Aab e Hayat Novel by Umera Ahmed Read Online – Last Episode 49

0

آب حیات از عمیرہ احمد – قسط نمبر 49

–**–**–

وہ سب اُس turmoil میں اُس کے پاس آگئے تھے… حمین، جبریل، عنایہ، امامہ، سالار اور ہشّام بھی… اُسے یہ بتانے کہ اُنہیں فرق نہیں پڑتا کہ وہ کون تھی، کیا تھی… وہ اُن کے لئے رئیسہ تھی… وہی پہلے والی رئیسہ… وہ اُن سب کی شکرگزار تھی، ممنون تھی، احسان مند بھی… اور اُس نے اُن سب کو یہ احساس دلایا تھا کہ وہ بالکل ٹھیک تھی، مگر وہ ٹھیک نہیں تھی… اندر ہونے والی توڑ پھوڑ بے حد شدید تھی۔ اس لئے بھی کہ وہ اُس خاندان کے ذلّت اور رسوائی کا سبب بن رہی تھی جنہوں نے اُس پر رحم کھاتے ہوئے اُس کو پالا تھا۔ اُسے ایک لحظہ بھر کے لئے بھی سالار سکندر پر اپنے باپ کے لگائے ہوئے الزامات کے جھوٹا ہونے میں کوئی شک نہیں ہوا تھا اور اُس کے یہاں آنے کی وجہ بھی وہی الزامات بنے تھے۔ وہ کسی کو بتائے بغیر صرف اپنے تعلقات کو استعمال کرتے ہوئے یہاں تک آنے میں کامیاب ہوئی تھی… اپنے خاندان کو بے خبر رکھتے ہوئے۔
غلام فرید جیل کے ایک اہلکار کے ساتھ بالآخر اُس کمرے میں داخل ہوا تھا، جہاں وہ بیٹھی ہوئی تھی۔ دونوں اب خاموشی سے ایک دوسرے کو دیکھا پھر وہ جیل اہلکار وہاں سے چلا گیا۔ غلام فرید کچھ نروس انداز میں اُسے دیکھ رہا تھا، وہ کئی لمحے اُسے دیکھتی رہی پھر اُس نے مدہم آواز میں کہا۔
” آپ نے مجھے پہچانا؟”
”نہیں۔” ایک لحظہ کی تاخیر کے بعد غلام فرید نے کہا۔
”میں آپ کی سب سے چھوٹی بیٹی ہوں۔ جسے مارنا بھول گئے تھے آپ۔” وہ طنز نہیں تعارف تھا اور اُس کے علاوہ اپنا تعارف کسی اور طرح سے نہیں کروا سکتی تھی وہ۔
”چُنّی؟” بہت دیر غلام فرید اُس کا چہرہ دیکھتے رہنے کے بعد بے ساختہ بڑبڑایا تھا۔ رئیسہ نے ہونٹ بھینچ لئے، اُس کی آنکھیں پانی سے بھر گئی تھیں۔ اُس کے باپ نے بالآخر اُسے پہچان لیا تھا۔ وہ اب اُس کا وہ نام یاد کرنے کی کوشش کر رہا تھا جو اُس نے لکھوایا تھا پر یاد نہیں کر سکا۔ اُس نے چُنّی کو ایک بار پھر دیکھا… بغور دیکھا…وہ میم صاحب لگ رہی تھی، اپنی سانولی رنگت کے باوجود… اُس کی بیٹی تو نہیں لگ رہی تھی، وہ جانتا تھا اُس کی آخری اولاد کی پرورش سالار سکندر نے کی تھی۔ یہ اُسے اُن لوگوں نے بتایا تھا جو بار بار اُسے بہت کچھ یاد کروانے اور پھر دہروانے کے لئے آتے تھے۔ اُسے چُنّی کو دیکھ کر اپنی بیوی یاد آئی تھی۔ ایک نیلی جینز اور سفید شرٹ میں بال ایک جوڑے کی شکل میں لپیٹے گلاسز آنکھوں پر لگائے، گلے میں ایک باریک چین میں لٹکتا اللہ کے نام کا لاکٹ پہنے، کلائی میں ایک قیمتی گھڑی پہنے اُس کے سامنے ایک کُرسی پر ٹانگ پر ٹانگ رکھے چُنّی نے اُسے اپنی ماں کی یاد دلائی تھی۔ اُس کے نین نقش ویسے تھے… سارے حلیے میں صرف نین نقش ہی تھے جو وہ پہچان پایا تھا… ورنہ وہ بیمار رہنے والی لاغر، کمزور اور ہر وقت روتی ہوئی چُنّی ایسے کیسے بن گئی تھی کہ اُس کے سامنے بیٹھے غلام فرید کو اُس کے سامنے اپنا وجود کمتر لگنے لگا تھا۔ پر پتہ نہیں اپنی ایک بچ جانے والی اولاد کو ایسے اچھے حلیے میں دیکھتے ہوئے غلام فرید کو ایک عجیب سی خوشی بھی ہوئی تھی، وہ اُس لمحے بھول گیا تھا کہ وہ اپنی اس اولاد پر ناجائز اولاد کا لیبل لگارہا تھا… برسوں بعد اُس نے کوئی ” اپنا” دیکھا تھا اور اپنا دیکھ کر وہ پھر بھول گیا تھا۔
ایک لفافے میں موجود کچھ کھانے پینے کی چیزیں اُس نے باپ کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا ” یہ میں آپ کے لئے لائی تھی” غلام فرید نے عجیب حیرت سے اُس لفافے کو دیکھا اور پھر کانپتے ہاتھوں سے اُسے تھام لیا، وہ سارے سوالات جو وہ غلام فرید سے کرنا چاہتی تھی یک دم دم توڑتے چلے گئے تھے۔ وہ نحیف و نزار شخص جو اُس کے سامنے اپنی زندگی کی آخری سیڑھی پر کھڑا تھا، اُس سے وہ سوال اب کرنا بے کار تھا۔ اُسے اُس پر ترس آگیا تھا، وہ اُسے اب کسی کٹہرے میں کھڑا نہیں کرنا چاہتی تھی۔
غلام فرید نے گلاسز اُتار کر اپنی آنکھیں صاف کرتی ہوئی اُس لڑکی کو دیکھا جس نے کچھ دیر پہلے اُس سے اپنا تعارف کروایا تھا۔
”تم پڑھتی ہو؟” اُس نے بالآخر پوچھا، عجیب سے انداز میں…رئیسہ نے سر اُٹھا کر غلام فرید کا چہرہ دیکھا، پھر سر ہلایا۔ غلام فرید کا چہرہ چمکا۔
”زیادہ پڑھنا۔”
رئیسہ کی آنکھوں میں نمی پھر اُتری۔
”میں اور تمہاری ماں سوچتے تھے کبھی پڑھائیں گے بچوں کو زیادہ… اور…” غلام فرید نے یادوں کے کسی دُھندلکے کو لفظوں میں بدلا پھر چُپ ہوگیا۔
”صاحب کو میرا شکریہ کہنا اور دوبارہ جیل مت آنا۔” غلام فرید نے چند لمحے بعد کہا اور رئیسہ کی آنکھوں کی نمی اب اُس کے گالوں پر پھیلنے لگی تھی۔ غلام فرید کے لئے سالار سکندر ایک بار پھر ”صاحب” ہو گیا تھا۔ اپنی اولاد کو ایسی اچھی حالت میں دیکھ کر رئیسہ کو لگا تھا اُس کا باپ شرمندہ بھی تھا۔
وہ اُٹھ کر کھڑی ہوگئی۔ وہ بھی کھڑا ہوگیا تھا۔ پھر وہ آگے بڑھا اور اُس نے رئیسہ کے سر پر ہاتھ پھیرا، وہ اُسے گلے لگاتے ہوئے جھجکا تھا… شاید لگانا چاہتا تھا۔ اُس نے آگے بڑھ کر خود غلام فرید کو گلے لگایا تھا پھر وہ اُس سے لپٹ کر بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا تھا۔ اپنے باقی بچوں اور بیوی کے ناموں کو پکارتے ہوئے۔
٭٭٭٭
وہ بڑا ہلکا وجود لئے امریکہ واپس آئی تھی اور امریکہ پہنچ کر بالآخر اُس نے اپنا نمبر آن کیا تھا۔ اور اُس کا فون یک دم سارے رشتوں سے جاگنے لگا تھا… پیغامات کا انبار تھا اُس کی فیملی کی طرف سے ایئرپورٹ سے گھر تک پہنچتے پہنچتے وہ اُن سب پیغامات کو پڑھتی گئی تھی۔ نم آنکھوں کے ساتھ۔ ایک کے بعد ایک پیغامات کا thread… اور پھر ایک آخری پیغام ہشّام کی طرف سے… بادشاہ نے تخت چھوڑ دیا تھا۔ کیوں؟ اُس نے یہ نہیں لکھا تھا۔ اُسے حمین یاد آیا تھا، اُس کے لفظ۔
گھر کے باہر سالار کے ساتھ ساتھ حمین کی بھی گاڑی تھی۔ رئیسہ نے بیل بجائی۔ کچھ دیر بعد یہ سالار سکندر تھا جس نے دروازہ کھولا تھا۔
دونوں خاموشی سے ایک دوسرے کو دیکھتے رہے۔ پھر و ہ آگے بڑھ کر سالار سے لپٹ گئی تھی… بالکل اُس ہی طرح جب وہ ڈیڑھ سال کی عمر میں اُس سے لپٹی تھی اور پھر الگ نہیں ہوئی تھی۔ سالار اُسے بچوں کی طرح تھپکتا رہا۔ وہ امریکہ واپس آنے سے پہلے پاکستان میں ایک پریس کانفرنس میں اپنا Paternity Test اور غلام فرید کا بیان میڈیا کے ساتھ شیئر کر کے آئی تھی اور ایک وکیل کے ذریعے اپنے خاندان کی واحد وارث ہونے کے طور پر اپنے باپ کو معاف کرنے کا حلف نامہ بھی۔ وہ طوفان جو سالار سکندر اور اُس کے خاندان کو ڈبونے کے لئے آیا تھا، وہ اس بار رئیسہ نے روکا تھا۔
اور وہاں اب سالار سکندر کے سینے سے لگی بچوں کی طرح روتی رئیسہ کو دیکھتے ہوئے اُسے کوئی دلیر نہیں کہہ سکتا تھا… وہ بھی سالار سکندر کا ہی خانوادہ تھی۔ خون کا رشتہ نہ ہونے کے باوجود، رحم اور مہربانی کے مضبوط ترین رشتوں سے اُن کے ساتھ جوڑی گئی۔
اپنے نام کے ساتھ سالار کا نام استعمال کرتے ہوئے بھی وہ اپنے باپ کے نام سے واقف تھی مگر وہ باپ جیل میں سزائے موت کا ایک قیدی تھا، سالار کا دوست نہیں، وہ اس سے واقف نہیں تھی۔ اور اس ”واقفیت” کے بعد اُسے اُس خاندان کی قدر و قیمت کا اندازہ ہوگیا تھا جو اُس کا تعارف تھا۔
”میں نے تمہیں رونا تو کبھی نہیں سکھایا رئیسہ… نہ ہی رونے کے لئے تمہاری پرورش کی ہے۔” سالار نے اُسے خود سے الگ کرتے ہوئے کہا۔ وہ اب اپنے آنسوؤں پر قابو پارہی تھی۔ اور اُس نے سالار کے عقب میں کُھلے دروازے سے حمین اور امامہ دونوں کو دیکھا تھا۔ ”آخری بار روئی ہوں بابا۔” اُس نے گیلی آنکھوں کے ساتھ مسکراتے ہوئے کہنے کی کوشش کی اور اُس کی آواز پھر بُھرّا گئی۔
۔”You belong to us” سالار نے اُسے جتانے والے انداز میں کہا۔ ”اور تم سمجھدار اور بہت بہادر ہو… ہم نے یہی سکھایا ہے تمہیں۔” وہ جیسے اُسے یاد دہانی کروا رہا تھا۔ وہ سر ہلانے لگی تھی۔ زندگی میں کبھی کوئی ایسا موقع آتا جب وہ اُنہیں اپنی احسان مندی دکھا سکتی تو اُنہیں بتاتی کہ اپنے حقیقی باپ سے ملنے کے بعد اُسے پہلی بار یہ احساس ہوا تھا کہ وہ بے حد خوش قسمت تھی۔ واقعی خوش قسمت تھی کہ وہ سالار سکندر کے خاندان کا حصّہ بنی تھی، اُسے وہ own کرتے تھے۔

٭٭٭٭
9:15 منٹ پر بالآخر لفٹ کا دروازہ کھلا تھا اور حمین سکندر اپنے دو ذاتی محافظوں کے پیچھے باہر نکلا تھا، اُس کے پیچھے اُس کے عملے کے باقی افراد باقی تھے۔ کوریڈور میں پریس فوٹو گرافرز اور چینلز کے افراد بھی تھے جو ہر آنے والی اہم شخصیت کی coverage کر رہے تھے، اُس سے پانچ منٹ پہلے وہاں سے سالار سکندر گزر کر گیا تھا اور اب وہ وہاں آیا تھا اُس تقریب کے دو اہم ترین لوگ…
بے حد تیز رفتاری سے قدم اُٹھاتے حمین سکندر کوریڈور میں اُس کی آمد کی کوریج کرتے پریس فوٹوگرافرز پر نظر ڈالتے اپنا استقبال کرتے ہوئے officials کے ساتھ بڑی تیزی سے بینکوئیٹ ہال کے داخلی دروازے کی طرف جارہا تھا، جب اُسے یک دم اپنے عقب میں آتے اپنی ٹیم کے ایک ممبر سے کچھ پوچھنے کا خیال تھا… اپنے Chief Finance Strategist سے… وہ لمحہ بھر کے لئے رُکا، پلٹا اور اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہہ پاتا اُس نے اپنی گردن کی پشت میں کوئی سلاخ گھستی محسوس ہوئی تھی۔ پھر شیشہ ٹوٹنے کی آوازیں اور پھر چیخوں کی اور پھر کوئی اُسے زمین پر گراتا ہوا اُس پر لیٹا تھا۔ پھر کوئی چیخا تھا۔
”سامنے والی بلڈنگ سے گولی چلائی گئی ہے۔” اور اُس وقت پہلی بار حمین کو احساس ہوا اُس کی گردن کی پشت پر کیا ہوا تھا۔ تکلیف شدید تھی، لیکن تکلیف ناقابلِ برداشت تھی۔ وہ حواس میں تھا… سب کچھ سُن رہا تھا… اُسے اب زمین پہ ہی گھسیٹتے اُس کی سیکورٹی ٹیم وہاں سے لفٹ کی طرف لے جا رہی تھی اور اُس وقت حمین کو پہلی بار سالار سکندر کا خیال آیا تھا اور اُس کا دل اور دماغ بیک وقت ڈوبے تھے۔
٭٭٭٭
سالار سکندر نے بینکوئیٹ ہال میں سٹیج پر رکھی اپنی نشست پر بیٹھے ہوئے اپنی تقریر کے notes پر ایک نظر ڈالتے ہوئے اُس بینکوئیٹ ہال کی داخلی دروازے کے بالمقابل ایک کھڑکی کے شیشے ٹوٹنے کی آواز سُنی تھی۔ اُس نے بے یقینی سے بہت دور اُس شیشے کی گرتی کرچیاں دیکھی تھیں۔ وہ ساؤنڈ پروف، بلٹ پروف شیشے تھےٍ۔ ٹوٹ کیسے رہے تھے؟ ایک لمحہ کے لئے اُس نے سوچا تھا اور پھر اُس نے ہال کے عقبی حصّے اور باہر کوریڈور میں شور سُنا تھا اور اس سے پہلے وہ کچھ سمجھ سکتا، اُس سمیت سٹیج پر بیٹھے ہوئے لوگوں کو سیکورٹی گارڈز نے کور کرتے ہوئے سٹیج کے عقب میں کھینچتے ہوئے فرش پر لیٹنے کا کہہ رہا تھا۔ ہال میں اب شور تھا۔ گارڈز چِلّا چِلّا کر orders دے رہے تھے اور جس جس اہم شخصیت کے ساتھ وہ سیکورٹی پر مامور تھے۔ وہ اُسے cover کرنے میں مصروف تھے۔ وہاں موجود ہر شخص خاص تھا، اہم تھا۔ وہ دُنیا کے بہترین اثاثوں کا مجمع تھا، جو اب زندگی بچانے کی جدوجہد میں مصروف تھے اور وہاں زمین پر اوندھے منہ لیٹے سالار کو حمین کا خیال آیا تھا اور اُس کا دل کسی نے مٹھی میں لیا تھا۔ ہال میں اُس کے بعد حمین سکندر کو داخل ہونا تھا۔ اور وہ نہیں آیا تھا… تو کیا یہ حملہ اُس پر… وہ سوچ نہیں سکا، وہ زمین سے اُٹھ گیا… گارڈز نے اُسے روکنے کی کوشش کی… اُس نے اُنہیں دھکا دیا اور چِلّایا ”Go away…” وہ اُس کے پیچھے لپکے تھے۔ وہ زمین پر لیٹے لوگوں کو پھلانگتا، کھڑے گارڈز سے ٹکراتا داخلی دروازے تک آ گیا تھا جو اس وقت سیکورٹی آفیشلز سے بھرا ہوا تھا… اور اس ہجوم میں بھی اُس نے ریسپشن رنر کے ساتھ سفید ماربل کے فرش پر خون کے دھبے دیکھے تھے جو پورے فرش پر لفٹ تک گئے تھے۔
”کس کو گولی لگی ہے؟” اُس نے اپنے سرد ہوتے وجود کے ساتھ وہاں ایک سیکورٹی آفیشل کا کندھا پکڑ کر پوچھا۔
”حمین سکندر۔” سالار کے پیروں سے جان نکل گئی تھی، وہ لڑکھڑایا تھا۔ اُن دونوں سیکورٹی گارڈز نے اُسے سنبھالا۔
۔”?Is he alive” اُس نے اُس سیکورٹی اہلکار سے دوبارہ پوچھا۔ جواب نہیں آیا۔
٭٭٭٭
امامہ اُس ہوٹل کے ساتویں فلور پر سالار سکندر کے کمرے میں تھے۔ وہ ایک suite تھا اور اُن کے برابر کے کمرے میں حمین رہ رہا تھا۔ امریکہ شفٹ ہوجانے کے بعد امامہ سالار کے ہر سفر میں اُس کے ساتھ جارہی تھی۔ اس سفر میں حمین بھی اُن کے ساتھ تھا۔ وہ اُس ہی کے ذاتی طیّارے پر آئے تھے… افریقہ وہ دو دہائیوں سے بھی زیادہ عرصے کے بعد آئی تھی اور اس بار وہ Congo بھی جانا چاہتے تھے… اپنی پرانی یادیں تازہ کرنے کے لئے… اُن تینوں نے کچھ دیر پہلے اکٹھے ہی کمرے میں ناشتہ کیا تھا… اس کانفرنس کے بعد وہ سہ پہر کو کنشاسا جانے والے تھے اور امامہ اُس وقت اپنی پیکنگ میں مصروف تھی۔ وہ کچھ دیر پہلے اُس suite میں اپنے اور حمین کے بیڈرومز کا درمیانی دروازہ کھول کر اُس کاسامان بھی پیک کر آئی تھی، اپنے بیگ کی زپ بند کرتے ہوئے اُس نے اپنے کمرے کے دروازے پر زوردار دستک سُنی تھی۔ وہ بُری طرح ہڑبڑائی ، پھر اُس نے جاکر دروازہ کھولا… پورا کوریڈور سیکورٹی آفیشلز سے بھرا ہوا تھا اور وہ تقریباً ہر کمرے کے دروازے پر تھے۔
”آپ ٹھیک ہیں؟” اُن میں سے ایک نے پوچھا۔
”ہاں… کیوں؟” اُس نے حیرانی سے کہا۔ وہ دونوں بڑی تہذیب سے اُسے ہٹاتے ہوئے اندر چلے آئے تھے اور اُنہوں نے اندر آتے ہی کھڑکی کے کھلے ہوئے بلائنڈز بند کئے تھے۔ پھر اُن میں سے ایک حمین کے کمرے کا دروازہ کھول کر اندر چلا گیا تھا اور کچھ دیر بعد لوٹا۔
”کیا بات ہے؟” امامہ اب شدید تشویش کا شکار ہوئی تھی۔” ایک ایمرجنسی ہو گئی ہے… آپ کمرے سے باہر مت نکلیں… اگر کچھ مسئلہ ہو تو ہمیں بتا دیں۔” اُن میں سے ایک اُسے کہہ رہا تھا دوسرا اُس کا باتھ روم اور وارڈروب برق رفتاری سے چیک کر آیا تھا۔ وہ جس تیز رفتاری سے آئے تھے، اُس ہی تیز رفتاری سے باہر نکل گئے تھے… امامہ کو جیسے panic attack ہوا تھا۔ وہ سالار اور حمین کو اُس وقت فون نہیں کر سکتی تھی کیوں کہ فون سروس اُس وقت کام نہیں کر رہی تھی، مگر اُس نے TV آن کر لیا تھا، جہاں پر لوکل اور بین الاقوامی چینلز اس کانفرنس کی لائیو کوریج کرنے میں مصروف تھے۔ اسکرین پر پہلی تصویر اُبھرتے ہی امامہ کھڑی نہیں رہ سکی، وہ صوفہ پر بیٹھ گئی TV کی اسکرین پر وہ ٹوٹی ہوئی کھڑکی تھی… اور بینکوئیٹ ہال کے باہر ہوا سے ڈرون کیمروں کے ذریعے فضائی مناظر دکھائے جارہے تھے… سکرین پر caption بار بار نمودار ہو رہا تھا… جو اُس گلوبل کانفرنس پر ہونے والے حملے اور فائرنگ کی خبر بریکنگ نیوز کی طرح سے چلا رہے تھے… مگر یہ وہ caption نہیں تھا جس نے امامہ کو بدحواس کیا تھا… وہ دوسرا ticker تھا جو بار بار آرہا تھا۔
۔TAI کے سربراہ حمین سکندر اس حملے میں شدید زخمی۔ امامہ کو لگا اُسے سانس آنا بند ہو گیا تھا۔ اُس نے اُٹھنے کی کوشش کی… وہ اُٹھ نہیں سکی… اُس نے چیخنے کی کوشش کی تھی، وہ وہ بھی نہیں کر سکی… افریقہ اُس کے لئے منحوس تھا۔ اُس نے سوچا تھا اور اپنے کمرے کے دروازے پر اُس نے دھڑدھڑاہٹ سُنی اور پھر اُس نے حمین سکندر کے کمرے کا دروازہ کُھلتے دیکھا۔
٭٭٭٭
سالار سکندر کو سیکورٹی آفیشلز روک نہیں پائے تھے… پکڑنے، سمجھانے، آگے جانے سے روکنے کی کوشش کے باوجود… وہ برق رفتاری سے اُن چار lifts میں سے اُس لفٹ کی طرف گیا تھا جس طرف خون کے وہ دھبے گئے تھے۔ سیکورٹی آفیشلز اب اُسے عقب سے کور کر رہے تھے۔ وہ اُسی کھڑکی کے سامنے خود کو ایک بار پھر expose کر رہا تھا جہاں اب شیشہ نہیں تھا اور اُس کے سامنے کی عمارت سے فائرنگ ہوئی تھی… سامنے والی عمارت کو اب گھیرے میں لیا جا رہا تھا اور جب تک وہاں security clearance نہیں ہو جاتی وہ ہال سے کسی کو ایک بار پھر اُن کھڑکیوں کے سامنے سے گزر کر lifts تک جانے کا خطرہ مول لینا نہیں چاہتے تھے… مگر سالار سکندر کو وہ کوشش کے باوجود نہیں روک سکے تھے۔
لفٹ کا دروازہ اب کُھل گیا تھا… اور اُس کا فرش بھی خون آلود تھا… بہت زیادہ نہیں لیکن فرش یہ بتارہا تھا کہ وہ جو بھی تھا… شدید زخمی تھا۔ لفٹ کے اندر پہنچنے کے بعد سالار کو سمجھ نہیں آئی وہ اُس کے بعد آگے کیا کرے۔ وہ اپنے بیٹے کے خون پر بھی قدم رکھنے کی جرأت نہیں کر پا رہا تھا… اُس کے اندر داخل ہوتے ہی سیکورٹی آفیشلز اُس کے پیچھے اندر گُھسے تھے اور اُنہوں نے دروازہ فوری طور پر بند کیا اور پھر جیسے سکون کا سانس لیا۔
”اُسے کہاں لے کر گئے ہیں؟” سالار نے کھوکھلی آواز کے ساتھ کہا تھا۔
”ہمیں نہیں پتہ سر!” اُن میں سے ایک نے جواب دیتے ہوئے 7th Floor کا بٹن پریس کر دیا۔
”مجھے حمین کے پاس جانا ہے۔” وہ چِلّایا تھا۔ وہ دونوں خاموش رہے۔ لفٹ برق رفتاری سے حرکت میں تھی۔
٭٭٭٭
حمین کے کمرے کے کُھلے دروازے میں حمین کھڑا تھا۔ اُس کی سفید شرٹ خون آلود تھی اور وہ سیاہ کوٹ بھی اُس کے جسم پر نہیں تھا جو وہ پہن کر گیا تھا۔ وہ بے حس و حرکت بیٹھی اُسے دیکھتی رہی۔ اسکرین پر ابھی بھی اُس پر ہونے والے حملے کی تفصیلات چل رہی تھیں۔ اور وہ اپنے پیروں پر کھڑا اُسے دیکھ رہا تھا۔ امامہ اُٹھی۔ دوبارہ بیٹھ گئی… اُس کی خون آلود شرٹ اُس کی جان نکال رہی تھی اور اُس کا اپنے پیروں پر کھڑا وجود اُسے زندگی بخش رہا تھا۔
وہ ایک بار پھر اٹھی اور بھاگتے ہوئے اُس نے جا کر حمین کو اپنے ساتھ لپٹایا تھا۔
”میں ٹھیک ہوں ممّی… میں بالکل ٹھیک ہوں۔” وہ کہہ رہا تھا۔
”بابا کہاں ہیں؟” اُس نے امامہ سے اگلا سوال کیا تھا اور امامہ کو پہلی بار سالار کا خیال آیا ۔ تب ہی دروازہ دوبارہ دھڑدھڑایا گیا اور وہ اپنے قدموں پر چلتا دروازے تک گیا اور اُس نے دروازہ کھول دیا۔ اُس کے بالکل سامنے سالار سکندر کھڑا تھا۔ چند لمحوں کے لئے باپ بیٹا ایک دوسرے کو دیکھ کر فریز ہوئے تھے۔ پھر سالار آگے بڑھا اور شادیٔ مرگ سی کیفیت میں اُس نے حمین کو لپٹایا تھا۔ زندگی میں پہلی بار حمین سکندر نے سالار سکندر کی گرفت کو اتنا سخت پایا تھا کہ اُسے لگا اُس کا دم گُھٹ جائے گا۔ اُسے اپنی گردن کی پشت سے بہتے خون کی اتنی تکلیف نہیں ہوئی تھی جتنی اپنے گالوں کو نم کرتے سالار کے آنسوؤں سے۔
سالار کے خاندان میں سے اُس کا جانشین کون ہو گا اُس کی پشت سے بہتا خون اُس کا اعلان کر رہا تھا۔
”بابا میں ٹھیک ہوں۔ آئیں دوبارہ چلتے ہیں کانفرنس ہال میں۔” سالار نے اپنے کانوں میں مستحکم آواز میں کہی ہوئی ایک سرگوشی سُنی تھی۔
٭٭٭٭
وہ افریقہ کی تاریخ کا یادگار ترین دن تھا جب کئی سالوں بعد تاریخ ایک بار پھر دہرائی جا رہی تھی۔
بینکوئیٹ ہال میں تمام delegates ایک بار پھر اپنی سیٹوں پر براجمان تھے۔ خوف و ہراس کی ایک عجیب سی فضا میں بے حد ناخوش مگر کانفرنس جاری تھی کینسل نہیں ہوئی تھی۔ اُس کھڑکی کا وہ شیشہ اُسی طرح ٹوٹا ہوا تھا مگر اب سامنے والی بلڈنگ سیکورٹی آفیشلز کے حصار میں تھی۔ کانفرنس ایک گھنٹہ کی تاخیر سے اب دوبارہ شروع ہونے جا رہی تھی۔
سالار سکندر اور حمین دونوں امامہ کے کمرے میں تھے۔ میڈیکل ٹیم حمین کو فرسٹ ایڈ دے چکے تھے، اور فرسٹ ایڈ دینے کے دوران اُنہیں پتہ چلا تھا کہ گولی اُس کی گردن میں نہیں گئی تھی۔ وہ اُس کی گردن کی پشت پر رگڑ کھاتی اور جلد اور کچھ گوشت اُڑاتے ہوئے گزر گئی تھی اُس کی گردن پر تین انچ لمبا اور آدھ انچ گہرا ایک زخم بناتے ہوئے۔ میڈیکل ٹیم نے اُس کی بینڈیج کی تھی اور پین کلر لگا کر اُس کے اس زخم کو کچھ دیر کے لئے سُن کیا تھا تاکہ وہ کانفرنس اٹینڈ کر سکتا۔ اُسے blood لگنا تھا لیکن وہ فوری طور پر اُس کے لئے تیّار نہیں ہوا تھا۔ اس وقت اُس کے لئے اہم ترین چیز اُس کانفرنس ہال میں دوبارہ بیٹھنا تھا۔ اُن لوگوں کا دکھانا تھا کہ وہ اُنہیں گرا نہیں سکے… ڈرا بھی نہیں سکے۔
سالار سکندر اُس سے پہلے کمرے سے نکلا تھا اور اب کپڑے تبدیل کرنے کے بعد حمین سکندر امامہ سے گلے مل رہا تھا۔ امامہ نے اُسے روکنے کی کوشش نہیں کی تھی… وہ سالار سکندر کا بیٹا تھا، اُسے کون روک سکتا تھا… اُس نے صرف اُسے گلے لگایا تھا، ماتھا چوما تھا اور دروازے پر رخصت کر دیا تھا۔
اُس لفٹ کا دروازہ 10:40 پر ایک بار پھر کُھلا تھا… اس بار حمین سکندر کے ساتھ سیکورٹی کا کوئی اہلکار نہیں تھا صرف اُس کے اپنے سٹاف کے لوگ تھے۔ اُس کے لفٹ سے کوریڈور میں قدم رکھتے ہی وہاں تالیوں کا شور گونجنا شروع ہوا تھا۔ وہ پریس فوٹو گرافرز اور اُس کوریڈور میں کھڑے سیکورٹی اہلکار تھے جو اُسے اُس دلیری کی داد دے رہے تھے جو وہ دکھا رہا تھا۔ لمبے ڈگ بھرتے اُس نے ٹوٹے شیشے والی اُس کھڑکی کو بھی دیکھا جو ہال کے داخلی دروازے کے بالکل سامنے ایک عجیب سا منظر پیش کر رہی تھی، اگرچہ اُس کے سامنے اب سیکورٹی اہلکاروں کی ایک قطار رہتی تھی۔ تیز قدموں سے لمبے ڈگ بھرتا حمین سکندر جب ہال میں داخل ہوا تھا تو ہال میں تالیاں بجنی شروع ہوئی تھیں، پھر وہاں بیٹھے وفود اپنی اپنی سیٹوں سے کھڑے ہو گئے تھے۔
حمین سکندر مسکراتا، سر کے اشارے سے اُن تالیوں کا جواب دیتا سٹیج کی طرف بڑھ رہا تھا اور سٹیج پر بیٹھے ہوئے لوگ آہستہ آہستہ کھڑا ہونے شروع ہوئے تھے اور پھر حمین نے سالار سکندر کو کھڑا ہوتے دیکھا تھا۔ حمین چلتے چلتے رُک گیا تھا۔ وہ اُس کے باپ کی طرف سے اُس کی تعظیم تھی جو اُسے پہلی بار دی گئی تھی۔ ایک لمحہ ٹھٹھکنے کے بعد حمین سکندر نے سٹیج کی سیڑھیاں چڑھنا شروع کر دیا تھا۔
دنیا بھر کے TVچینلز وہ مناظر live دکھا رہے تھے… دلیری کا ایک مظاہرہ وہ تھا جو دنیا نے کئی سال پہلے اسی افریقہ میں سالار سکندر کے ہاتھوں دیکھا تھا، جرأت کا ایک مظاہرہ وہ تھا جو آج اسی افریقہ میں وہ حمین سکندر کے ہاتھوں دیکھ رہے تھے۔
سٹیج پر اب TAI اور SIF کے دونوں سربراہان مل رہے تھے اور اُس memorandum پر دستخط کر رہے تھے جس کے لئے وہ وہاں آئے تھے اور پھر اُس کے بعد حمین سکندر نے تقریر کی تھی اُس ہی آخری خطبے سے اپنی تقریر کا آغاز کیا تھا جس کا حوالہ کئی سال پہلے اُس کے باپ نے افریقہ کے سٹیج پر دیا تھا۔
”بڑی بابرکت ہے وہ ذات جس کے ہاتھ میں ہے بادشاہی اور وہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔” اُس نے سورة ملک کی آیات سے اپنی تقریر کا آغاز کیا۔
”وہ ذات جس نے پیدا کیا موت اور زندگی کو تاکہ آزمائش کرے تمہارے کہ کون تم میں سے زیادہ اچھا ہے عمل میں… اور وہ ہے زبردست، بے انتہا… معاف فرمانے والا۔”
اُس ہال میں سوئی گرنے جیسی خاموشی تھی۔ بے شک اللہ تعالیٰ ہر چیز کرنے پر قادر ہے جو کُن کہتا ہے تو چیزیں ہو جاتی ہیں، جو دشمنوں کی چالیں اُن ہی پر اُلٹا دیتا ہے۔
”کئی سال پہلے SIF نے سود کے خلاف اپنی پہلی جدوجہد افریقہ سے شروع کی تھی، یہ وہ زمین تھی جس پر میرے باپ نے ایک سودی نظام کے آلۂ کار کے طور پر کام کرتے ہوئے سود کے خلاف کام کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اُس سود کو جسے آخری خطبہ میں نبی آخرالزمانﷺۖ نے حرام قرار دیا تھا اور اُس آخری خطبے میں یہ صرف سود نہیں تھا جس کے خاتمے کا فیصلہ کیا گیا تھا، یہ مساوات بھی تھی جس کا حکم دیا گیا تھا انسانوں کو اُن کے رنگ، نسل، خاندانی نام و نسب کے بجائے صرف اُن کے تقویٰ اور پارسائی پر judge کرنے کا۔ SIF اور TAI آج اُس ہی مشن کو آگے بڑھانے کے لئے دنیا کے سب سے بڑے گلوبل فنڈ کا قیام عمل میں لایا ہے۔” وہ بات کر رہا تھا اور پوری دُنیا سُن رہی تھی… وہ آخری نبیۖﷺ کا حوالہ دیتا ہوا بات کر رہا تھا اور وہ پھر بھی سُننے پر مجبور تھے… کیونکہ وہ باعمل، بہترین مسلمان تھے جن کے قول و فعل میں دُنیا کو تضاد نظر نہیں آ رہا تھا۔ جو طاقت ور تھے تو دُنیا اُن کے مذہب کو بھی عزّت دے رہی تھی اور اُس مذہب کے پیغام بر کو بھی…
وہ ایک گولی جو دُنیا کی تاریخ بدلنے آئی تھی وہ کاتبِ تقدیر کے سامنے بے بس ہو گئی تھی… تاریخ ویسے ہی لکھی جا رہی تھی جیسے اللہ تعالیٰ چاہتا تھا اور وہ ہی لکھ رہے تھے، جن کو اللہ نے منتخب کیا تھا۔ بے شک طاقت کا سرچشمہ اللہ ہی کی ذات ہے جس کی محبت وہ آبِ حیات ہے جو زندگی کو دوام بخشتا ہے اس دُنیا سے اگلی دُنیا تک۔
٭٭٭٭
ترپ کا پتّہ
مارچ 2040
امریکہ کے اُس اسپتال کے نیورو سرجری ڈپارٹمنٹ کے آپریشن تھیٹر میں ڈاکٹر جس شخص کا دماغ کھولے بیٹھے تھے وہ آبادی کے اُس 2.5 فیصد حصّہ سے تعلق رکھتا تھا جو 150 I.Q Level کے ساتھ غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل تھے۔
وہ آپریشن آٹھ گھنٹہ سے ہو رہا تھا اور ابھی مزید کتنی دیر جاری رہنا تھا، یہ کسی کو اندازہ نہیں تھا۔ ڈاکٹرز کی اس ٹیم کو lead کرنے والا ڈاکٹر دُنیا کے قابل ترین سرجنز میں سے ایک مانا جاتا تھا۔ آپریشن تھیٹر سے منسلک ایک گلاس روم میں سرجری ریذیڈنٹس اس وقت جیسے سحر زدہ معمول کی طرح اس ڈاکٹر کے چلتے ہوئے ہاتھوں کو بڑی اسکرین پر دیکھ رہے تھے جو اُس کھلے ہوئے دماغ پر یوں کام کر رہا تھا جیسے کسی pianist کی انگلیاں ایک پیانو پر۔ وہ اپنی مہارت سے سب کو مسمرائزڈ کئے ہوئے تھا سوائے اس ایک شخص کے جس کی زندگی اور موت اس وقت اس کے ہاتھ میں تھی۔ آپریشن کے دوران وہ نیورو سرجن چند لمحوں کے لئے رُکا تھا۔ ایک نرس نے بنا کہے اُس کے ماتھے پر اُبھرنے والے قطروں کو ایک کپڑے سے خشک کیا۔ وہ شخص ایک بار پھر اپنے سامنے آپریشن تھیٹر کی ٹیبل پر پڑے ہوئے اُس دماغ پر جھکا جو دُنیا کے ذہین ترین دماغوں میں سے ایک تھا اور جو ایک گولی کا نشانہ بننے کے بعد اُس کے سامنے آیا تھا۔ دُنیا کی اہم ترین پوزیشنز پر فائز رہنے والے اس شخص کے لئے اس ایمرجینسی میں اُسے بلوایا گیا تھا۔ وہ سرجن اب تک 270 اہم اور نازک ترین کامیاب سرجریز کرنے کے بعد اس وقت امریکہ کی تاریخ کا کم عمر اور سب سے قابل سرجن تھا۔ لیکن آج پہلی بار اُسے لگ رہا تھا کہ اُس کا وہ ٪100 کامیابی کا ریکارڈ ختم ہونے والا تھا۔ وہ ایک بار پھر گہری سانس لے کر ٹیبل سے ہٹا۔ اُسے کسی چیز کی ضرورت پڑی تھی اس آپریشن میں کامیابی کے لئے۔
 

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: