Aab e Hayat Novel by Umera Ahmed Read Online – Episode 6

0

آب حیات از عمیرہ احمد – قسط نمبر 6

–**–**–

اسی لیے تو اس سے کہا ہے کہ امامہ کو وہیں رکھے لاہور میں۔ اسلام آباد نہیں لائے۔ ویسے بھی پی ایچ ڈی کے لیے تو اسے اگلے سال چلے ہی جانا ہے۔ تب تک تو cover ہو سکتا ہے یہ سب کچھ…” سکندر عثمان نے اپنے گلاسز اتارتے ہوئے کہا۔ وہ بھی سونے کے لیے لیٹنے والے تھے۔
طیبہ کچھ دیر خاموش رہیں پھر انہوں نے کہا۔ ”مجھے تو بڑی عام سی لگی ہے امامہ۔”
”تمہارے بیٹے سے بہتر ہے۔” سکندر عثمان نے ترکی بہ ترکی کہا۔ طیبہ کچھ ناراض ہوئیں۔
”کیوں… سالار سے کس طرح بہتر ہے وہ،، اس کا تو کوئی مقابلہ ہی نہیں ہے۔ آپ خود ایمان داری سے بتائیں، ایسی کوئی بات ہے اس میں کہ نو سال بیٹھا رہا وہ اس کے لیے۔”
سکندر ہنس پڑے۔
”اتنی ہنسی کس بات پر آرہی ہے آپ کو؟” وہ چڑیں۔
سکندر واقعی بہت خوش گوار موڈ میں تھے۔
”میں واقعی بہت خوش ہوں کیونکہ میرا بیٹا بڑا خوش ہے۔ اتنے سالوں بعد اس طرح باتیں کرتے دیکھا ہے اسے۔ میں نے زندگی میں کبھی اس کے چہرے پر ایسی رونق نہیں دیکھی۔ امامہ کے ساتھ اس کی شادی ہو گئی ہے، میرے تو کندھوں سے بوجھ اتر گیا ہے۔ اس کے سامنے کتنا شرمندہ رہتا تھا میں، تمہیں اندازہ بھی ہے۔”
طیبہ خاموشی سے ان کی بات سن رہی تھیں۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ وہ غلط نہیں کہہ رہے ہیں۔
٭٭٭٭
نیند میں وہ اس کے ہاتھوں میں رسیاں باندھ کر اسے کھینچ رہے تھے۔ رسیاں اتنی سختی سے باندھی ہوئی تھیں کہ اس کی کلائیوں سے خون رسنے لگا تھا اور اس کے ہر جھٹکے کے ساتھ وہ درد کی شدت سے بے اختیار چلاتی۔ وہ کسی بازار میں لوگوں کی بھیڑ کے درمیان کسی قیدی کی طرح لے جائی جا رہی تھی۔ دونوں اطراف میں کھڑے ہوئے لوگ بلند آواز میں قہقہے لگاتے ہوئے اس پر آوازے کس رہے تھے۔ پھر ان لوگوں میں سے ایک مرد نے جو اس کی کلائیوں میں بندھی رسیوں کو کھینچ رہا تھا… پوری قوت سے رسی کو جھٹکا دیا۔ وہ گھٹنوں کے بل اس پتھریلے راستے پر گری۔
”امامہ… امامہ… Its me… اٹھ جاؤ… سحری ختم ہونے میں تھوڑا سا وقت رہ گیا ہے۔”
وہ ہڑبڑا کر اٹھی، بیڈ سائیڈ ٹیبل لیمپ آن کیا۔ سالار اس کے پاس کھڑا نرمی سے اس کا کندھا ہلاتے ہوئے اسے جگا رہا تھا۔
”سوری… میں نے شاید تمہیں ڈرا دیا۔” سالار نے معذرت کی۔
وہ کچھ دیر تک خالی ذہن کے ساتھ اس کا چہرہ دیکھتی رہی۔ وہ گزرے ہوئے سالوں میں ایسے خواب دیکھنے کی عادی ہو گئی تھی اور خوابوں کا یہ سلسلہ اب بھی نہیں ٹوٹا تھا۔
”کوئی خواب دیکھ رہی تھیں؟”
سالار نے جھک کر گود میں رکھے اس کے ہاتھ کو ہلاتے ہوئے پوچھا۔ اسے یوں لگا تھا، وہ ابھی بھی نیند میں تھی۔ امامہ نے سرہلا دیا۔ وہ اب نیند میں نہیں تھی۔
”تم کمبل لیے بغیر سو گئیں؟” سالار نے گلاس میں پانی انڈیلتے ہوئے کہا۔ امامہ نے چونک کر بیڈ پر پڑے کمبل کو دیکھا۔ وہ واقعی اسی طرح پڑا تھا۔ یقینا وہ بھی رات کو کمرے میں سونے کے لیے نہیں آیا تھا۔ کمرے کا ہیٹر آن رہا تھا، ونہ وہ سردی لگنے کی وجہ سے ضرور اٹھ جاتی۔
”جلدی آجاؤ، بس دس منٹ رہ گئے ہیں۔”
وہ اسے پانی کا گلاس تھماتے ہوئے کمرے سے نکل گیا۔
منہ ہاتھ دھونے کے بعد جب وہ سٹنگ ایریا میں آئی تو وہ سحری کر چکا تھا اور چائے بنانے میں مصروف تھا۔ لاؤنج یا کچن میں اور کوئی نہیں تھا۔ ڈائننگ ٹیبل پر اس کے لیے پہلے ہی سے برتن لگے ہوئے تھے۔
”میں چائے بناتی ہوں۔” وہ سحری کرنے کے بجائے مگ نکالنے لگی۔
”تم آرام سے سحری کرو، ابھی اذان ہو جائے گی۔ میں اپنے لیے چائے خود بنا سکتا ہوں، بلکہ تمہارے لئے بھی بنا سکتا ہوں۔” سالار نے مگ اس کے ہاتھ سے لیتے ہوئے اسے واپس بھیجا۔
وہ کرسی کھینچ کر بیٹھ گئی۔
”یہ سب لوگ سو رہے ہیں؟”
”ہاں… ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی سوئے ہیں۔ ساری رات تو باتیں کرتے رہے ہم لوگ اور شاید ہماری آوازوں کی وجہ سے تم ڈسٹرب ہوتی رہیں۔”
”نہیں، میں سو گئی تھی۔” اس کا لہجہ بہت بجھا ہوا تھا۔ سالار نے محسوس کیا، وہ اسے بہت اپ سیٹ لگی۔
”کیا کوئی زیادہ برا خواب دیکھا ہے؟”
وہ چائے کے مگ ٹیبل پر رکھتے ہوئے کرسی کھینچ کر اس کے پاس بیٹھ گیا۔
”خواب…” وہ چونکی۔ ”نہیں… ایسے ہی …” وہ کھانا کھانے لگی۔
”صبح ناشتا کتنے بجے کریں گے یہ لوگ۔” اس نے بات بدلتے ہوئے پوچھا۔
وہ بے اختیار ہنسا۔
”یہ لوگ… کون سے لوگ… یہ تمہاری دوسری فیملی ہے اب … ممی، پاپا کہو انہیں اور انیتا کو انیتا…” وہ اس کی بات پر بے اختیار شرمندہ ہوئی۔ وہ واقعی کل رات سے ان کے لیے وہی دو لفظ استعمال کر رہی تھی۔
”ناشتا تو نہیں کریں گے۔ ابھی گھنٹہ، ڈیڑھ گھنٹہ تک اٹھ جائیں گے۔ دس بجے کی فلائٹ ہے۔” سالار نے اس کی شرمندگی کو بھانپتے ہوئے بات بدل دی۔
”صبح نو بجے کی… اتنی جلدی کیوں جا رہے ہیں؟” وہ حیران ہوئی۔
”صرف تم سے ملنے کے لیے آئے تھے یہ لوگ، پاپا کی کوئی میٹنگ ہے آج دو بجے اور انیتا تو اپنے بچوں کو ملازمہ کے پاس چھوڑ کر آئی ہے۔ چھوٹی بیٹی تو صرف چھ ماہ کی ہے اس کی۔” وہ بتا رہا تھا۔ ”چائے پئیں گے ناشتے کے بجائے، وہ تم بنا دینا۔ میں ابھی نماز پڑھ کر آجاؤں، پھر ان کے ساتھ ہی آفس کے لیے تیار ہوں گا اور انہیں ایئرپورٹ چھوڑ کر پھر آفس چلا جاؤں گا۔” سالار نے جمائی روکتے ہوئے چائے کا خالی مگ اٹھایا اور کھڑا ہو گیا۔ امامہ نے کچھ حیرانی سے اسے دیکھا۔
”تم سوؤ گے نہیں؟”
”نہیں، شام کو آفس سے آنے کے بعد سوؤں گا۔”
”تم چھٹی لے لیتے۔” امامہ نے روانی سے کہا۔
سنک کی طرف جاتے ہوئے سالار نے پلٹ کر امامہ کو دیکھا اور پھر بے اختیار ہنسا۔ ”سونے کے لیے آفس سے چھٹی لے لیتا؟ میرے پروفیشن میں ایسا نہیں ہوتا۔”
”تم سوئے نہیں رات کو، اس لیے کہہ رہی ہوں۔” وہ اس کی بات پر جھینپی تھی۔
”میں اڑتالیس، اڑتالیس گھنٹے بغیر سوئے یو این کے لیے کام کرتا رہا ہوں۔ وہ بھی شدید گرمی اور سردی میں۔ Disaster striken areas میں اور رات کو تو ماں، باپ کے پاس بیٹھا پرفیکٹ کنڈیشنز میں باتیں کرتا رہا ہوں، تھکتا کیوں؟”
اذان ہو رہی تھی۔
”اب پلیز مگ مت دھونا، مجھے اپنے برتن دھونے ہیں۔” امامہ نے چائے کا مگ خالی کرتے ہوئے اسے روکا۔ وہ ٹی بیگ نکال کر ویسٹ باسکٹ میں پھینکنے لگی تھی۔
”ٹھیک ہے… دھویئے…”
سالار نے بڑی خوش دلی کے ساتھ مگ سنک میں رکھا اور پلٹا۔ وہ کوڑے دان کا ڈھکن ہٹاتے ہوئے فق ہوتی رنگت کے ساتھ، ٹی بیگ ہاتھ میں پکڑےَ کسی بت کی طرح کھڑی تھی۔ سالار نے ایک نظر اسے دیکھا، پھر کوڑے دان کے اندر پڑی اس چیز کو جس نے اسے یوں شاکڈ کر دیا تھا۔
نان الکوحلک ڈرنک۔” وہ مدھم آواز میں کہتے ہوئے کچن سے باہر نکل گیا تھا۔
وہ بے اختیار شرمندہ ہوئی۔ اسے یقین تھا۔ وہ اس کوڑے دان کے اندر ڑے جنجر بیئر کے اس خالی کین کو وہاں سے نہیں دیکھ سکتا تھا، جہاں وہ کھڑا تھا، اس کے باوجود اس کو پتا تھا کہ وہ کیا چیز دیکھ کر سکتہ میں آئی تھی۔
اس نے جنجر بعد میں پڑھا تھا، بیئر پہلے… اور یہ سالار سکندر کا گھر نہ ہوتا تو اس کا ذہن پہلے نان الکوحلک ڈرنکس کی طرف جاتا، مگر یہاں اس کا ذہن بے اختیار دوسری طرف گیا تھا۔ جھک کر ٹی بیگ پھینکتے ہوئے اس نے non alcoholic کے لفظ بھی کین پر دیکھ لیے تھے۔ کچھ دیر وہیں کھڑی وہ اپنی ندامت ختم کرنے کی کوشش کرتی رہی۔ پتا نہیں وہ کیا سوچ رہا ہوتا میرے بارے میں اور سالار کو بھی واقعی کرنٹ لگا تھا۔ وہ دونوں اپنے درمیان اعتماد کا جو پل بنانے کی کوشش کر رہے تھے، وہ کبھی ایک طرف سے ٹوٹ رہا تھا، کبھی دوسری طرف سے۔
اس نے آخری بار شراب آٹھ سال پہلے پی تھی، لیکن وہ انرجی اور non alcoholic drinks تقریباً ہر رات کام کے دوران پیتا تھا۔ امامہ کو ویسٹ باسکٹ کے پاس شاکڈ دیکھ کر اسے یہ جاننے میں سیکنڈز بھی نہیں لگے تھے کہ ویسٹ باسکٹ میں پڑی کون سی چیز اس کے لیے شاکنگ ہو سکتی ہے۔
وہ کارپوریٹ سکیٹر سے تعلق رکھتا تھا اور جن پارٹیز میں جاتا تھا وہاں ڈرنکس ٹیبل پر شراب بھی موجود ہوتی تھی اور ہر بار اس ”مشروب” سیا نکار پر کسی کے پچھلے آٹھ سال کے دوران شاید ایک بار بھی یہ نہیں سوچا ہو گا کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے، کیونکہ ان میں سے کوئی بھی نو سال پہلے والے سالار سکندر سے واقف نہیں تھا۔ لیکن وہ ایک فرد جو دو دن پہلے اس کے گھر میں آیا تھا، اس کے پاس سالار کی کسی بھی بات اور عمل پر شبہ کرنے کے لیے بڑی ٹھوس وجوہات موجود تھیں۔
”یہ سب تو ہو گا ہی… ایسی حرکتیں نہ کرتا تب قابل اعتبار ہوتا۔ اب جب کہ ماضی کچھ اتنا صاف نہیں ہے تو اس پر اپنا اعتبار قائم کرنے میں کچھ وقت تو لگے گا ہی۔” بیرونی دروازے کی طرف جاتے ہوئے اس نے بڑی آسانی کے ساتھ سارا الزام اپنے سر لے کر امامہ کو بری الذمہ قرار دے دیا تھا۔
”تمہارے کپڑے پریس کردوں؟” اس نے بیڈ روم میں آکر پوچھا۔ وہ ڈریسنگ روم میں وارڈ روب کھولے اپنے کپڑے نکال رہا تھا۔
”نہیں، میرے کپڑے تو پریس ہو کر آتے ہیں۔” ایک ہینگر نکالتے ہوئے وہ پلٹ کر مسکرایا تھا۔
امامہ کو یک دم اپنے کانوں کے بندے یاد آئے۔
”تم نے میرے ایر رنگز کہیں دیکھے ہیں میں نے واش روم میں رکھے تھے، وہاں نہیں ملے مجھے۔”
”ہاں میں نے اٹھائے تھے وہاں سے۔ وہ ڈریسنگ ٹیبل پر ہیں۔” سالار دو قدم آگے بڑھا اور ایر رنگز اٹھا کر امامہ کی طرف بڑھا دیے۔
”یہ پرانے ہو گئے ہیں۔ تم آج میرے ساتھ چلنا، میں تمہیں نئے لے دوں گا۔”
وہ ایر رنگز کانوں میں پہنتے ہوئے ٹھٹکی۔
”یہ میرے ابو نے دیے تھے جب مجھے میڈیکل میں ایڈمیشن ملا تھا۔ میرے لیے پرانے نہیں ہیں۔ تمہیں ضرورت نہیں ہے اپنے پیسے ضائع کرنے کی۔”
اس کا ردِ عمل دیکھنے کے لیے امامہ نے پلٹ کر دیکھنے کی زحمت تک نہیں کی۔ وہ بیڈ روم کا دروازہ کھول کر باہر چلی گئی تھی۔ وہ اگلے کچھ سیکنڈز وہیں کھڑا رہا۔ وہ محبت سے کی ہوئی آفر تھی، جسے وہ اس کے منہ پر مار کر گئی تھی۔ کم از کم سالار نے یہی محسوس کیا تھا۔ اسے یہ احساس نہیں ہوا تھا کہ محبت سے کی جانے والی اس آفر کو اس نے ضرورت پوری کرنے والی چیز بنا دیا تھا۔ وہ مرد تھا، ضرورت اور محبت میں فرق نہیں کر پاتا تھا۔ وہ عورت تھی ضرورت اور محبت میں فرق رکھتے رکھتے مر جاتی۔
٭٭٭٭
ڈاکٹر سبط علی کو اس دن صبح ہی سعیدہ اماں سے طویل گفت گو کرنے کا موقع مل گیا تھا۔ وہ دو یا تین دن بعد ان کی خیریت دریافت کرنے کے لیے فون کیا کرتے تھے اور آج بھی انہوں نے سعیدہ اماں کی طبیعت پوچھنے کے لیے ہی فون کیا تھا۔ وہ ان کی آواز سنتے ہی پھٹ پڑی تھی۔ ڈاکٹر سبط علی بے یقینی سے ان کی باتیں سنتے رہے۔ انہیں سعیدہ اماں کی کوئی بھی بات سمجھ میں نہیں آرہی تھی۔
”آمنہ نے آپ سے یہ کہا کہ سالار اپنی پہلی بیوی کی باتیں کرتا رہا ہے؟” انہیں لگا کہ انہیں سعیدہ اماں کی بات سننے میں کوئی غلطی ہوئی ہے۔
”وہ بے چاری تو روتی رہی ہے… فون پر بھی… اور میرے پاس بیٹھ کر بھی… سالار نے اس کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا۔ اس سے ٹھیک طرح سے بات تک نہیں کرتا وہ۔ بھائی صاحب! آپ نے بڑا ظلم کیا ہے بچی پر۔” سعیدہ اماں ہمیشہ کی طرح جذباتی ہو رہی تھیں۔
”مجھے لگتا ہے کوئی غلط فہمی ہو گئی ہے، وہ دونوں تو پرسوں میرے پاس آئے ہوئے تھے۔ بالکل ٹھیک ٹھاک اور خوش تھے۔” ڈاکٹر سبط علی پریشان کم اور حیران زیادہ ہو رہے تھے۔
”اور آپ کے گھر سے واپسی پر وہ اسے یہاں چھوڑ گیا تھا۔ وہ بے چاری ساری رات روتی رہی۔”
”آمنہ آپ کے ہاں رہی پرسوں؟” وہ پہلی بار چونکے تھے۔
”تو اور کیا…؟ سالار تو اس کو لے جانا ہی نہیں چاہتا تھا۔ وہ تو اس کے ماں باپ آرہے تھے کل… تو اس لیے مجبوراً لے گیا اسے… اور آمنہ بھی بڑی پریشان ہے سارا دن چپ بیٹھی رہی۔ آپ تو بھائی صاحب بڑی تعریفیں کیا کرتے تھے، بڑا نیک ، صالح بچہ ہے لیکن یہ تو بڑا خراب نکلا۔ ابھی سے تنگ کرنا شروع کر دیا ہے اس نے۔”
اس وقت ڈاکٹر سبط علی کے چودہ طبق روشن ہو رہے تھے۔ امامہ اس رات ان کے گھر پر بھی خاموش بیٹھی رہی تھی، لیکن انہیں یہ شائبہ تک نہیں ہوا تھا کہ ان دونوں کے درمیان کسی قسم کا کوئی اختلاف ہوا ہے۔
”خیر، میں ڈرائیور کو بھیجتا ہوں، آپ میری طرف آجائیں۔ سالار کو بھی افطار پر بلوا لیتے ہیں، پھر میں اس سے بات کر لوں گا۔”
امامہ نے بے اختیار آنکھیں بند کیں۔ اس وقت یہی ایک چیز تھی جو وہ نہیں چاہتی تھی۔
”وہ آج کل بہت دیر سے آفس سے آرہا ہے۔ کل رات بھی نو بجے آیا، شاید آج نہ آسکے۔” اس نے کمزور سی آواز میں کہا۔
”میں فون کر کے پوچھ لیتا ہوں اس سے۔” ڈاکٹر سبط علی نے کہا۔
”جی۔” اس نے بہ مشکل کہا۔ وہ ان کے کہنے پر آنکھیں بند کر کے کسی سے بھی شادی کرنے پر تیار ہو گیا تھا، وہ افطار کی دعوت پر نہ آنے کے لیے کسی مصروفیت کو جواز بناتا؟
وہ جانتی تھی کہ ڈاکٹر سبط علی کو کیا جواب ملنے والا ہے۔ فون بند کر کے وہ بے اختیار اپنے ناخن کاٹنے لگی… یہ درست تھا کہ اسے سالار سے شکایتیں تھیں، لیکن وہ یہ بھی نہیں چاہتی تھی کہ شادی کے چوتھے ہی دن اس طرح کی کوئی بات ہوتی۔
”ہیلو! سویٹ ہارٹ۔” پانچ منٹ بعد اس نے اپنے سیل پر سالار کی چہکتی ہوئی آواز سنی اور اس کے ضمیر نے اسے بری طرح ملامت کیا۔
”بندہ اٹھتا ہے تو کوئی میسج ہی کر دیتا ہے… فون کر لیتا ہے… یہ تو نہیں کہ اٹھتے ہی میکے جانے کی تیاری شروع کر دے۔” وہ بے تکلفی سے حالات کی نوعیت کا اندازہ لگائے بغیر اسے چھیڑ رہا تھا۔
امامہ کے احساس جرم میں مزید اضافہ ہوا۔ ڈاکٹر سبط علی نے یقینا اس سے فی الحال کوئی بات کیے بغیر اسے افطار پر بلایا تھا۔
”ڈاکٹر صاحب ابھی افطار کے بارے میں کہہ رہے تھے۔ میں نے انہیں کہا کہ میں آج آفس سے جلدی آجاؤں گا اور تمہیں اپنے ساتھ لے آؤں گا۔” وہ اسے بتا رہا تھا۔
امامہ کو یک دم کچھ امید بندھی۔ وہ اگر پہلے گھر آجاتا ہے تو وہ اس سے کچھ بات کر لیتی، کچھ معذرت کر کے اسے ڈاکٹر صاحب کے گھر متوقع صورتِ حال کے بارے میں آگاہ کر سکتی تھی۔ اس نے اطمینان کا سانس لیا۔ ہاں، یہ ہو سکتاتھا۔
”لیکن اگر تم جانا چاہو تو میں تمہیں بھجوا دیتا ہوں۔” سالار نے اگلے ہی جملے میں اسے آفر کی۔
”نہیں… نہیں، میں تمہارے ساتھ چلی جاؤں گی۔” امامہ نے بے اختیار کہا۔
”اوکے… میں پھر انہیں بتا دیتا ہوں… اور تم کیا کر رہی ہو؟”
اس کا دل چاہا، وہ اس سے کہے کہ وہ اس گڑھے سے نکلنے کی کوشش کی رہی ہے جو اس نے سالار کے لیے کھودا تھا۔
”فرقان کی ملازمہ آئے گی آج صفائی کرنے کے لیے، عام طور پر تو وہ صبح میرے جانے کے بعد آکر صفائی کرتی ہے لیکن تم اس وقت سو رہی ہوتی ہو، تو میں نے اسے فی الحال اس وقت آنے سے منع کیا ہے۔ تم بھابھی کو کال کر کے بتا دینا کہ وہ اسے کب بھیجیں۔”
وہ شاید اس وقت آفس میں فارغ تھا اس لیے لمبی بات کر رہا تھا۔
”کچھ تو بولو یار… اتنی چپ کیوں ہو؟”
”نہیں… وہ… میں… ایسے ہی۔” وہ اس کے سوال پر بے اختیار گڑبڑائی۔” تم فری ہو اس وقت؟” اس نے بے حد محتاط لہجے میں پوچھا۔
اگر وہ فارغ تھا تو وہ ابھی اس سے بات کر سکتی تھی۔
”ہاں، ایویلیوایشن ٹیم چلی گئی ہے… کم از کم آج کا دن تو ہم سب بہت ریلیکسڈ ہیں۔ اچھے کمنٹس دے کر گئے ہیں وہ لوگ۔” وہ بڑے مطمئن انداز میں اسے بتا رہا تھا۔
وہ اس کی باتوں پر غور کیے بغیر اس ادھیڑ بن میں لگی ہوئی تھی کہ بات کیسے شروع کرے۔
”آج اگر ڈاکٹر صاحب انوائیٹ نہ کرتے تو میں سوچ رہا تھا رات کو کہیں باہر کھانا کھاتے… فورٹریس میں انڈسٹریل ایگزی بیشن لگی ہوئی ہے… وہاں چلتے… بلکہ یہ کریں گے کہ ان کے گھر سے ڈنر کے بعد فورٹریس چلے جائیں گے۔”
چلو بھر پانی میں ڈوب مرنے کا محاورہ آج پہلی بار امامہ کی سمجھ میں آیا تھا۔ یہ محاورتاً نہیں کہا گیا تھا۔ واقعی بعض سچویشنز میں چلو بھر پانی بھی ڈبونے کے لیے کافی ہوتا ہے۔ وہ بات شروع کرنے کے جتن کر رہی تھی اور یہ کیسے کرے، یہ اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا۔
”ٹھیک ہے! پھر میں ذرا ڈاکٹر صاحب کو بتا دوں۔ وہ انتظار کر رہے ہوں گے۔” اس سے پہلے کہ وہ اسے کچھ کہتی، سالار نے بات ختم کرتے ہوئے کال بند کر دی۔ وہ فون ہاتھ میں پکڑے بیٹھی رہ گئی۔
٭٭٭٭
وہ تقریباً چار بجے گھر آیا تھا اور وہ اس وقت تک یہ طے کر چکی تھی کہ اسے اس سے کس طرح بات کرنی ہے۔ سالار اوپر نہیں آیا تھا۔ اس نے فون پر اسے نیچے آنے کے لیے کہا۔ وہ جب گاڑی کے کھلے دروازے سے اندر بیٹھی تو اس نے مسکرا کر سر کے اشارے سے اس کا استقبال کیا۔ وہ فون پر اپنے آفس کے کسی آدمی سے بات کر رہا تھا۔
ہینڈز فری کان سے لگائے ڈاکٹر سبط علی کے گھر کی طرف ڈرائیونگ کرتے ہوئے وہ مسلسل اسی کال میں مصروف رہا۔ امامہ کی جیسے جان پر بن آئی تھی۔ اگر وہ سارے راستے بات کرتا رہا تو… ایک سگنل پر رکنے پر اس نے سالار کا کندھا تھپتھپایا اور بے حد خفگی کے عالم میں اسے کال ختم کرنے کا اشارہ کیا۔ نتیجہ فوری طور پر آیا۔ چند منٹ مزید بات کرنے کے بعد سالار نے کال ختم کر دی۔
”سوری… ایک کلائنٹ کو کوئی پرابلم ہو رہا تھا۔” اس نے کال ختم کرنے کے بعد کہا۔
”اسلام آباد چلو گی؟” اس کے اگلے جملے نے امامہ کے ہوش اُڑ….

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: