجھے نقصان پہنچائے گا۔ اب دیکھ لیں، وہی ہو رہا ہے۔ وہ مجھے جگہ جگہ بدنام کرتا پھر رہا ہے۔” احسن نے اپنے باپ کو دیکھتے ہی کہا تھا۔
”کون؟” سعد نے کچھ ہکا بکا انداز میں کہا۔
”جبریل۔” احسن نے جواباً کہا اور عبداللہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ ”اسے عائشہ سے ملوایا ہے اُس نے اور اُس عورت نے اسے میرے بارے میں جھوٹی سچی باتیں کہیں ہیں، زہر اگلا ہے میرے بارے میں۔” وہ ایک چھوٹے بچے کی طرح باپ سے شکایت کر رہا تھا۔
”عائشہ نے مجھ سے آپ کے بارے میں کچھ بھی نہیں کہا۔ جو بھی بتایا ہے، آپ نے خود بتایا ہے۔” عبداللہ نے سعد کے کچھ کہنے سے پہلے کہا تھا۔ ”انہوں نے مجھ سے صرف یہ کہا کہ آپ کے اور اُن کے درمیان compatibility نہیں تھی، مگر کوئی کورٹ پیپرز اور کورٹ میں آپ پر ثابت ہونے والے کسی الزام کی انہوں نے بات کی، نہ ہی مجھے کوئی پیپر دکھایا۔ جو بھی سُن رہا ہوں، وہ میں آپ سے ہی سُن رہا ہوں۔” عبداللہ کا خیال تھا، احسن سعد حیران رہ جائے گا اور پھر شرمندہ ہو گا ایسا نہیں ہوا تھا۔
”تم مجھے بے وقوف بنانے کی کوشش مت کرو۔” احسن سعد نے اُسے درمیان میں ہی ٹوک دیا تھا۔ عبداللہ اُٹھ کر کھڑا ہو گیا۔ اُس گھر میں یک دم ہی اُس کا دم گھٹنے لگا تھا۔ اب صرف احسن سعد نہیں بول رہا تھا، اُس کا باپ اور ماں بھی بولنے لگ گئے تھے۔ وہ تینوں بیک وقت بول رہے تھے اور عائشہ عابدین کو لعنت ملامت کر رہے تھے اور جبریل کو اور سالار سکندر کو جس کے ماضی کے حوالے سے سعد کو یک دم بہت ساری باتیں یاد آنے لگی تھیں اور امامہ کے بارے میں۔ جس کا پہلا مذہب قادیانیت تھا۔ عبداللہ کو یک دم کھڑے کھڑے یہ محسوس ہونے لگا تھا جیسے وہ ایک mental asylum میں کھڑا تھا۔ وہ اُس کے کھڑے ہونے پر بھی اُسے جانے نہیں دے رہے تھے بلکہ چاہتے تھے وہ اُس کی ہر بات سُن کر جائے۔ ایک ایک بہتان، ایک ایک راز جو صرف اُن کے سینوں میں دبا ہوا تھا اور جسے وہ آج آشکار کر دینا چاہتے تھے۔ اسلام کا وہ چہرہ عبداللہ نے کبھی نہیں دیکھا تھا اور نہ ہی وہ دیکھنا چاہتا تھا۔ وہ مذہب اُس کے لئے ہمیشہ ہدایت اور مرہم تھا، بے ہدایتی اور زخم کبھی نہیں بنا تھا۔ وہ وہاں سے بھاگ جانا چاہتا تھا۔ کانوں میں پڑنے والی آوازوں کو روک دینا چاہتا تھا۔ احسن سے کہنا چاہتا تھا کہ وہ اُس کے قرآن کا اُستاد رہا تھا۔ وہ بس وہی سب بتائے اُسے، یہ سب نہ سُنائے۔
”برادر احسن! You disappointed me” عبداللہ نے بالآخر بہت دیر بعد آوازوں کے اُس طوفان میں اپنا پہلا جملہ کہا۔ طوفان جیسے چند لمحوں کے لئے رُکا۔
”آپ کے پاس بہت علم ہے، قرآن پاک کا بہت زیادہ علم ہے، لیکن ناقص۔ آپ قرآن پاک کو حفظ تو کئے ہوئے ہیں، مگر نہ اس کا مفہوم سمجھ پائے ہیں نہ اللہ اور اُس کے رسولﷺۖ کی تعلیمات۔ کیونکہ آپ سمجھنا نہیں چاہتے اُس کتاب کو جو اپنے آپ کو سمجھنے اور سوچنے کے لئے بلاتی ہے۔ آپ سے ایک بار میں نے ایک آیت کا مطلب پوچھا تھا کہ قرآن دلوں پر مہر لگا دینے کی بات کرتا ہے تو اُس کا کیا مفہوم ہے۔ مجھے اُس کا مفہوم اُس وقت سمجھ نہیں آیا تھا، آج آ گیا۔ آپ میرے اُستاد رہے ہیں مگر میں دعا کرتا ہوں، اللہ آپ کے دل کی مہر توڑ دے اور آپ کو ہدایت عطا فرمائے۔” وہ احسن سعد کو بیچ بازار میں جیسے ننگا کر کے چلا گیا تھا۔ وہاں ٹھہرا نہیں تھا۔
٭٭٭٭
وہ پھر وہیں کھڑا تھا جہاں عائشہ کو توقع تھی۔ اُس کے اپارٹمنٹ کے باہر، کمپاؤنڈ میں۔ ادھر سے ادھر ٹہلتے، گہری سوچ میں، زمین پر اپنے قدموں سے فاصلہ ماپتے ہوئے۔ برف باری کچھ دیر پہلے ہو کر ہٹی تھی اور جو برف گری تھی وہ بہت ہلکی سی چادر کی طرح تھی۔ جو دھوپ نکلنے پر پگھل جاتی، مگر آج دھوپ نہیں نکلی تھی اور اُس برف پر جبریل کے قدموں کے نشان تھے بے حد ہموار، اور متوازن، جیسے بہت سوچ سمجھ کر رکھے جا رہے ہوں۔ اُس نے عائشہ کو باہر آتے نہیں دیکھا تھا مگر عائشہ نے اُسے دیکھ لیا تھا۔ لانگ کوٹ کی دونوں جیبوں میں ہاتھ ڈالے وہ اُس کی طرف بڑھنے لگی۔
جبریل نے اُسے کچھ دیر پہلے فون کیا تھا۔ ملنا چاہتا تھا۔
”میں گروسری کے لئے جا رہی ہوں اور پھر ہاسپٹل چلی جاؤں گی۔” اُس نے جیسے بلاواسطہ انکار کیا تھا۔ وہ اب اُس کا سامنا کرنے سے کترانے لگی تھی۔ اُس کے سامنے آنا ہی نہیں چاہتی تھی، اُس ایک گفتگو کے بعد۔
”تو تم کورٹ میں یہ اعتراف کرنا چاہتی ہو کہ احسن سعد ٹھیک ہے اور تم نے اپنے بیٹے کی دیکھ بھال میں لاپرواہی کا مظاہرہ کیا۔ تم اپنی زندگی تباہ کرنا چاہتی ہو۔” جبریل نے بے حد خفگی سے اُسے تب کہا تھا۔
”مجھے اپنی زندگی میں اب دلچسپی نہیں رہی اور اگر اسے قربان کرنے سے ایک زیادہ بہترین زندگی بچ سکتی ہے تو کیوں نہیں۔” اُس نے جواباً اُن سب ملاقاتوں میں پہلی بار اُس سے اس طرح بات کی تھی۔
”تم مجھے بچانا چاہتی ہو؟” جبریل نے سیدھا اُس سے پوچھا۔ اُسے اتنے direct سوال کی توقع نہیں تھی اُس سے اور ایک ایسے سوال کی، جس کا جواب وہ اُسے دینے کی جرأت ہی نہیں کر سکتی تھی۔ وہ اُسے یہ کیسے بتا سکتی تھی۔کہ وہ احسن سعد سے اُس شخص کو بچانا چاہتی تھی جو اُسے اسفند کے بعد اب سب سے عزیز تھا۔ یہ جاننے کے باوجود کہ احسن سعد نے اُسے جبریل کے آپریشن میں ڈاکٹر ویزل سے ہونے والی کوتاہی کے بارے میں بتایا تھا اُسے جبریل کے اُس معذرت والے کارڈ کی سمجھ بھی تب ہی آئی تھی۔ لیکن وہ پھر بھی جبریل کو معاف کرنے پر تیّار تھی، یہ ماننے پر تیّار نہیں تھی کہ اُس کے بیٹے کی جان لینے میں اُس شخص سے ہونے والی کسی دانستہ غلطی کا ہاتھ تھا۔ وہ اُسے اتنی توجہ کیوں دیتا تھا؟ اُس کے لئے کیوں بھاگتا پھرتا تھا؟ عائشہ عابدین جیسے اب ڈی کوڈ کر پائی تھی اور وہ اُسے اُس احساسِ جرم سے آزاد کر دینا چاہتی تھی، یہ بتا کر کہ اُس نے جبریل کو معاف کر دیا تھا اور وہ جبریل کو بچانے کے لئے احسن سعد کے آگے دیوار کی طرح کھڑی ہو سکتی تھی۔ وہ ایک کام بھی جو وہ زندگی میں اپنی ذات اور اپنی اولاد کے لئے بھی نہیں کر سکی تھی۔
”میں تمہیں صرف احساسِ جرم سے آزاد کر دینا چاہتی ہوں، جو تم اسفند کی وجہ سے رکھتے ہو۔” اُس نے اُس کے سوال کا جواب دیا تھا۔ جبریل بول نہیں سکا تھا۔
”میں اِس کے لئے تمہارا شکریہ ادا کر سکتا ہوں، مگر تمہیں اپنی زندگی تباہ کرنے نہیں دے سکتا۔” بڑی لمبی خاموشی کے بعد جبریل نے کہا تھا۔
”تم اگر احسن کے اس الزام پر کورٹ میں یہ کہو گی تو میں اپنی غلطی کورٹ میں جا کر بتاؤں گا۔” اُس نے عائشہ سے کہا۔ ”تمہیں کوئی سمجھانے والا نہیں ہے، ہوتا تو تمہیں یہ نہ کرنے دیتا۔ اور نہیں، تمہارے پاس آنے کی واحد وجہ میرا احساسِ جرم نہیں ہے۔ زندگی میں احساسِ جرم ہمدردی تو کروا سکتا ہے محبت نہیں۔” جبریل اُسے اُس دن جانے سے پہلے کہہ کر گیا تھا۔ ایسے ہی معمول کے انداز میں، یوں جیسے سر درد میں ڈسپرین recommend کر رہا ہو یا نزلہ ہو جانے پر فلو diagnose کر رہا ہو۔ اُس کے جانے کے بعد بھی عائشہ کو لگا تھا اُس نے جبریل سکندر کی بات سُننے میں غلطی کی تھی اور اُس میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ اس بات کو دوبارہ سُننے کا اصرار کرتی تاکہ اپنی تصحیح کر سکے۔ بعض وہم جی اُٹھنے کے لئے ضروری ہوتے ہیں، بعض شائبے متاعِ حیات ہوتے ہیں، یقین میں نہ بھی بدلیں تو بھی۔
اور اب وہ ایک بار پھر سامنے کھڑا تھا۔ نہیں کھڑا نہیں تھا، برف پر اپنے نشان بنانے میں مصروف تھا یوں جیسے اُس کے پاس دنیا بھر کی فرصت تھی۔
اُس کی چاپ پر جبریل نے گردن موڑ کر اُسے دیکھا۔ وہ لانگ کوٹ کے اندر اپنی گردن کے مفلر کو بالکل ٹھیک ہونے کے باوجود ایک بار پھر ٹھیک کرتی اُس کی طرف آ رہی تھی، اُس کی طرف متوجہ نہ ہونے کے باوجود۔
”گروسری میں بہت وقت لگے گا میرا۔” اُس کے قریب آتے ہوئے غیر محسوس انداز میں اُسے جتاتے ہوئے اُس نے جبریل سے کہا تھا۔ ”ہم پھر کسی دن فرصت میں مل سکتے تھے۔” جبریل کے جواب کو انتظار کئے بغیر اُس نے ایک بار پھر جبریل کو جیسے اپنے ساتھ جانے سے روکنے کے لئے کہا۔ اس کے باوجود کہ جبریل نے اُسے انتظار کرنے کا نہیں کہا تھا، وہ اُس کے ساتھ گروسری کرنے جانے کے لئے تیّار تھا۔ اُسے صرف اتنا وقت ہی چاہیے تھا جتنا وقت وہ گروسری کرتی۔ ساتھ چلتے پھرتے وہ بات کر سکتا تھا۔
”میں جانتا ہوں۔ مگر فرصت میرے پاس تو بہت ہے، تمہارے پاس بالکل نہیں۔” اُس نے جواباً اُس سے کہا۔ ”گاڑی میں چلیں؟” جبریل نے بھی اپنے جواب پر اُس کے تبصرے کا انتظار نہیں کیا تھا۔
”نہیں، یہاں قریب ہی ہے سٹور، walking distance پر۔ گاڑی کی ضرورت نہیں ہے، مجھے بہت زیادہ چیزیں نہیں چاہیے۔” عائشہ نے قدم روکے بغیر بیرونی سڑک کی طرف جاتے ہوئے کہا۔
”تم نے عبداللہ سے جھوٹ کیوں بولا؟” وہ چند قدم خاموشی سے چلتے رہے تھے پھر جبریل نے اُس سے پوچھنے میں دیر نہیں کی تھی۔ عائشہ نے گہرا سانس لیا۔ اُسے اس سوال کی توقع تھی لیکن اتنی جلدی نہیں۔
”بزدلی اچھی چیز نہیں عائشہ” اُس نے چند لمحے اُس کے جواب کا انتظار کرنے کے بعد کہا تھا۔ وہ طنز نہیں تھا مگر اس وقت عائشہ کو طنز ہی لگا تھا۔ ساتھ چلتے ہوئے وہ دونوں اب فٹ پاتھ پر آ گئے تھے۔ برف کی چادر پر وہ نشان جو کچھ دیر پہلے جبریل اکیلا بنا رہا تھا اب وہ دونوں ساتھ ساتھ بنا رہے تھے۔
”تمہیں لگتا ہے، میں بزدل ہوں اس لئے میں نے احسن سعد کے بارے میں عبداللہ کو سچ نہیں بتایا؟” اُس نے اس ملاقات کے دورانیہ میں ساتھ چلتے ہوئے پہلی بار گردن موڑ کر جبریل کو دیکھا تھا۔
”بزدلی یا خوف، اس کے علاوہ تیسری وجہ اور کوئی نہیں ہو سکتی۔ ”جبریل نے جیسے اپنی بات کی تصدیق کرتے ہوئے دوٹوک انداز میں کہا۔ ”تمہیں ڈر تھا کہ احسن سعد تمہیں پریشان کرے گا۔ تمہیں فون کرے گا اور تنگ کرے گا۔” جبریل نے کہا تھا۔ ”مگر تم نے عبداللہ سے جھوٹ بول کر، احسن سعد کو بچا کر بہت زیادتی کی۔ تم نے مجھے اور عنایہ کو جھوٹا بنا دیا۔” اُس کا لہجہ اب شکایتی تھا۔
”آپ لوگوں کے جھوٹا ہونے سے اُتنا نقصان نہیں ہوتا جتنا احسن سعد کے جھوٹا ہونے سے عبداللہ کو ہوتا۔” عائشہ نے جواباً کہا۔
”وہ حافظِ قرآن ہے تو میں بھی ہوں۔” جبریل نے کہا۔
”آپ کو وہ اُس مقام پر بٹھا کر نہیں دیکھتا جس پر احسن کو دیکھتا ہے۔” عائشہ نے جواباً کہا۔ ”وہ نومسلم نہ ہوتا تو میں احسن کے بارے میں اب سب کچھ بتا دیتی اُسے۔ وہ مجھ سے ملنے کے بعد دوبارہ احسن کی شکل بھی نہ دیکھتا شاید۔ مگر وہ نومسلم ہے۔ میں اُسے کس منہ سے یہ کہتی کہ اتنے سالوں سے وہ جس شخص کو بہترین مسلمان اور انسان سمجھ رہا ہے، وہ ایسا نہیں ہے۔ عبداللہ نے صرف احسن کو جھوٹا نہیں ماننا تھا، میرے دین سے اُس کا دل اُچاٹ ہونا تھا۔” وہ کہہ رہی تھی، اُسی مدہم آواز میں جو اُس کا خاصہ تھی۔
”میرے ساتھ ہوا تھا ایک بار ایسے۔ میں احسن سعد سے ملنے سے پہلے بہت اچھی مسلمان تھی، آنکھیں بند کر کے اسلام کی پیروی کرنے والی، جنون اور پاگل پن کی حد تک دین کے راستے پر چلنے والی اور اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسولﷺۖ سے اندھی محبت اور عقیدت رکھنے والی۔ لیکن پھر میری شادی احسن سعد سے ہو گئی اور میں نے اُس کا اصل چہرہ دیکھ لیا۔ اور میرا سب سے بڑا نقصان ایک خراب ازدواجی زندگی، طلاق یا اسفند کی موت نہیں ہے، میرا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ اُس نے مجھے دین سے بیزار کر دیا۔ مجھے اب دین کی بات کرنے والا ہر شخص جھوٹا اور منافق لگتا ہے۔ داڑھی اور حجاب سے مجھے خوف آتا ہے، میرا دل جیسے عبادت کے لئے بند ہو گیا ہے۔ اتنے سال میں دن رات اتنی عبادتیں اور وظیفے کرتی رہی، اپنی زندگی میں بہتری کے لئے کہ اب مجھے لگتا ہے مجھے اللہ سے کچھ مانگنا ہی نہیں چاہیے۔ میں مسلمان ہوں لیکن میرا دل آہستہ آہستہ کافر ہوتا جا رہا ہے اور مجھے اس احساس سے خوف آتا ہے لیکن میں کچھ کر نہیں پا رہی۔ اور یہ سب اس لئے ہوا کیوں کہ مجھے ایک اچھے عملی مسلمان سے بہت ساری توقعات اور اُمیدیں تھیں اور میں نے اُنہیں چکنا چور ہوتے دیکھا۔ اور میں عبداللہ کو اس تکلیف سے گزارنا نہیں چاہتی۔ اگر وہ احسن سعد کو اچھا انسان سمجھتے ہوئے ایک اچھا انسان بن سکتا ہے تو اُسے بننے دیں۔” وہ اپنے ہاتھ کی پشت سے اپنی آنکھوں اور گالوں کو رگڑنے کی کوشش کر رہی تھی۔
”میں کافر ہوں، لیکن میں کسی کو کافر نہیں کر سکتی، بس مجھ میں اگر ایمان ہے تو صرف اتنا۔” وہ اب ٹشو اپنی جیب سے نکال کر آنکھیں رگڑ رہی تھی۔
”پسند؟ مجھے پسند کا نہیں پتہ ممّی۔ مگر عائشہ عابدین میری عقل اور سمجھ سے باہر ہے۔ میں اُس سے شدید ہمدردی رکھتا تھا۔ مگر اب ہمدردی تو بہت پیچھے رہ گئی ہے۔ میں اُسے اپنے ذہن سے نکال نہیں پاتا۔ بار بار اُس سے ملنا چاہتا ہوں۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ اُس کا اور میرا کوئی future نہیں ہے اور یہ جانتے ہوئے بھی کہ لائف پارٹنر کے طور پر مجھے جیسی لڑکی کی خواہش ہے، عائشہ اُن کی متضاد ہے۔ مجھے بے حد مضبوط، پر اعتماد، زندگی سے بھرپور، career oriented، ہر وقت ہنستی رہنے والی لڑکیاں اچھی لگتی ہیں جو بہت اچھی values بھی رکھتی ہوں اور عا

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: