Aab e Hayat Novel by Umera Ahmed Read Online – Episode 9

0

آب حیات از عمیرہ احمد – قسط نمبر 9

–**–**–

پھر بھی مجھے تمہارے لیے کچھ لینا چاہیے تھا۔” امامہ مطمئن نہیں ہوئی۔ ”لیکن مجھے تمہارا خیال ہی نہیں آیا۔”
اس کا محبوب ظالم تھا، وہ جانتا تھا۔ ”کوئی بات نہیں، جب خیال نہیں آیا تو کیسا تحفہ…؟ تحفہ تو ان کو دیا جاتا ہے جن کا خیال آتا ہو۔” سالار کے لہجے میں گلہ نہیں تھا لیکن امامہ کو گلہ لگا۔ وہ نادم سی ہو کر خاموش بیٹھ گئی۔
”اور کیا کیا لیا؟” اس کی ندامت محسوس کرتے ہوئے سالار نے دوبارہ اس سے بات شروع کی۔
”مجھے انیتا اچھی لگی ہے۔” امامہ نے اس کا سوال نظر انداز کیا۔
”چلو اچھا ہے، کوئی تو اچھا لگا تمہیں۔ میں نہ سہی، میری بہن ہی سہی۔”
امامہ نے حیرانی سے اس کا چہرہ دیکھا۔ سالار کی آنکھوں میں مسکراہٹ تھی، وہ سنجیدہ نہیں تھا۔ وہ مطمئن ہو گئی۔
”اور پتا ہے میں نے کیا کیا لیا ہے؟” وہ پھر بولنے لگی۔
سالار بے اختیار مسکرایا۔ اگر اسے، اس سے اپنے لیے کسی اظہار کی توقع تھی، تو غلط تھی۔
٭٭٭٭
اگلے دو دن امامہ بہت اچھے موڈ میں رہی، اسے ہر بات پر کراچی یاد آجاتا۔ اس کی یہ خوشی سالار کو حیران کرتی رہی۔ اس کا خیال تھا اسے وہ شہر پسند آیا ہے لیکن اسے یہ اندازہ نہیں ہوا کہ بات شہر کی نہیں تھی، وہ اگر امامہ کو نواب شاہ بھی لے جاتا تو بھی وہ اسی ٹرانس میں واپس آتی۔ وہ کھلی فضا میں سانس لینے کے قابل ہو رہی تھی اور ایک لمبے عرصے کے بعد گھٹی ہوئی سانسوں کے ساتھ جینے کے بعد کچھ دیر تک تو انسان ایسے ہی گہرے سانس لیتا ہے، جیسے وہ لے رہی تھی۔
اگلے دن وہ لوگ ڈاکٹر صاحب کے پاس گئے۔ وہ سالار کے ساتھ خوش تھی، یہ بات اس کے چہرے پر لکھی ہوئی تھی البتہ سعیدہ اماں نے پھر بھی کچھ احتیاطی تدابیر کے تحت سالار کو سامنے والوں کے لڑکے کی آمنہ کے لیے دیوانہ وار محبت کا ایک اور قصہ سنانا ضروری سمجھا، جسے سالار نے بے حد تحمل سے سنا۔ اس بار امامہ نے دوران گفت گو سعیدہ کو ٹوکنے کی کوشش کی تھی لیکن وہ ناکام رہی، سعیدہ اماں کا خیال تھا، سالار کو ایک اچھا، تابع دار شوہر بنانے کے لیے اس طرح کے لیکچرز ضروری ہیں۔ خاص طور پر اس صورت میں جب وہ ماضی میں کسی عورت کے ساتھ وابستہ رہ چکا ہو، امامہ کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ اب وہ سعیدہ اماں کو اپنے اور سالار کے تعلق کے بارے میں کیسے بتائے، اسے خدشہ تھا کہ اس انکشاف کے بعد سعیدہ اماں خود اس سے ہی ناراض نہ ہو جائیں۔ اسے فی الحال اس صورت حال سے نکلنے کا کوئی طریقہ سمجھ میں نہیں آرہا تھا۔
٭٭٭٭
اسلام آباد جانا ضروری ہے؟”
وہ جمعہ کی رات ایک بار پھر سوچ میں پڑ گئی۔ ایسا نہیں تھا کہ وہ وہاں جانا نہیں چاہتی تھی، وہ جانا چاہتی تھی لیکن ساتھ ہی وہ ایک عجیب سے خوف کا شکار بھی تھی۔
”بہت زیادہ ضروری ہے۔” سالار بیڈ پر بیٹھا اپنے لیپ ٹاپ پر ای میل چیک کرنے میں مصروف تھا۔
”تمہیں کیا کام ہے وہاں؟” امامہ نے ہاتھ میں پکڑا ناول بند کرتے ہوئے کہا۔ وہ کہنی کے بل ٹیک لگائے اس کی طرف کروٹ لیتے ہوئے، اسے دیکھنے لگی۔
”مجھے گاؤں جانا ہے۔” وہ اسکرین پر نظریں جمائے اپنا کام کرتے ہوئے بولا۔
”کون سے گاؤں؟” وہ چونکی۔
”اسلام آباد سے دو گھنٹے کی ڈرائیو پر ہے۔” اس نے نام بتاتے ہوئے کہا۔ ”میں وہاں ایک اسکول اور چند دوسرے پروجیکٹس چلا رہا ہوں۔ اسکول کی بلڈنگ میں کچھ ایکس ٹینشن ہو رہی ہے، اسی کو دیکھنے جانا ہے مجھے۔ جانا تو لاسٹ ویک تھا لیکن جا نہیں سکا۔”
وہ الجھی نظروں سے اسے دیکھتی رہی۔ اس کی طویل خاموشی اور خود پر جمی نظروں کو محسوس کرتے ہوئے سالار نے اسے دیکھا۔ امامہ سے نظریں ملنے پر اس نے کہا۔
”تم ساتھ چلنا اور دیکھ لینا۔” وہ دوبارہ اسکرین پر دیکھنے لگا۔
”تم اکیلے چلے جاؤ۔” امامہ نے کہا۔
”میں تو تمہارے ساتھ ہی جاؤں گا۔” اس نے اصرار کیا۔
”ویسے بھی پاپا نے کہا ہے آنے کے لیے… ہاں، اگر تم گاؤں نہیں جانا چاہتیں تو مت جاؤ لیکن اسلام آباد تو چلنا ہے تمہیں۔” سالار نے جیسے قطعی انداز میں کہا۔
امامہ نے دوبارہ تکیے پر سر رکھتے ہوئے کچھ خفگی کے عالم میں ناول کھول دیا۔
”کیا اسٹوری ہے اس ناول کی؟”
سالار کو اس کے بگڑتے ہوئے موڈ کا اندازہ ہو رہا تھا۔ امامہ نے جواب نہیں دیا۔
”ہیرو، ہیروئن کے کپڑوں کی زیادہ تعریف کرتا ہے اس میں یا خوب صورتی کی؟” وہ اب اسے چھیڑ رہا تھا۔
امامہ نے اسے نظر انداز کیا۔ یہ اتفاق تھا کہ جو صفحہ وہ پڑھ رہی تھی اس میں ہیرو، ہیروئن کی خوب صورتی ہی کی تعریف کر رہا تھا۔ امامہ کو ہنسی آگئی تھی۔ ناول سے اپنا چہرہ چھپاتے ہوئے اس نے دوسری طرف کروٹ لے لی۔ وہ نہیں چاہتی تھی کہ وہ اس کے تاثرات دیکھے۔ سالار نے اسے ہنستے ہوئے نہیں دیکھا، وہ اپنے کام میں مصروف تھا۔
٭٭٭٭
”خواتین و حضرات توجہ فرمایئے، ہم اسلام آباد انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر لینڈ کر چکے ہیں۔ اس وقت یہاں شام کے سات بج رہے ہیں اور یہاں کا درجہ حرارت…”
جہاز کے کیبن عملہ میں سے کوئی انگلش کے بعد اب اردو میں رسمی الوداعی کلمات دہرا رہا تھا۔ جہاز ٹیکسی کرتے ہوئے ٹرمینل کے سامنے جا رہا تھا۔ بزنس کلاس کی ایک سیٹ پر بیٹھے سالار نے اپنا سیل فون آن کرتے ہوئے اپنی سیفٹی بیلٹ کھولی۔ امامہ کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے گم صم تھی۔
”کہاں گم ہو؟” اس نے امامہ کا کندھا تھپکا۔
اس نے چونک کر اسے دیکھا اور پھر اپنی سیفٹی بیلٹ کھولنے لگی۔ سالار اب لیگج کمپارٹمنٹ سے اپنے بیگز نکال رہا تھا۔ ایک فلائٹ اسٹیورڈ نے اس کی مدد کی۔ دونوں کے درمیان چند خوش گوار جملوں کا تبادلہ ہوا۔
وہ اس فلائٹ پر آنے والے ریگولر پیسنجرز میں سے ایک تھا اور فلائٹ کا عملہ اسے پہچانتا تھا۔
جہاز کی سیڑھیوں کی طرف جانے سے پہلے سالار نے مڑ کر اس سے کہا۔
”تمہیں کوئی کوٹ وغیرہ لے کر آنا چاہیے تھا، سویٹر میں سردی لگے گی تمہیں۔”
”یہ تمہارا ہی نہیں، میرا بھی شہر ہے۔ میں پیدا ہوئی ہوں یہاں، بیس سال گزارے ہیں میں نے یہاں۔ مجھے پتا ہے، کتنی سردی ہوتی ہے، یہ سویٹر کافی ہے۔ ” امامہ نے بڑے جتانے والے انداز میں اس سے کہا۔ وہ استہزائیہ انداز میں مسکرایا۔
جہاز کی سیڑھیوں سے باہر آتے ہی سرد ہوا کے پہلے جھونکے نے ہی اسے احساس دلا دیا کہ وہ ٹھیک کہہ رہا تھا۔ اسے اپنے دانت بجتے ہوئے محسوس ہوئے۔ سالار نے کچھ کہے بغیر اپنے بازو پر پڑی جیکٹ اس کی طرف بڑھائی۔ اس نے بری فرماں برداری سے کچھ نادم ہو کر جیک پہن لی۔ اسلام آباد بدل گیا تھا۔ اس نے خجل ہو کر سوچا۔ ارائیول لاؤنج کی ایگزٹ کی طرف بڑھتے ہوئے سالار چند لمحوں کے لیے ٹھٹکا۔
”ایک بات میں تمہیں بتانا بھول گیا امامہ…” اس نے بڑی معصومیت سے کہا۔
”کیا بات ہے؟” وہ مسکرائی۔
”پاپا کو یہ پتا نہیں ہے کہ ہم آج اسلام آباد آرہے ہیں۔” امامہ کے چہرے کی مسکراہٹ غائب ہو گئی۔
سالار نے اسے رکتے دیکھا تو وہ بھی رک گیا۔ وہ بے یقینی سے اسے دیکھ رہی تھی۔ سالار نے اپنے جکندھے پر اس کے بیگ کی بیلٹ ٹھیک کی۔ شاید ٹائمنگ غلط ہو گئی، ٹیکسی میں بتانا زیادہ بہتر تھا اور اب اگر اس نے یہاں سے جانے سے انکار کر دیا تو… وہ دل ہی دل میں فکر مند ہوا۔
وہ پلکیں جھپکے بغیر اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ رہی تھی۔ وہ بھی اسی طرح دیکھتا رہا۔ یہ ڈھٹائی تھی لیکن اب وہ اس کے علاوہ کر بھی کیا سکتا تھا۔ اس نے بالآخر امامہ کی آنکھوں کی بے یقینی کو غصے میں بدلتے دیکھا، پھر اس کا چہرہ سرخ ہونے لگا تھا۔ وہ مسلسل دو ہفتوں سے اسے سکن ندر عثمان کے اسلام آباد بلانے کا کہہ رہا تھا۔ یہ سکندر عثمان کا بلاوا نہ ہوتا تو وہ صرف سالار کے کہنے پر تو کبھی وہاں نہ جاتی اور اب وہ کہہ رہا تھا کہ وہ جھوٹ بول رہا تھا۔ سکندر عثمان کے نہ بلانے کے باوجود وہاں جانے کا کیا مطلب تھا، اس کا اندازہ وہ کر سکتی تھی اور اس وقت وہ بری طرح پریشان ہوئی تھی۔ ایک لمحے کے لیے تو اس کا دل چاہا تھا کہ وہ لاؤنج سے باہر نکلنے سے ہی انکار کر دے۔ اسے سالار پر شدید غصہ آرہا تھا۔
”سوری!” سالار نے اطمینان سے کہا۔
وہ چند لمحے مزید اسے دیکھتی رہی پھر اس نے ارد گرد یکھا، پھر سالارنے اسے جیک اتارتے ہوئے دیکھا۔ وہ وہاں کھڑی بے بسی کے عالم میں اس سے زیادہ کچھ نہیں کر سکتی تھی۔ سالار کو اندازہ تھا کہ وہ یہی کر سکتی ہے۔ اس نے جیکٹ اتار کر تقریباً پھینکنے والے انداز میں سالار کو دی۔
”تھینک یو۔” سالار نے جیکٹ سنبھالتے ہوئے کہا۔
اس نے شکر ادا کیا کہ جیکٹ اس نے اس کے منہ پر نہیں دے ماری۔ وہ اب بے حد غصے میں ایگزٹ ڈور کی طرف جا رہی تھی۔ سالار کو حیرت ہوئی اس نے اس سے اپنا بیگ کیوں نہیں لیا تھا۔ اصولی طور پر یہ اس کا دوسرا ردعمل ہونا چاہیے تھا۔
”میرا بیگ دو۔” ایگزٹ ڈور سے نکلنے سے پہلے ہی امامہ نے پلٹ کر تقریباً غراتے ہوئے، اس سے کہا تھا۔ سالار نے آرام سے بیگ اسے پکڑا دیا۔
ٹیکسی میں بیٹھنے تک دونوں کے درمیان کوئی بات نہیں ہوئی۔ وہ پورا راستہ کھڑکی سے باہر دیکھتی رہی، سالار نے بھی اسے مخاطب کرنے کی کوشش نہیں کی۔ اس وقت غصے کو ٹھنڈا کرنے کے لیے اسے مخاطب نہ کرنا مناسب تھا۔ وہ اب گھر پر سکندر عثمان اور طیبہ کے ردعمل کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ اگلی بجلی ان پر گرنے والی تھی۔
٭٭٭٭
گاڑی ان کے گھر کی بائی روڈ کا موڑ مڑ رہی تھی۔ امامہ کو اپنا پور اجسم سرد ہوتا ہوا محسوس ہوا۔ یہ سردی نہیں تھی، یہ خوف بھی نہیں تھا، یہ کچھ اور تھا۔ وہ نو سال کے بعد اپنے گھر کو، اس سڑک کو اور اس موڑ کو دیکھ رہی تھی۔ اس کے ہونٹ کپکپانے لگے تھے، آنکھیں بھیگنے لگی تھیں۔ سالار سے ساری ناراضی، سارا غصہ جیسے دھواں بن کر ہوا میں تحلیل ہو رہا تھا۔ خوشی تھی، کیا تھا جو وہ گاڑی کو اپنے گھر کی طرف بڑھتے دیکھ کر محسوس کر رہی تھی۔ اس کے گھر کا گیٹ سالار کے گھر کے گیٹ سے کچھ فاصلے پر تھا اور وہ صرف یہ اندازہ کر پائی تھی کہ گیٹ بند تھا، گھر کی بیرونی لائٹس آن تھیں۔
گاڑی کے ہارن پر گارڈ نے باہر دیکھا پھر اس نے گارڈ روم سے باہر نکل کر گیٹ کھول دیا۔ سالار تب تک اس کے ساتھ گاڑی سے نکل کر ڈگی سے بیگز نکال رہا تھا۔ امامہ نے اس بار اپنا بیگ خود تھامنے پر اصرار نہیں کیا تھا۔
گارڈ نے سامان لینے کی کوشش نہیں کی۔ سالار اپنے سامان خود اٹھانے کا عادی تھا لیکن اس نے سالار کے ساتھ آنے والی اس لڑکی کو بڑی حیرت اور دل چسپی سے دیکھا تھا، جو گیٹ سے گھر کے اندر آنے تک ان ہمسایوں کے گھر کو دیوانہ وار دیکھتی آرہی تھی جن کے ساتھ سکندر عثمان کا میل ملاپ بند تھا۔
دھند کے باوجود امامہ نے گھر کی بالائی منزل کے کچھ بیڈ رومز کی کھڑکیوں سے آتی روشنی کو دیکھ لیا تھا۔ اس کے اپنے بیڈ روم میں بھی روشنی تھی۔ اب وہاں کوئی اور رہتا ہو گا… وسیم… یا سعد… یا اس کا کوئی بھتیجا یا بھتیجی… اس نے آنکھوں میں امڈتے سیلاب کو صاف کرتے ہوئے ان کھڑکیوں میں جیسے کسی سائے، کسی ہیولے کو ڈھونڈنے کی سعی کی۔
”اندر چلیں…؟” اس نے اپنے بازو پر اس کے ہاتھ کی نرم گرفت محسوس کی۔ امامہ نے آنکھیں رگڑتے ہوئے سر ہلایا اور قدم آگے بڑھا دیے۔ وہ جانتا تھا کہ وہ وہ رو رہی ہے لیکن اس نے اسے رونے سے روکا نہیں تھا١، اس نے بس اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میںلے لیا تھا۔
سکندر عثمان اس وقت لاؤنج میں فون پر کسی دوست کے ساتھ خوش گپیاں کرتے ہوئے طیبہ کا انتظار کر رہے تھے جو اپنے بیڈروم میں کوئی چیز لینے کے لیے گئی تھیں۔ اگر سکندر کو آفس سے آنے میں دیر نہ ہو گئی ہوتی تو، وہ دونوں اس وقت کسی افطار ڈنر میں جا چکے ہوتے۔
لاؤنج میں سالار اور امامہ کا سامنا سب سے پہلے انہیں سے ہوا تھا۔ کسی بھوت کو دیکھ کر سکندر عثمان کا وہ حال نہ ہوتا، جو اس وقت ان دونوں کو دیکھ کر ان کا ہوا تھا۔ وہ فون پر بات کرنا بھول گئے تھے۔
”جبار! میں بعد میں فون کرتا ہوں تمہیں۔” انہوں نے کھڑے ہوتے ہوئے اپنے دوست سے کہا اور سیل بند کر دیا۔ غصہ بے حد معمولی لفظ تھا جو انہوں نے اس وقت سالار کے لیے محسوس کیا۔ وہ لاہور میں اس الو کے پٹھے کو نہ صرف اسلام آباد امامہ کے ساتھ نہ آنے کی تاکید کر کے آئے تھے، بلکہ پچھلے کئی دن سے مسلسل فون پر ہر بار بات کرنے کے دوران یہ بات دہرانا نہیں بھولے اور وہ ہر بار فرماں برداری سے ”اوکے” کہتا رہا۔ نہ یہ فرماں برداری ان سے ہضم ہوئی تھی، نہ اتنا سیدھا اوکے۔ ان کی چھٹی حس اس کے بارے میں سگنل دے رہی تھی۔ وہ پچھلے کئی سالوں میںبہت بدل گیا تھا، بے حد فرماں بردار ہو گیا تھا۔ اس کے سامنے سر جھکائے بیٹھا رہتا تھا، بہت کم ان کی کسی بات سے اختلاف کرتا یا اعتراض کرتا لیکن وہ ”سالار سکندر” تھا ان کی وہ ”چوتھی اولاد” جس کے بارے میں وہ سوتے میں بھی محتاط رہتے تھے۔
صرف سالار ہی نہیں، بلکہ امامہ نے بھی سکندر عثمان کے چہرے کے بدلتے ہوئے تاثرات کو دور ہی سے بھانپ لیا تھا۔
”ڈونٹ وری… پاپا مجھے کچھ ذلیل کریں گے لیکن تمہیں کچھ نہیں کہیں گے۔” دور سے اپنی طرف آتے، سکندر کی طرف جاتے ہوئے، و ہ خود سے چند قدم پیچھے چلتی امامہ کی طرف دیکھے بغیر بے حد مدھم آواز میں بڑبڑایا تھا۔
امامہ نے سر اٹھا کر اپنے ”شوہر” کا ”اطمینان” دیکھا، پھر تقریباً دس میٹر کے فاصلے پر آتے اپنے ”سسر” کا ”انداز۔” فوری طور پر اس کی سمجھ میں نہیں آیا کہ اسے اس وقت کیا کرنا چاہیے۔ وہ یہ سوچ کر زیادہ خوف زیادہ ہوئی تھی کہ سکندر عثمان، سالار کی انسلٹ کرنے والے تھے۔
”السلام علیکم پاپا!” اپنے ہاتھ میں پکڑے بیگز رکھتے ہوئے اس نے پاس آتے ہوئے سکندر عثمان سے ہمیشہ کی طرح یوں گلے ملنے کی کوشش کی تھی جیسے وہ ان کی دعوت اور ہدایت پر وہاں آیا ہے۔
سکندر عثمان نے خشمگیں نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے اس کا ہاتھ پیچھے کرتے ہوئے کہا۔
”تمہیں منع کیا تھا نا؟”
”جی۔” سالار نے بے حد تابع داری سے اس سوال کا جواب دیا۔
سکندر عثمان کا دل چاہا کہ وہ اس کا گلا دبا دیں۔
”کیسے آئے ہو؟” چند لمحوں کے بعد انہوں نے اس سے اگلا سوال کیا۔
”ٹیکسی پر۔” جواب کھٹاک سے آیا تھا۔
”ٹیکسی اندر لائے تھے؟”
”نہیں گیٹ پر ہی اترے ہیں۔” وہ نظریں جھکائے بے حد سعادت مندی سے کہہ رہا تھا۔
”تو سسرال والوں کو بھی سلام کر آتے۔” وہ اس بار چپ رہا۔ جانتا تھا، نہ یہ سوال ہے نہ مشورہ۔
”بیٹا! آپ کیسی ہیں؟” اسے قہر آلود نظروں سے گھورتے ہوئے وہ اب امامہ کی طرف بڑھ آئے تھے۔ ان کا لہجہ اب بدل گیا تھا۔ وہ بری طرح گھبرائی ہوئی باپ بیٹے کے درمیان ہونے والی گفت گو سن رہی تھی اور سکندر کو اپنی طرف بڑھتے دیکھ کر اس کا رنگ فق ہو گیا تھا۔ وہ سکندر کے سوال کا فوری طور پر جواب نہیں دے سکی۔
”سفر ٹھیک رہا؟” انہوں نے اسے اپنے ساتھے لگاتے ہوئے بے حد شفقت سے پوچھا تھا۔ ”اور طبیعت ٹھیک ہے، چہرہ کیوں اتنا سرخ ہو رہا ہے؟”
سکندر نے بھی اس کی آنکھوں کی نمی اور پریشانی کو محسوس کیا تھا۔
”جی… وہ جی… ” وہ اٹکی۔
”سردی کی وجہ سے… السلام علیکم! ممی… کیسی ہیں آپ؟” سالار نے بیگ دوبارہ کھینچتے ہوئے پہلا جملہ سکندر سے کہا اور دوسرا دور سے آتی ہوئی طیبہ کو دیکھ کر جو اسے دیکھ کر جیسے کراہی تھیں۔
”سالار! کیا ضرورت تھی یہاں آنے کی، کچھ تو احساس کیا کرو۔” وہ اب ان سے گلے مل رہا تھا۔
طیبہ! امامہ کو چائے کے ساتھ کوئی میڈیسن دیں اور اب اس ڈنر کو رہنے ہی دیں۔” سکندر اسے ساتھ لاتے ہوئے اب طیبہ سے کہہ رہے تھے۔ طیبہ اب سالار کو ایک طرف کرتے ہوئے اس کی طرف بڑھ آئیں۔
”کیا ہوا امامہ کو؟”
”کچھ نہیں … میں… ٹھیک ہوں” اس نے مدافعانہ انداز میں طیبہ سے ملتے ہوئے کہا۔
”آپ لوگ ڈنر پر جائیں،ہماری پروانہ کریں۔ ہم لوگ کھا لیں گے جو بھی گھر میں ہے۔” سالار نے سکندر سے کہا۔ اسے اندازہ تھا کہ وہ اس وقت کہیں انوائٹڈ ہیں، یقینا گھر میں اس وقت ڈنر کی کوئی تیاری نہیں کی گئی ہو گی۔
سکندر نے اس کی بات سننے کی زحمت نہیں کی۔ انہوں نے پہلے انٹرکام پر گارڈز کو سیکیورٹی کے حوالے سے کچھ ہدایات کیں، اس کے بعد ڈرائیور کو کسی قریبی ریسٹورنٹ سے کھانے کی کچھ ڈشز لکھوائیں اور خانساماں کو چائے کے لیے بلوایا۔
”پلیز پاپا! آپ ہماری وجہ اپنا پروگرام کینسل نہ کریں، آپ جائیں۔” سالار نے سکندر عثمان سے کہا۔
”تاکہ تم پیچھے سے ہمارے لیے کوئی اور مصیبت کھڑی کر دو۔”
وہ سکندر کے جملے پر ہنس پڑا۔ اس کی ہنسی نے سکندر کو کچھ اور برہم کیا۔ امامہ اگر اس کے پاس نہ بیٹھی ہوتی تو سکندر عثمان اس وقت اس کی طبیعت اچھی طرح صاف کر دیتے۔
”جب میں نے تم دونوں سے کہا تھا کہ فی الحال یہاں مت آنا تو پھر… امامہ! کم از کم تمہیں اسے سمجھنا چاہیے تھا۔”
سکندر نے اس بار امامہ سے کہا تھا جو پہلے ہی بے حد شرمندگی اور حواس باختگی کا شکار ہو رہی تھی۔
”پاپا! امامہ تو مجھے منع کر رہی تھی، میں زبردستی لایا ہوں اسے۔” امامہ کی کسی وضاحت سے پہلے ہی سالار نے کہا۔
سکندر نے بے حد خشمگیں نظروں سے اسے دیکھا۔ ان کی اولاد میں سے کسی نے آج ان کے منہ پر بیٹھ کر اتنے فخریہ انداز میں ان کی بات نہ ماننے کا اعلان نہیں کیا تھا۔
سالار نے مزید کچھ کہنے کے بہ جائے انہوں نے ملازم سے سامان ان کے کمرے میں رکھنے کے لیا کہا۔ اس سارے معاملے پر سالار سے سنجیدگی سے بات کرنا ضروری تھا، لیکن اکیلے میں۔
سالار کے کمرے میں آتے ہی امامہ مقناطیس کی طرح کھڑکی کی طرف گئی تھی اور پھر جیسے سحر زدہ سی کھڑکی کے سامنے جا کر کھڑی ہو گئی۔ وہاں سے اس کا گھر کا بایاں حصہ نظر آرہا تھا۔ اس کے گھر کا اوپر والا حصہ… اس کے کمرے کی کھڑکیاں… وسیم کے کمرے کی کھڑکیاں… دونوں کمروں میں روشنی تھی لیکن دونوں کھڑکیوں کے پردے گرے ہوئے تھے۔ کوئی ان پردوں کو ہٹا کر اس وقت اس کی طرح آکر کھڑکی کے سامنے کھڑا ہو جاتا تو اسے آرام سے دیکھ لیتا۔ پتا نہیں پہچانتا بھی یا نہیں… وہ اتنی تو نہیں بدلی تھی کہ کوئی اسے پہچان ہی نہ پاتا… اس کے اپنے خونی رشتے تو …پانی سیلاب کے ریلے کی طرح سب بند توڑ کر اس کے آنکھوں سے بہنے لگا تھا۔ یہ کب سوچا تھا اس نے کہ کبھی اپنی زندگی میں وہ دوبارہ اس گھر کو دیکھ سکے گی۔ کیا ضروری تھا کہ یہ سب کچھ اس کی زندگی میں، اس کے ساتھ ہوتا۔
وہ بے حد خاموشی کے ساتھ اس کے برابر میں آکر کھڑا ہو گیا تھا۔ اس نے کھڑکی آنے والے اس گھر کو دیکھا اور پھر امامہ کی آنکھوں سے بہنے والے پانی کو۔ اسی خاموشی کے ساتھ اس نے امامہ کے کندھے پر اپنا بازو پھیلاتے ہوئے جیسے اسے دلاسا دینے کے لیے اس کے سر کو چوما۔
”وہ میرا کمرا ہے۔” بہتے آنسوؤں کے ساتھ امامہ نے اسے بتایا۔
”جہاں سے تم مجھے دیکھا کرتی تھیں؟” وہ بہتر آنسوؤں کے بیچ ہنس پڑی۔
”میں تمہیں نہیں دیکھتی تھی سالار!” اس نے احتجاج کیا تھا۔
سالار نے اس کے کمرے کی کھڑکی کو دیکھتے ہوئے کہا۔
”اور مجھے پتا تک نہیں تھا کہ یہ تمہارا کمرا ہے۔ میں سمجھتا تھا، یہ وسیم کا کمرا ہے۔ میں تو کپڑے بھی یہیں بدلا کرتا تھا۔” سالار کو کچھ تشویش ہوئی۔
”مجھے کیا پتا ، تم کیا کرتے تھے… میرے کمرے کی کھڑکیاں تو بند ہوتی تھیں۔”
کیوں؟” سالار نے کچھ حیرانی سے پوچھا۔
”تم شارٹس میں پھرتے تھے بیڈ روم میں اس لیے… اور تمہارے خیال میں کھڑکیاں کھلی رکھ سکتی تھی… تمہیں کوئی شرم ہی نہیں تھی… تم کیسے اس طرح اپنے بیڈ روم میں پھر لیتے تھے…”
وہ اب آنکھیں صاف کرتے ہوئے اس پر خفا ہو رہی تھی۔ اسے اندازہ نہیں ہوا کہ اس نے کتنے آرام سے اس کی توجہ اس طرف سے ہٹائی تھی۔
”تم کس طرح کے انسان تھے؟”
سالار نے اس بار کچھ نہیں کہا۔ وہ اس سوال کا جواب نہیں دے سکتا تھا۔
”تمہیں کھانے کا کہنے آیا تھا۔ تم چینج کر لو تو چلتے ہیں۔” اس نے یک دم بات بدلتے ہوئے امامہ سے کہا۔ اس نے سالار کے تاثرات نہیں دیکھے۔ وہ ایک بار پھر کھڑکی سے نظر آنے والا گھر دیکھ رہی تھی۔
٭٭٭٭
وہ تقریباً دو بجے کمرے میں آیا اور اس کا خیال تھا کہ امامہ سو چکی ہو گی، مگر وہ ابھی بھی کھڑکی کے سامنے بیٹھی ہوئی باہر دیکھ رہی تھی۔ اس کے گھر کی لائٹس اب آف تھیں۔ دروازہ کھلنے کی آواز پر اس نے گردن موڑ کر سالار کو دیکھا تھا۔
”سو جانا چاہیے تھا تمہیں امامہ!” اس سے نظریں ملنے پر سالار نے کہا۔
وہ کھڑکیوں کے آگے کرسی رکھے دونوں پاؤں اوپر کیے گھٹنوں کے گرد بازو لپیٹے بیٹھی تھی۔
”سو جاؤں گی۔”
”وہاں سب سو چکے ہیں، دیکھو لائٹس آف ہیں سب بیڈ رومز کی۔”
وہ دوبارہ گردن موڑ کر باہر دیکھنے لگی۔
سالار چند لمحے اسے دیکھتا رہا پھر واش روم میں چلا گیا۔ دس منٹ بعد کپڑے تبدیل کر کے وہ سونے کے لیے بیڈ پر لیٹ گیا۔
”امامہ! اب بس کرو، اس طرح دیکھنے سے کیا ہو گا؟” بیڈ پر لیٹے لیٹے اس نے امامہ سے کہا۔
”میں نے کب کہا کہ کچھ ہو گا، تم سو جاؤ۔”
”تم وہاں بیٹھی رہو گی تو مجھے بھی نیند نہیں آئے گی۔”
”لیکن میں یہیں بیٹھوں گی۔” اس نے ضدی انداز میں کہا۔
سالار کو اس کی ضد نے کچھ حیران کیا۔ چند لمحے اسے دیکھنے کے بعد اس نے پھر کہا۔
”امامہ! تم اگر بیڈ پر آکر لیٹو گی تو یہاں سے بھی تمہارا گھر نظر آتا ہے۔” سالار نے ایک بار پھر کوشش کی تھی۔
”یہاں سے زیادہ قریب ہے۔”
وہ اس بار بول نہیں سکا۔ اس کے لہجے میں موجود کسی چیز نے اس کے دل پر اثر کیا تھا۔ چند گز کا فاصلہ اس کے لیے بے معنی تھا۔ وہ اس کا گھر نہیں تھا۔ چند گز کی نزدیکی اس کے لیے بہت تھی۔ وہ نو سال بعد اس گھر کو دیکھ رہی تھی۔
ہمارے گھر کے اوپر والے فلور میں ایک کمرا ہے، اس کمرے کی کھڑکیوں سے تمہارے گھر کا لان اور پورچ تک نظر آتا ہے۔” وہ لیٹے لیٹے چھت کو دیکھتے ہوئے بڑبڑایا۔
امامہ یک دم کسی سے اٹھ کر اس کے پاس آگئی۔
”کون سا کمرا…؟” مجھے دکھاؤ۔” اس کے بیڈ کے قریب کھڑے ہو کر اس نے بے چینی سے پوچھا۔
”دکھا سکتا ہوں اگر تم سو جاؤ، پھر صبح میں تمہیں وہاں لے جاؤں گا۔” سالار نے آنکھیں کھول کر کہا۔
”میں خود بھی جا سکتی ہوں۔” وہ بے حد خفگی سے سیدھی ہو گئی۔
”اوپر والا فلور لاکڈ ہے۔” امامہ جاتے جاتے رک گئی۔ وہ یک دم مایوس ہوئی تھی۔
”سالار! مجھے لے کر جاؤ اوپر…” وہ پھر اس کا کندھا ہلانے لگی۔
”اس وقت تو نہیں لے کا جاؤں گا۔” اس نے دو ٹوک انداز میں کہا۔
”تمہیں ذرا سی بھی محبت نہیں ہے مجھ سے؟” وہ اسے جذباتی دباؤ میں لے رہی تھی۔
”ہے، اس لیے تو نہیں لے کر جا رہا، صبح وہاں جانا۔ تمہاری فیملی کے لوگ گھر سے نکلیں گے۔ تم انہیں دیکھ سکتی ہو۔ اس وقت کیا نظر آئے گا تمہیں؟” سالار نے بے حد سنجیدگی سے کہا۔
”ویسے بھی مجھے تمہیں پتا ہے کہ کمرے کی چابیاں کس کے پاس ہیں، صبح ملازم سے پوچھ لوں گا۔” سالار نے جھوٹ بولا۔
اوپر کا فلور مقفل نہیں تھا لیکن امامہ کو روکنے کا اس کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں تھا۔ وہ کچھ مایوس ہو کر دوبارہ کھڑکی کی طرف جانے لگی۔ سالار نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔
”اور فلور میں تب ان لاک کرواؤں گا، اگر تم ابھی سو جاؤ۔
وہ چند لمحے اس کا چہرہ دیکھتی رہی پھر اس نے جیسے ہتھیار ڈالتے ہوئے کہا۔
”میں بیڈ کی اس طرف سوؤں گی۔”
سالار نے ایک لفظ کہے بغیر اپنی جگہ چدھوڑ دی۔ اس نے کمبل ہٹا کر اس کے لیے جگہ بنا دی تھی۔
”اور میں لائٹس بھی آن رکھوں گی۔” وہ اس کی خالی کی ہوئی جگہ پر بیٹھتے ہوئے بولی۔
وہ اب کراؤن سے ٹیک لگائے دونوں گھٹنے سکیڑے بیڈ پر بیٹھی کھڑکی کو دیکھنے لگی تھی۔
”مجھے روشنی میں نیند نہیں آئے گی۔” سالار نے کمبل سے اس کے پاؤں اور ٹانگیں ڈھانپتے ہوئے کہا۔
”تمہیں تو روشنی میں ہی نیند آتی تھی۔” وہ کچھ جزبز ہو کر بولی۔
”اب اندھیرے میں آتی ہے۔” اس نے ترکی بہ ترکی جواب دیا۔
”تو پھر مجھے روشنی میں ہی نیند آتی ہے۔” سالار نے اپنی مسکراہٹ روکی۔
”تمہیں ایک اچھی بیوی کی طرح اپنے شوہر کی نیند کا زیادہ خیال رکھنا چاہیے۔” مصنوعی غصے کے ساتھ سالار نے کچھ آگے جھکتے ہوئے سائیڈ ٹیبلل لیمپ اور دوسری لائٹس آف کرنی شروع کر دیں۔
امامہ خفگی سے بیٹھی رہی، لیکن اس نے سالار کو روکنے کی کوشش نہیں کی۔ کمرا اب نیم تاریک تھا لیکن بیرونی روشنیوں کی وجہ سے امامہ کا گھر زیادہ نمایاں ہو گیا تھا۔
”اس طرح دیکھنے سے کیا ہو گا؟” سالار اب کچھ جھلا گیا تھا۔
”ہو سکتا ہے کوئی پردے ہٹا کر کھڑکی میں کھڑا ہو۔”
وہ خواہش نہیں تھی، آس تھی اور وہ اس آس کو توڑ نہیں سکتا تھا۔
”صبح گاؤں جانا ہے ہمیں…” وہ اب اس کی توجہ اس کھڑکی سے ہٹانے کی کوشش کر رہا تھا۔
”مجھے نہیں جانا، مجھے یہیں رہنا ہے۔”امامہ نے دو ٹوک انکار کیا۔ سالار کو اس کی توقع تھی۔
”تمہیں گاؤں لے جانے کے لیے لے کر آیا تھا۔” سالار نے کچھ خفگی سے کہا۔
”تم جاؤ مجھے کسی گاؤں میں دل چسپی نہیں ہے۔” اس نے صاف گوئی سے کہا۔
سالار یک دم کمبل ہٹاتے ہوئے بیڈ سے اٹھا اور اس نے پردے برابر کر دیے۔ باہر آنے والی روشنی بند ہوتے ہی کمرا یک دم تاریکی میں ڈوب گیا تھا۔ امامہ نے بے حد خفگی کے عالم میں لیٹتے ہوئے کمبل اپنے اوپر کھینچ لیا۔
دوبارہ اس کی آنکھ سالار کے جاگنے سے کھلی۔ سحری ختم ہونے میں ابھی کچھ وقت تھا۔ اس نے اٹھ کر سب سے پہلے کھڑکی کر پردے ہٹائے تھے۔ سالار نے اسے کچھ ہمدردی سے دیکھا۔وہ انٹر کام اٹھا کر خانساماں کو کھانا کمرے میں لانے کا کہہ رہا تھا۔ امامہ کے کمرے میں لائٹ آن تھی لیکن کھڑکیوں کے آگے اب بھی پردے گرے ہوئے تھے۔
اسے جیسے کچھ مایوسی ہوئی۔ جب تک وہ کپڑے تبدیل کر کے اور منہ ہاتھ دھو کر آئی، تب تک خانساماں کھانے کی ٹرالی کمرے میں چھوڑ گیا تھا۔ انہوں نے بڑی خاموشی کے ساتھ کھانا کھایا اور کھانا ختم کرتے ہی امامہ نے کہا۔ ”اب چابیاں لے لو، اوپر چلیں۔”
”مجھے نماز پڑھ کر آنے دو۔”
”نہیں، مجھے اپنا گھر دیکھنا ہے۔”
اس بار سالارنے جیسے امامہ کی ضد کے سامنے ہتھیار ڈالے تھے۔ اسے لے کر وہ اوپر کے فلور آگیا۔ کمرا کھلا دیکھ کر امامہ نے اسے بے خفگی سے دیکھا لیکن کچھ کہا نہیں۔ وہ اس وقت اتنی خوش تھی کہ سالار کی کسی بات پر ناراض نہیں ہو رہی تھی۔
اس کمرے کی کھڑکی کے سامنے کھڑے ہوتے ہی وہ جیسے سانس لینا بھول گئی تھی۔ وہاں سے اس کے گھر کا پورا لان اور پورچ نظر آرہا تھا۔ لان بالکل بدل گیا تھا۔ وہ ویسا نہیں رہا تھا جیسا کبھی ہوتا تھا، جب وہ وہاں تھی۔ تب وہاں دو کرسیاں بھی نہیں تھیں، جو پہلے ہوتی تھیں۔ لان میں لگی بیلیں اب پہلے سے بھی زیادہ بڑی اور پھیل چکی تھیں۔ آنسوؤں کا ایک نیا ریلا اس کی آنکھوں میں آیا تھا۔ سالار نے اس دفعہ اسے کچھ نہیں کہا۔ کہنا بے کار تھا۔ اسے فی الحال رونا تھا، وہ جانتا تھا۔
وہ مسجد میں نماز اور کچھ دیر قرآن پاک کی تلاوت کرنے کے تقریباً ڈیڑھ گھنٹے بعد واپس آیا تھا اور حسب توقع تب بھی امامہ کمرے میں نہیں آئی تھی۔
وہ گاؤں جانے کے لیے تیار ہونے کے بعد اسے خدا حافظ کہنے اوپر آیا تھا۔ اسے ساتھ لے جانے کا ارادہ وہ پہلے ہی ترک کر چکا تھا۔
اڑھائی گھنٹے کے بعد بھی وہ کھڑکی کے سامنے اسی طرح کھڑی تھی۔ سالار کے اندر آنے پر بھی اس نے پلٹ کر نہیں دیکھا تھا۔ سالار نے اسے مخاطب کرنے کے بجائے کمرے میں دور پڑے صوفے کو کچھ جدوجہد کے ساتھ کھڑکی کی طرف دھکیلنا شروع کر دیا تھا۔
”یہاں بیٹھ جاؤ تم، کب تک اس طرح کھڑی رہو گی۔”
صوفہ دھکیل کر اس کے قریب لانے کے بعد سالار نے اس کو مخاطب کیا اور تب ہی اس نے امامہ کا چہرہ دیکھا۔اس کا چہرہ آنسوؤں سے بھیگا ہوا تھا۔ اس کی آنکھیں اور ناک سرخ تھی۔ سالار نے گردن موڑ کر کھڑکی سے باہر دیکھا۔ وہاں ایک گاڑی میں کچھ بچے سوار ہو رہے تھے اور ایک عورت کو خداحافظ کہہ رہی تھی۔
”رضوان کے بچے ہیں؟” سالار نے گاڑی کو اسٹارٹ ہوتے دیکھ کر امامہ سے کہا۔
امامہ نے کچھ نہیں کہا۔ وہ پلکیں جھپکائے بغیر کانپتے ہونٹوں کے ساتھ بس انہیں دیکھ رہی تھی۔ سالار نے اس سے کچھ نہیں پوچھا۔ نو سال لمبا عرصہ تھا۔ پتا نہیں مزید ان میں سے کس کو وہ پہچان سکی تھی اور کس کو نہیں اور ان میں سے کس کو وہ پہلی بار دیکھ رہی تھی۔ وہ عورت اب اندر چلی گئی تھی۔
اس کے کندھوں پر ہلکا دباؤ ڈالتے ہوئے سالار نے اس سے کہا” بیٹھ جاؤ!”
امامہ نے صوفے پر بیٹھتے ہوئے دوپٹے کے پلو سے آنکھیں اور ناک رگڑنے کی کوشش کی۔ صرف چند لمحوں کے لیے اس کا چہرہ خشک ہوا تھا، برسات پھر ہونے لگی تھی۔ سلار پنجوں کے بل اس کے سامنے چند لمحوں کے لیے بیٹھا۔ اس نے امامہ کے دونوں ہاتھ تسلی دینے والے انداز میں اپنے ہاتھوں میں لیے۔ اس کے دونوں ہاتھ بے حد سرد تھے۔ وہ اس کے ہاتھ چھوڑ کر اٹھ کھڑا ہوا۔ کمرے کی سردی کو اس نے پہلی بار محسوس کیا تھا۔ ہیٹر آن کرنے کے بعد اس نے کمرے کی الماری میں کوئی کمبل ڈھونڈنے کی کوشش کی اور ایک کمبل اسے نظر آہی گیا تھا۔
”میں گاؤں کے لیے نکل رہا ہوں، شام تک واپس آؤں گا۔ دس گیارہ بجے کے قریب پاپا اور ممی اٹھ جائیں گے، تب تم نیچے آجانا۔” اس کی ٹانگوں پر کمبل ڈالتے ہوئے۔ اس نے امامہ سے کہا۔
وہ اب بھی اسی طرح دوپٹے سے آنکھیں اور ناک رگڑ رہی تھی لیکن اس کی نظریں اب بھی کھڑکی سے باہر تھیں۔ سالار اور یہ کمرا جیسے اس کے لیے اہم نہیں رہا تھا۔ وہ اس سے کیا کہہ رہا تھا،اس نے نہیں سنا تھا اور سالار یہ جانتا تھا۔ وہ اسے خدا حافظ کہتے ہوئے چلا گیا۔
وہ اگلے چار گھنٹے اس طرح صوفے پر جمی بیٹھی رہی۔ اس دن اس نے نو سال کے بعد باری باری اپنے تینوں بھائیوں کو بھی گھر سے جاتے دیکھا تھا۔ وہ وہاں بیٹھی انہیں دیکھتی ہچکیوں سے روتی رہی تھی۔ وہاں بیٹھے ہوئے اسے لگ رہا تھا کہ اس نے یہاں آکر غلطی کی ہے۔ اسے نہیں آنا چاہیے تھا۔ اتنے سال سے صبر کے جو بند وہ باندھتی چلی آرہی تھی، اب وہ بند باندھنا مشکل ہو رہا تھا۔ وہ پہلے اسلام آباد آنا نہیں چاہتی تھی اور اب یہاں سے جانا نہیں چاہتی تھی۔ ایسا بھی تو ہو سکتا تھا کہ وہ اسی طرح چوری چھپے اس گھر میں رہتی، اس طرح روز اپنے گھر والوں کو دیکھتی رہتی۔ اس کے لیے تو یہ بھی بہت تھا، وہ احمقانہ سوچ تھی، لیکن وہ سوچ رہی تھی۔ وہ ہر بات سوچ رہی تھی جس سے وہ یہاں اپنے ماں باپ کے گھر کے پاس رہ سکتی ہو۔
سالار نے گاؤں پہنچنے کے چند گھنٹے کے بعد سکندر کو فون کیا۔
”میں بھی حیران تھا جب ملازم نے مجھے بتایا کہ وہ اوپر گیسٹ روم میں ہے۔ میں سوچ رہا تھا پتا نہیں وہ وہاں کیا کر رہی ہے۔”
سالار نے انہیں امامہ کو وہاں سے بلوانے کے لیے کہا تھا اور سکندر نے اسے جواباً کہا۔
”کیا ضرورت تھی اسے خوامخواہ وہاں لے جانے کی، گھر تو اس کا تمہارے کمرے سے بھی نظر آتا ہے۔”
”لیکن گھر والے اسے گیسٹ روم سے ہی نظر آسکتے تھے۔” سالار نے کہا۔

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: