Aab e Hayat Novel by Umera Ahmed Read Online – Episode 48

0

آب حیات از عمیرہ احمد – قسط نمبر 48

–**–**–

”کافی پیو گی یا اب بھی گروسری کرو گی؟” وہ اُسے اب چھیڑ رہا تھا۔
”گروسری زیادہ ضروری ہے۔” اُس نے اپنی ندامت چھپاتے ہوئے آنسوؤں پر قابو پاتے ہوئے کہا۔
”اگر اتنی ضروری ہوتی تو تم گروسری سٹور کو پیچھے نہ چھوڑ آتی۔” عائشہ نے بے اختیار پلٹ کر دیکھا۔ وہ واقعی بہت پیچھے رہ گیا تھا۔ بہت ساری دوسری چیزوں کی طرح۔ آگے بہت کچھ تھا۔ اُس نے جبریل کا نم چہرہ دیکھا، پھر نم آنکھوں سے مسکرائی۔
”کافی پی لیتے ہیں پھر۔”
٭٭٭٭
امامہ نے اُس سکریپ بُک کو پہلی ہی نظر میں پہچان لیا تھا۔ وہ اُس ہی کی سکریپ بُک تھی۔ وہ سکریپ بُک، جس میں اُس نے کبھی اپنے ممکنہ گھر کے لئے ڈیزائننگ کی تھی۔ مختلف گھروں کی مختلف چیزوں کی تصویریں کھینچ کھینچ کر ایک collection بنائی تھی کہ جب وہ اپنا گھر بنائے گی تو اُس کا فلور اس گھر جیسا ہو گا، windows اس گھر جیسی، دروازے اس گھر جیسے۔ ہاتھ سے بنائے سکیچز کے ساتھ۔ اور اُس میں اُن بہت سے خوبصورت گھروں کی میگزینز سے کاٹی گئی تصویریں بھی چسپاں تھیں۔
وہ سکریپ بُک چند سال پہلے اُس نے پھینک دینے کے لئے بہت ساری ردّی کے ساتھ نکالی تھی، اور حمین نے اُسے پھینکنے نہیں دی تھی۔ اُس سے وہ سکریپ بُک لے لی تھی۔ اور اب امامہ نے اُس سکریپ بُک کو یہاں دیکھا تھا۔ حمین سکندر کے اُس pent house کی ایک دراز میں۔ اُس کی مرمّت کی جا چکی تھی اور وہ بہت صاف ستھری اور اُس سے بہتر حالت میں نظر آ رہی تھی جس میں امامہ نے اُسے آخری بار حمین کو دیتے ہوئے دیکھا تھا۔ تم کیا کرو گے اس کا؟” اُس نے حمین سے پوچھا تھا۔
”آپ کو ایسا ایک گھر بنا کر دوں گا۔” اُسے وہی جواب ملا تھا جس کا اُسے پہلے ہی اندازہ تھا۔ وہ حمین سکندر کے سرپرائز کو بوجھنے میں ماہر تھی۔
”مجھے اب ایسے کسی گھر کی تمنا نہیں ہے۔” امامہ نے اُسے کہا تھا۔ ”ایک وقت تھی پر اب نہیں۔ اب مجھے بس ایک چھوٹا سا ایسا گھر چاہیے جہاں پر میں تمہارے بابا کے ساتھ رہوں اور تمہارے بابا کے پاس وہ ہے۔ اس لئے تم اس گھر کو بنانے میں اپنی energy اور وقت ضائع مت کرنا۔” اُس نے حمین کو نصیحت کی ۔
”میری خواہش ہے یہ ممّی” حمین نے اُسے کہا تھا۔
”یہ گھر میں نے تمہارے بابا سے مانگا تھا، وہ نہیں دے سکے۔ اور تم سے میں لوں گی نہیں۔ میں کبھی سالار کو یہ احساس نہیں ہونے دوں گی کہ تم نے مجھے وہ دے دیا ہے جو وہ نہیں دے سکا۔” حمین کو اُس کی بات کی سمجھ آ گئی تھی۔
”سوچ لیں۔” اُس نے جیسے امامہ کو چیلنج کرنے والے انداز میں کہا تھا۔
”سوچ لیا۔” وہ چیلنج قبول کرتے ہوئے ہنس پڑی۔
”آپ کو دُنیا میں بابا کے علاوہ کوئی اور نظر نہیں آتا۔” حمین نے شکایتا ًاُس سے کہا۔
”ہاں نہیں آتا۔” وہ ہنسی۔
”زیادتی ہے یہ۔” اُس نے جتایا۔
”اتنا تو کر سکتی ہوں۔” اُس نے جواباً چھیڑا۔
”دادا کہتے تھے، آپ دونوں پتھر کے زمانے میں بھی ہوتے، تو مل جاتے۔” وہ اب اُسے چھیڑ رہا تھا۔ وہ بے اختیار ہنسی تھی اور ہنستی چلی گئی تھی۔
اور اب وہ اُس سکریپ بُک کو کھولتے ہوئے اُسے ورق بہ ورق دیکھ رہی تھی۔ جیسے اپنی زندگی کی ورق گردانی کرتے ہوئے۔ اُس کے پاس وہ سکریپ بُک آدھی خالی تھی، اور اب وہ ساری بھر چکی تھی۔ اُس نے کچھ تجسّس کے عالم میں اُن صفحوں سے آگے دیکھنا شروع کیا جو اُس نے بھرے تھے۔ وہاں بھی تصویریں تھیں۔ خوبصورت گھروں کی۔ وہ حمین سکندر کی collection تھی۔ اُس ہی کی طرح کاٹ کاٹ کر لگائی ہوئی تصویریں۔ مگر فرق صرف یہ تھا کہ وہ میگزینز سے کاٹی ہوئی تصویریں نہیں تھیں، وہ کھینچی ہوئی تصویریں تھیں۔ حمین سکندر کے اپنے گھروں کی۔ وہ چہرے پر مسکراہٹ لئے بڑے اشتیاق سے اُن گھروں کی تصویروں کو دیکھتی جا رہی تھی۔ وہ یقیناً خوش نصیب تھا۔ تیس سال کی عمر تک پہنچے بغیر درجنوں گھروں کا مالک تھا۔ اُس کی ساری اولادوں میں دولت کے معاملے میں سب سے زیادہ امیر اور خرچ کرنے میں سب سے زیادہ فیّاض۔ اُس نے اپنی زندگی کی سب سے پہلی کمپنی امامہ سے قرض لے کر شروع کی تھی۔
”صرف اس لئے لے رہا ہوں آپ سے کہ بابا نے بھی SIF آپ کے قرض سے شروع کیا تھا۔” اُس نے امامہ کو “logic” بتائی تھی۔ اور اُس وقت پہلی بار امامہ نے سالار سے SIF میں دی جانے والی اپنی اصل رقم واپس مانگی تھی۔
”وہ ڈبو دے گا۔ مجھے یقین ہے۔” سالار نے اُسے خبردار کیا تھا۔ وہ اُس وقت سولہ سال کا بھی نہیں تھا اور اگر سالار یہ تبصرہ کر رہا تھا تو غلط نہیں تھا۔
”جب تمہیںSIF کے لئے یہ رقم دی تھی تو پاپا نے بھی یہی کہا تھا۔ تم نے ڈبو دی کیا؟” اُس نے سالار کو جتایا تھا۔
”تم مجھے حمین سے compare کر رہی ہو۔” سالار ناخوش ہوا تھا۔
”پہلی بار نہیں کر رہی۔” اُس نے جواباً کہا تھا۔
کتنا وقت گزر گیا تھا۔ گزر گیا تھا یا شاید بہہ گیا تھا۔ زندگی بہت آگے چلی گئی تھی۔ خواہشاتِ نفس بہت پیچھے چلی گئی تھیں۔
امامہ نے ہاتھ میں پکڑی سکریپ بُک اپنے سامنے سینٹر ٹیبل پر رکھتے ہوئے وہاں پڑا چائے کا مگ اُٹھا لیا۔ وہ اب سر اُٹھا کر آسمان کو دیکھنے لگی تھی۔ وہ چند دن پہلے پاکستان سے مستقل طور پر امریکہ شفٹ ہوئی تھی اور حمین کا گھر اُس کا پہلا پڑاؤ تھا۔ سالار بھی چند دن کے لئے وہیں تھا اور اس وقت صبح سویرے وہ اپنے لئے چائے بنا کر pent house کے اُس حصّے میں آ کر بیٹھی تھی جس کی چھت بھی شیشے کی تھی، نیلے آسمان پر تیرتے ہلکے بادلوں اور اُڑتے پرندوں کو وہ اس پرسکون خاموشی میں بچوں کے سے اشتیاق سے دیکھ رہی تھی۔ تب ہی اُس نے اپنے عقب میں آہٹ سُنی، وہ سالار تھا۔ چائے کے اپنے مگ کے ساتھ۔ دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرائے تھے۔ ایک طویل مدّت کے بعد وہ یوں امریکہ میں اس طرح فرصت سے مل رہے تھے۔ سالار کی زندگی کی بھاگ دوڑ کے بغیر۔
وہ بھی اُس کے قریب کاؤچ پر بیٹھ گیا تھا۔ کاؤچ پر اُس کے برابر بیٹھے چائے کے دو مگز ہاتھ میں لئے وہ دونوں آج بھی ویسے ہی تھے۔ سالار کم گو، وہ سب کچھ کہہ دینے والی۔ سالار سُنتے رہنے والا، وہ دُنیا جہاں کی باتیں دُہرا دینے والی۔ مگر اُن کے پاس فرصت صرف چائے کے مگ جتنی ہوتی تھی۔ چائے کا مگ بھرا ہوتا تو اُن کی باتیں شروع ہوتیں اور اُس کے ختم ہونے تک باتیں اور فرصت دونوں ختم ہو جاتے۔ چائے کا وہ مگ جیسے اُن کی قربت میں گزاری ہوئی زندگی تھی۔ نرم گرم، رُک رُک، ٹھہر ٹھہر کر گزرتی ہوئی۔ لیکن جتنی بھی تھی، تسکین بھری۔ سالار نے سامنے پڑی سکریپ بُک کو سرسری نظر سے دیکھا، چند لمحوں کے لئے اُٹھا کر اُلٹا پلٹا پھر واپس رکھتے ہوئے کہا۔
”تمہارے جیسے شوق ہیں تمہارے بیٹے کے۔” وہ مسکرا دی۔ وہ دونوں اُس کے اس pent house میں پہلی بار آئے تھے۔
”اس سال ریٹائر ہونے کا سوچ رہا ہوں۔” چائے کا ایک سِپ لیتے ہوئے سالار نے امامہ سے کہا۔
”کئی سالوں سے سُن رہی ہوں۔” اُس نے جواباً کہا۔ وہ دھیرے سے ہنسا۔
”نہیں، اب تم آ گئی ہو امریکہ تو اب ریٹائر ہو سکتا ہوں۔ پہلے تو تنہائی کی وجہ سے کام کرنا میری مجبوری تھی۔” وہ اُسے tease کررہا تھا۔
”بیس سال کی ہوتی تو تمہاری اس بات پر خوش ہوتی۔” امامہ نے بے ساختہ کہا۔
”خیر بیس سال کی عمر میں میرے اس جملے پر تو تم کبھی خوش نہیں ہوتی۔” اُس نے ترکی بہ ترکی کہا۔ دونوں بیک وقت ہنسے۔
”یہ ویسا گھر ہے جیسا ایک بار ہم نے خواب میں دیکھا تھا، اُس جھیل کے کنارے؟” سالار نے یک دم آسمان کو دیکھتے ہوئے، اُس سے پوچھا۔ وہ بھی سر اُٹھا کر شیشے سے نظر آتے آسمان کو دیکھنے لگی۔
”نہیں، ویسا گھر نہیں ہے۔” امامہ نے ایک لمحے کے بعد کہا۔ سکندر عثمان کی موت کے بعد امامہ نے ایک بار پھر وہی جھیل کنارے ایک گھر دیکھا تھا۔ جو وہ اپنی زندگی کے کئی سالوں میں بار بار دیکھتی رہی تھی۔ مگر اس بار وہ خواب اُس نے بہت عرصے کے بعد دیکھا تھا۔
”وہ گھر ایسا نہیں تھا۔” وہ اُس pent house کو گردن گھما کر دیکھتے ہوئے بڑبڑارہی تھی۔ ”وہ آسمان ایسا نہیں تھا۔ نہ وہ پرندے ایسے تھے۔ نہ وہ شیشہ ایسا۔ وہ گھر دُنیا میں کبھی کہیں نہیں دیکھا میں نے۔” وہ کہہ رہی تھی۔ ”اُس گھر کی کوئی چیز دنیا بھر میں پھرنے کے باوجود کہیں نظر نہیں آئی مجھے۔ کبھی کبھی مجھے لگتا ہے، وہ گھر جنّت میں ملے گا ہمیں۔” وہ کہہ کر خاموش ہو گئی تھی۔ وہ بھی چونکے بغیر خاموش ہی رہا تھا۔
”تم نے کچھ نہیں کہا۔” امامہ نے اُس کی خاموشی کو کُریدا۔ اُس نے گردن موڑ کر مسکراتے ہوئے امامہ کو دیکھا اور بڑبڑایا۔
”آمین!” وہ چپ رہی، پھر ہنس پڑی۔ وہ آج بھی ویسا ہی تھا۔ مختصر، مگر اگلے کو لاجواب کر دینے والی باتیں کہہ دینے والا۔
”اگر وہ جنّت ہے تو پھر میں تم سے پہلے وہاں جاؤں گا۔” وہ امامہ سے کہہ رہا تھا۔ ”تمہیں یاد ہے نا، میں وہاں تمہارا انتظار کر رہا تھا۔”
”ضروری نہیں۔” لمحہ بھر کے لئے وہ چائے پینا بھولی۔ ”خوابوں میں سب کچھ سچ نہیں ہوتا۔” اُس نے بے اختیار کہا تھا۔ آج بھی بچھڑ جانے کا خیال اُسے بے کل کر گیا تھا۔
”اگر وہ واقعی جنّت ہے تو کیا تم چاہتی ہو وہ خواب جھوٹا ہو؟” وہ عجیب انداز میں مسکرایا تھا
اک بار پھر لاجواب کر دینے والے جملے کے ساتھ۔”
”بس اتنا کہ تم وہاں پہلے انتظار میں مت کھڑے ہو۔ دونوں اکھٹے بھی تو جا سکتے ہیں۔” امامہ نے چائے کا مگ خالی کر کے سامنے پڑی میز پر رکھتے ہوئے کہا۔ اُس نے اب سالار کے بازو پر ہاتھ رکھا تھا۔ وہ مسکرا دیا۔
”اب بھی کہو نا؟” وہ اُس سے کہہ رہی تھی۔
”کیا؟” اُس نے پوچھا۔
آمین” وہ ہنس پڑا۔
”آمین”۔
٭٭٭٭
ٹھیک 9:15 پر لفٹ کا دروازہ کھلا تھا اور دو سیکورٹی گارڈز تیز رفتار قدموں سے باہر نکلے تھے اور اُن دونوں کے بالکل پیچھے چند قدموں کے فاصلے پر وہ نکلا تھا۔ اُس پورے کوریڈور میں یک دم ہلچل مچ گئی تھی۔ وہاں پہلے سے کھڑے security officials اور پروٹوکول کے اہلکار یک دم الرٹ ہو گئے تھے۔ ”وہ” بے حد تیز قدموں سے اُن دو سیکورٹی گارڈز کے عقب میں چل رہا تھا اور اُس کے بالکل پیچھے اُس کے اپنے عملے کے چند افراد بے حد تیز قدموں سے اُس سے قدم سے قدم ملانے کی کوشش کر رہے تھے۔
5…4…3…2…1… زیرِ لب گنتی کرتے ہوئے اُس ٹارگٹ کلر نے 1 کا لفظ زبان سے ادا کرتے ہی اپنی رینج میں آنے والے اپنے ٹارگٹ پر فائر کر دیا تھا۔ اُس نے بینکوئیٹ ہال کے شیشے کے پرخچے اُڑتے دیکھے۔
٭٭٭٭
”تم نے اُس سے کیا کہا ہے کہ اُس نے مجھ سے بات کرنا چھوڑ دی؟” ہشّام سے ملاقات کے کئی دن بعد تک بھی اس ملاقات کے حوالے سے کوئی اپ ڈیٹ نہ ملنے اور ہشّام کی طرف سے ہو جانے والی پراسرار خاموشی نے رئیسہ کو فکرمند کیا اور وہ حمین سے پوچھے بغیر نہیں رہ سکی۔
”اُس نے تمہارا پیچھا چھوڑ دیا۔ یہ تو اچھا ہے، تم یہی تو چاہتی تھی نا۔” اُس نے رئیسہ کو بے حد سنجیدگی سے کہا تھا۔ رئیسہ کو جواب نہیں سوجھا۔ وہ اُس کی یونیورسٹی آیا ہوا تھا۔
”ٹھیک ہے، مگر تم نے اُس سے کیا کہا؟” رئیسہ نے کچھ بُجھے ہوئے انداز میں حمین سے کہا تھا۔ وہ اُس کے لئے برگر لایا تھا اور اپنا راستے میں ہی کھاتا آیا تھا۔ اب اُس کے پاس صرف ایک ٹکڑا رہ گیا تھا جسے وہ بڑے بے ڈھنگے پن سے نگل رہا تھا۔ رئیسہ نے اپنا برگر نکال کر کھانا شروع کر دیا، اُسے پتہ تھا وہ اپنا ختم کرنے کے بعد اُس کا برگر بھی کھانا شروع کر دیتا۔
”میں نے اُس سے کہا، اگر میں تمہاری جگہ ہوتا تو بادشاہت چھوڑ دیتا۔” اُس نے آخری ٹکڑا نگلتے ہوئے کہا اور رئیسہ کی بھوک مر گئی تھی۔ کیا اُلٹا مشورہ تھا۔ اُس نے دل ہی دل میں سوچا تھا۔
”لیکن میں نے اُس سے صرف یہ نہیں کہا تھا۔” حمین اب اپنی انگلیاں چاٹ رہا تھا۔ پھر اُس نے رئیسہ سے بڑے اطمینان سے کہا۔” تمہاری بھوک تو مر گئی ہو گی، میری ابھی ہے۔ تم نے نہیں کھانا تو میں یہ باقی کھا لوں۔” رئیسہ نے خاموشی سے اُسے برگر تھما دیا۔ اُس کی بھوک واقعی مر گئی تھی۔
”میں نے اُسے یہ بھی کہا کہ وہ ولی عہد کے لئے مناسب امیدوار ہے ہی نہیں۔ نہ اہلیت رکھتا ہے، نہ صلاحیت۔ اور یہ شادی ہو نہ ہو، جلد یا بدیر وہ ویسے بھی ولی عہد کے عہدے سے معزول کر دیا جائے گا۔So he has two options یا تو اپنی پسند کی لڑکی سے شادی کرے اور ولی عہد کا عہدہ ابھی چھوڑ دے یا پھر بادشاہت کے خواب دیکھتے رہنے میں محبت بھی گنوائے اور تخت بھی۔” حمین نے بڑے اطمینان سے اُسے گفتگو کا باقی حصّہ سُنایا تھا۔
”تم نے یہ سب کہا اُس سے، اس طرح۔” رئیسہ کو شدید صدمہ ہوا۔
”نہیں ایسے نہیں کہا، تمہیں تو میں مہذّب انداز سے بتا رہا ہوں اُسے تو میں نے صاف صاف کہا کہ زیادہ سے زیادہ تین مہینے ہیں اور اس کے پاس۔ اگر تین مہینے میں وہ معزول نہ ہوا تو پھر رئیسہ سے دوسری شادی کر لینا۔” وہ دانت پر دانت رکھے حمین سکندر کو صرف دیکھ کر ہی رہ گئی۔ اس ”گفتگو” کے بعد اگر ہشّام بن صباح نے اُسے اپنی زندگی سے نکال دیا تھا تو کوئی بھی خوددار شخص یہی کرتا۔
”صباح بن جرّاح کے خلاف شاہی خاندان کے اندر شدید lobbying ہو رہی ہے اور صباح بن جرّاح اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کے لئے پرانے امیر کی فیملی میں شادی کروانا چاہتا ہے ہشّام کی۔ اور یہ ہو بھی گئی تب بھی وہ بہت دیر تخت پر نہیں رہ سکتا، اس کے حریف بہت طاقت ور لوگ ہیں اور صباح سے زیادہ بہتر حکمران ہو سکتے ہیں۔ اگر صباح ہٹ جاتا ہے تو پھر ہشّام کو کون رہنے دے گا وہاں۔ میں نے ہشّام کو یہ سب نہیں بتایا، تمہیں بتا رہا ہوں۔” اُس نے برگر ختم کرتے ہوئے ہاتھ جھاڑے اور رئیسہ سے کہا۔
”تم finance کر رہے ہو اُس کے حریفوں کو؟” اُسے رئیسہ سے جس آخری سوال کی توقع تھی، وہ یہ تھا۔ دونوں ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھتے رہے پھر حمین نے کہا۔
”میں صرف ”بزنس” کر رہا ہوں۔ امریکہ میں صباح کے ساتھ۔ بحرین میں اُس کے مخالفین کے ساتھ۔” اُس نے بالآخر کہا۔ وہ گول مول اعتراف تھا۔
”کیوں کر رہے ہو؟” رئیسہ نے جواباً اُس سے زیادہ تیکھے انداز میں اُس سے کہا۔ وہ اُس کا چہرہ دیکھتا رہا پھر اُس نے کہا۔
۔”For Family…… Anything for Family” رئیسہ کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئی تھیں،
”مجھے خیرات میں ملی ہوئی محبت نہیں چاہیے۔” اُس نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا۔
”وہ تمہارے لئے میرے اندازے سے زیادہ مخلص ہے۔ نہ ہوتا تو میں تمہیں بتا دیتا وہ تمہارے لئے بادشاہت چھوڑ دے گا۔” حمین نے دو ٹوک انداز میں اُس سے کہا۔ وہ اُس کا چہرہ دیکھتی رہ گئی۔
٭٭٭٭
اُس نے اپنی ٹیلی سکوپک رائفل سے اُس ٹارگٹ کلر کو ٹریگر دباتے دیکھا۔ بے حد سکون اور اطمینان کے عالم میں۔ اُس نے اُس کی ہلکی سی مسکراہٹ بھی دیکھی تھی۔ پھر اُس نے اُس ٹارگٹ کلر کو بے حد مطمئن انداز میں سر اُٹھاتے اور ٹیلی سکوپک رائفل سے آنکھ ہٹاتے دیکھا اور اس وقت اُس نے اُسے شوٹ کیا۔ ایک مدہم ٹک کی آواز کے ساتھ اُس نے کھڑکی سے اُس کے بھیجے کو اُڑتے دیکھا اور اپنے کمرے کے باہر بھاگتے قدموں کا شور۔ اُس کا مشن پورا ہو چکا تھا، اب اُس کے لئے exit تیّار کرنے والے اُس کے منتظر تھے۔
٭٭٭٭
عنایہ نے اپنے ہاسپٹل کی پارکنگ میں داخل ہوتے ہوئے عبداللہ کی کال اپنے فون پر دیکھی۔ ایک لمحہ کے لئے وہ اُلجھی پھر اُس نے اُس کی کال ریسیو کی۔
”مل سکتے ہیں؟” اُس نے سلام دعا کے بعد پہلا جملہ کہا۔ وہ ایک لمحہ خاموش رہی۔
”تم کہاں ہو؟” اُس نے پوچھا۔
”تمہاری گاڑی کے پیچھے ہی ہے میری گاڑی۔”عنایہ نے بے اختیار بیک ویو مرر سے عقب میں عبداللہ کی گاڑی کو دیکھا جو اُسے dipper سے اشارہ کر رہا تھا۔
دس منٹ بعد پارکنگ میں گاڑی کھڑی کرتے ہوئے وہ اُس کی گاڑی میں آ گیا تھا۔ اُس کے ہاتھ میں ایک پھول کے ساتھ دو شاخیں تھیں۔ عنایہ نے کچھ کہے بغیر اُسے دیکھا، پھر وہ تھام لیں۔
وہ فون پر پہلے ہی احسن اور عائشہ کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں کے بارے میں اُسے بتا چکا تھا۔ اُس نے کہا تھا۔
”اس کی ضرورت نہیں۔” عنایہ نے جواباً کہا۔
”میں نے ہاسپٹل میں ڈاکٹر احسن کی امامت میں نماز پڑھنا چھوڑ دی۔” عنایہ نے چونک کر اُسے دیکھا۔
”میں نے اُسے بتا دیا کہ اپنی بیوی کے ساتھ ایسا سلوک کرنے والا شخص امامت کا اہل نہیں۔ اُسے عائشہ کے خلاف سارے الزامات واپس لینے ہوں گے، اگر وہ دوبارہ امامت کروانا چاہتا ہے تو۔” عبداللہ بے حد سنجیدگی سے کہہ رہا تھا۔
”اوہ! تو اس لئے اُس نے کیس واپس لیا ہے۔” عنایہ نے بے اختیار کہا ۔ عبداللہ چونکا۔
”اُس نے کیس واپس لے لیا؟”
”ہاں، جبریل نے بتایا مجھے۔ اُس نے ایک معذرت کا خط بھی لکھا ہے عائشہ کے نام۔” عنایہ نے مزید بتایا۔
”یہ سب بے کار ہے اب۔ وہ بہت زیادہ نقصان کر چکا ہے۔”
”عائشہ کا؟”
”نہیں، اپنا۔” عبداللہ کے لہجے میں افسردگی تھی۔
”اچھے انسان recover کر جاتے ہیں ہر نقصان سے، کیوں کہ اللہ اُن کے ساتھ ہوتا ہے، بُرے نہیں کر سکتے۔” عبداللہ کہہ رہا تھا۔
۔”He himself is the greatest liar”
”وہ اپنے parents کے ساتھ بابا سے ملنے بھی آئے تھے، جبریل کی شکایت کرنے۔” عنایہ کہہ رہی تھی۔ ”بابا نے اُس کے باپ سے کہا کہ وہ دیکھے اُس کی منافقت اور تنگ نظری نے اُس کے اکلوتے بیٹے کو کیا بنا دیا ہے۔”
”شرمندہ ہوئے؟” عبداللہ نے پوچھا ۔”
”پتہ نہیں، خاموش ہو گئے تھے۔ احسن سعد کی ماں رونے لگی تھی، پتہ نہیں کیوں۔ پھر وہ چلے گئے۔” عنایہ نے کہا۔
”تم نے مجھے معاف کر دیا؟” عبداللہ نے یک دم پوچھا۔ وہ مسکرا دی۔
”ہاں۔ ایسی کوئی بڑی غلطی تو نہیں تھی تمہاری کہ معاف ہی نہ کرتی۔” عبداللہ نے ایک کارڈ اُس کی طرف بڑھایا۔ وہ بے اختیار ہنسی۔
”اب سب کچھ زبان سے کہنا سیکھو۔ سب کچھ لکھ لکھ کے کیوں بتاتے ہو۔” وہ کارڈ کھولتے ہوئے اُس سے کہہ رہی تھی، پھر وہ بات کرتے کرتے ٹھٹھک گئی۔ ایک ہاتھ سے بنے ہوئے کارڈ پر صرف ایک جملہ لکھا ہوا تھا۔
”تم مجھ سے شادی کرو گی؟” عنایہ نے اپنی شرٹ کی جیب میں اٹکے بال پوائنٹ کو نکال کر اُس تحریر کے نیچے لکھا۔
”ہاں۔” عبداللہ مسکرایا اور اُس نے اُس کا بال پوائنٹ لیتے ہوئے لکھا۔
”کب؟”
عنایہ نے لکھا۔
”پھولوں کے موسم میں۔”
عبداللہ نے لکھا۔
”بہار؟”
عنایہ نے لکھا۔
”ہاں۔” عبداللہ نے کارڈ پر ایک دل بنایا، عنایہ نے ایک اور۔ عبداللہ نے ایک smiley بنایا۔ عنایہ نے ایک اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کارڈ لکیروں، حرفوں، ہندسوں، جذبوں سے بھرتا جا رہا تھا اور ہر شے صرف محبت کی ترجمان تھی جو اللہ تعالیٰ کی بہترین نعمتوں میں سے ایک ہے اور جسے پانے والے خوش نصیب۔ وہ دونوں دو خوش نصیب تھے جو اُس کارڈ کو عہد اور تجدیدِ عہد سے بھر رہے تھے۔
٭٭٭٭
لفٹ کا دروازہ کھلا۔ سالار نے اپنی گھڑی دیکھی۔ اُس کے دو سیکورٹی گارڈز اُس سے پہلے لفٹ سے نکل گئے تھے۔ اُس کا باقی کا عملہ اُس کے لفٹ سے نکلنے کے بعد پیچھے لپکا تھا۔ کوریڈور میں تیز قدموں سے چلتے وہ استقبال کرنے والے officials سے ملا تھا۔ اُس نے گھڑی ایک بار پھر دیکھی تھی۔ ہمیشہ کی طرح وہ وقت پر تھا۔ چند سیکنڈز کے بعد وہ بینکویٹ ہال میں داخل ہو جاتا۔ وہاں جو ہونے والا تھا، وہ اُس سے بے خبر تھا۔ بے خبری زندگی میں ہر بار نعمت نہیں ہوتی۔ TV پر چلتی اُس خبر کو دیکھتے ہوئے سالار گنگ تھا۔ آخری چیز جو وہ اپنی زندگی اور کیریئر کے اس اسٹیج پر ہوتا توقع کر سکتا تھا، وہ یہ تھی۔ رحم کھا کر گود لی گئی بچی کو اُس کے گناہ کے طور پر پوری دُنیا میں دکھایا جا رہا تھا اور یہ سب کہنے والا اُس بچّی کا اپنا باپ تھا۔ جس کی بیوی کی سالار نے کبھی شکل بھی نہیں دیکھی تھی۔ افیئر اور ناجائز اولاد تو دور کی بات تھی۔ وہ طاقت کا کھیل تھا۔ جنگ تھی۔ اور جنگ میں سب جائز ہوتا ہے۔ یہ کہنا کہ سازش کی جا رہی تھی۔ نیروبی میں ہونے والے TAI اور SIF کے اُس اشتراک کو ہونے سے پہلے توڑنے کی کوشش کی جا رہی تھی، بے کار تھا۔
وہ اُس وقت نیویارک ایئر پورٹ پر ایک فلائٹ لینے کے لئے موجود تھا۔ جب پہلی بار وہ خبر بریک ہوئی تھی اور اُس نے بزنس کلاس کے departure lounge میں دیکھی تھی۔ اُس کے ساتھ موجود اُس کے سٹاف نے ایک کے بعد ایک نیوز چینلز کی update کو اُس کے ساتھ شیئر کرنا شروع کر دیا تھا۔ سالار سکندر نے وہاں بیٹھے سب سے پہلی کال امامہ کو کی تھی۔ اور اُس نے اُس کے کچھ کہنے سے پہلے ہی اُس سے کہا تھا۔
”مجھے کوئی وضاحت دینے کی ضرورت نہیں، نہ مجھے نہ تمہارے بچوں کو”
”رئیسہ سے بات کرو۔” سالار نے جواباً اُس سے کہا تھا۔ ”مجھے اپنے سے زیادہ تکلیف اس بات کی ہے کہ وہ اُس کی تصویریں چلا رہے ہیں۔” اُس نے امامہ سے کہا تھا۔ وہ اپ سیٹ تھا اس کا اندازہ امامہ کو اُس کی آواز سے بھی ہو رہا تھا۔
”یہ وقت بھی گزر جائے گا سالار۔” امامہ نے اُس سے کہا تھا، تسلی دینے والے انداز میں۔ ”ہم نے اس سے زیادہ برا وقت دیکھا ہے۔” سالار نے سر ہلایا تھا، ممنونیت کے عجیب سے احساس کے ساتھ۔ گھر میں بیٹھی وہ عورت اُن سب کے لئے عجیب طاقت تھی۔ عجیب طرح سے حوصلہ دیے رکھتی تھی اُن کو۔ عجیب طریقے سے ٹوٹنے سے بچاتی تھی۔
٭٭٭٭
وہ یہاں کسی جذباتی ملاقات کے لئے نہیں آئی تھی۔ سوال و جواب کے کسی لمبے چوڑ ے سیشن کے لئے بھی نہیں۔ لعنت و ملامت کے کسی منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لئے بھی نہیں۔ وہ یہاں کسی کا ضمیر جھنجھوڑنے آئی تھی، نہ ہی کسی سے نفرت کا اظہار کرنے کے لئے۔ نہ ہی وہ کسی کو یہ بتانے آئی تھی کہ وہ اذیت کے ماؤنٹ ایورسٹ پر کھڑی ہے۔ نہ ہی وہ اپنے باپ کو گریبان سے پکڑنا چاہتی تھی۔ نہ اسے یہ بتانا چاہتی تھی کہ اس نے اس کی زندگی تباہ کر دی تھی۔ اس کے صحت مند ذہن اور جسم کو ہمیشہ کے لئے مفلوج کر دیا تھا۔
وہ یہ سب کچھ کہتی۔ یہ سب کچھ کرتی، اگر اسے یقین ہوتا کہ یہ سب کرنے کے بعد اسے سکون مل جائے گا۔ اس کا باپ احساس جرم یا پچھتاوے جیسی کوئی چیز پالنے لگے گا۔
پچھلے کئی ہفتے سے وہ آبلہ پا تھی۔ وہ راتوں کو سکون آور گولیاں لیے بغیر سو نہیں پا رہی تھی اور اس سے بڑھ تکلیف دہ چیز یہ تھی کہ وہ سکون آور ادویات لینا نہیں چاہتی تھی۔ وہ سونا نہیں چاہتی تھی۔ وہ سوچنا چاہتی تھی اس بھیانک خواب کے بارے میں، جس میں وہ چند ہفتے پہلے داخل ہوئی تھی اور جس سے اب وہ ساری زندگی نہیں نکل سکتی تھی۔
وہ یہاں آنے سے پہلے پچھلی پوری رات روتی رہی تھی۔ یہ بے بسی کی وجہ سے نہیں تھا۔ یہ اذیت کی وجہ سے بھی نہیں تھا۔ یہ اس غصے کی وجہ سے تھا جو وہ اپنے باپ کے لئے اپنے دل میں اتنے دنوں سے محسوس کر رہی تھی۔ ایک آتش فشاں تھا یا جیسے کوئی الاؤ، جو اس کو اندر سے سلگا رہا تھا، اندر سے جلا رہا تھا۔
کسی سے پوچھے، کسی کو بتائے بغیر یوں اٹھ کر وہاں آجانے کا فیصلہ جذباتی تھا، احمقانہ تھا اور غلط تھا۔ اس نے زندگی میں پہلی بار ایک جذباتی، احمقانہ اور غلط فیصلہ بے حد سوچ سمجھ کر کیا تھا۔ ایک اختتام چاہتی تھی وہ اپنی زندگی کے اس باب کے لئے، جس کے بغیر وہ آگے نہیں بڑھ سکتی تھی اور جس کی موجودگی کا انکشاف اس کے لئے دل دہلا دینے والا تھا۔
اس کا ایک ماضی تھا۔ وہ جانتی تھی لیکن اسے کبھی یہ اندازہ نہیں تھا کہ اس کے ماضی کا ”ماضی” بھی ہو سکتا تھا۔ ایک دفعہ کا ذکر تھا جب وہ ”خوش” تھی اپنی زندگی میں جب وہ خود کو باسعادت سمجھتی تھی۔ اور ”مقرب” سے ”ملعون” ہونے کا فاصلہ اس نے چند سیکنڈز میں طے کیا تھا۔ چند سیکنڈز شاید زیادہ وقت تھا۔ شاید اس سے بھی بہت کم وقت تھا جس میں وہ احساس کمتری، احساس محرومی، احساس ندامت اور ذلت و بدنامی کے ایک ڈھیر میں تبدیل ہوئی تھی۔
اور یہاں وہ اس ڈھیر کو دوبارہ وہی شکل دینے آئی تھی۔ اس بوجھ کو اس شخص کے سامنے اتار پھینکنے آئی تھی، جس نے وہ بوجھ اس پر لادا تھا۔ زندگی کسی کو اس وقت یہ پتا نہیں تھا کہ وہ وہاں تھی۔ کسی کو پتا ہوتا تو وہاں آ ہی نہیں سکتی تھی۔ اس کا سیل فون پچھلے کئی گھنٹوں سے آف تھا۔ وہ چند گھنٹوں کے لئے خود کو اس دنیا سے دور لے آئی تھی، جس کا وہ حصہ تھی۔ اس دنیا کا حصہ، یا پھر اس دنیا کا حصہ جس میں وہ اس وقت موجود تھی؟ یا پھر اس کی کوئی بنیاد نہیں تھی؟ وہ کہیں کی نہیں تھی۔ اور جہاں کی تھی، جس سے تعلق رکھتی تھی، اس کو اپنا نہیں سکتی تھی۔
انتظار لمبا ہو گیا تھا۔ انتظار ہمیشہ لمبا ہوتا ہے۔ کسی بھی چیز کا انتظار ہمیشہ لمبا ہوتا ہے۔ چاہے آنے والی شے پاؤں کی زنجیر بننے والی ہو یا گلے کا ہار۔ سر کا تاج بن کر سجنا ہو اس نے یا پاؤں کی جوتی۔ انتظار ہمیشہ لمبا ہی لگتا ہے۔
رئیسہ سالار صرف ایک سوال کا جواب چاہتی تھی اپنے باپ سے۔ صرف ایک چھوٹے سے سوال کا۔ اس نے اس کی فیملی کو کیوں مار ڈالا تھا؟ اور اگر اُنہیں مار ڈالا تھا تو اُسے کیوں چھوڑ دیا تھا۔ یا اُس کی زندگی اُس کے باپ کی چوک کا نتیجہ تھی۔ سوالات کا ایک انبار تھا جو وہ اُس سے کرنا چاہتی تھی۔
اُس نے ویٹنگ ایریا میں بیٹھے اپنی سُلگتی آنکھوں کو ایک بار پھر مسلا۔ وہ پتہ نہیں کتنی راتوں سے سو نہیں پائی تھی۔ ایک بھیانک خواب تھا پچھلے دو ہفتے، جس میں اُسے پہلی بار میڈیا سے پتہ چلا تھا کہ اُس کا باپ کون تھا؟ وہ کون تھی؟ کہاں سے تھی؟ وہ سالار سکندر اور امامہ ہاشم کی بیٹی نہیں تھی، وہ یہ جانتی تھی لیکن اُسے ہمیشہ یہی بتایا گیا تھا کہ وہ سالار کے ایک دوست کی بیٹی تھی جو ایک حادثے میں اپنی بیوی سمیت مارا گیا تھا اور پھر سالار نے اُسے adopt کر لیا۔ مگر اب اُس کی زندگی میں اچانک غلام فرید آ گیا تھا۔۔ جسے TV پر دیکھتے ہوئے بھی اُس کا ذہن اُس سے کسی بھی رشتہ سے انکاری تھا۔ مگر اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔ وہ حقیقت کو جھٹلا نہیں سکتی تھی۔

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: