Aab e Hayat Novel by Umera Ahmed Read Online – Episode 7

0

آب حیات از عمیرہ احمد – قسط نمبر 7

–**–**–

وہ سب کچھ جو وہ سوچ کر آئی تھی، اس کے ذہن سے غائب ہو گیا۔
”اسلام آباد؟” اس نے بےحد بے یقینی سے سالار کو دیکھا۔
”ہاں میں اس ویک اینڈ پر جا رہا ہوں۔” سالار نے بڑے نارمل انداز میں کہا۔

”لیکن میں… میں کیسے جا سکتی ہوں؟” وہ بے اختیار اٹکی۔ ”تمہارے پاپا تو تمہیں منع کر کے گئے ہیں کہ مجھے اپنے ساتھ اسلام آباد نہ لے کر آنا۔ پھر؟” سالار نے اس کی بات کاٹی۔
”ہاں… اور اب وہی کہہ رہے ہیں کہ اگر میں تمہیں ساتھ لانا چاہوں تو لے آؤں۔” اس نے بڑی روانی سے کہا۔ وہ اس کا چہرہ دیکھتی رہی۔
”میری فیملی کو پتا لگ سکتا ہے۔” اس نے لمبی خاموشی کے بعد بالآخر کہا۔
”آج یا کل تو پتا لگنا ہے۔” سالار نے اسی انداز میں کہا۔ ”یہ تو ممکن نہیں ہے کہ میں ساری عمر تمہیں چھپا کر رکھو۔” وہ سنجیدگی سے کہہ رہا تھا۔ ”تمہاری فیملی نے تمہارے بارے میں لوگوں سے کہا ہے کہ تم شادی کے بعد بیرون ملک سیٹل ہو گئی ہو۔ اب اتنے سالوں کے بعد تمہارے حوالے سے کچھ کریں گے تو خود انہیں بھی embarrassment ہو گی۔ اس لیے مجھے نہیں لگتا کہ وہ کچھ کریں گے۔” وہ مطمئن تھا۔
”تم انہیں نہیں جانتے، انہیں پتا چل گیا تو وہ چپ نہیں بیٹھیں گے۔” وہ پریشان ہونے لگی تھی۔
”وہاں کبھی کبھار جایا کریں گے، خاموشی سے جائیں گے اور آجایا کریں گے۔ یار! اتنا socialize نہیں کریں گے وہاں۔” وہ اس کی بے فکری سے چڑی۔
”انہیں پتا چلا تو وہ مجھے لے جائیں گے… وہ مجھے مار ڈالیں گے۔” وہ روہانسی ہو رہی تھی۔
”فرض کرو امامہ! اگر انہیں اتفاقاً تمہارے بارے میں پتا چلتا ہے یا یہاں لاہور میں تمہیں کوئی دیکھ لیتا ہے، تمہیں کوئی نقصان پہنچاتے ہیں تو…؟”
”نہیں پتا چلے گا میں کبھی باہر جاؤں گی ہی نہیں۔” اس نے بے ساختہ کہا۔
”تمہارا دم نہیں گھٹے گا اس طرح…؟” اس نے چونک کر اس کا چہرہ دیکھا۔
اس کی آنکھوں میں مسیحا جیسی ہمدردی تھی۔
”مجھے عادت ہو گئی ہے سالار… اتنا ہی سانس لینے کی… مجھے فرق نہیں پڑتا۔ جب میں جاب نہیں کرتی تھی تو مہینوں گھر سے نہیں نکلتی تھی۔ میں اتنے سالوں سے لاہور میں ہوں لیکن میں نے یہاں بازاروں، پارکس اور ریسٹورنٹس کو صرف سڑک پر سفر کرتے ہوئے باہر سے دیکھا ہے یا ٹی وی اور نیوز پیپرز میں۔ میں اگر اب ان جگہوں پر جاؤں تو میری سمجھ میں ہی نہیں آئے گا کہ مجھے وہاں کرنا کیا ہے۔ جب ملتان میں تھی ہاسٹل اور کالج کے علاوہ دوسری کوئی جگہ نہیں تھی میری زندگی میں۔ اب لاہور آگئی تو یہاں بھی پہلے یونیورسٹی اور گھر… اور اب گھر… مجھے ان کے علاوہ دوسری ساری جگہیں عجیب سی لگتی ہیں۔ مہینے میں ایک بار میں سعیدہ اماں کے گھر کے پاس ایک چھوٹی سی مارکیٹ میں ان کے ساتھ جاتی تھی، وہ میری واحد آؤٹنگ ہوتی تھی۔ وہاں ایک بک شاپ تھی۔ میں پورے مہینے کے لیے بکس لے لیتی تھی وہاں سے۔ کتاب کے ساتھ وقت گزارنا آسان ہوتا ہے۔”
وہ پتا نہیں اسے کیوں بتاتی گئی۔
”ہاں، وقت گزارنا آسان ہوتا ہے، زندگی گزارنا نہیں۔”
اس نے ایک بار پھر گردن موڑ کر اُسے دیکھا، وہ ڈرائیو کر رہا تھا۔
”مجھے فرق نہیں پڑتا سالار۔”
”مجھے فرق پڑتا ہے… اور بہت فرق پڑتا ہے۔” سالار نے بے اختیار اس کی بات کاٹی۔ ”میں ایک نارمل زندگی گزارنا چاہتا ہوں… جیسی کبھی تمہاری زندگی تھی۔ تم نہیں چاہتیں یہ سب کچھ ختم ہو جائے…؟” وہ اس سے پوچھ رہا تھا۔
”ابنارمل لائف ہی سہی لیکن میں سیف ہوں۔”
سالار نے بے اختیار اس کے کندھوں پر اپنا بازو پھیلایا۔
”تم اب بھی سیف رہو گی…trust me… کچھ نہیں ہو گا… میری فیملی تمہیں protect کر سکتی ہے اور اگر تمہاری فیملی کو اب یہ پتا چلتا ہے کہ تم میری بیوی ہو تو اتنا آسان نہیں ہو گا اُن کے لیے تمہیں نقصان پہنچانا۔ جو بھی ہونا ہے ، ایک بار کھل کر ہو جائے۔ تمہیں اس طرح چھپا کر رکھوں اور انہیں کسی طرح علم ہو جائے تو وہ تمہیں کوئی نقصان پہنچا سکتے ہیں ایسی صورت میں، میں پولیس کے پاس جا کر بھی کچھ نہیں کر سکوں گا۔ وہ صاف انکار کر دیں گے کہ تم نو سال سے غائب ہو اور وہ تمہارے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔” وہ خاموش رہی تھی۔
”کیا سوچ رہی ہو؟” سالار نے بولتے بولتے اس کی خاموشی نوٹس کی۔
”مجھے تمہارے ساتھ شادی نہیں کرنا چاہیے تھی… کسی کے ساتھ بھی نہیں کرنا چاہیے تھی… میں نے اپنے ساتھ تمہیں بھی مصیبت میں ڈال دیا۔ یہ ٹھیک نہیں ہوا۔” وہ بے حد اپ سیٹ ہو گئی۔
”ہاں، اگر تم کسی اور کے ساتھ شادی کرتیں تو یہ واقعی unfair ہوتا لیکن میری کوئی بات نہیں۔ میں نے تو خیر پہلے بھی تمہاری فیملی کی بہت گالیاں اور بددعائیں لی ہیں، اب بھی سہی۔” وہ بڑی لاپروائی سے کہہ رہا تھا۔
”تو پھر سیٹ بک کروا دوں تمہاری؟” وہ واقعی ڈھیٹ تھا۔ وہ چپ بیٹھی رہی۔
”کچھ نہیں ہو گا امامہ …Mark my word۔” سالار نے اسٹیرنگ سے ایک ہاتھ اٹھا کر اس کے کندھوں پر پھیلاتے ہوئے اسے تسلی دی۔
”تم کوئی ولی نہیں ہو۔” اس نے خفگی سے کہا۔
اس کے کندھوں سے بازو ہٹاتے ہوئے وہ بے اختیار ہنسا۔
”اچھا میں نے کب کہا کہ میں ولی ہوں۔ میں تو شاید انسان بھی نہیں ہوں۔”
اس کے اس جملے پر اس نے گردن موڑ کر اسے دیکھا۔ وہ اب ونڈو سکرین کے پار دیکھ رہی تھا۔
”کچھ نہیں ہوگا۔” اس نے اپنے چہرے پر امامہ کی نظریں محسوس کیں۔”ویسے ہی پاپا چاہتے ہیں ، ہم وہاں آئیں۔”
امامہ نے اس بار جواب میں کچھ نہیں کہا تھا۔
٭٭٭٭
اس شام سالار کو ڈاکٹر سبط علی اور ان کی بیوی کچھ سنجیدہ لگے تھے اور اس سنجیدگی کی کوئی وجہ اس کی سمجھ میں نہیں آئی۔ امامہ بھی کھانے کے دوران بالکل خاموش رہی تھی، لیکن اس نے اس کی خاموشی کو گاڑی میں ہونے والی گفت گو کا نتیجہ سمجھا۔
وہ لاؤنج میں بیٹھے چائے پی رہے تھے۔ جب ڈاکٹر سبط علی نے اس موضوع کو چھیڑا۔
”سالار! امامہ کو کچھ شکایتیں ہیں آپ سے۔” وہ چائے کا گھونٹ بھرتے ہوئے ٹھٹکا۔ یہ بات اگر ڈاکٹر سبط علی نے نہ کہی ہوتی تو وہ اسے مذاق سمجھتا۔ اس نے کچھ حیرانی کے عالم میں ڈاکٹر سبط علی کو دیکھا، پھر اپنے برابر میں بیٹھی امامہ کو۔ وہ چائے کا کپ اپنے گھٹنے پر رکھے چائے پر نظریں جمائے ہوئے تھی۔ اس کے ذہن میں پہلا خیال گاڑی میں ہونے والی گفت گو کا آیا لیکن امامہ نے کس وقت ڈاکٹر صاحب کو گاڑی میں ہونے والی گفت گو کے بارے میں بتایا تھا…؟ … وہ بے حد حیران ہوا۔
”جی…!” اس نے کپ واپس پرچ میں رکھ دیا۔
”امامہ آپ کے رویے سے ناخوش ہیں۔” ڈاکٹر سبط علی نے اگلا جملہ بولا۔
سالار کو لگا، اسے سننے میں کوئی غلی ہوئی ہے۔
”جی…” اس نے بے اختیار کہا۔” میں سمجھا نہیں۔”
”آپ امامہ پر طنز کرتے ہیں…؟” وہ پلکیں جھپکے بغیر ڈاکٹر سبط علی کو دیکھتا رہا۔ بہ مشکل سانس لے کر چند لمحوں بعد اس نے امامہ کو دیکھا۔
”یہ آپ سے امامہ نے کہا؟” اس نے اسے بے یقینی سے دیکھتے ہوئے ڈاکٹر سبطِ علی کہا۔
”ہاں، آپ اس سے ٹھیک بات نہیں کرتے۔”
سالار نے گردن موڑ کر ایک بار پھر امامہ کو دیکھا۔ وہ اب بھی نظریں جھکائے بیٹھی تھی۔
”یہ بھی آپ سے امامہ نے کہا؟” اس کے تو جیسے چودہ طبق روشن ہو رہے تھے۔
ڈاکٹر سبط علی نے سر ہلایا۔ سالار نے بے اختیار اپنے ہونٹ کا ایک کونا کاٹتے ہوئے چائے کا کپ سینٹر ٹیبل پر رکھ دیا۔ اس کا ذہن بری طرح چکرا گیا تھا۔ یہ اس کی زندگی کی سب سے پریشان کن صورت حال میں سے ایک تھی۔
امامہ نے چائے کے کپ سے اٹھتی بھاپ پر نظریں جمائے بے حد شرمندگی اور پچھتاوے کے عالم میں اس کو گلا صاف کرتے ہوئے، کہتے سنا۔ ”اور…؟
”جو کچھ ہو رہا تھا، یہ امامہ کی خواہش نہیں تھی، حماقت تھی، لیکن تیر کمان سے نکل چکا تھا۔
”اور یہ کہ آپ کہیں جاتے ہوئے اسے انفارم نہیں کرتے۔ پرسوں آپ جھگڑا کرنے کے بعد اسے سعیدہ بہن کی طرف چھوڑ گئے تھے۔” اس بار سالار نے پہلے کلثوم آنٹی کو دیکھا پھر ڈاکٹر سبط علی کو… پھر امامہ کو… اگر آسمان اس کے اوپر گرتا تب اس کی یہ حالت نہ ہوتی جو اس وقت ہوئی تھی۔ُ
”جھگڑا…؟ میرا تو کوئی جھگڑا نہیں ہوا۔” اس نے بہ مشکل اپنے حواس پر قابو پاتے ہوئے کہنا شروع کیا تھا۔ ”اور امامہ نے خود مجھ سے کہا تھا کہ وہ سعیدہ اماں کے گھر رہنا چاہتی ہے اور میں تو پچھلے چار دنوں سے کہیں۔۔۔۔۔” وہ بات کرتے کرتے رک گیا۔
اس نے امامہ کی سسکی سنی تھی۔ اس نے بے اختیار گردن موڑ کر امامہ کو دیکھا، وہ اپنی ناک رگڑ رہی تھی۔ کلثوم آنٹی اور ڈاکٹر صاحب بھی اس کی طرف متوجہ ہوئے۔ سالار بات جاری نہیں رکھ سکا۔ کلثوم آنٹی اٹھ کر اس کے پاس آکر اسے دلاسا دینے لگیں۔ وہ ہکا بکا بیٹھا رہا۔ ڈاکٹر سبط علی نے ملازم کو پانی لانے کے لیے کہا۔ سالار کی کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا لیکن اس وقت وہاں اپنی صفائیاں دینے اور وضاحت کرنے کا موقع نہیں تھا۔ وہ چپ چاپ بیٹھا اسے دیکھتا رہا اور سوچتا رہا، وہ الو کا پٹھا ہے کیونکہ پچھلے چار دن سے اس کی چھٹی حس جو سگنلز بار بار دے رہی تھی، وہ بالکل ٹھیک تھے۔ صرف اس نے خوش فہمی اور لاپروائی کا مظاہرہ کیا تھا۔
پانچ دس منٹ کے بعد سب کچھ نارمل ہو گیا۔ ڈاکٹر صاحب تقریباً آدھے گھنٹے تک سالار کو سمجھاتے رہے۔ وہ خاموشی سے سر ہلاتے ہوئے ان کی باتیں سنتا رہا۔ اس کے برابر بیٹھی امامہ کو بے حد ندامت ہو رہی تھی۔ اس کے بعد سالار کا اکیلے میں سامنا کرنا کتنا مشکل تھا۔ یہ اس سے بہتر کوئی نہیں سمجھ سکتا تھا۔
آدھے گھنٹے کے بعد وہ دونوں وہاں سے رخصت ہو کر گاڑی میں بیٹھ گئے۔ گاڑی ڈاکٹر سبط علی کے گھر کے گیٹ سے باہر نکلتے ہی امامہ نے اسے کہتے سنا۔
”مجھے یقین نہیں آرہا۔ میں یقین نہیں کر سکتا۔”
اسے اس سے اسی رد عمل کی توقع تھی۔ وہ ونڈ اسکرین سے نظر آتی ہوئی سڑک پر نظریں جمائے بیٹھی اس وقت بے حد نروس ہو رہی تھی۔
”میں تم پر طنز کرتا ہوں… تم سے ٹھیک سے بات نہیں کرتا… تمہیں بتائے بغیر جاتا ہوں… تمہیں سعیدہ اماں کے گھر چھوڑ گیا تھا… جھگڑا کیا۔ تم نے ان لوگوں سے جھوٹ بولا؟”
امامہ نے بے اختیار اسے دیکھا۔ وہ جھوٹ کا لفظ استعمال نہ کرتا تو اسے اتنا برا نہ لگتا۔
”میں نے کوئی جھوٹ نہیں بولا۔” اس نے بے حد خفگی سے کہا۔
”میں تم پر طنز کرتا ہوں؟” سالار کی آواز میں تیزی آگئی۔
”تم نے اس رات میری اندھیرے میں سونے کی عادت کو ”عجیب” کہا۔” وہ بے یقینی سے اس کا منہ دیکھتا رہ گیا۔
”وہ طنز تھا؟ وہ تو بس ایسے ہی ایک بات تھی۔”
”مگر مجھے اچھی نہیں لگی۔” اس نے بے ساختہ کہا۔
”تم نے بھی تو جواباً میری روشنی میں سونے کی عادت کو عجوبہ کہا تھا۔” وہ اس بار چپ رہی۔ سالار واقعی بہت زیادہ ناراض ہو رہا تھا۔
”اور میں تم سے ٹھیک سے بات نہیں کرتا…؟” وہ اگلے الزام پر آیا۔
”مجھے لگا تھا۔” اس نے اس بار مدافعانہ انداز میں کہا۔
”لگا تھا…؟” وہ مزید خفا ہوا۔ ”تمہیں صرف ”لگا” اور تم نے سیدھا ڈاکٹر صاحب سے جا کر کہہ دیا۔”
”میں نے ان سے کچھ نہیں کہا، سعیدہ اماں نے سب کچھ کہا تھا۔” اس نے وضاحت کی۔
وہ چند لمحے صدمے کے مارے کچھ بول ہی نہیں سکا۔
”یعنی تم نے ان سے بھی یہ سب کچھ کہا ہے؟” وہ چپ رہی۔
وہ ہونٹ کانٹے لگا۔ اسے اب سعیدہ اماں کی اس رات کی بے رخی کی وجہ سمجھ میں آرہی تھی۔
”اور میں کہاں جاتا ہوں جس کے بارے میں نے تمہیں نہیں بتایا…؟” سالار کو یاد آیا۔
”تم سحری کے وقت مجھے بتا کر گئے؟” سالار اس کا چہرہ دیکھ کر رہ گیا۔
”امامہ! میں مسجد جاتا ہوں اس وقت فرقان کے ساتھ۔ اس کے بعد جم اور پھر واپس گھر آجاتا ہوں۔ اب میں مسجد بھی تمہیں بتا کر جایا کروں؟” وہ جھنجھلایا تھا۔
”مجھے کیا پتا تم اتنی صبح کہاں جاتے ہو…؟ مجھے تو اپ سیٹ ہونا ہی تھا۔” امامہ نے کہا۔
اس کی وضاحت پر وہ مزید تپ گیا۔
”تمہارا کیا خیال ہے کہ میں رمضان میں سحری کے وقت کہاں جا سکتا ہوں۔؟ کسی نائٹ کلب…؟ یا کسی گرل فرینڈ سے ملنے…؟ کوئی احمق بھی جان سکتا ہے کہ میں کہاں جا سکتا ہوں۔” وہ احمق کے لفظ پر بری طرح تلملائی۔
”ٹھیک ہے، میں واقعی احمق ہوں… بس۔”
اور سعیدہ اماں کے گھر میں رہنے کا تم نے کہا تھا… کہا تھانا… اور کون سا جھگڑا ہوا تھا تمہارا؟”
وہ خاموش رہی۔
”اتنے زیادہ جھولٹ بولنے کی کیا ضرورت تھی تمہیں؟” وہ اس بار اس کی بات پر روہانسی ہو گئی۔
”بار بار مجھے جھوٹا مت کہو۔”
”امامہ! جو جھوٹ ہے، میں اسے جھوٹ ہی کہوں گا۔ تم نے ڈاکٹر صاحب کے سامنے مجھے منہ دکھانے کے قابل نہیں چھوڑا۔ کیا سوچ رہے ہوں گے وہ میرے بارے میں…؟” وہ واقعی بری طرح اپ سیٹ تھا۔
”اچھا اب یہ سب ختم کرو۔” اس نے امامہ کے گالوں پر یک دم بہنے والے آنسو دیکھ لیے تھے اور وہ بری طرح جھنجلایا تھا۔ ”ہم جس ایشو پر ”بات ” کر رہے ہیں امامہ! اس میں رونے دھونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔” وہ روتی رہی۔
”یہ ٹھیک نہیں ہے امامہ!… تم نے ڈاکٹر صاحب کے گھر بھی یہی کیا تھا میرے ساتھ۔”
اس کا غصہ ٹھنڈا پڑنے لگا تھا لیکن جھنجھلاہٹ بڑھ گئی تھی۔ جو کچھ بھی تھا، وہ اس کی شادی کا چوتھا دن تھا اور وہ ایک گھنٹے میں دوسری بار یوں زارو قطار رو رہی تھی۔ اس کی جگہ کوئی بھی لڑکی یوں رو رہی ہوتی تو وہ پریشان ہوتا، یہ تو خیر امامہ تھی۔ وہ بے اختیار نرم پڑا۔ اس کے کندھے پر اپنا بازو پھیلا کر اس نے جیسے اسے چپ کروانے کی کوشش کی۔ امامہ نے ڈیش بورڈ پر پڑے ٹشو باکس سے ایک ٹشو پیپر نکال کر اپنی سرخ ہوتی ہوئی ناک کو رگڑا اور سالار کی صلح کی کوششوں پر پانی پھیرتے ہوئے کہا۔
”میں اس لیے تم سے شادی نہیں کرنا چاہتی تھی۔ مجھے پتا تھا، تم میرے ساتھ اسی طرح کا سلوک کرو گے۔” وہ اس کے جملے پر ایک لمحے کے لیے ساکت رہ گیا پھر اس نے اس کے کندھے سے ہاتھ ہٹاتے ہوئے کہا۔
”کیسا سلوک… تم وضاحت کرو گی؟” اس کے لہجے میں پھر خفگی اُتر آئی ”میں نے آخر کیا کیا ہے تمہارے ساتھ۔”
وہ ایک بار پھر ہچکیوں سے رونے لگی۔ سالار نے بے بسی سے اپنی آنکھیں بند کیں۔ وہ ڈرائیونگ نہ کر رہا ہوتا تو یقینا سر بھی پکڑ لیتا۔ باقی رستے دونوں میں کوئی بھی بات نہیں ہوئی۔ کچھ دیر بعد وہ بالآخر چپ ہو گئی۔ سالار نے سکون کا سانس لیا۔
اپارٹمنٹ میں آکر بھی دونوں کے درمیان کوئی بات نہیں ہوئی۔ وہ بیڈ روم میں جانے کے بجائے لاؤنج کے ایک صوفے پر بیٹھ گئی تھی۔ سالار بیڈ روم میں چلا گیا۔ وہ کپڑے بدل کر بیڈ روم میں آیا، وہ تب بھی اندر نہیں آئی تھی۔ ”اچھا ہے، اسے بیٹھ کر اپنے رویے کے بارے میں کچھ دیر سونا چاہیے…” اس نے اپنے بیڈ پر لیٹتے ہوئے سوچا۔ وہ سونا چاہتا تھا اور اس نے بیڈ روم کی لائٹس آف نہیں کی تھیں لیکن نیند یک دم اس کی آنکھوں سے غائب ہو گئی تھی۔ اب ٹھیک ہے بندہ سوچے لیکن اتنا بھی کیا سوچنا۔ مزید پانچ منٹ گزرنے کے باوجود اس کے نمودار نہ ہونے پر وہ بے اختیار جھنجھلایا۔ دو منٹ مزید گزرنے کے بعد وہ بیڈ روم سے نکل آیا۔
وہ لاؤنج کے صوفے کے ایک کونے میں، دونوں پاؤں اوپر رکھے، کشن گود میں لیے بیٹھی تھی۔ سالار نے سکون کا سانس لیا۔ کم از کم وہ اس وقت رو نہیں رہی تھی۔ سالار کے لاؤنج میں آنے پر اس نے سر اٹھا کر بھی اسے نہیں دیکھا تھا۔ وہ بس اسی طرح کشن کو گود میں لیے اس کے دھاگے کھینچتی رہی۔ وہ اس کے پاس صوفے پر آکر بیٹھ گیا۔
کشن کو ایک طرف رکھتے ہوئے امامہ نے بے اختیار صوفے سے اٹھنے کی کوشش کی۔ سالار نے اس کا بازو پکڑ کر اسے روکا۔
”یہی بیٹھو۔” اس نے تحکمانہ انداز میں اس سے کہا۔
اس نے ایک لمحے کے لیے بازو چھڑانے کا سوچا، پھر ارادہ بدل دیا۔ وہ دوبارہ بیٹھ گئی لیکن اس نے اپنے بازو سے سالار کا بازو ہٹا دیا۔
”میرا کوئی قصور نہیں ہے… لیکن آئی ایم سوری۔” اس نے مصالحت کی پہلی کوشش کا آغاز کیا۔
امامہ نے خفگی سے اسے دیکھا لیکن کچھ کہا نہیں۔ وہ کچھ دیر اس کے بولنے کا منتظر رہا لیکن پھر اسے اندازہ ہو گیا کہ وہ فی الحال اس کی معذرت قبول کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔
”تمہیں یہ کیوں لگا کہ میں تم سے ٹھیک بات نہیں کر رہا…؟ امامہ! میں تم سے بات کر رہا ہوں۔” اس نے اس کے خاموش رہنے پر کہا۔
”تم مجھے اگنور کرتے رہے۔” ایک لمحے توقف کے بعد اس بالآخر کہا۔
”اگنور؟” وہ بھونچکا رہ گیا۔ ”میں تمہیں… ” ”تمہیں” اگنور کرتا رہا… میں کر ”سکتا ” ہوں؟ ” اس نے بے یقینی سے کہا۔ امامہ نے اس سے نظریں نہیں ملائیں۔
”تم سوچ بھی کیسے سکتی ہو یہ…؟ تمہیں ”اگنور” کرنے کے لیے شادی کی تھی میں نے تم سے؟ تمہیں اگنور کرنے کے لیے اتنے سالوں سے خوار ہوتا پھر رہا ہوں میں۔”
”لیکن تم کرتے رہے…” وہ اپنی بات پر مضر تھی۔ ”تم زبان سے ایک بات کہتے ہو لیکن تم…” وہ بات کرتے کرتے رکی۔ اس کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی۔ ”تمہاری زندگی میں میری کوئی… کوئی اہمیت ہی نہیں ہے۔”
”رکو مت ، کہتی رہو… میں جاننا چاہتا ہوں کہ میں ایسا کیا کر رہا ہوں جس سے تمہیں میرے بارے میں اتنی غلط فہمیاں ہو رہی ہیں۔” اس نے اس کی آنکھوں کی نمی کو نظر انداز کرتے ہوئے بے حد سنجیدگی سے کہا۔
”میں نے تمہیں صبح مسجد جاتے ہوئے نہیں بتایا… آفس جاتے ہوئے بھی نہیں بتایا… اور؟” اس نے گفت گو شروع کرنے کے لیے اسے کیو دی۔
”تم نے مجھے یہ بھی نہیں بتایا کہ تم افطار پر دیر سے آؤ گے۔ تم چاہتے تو جلدی بھی آسکتے تھے۔” وہ رکی۔
”اور…؟” سالار نے کوئی وضاحت کیے بغیر کہا۔
”میں نے تمہارے کہنے کے مطابق تمہیں میسج کیا لیکن تم نے مجھے کال نہیں کی۔ اپنے پیرنٹس کو ریسیو کرنے یا چھوڑنے کے لیے تم مجھے بھی ایئر پورٹ لے جا سکتے تھے لیکن تم نے مجھ سے نہیں کہا۔ ٹھیک ہے، میں نے کہا تھا کہ مجھے سعیدہ اماں کے گھر چھوڑ دو لیکن تم نے ایک بار بھی مجھے ساتھ چلنے کے لیے نہیں کہا۔ میری کتنی بے عزتی ہوئی ان کے سامنے۔”
وہ بہتے آنسوؤں کے ساتھ کہہ رہی تھی۔
وہ پلک جھپکے بغیر یک ٹک اسے دیکھ رہا تھا۔ پانی اب اس کی آنکھوں سے ہی نہیں، ناک سے بھی بہنے لگا تھا۔ وہ پوری دل جمعی سے رو رہی تھی۔ سالار نے سینٹر ٹیبل کے ٹشو باکس سے ایک ٹشو پیپر نکال کر اس کی طرف بڑھایا۔ اس نے اس کا ہاتھ جھٹک کر خود ایک ٹشو پیپر نکال لیا۔ اس نے ناک رگڑی تھی، آنکھیں نہیں۔
”اور…؟” سالار نے بڑے تحمل کے ساتھ ایک بار پھر کہا۔
وہ کہنا چاہتی تھی کہ اس نے اسے شادی کا کوئی گفٹ تک نہیں دیا۔ اس کی ایک دکھتی رگ یہ بھی تھی، لیکن اس سے تحفے کا ذکر کرنا اسے اپنی توہین لگی۔ اس نے تحفے کا ذکر نہیں کیا۔ کچھ دیر وہ اپنی ناک رگڑتی، سسکیوں کے ساتھ روتی رہی۔ سالار نے بالآخر اس سے پوچھا۔
”بس یا ابھی کچھ اور بھی جرم ہیں میرے؟”
”مجھے پتا تھا کہ تم شادی کے بعد میرے…”
سالار نے اس کی بات کاٹ دی۔
”ساتھ یہی کرو گے… مجھے پتا ہے، تمہیں میرے بارے میں سب کچھ پہلے سے ہی پتا چل جاتا ہے۔” وہ اس کے جملے پر بری طرح چڑا تھا۔ ”اس کے باوجود اب تم مجھے کچھ کہنے کا موقع دو گی…؟” وہ چپ بیٹھی اپنی ناک رگڑتی رہی۔
”اگر میں شادی کے اگلے دن آفس سے جلدی آسکتا تو آجاتا، آج آیا ہوں نا جلدی۔”
”تم اپنے پیرنٹس کے لیے تو آگئے تھے۔” امامہ نے مداخلت کی۔
”اس دن میری پرزینٹیشن نہیں تھی اور میں نے تمہیں کال کی تھی۔ ایک بار نہیں، کئی بار… تم اپنا سیل فون دیکھو یا میں دکھاؤں۔” سالار نے چیلنج کرنے والے انداز میں کہا۔
”میرے میسج کرنے پر تو نہیں کی تھی نا؟”
”اس وقت میں میٹنگ میں تھا، میرا سیل میرے پاس نہیں تھا۔ بورڈ روم سے نکل کر پہلی کال میں نے تمہیں ہی کی تھی، ریسیو کرنا تو ایک طرف تم نے توجہ تک نہیں دی۔ میں نے سعیدہ اماں کے گھر بھی تمہیں کالز کیں، تم نے وہاں بھی یہی کیا، بلکہ سیل ہی آف کر دیا۔ تو مجھے بھی ناراض ہونا چاہیے تھا، مجھے کہنا چاہیے تھا کہ تم مجھے اگنور کر رہی ہو، لیکن میں نے ایسا نہیں کیا۔ میں نے سوچا تک نہیں اس چیز کے بارے میں۔” وہ اب اسے سنجیدگی سے سمجھا رہا تھا۔
”تمہیں اپنے ساتھ ایرپورٹ لے کر جانا تو ممکن ہی نہیں تھا۔ ایر پورٹ ایک طرف ہے… بیچ میں میرا آفس ہے… اور دوسری طرف گھر… میں پہلے یہاں آتا… تمہیں لے کر پھر ایر پورٹ جاتا… دگنا ٹائم لگتا … اور تمہارے لیے انہیں ایر پورٹ جا کر ریسیو کرنا ضروری بھی نہیں تھا۔” وہ ایک لمحہ کے لیے رکا پھر بولا۔
”اب میں شکایت کروں تم سے؟”
امامہ نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا۔
”تم نے سعیدہ اماں کے گھر پر ٹھہرنے کا فیصلہ کیا، مجھ سے پوچھنے کی زحمت تک نہیں کی۔” اس کی آنکھوں میں سیلاب کا ایک نیا ریلا آیا۔
”میرا خیال تھا، تم مجھے وہاں رہنے ہی نہیں دو گے، لیکن تم تو تنگ آئے ہوئے تھے مجھ سے۔ تم نے مجھے ایک بار بھی ساتھ چلنے کو نہیں کہا۔”
سالار نے بے اختیار گہرا سانس لیا۔
”مجھے کیا پتا تھا۔ میں نے سوچا کہ تمہاری خواہش ہے، مجھے پوری کرنی چاہیے۔ چلو ٹھیک ہے، میری غلطی تھی۔ مجھے کہنا چاہیے تھا تمہیں چلنے کے لیے، لیکن کم از کم تمہیں مجھے خدا حافظ کہنے کے لیے باہر تک تو آتا چاہیے تھا۔ میں پندرہ منٹ صحن میں کھڑا انتظار کرتا رہا لیکن تم نے ایک لمحہ کے لیے بھی باہر آنے کی زحمت نہیں کی۔”
”میں ناراض تھی، اس لیے نہیں آئی۔”
”ناراضی میں بھی کوئی فارمیلٹی تو ہوتی ہے نا…؟” وہ خاموشی رہی۔
”تم نے فرقان کے حوالے سے ضد کی کہ مجھے وہاں نہیں جانا۔ خواہ مخواہ کی ضد تھی۔ مجھے برا لگا تھا لیکن میں نے تمہیں اپنی بات ماننے پر مجبور نہیں کیا۔” وہ ایک لمحہ کے لیے رکا۔ ”فرقان میرا سب سے زیادہ کلوز فرینڈ ہے۔ فرقان اور بھابھی نے ہمیشہ میرا بہت خیال رکھا ہے اور یہ میرے لیے قابل قبول نہیں ہے کہ میری وائف اس فیملی کی عزت نہ کرے۔”
اس کی آنکھوں میں امڈتے سیلاب کے ایک اور ریلے کو نظر انداز کرتے ہوئے اس نے کہا۔ امامہ نے اس بار کوئی وضاحت نہیں دی تھی۔
”میں نے تم سے یہ گلہ بھی نہیں کیا کہ تم نے میری پیرنٹس کو ایک دفعہ بھی کال کر کے یہ نہیں پوچھا کہ وہ ٹھیک سے پہنچ گئے یا ان کی فلائٹ ٹھیک رہی۔” وہ بڑے تحمل سے کہہ رہا تھا۔ وہ جزبز ہوئی۔
”میرے پاس ان کا نمبر نہیں ہے۔”
”تم مجھ سے لے لیتیں اگر تم واقعی ان سے بات کرنے میں انٹرسٹڈ ہوتیں۔ وہ تمہارے لیے یہاں آئے تھے تو تمہاری اتنی ذمہ داری تو بنتی تھی نا کہ تم ان کی فلائٹ کے بارے میں ان سے پوچھتیں یا ان کے جانے کے بعد ان سے بات کرتیں۔”
”تو تم مجھ سے کہہ دیتے۔ کیوں نہیں کہا…؟”
”میں نے اس لیے نہیں کہا کیونکہ یہ میرے نزدیک کوئی ایشوز نہیں ہیں، یہ معمولی باتیں ہیں۔ یہ ایسے ایشوز نہیں ہیں کہ جن پر میں تم سے ناراض ہوتا پھروں یا جھگڑا کروں۔” وہ بول نہیں سکی۔
”لیکن تم نے یہ کیا کہ میرے خلاف کیس تیار کرتی رہیں… ہر چھوٹی بڑی بات دل میں رکھتی رہیں، مجھ سے کوئی شکایت نہیں کی… لیکن سعیدہ اماں کو سب کچھ بتایا… اور ڈاکٹر صاحب کو بھی… کسی دوسرے سے بات کرنے سے پہلے تمہیں مجھ سے بات کرنی چاہیے تھی… کرنی چاہیے تھی نا…؟”
اس کے آنسو تھمنے لگے۔ وہ اسے بڑے تحمل سے سمجھا رہا تھا۔
”اگر میں تمہاری بات نہ سنتا تو اور بات تھی۔ پھر تم کہتیں کسی سے بھی، مجھے اعتراض نہ ہوتا۔” وہ خاموش رہی۔ اس کی بات کچھ غلط بھی نہیں تھی۔
”تم سو نہ رہی ہوتیں تو میں یقینا تمہیں بتا کر ہی گھر سے نکلتا میں کہاں جا رہا ہوں لیکن ایک سوئے ہوئے بندے کو صرف یہ بتانے کے لیے اٹھاؤں کہ میں جا رہوں، یہ تو میں کبھی نہیں کر سکتا۔”
وہ کچھ بول نہ سکی۔
”اگنور…؟ میں حیران ہوں امامہ! کہ یہ خیال تمہارے دماغ میں کیسے آگیا۔ میں چار دن سے ساتویں آسمان پر ہوں اور تم کہہ رہی ہو، میں تمہیں اگنور کر رہا ہوں۔”
”لیکن تم نے ایک بھی میری تعریف نہیں کی۔” امامہ کو ایک اور ”خطا” یاد آئی۔
سالار نے چونک کر اسے دیکھا۔
”کس چیز کی تعریف؟” اس نے حیران ہو کر پوچھا۔ ”یہ ایک بے حد احمقانہ سوال تھا لیکن اس سوال نے امامہ کو شرمندہ کیا تھا۔
”اب یہ بھی میں بتاؤں؟” وہ بری طرح بگڑی تھی۔
”تمہاری خوب صورتی کی؟” سالار نے کچھ اُلجھ کر اندازہ لگایا۔ وہ مزید خفا ہوئی۔
”میں کب کہہ رہی ہوں خوب صورتی کی کرو۔ کسی بھی چیز کی تعریف کر دیتے، میرے کپڑوں کی کر دیتے۔”
اس نے کہہ تو دیا لیکن وہ یہ شکایت کرنے پر پچھتائی۔ سالار کے جوابی سوالوں نے اسے بری طرح شرمندہ کیا تھا۔ سالار نے ایک نظر اسے، پھر اس کے کپڑوں کو دیکھ کر ایک گہرا سانس لیا اور بے اختیار ہنسا۔
”امامہ! تم مجھے اپنے منہ سے اپنی تعریف کرنے کے لیے کہہ رہی ہو۔” اس نے ہنستے ہوئے کہا۔ یہ جیسے اس کے لیے مذاق تھا۔ وہ بری طرح جھینپ گئی۔
”مت کرو، میں نے کب کہا ہے۔”
”نہیں، یو آر رائٹ۔ میں نے واقعی ابھی تک تمہیں کسی بھی چیز کے لیے نہیں سراہا۔ مجھے کرنا چاہیے تھا۔” وہ یک دم سنجیدہ ہو گیا۔ اس نے امامہ کی شرمندگی محسوس کر لی تھی۔
اس کے کندھے پر بازو پھیلاتے ہوئے اس نے امامہ کو اپنے قریب کیا۔ا س بار امامہ نے اس کا ہاتھ نہیں جھٹکا تھا۔ اس کے آنسو اب تھم چکے تھے۔ سالار نے دوسرے ہاتھ سے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ وہ اس کے ہاتھ کو بڑی نرمی کے ساتھ سہلاتے ہوئے بولا۔
”ایسی شکایتیں وہاں ہوتی ہیں جہاں صرف چند دن کے ساتھ ہو لیکن جہاں زندگی بھر کی بات ہو، وہاں یہ سب کچھ بہت سیکنڈری ہو جاتا ہے۔” اسے اپنے ساتھ لگائے وہ بہت نرمی سے سمجھا رہا تھا۔
”تم سے شادی میرے لیے بہت معنی رکھتی ”تھی” اور معنی رکھتی ”ہے”… لیکن آئندہ بھی کچھ معنی رکھے ”گی” اس کا انحصار تم پر ہے۔ مجھ سے جو گلہ ہے اسے مجھ سے کرو، دوسروں سے نہیں۔ میں صرف تم کو جواب دہ ہوں امامہ! کسی اور کے سامنے نہیں۔” اس نے بے حد نپے تلے لفظوں میں اسے بہت کچھ سمجھانے کی کوشش کی تھی۔
”ہم کبھی دوست نہیں تھے لیکن دوستوں سے زیادہ بے تکلفی اور صاف گوئی رہی ہے ہمارے تعلق میں۔ شادی کا رشتہ اسے کمزور کیوں کر رہا ہے؟”
امامہ نے نظر اٹھا کر اس کے چہرے کو دیکھا۔ اسے اس کی آنکھوں میں بھی وہی سنجیدگی نظر آئی جو اس کے لفظوں میں تھی۔ اس نے ایک بار پھر سر جھکا لیا۔ ”وہ غلط نہیں کہہ رہا تھا” اس کے دل نے اعتراف کیا۔
”تم میری زندگی میں ہر شخص اور ہر چیز سے بہت زیادہ امپورٹینس رکھتی ہو۔” سالار نے اپنے لفظوں پر زور دیتے ہوئے کہا۔ ”لیکن یہ ایک جملہ میں تمہیں ہر روز نہیں کہہ پاؤں گا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ میرے لئے تمہاری امپورٹنس کم ہو گئی ہے۔ میری زندگی میں تمہاری امپورٹنس اب میرے ہاتھ میں نہیں، تمہارے ہاتھ میں ہے۔ یہ تمہیں طے کرنا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ تم اس امپورٹنس کو بڑھاؤ گی یا کم کر دو گی۔” اس کی بات سنتے ہوئے امامہ کی نظر اس کے اس ہاتھ کی پشت پر پڑی جس سے وہ اُس کا ہاتھ سہلا رہا تھا۔ اس کے ہاتھ کی پشت بے حد صاف ستھری تھی۔ ہاتھ کی پشت اور کلائی پر بال نہ ہونے کے برابر تھے۔ ہاتھ کی انگلیاں کسی مصور کی انگلیوں کی طرح لمبی اور عام مردوں کے ہاتھوں کی نسبت پتلی تھیں۔ اس کے ہاتھوں کی پشت پر سبز اور نیلی رگیں بہت نمایاں طور پر نظر آرہی تھیں۔ اس کی کلائی پر ریسٹ واچ کا ہلکا سا نشان تھا۔ وہ یقینا بہت باقاعدگی سے رسٹ واچ پہنتا تھا۔ وہ آج پہلی بار اس کے ہاتھ کو اتنے غور سے دیکھ رہی تھی۔ اسے اس کے ہاتھ بہت اچھے لگے۔ اس کا دل کچھ اور موم ہوا۔
اس کی توجہ کہاں تھی، سالار کو اندازہ نہیں ہو سکا۔ وہ اسے اسی طرح سنجیدگی سے سمجھا رہا تھا۔
”محبت یا شادی کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ دونوں پارٹنرز ایک دوسرے کو اپنے اپنے ہاتھ کی مٹھی میں بند کر کے رکھنا شروع کردیں۔ اس سے رشتے مضبوط نہیں ہوتے، دم گھٹنے لگتا ہے۔ ایک دوسرے کو اسپیس دینا، ایک دوسرے کی انفرادی حیثیت کو تسلیم کرنا، ایک دوسرے کی آواز کے حق کا احترام کرنا بہت ضروری ہے۔ ”امامہ نے گردن موڑ کر اس کا چہرہ دیکھا، وہ اب بے حد سنجیدہ تھا۔
”ہم دونوں اگر صرف ایک دوسرے کے عیب اور کوتاہیاں ڈھونڈتے رہیں گے تو بہت جلد ہمارے دل سے ایک دوسرے کے لیے عزت اور لحاظ ختم ہو جائے گا۔ کسی رشتے کو کتنی بھی محبت سے باندھا گیا ہو، اگر عزت اور لحاظ چلا جائے تو محبت بھی چلی جائے… یہ دونوں چیزیں محبت کے گھر کی چار دیواری ختم ہو جائے تو گھر کو بچانا مشکل ہو جاتا ہے۔”
امامہ نے بڑی حیرانی سے اسے دیکھا۔ وہ اس کی آنکھوں میں حیرانی دیکھ کر مسکرایا۔
”اچھی فلاسفی ہے نا؟”
امامہ کی آنکھوں میں نمی اور ہونٹوں پر مسکراہٹ بیک وقت آئی تھی۔ اس نے اثبات میں سر ہلایا۔
سالار نے اسے اپنے کچھ اور قریب کرتے ہوئے کہا۔
”میں اللہ کا پرفیکٹ بندہ نہیں ہوں تو تمہارا پرفیکٹ شوہر کیسے بن سکتا ہوں امامہ! شاید اللہ میری کوتاہیاں نظر انداز کردے، تو تم بھی معاف کر دیا کرو۔”وہ حیرانی سے اس کا چہرہ دیکھتی رہی، وہ واقعی اس سالار سکندر سے ناواقف تھی۔ سالار نے بڑی نرمی کے ساتھ اس کی آنکھوں کے سوجے ہوئے پپوٹوں کو اپنی پوروں سے چھوا۔
”کیا حال کر لیا ہے تم نے اپنی آنکھوں کا…؟تمہیں مجھ پر ترس نہیں آتا؟”
وہ بڑی ملائمت سے کہہ رہا تھا۔
امامہ نے جواب دینے کے بجائے اس کے سینے پر سر رکھ دیا۔ وہ اب پُرسکون تھی۔ اس کے گرد اپنا ایک بازو حمائل کرتے ہوئے اور دوسرے ہاتھ سے اس کے چہرے اور گردن پر آئے ہوئے بالوں کو ہٹاتے ہوئے اس نے پہلی بار نوٹس کیا کہ وہ رونے کے بعد زیادہ اچھی لگتی ہے لیکن اس سے یہ بات کہنا، اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنے والی بات تھی۔ وہ اس کی طرف متوجہ نہیں تھی۔ وہ اس کے نائٹ ڈریس کی شرٹ پر بنے پیٹرن پر غیر محسوس انداز میں انگلیاں پھیر رہی تھی۔
”موو کلر اچھا لگتا ہے تم پر۔” اس نے بے حد رومانٹک انداز میں اس کے کپڑوں پر ایک نظر ڈالتے ہوئے کہا۔
اس کے سینے پر حرکت کرتا اس کا ہاتھ ایک دم رکا۔ امامہ نے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔ سالارنے اس کی آنکھوں میں خفگی دیکھی، وہ مسکرایا۔
”تعریف کر رہا ہوں تمہاری۔”
”یہ ٹی پنک ہے۔”
”اوہ! اچھا۔” سالار نے گڑ بڑا کر اس کے کپڑوں کو دوبارہ دیکھا۔
”یہ ٹی پنک ہے؟ میں نے اصل میں موو کلر بہت عرصے سے کسی کو پہنے نہیں دیکھا۔” سالار نے وضاحت کی۔
”کل موو پہنا ہوا تھا میں نے۔” امامہ کی آنکھوں کی خفگی بڑھی۔
”لیکن میں تو اسے پرپل سمجھا تھا۔” سالار مزید گڑبڑایا۔
”وہ جو سامنے دیوار پر پینٹنگ ہے نا، اس میں ہیں پرپل فلاورز۔” امامہ نے کچھ تحمل کا مظاہرہ کرنے کی کوشش کی۔
سالار اس پینٹنگ کو گھورتے ہوئے اسے یہ نہیں بتا سکا کہ وہ ان فلاورز کو بلیو کلر کا کوئی شیڈ سمجھ کر لایا تھا۔ امامہ اب اس کا چہرہ دیکھ رہی تھی۔ سالار نے کچھ بے چارگی کے انداز میں گہرا سانس لیا۔
”میرا خیال ہے، اس شادی کو کامیاب کرنے کے لیے مجھے اپنی جیب میں ایک شیڈ کارڈز رکھنا پڑے گا۔” وہ پینٹنگ کو دیکھتے ہوئے بڑبڑایا تھا۔
٭٭٭٭
وہ پہلی صبح تھی جب اس کی آنکھ سالار سے پہلے کھلی تھی، الارم سیٹ ٹائم سے بھی دس منٹ پہلے۔ چند منٹ وہ اسی طرح بستر میں پڑی رہی۔ اسے اندازہ نہیں ہو رہا تھا کہ رات کا کون سا پہر ہے۔ بیڈ سائیڈ ٹیبل پر پڑا الارم کلاک اٹھا کر اس نے ٹائم دیکھا پھر ساتھ ہی الارم آف کر دیا۔ بڑی احتیاط سے وہ اٹھ کر بستر میں بیٹھی۔ سائیڈ ٹیبل کا لیمپ بڑی احتیاط سے آن کرتے ہوئے اس نے سلیپرز ڈھونڈے، پھر اس نے کھڑے ہوتے ہوئے سائیڈ ٹیبل کا لیمپ آف کیا۔ تب اس نے سالار کی سائیڈ کے لیمپ کو آن ہوتے دیکھا۔ وہ کس وقت بیدار ہوا تھا، امامہ کو اندازہ نہیں ہوا تھا۔
”میں سمجھی تم سو رہے ہو۔” اس نے سالار کے سلام کا جواب دیتے ہوئے کہا۔
”میں ابھی اٹھا ہوں، کمرے میں آہٹ کی وجہ سے۔”
وہ اسی طرح لیٹے لیٹے اب اپنا سیل فون دیکھ رہا تھا۔
”لیکن میں نے تو کوئی آواز نہیں کی۔ میں تو کوشش کر رہی تھی کہ تم ڈسٹرب نہ ہو۔” امامہ کچھ حیران ہوئی تھی۔
”میری نیند زیادہ گہری نہیں ہے امامہ! کمرے میں ہلکی سے ہلکی آہٹ بھی ہو تو میں جاگ جاتا ہوں۔” اس نے گہرا سانس لیتے ہوئے سیل سائیڈ ٹیبل پر رکھا۔
”میں آئندہ احتیاط کروں گی۔” اس نے کچھ معذرت خوانہ انداز میں کہا۔
”ضرورت نہیں، مجھے عادت ہے اسی طرح کی نیند کی۔ مجھے اب فرق نہیں پڑتا۔” اس نے بیڈ پر پڑا ایک اور تکیہ اٹھا کر اپنے سر کے نیچے رکھا اور آنکھیں بند کر لیں۔ وہ واش روم میں جانے سے پہلے چند لمحے اسے دیکھتی رہی۔ ہر انسان ایک کتاب کی طرح ہوتا ہے۔ کھلی کلتاب جسے کوئی بھی پڑھ سکتاہے۔ سالار بھی اس کے لیے ایک کھلی کتاب تھا لیکن چائنیز زبان میں لکھی ہوئی کتاب۔
اس دن اس نے اور سالار نے سحری اکٹھے کی اور ہر روز کی طرح سالار، فرقان کے ساتھ نہیں گیا۔ وہ شاید پچھلے کچھ دنوں کی شکایتوں کا ازالہ کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ امامہ کا موڈ رات کو ہی بہت اچھا ہو گیا تھا اور اس میں مزید بہتری اس کی اس ”توجہ” نے کی۔
مسجد میں جانے سے پہلے آج پہلی بار اس نے اسے مطلع کیا۔
”امامہ! تم میرا انتظار مت کرنا۔ نماز پڑھ کر سو جانا، میں کافی لیٹ آؤں گا۔”
اس نے جاتے ہوئے اسے تاکید کی لیکن وہ اس کی تاکید کو نظر انداز کرتے ہوئے اس کے انتظار میں بیٹھی رہی۔
وہ ساڑھے آٹھ بجے اس کے آفس جانے کے بعد سوئی تھی۔ دوبارہ اس کی آنکھ گیارہ بجے ڈور بیل کی آواز پر کھلی۔ نیند میں اپنی آنکھیں مسلتے ہوئے، اس نے بیڈ روم سے باہر نکل کر اپارٹمنٹ کا داخلی دروازہ کھولا۔ چالیس، پینتالیس سالہ ایک عورت نے اسے بے حد پُرتجسس نظروں سے دیکھتے ہوئے سلام کیا۔
”مجھے نوشین باجی نے بھیجا ہے۔” اس نے اپنا تعارف کروایا۔
امامہ کو ایک دم یاد آیا کہ اس نے نوشین کو صفائی کے لیے ملازمہ کو کل کے بجائے اگلے دن بھیجنے کے لیے کہا تھا۔ وہ اسے راستہ دیتی ہوئی دروازے سے ہٹ گئی۔
”اتنی خوشی ہوئی جب نوشین باجی نے مجھے بتایا کہ سالار صاحب کی بیوی آگئی ہے۔ مجھے تو پتا ہی نہیں چلا کہ کب شادی کر لی سالار صاحب نے۔ ” امامہ کے پیچھے اندر آتے ہوئے ملازمہ کی باتوں کا آغاز ہو گیا تھا۔
”کہاں سے صفائی شروع کرنی ہے تم نے؟”
”امامہ کی فوری طور پر سممجھ میں نہیں آیا کہ اسے صفائی کے بارے میں کیا ہدایات دے۔
”باجی! آپ فکر نہ کریں۔ میں کر لوں گی، آپ چاہے آرام سے سو جاؤ۔”ملازمہ نے اپنے فوری آفر کی۔ یہ شاید اس نے اس کی نیند سے بھری ہوئی آنکھوں کو دیکھ کر کہا تھا۔
”نہیں، تم لاؤنج سے صفائی شروع کرو، میں ابھی آتی ہوں۔”
آفر بری نہیں تھی، اسے واقعی نیند آرہی تھی لیکن وہ … اس طرح اسے گھر میں کام کرتا چھوڑ کر سو نہیں سکتی تھی۔
واش روم میں آکر اس نے منہ پر پانی کے چھینٹے مارے، کپڑے تبدیل کر کے بال سمیٹے اور لاؤنج میں نکل آئی۔ ملازمہ ڈسٹنگ میں مصروف تھی۔ لاؤنج کی کھڑکیوں کے بلائنڈز اب ہٹے ہوئے تھے۔ سورج ابھی پوری طرح نہیں نکلا تھا لیکن اب دھند نہ ہونے کے برابر تھی۔ لاؤنج کی کھڑکیوں سے باہر پودے دیکھ کر اسے انہیں پانی دینے کا خیال آیا۔
ملازمہ ایک بار پھر گفتگو کا آغاز کرنا چاہتی تھی لیکن وہ اسے بالکونی کی طرف جاتے دیکھ کر چپ ہو گئی۔
جب وہ پودوں کو پانی دے کر فارغ ہوئی تو ملازمہ لاؤنج صاف کرنے کے بعد اب سالار کے اس کمرے میں جا چکی تھی جسے وہ اسٹڈی روم کی طرح استعمال کرتا تھا۔
”’سالار صاحب بڑے اچھے آدمی انسان ہیں۔”
تقریباً ڈیڑھ گھنٹے میں اپارٹمنٹ کی صفائی کرنے کے بعد امامہ نے اس سے چائے کا پوچھا تھا۔ چائے پیتے ہوئے ملازمہ نے ایک بار پھر اس سے باتوں کا سلسلہ شروع کر دیا۔ امامہ اس کے تبصرے پر صرف مسکرا کر خاموش ہو گئی۔
”آپ بھی ان کی طرح بولتی نہیں ہیں؟” ملازمہ نے اس کے بارے میں اپنا پہلا اندازہ لگایا۔
”اچھا، سالار بھی نہیں بولتا۔” امامہ نے جان بوجھ کر اسے موضوع گفت گوبنایا۔
”کہاں جی۔ حمید بھی یہی کہتا ہے صاحب کے بارے میں۔”
ملازمہ نے شاید سالار کے ملازم کا نام لیا تھا۔
”لیکن باجی! بڑی حیا ہے آپ کے آدمی کی آنکھ میں۔”
اس نے ملازمہ کے جملے پر جیسے بے حد حیران ہو کر اس کا چہرہ دیکھا تھا۔ ملازمہ بڑی سنجیدگی سے بات کر رہی تھی۔
”جیسے فرقان صاحب ہیں ویسی ہی عادت سالار صاحب کی ہے۔ فرقان صاحب تو خیر سے بال بچوں والے ہیں لیکن سالار صاحب تو اکیلے رہتے تھے ادھر۔ میں تو کبھی بھی اس طرح اکیلے مردوں والے گھروں میں صفائی نہ کروں۔ بڑی دنیا دیکھی ہے جی میں نے، لیکن یہاں کام کرتے ہوئے کبھی نظر اٹھا کر نہیں دیکھا صاحب نے مجھے۔ میں کئی بار سوچتی تھی کہ بڑے ہی نصیب والی عورت ہو گی، جو اس گھر میں آئے گی۔”
ملازمہ فراٹے سے بول رہی تھی۔
ہیٹر کے سامنے صوفے پر نیم دراز زمامہ اس کی باتیں سنتی کسی سوچ میں گم رہی۔ ملازمہ کو حیرت ہوئی تھی کہ باجی اپنے شوہر کی تعریف پر خوش کیوں نہیں ہوئی۔ ”باجی” کیا خوش ہوتی، کم از کم اسے اتنی توقع تو تھی اس سے کہ وہ گھر میں کام کرنے والی کسی عورت کے ساتھ بھی انوالو نہیں ہو سکتا۔ وہ مردوں کی کوئی بری ہی بد ترین قسم ہوتی ہو گی، جو گھر میں کام کرنے والی م
لازمہ پر بھی نظر رکھتے ہوں گے اور سالار کم از کم اس قسم کے مردوں میں شمار نہیں ہو سکتا تھا۔
ملازمہ اس کی مسلسل خاموشی سے کچھ بے زار ہو کر جلدی چائے پی کر فارغ ہو گئی۔ امامہ اس کے پیچھے دروازہ بند کرنے گئی تو ملازمہ نے باہر نکلنے سے پہلے مڑ کر اس سے کہا۔
”باجی! کل ذرا جلدی آجاؤں آپ کے گھر؟”
امامہ ٹھٹک کر رک گئی۔ اس کے چہرے پر یقینا کوئی ایسا تاثر تھا جس نے ملازمہ کو کچھ بوکھلا دیا تھا۔
”باجی! مجھے چھوٹے بچے کو ہسپتال لے کر جانا ہے، اس لیے کہہ رہی تھی۔” اس نے جلدی سے کہا۔
”ہاں، ٹھیک ہے۔” امامہ نے بہ مشکل جیسے خود پر قابو پاتے ہوئے کہا اور دروازہ بند کر دیا۔ کل جلدی آنے کے مطالبے نے اسے ساکت نہیں کیا تھا بلکہ اسے ساکت کیا تھا اس کے تین لفظوں نے… ”آپ کے گھر” یہ ”اس کا گھر ” تھا جس کے لیے وہ اتنی سالوں سے خوار ہوتی پھر رہی تھی۔ جس کی آس میں وہ کتنی بار جلال انصر کے پیچھے گڑگڑانے گئی تھی۔ وہ بے یقینی سے لاؤنج میں آکر ان دیواروں کو دیکھ رہی تھی جنہیں دنیا ”اس کے گھر” کے نام سے شناخت کر رہی تھی، وہ واقعی اس کا گھر تھا۔ وہ پناہ گاہیں نہیں تھیں جہاں وہ اتنے سال سرجھکا کر ممنون و احسان مند بن کر رہی تھی۔ آنسوؤں کا ایک ریلا آیا تھا اس کی آنکھون میں… بعض اوقات انسان سمجھ نہیں پاتا کہ وہ روئے یا ہنسے… روئے ، تو کتنا روئے… ہنسے، تو کتنا ہنسے… وہ بھی کچھ ایسی ہی کسی کیفیت سے گزر رہی تھی۔ وہ بچوں کی طرح ہر کمرے کا دروازہ کھول کھول کر ایک جگہ سے دوسری جگہ جا رہی تھی۔ وہ جا سکتی تھی وہاں… جو چاہے کر سکتی تھی… یہ اس کا گھر تھا۔ یہاں کوئی جگہ اس کے لیے ”علاقہ غیر” نہیں جتھی۔ اسے بس اتنی سی دنیا ہی چاہیے تھی اپنے لیے… کوئی ایسی جگہ جہاں وہ استحقاق کے ساتھ رہ سکتی ہو… سالار یک دم جیسے کہیں پیچھے چلا گیا تھا۔ گھر کے معاملے میں عورت کے لیے ہر مرد پیچھے رہ جاتا ہے۔
سالار نے اسے دوبار وقفے وقفے سے سیل پر کال کی لیکن امامہ نے ریسیو نہیں کی… سالار نے تیسری بار پھر پی ٹی سی ایل پر کال کی، اس بار امامہ نے ریسیو کی لیکن اس کی آواز سنتے ہی سالار کو اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ رو رہی تھی۔ اسے اس کی آواز بھر آئی ہوئی لگی۔ وہ بہت پریشان ہوا۔
”کیا ہوا؟”
”کچھ نہیں۔”
وہ دوسری طرف جیسے اپنے آنسوؤں اور آواز پر قابو پانے کی کوشش کر رہی تھی۔
”کیوں رو رہی ہو؟”
سالار کی واقعی کچھ سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ کیوں رو رہی ہے۔ رات ہر جھگڑے کا اختتام بے حد خوشگوار انداز میں ہوا تھا۔ وہ صبح دروازے تک مسکرا کر اسے رخصت کرنے آئی تھی۔ پھر اب… ؟ وہ اُلجھ رہا تھا۔
دوسری طرف امامہ کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ اسے اپنے رونے کا کیا جواز پیش کرے۔ اس سے یہ تو نہیں کہہ سکتی تھی کہ وہ اس لیے رو رہی ہے کہ کسی نے اسے ”گھر والی” کہا ہے۔ سالار یہ بات نہیں سمجھ سکتا تھا… کوئی بھی مرد نہیں سمجھ سکتا۔
”مجھے امی اور ابو یاد آرہے رہیں۔” سالار نے بے اختیار ایک گہرا سانس لیا۔
یہ وجہ سمجھ میں آتی تھی… وہ یک دم پر سکون ہوا۔ ادھر وہ بالکل خاموش تھی۔ ماں باپ کا ذکر کیا تھا، جھوٹ بولا تھا لیکن اب رونے کی جیسے ایک اور وجہ مل گئی تھی۔ جو آنسو پہلے تھم رہے تھے، وہ ایک بار پھر سے برسنے لگے تھے۔ کچھ دیر وہ چپ چاپ فون پر اس کی سسکیاں اور ہچکیاں سنتا رہا۔
وہ اس غیر ملکی بینک میں انویسٹمنٹ بینکنگ کو ہیڈ کرتا تھا۔ چھوٹے سے چھوٹا انویسٹمنٹ scam پکڑ سکتا تھا، خسارے میں جاتی بڑی سے بڑی کمپنی کے لیے بیل آؤٹ پلان تیار کر سکتا تھا۔ کمپنیز کے مرجر پیکجز تیار کرنا اس کے بائیں ہاتھ کا کام تھا۔ وہ پوائنٹ دن پرسنٹ کر پریسیشن کے ساتھ ورلڈ اسٹاک مارکیٹیں کے ٹرینڈز کی پیش بینی کر سکتا تھا۔ مشکل سے مشکل سرمایہ کار کے ساتھ سودا طے کرنے میں اسے ملکہ حاصل تھا لیکن شادی کے اس ایک ہفتے کے دوران ہی اسے یہ اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ امامہ کو روتے ہوئے چپ نہیں کرا سکتا، نہ وہ ان آنسوؤں کی وجہ ڈھونڈ سکتا تھا، نہ انہیں روکنے کے طریقے اسے آتے تھے۔ وہ کم از کم اس میدان میں بالکل اناڑی تھا۔
”ملازمہ نے گھر صاف کیا تھا آج؟” ایک لمبی خاموشی کے بعد اس نے امامہ کی توجہ رونے سے ہٹانے کے لیے جس موضوع اور جملے کا انتخاب کیا وہ احمقانہ تھا۔ امامہ کو جیسے یقین نہیں آیا کہ یہ بتانے پر کہ اسے اپنے ماں باپ یاد آرہے ہیں، سالار نے اس سے یہ پوچھا ہے۔ پچھلی رات کے سالار کے سارے لیکچرز کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اس نے ریسیور کریڈل پر پٹک دیا اور فون منقطع ہوتے ہی سالار کو اپنے الفاظ کے غلط انتخاب کا احساس ہو گیا تھا۔ اپنے سیل کی تاریک اسکرین کو دیکھتے ہوئے اس نے بے اختیار گہرا سانس لیا۔
اگلے پانچ منٹ وہ سیل ہاتھ میں لیے بیٹھا رہا۔ اسے پتا تھا اس نے اب کال کی تو وہ ریسیو نہیں کرے گی۔ پانچ منٹ کے بعد اس نے دوبارہ کال کی۔ خلاف توقع امامہ نے کال ریسیو کی۔ اس بار اس کی آواز میں خفگی تھی لیکن وہ بھرائی ہوئی نہیں تھی۔ وہ یقینا رونا بند کر چکی تھی۔
”آئی ایم سوری!؟” سالار نے اس کی آواز سنتے ہی کہا۔
امامہ نے جواب نہیں دیا۔ وہ اُس وقت اس کی معذرت نہیں سن رہی تھی۔ وہ صرف ایک ہی بات کا جواب ڈھونڈنے کی کوشش کر رہی تھی، اسے سالار پر غصہ کیوں آجاتا تھا…؟ یوں چھوٹی چھوٹی باتوں پر… اتنے سالوں میں جس ایک احساس کو وہ مکمل طور پر بھول گئی تھی، وہ غصے کا احساس ہی تھا۔ یہ احساس اس کے لیے اجنبی ہو چکا تھا۔ اتنے سالوں سے اس نے اللہ کے علاوہ کسی سے بھی کوئی گلہ، کوئی شکایت نہیں کی تھی۔ کسی سے ناراض ہونا یا کسی کو خفگی دکھانا تو بہت دور کی بات ہے، پھر اب یہ احساس اس کے اندر کیوں جاگ اٹھا تھا۔ سعیدہ اماں، ڈاکٹر سبط علی اور ان کی فیملی… اس کے کلاس فیلوز… کولیگز… ان میں سے کبھی کسی پر اسے غصہ نہیں آیا تھا۔ ہاں، کبھی کبھار شکایت ہوتی تھی لیکن وہ شکایت کبھی لفظوں کی شکل اختیار نہیں کر سکی، پھر اب کیا ہو رہا تھا اسے؟
”امامہ پلیز بولو… کچھ کہو۔” وہ چونکی۔
”نماز کا وقت نکل رہا ہے، مجھے نماز پڑھنی ہے۔” اس نے اسی الجھے ہوئے انداز میں اس سے کہا۔
”تم خفا نہیں ہو؟” سالار نے اس سے پوچھا۔
”نہیں۔” اس نے مدھم آواز میں کہا۔
وہ نماز کے بعد دیر تک اسی ایک سوال کا جواب ڈھونڈتی رہی اور اسے جواب مل گیا… نو سال میں اس نے پہلی بار اپنے لیے کسی کی زبان سے محبت کا اظہار سنا تھا۔ وہ احسان کرنے والوں کے ہجوم میں تھی، پہلی بار کسی محبت کرنے والے کے حصار میں آئی تھی۔ گلہ، شکوہ، ناز، نخرا، غصہ، خفگی یہ سب کیسے نہ ہوتا، اسے ”پتا” تھا کہ جب وہ روٹھے گی تو وہ اسے منا لے گا، خفا ہو گی تو وہ اسے وضاحتیں دے گا، مان تھا یا گمان… لیکن جو کچھ بھی تھا، غلط نہیں تھا۔ اتنے سالوں میں جو کچھ اس کے اندر جمع ہو گیا تھا، وہ کسی لاوے کی طرح نکل رہا تھا۔ آہستہ آہستہ وہ نارمل ہو رہی تھی۔
٭٭٭٭
شام کو سالار اسے خوش گوار موڈ میں دیکھ کر حیران ہوا۔
 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: