Aab e Hayat Novel by Umera Ahmed Read Online – Episode 8

0

آب حیات از عمیرہ احمد – قسط نمبر 8

–**–**–

 

شام کو سالار اسے خوش گوار موڈ میں دیکھ کر حیران ہو ا تھا۔ یہ خلاف توقع تھا، خاص طور پر دوپہر والے واقعہ کے بعد… لیکن… اس رات وہ اسے ڈنر کے لیے باہر لے گیا۔ وہ بے حد نروس تھی، لیکن بے حد ایکسائیٹڈ بھی۔ وہ کتنے سالوں کے بعد یوں کسی ریسٹورنٹ کے اوپن ایئر حصہ میں بیٹھی باربی کیو کھا رہی تھی۔
کھانے کے بعد وہ دونوں ونڈو شاپنگ کی نیت سے مارکیٹ چلے آئے۔ سالار نے بڑی نرمی اور توجہ سے اسے خود کو سنبھلانے کا موقع دیا تھا۔ وہ اس سے ہلکی پھلکی باتیں کرتا رہا کھانا ختم کرنے تک وہ نارمل ہو چکی تھی۔

عید کی خریداری کی وجہ سے مارکیٹ میں اس وقت بھی بڑی گہما گہمی تھی۔ وہ بہت عرصہ کے بعد وہاں آئی تھی، مارکیٹ کی شکل ہی بدل چکی تھی۔ وہ بے حد حیرت سے ان نیو برانڈز اور دوکانوں کو دیکھتے ہوئے گزر رہی تھی جو آٹھ نو سال پہلے وہاں نہیں تھیں۔ ڈاکٹر سبط علی کی بیٹیاں یا سعیدہ اماں کے بیٹے اپنی فیملیز کے ساتھ جب بھی آؤٹنگ کے لیے باہر نکلتے، وہ اسے بھی ساتھ لے جانے کی کوشش کرتے، لیکن ان کے ساتھ باہر نہ جانے کا فیصلہ اس کا اپنا ہوتا تھا۔ وہ ان میں سے کسی کے لیے مزید کسی مصیبت کا باعث نہیں بننا چاہتی تھی۔ شادی کو وہ صرف رہنے کی جگہ کی تبدیلی سمجھ رہی تھی، حالات کی تبدیلی کے بارے میں اس نے کبھی نہیں سوچا تھا۔ لیکن معجزات ہوتے ہیں… شازو نادر سہی لیکن ہوتے ضرور ہیں۔
”کچھ لو گی؟” سالار کی آواز پر وہ بے اختیار چونکی۔
”ہاں… کافی۔” اس نے جھجک کر کہا۔
”میں شاپنگ کی بات کر رہاتھا۔” اس نے کہا۔
”نہیں، میرے پاس سب کچھ ہے۔” امامہ نے مسکرا کر کہا۔
”وہ تو اب میرے پاس بھی ہے۔” اس کے چہرے پر بے اختیار سرخی دوڑی تھی۔
”تمہیں میری تعریف اچھی لگی…؟”
”سالار! بازآؤ، میں نے تمہیں یہاں تعریف کرنے کو کہا تھا؟” وہ بے ساختہ جھینپی۔
”تم نے جگہ نہیں بتائی تھی، صرف یہ کہا تھا کہ مجھے تمہاری تعریف کرنی چاہیے۔” وہ اسے چھیڑتے ہوئے محفوظ ہو رہا تھا۔
امامہ نے اس بار گردن موڑ کر اسے نظر انداز کیا۔ اس کے ساتھ چلتے چلتے ایک شو کیس میں ڈسپلے پر لگی ایک ساڑھی دیکھ کر وہ بے ساختہ رکی۔ کچھ دیر ستائشی نظروں سے اس کاہی رنگ کی ساڑھی کو دیکھتی رہی۔ـ وہاں شوکیس میں لگی یہی وہ شے تھی، جس کے سامنے وہ یوں ٹھٹک کر رک گئی تھی۔ سالار نے ایک نظر اس ساڑھی کو دیکھا پھر اس کے چہرے کو اور بڑی سہولت کے ساتھ کہا۔
مجھے لگتا ہے، یہ ساڑھی تم پر بہت اچھی لگے گی، آؤ لیتے ہیں۔” وہ گلاس ڈور کھولتے ہوئے بولا۔
”نہیں، میرے پاس بہت سے فینسی کپڑے ہیں۔” امامہ نے اس کے بازو پر ہاتھ رکھتے کر اسے روکا۔
”لیکن میں نے تو کچھ نہیں دیا تمہیں شادی پر، اس لیے کچھ دینا چاہتا ہوں۔”
وہ اس بار بول نہیں سکی۔ وہ ساڑھی اسے واقعی بہت اچھی لگی تھی۔
اس بوتیک سے انہوں نے صرف وہ ساڑھی ہی نہیں خریدی بلکہ چند اور سوٹ بھی لیے تھے۔ دوسری بوتیک سے گھر میں پہننے کے لیے کچھ ریڈی میڈ ملبوسات، کچھ سویٹر زاور جوتے۔
”مجھے پتا ہے، تمہارے پاس کپڑے ہیں لیکن تم میرے خریدے ہوئے پہنو گی تو مجھے زیادہ اچھا لگے گا۔ یہ سب میں اپنی خوشی کے لیے کر رہا ہوں، تمہیں خوش کرنے کی کوشش نہیں کر رہا۔”
اس کے پہلے اعتراض پر سالار نے بے حد رسانیت سے کہا تھا۔
امامہ نے اس کے بعد اعتراض نہیں کیا۔ اسے کچھ جھجک تھی لیکن تھوڑی دیر میں یہ جھجک بھی ختم ہو گئی۔ پھر اس نے ساری چیزیں اپنی پسند سے لی تھیں۔
”مجھے تم پر ہر چیز اچھی لگتی ہے۔ سو تم مجھ سے مت پوچھو۔” اس نے سالار کی پسند پوچھی تو وہ مسکراتے ہوئے بولا۔
”لاؤنج کی کھڑکیوں پر curtains لگا لیں۔” امامہ کو یاد آیا۔
”بلائنڈ سے کیا ایشو ہے تمہیں؟” وہ چونکا۔
”کوئی نہیں لیکن مجھے curtains اچھے لگتے ہیں۔ خوب صورت ہے۔”
”کیوں نہیں۔” سالار نے اپنی دلی تاثر چھپاتے ہوئے مسکرا کر کہا۔ وہ اس سے کہہ نہیں سکا کہ اسے پردوں سے چڑ تھی۔
رات پونے بارہ بجے ایک کیفے میں کافی اور tiramisu کھانے کے بعد وہ تقریباً ساڑھے بارہ بجے گھر واپس آئے۔ لاہور تب تک ایک بار پھر دھند میں ڈوب چکا تھا لیکن زندگی کے راستے سے دھند چھٹنے لگی تھی۔
گھر آنے کے بعد بھی وہ بے مقصد ان چیزوں کو کھول کر صوفے پر بیٹھ گئی۔ کتنے سالوں بعد وہ ملنے والی کسی چیز کو تشکر اور احسان مندی کے بوجھ کے ساتھ نہیں بلکہ استحقاق کے احساس کے ساتھ دیکھ رہی تھی۔
عورت کے لیے بہت ساری نعمتوں میں سے ایک نعمت اس کے شوہر کا اس کی ذات پر پیسہ خرچ کرنا بھی ہے اور یہ نعمت کیوں تھا، وہ اسے آج سمجھ پائی تھی۔
ڈاکٹر سبط علی اور ان کی بیوی ہر سیزن کے آغاز میں اسے کپڑے اور دوسری چیزیں خرید کر دیتے تھے۔ سعیدہ اماں بھی اس کے لیے کچھ نہ کچھ لاتی رہتی تھیں۔ ان کے بیٹے اور ڈاکٹر سبط علی کی بیٹیاں بھی اسے کچھ نہ کچھ بھیجتی رہتی تھیں لیکن ان میں سے کسی چیز کو ہاتھ میں لیتے ہوئے اس نے ایسی خوشی یا سکون محسوس نہیں کیا تھا۔ وہ خیرات نہیں تھی لیکن وہ حق بھی نہیں تھا، وہ احسان تھا اور وہ اتنے سالوں میں بھی اپنے وجود کو احسانوں کا عادی نہیں بنا سکی تھی۔ بے شک وہ اس کی زندگی کا حصہ ضرور بن گئے تھے۔
یہ کیسا احساس تھا جو ان چیزوں کو گود میں لیے اسے ہو رہا تھا۔ خوشی؟ آزادی؟ اطمینان؟ سکون…؟ یا کوئی ایسی شے تھی جس کے لیے اس کے پاس لفظ نہیں تھے۔
”کیا دیکھ رہی ہو تم؟” سالار کپڑے تبدیل کر واش روم سے نکال تھا اور ڈریسنگ روم کی لائٹ آف کر کے کمرے میں آتے ہوئے اس نے امامہ کو اسی طرح صوفے پر وہ ساری چیزیں پھیلائے بیٹھے دیکھا۔ وہ حیران سا ہوا۔ وہ جب سے آئی تھی، اس وقت سے ان چیزوں کو لے کر بیٹھی ہوئی تھی۔
”کچھ بھی نہیں میں بس رکھنے ہی لگی تھی۔” امامہ نے ان چیزوں کو سمیٹنا شروع کر دیا۔
”ایک وارڈ روب میں نے خالی کر دی ہے، تم اپنے کپڑے اس میں رکھ لو۔ اگر کچھ اور جگہ کی ضرورت ہو تو گیسٹ روم کی ایک وارڈ روب بھی خالی ہے۔ تم اسے استعمال کر سکتی ہو۔”
وہ اپنے کمرے سے کچھ ڈھونڈتا ہوا اس سے کہہ رہا تھا۔
”مجھے سعیدہ اماں کے گھر سے اپنا سامان لانا ہے۔” امامہ نے ساری چیزوں کو دوبارہ ڈبوں اور بیگز میں ڈالتے ہوئے کہا۔
”کیسا سامان؟” وہ ابھی تک دراز میں کچھ ڈھونڈ رہا تھا۔
”میرے جہیز کا سامان۔ ” امامہ نے بڑی رسانیت سے کہا۔
”مثلاً؟” وہ دراز سے نکالے گئے کچھ پیپرز دیکھتے ہوئے چونکا۔
”برتن ہیں، الیکٹرونکس کی چیزیں ہیں۔ فرنیچر بھی ہے لیکن وہ شو روم پر ہے اور بھی کچھ چھوٹی چھوٹی چیزیں ہیں۔”
وہ ان پیپرز کو دراز میں رکھ کر اس کی بات سنتا رہا۔
”تمہارے ذاتی استعمال کی کوئی چیز ہے وہاں؟” اس نے پوچھا۔
”وہ سب میری ذاتی چیزیں ہیں۔” اس نے بے ساختہ کہا۔
”وہ جہیز کا سامان ہے۔” سالار نے اسے جتانے والے انداز میں کہا۔
”اب تم کہو گے، تمہیں جہیز نہیں چاہیے۔” وہ کچھ جزبز ہو کر بولی۔
”مجھے کسی بھی قسم کا سامان نہیں چاہیے۔” سالار نے دو ٹوک انداز میں کہا۔ ”تمہیں لگتا ہے اس اپارٹمنٹ میں پہلے ہی کسی چیز کی کمی ہے؟ تم چاہتی ہو، یہاں ہر چیز دو، دو کی تعداد میں ہو۔ رکھیں گے کہاں؟” وہ پوچھ رہا تھا۔ امامہ سوچ میں پڑ گئی۔
”اتنے سالوں سے چیزیں میں خریدتی رہی ہوں اپنے لیے، لیکن زیادہ سامان ابو کے پیسوں سے آیا ہے۔ وہ ناراض ہوں گے۔” وہ اب بھی تیار نہیں تھی۔
ڈاکٹر صاحب نے اپنی تینوں بیٹیوں کو جہیز دیا؟” وہ اب پوچھ رہا تھا۔ ”نہیں دیا نا؟”
”تمہیں کیسے پتا؟” وہ چند لمحے بول نہیں سکی۔
”انہوں نے ہمیں خود بتایا تھا۔” اس نے کہا۔
”ان کی تینوں بیٹیوں کی شادیاں فیملی میں ہوئی ہیں اس لیے۔” امامہ نے کہا۔
”ٹرسٹ می… میں بھی جہیز لے کر نہ آنے پر تم سے برا سلوک نہیں کروں گا۔ یہ ڈاکٹر صاحب کا تحفہ ہوتا تو میں ضرور رکھتا لیکن یہ انہوں نے تمہاری سیکیورٹی کے لیے دیا تھا، کیونکہ تمہاری شادی کسی ایسی فیملی میں ہو رہی تھی جن کے بارے میں وہ مکمل طور پر نہیں جانتے تھے۔ لیکن میرے بارے میں تو وہ بھی جانتے ہیں اور تم بھی۔” سالار نے اس سے کہا۔
”میرے برتن، بیڈ شیٹس اور کپڑے ہیں۔ چھوٹی چھوٹی کتنی چیزیں ہیں جو میں اتن سالوں سے جمع کر رہی ہوں۔ اب کیسے دے دوں یہ سب کچھ؟” وہ ناخوش تھی۔
”اوکے، جو چیز تم نے اپنی پے سے لی ہے، وہ لے آؤ، باقی چھوڑ دو سب کچھ۔ وہ کسی خیراتی ادارے کو دے دیں گے۔” سالار نے ایک اور حل نکالا۔ وہ اس بار کچھ سوچنے لگی۔
”میں صبح آفس جاتے ہوئے تمہیں سعیدہ اماں کی طرف چھوڑ دوں گا اور آفس سے آج ذرا جلدی آجاؤں گا۔ تمہاری پیکنگ بھی کروا دوں گا۔”
وہ ہاتھ میں کچھ پیپرز لیے ہوئے اس کی طرف آیا۔ صوفے پر اس کے پاس پڑی چیزوں کو ایک طرف کرتے ہوئے وہ اس کے پاس بیٹھ گیا۔
”یہ جس جگہ پر کراس کا نشان ہے، اس پر اپنے سائن کر دو۔”
اس نے کچھ پیپرز اس کی طرف بڑھاتے ہوئے ایک پین اسے تھمایا۔
”یہ کیا ہے؟” اس نے کچھ حیران ہو کر ان پیپرز کو دیکھا۔
”میں اپنے بینک میں تمہارا اکاؤنٹ کھلوا رہا ہوں۔”
”لیکن میرا اکاؤنٹ تو پہلے ہی کھلا ہوا ہے۔”
”چلو، ایک اکاؤنٹ میرے بینک میں بھی سہی۔ برے نہیں ہیں ہم، اچھی سروس دیتے ہیں۔” اس نے مذاق کیا۔ امامہ نے پیپرز پر سائن کرنا شروع کر دیا۔
”پھر وہ اکاؤنٹ بند کر دوں؟” امامہ نے سائن کرنے کے بعد کہا۔
”نہیں، اسے رہنے دو۔” سالار نے پیپرز اس سے لیتے ہوئے کہا
”تمہیں اکاؤنٹ کھولنے کے لیے کتنی رقم کا چیک دوں؟” امامہ کا خیال تھا کہ وہ غیر ملکی بینک ہے۔ یقینا اکاؤنٹ کھولنے کے لیے ملکی بینک کی نسبت کچھ زیادہ رقم کی ضرورت ہو گی۔
”تمہارا حق مہر پے کرنا ہے مجھے، اسی رقم سے کھول دوں گا۔ سالار نے پیپرز ایک لفافے میں رکھتے ہوئے اس سے کہا۔
”اس پر ایک فگر لکھو۔”
امامہ نے حیرانی سے اس رائٹنگ پیڈ کو دیکھا جو اس نے اس کی طرف بڑھایا تھا۔ ”کیسی فگر؟” وہ الجھی۔
”کوئی بھی فگر، اپنی مرضی کے کچھ digits…” سالار نے کہا۔
”کیوں؟” وہ مزید الجھی۔
سالار نے اس کے ہاتھ میں پین تھمایا۔ اس نے دوبارہ پین پکڑ تو لیا لیکن ذہن مکمل طور پر خالی تھا۔
”کتنے digits کا فگر۔” امامہ نے چند لمحے بعد اس کی مدد چاہی۔
”وہ یک دم سوچ میں پڑ گیا۔” پھر اس نے کہا۔
”اگر تم اپنی مرضی سے کوئی فگر لکھو گی تو کتنےdigits لکھو گی…؟”
”Seven digits…”
امامہ سوچ میں پڑ گئی۔
”Alright…
لکھو پھر۔” سالار کے چہرے پر بے اختیار مسکراہٹ آئی۔
امامہ چند لمحے اس صاف کاغذ کو دیکھتی رہی پھر اس نے لکھنا شروع کیا۔ 3752960۔ اس نے رائٹنگ پیڈ سالار کی طرف بڑھا دیا۔ کاغذ پر نظر ڈالتے ہی وہ چند لمحوں کے لیے جیسے سکتہ میں آیا۔ پھر کاغذ کو پیڈ سے الگ کرتے ہوئے بے اختیار ہنسا۔
”کیا ہوا؟”وہ اس کے رد عمل سے کچھ اور الجھی۔
”کچھ نہیں… کیا ہونا تھا؟” کاغذ کو تہہ کرتے ہوئے اس نے امامہ کے چہرے کو مسکراتے ہوئے بے حد گہری لیکن عجیب نظروں سے دیکھا۔
”اس طرح کیوں دیکھ رہے ہو مجھے؟” وہ اس کی نظروں سے الجھی۔
”تمہارا شوہر ہوں، دیکھ سکتا ہوں تمہیں۔”
امامہ کو احساس نہیں ہوا، وہ بڑی صفائی سے بات بدل رہا تھا۔ اس سے بات کرتے ہوئے وہ غیر محسوس انداز میں کاغذ پر اس لفافے میں ڈال چکا تھا۔
”تم نے مجھے ساڑھی پہن کر نہیں دکھائی؟”
”رات کے اس وقت میں تمہیں ساڑھی پہن کر دکھاؤں؟” وہ بے اختیار ہنسی۔
وہ اس کے پاس سے اٹھتے اٹھتے رک گیا۔ وہ پہلی بار اس طرح کھلکھلا کر ہنسی تھی یا پھر شاید وہ اتنے قریب سے پہلی بار اسے ہنستے دیکھ رہا تھا۔ ایک بیگ کے اندر ڈبے رکھتے ہوئے امامہ نے اپنے چہرے پر اس کی نظریں محسوس کیں۔ اس نے سر اٹھا کر دیکھا، وہ واقعی اسے دیکھ رہا تھا۔
”اب کیا ہے؟”
”میں ایک بات سوچ رہا تھا۔” وہ سنجیدہ تھا۔
”کیا؟”
”کہ تم صرف روتے ہوئے ہی نہیں، ہنستے ہوئے بھی اچھی لگتی ہو۔”
اس کی آنکھوں میں پہلے حیرت آئی، پھر چمک اور پھر خوشی۔ سالار نے ہر تاثر کو پہچانا تھا، یوں جیسے کسی نے اسے فلیش کارڈز کھائے ہوں… پھر اس نے اسے نظریں چراتے ہوئے دیکھا… پھر اس کے چہرے کا رنگ بدلتے دیکھا… پہلے اس کے کان کی لوئیں سرخ ہوئیں پھر اس کے گال، ناک… اور شاید اس کی گردن بھی… اس نے زندگی میں کبھی کسی عورت یا مرد کو اتنے واضح طور پر رنگ بدلتے نہیں دیکھا تھا جس طرح اسے… نو سال پہلے بھی دو تین بار اس نے اسے غصے میں اسی طرح سرخ ہوتے دیکھا تھا۔ اس کے لیے عجیب سہی لیکن یہ منظر دل چسپ تھا… اور اب وہ اسے محضوض ہوتے ہوئے بھی اسی انداز میں سرخ ہوتے دیکھ رہا تھا، یہ منظر اس سے زیادہ دل چسپ تھا۔ ”یہ کسی بھی مرد کو پاگل کر سکتی ہے۔” اس کے چہرے پر نظریں جمائے اس نے اعتراف کیا، اس نے اپنی زندگی میں آنے والی کسی عورت کو اتنے ”بے ضرر” جملے پر اتنا شرماتے ہوئے نہیں دیکھا تھا اور اس کو شکایت تھی کہ وہ اس کی تعریف نہیں کرتا۔ سالار کا دل چاہا، وہ اسے کچھ اور چھیڑے۔ وہ بہ ظاہر بے حد سنجیدگی سے اسے نظر انداز کیے ہوئے چیزیں بیگ میں ڈال رہی تھی لیکن اس کے ہاتھوں میں ہلکی سی لرزش تھی۔ وہ اس کی نظروں سے یقینا کنفیوز ہو رہی تھی۔
کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں کہ انہیں گھر میں لانے کے بعد آپ کی سمجھ میں نہیں آتا کہ آپ انہیں کہاں رکھیں، کیونکہ آپ انہیں جہاں بھی رکھتے ہیں، اس چیز کے سامنے وہ جگہ بے حد بے مایہ سی لگتی ہے۔ کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں، جنہیں گھر میں لانے کے بعد انہیں جہاں بھی رکھیں، وہی جگہ سب سے انمول اور قیمتی ہو جاتی ہے۔ اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا، امامہ اس کے لیے ان چیزوں میں سے کون سی چیز تھی۔ اس کے چہرے کو دیکھتا وہ کچھ بے اختیار ہو کر اس کی طرف جھکا اور اس نے بڑی نرمی کے ساتھ اس کے دائیں گال کو چھوا، وہ کچھ حیا سے سمٹی۔ اس نے اسی نرمی کے ساتھ اس کا دایاں کندھا چوما اور پھر امامہ نے اسے ایک گہرا سانس لے کر اٹھتے ہوئے دیکھا۔ وہ وہیں بیٹھی رہی، سالار نے پلٹ کر نہیں دیکھا۔ وہ ان پیپرز کو اب اپنی بیڈ سائیڈ ٹیبل کی دراز میں رکھ رہا تھا۔ پلٹ کر دیکھتا تو شاید امامہ کی نظریں اسے حیران کر دیتیں۔ اس نے پہلی بار اس کے کندھے کو چوما تھا اور اس لمس میں محبت نہیں تھی۔ ”احترام” تھا… اور کیوں تھا، یہ وہ سمجھ نہیں سکی۔
٭٭٭٭
وہ اگلے دن تقریباً دس بجے سعیدہ اماں کے گھر آئے۔ امامہ کا مسکراتا، مطمئن چہرہ دیکھ کر فوری ردعمل یہ ہوا کہ انہوں نے نہ صرف سالار کے سلام کا جواب دیا بلکہ اس کے سر پر پیار دیتے ہوئے اس کا ماتھا بھی چوما۔
”یہ سب لے کر جانا ہے۔” وہ اسے اپنے کمرے میں لائی تھی وہاں کتابوں کی دو الماریاں تھیں اور ان میں تقریباً تین چار سو کتابیں تھیں۔
”یہ بکس؟” سالار نے ہاتھ کے اشارے سے پوچھا۔
”نہیں، یہ ایزل، کینوس اور پیٹنگ کا سامان بھی۔” امامہ نے کمرے میں ایک دیوار کے ساتھ پڑے پینٹنگ کے سامان اور کچھ ادھوری پینٹنگز کی طرف اشارہ کیا۔
”یہ سب کچھ زیادہ نہیں ہے، بکس ہی تقریباً دو کارٹن میں آئیں گی۔” سالار نے ان کتابوں کو دیکھتے ہوئے اندازہ لگایا۔
”نہیں، یہ اتنی ہی بکس نہیں ہیں اور بھی ہیں۔” امامہ نے کہا۔ اس نے اپنا دوپٹا اتار کر بیڈ پر رکھ دیا اور پھر گھٹنوں کے بل کارپٹ پر بیٹھتے ہوئے بیڈ کے نیچے سے ایک کارٹن کھینچنا شروع کیا۔
”ٹھہرو! میں نکالتا ہوں۔ ”سالار نے اسے روکا اور خود جھک کر اس کارٹن کو کھینچنے لگا۔
”بیڈ کے نیچے جتنے بھی ڈبے ہیں، وہ سارے نکال لو۔ ان سب میں بکس ہیں۔” امامہ نے اسے ہدایت دی۔
سالار نے جھک کر بیڈ کے نیچے دیکھا۔ وہاں مختلف سائز کے کم از کم سات آٹھ ڈبے موجود تھے۔ وہ ایک کے بعد ایک ڈبا نکالتا گیا۔
”بس…؟” اس نے کھڑے ہوتے ہوئے اور ہاتھ جھاڑتے ہوئے امامہ سے پوچھا۔
وہ اس کی طرف متوجہ نہیں تھی۔ وہ کمرے میں موجود کپڑوں کی الماری کے اوپر ایک اسٹول پر چڑھی کچھ ڈبے اتارنے کی کوشش کر رہی تھی۔ سالار نے ایک بار پھر اسے ہٹا کر خود وہ ڈبے نیچے اتارے۔ اس کا خیال تھا کہ یہ کتابوں کی آخری کھیپ ہے کیونکہ کمرے میں اسے ڈبا رکھنے کی کوئی اور جگہ نظر نہیں آئی، یہ اس کی غلط فہمی تھی۔ وہ اب الماری کو کھولے اس کے اندر موجود ایک خانے سے کتابیں نکال کر بیڈ پر رکھ رہی تھی۔ وہ کم از کم سو کتابیں تھیں جو اس نے الماری سے نکالی تھی، وہ کھڑا دیکھتا رہا۔ الماری کے بعد بیڈ سائیڈ ٹیبلز کی درازوں کی باری تھی، ان میں بھی کتابیں تھیں۔ بیڈ سائیڈ ٹیبلز کے بعد ڈریسنگ ٹیبل کی درازوں اور خانوں کی باری تھی۔ کمرے میں موجود کپڑے کی جس باسکٹ کو وہ لانڈری باسکٹ سمجھا تھا، وہ بھی کتابیں اسٹور کرنے کے لیے استعمال ہو رہی تھی۔
وہ کمرے کے وسط میں کھڑا، اسے کمرے کی مختلف جگہوں سے کتابیں برآمد کرتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔ بیڈ پر موجود کتابوں کا ڈھیر اب شیلف پر لگی کتابوں سے بھی زیادہ ہو چکا تھا لیکن وہ اب بھی بڑی شدومد کے ساتھ کمرے کی مختلف جگہوں پر رکھی ہوئی کتابیں نکال رہی تھی۔ اس نے ان کھڑکیوں کے پردے ہٹائے جو صحن میں کھلتی تھیں۔ اس کے بعد سالار نے اسے باری باری ساری کھڑکیاں کھول کر ان میں سے بھی کتابیں نکالتے ہوئے دیکھا۔ جو پلاسٹک کے شاپرز میں بند تھیں۔ شاید یہ احتیاط کتابوں کو مٹی اور نمی سے بچانے کے لیے کی گئی تھی۔
”بس اتنی ہی کتابیں ہیں۔” اس نے بالآخر سالار کو مطلع کیا۔
سالار نے کمرے میں چاروں طرف بکھرے ڈبوں اور ڈبل بیڈ پر پڑی کتابوں کے ڈھیر پر ایک نظر ڈالتے ہوئے بڑے تحمل سے پوچھا۔
”کوئی اور سامان بھی ہے…؟”
”ہاں! میرے کچھ کینوس اور پینٹنگز بھی ہیں، میں لے کر آتی ہوں۔”وہ اس کے جواب کا انتظار کیے بغیر کمرے سے نکل گئی۔
سالار نے ڈبل بیڈ پر پڑی کتابوں کے ڈھیر سے ایک کتاب اٹھائی١ وہ ایک ناول تھا۔ گھٹیا رومانس لکھنے والے ایک بہت ہی مشہور امریکن رائٹر کا ناول… اس نے ٹائٹل پر نظر ڈالی اور بے اختیار اس کے چہرے پر ایک مسکراہٹ آئی۔ اگر وہ ناول کا نام امامہ کے سامنے لیتا تو وہ سرخ ہو جاتی۔ اس نے ناول کھولا۔ کتاب کے اندر پہلے ہی خالی صفحے پر امامہ نے اپنا نام لکھا تھا۔ جس تاریخ کو وہ کتاب خریدی گئی، وہ تاریخ… جس جگہ سے خریدی گئی وہ جگہ… جس تاریخ کو کتاب پڑھنا شروع کیا اور جس تاریخ کو کتاب ختم کی۔ وہ حیران ہوا، اس طرح کے ناول کو وہ فضول سمجھتا تھا۔ وہ شاید یہ کبھی پسند نہیں کرتا کہ اس رائٹر کے کسی ناول کو کوئی اس کے ہاتھ میں دیکھتا مگر اس نے اس ناول پر اتنی سنجیدگی سے اپنا نام اور ڈیٹس لکھی ہوئی تھیں۔۔ جیسے وہ بے حد اہم کتاب ہو۔ اس نے ناول کے چند اور صفحے پلٹے اور پھر کچھ بے یقینی کے عالم میں پلٹتا ہی چلا گیا۔ ناول کے اندر جگہ جگہ رنگین مارکرز کے ساتھ مختلف لائنز ہائی لائٹ کی گئی تھیں۔ بعض لائنز کے سامنے اسٹار اور بعض کے سامنے ڈبل اسٹار بنائے گئے تھے۔
وہ بے اختیار ایک گہرا سا سانس لے کر رہ گیا۔
ان لائنز میں بے ہودہ رومانس، بے حد platonic، سوپی باتیں، ذو معنی ڈائیلاگز تھے۔ ان پر اسٹار بنے ہوئے تھے اور وہ نشان زدہ تھے۔
سالار نے وہ ناول رکھتے ہوئے دوسرا ناول اٹھایا… پھر تیسرا… پھر چوتھا… پانچواں… چھٹا… ساتواں… وہ سب کے سب رومانٹک تھے۔ ایک ہی طرح کے رومانٹک ناولز اور وہ سب بھی اسی طرح ہائی لائیٹڈ تھے۔ وہ زندگی میں پہلی بار رومانٹک اور وہ بھی ملز اینڈ بونز اور باربرا کارٹ لینڈ کی ٹائپ کے رومانس کے اتنے ”سنجیدہ قاری” سے مل رہا تھا اور کتابوں کے اس ڈھیر کو دیکھتے ہوئے اس پر یہ انکشاف بھی ہوا کہ وہ ”کتابیں” نہیں پڑھتی تھی بلکہ صرف یہی ناولز پڑھتی تھی۔ کمرے میں موجود ان ڈیڑھ دو ہزار کتابوں میں اسے صرف چند پینٹنگز ، ککری اور شاعری کی کتابیں نظر آئی تھیں، باقی سب انگلش ناولز تھے۔
”اور یہ لے کر جانی ہیں۔” ایک ناول دیکھتے ہوئے وہ امامہ کی آواز پر بے اختیار چونکا۔
وہ کمرے میں دو تین چکروں کے دوران کچھ مکمل اور کچھ ادھوری پینٹنگز کا ایک چھوٹا سا ڈھیر بھی بناچکتی تھی۔ سالار اس دوران ان کتابوں کے جائزے میں مصروف رہا تھا۔ اس نے ہاتھ میں پکڑا ہوا ناول واپس کتابوں کے اس ڈھیر پر رکھ دیا جو بیڈ پر پڑا تھا۔ کارپٹ پر پڑی ان پینٹنگز پر نظر ڈالتے ہوئے سالار کو احساس ہوا کہ سعیدہ اماں کے گھر میں جا بجا لگی ہوئی پینٹنگز بھی اس کے ہاتھ کی بنی ہوئی ہیں اور یقینا ان پینٹنگز کے کسی دیوار پر لٹکا نہ ہونے کا سبب مزید خالی جگہ کا دستیاب نہ ہونا تھا۔
”بیٹا! یہ سارا کاٹھ کباڑ کیوں اکٹھا کر لیا، یہ لے کر جاؤ گی ساتھ؟” سعیدہ اماں کمرے میں آتے ہی کمرے کی حالت دیکھ کر چونکیں۔
”اماں! یہ ضروری چیزیں ہیں میری۔” امامہ، سالار کے سامنے اس سامان کو کاٹھ کباڑ قرار دیے جانے پر کچھ جزبز ہوئی۔
”کیا ضروری ہے ان میں، یہ کتابیں تو ردی میں دے دیتیں۔ اتنا ڈھیر لگا لیا ہے اور تصویریں وہیں رہنے دیں، جہاں پڑی تھیں۔ چھوٹا سا گھر ہے تم لوگوں کا، وہاں کہاں پورا آئے گا یہ سب کچھ۔” سعیدہ اماں کتابوں کے اس ڈھیر کو دیکھ کر متوحش ہو رہی تھیں۔ یقینا انہوں نے بھی امامہ کی ساری کتابوں کو پہلی بار اکٹھا دیکھا تھا اور یہ ان کے لئے کوئی خوش گوار نظارہ نہیں تھا۔
”نہیں، آجائے گا پورا، یہ سب کچھ۔ تین بیڈ رومز ہیں، ان میں سے ایک کو استعمال کریں گے۔ یہ سامان رکھنے کے لیے، لیکن دوسری چیزوں کو یہیں رکھنا پڑے گا۔ کمبل، کوئلٹس، رگز اور کشنز وغیرہ کو۔” وہ ایک سیکنڈ میں تیار ہو گئی تھی۔
”لیکن بیٹا! یہ سارا سامان تو کام کا ہے۔ گھر سجانا اس سے… یہ کتابوں کے ڈھیر اور تصویروں کا کیا کرو گی تم؟ ” سعیدہ اماں اب بھی معترض تھیں۔
”کوئی بات نہیں، ان کی کتابیں ضروری ہیں۔ ابھی کچھ اور کارٹن یا شاپرز ہیں جنہیں پیک کرنا ہے۔” سالار نے اپنے سوئیٹر کی آستینوں کو موڑتے ہوئے آخری جملہ امامہ سے کہا۔
تین بجے کے قریب وہ سارا سامان ان کے گھر پر گیسٹ روم میں بکھرا ہوا تھا۔ فرقان نے اس دن بھی انہیں افطاری کے لیے اپنی طرف مدعو کیا ہوا تھا لیکن سالار نے معذرت کر لی۔ فی الحال اس سامان کو ٹھکانے لگانا زیادہ اہم تھا۔
ایک اسٹور میں سالار نے کچھ عرصے پہلے ایلومینیم اور شیشے کے ریکس والی کچھ الماریاں دیکھی تھیں۔ یہ اتفاق ہی تھا کہ وہاں لگایا ہوا چکر بے کار نہیں گیا۔ چھ فٹ اونچی اور تین فٹ چوڑی ایک ہی طرح کی تین الماریوں نے گیسٹ روم کی ایک پوری دیوار کو کور کر کے یک دم اسے اسٹڈی روم کی شکل دے دی تھی لیکن امامہ کی خوشی کی کوئی انتہا نہیں تھی۔ ان تین الماریوں میں اس کی تقریباً ساری کتابیں سما گئی تھیں۔ ان کتابوں کو اتنے سالوں میں پہلی بار کوئی ڈھنگ کی جگہ نصیب ہوئی تھی۔ اس کے ایزیل اور ریکس، لانڈری کی دیوار پر بنی ریکس پر سمیٹے گئے تھے۔
وہ جہیز کے سامان میں برتنوں اور بیڈ شیٹس کے علاوہ اور کچھ نہیں لائی تھی، تب اسے اندازہ نہیں تھا کہ اس کی قسمت میں اس سامان میں سے صرف ان ہی دو چیزوں کا استعمال لکھا تھا۔
سالار کا کچن ایریا اب پہلی بار ایک آباد جگہ کا نظارہ پیش کر رہا تھا۔ برتنوں کے لیے بنے ریکس کے شیشوں سے نظر آتی نئی کراکری اور کاؤنٹر کی سلیب پر کچن کے استعمال کی چھوٹی موٹی نئی چیزوں نے کچن کی شکل کو بالکل بدل کر رکھ دیا تھا۔
وہ لوگ رات کے دس بجے جب فارغ ہوئے تو اپارٹمنٹ میں آنے والا نیا سامان سمیٹا جا چکا تھا۔ اس کے لیے فرقان کے گھر سے کھانا آیا تھا لیکن اس رات امامہ نے اسے بڑے اہتمام کے ساتھ نئی کراکری میں سرو کیا تھا۔
”اچھا لگ رہا ہے نا ایسے؟” امامہ نے چمکتی آنکھوں کے ساتھ اس سے پوچھا۔ سالار نے اپنے سامنے موجود نئی برانڈ ڈنر پلیٹ اور اس کے اطراف میں لگی چمکتی ہوئی کٹلری کو دیکھا اور پھر کانٹا اٹھا کر اسے بغور دیکھتے ہوئے بے حد سنجیدگی سے کہا۔
”ہاں، ایسا لگ رہا ہے جیسے ہم کسی ریسٹورنٹ کی اوپننگ والے دن سب سے پہلے اور اکلوتے کسٹمر ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے امامہ! کہ یہ کراکری اور کٹلری اتنی نئی ہے کہ اس میں کھانا کھانے کو دل نہیں چاہ رہا۔ میں پرانے برتنوں میں نہیں کھا سکتا؟”
امامہ کا موڈ بری طرح آف ہوا۔ کم از کم یہ وہ جملہ نہیں تھا جو وہ اس موقع پر اس سے سننا چاہتی تھی۔
”لیکن یہ بہت خوب صورت ہیں۔” سالار نے فوراً اپنی غلطی کی تصحیح کی تھی۔ اسے اندازہ ہو گیا تھا کہ فی الحال وہ مذاق کو سراہنے کے موڈ میں نہیں تھی۔ امامہ کے تاثرات میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
اپنی پلیٹ میں چاول نکالتے ہوئے سالار نے کہا۔ ”کھانے کے بعد کہیں کافی پینے چلیں گے۔” اس بار اس کے چہرے پر کچھ نرمی آئی۔
”کچن کا سامان لینا ہے۔” اس نے فوراً کہا۔
وہ چاول کا چمچ منہ میں ڈالتے رک گیا۔ ”ابھی بھی کوئی سامان لینا باقی ہے؟” وہ حیران ہوا۔
”گروسری چاہیے۔”
”کیسی گروسری…؟ کچن میں سب کچھ تو ہے۔”
”آٹا، چاول، دالیں، مسالے کیا ہے؟ کچھ بھی نہیں۔” امامہ نے جواباً پوچھا۔
”ان کو میں نے کیا کرنا ہے؟ میں نے کبھی کھانا نہیں پکایا۔” سالار نے کندھے اچکا کر لاپروائی سے کہا۔
”لیکن میں تو پکاؤں گی نا۔ ہمیشہ تو دوسروں کے گھر سے نہیں کھا سکتے ہم۔” امامہ نے سنجیدگی سے کہا۔
”جارز اور کنٹینرز بھی چاہئیں۔” امامہ کو یاد آیا۔
”فی الحال آج میرا اس طرح کی خریداری کرنے کا موڈ نہیں ہے۔ مجھے تھکن محسوس ہو رہی ہے۔” سالار کراہا۔
”اچھا، ٹھیک ہے، کل خرید لیں گے۔” امامہ نے کہا۔
اس رات وہ کافی کے لیے قریبی مارکیٹ تک ہی گئے تھے۔ گاڑی فورٹریس کے گرد گھماتے ہوئے انہوں نے وہی گاڑی میں بیٹھے ہوئے کافی پی۔
”شکر ہے، کتابوں کو تو جگہ مل گئی۔”
سالار کافی پیتے ہو ئے چونکا۔ وہ کھڑکی سے باہر دور شاپس کو دیکھتے ہوئے بڑبڑائی تھی۔ اس کے لاشعور میں اب بھی کہیں وہ کتابیں ہی اٹکی ہوئی تھیں۔
”وہ کتابیں نہیں ہے۔” سالار نے سنجیدگی سے کہا۔
کافی کا گھونٹ بھرتے اس نے چونک کر سالار کو دیکھا۔
”پچانوے فیصد ناولز ہیں… وہ بھی چیپ رومانس… پانچ دس میں سمجھ سکتا ہوں… چلو اتنے سالوں میں سو دو سو بھی ہو سکتے ہیں… لیکن ڈیڑھ دو ہزار اس طرح کے ناولز…؟ تمہارا کتنا stamina ہے اس طرح کی ربش پڑھنے کے لیے اور تم نے باقاعدہ مارک کر کے پڑھا ہے ان ناولز کو۔ میرا خیال ہے، پاکستان میں چیپ رومانس کی سب سے بڑی کلیکشن اس وقت میرے گھر میں ہے۔”
وہ خاموش رہی۔ کافی پیتے کھڑکی سے باہر دیکھتی رہی۔
سالار کچھ دیر اس کی طرف سے کسی ردِعمل کا انتظار کرتا رہا، پھر اس کی لمبی خاموشی پر اسے خدشہ ہوا کہ کہیں وہ برا نہ مان گئی ہو۔ اپنا بایاں بازو اس کے کندھوں پر پھیلاتے ہوئے اس نے جیسے خاموش معذرت پیش کی۔
”ٹھیک ہے، چیپ رومانس ہے، لیکن اچھا لگتا ہے مجھے یہ سب کچھ۔” وہ کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے کچھ دیر بولی۔
”وہاں لوگ ہمیشہ مل جاتے ہیں… کوئی کسی سے بچھڑتا نہیں ہے… میرے لیے ونڈر لینڈ ہے یہ۔” وہ کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے جیسے کہیں اور پہنچی ہوئی تھی۔
وہ خاموشی سے اس کا چہرہ دیکھتا اور اسے سنتا رہا۔
”جب اپنی زندگی میں کچھ بھی اچھا نہ ہو رہا ہو تو کسی ایسی دنیا میں جانا اچھا لگتا ہے، جہاں سب کچھ پرفیکٹ ہو۔ وہاں وہ کچھ ہو رہا ہو، جو آپ چاہتے ہیں… وہ مل رہا ہو، جو آپ سوچتے ہیں… جھوٹ ہے یہ سب کچھ لیکن کوئی بات نہیں، اس سے میری زندگی کی کڑواہٹ تھوڑی کم ہوتی تھی… جب میں جاب نہیں کرتی تھی تب زیادہ پڑھتی تھی ناولز۔ کبھی کبھار، سارا دن اور ساری رات… جب میں یہ ناولز پڑھتی تھی تو مجھے کوئی بھی یاد نہیں آتا تھا۔ امی ابو، بہن بھائی، بھتیجے، بھتیجیاں، بھانجے بھانجیاں… کوئی نہیں… ورنہ بہت مشکل تھا سارا دن یا رات کو سونے سے پہلے اپنی فیملی کے علاوہ کسی اور چیز کے بارے میں سوچنا، اپنی زندگی کے علاوہ کسی اور کے بارے میں پریشان ہونا، میں خوف ناک خواب دیکھتی تھی اور پھر میں نے ان ناولز کے ذریعے خوابوں کی ایک دنیا بسا لی۔ میں ناول کھولتی تھی اور یک دم زندگی بدل جاتی تھی۔ میری فیملی ہوتی تھی اس میں… میں ہوتی تھی… جلال ہوتا تھا۔”
سالار کافی کا گھونٹ نہیں لے سکا۔ اس کے لبوں پر اس وقت اس ”شخص” کا نام سن کر کتنی اذیت ہوئی تھی اسے… نہیں، اذیت بہت ہی چھوٹا سا لفظ ہے۔ ایسی تکلیف انسان کو شاید مرتے وقت ہوتی ہو گی۔ ہاں، اگر یہ ناولز اس کی ”کامل دنیا” اور اس کا ونڈرلینڈ تھے تو اس میں جلال انصر ہی ہوتا ہو گا، سالار سکندر نہیں ہو سکتا تھا۔ وہ اس کے ساتھ مذہباً اور قانوناً ایک رشتے میں بندھی تھی، دل کے رشتے میں کہاں بندھی تھی۔ دل کے رشتے میں تو شاید ابھی تک… اور وہ تو ماضی تھا جہاں جلال انصر کے سوا کوئی دوسرا نہیں تھا۔ اس کا چہرہ دیکھتے ہوئے وہ رنجیدگی سے سوچ رہا تھا اور امامہ کو بولتے ہوئے شاید احساس بھی نہیں ہوا تھا کہ اس نے جلال کا نام لیا اور کسی پیرائے میں لیا تھا، احساس ہوتا تو وہ ضرور اٹکتی یا کم از کم ایک بار سالار کا چہرہ ضرور دیکھ لیتی۔ وہ ابھی بھی کھڑکی سے باہر دیکھ رہی تھی۔ ابھی بھی کہیں ”اور” تھی۔ ابھی بھی ”کسی” کا صبر آزما رہی تھی۔
”اچھا لگتا تھا مجھے اس دنیا میں رہنا۔ وہاں اُمید تھی… روشنی تھی… انتظار تھا لیکن لاحاصل نہیں، تکلیف تھی مگر ابدی نہیں، آنسو تھے مگر کوئی پونچھ دیتا تھا اور واحد کتابیں تھیں جن میں امامہ ہاشم ہوتی تھی، آمنہ نہیں۔ ہر بار ان کتابوں پر اپنا نام لکھتے ہوئے میں جیسے خود کو یاد دلاتی تھی کہ میں کون ہوں۔ دوبارہ کتاب کھولنے پر جیسے کتاب مجھے بتاتی تھی کہ میں کون ہوں۔ وہ مجھے میرے پرانے نام سے بلاتی تھی۔ اس نام سے، جس سے اتنے سالوں میں مجھے کوئی اور نہیں بلاتا تھا۔ تاریکی میں بعض دفعہ اتنی روشنی بھی بہت ہوتی ہے جس سے انسان بے شک اپنے آپ کو نہ دیکھ پائے لیکن اپنا وجود محسوس کرنے کے تو قابل ہو جائے ۔”
اس کی آواز اب بھیگنے لگی تھی۔ وہ خاموش ہو گئی۔ دونوں کے ہاتھ میں پکڑے کپوں میں کافی ٹھنڈی ہو گئی تھی اور وہ اسے اب پینا بھی نہیں چاہتے تھے۔ وہ اب ڈیش بورڈ پر پڑے ٹشو باکس سے ٹشو پیپر نکال کر اپنی آنکھیں خشک کر رہی تھی۔ سالار نے کچھ کہے بغیر اس کے ہاتھ سے کافی کا کپ لے لیا۔ ایک ڈمپسٹر میں دونوں کپ پھینکنے کے بعد وہ دوبارہ گاڑی میں آکر بیٹھا اور گاڑی اسٹارٹ کرتے ہوئے اس نے امامہ سے پوچھا۔
”اور کافی چاہیے تمہیں؟”
”نہیں۔” واپسی کا راستہ غیر معمولی خاموشی میں طے ہوا تھا۔
٭٭٭٭
”مجھے آفس کا کچھ کام ہے تم سو جاؤ۔” وہ کپڑے تبدیل کر کے سونے کے بجائے کمرے سے نکل گیا۔
”میں انتظار کروں گی۔” امامہ نے اس سے کہا۔
”نہیں، مجھے ذرا دیر ہو جائے گی۔” اس نے امامہ کے ہاتھ میں پکڑے ناول کو نظر انداز کرتے ہوئے کہا جو وہ رات کو پڑھنے کے لیے لے کر آئی تھی۔
اسے واقعی آفس کے کچھ کام نمٹانے تھے، مگر اسٹڈی ٹیبل پر بیٹھتے ہی اسے اندازہ ہو گیا کہ آخری کام جو وہ آج کرنا چاہتا تھا، وہ یہ تھا۔ کچھ دیر وہ لیپ ٹاپ آن کیے اپنی ٹیبل پر بیٹھا رہا، پھر یک دم اٹھ کر گیسٹ روم میں آگیا۔ لائٹ آن کرتے ہی کتابوں سے بھری ہوئی سامنے دیوار کے ساتھ لگی الماریاں اس کی نظروں کے سامنے آگئیں۔ اس نے کتابوں کو وہاں کچھ گھنٹے پہلے ہی رکھا تھا، بڑی احتیاط اور نفاست کے ساتھ۔ مصنف کے نام کے اعتبار سے ان کی مختلف ریکس پر گروپنگ کی تھی… تب تک وہ اس کے لیے صرف ”امامہ کی کتابیں” تھیں لیکن اب وہ ان تمام کتابوں کو اٹھا کر بحیرہ عرب میں ڈبو دینا چاہتا تھا یا کم از کم راوی میں تو پھینک ہی سکتا تھا۔ وہ اب کتابیں نہیں ردّی تھی۔
امامہ کی وہ تصوراتی پرفیکٹ زندگی جو وہ جلال انصر کے ساتھ گزارتی رہی تھی۔ وہ ڈیڑھ دو ہزار رومانس ان کرداروں کے رومانس نہیں تھے جو ان ناولز میں تھے۔ وہ صرف دو کرداروں کا رومانس تھا۔ امامہ اور جلال کا… اعلیٰ ظرف بننے کے لیے کھلے دل یا برداشت کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ دماغ کا کام نہ کرنا زیادہ ضروری ہوتا ہے۔ وہ بھی اس کا شوہر تھا۔ وہ ان کتابوں کو گھر میں نہیں رکھنا چاہتا تھا اور وہ ایسا کر سکتا تھا۔ وہ اس کی بیوی تھی… روتی دھوتی، ناراض ہوتی لیکن اتنی بااختیار نہیں تھی کہ اس کی مرضی کے بغیر ان کتابوں کو وہاں رکھ سکتی۔ وہ عورت تھی۔ ضد کر سکتی تھی، منوا نہیں سکتی تھی۔ وہ مرد تھا اسے اپنی مرضی کے لیے ضد جیسے کسی حربے کی ضرورت نہیں تھی۔ یہ اس کا گھر تھا، یہ اس کی دنیا تھی۔ وہ شرائط کے ساتھ نہیں رہنا چاہتا، نہ ہی ایسے جی سکتا ہے۔ وہ مراعات کے ساتھ دنیا میں آتا ہے اور اسی کے ساتھ دنیا میں رہتا ہے۔
تو آسان حل یہ تھا جو اسے معاشرہ اور اس کا ذہن بتا رہا تھا۔ مشکل حل وہ تھا جو اس کا دل اس سے کہہ رہا تھا اور دل کہہ رہا تھا۔ ”چھوڑو، جانے دو یار! یہ زہر کا گھونٹ ہے لیکن پی جاؤ۔” اور دل نہ بھی کہتا تب بھی وہ اس چیز کو اپنے گھر سے نکال کر نہیں پھینک سکتا تھا، جو امامہ کی ملکیت تھی۔ جو کبھی اس کے دکھوں کے لیے مرہم بنی تھی۔ ان کتابوں کے کرداروں میں وہ جس کسی کو بھی سوچتی رہی تھی لیکن ان کتابوں پر لکھا ہوا نام اس کا اپنا تھا اور یہ وہ نام تھا جو اس کی روح کا حصہ تھا۔ صبر کی کئی قسمیں ہوتی ہیں اور کوئی بھی قسم آسان نہیں ہوتی، وہاں کھڑے اس نے سوچا اور لائٹ آف کر کے کمرے سے باہر نکل آیا۔
وہ رمضان میں کبھی سگریٹ نہیں پیتا تھا لیکن اسٹڈی روم میں واپس آکر اس نے سگریٹ سلگایا تھا۔ اس وقت خود کو نارمل کرنے کے لیے یہی واحد حل اس کی سمجھ میں آیا ۔ ایک سگریٹ پینے کی نیت سے بیٹھے ہوئے اسے اندازہ نہیں ہوا کہ وہ کتنے سگریٹ پی چکا ہے۔
”سالار…!” امامہ کی آواز پر وہ راکنگ چیئر پر بیٹھے بیٹھے چونکا۔ غیر محسوس انداز میں بائیں ہاتھ میں پکڑا سگریٹ اس نے ایش ٹرے میں مسلا۔ وہ دروازے میں ہی کھڑی تھی اور یقینا اس کے ہاتھ میں سگریٹ دیکھ چکی تھی۔ نہ بھی دیکھتی تب بھی کمرے میں پھیلی سگریٹ کی بو اسے بتا دیتی۔
”تم اسموکنگ کرتے ہو؟” وہ جیسے کچھ پریشان اور شاکڈ انداز میں آگے بڑھی۔
”نہیں۔” بس کبھی کبھار۔ جب اپ سیٹ ہوتا ہوں تو ایک آدھ سگریٹ پی لیتا ہوں۔” کہتے ہوئے سالار کی نظر ایش ٹرے پر پڑی۔ وہ سگریٹ کے ٹکڑوں سے بھری ہوئی تھی۔ ”آج کچھ زیادہ ہی پی گیا۔” وہ بڑبڑایا پھر اس نے سر اٹھا کر اسے دیکھا اور اپنا لہجہ ہموار رکھنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔
”تم سوئیں نہیں ابھی تک ؟”
”تم میری وجہ سے اپ سیٹ ہو؟” اس نے سوال کا جواب دینے کے بجائے اس سے پوچھا۔
تو اس نے محسوس کر لیا؟ سالار نے اس کا چہرہ دیکھا اور سوچا۔ اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سا خوف اور اضطراب تھا۔ وہ نائٹی میں ملبوس اونی شال اپنے گرد لپیٹے ہوئے تھی۔ سالار جواب دینے کے بجائے راکنگ چیئر کی پشت سے ٹیک لگائے اسے دیکھتا رہا۔ اس نے کرسی کو ہلانا بند کر دیا تھا۔ اس کی خاموشی نے جیسے اس کے اضطراب میں اور اضافہ کیا۔
”تمہاری فیملی نے کچھ کہا ہے؟ یا میری فیملی نے کچھ کیا ہے؟”
وہ کیا سوچ رہی تھی؟ سالار نے بے اختیار ایک گہرا سانس لیا… کاش ”یہ” وجہ ہوتی ”وہ” نہ ہوتی، جو تھی۔
”کیا کہے گی میری فیملی…؟ یا کیا کرے گی تمہاری فیملی…؟” اس نے مدھم آواز میں اس سے پوچھا۔ وہ اسی طرح الجھی ہوئی یوں چپ کھڑی رہی جیسے اسے خود بھی اس سوال کا جواب معلوم نہیں تھا لیکن وہ خاموش اسے دیکھتی رہی، یوں جیسے اسے یقین ہو کہ وہ سچ نہیں بول رہا۔ وہ حیران تھا کہ وہ کیسے کیسے خدشات ذہن میں لیے بیٹھی ہے۔ وہ راکنگ چیئر پر سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔ اسے اس وقت امامہ پر جیسے ترس آیا تھا۔
”یہاں آؤ!” اس نے سیدھے ہوتے ہوئے اس کا بایاں ہاتھ پکڑا۔ وہ جھجکی، ٹھٹکی پھر اس کی آغوش میں آگئی۔ سالار نے اس کے دونوں ہاتھوں کو اس کی شال کے اندر کرتے ہوئے، اس کی شال کو اس کے گرد اور اچھی طرح سے لپیٹتے ہوئے، کسی ننھے بچے کی طرح اسے اپنے سینے سے لگاتے ہوئے تھپکا اور اس کا سر چوما۔
”کوئی کچھ نہیں کہہ رہا، اور کوئی کچھ نہیں کر رہا… ہر کوئی اپنی زندگی میں مصروف ہے اور اگر کچھ ہو گا تو میں دیکھ لوں گا سب کچھ۔ تم اب ان چیزوں کے بارے میں پریشان ہونا چھوڑ دو۔” وہ اسے گود میں لیے، اب دوبارہ راکنگ چیئر پر جھول رہا تھا۔
پھر تم اپ سیٹ کیوں ہو؟”
”میں؟ میرے اپنے بہت سے مسئلے ہیں۔” وہ بڑبڑایا۔
امامہ نے گردن اوپر کرتے ہوئے اس کا چہرہ دیکھنے کی کوشش کی۔ اتنے دنوں میں وہ پہلی بار اسے اتنا سنجیدہ لگا تھا۔
”سالار! تم…”
”میں پریشان نہیں ہوں اور اگر ہوں بھی تو تم اس کی وجہ نہیں ہو۔ اب دوبارہ مجھ سے یہ سوال مت کرنا۔” اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے اس نے کچھ سخت لہجے میں جھڑکنے والے انداز میں اس کی بات کاٹ کر سوال سے پہلے جواب دیا۔ وہ جیسے اس کا ذہن پڑھ رہا تھا۔ وہ چند لمحے کچھ بول نہیں سکی۔ اس کا لہجہ بہت سخت تھا اور سالار کو بھی اس کا احساس ہو گیا تھا۔
”تم کیا کہہ رہی تھیں مجھ سے کہ کچن کے لیے کچھ چیزوں کی ضرورت ہے…؟” اس نے اس بار بےحد نرمی کے ساتھ موضوع بدلا۔
امامہ نے ایک بار پھر اسے ان چیزوں کے نام بتائے۔
”کل چلیں گے رات کو گروسری کے لیے۔”
امامہ نے اس بار کچھ نہیں کہا۔ اس کے سینے پر سر رکھے، وہ دیوار پر اس سوفٹ بورڈ پر لکھے بہت سے نوٹس، ڈیڈ لائنز اور کچھ عجیب سے انڈیکسز والے چارٹس دیکھتی رہی، پھر اس نے سالار سے پوچھا۔
”تم بینک میں کیا کرتے ہو؟”
وہ ایک لمحہ کے لیے چونکا، پھر اس نے اس کی نظرون کا تعاقب کرتے ہوئے بورڈ پر نظر ڈالی۔
”میں بے کار کام کرتا ہوں۔” وہ بڑبڑایا۔
”مجھے بینکرز کبھی اچھے نہیں لگے۔” امامہ کو اندازہ نہیں ہوا کہ اس نے کتنے غلط وقت پر یہ تبصرہ کیا ہے۔
”جانتا ہوں، تمہیں ڈاکٹرز اچھے لگتے ہیں۔” سالار کے لہجے میں خنکی آئی تھی۔
”ہاں، مجھے ڈاکٹرز اچھے لگتے ہیں۔” امامہ نے سادہ لہجے میں بورڈ کو دیکھے ہوئے کچھ بھی محسوس کیے بغیر ، اس کے سینے پر سر رکھے اس کی تائید کی۔ یہ کہتے ہوئے اسے جلال کا خیال نہیں آیا تھا لیکن سالار کو آیا تھا۔
”تم نے مجھے بتایا نہیں کہ تم بینک میں کیا کرتے ہو؟” امامہ نے دوبارہ پوچھا۔
”میں public relationing میں ہوں۔” اس نے یہ جھوٹ کیوں بولا، وہ خود بھی سمجھ نہیں پایا تھا۔ امامہ نے بے اختیار اطمینان بھرا سانس لیا۔
”یہ بھر بھی بہتر ہے۔ اچھا ہے تم ڈائریکٹ بینکنگ میں نہیں ہو۔ تم نے کیا پڑھا تھا سالار؟”
”ماس کمیونیکیشنز۔” وہ ایک کے بعد ایک جھوٹ بول رہا تھا۔
”مجھے یہ سجیکٹ بہت پسند ہے۔ تمہیں کچھ اور بننا چاہیے تھا۔”
”یعنی ڈاکٹر؟” سالار سلگا۔ لیکن امامہ کھلکھلا کر ہنسی۔
”ماس کمیونیکیشنز پڑھ کر تو ڈاکٹر نہیں بن سکتے۔” سالار نے جواب نہیں دیا۔ اگر وہ اس کا چہرہ دیکھ لیتی تو اتنی بے تکلفی کے ساتھ یہ سارے تبصرے نہ کر رہی ہوتی۔
”میں ڈاکٹروں سے نفرت کرتا ہوں۔” سالار نے سرد لہجے میں کہا۔ وہ بے اختیار سالار سے لگ ہوئی۔
”کیوں؟” اس نے حیرت سے سالار کا چہرہ دیکھتے ہوئے کہا۔
اس کا چہرہ بے تاثر تھا، کم از کم امامہ اسے پڑھ نہیں سکی۔
”ایسے ہی۔” سالار نے کندھے اچکاتے ہوئے بڑی سرد مہری سے کہا۔
”ایسے ہی کیسے…؟ کوئی وجہ تو ضرور ہو گی۔” وہ جزبز ہوئی۔
”تمہیں کیوں ناپسند ہیں بینکرز؟” سالار نے ترکی بہ ترکی جواب کہا
”بددیانت ہوتے ہیں ۔” امامہ نے بےحد سنجیدگی سے کہا۔
”بینکرز؟” سالار نے بے یقینی سے کہا۔
”ہاں۔” اس بار وہ سنجیدہ تھی۔
وہ سالار کا بازو اپنے گرد سے ہٹاتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی۔ سالار نے اسے روکنے کی کوشش نہیں کی۔ وہ اب قریب جا کر بورڈ کو دیکھ رہی تھی۔ اس پر لگائے ہوئے نوٹس اور ڈیڈ لائنز پڑھ رہی تھی۔
”بینکرز لوگوں کا پیسہ، اثاثہ محفوظ رکھتے ہیں۔”
اس نے اپنے عقب میں سالار کو بڑے جتانے والے انداز میں کہتے سنا۔
”اور پیسہ لوگوں کا ایمان خراب کر دیتا ہے۔” اس نے مڑے بغیر جواب دیا۔
”اس کے باوجود لوگ ہمارے پاس آتے ہیں۔” سالار نے اسی انداز میں کہا۔ا س بار امامہ پلٹی۔
”لیکن وہ آپ پر بھروسا نہیں کرتے۔” وہ مسکرا رہی تھی مگر سالار نہیں۔ اس نے خاموشی سے اس کا چہرہ دیکھا، پھر اثبات میں سرہلایا۔
”ایک بددیانت بینکر صرف آپ کا پیسہ لے سکتا ہے لیکن ایک بددیانت ڈاکٹر آپ کی جان لے سکلتا ہے تو پھر زیادہ خطرناک کون ہوا؟”
اس بار امامہ بول نہیں سکی۔ اس نے چند منٹ تک جواب ڈھونڈنے کی کوشش کی لیکن اسے جواب نہیں ملا، پھر اس نے یک دم سالار سے کہا۔
”اگر میں ڈاکٹر ہوتی تو پھر بھی تمہیں ڈاکٹرز سے نفرت ہوتی؟”
وہ اب اسے جذباتی دباؤ میں لے رہی تھی۔ یہ غلط تھا لیکن اب وہ اور کیا کرتی؟
”میں ممکنات پر کوئی نتیجہ نہیں نکالتا، زمینی حقائق پر نکالتا ہوں۔ جب ”اگر” exist نہیں کرتا تو میں اس پر رائے بھی نہیں دے سکتا۔” اس نے کندھے اچکا کر صاف جواب دیا۔
امامہ کا رنگ کچھ پھیکا پڑ گیا۔ جواب غیر متوقع تھا، کم از کم سالار کی زبان سے۔
”زمینی حقائق یہ ہیں کہ تم میری بیوی ہو اور تم ڈاکٹر نہیں ہو۔ میں بینکر ہوں اور میں ڈاکٹرز سے نفرت کرتا ہوں۔”
اس کے لہجے کی ٹھنڈک پہلی بار امامہ تک پہنچی تھی، لہجے کی ٹھنڈک یا پھر آنکھوں کی سرد مہری۔ وہ بول نہیں سکی اور نہ ہی ہل سکی۔ ایک ہفتے میں اس نے اس طرح تو کبھی اس سے بات نہیں کی تھی۔
”رات بہت ہو گئی ہے، سونا چاہیے ہمیں۔” وال کلاک پر نظر ڈالتے ہوئے وہ اسے دیکھے بغیر کرسی سے اٹھ کر چلا گیا۔
وہ دیوار کے ساتھ لگی جھولتی ہوئی کرسی کو دیکھتی رہی، وہ اس کے بدلتے موڈ کی وجہ سمجھ نہیں سکی تھی۔ وہ کوئی ایسی بات تو نہیں کر رہے تھے جس پر وہ اس طرح کے الفاظ کا استعمال کرتا۔ وہ وہاں کھڑی اپنے اور اس کے درمیان ہونے والی گفت گو کو شروع سے یاد کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔ شاید اسے بینکرز کے بارے میں میرے کمنٹس اچھے نہیں لگے۔ وہ جیسے تجزیہ کر رہی تھی۔
جب وہ دوبارہ کمرے میں آئی تو کمرے کی لائٹ آن تھی لیکن وہ سو چکا تھا۔ وہ اپنے بیڈ پر آکر بیٹھ گئی۔ سارا دن کام کرتی رہی تھی لیکن بری طرح تھک جانے کے باوجود اس وقت اس کی نیند یک دم غائب ہو گئی تھی۔ سالار کے بارے میں سارے اندیشے، جو اس کے ساتھ گزارے ہوئے ایک ہفتے نے سلا دیے تھے، یک دم پھر سے جاگ اٹھے تھے۔ وہ اس کی طرف کروٹ لیے ہوئے سو رہا تھا۔ وہ اس کا چہرہ دیکھتی رہی۔ وہ اس سے چند فٹ کے فاصلے پر تھا، کم از کم نیند کی حالت میں پر سکون لگ رہا تھا۔
”آخر مرد اتنی جلدی کیوں بدل جاتے ہیں؟ اور اتنے ناقابل اعتبار کیوں ہوتے ہیں؟” اس کا چہرہ دیکھتے ہوئے اس نے سوچا اس کی رنجیدگی میں اضافہ ضرور ہوا تھا۔ زندگی اتنی محفوظ نہیں ہوئی تھی جتنی وہ کچھ گھنٹے پہلے تک سمجھ رہی تھی۔
”آج لائٹ آن کر کے سوؤ گی کیا؟” سالار کروٹ لیتے ہوئے بڑبڑایا۔
وہ یقینا گہری نیند میں نہیں تھا۔ امامہ نے ہاتھ بڑھا کر لائٹس آف کر دیں لیکن وہ سونے کے لیے نہیں لیٹی تھی۔ اندھیرے میں سالار نے دوبارہ اس کی طرف کروٹ لی۔
”تم سو کیوں نہیں رہیں؟”
”ابھی سو جاؤں گی۔”
سالار نے ہاتھ بڑھا کر اپنا بیڈ سائیڈ ٹیبل لیمپ آن کر دیا۔ امامہ نے کچھ کہے بغیر کمبل خود پر کھینچا اور سیدھے لیٹتے ہوئے اس نے آنکھیں بند کر لیں۔ سالار چند لمحے اس کا چہرہ دیکھتا رہا۔ پھر اس نے لیمپ دوبارہ آف کر دیا۔ امامہ نے دوبارہ آنکھیں کھول لیں۔
”تمہیں سحری کے وقت بھی اٹھنا ہے امامہ!”
اسے حیرت ہوئی، اس نے اندھیرے میں اسے آنکھیں کھولتے ہوئے کیسے دیکھ لیا تھا۔ گردن موڑ کر اس نے سالار کی طرف دیکھنے کی کوشش کی، اسے کچھ نظر نہ آیا۔
”تمہیں پتا ہے سالار، دنیا کا سب سے بے ہودہ کام کون سا ہے؟” اسنے سالار کی طرف کروٹ لے کر کہا۔
”کیا…؟”
”شادی۔” اس نے بے ساختہ کہا۔
چند لمحے خاموشی کے بعد اس نے سالار کو کہتے سنا۔
“I agree”
امامہ کو بے اختیار دکھ ہوا۔ کم از کم سالار کو اس بات سے اترنا چاہیے تھا۔
 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: